تقریر جلسہ سالانہ

تقریر جلسہ سالانہ جرمنی: صد سالہ جو بلی جماعت احمدیہ جرمنی الٰہی افضال سے بھر پور ماضی اور روشن مستقبل (قسط اوّل)

اللہ تعالیٰ جب بنی نوع انسان کی ہدایت کے لیے نبی بھیجتا ہے تو وہ ان کا معین و مدد گار ہوجاتا ہے۔ ان کی اور ان کو ماننے والوں کی تائیدونصرت فرماتا ہے۔ انہیں کامیاب و کامران کرتا اور انہیں مخالفوں کے مقابلے میں غلبہ عطاکرتا ہے۔ ان کے دشمن ناکام ونامراد رہتے ہیں۔ یہی وہ سنت اللہ ہے جو ازل سے جاری ہےاور کبھی اس میں کوئی تبدیلی نہیں دیکھو گے۔ وَلَنۡ تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللّٰہِ تَبۡدِیۡلًا(سورۃ الاحزاب آیت:۶۳) اللہ تعالیٰ اپنی اس سنت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے:اِنَّا لَنَنۡصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا وَ یَوۡمَ یَقُوۡمُ الۡاَشۡہَادُ (سورۃ المؤمن آیت:۵۲) کَتَبَ اللّٰہُ لَاَغۡلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیۡ ؕاِنَّ اللّٰہَ قَوِیٌّ عَزِیۡزٌ (المجادلۃ: ۲۲)

اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعودؑ کو آنحضرت ﷺ کے بُروز اور اُمتی نبی کے طور پر بھیجا ہے تاکہ آپؑ کے ذریعہ سے اسلام کو از سر نو زندہ کیا جائے۔پس اس دورمیں بھی اللہ تعالیٰ کی یہ جاری سنت دُہرائی گئی۔ خدائے قادرو مقتدر کی تائید ونصر ت شروع سے ہی آپ اور آپ کی جماعت کے شامل حال رہی۔ ہر دیوار جو آپ کی کامیابی کی راہ میں کھڑی کی گئی خدا کے فضل سے منہدم ہوئی اور ہر مشکل جس میں آپ کو مبتلا کرنے کی کوشش کی گئی مشکل کُشا خدا نے معجزانہ طور پر اپنی قدرت کا ہاتھ دکھاتے ہوئے اس کو دُور کردیا۔آپ خدا تعالیٰ کی گود اور اس کی حفاظت کے سائے میں ترقیات پر ترقیات حاصل کرتے چلے گئے۔آپ اپنے منظوم کلام میں فرماتے ہیں۔

اِبتدا سے تیرے ہی سایہ میں میرے دن کٹے

گود میں تیری رہا مَیں مثلِ طفلِ شیر خوار

فرمایا:

اِک قطرہ اُس کے فضل نے دریا بنا دیا

میں خاک تھا اُسی نے ثریّا بنا دِیا

حضرت مسیح موعود علیہ السلام جماعت پر اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی ترقیات کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:’’اللہ جلّ شانہ جس کو مبعوث کرتا ہے اور جو واقعی طور پر خدا کی طرف سے ہوتا ہے وہ روز بروز ترقی کرتا اور بڑھتا ہے اور اس کا سلسلہ دن بدن رونق پکڑتا جاتا ہے …اس کے مخالف اور مکذّب آخرکار بڑی حسرت سے مرتے ہیں۔ …جس کو وہ [خدا] بڑھانا چاہتا ہے اس کو کوئی نہیں روک سکتا کیونکہ اگر ان کی کوششوں سے وہ سلسلہ رک جائے تو ماننا پڑے گا کہ روکنے والا خدا پر غالب آگیا حالانکہ خدا پر کوئی غالب نہیں آسکتا۔‘‘(ملفوظات جلد۱۰صفحہ۲۴۔ایڈیشن ۱۹۸۴ء)

غرض رکتے نہیں ہرگزخدا کے کام بندوں سے

بھلا خالق کے آگے خلق کی کچھ پیش جاتی ہے

اسلام کا تمام ادیان پر غالب آنا ایک الٰہی تقدیر ہے اور تمام مفسرین اس بات پر متفق ہیں کہ یہ غلبہ آخری زمانے میں مسیح موعودؑ کے ذریعہ سے ہوگا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اُس وقت جبکہ آپ گوشۂ گمنامی اور کمزوری کی حالت میں زندگی گزار رہے تھے الہاماً غلبہ، فتوحات اور ترقیات کی خبریں دیں۔

علّام الغیوب خدا سے خبر پا کر آپؑ نے اعلان فرمایا: ’’خدا تعالیٰ نے مجھے بار بارخبر دی ہے کہ وہ مجھے بہت عظمت دے گا اور میری محبت دلوں میں بٹھائے گا اور میرے سلسلہ کو تمام زمین میں پھیلا ئے گا اور سب فرقوں پر میرے فرقہ کو غالب کرے گا… ہر ایک قوم اس چشمہ سے پانی پیئے گی اور یہ سلسلہ زور سے بڑھے گا اور پھولے گا یہاں تک کہ زمین پر محیط ہو جاوے گا… خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ میں تجھے برکت پر برکت دوں گا یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔ سو اے سننے والو! ان باتوں کو یاد رکھو۔ اور ان پیش خبریوں کو اپنے صندوقوں میں محفوظ رکھ لو کہ یہ خدا کا کلام ہے جو ایک دن پورا ہوگا۔ ‘‘(تجلیات الٰہیہ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۴۰۹۔۴۱۰)

عالم کشف میں وہ بادشاہ آپ کو دکھائے بھی گئے جو گھوڑوں پر سوار تھے اور چھ سات سے کم نہ تھے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ نے آپ کو مخاطب کرکے فرمایا:میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا۔

یہ پیشگوئیاں تو عمومی غلبہ کا رنگ رکھتی ہیں کہ آپ کی جماعت اور آپ کی تبلیغ ساری دنیا میں پھیل جائے گی۔اُس زمانے میں یہ باتیں دور از قیاس نظر آتی تھیں۔ لیکن ہم سب اس بات کے گواہ ہیں کہ اُس گمنام بستی سے نکلنی والی آواز آج ساری دنیا میں گونج رہی ہے اورخدا کے وعدوں کو ہم بڑی شان کے ساتھ پورا ہوتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔

آپ اپنی شہرت کے حوالے سے اپنے منظوم کلام میں فرماتے ہیں۔

مَیں تھا غریب و بیکس و گم نام و بے ہُنر

کوئی نہ جانتا تھا کہ ہے قادیاں کِدھر

لوگوں کی اِس طرف کو ذرا بھی نظر نہ تھی

میرے وجود کی بھی کِسی کو خبر نہ تھی

اب دیکھتے ہو کیسا رجوعِ جہاں ہوا

اِک مرجع خواص یہی قادیاں ہوا

اس روحانی انقلاب کی جھلک دکھاتے ہوئے آپ نے بعض قوموں کا نام لےکر بھی ذکر فرمایاہے کہ خدا ان میں آپ کے سلسلہ کو پھیلا دے گا اور بالآخر وہ اسلام کی سچائی کی قائل ہو کر آپ کی جماعت میں شامل ہو جائیں گی۔ زار روس کا عصا آپ نے اپنے ہاتھوں میں دیکھا۔اسی طرح روس میں اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو اپنی جماعت ریت کے ذروں کی طرح دکھائی۔ اسی طرح آپ نے اہل مکہ کےفوج در فوج خدائے قادر کے گروہ میں شامل ہونے اور صلحائے عرب اور شام كے ابدال کے آپ کو قبول کرنے اور آپ پر درود بھیجنے کا ذکر فرمایاہے۔

یورپ اور مغربی اقوام کے بارے میں بھی اللہ تعالیٰ نے آپ کو خبر دی کہ انہیں اسلام سے حصہ ملے گا اور اُن کے دل آفتاب صداقت سے منور کیے جائیں گے۔

آپ علیہ السلام نے ایک دفعہ رئویامیں دیکھا کہ آپ لندن شہر میں ہیں اور انگریزی زبان میں نہایت مدلل بیان سے اسلام کی صداقت بیان فرما رہے ہیں۔ پھر اس کے بعد آپ نے دیکھا کہ آپ نے بہت سے سفیدپرندوں کو پکڑاہے۔آپ علیہ السلام نے اس کی تعبیر یہ فرمائی کہ اگرچہ آپ خود تو نہیں مگر آپ کی تحریریں مغربی اقوام میں پھیلیں گی اور بہت سے سفید لوگوں کو اسلام میں داخل ہونے کی توفیق ملے گی۔

پھر آپؑ فرماتے ہیں:’’یورپ اور امریکہ کے لوگ ہمارے سلسلہ میں داخل ہونے کے لئے طیاری کر رہے ہیں اور وہ اس سلسلہ کو بڑی عظمت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔‘‘(براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد ۲۱صفحہ ۱۰۷)

آپؑ اپنے منظوم کلام میں فرماتے ہیں:

آ رہا ہے اِس طرف احرارِ یورپ کا مزاج

نبض پھر چلنے لگی مُردوں کی ناگہ زندہ وار

کہتے ہیں تثلیث کو اب اہلِ دانش اَلْوِدَاع

پھر ہوئے ہیں چشمۂ توحید پر از جاں نثار

یہ غلبہ اور فتوحات بندوق یا تلوار کےزورسے نہیں بلکہ یہ دلائل اور دعا کے ہتھیار سے ہوں گی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے: ہُوَ الَّذِیۡۤ اَرۡسَلَ رَسُوۡلَہٗ بِالۡہُدٰی وَدِیۡنِ الۡحَقِّ لِیُظۡہِرَہٗ عَلَی الدِّیۡنِ کُلِّہٖیعنی اس نے ہدایت اور دین حق دےکر آنحضرت ﷺ کودنیا میں بھیجا۔ تلوار اور ڈنڈے دےکر نہیں اور اس مقصد کے لیے بھیجا ہے تاکہ اسلام کو سارے دینوں پر غالب کرے نہ کہ سارے ملکوں پر۔ ہمارا مشن ملکوں کو نہیں بلکہ دلوں کو جیتنا ہے۔ یہی وہ بات ہے جس کا تذکرہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ نے زیورک میں ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا تھا۔جب صحافی نے سوال کیا کہ آپ یورپ میں اپنا مشن کیسے سر انجام دیں گے۔

How do you conduct your mission in Europe?.

اس پر حضورؒ نے برجستہ جواب دیا کہ

We try to win the hearts

یعنی ہم دلوں کو جیتنے کی کوشش کریں گے۔

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں:

ملک سے مجھ کو نہیں مطلب نہ جنگوں سے ہے کام

کام میرا ہے دلوں کو فتح کرنا نَے دیار

مجھ کو کیا ملکوں سے میرا مُلک ہے سب سے جُدا

مجھ کو کیا تاجوں سے میرا تاج ہے رضوانِ یار

یورپ صدیوں سے مادیت اور مسیحیت کا گڑھ ہے اِس کا مسلمان ہونا لا ریب اسلام کی ایک بہت بڑی فتح ہے۔حضرت مسیح موعودؑ کی دلی تمنا تھی کہ یورپ میں جلد سے جلد اسلام کی اشاعت ہو۔اس حوالے سے آپ کے دل میں جو تڑپ تھی اُس کا اندازہ اس روایت سے بخوبی ہوتا ہے۔

حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ جب میں حضرت مسیح موعود ؑکی خدمت میں حاضر تھا تو آپ کے کمرہ کا دروازہ زور سے کھٹکا اور سید آل محمد صاحب امروہوی نے آواز دی کہ حضور میں ایک نہایت عظیم الشان فتح کی خبر لا یا ہوں۔ حضرت صاحب نے مجھ سے فرمایا کہ آپ جاکر ان کی بات سن لیں کہ کیا خبر ہے۔ میں گیا اور سید آل محمد صاحب سے دریافت کیا انہوں نے کہا کہ فلاں جگہ مولوی سید محمد احسن صاحب امروہوی کا فلاں مولوی سے مباحثہ ہوا تو مولوی صاحب نے اُسے بہت سخت شکست دی۔ اور بڑا رگیدا۔ اور وہ بہت ذلیل ہوا وغیرہ وغیرہ۔ اور مولوی صاحب نے مجھے حضرت صاحب کے پاس روانہ کیا ہے کہ جاکر اس عظیم الشان فتح کی خبر دوں۔ مفتی صاحب نے بیان کیا کہ میں نے واپس آکر حضرت صاحب کے سامنے آل محمد صاحب کے الفاظ دہرا دیے۔ حضرت صاحب ہنسے اور فرمایا۔ (کہ ان کے اس طرح دروازہ کھٹکھٹانے اور فتح کا اعلان کرنے سے) ’’میں سمجھا تھا کہ شاید یورپ مسلمان ہو گیا ہے‘‘۔مفتی صاحب کہتے تھے کہ اس سے پتا لگتا ہے کہ حضرت اقدس ؑکو یورپ میں اسلام قائم ہو جانے کا کتنا خیال تھا۔ (ماخوذ از سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ ۲۷۳)

یورپی اقوام میں سے جرمن قوم غیرمعمولی مقام رکھتی ہے اور اس کا کریکٹر بہت بلند ہے۔ آپ علیہ السلام نے جہاں دوسری اہم قوموں کو اسلام کی طرف دعوت دی وہاں جرمن قوم کی اہمیت اور عظمت کے پیش نظر اس عظیم قوم کو بھی اسلام کی حقیقی تعلیم سے متعارف کرانا ضروری سمجھا۔ آپ نے نہ صرف اس قوم کے پادریوں اور پیشواؤں کو خطوط اور اشتہارات ارسال فرمائے بلکہ آپ کی آواز کی بازگشت جرمنی کے ایوانوں میں بھی سنائی دی۔ اس لحاظ سے جرمنی اللہ تعالیٰ کے فضل سے اُن خوش قسمت ممالک کی فہرست میں شامل ہے جہاں حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے اپنے دست مبارک سے اسلام کا زندگی بخش پیغام پہنچایا۔

آپ علیہ السلام نے اپنے دعویٰ سے بھی بہت پہلے یعنی ۱۸۸۳ء میں جرمن شہزادہ بسمارک کو ایک خط کے ذریعہ اسلام کی دعوت دی۔ جرمنی میں آپ علیہ السلام کی تبلیغ کا اس قدر چرچا تھا کہ صوبہ بائرن کے ایک قصبہ Passingکی ایک خاتون مسز کارولامن نے ۱۹۰۷ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں ایک مخلصانہ خط لکھا اور پوچھا کہ وہ دنیا کے اس حصہ میں آپ کی کیا خدمت کر سکتی ہیں؟ اسی طرح اس نے آپ علیہ السلام کو اپنا فوٹو بھجوانے کی درخواست کی اور لکھا کہ پیارے مرزا صاحب میں آپ کی مخلص دوست ہوں۔ حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓ نے لکھا ہے کہ حضرت مسیح موعودؑنے انہیں جرمن زبان سیکھنے کی ہدایت فرمائی تھی۔

خلافت اولیٰ میں برطانیہ میں تو جماعت کا مشن قائم ہوچکا تھا لیکن جرمنی ابھی اس سعادت سے محروم تھا۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے جرمنی میں بھی مشن کھولنے کا فیصلہ فرمایا۔۱۹۲۲ء میں مولوی مبارک علی صاحب بنگالی لنڈن سے جرمنی بھجوائے گئے اور انہوں نے اپنی مساعی کا آغا ز برلن سے کیا۔اس کے بعد جلد ہی ملک غلام فرید صاحب ایم اےؓ کو بھی جرمنی بھجوادیاگیا ان دونوں کے ذریعہ دسمبر۱۹۲۳ء میں جرمنی میں مشن قائم ہوا۔ یہ یورپ میں قائم ہونے والا دوسرا اسلامی مشن تھا۔ برلن میں مسجد کی تعمیر کے لیے نہ صرف پلاٹ خریدا گیا بلکہ مسجد کا سنگ بنیاد بھی رکھ دیا گیا۔ مگر اللہ تعالیٰ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ جرمنی کے سیاسی اور معاشی حالات یکا یک بدل گئے۔ کساد بازاری عام ہوگئی اور قیمتوں میں کئی سو گنا اضافہ ہو گیا۔ ان حالات میں حضرت مصلح موعودؓ نے برلن میں مسجد تعمیر کرنے کا کام ملتوی کردیا اور مبلغین سلسلہ کو جرمنی سے واپس بلا لیا۔

۲۰۲۳ء کا سال جماعت احمدیہ جرمنی کے لیے خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔اس سال جماعت احمدیہ جرمنی کو قائم ہوئے سو سال ہو گئے ہیں۔ اس لحاظ سے یہ ہمارا صدسالہ جوبلی کا سال ہےاور اسے ہم اظہار تشکر کے طور پر منا رہے ہیں۔ ہمارا یہ سو سالہ سفر خدا تعالیٰ کی غیر معمولی تائید و نصرت اور اس کی حفاظت کے سائے میں گزرا۔اس دوران اللہ تعالیٰ نے ہمیں بے شمار ترقیات سے نوازا ہے اور اس کے افضال اور عنایات کی موسلادھار بارش ہم پر مسلسل ہوتی رہی۔ ان افضال کا شمار ہماری طاقت سے باہر ہے۔ جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے کہ وَاِنۡ تَعُدُّوۡا نِعۡمَةَ اللّٰهِ لَا تُحۡصُوۡهَا۔ کہ تم اگر خدا کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو ان کو شمار نہیں کر سکو گے۔ کسی نے کیا خوب کہاہے ؎

گزرے ہوئے سو سال کی تاریخ گواہ ہے

سائے کی طرح سایہ فگن ہم پہ خدا ہے

۱۹۳۹ء میں جرمنی نے پولینڈ پر قبضہ کر لیا اور دوسری جنگ عظیم چھڑ گئی۔ جون ۱۹۴۰ء میں جرمنی نے فرانس پر قبضہ کرلیا۔ برٹش ایمپائر کا مرکز لندن بھی نازی بمبار طیاروں کی زد میں آگیا۔ جرمن فوجیں بڑی تیزی کے ساتھ آگے سے آگے بڑھنے لگیں عین اس وقت جب کسی کے وہم وگمان میں بھی نہیں آسکتا تھا کہ جرمنی کو شکست ہوسکتی ہے۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے ۱۳؍اپریل ۱۹۴۱ء کو مجلس مشاورت کے ممبران سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ جناب الٰہی کی طرف سے مجھے بتایا گیا ہے کہ اس جنگ میں خدا تعالیٰ کا دخل ہے اور جس جنگ میں خدا تعالیٰ کا دخل ہو اس کا نتیجہ احمدیت کے لیے مضر نہیں ہو سکتا۔ میں تو سمجھتا ہوں کہ اگر اس جنگ میں جرمنی کو شکست ہوئی تو اس کے بعد احمدیت کا بہترین مقام جرمنی ہوگا۔

چنانچہ جنگ عظیم دوم میں جرمنی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ جنگ کے بعد اشاعت اسلام کے لیے جونہی حالات ساز گار ہوئے تو فوری طور پر حضرت مصلح موعودؓ نے جرمنی میں تبلیغی مشن کا از سرِنو احیاکرنے کی غرض سے تین مبلغین چودھری عبداللطیف صاحب، شیخ ناصراحمد صاحب اور غلام احمد بشیرصاحب کو بھجوایا۔جرمن حکومت نے ان مبلغین کو جرمنی میں داخل ہونے سے روک دیا۔ لمبے انتظار کے بعد چودھری عبد اللطیف صاحب کو جرمنی میں داخلے کی اجازت مل گئی اور یوں آپ ۲۰؍جنوری ۱۹۴۹ءکو مستقلا ً جرمنی تشریف لے آئے اور۲۵ سال کے لمبے وقفہ کے بعد آپ کے ذریعہ جرمنی میں اسلامی مشن کا احیاعمل میں آیا اور اس طرح حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی دیرینہ خواہش پوری ہوئی۔الحمد للہ علی ذالک

چودھری صاحب نے ہمبرگ سے اپنے کام کا آغاز کیا اور وہاں ۸ افراد پر مشتمل جرمنی کی پہلی جماعت قائم ہوئی۔ آپ کو چرچ کی طرف سے شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ چرچ مخالفت کیوں نہ کرتا۔ صدیوں تک تو انہوں نے اپنے جھوٹے عقائد کے خلاف نہ کوئی زبان ہلتی دیکھی اور نہ کوئی قلم چلتا دیکھا تھا۔ آج مبلغین اسلام نے ان کے ایمانوں کی جڑوں پر تبر رکھ دیا تھا اور مسیح محمدیؐ کے سپاہی زبان اور قلم سے ان کے عقیدوں کا بطلان کرنے لگے تھے۔ وہ کب برداشت کر سکتے تھے کہ کوئی مسیح موسوی کی خدائی کے بت کو توڑےجو انہوں نے اپنے دلوں میں بسایا ہوا تھا ۔

شروع شروع میں جرمن لوگ سمجھتے تھے کہ احمدیوں کی یہ تبلیغی سرگرمیاں چند روز کا کھیل ہیں۔ وہ ہمارے مبلغین کی حوصلہ شکنی کرتے اور ان کی باتیں ہنسی میں اُڑا دیتے اور سمجھتے تھے کہ ان کے اس رویّہ سے جلد وہ جرمن قوم سے مایوس ہو کر اپنے ملک واپس چلے جائیں گے اور احمدیت کا یہ ننھا پودا جلد سوکھ جائے گا۔ ایک کیتھولک اخبار نے تو یہاں تک لکھ دیا کہ مغرب میں زیادہ کامیابی کی امید نہ رکھیں بہتر یہی ہے کہ اپنا بوریا بستر ابھی سے باندھ لیں اور واپسی کی ٹھان لیں۔

لیکن انہیں کیا معلوم تھا کہ یہ مسیح محمدیؐ کے سپاہی ہیں جن کی سرشت میں ناکامی کا خمیر نہیں اور وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے کیے گئے فتوحات کے وعدوں پر کامل ایمان اور پختہ یقین رکھتے ہیں اور جانتے ہیں کہ یہ سفید پرندے ایک دن مسیح محمدی کے پیغام کو ضرور قبول کریں گے اور احمدیت کا یہ پودا جو خدا کے ہاتھ کا لگایا ہوا پودا ہے ایک دن شجر سایہ دار کی صورت اختیار کر جائے گا۔ پس دعوت اسلام کا یہ کام جاری رہا۔احمدی مبلغ کی محنت رنگ لائی اور نیورن برگ میں تین جرمن احباب کو احمدیت قبول کرنے کی سعادت حاصل ہوئی اور اس طرح وہاں جرمنی کی دوسری جماعت قائم ہوئی۔ چودھری عبداللطیف صاحب مسلسل دس سال تک تن تنہا جرمنی میں دعوت الی اللہ کا فریضہ سرانجام دیتے رہے۔

اس دوران ۱۹۵۵ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے جرمنی کا دورہ کیا۔ ۱۹۵۷ء میں ہمبرگ مسجد فضل عمر اور پھر۱۹۵۹ء میں فرانکفرٹ میں مسجد نور کی تعمیر عمل میں آئی۔ یہ دونوں مساجد اپنے اپنے شہر کی اوّلین مساجد کے طور پر رجسٹرڈ ہیں۔ متعدّد جرمن کتب کے تراجم شائع ہوئے۔ جرمن ترجمہ قرآن کا دوسرا ایڈیشن شائع ہوا۔ آپ نے جرمنی کے صدر، چانسلر اور دیگر کئی اہم سیاسی اور سماجی اور علمی شخصیات تک رسائی حاصل کی۔

مسجد فضل عمر کے افتتاح کے موقع پر حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے جو پیغام بھیجا اس میں آپ نے فرمایا:’’ خدا کرے جرمن قوم جلد اسلام قبول کرے اور اپنی اندرونی طاقتوں کے مطابق جس طرح وہ یورپ میں مادیت کی لیڈر ہے وہ روحانی طورپر بھی لیڈر بن جائے…بلکہ (ہم)چاہتے ہیں کہ ہزاروں لاکھوں مبلغ جرمنی سے پیدا ہوں اور کروڑوں جرمن باشندے اسلام کو قبول کریں تا اسلام کی اشاعت کے کام میں یورپ کی لیڈری جرمن قوم کے ہاتھ میں ہو۔‘‘(الفضل ۲۴؍جون ۱۹۵۷ء)

۱۹۳۴ءمیں احرار کی طرف سےجو فتنہ پیدا کیا گیا اس کے بعد حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے ۱۰؍جنوری ۱۹۳۶ء کو خطبہ جمعہ میں احمدیوں کو دنیا میں پھیل جانے کی تحریک فرمائی۔ فرمایا کہ یہ فتنہ تو تمہیں بیدار کرنے کے لیے پیدا کیا گیا تھا۔ اگر تم اب پھر سو گئے تو یاد رکھو اگلی سزا پہلے سے بہت زیادہ سخت ہو گی۔ خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ تمہیں دنیا میں پھیلائے۔ اگر تم دنیا میں نہ پھیلے اور سو گئے تو وہ تمہیں گھسیٹ کر جگا ئے گا اور ہر دفعہ کا گھسیٹنا پہلے سے زیادہ سخت ہو گا۔ پس پھیل جاؤ دنیا میں، پھیل جاؤ مشرق میں، پھیل جاؤ مغرب میں، پھیل جاؤ شمال میں، پھیل جاؤ جنوب میں، پھیل جاؤ یورپ میں، پھیل جاؤ امریکہ میں، پھیل جاؤ افریقہ میں، پھیل جاؤ جزائر میں…پھیل جاؤ دنیا کے کونے کونے میں یہاں تک کہ دنیا کا کوئی گوشہ، دنیا کا کوئی ملک دنیا کا اور کوئی علاقہ دنیا کا ایسا نہ ہو جہاں تم نہ ہو۔

فرمایا کہ اگر ہماری جماعت کے لوگ ساری دنیا میں پھیل جائیں گے تو وہ خود بھی ترقیات حاصل کریں گے اور اُن کی ترقیات سلسلہ پر بھی اثر انداز ہوں گی۔جو قومیں دنیا میں نکلیں خدا نے اُ ن کو عزت دی حالانکہ ان کے ساتھ نصرت کا وعدہ نہیں تھا۔ تمہارے ساتھ تو وعدہ ہے خدا کا کہ تمہیں دنیا میں غلبہ دیا جائے گا۔ پس اگر تم اس غرض کے لئے باہر نکلتے ہو تو تم وہ کام کرتے ہو جس کے متعلق آسمان پر فرشتے تیاریاں کر رہے ہیں جب تم دنیا کے ممالک میں نکل جاؤ گے تو خدا تعالیٰ کے فرشتے تم پر برکتیں نازل کریں گے۔ اور تم جو کام بھی کرو گے خواہ وہ بظاہر دنیا کا نظر آتا ہو۔ اس کے بدلہ میں تم ثواب پاؤ گے۔ (خطبہ جمعہ فرمودہ ۱۰؍جنوری ۱۹۳۶ء مطبوعہ خطبات محمود جلد ۱۷)

جہان ِنو کے حسین اور پائیدار نقشے انشاء اللہ عنقریب یورپ میں ابھرنے والے ہیں اور ان کی تکمیل کی خاطر اللہ تعالیٰ نے پاکستانی احمدیوں کو ۱۹۵۳ء پھر ۱۹۷۴ء اور پھر ۱۹۸۴ء میں یکے بعد دیگرے جھٹکے دیے اورہر دفعہ کا جھٹکا پہلے سے زیادہ سخت تھا۔۱۹۷۴ء کے فسادات کے بعد احمدیوں نے مغربی ممالک کا رخ تو کیا مگر محدود تعداد میں۔ اس سے جرمنی میں جماعت کو کسی حد تک تقویّت ملی۔۱۹۸۴ء میں لگنے والا جھٹکا اتنا شدید تھا کہ خدا تعالیٰ نے گویا گھسیٹ کر احمدیوں کو بیدار کیا اور اس کی تقدیر نے انہیں ہجرت کرنے پر مجبور کردیا۔ خلافت احمدیہ کو بھی پاکستان چھوڑ کر انگلستان منتقل ہونا پڑا۔ ہر احمدی چونکہ خلافت کا فدائی ہے اورخلیفہ وقت کے ساتھ انتہائی محبت کا تعلق رکھتا ہے۔ اس وجہ سے احمدیوں نے بھی بڑی تیزی کے ساتھ دنیا کے مختلف ممالک کی طرف نقل مکانی شروع کردی۔ جیسے عقل مند زمیندار بہترین بیج سنبھال کر رکھتا ہے اور اگلی فصل کے لیے اس کا چھٹّا دیتا ہے اسی طرح اس ہجرت کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ساری دنیا میں مخلص احمدیوں کی تخم ریزی کی اور انہیں مشرق ومغرب میں پھیلا دیا تاکہ ان کے ذریعہ ہر ملک میں احمدیت کی ترقی اور فتوحات کی بنیاد رکھی جاسکے۔ ان مہاجرین میں سے ایک بھاری تعداد کی منزل جرمنی تھی اور جرمن حکومت نے بھی ان مہاجرین کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہوئے کھلے دل کے ساتھ ان کو قبول کیا۔ اس ہجرت کے نتیجہ میں جرمنی کے طول وعرض میں بڑی تیزی کے ساتھ جماعتیں قائم ہوئیں اور ترقیات کا ایک نیا دور شروع ہوا۔

اللہ تعالیٰ نے خلفائے سلسلہ پر یہ بات ظاہر فرمائی کہ یورپ میں سب سے پہلے جرمنی نے اسلام قبول کرنا ہے اور پھر سارے یورپ کی اس قوم نے قیادت کرنی ہے۔

حضرت مصلح موعوؓد اس حوالے سے خوشخبری دیتے ہوئے فرماتے ہیں:’’جرمن قوم اس زندہ روح کے ساتھ ضرور جلد از جلد اسلام کو جو خود اس روح کو بلند کرنے کے لئے تعلیم دیتا ہے قبول کرے گی۔‘‘

۱۹۴۹ء میں رتن باغ لاہور میں حضرت مصلح موعودؓ نے جرمن قوم کی ڈپلومیسی میں مسلسل ناکامی کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرمایا:’’میرے نزدیک اس کی وجہ یہ ہے کہ خداتعالیٰ اس قوم میں اسلام پھیلانا چاہتا ہے اور چونکہ اس قوم میں اسلام پھیلنا ہے اس لئے جب بھی وہ کسی دنیاوی ترقی کے لئے کوشش کرتی ہے ناکام رہتی ہے… جس طرح اٹلی کو یہ فوقیت حاصل ہے کہ اس نے ابتدا میں عیسائیت کو قبول کیا اور اس کے بعد عیسائیت کو تمام یورپ میں پھیلایا اسی طرح اسلام کے لئےبھی تو کوئی نہ کوئی ملک مقدر ہوگا جو اسلام کو قبول کرکے اسے آگے تمام یورپ میں پھیلائے۔ میں خیال کرتا ہوں کہ وہ ملک جرمنی ہے پچھلے سو سال کے عرصہ میں جب بھی انہوں نے آگے بڑھنے کی کوشش کی ہمیشہ ناکام رہے۔ خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ یہ مذہب کو لیڈ کریں… میں سمجھتا ہوں کہ جب اس قوم میں اسلام پھیلے گا وہ اسلام کے لئے ہر ممکن قربانی کرے گی۔‘‘ (انوار العلوم جلد ۲۱ صفحہ ۶۹)

حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے ایک رؤیا میں جرمن حکمران کو دیکھا جو آپ کو کہتاہے کہ ’’آئیں میں آپ کو اپنا عجائب خانہ دکھاؤں۔ چنانچہ وہ آپ کو ایک کمرہ میں لے گیا جہاں مختلف اشیاء پڑی ہیں۔ کمرہ کے وسط میں ایک پان کی شکل کا پتھر ہے جیسے دل ہوتا ہے۔ اس پتھر پر ’’ لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ‘‘ لکھا ہوا ہے۔

حضورؒ نے فرمایا کہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جرمن قوم اگرچہ اوپر سے پتھر دل یعنی دین سے بیگانہ نظر آتی ہے مگر اس کے دلوں میں اسلام قبول کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔‘‘(روزنامہ الفضل ربوہ۱۰؍اگست ۱۹۶۷ء صفحہ۴)

۱۹۷۳ء میں جرمنی کے دورے کے دوران فرانکفرٹ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب فرماتے ہوئے حضورؒ نے فرمایا کہ ’’مجھے یقین ہے کہ پچاس سے سو سال کے اندر اندر اِس آسمانی انقلاب کو دنیا عموماً اور جرمن قوم خصوصاً تسلیم کرلے گی۔ ‘‘(روزنامہ الفضل ربوہ ۱۶؍ستمبر ۱۹۷۳ء صفحہ اول کالم ۳و۴)

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒنے ایک موقع پر فرمایا:’’ مجھے جرمنی کا مستقبل بہت روشن دکھائی دیتا ہے انشاءا للہ عظیم جرمن قوم تمام یورپ کی تما م پہلوؤں سے قیادت کرے گی۔ گو کہ جرمن قوم عیسائیت قبول کرنے میں سب سے آخر میں تھی لیکن ان شاءاللہ اسلام قبول کرنے میں سب سے پہلے ہوگی۔‘‘ پھر آپؒ نے فرمایا:جرمن قوم بڑی مخلص اور فدائی قوم ہے۔ سچی ہے،صاف گو ہے ان میں چال بازیاں نہیں ہیں اس لئے جرمن قوم کے دن پھریں گے اور پھر رہے ہیں۔ اب آگے جا کے انشاء اللہ تعالیٰ بڑی تیزی سے جرمن قوم کی توجہ احمدیت کی طرف ہوگی۔ (فرمان حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ ریکارڈنگ مجلس سوال وجواب منعقدہ ۱۲؍فروری ۲۰۰۰ بحوالہ الفضل ربوہ ۸؍ اکتوبر ۲۰۰۱ء)

حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں ’’ انشاء اللہ تعالیٰ اس قوم میں احمدیت پھیلے گی اور جس طرح ہم دیکھ رہے ہیں کہ بہت سے جرمن احمدی اپنے ہم قوموں کے اس ظالمانہ رویے سے شرمندہ ہورہے ہیں۔ آئندہ انشاء اللہ لاکھوں کروڑوں جرمن احمدی ان لوگوں کے خدا اور انبیاء کے بارہ میں غلط نظریہ رکھنے پر شرمندہ ہوں گے۔ جرمن ایک با عمل قوم ہے اور انشاء اللہ تعالیٰ اگر آج کے احمدی نے اپنے فرائض تبلیغ احسن طور پر انجام دیے تو اس قوم کے لوگ ایک عظیم انقلاب پیدا کردیں گے‘‘ (خطبہ جمعہ فرمودہ ۲۲؍دسمبر ۲۰۰۶ء)اپریل ۲۰۱۷ءکو حضور انور نے فیملی ملاقات کے بعد مکرم عابد خان صاحب کو بلایا اور جو گفتگو ان کے ساتھ کی اس میں سے ایک حصہ یہ بھی تھا کہ حضور انور نے فرمایا:’’ فکر کی ضرورت نہیں ان دنوں جماعت جرمنی اشاعت اسلام کے لئے بنیاد رکھ رہی ہے۔ پچھلے چند سالوں میں میڈیا میں جماعت کے متعلق خبروں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے اور اسی طرح لوگوں کی دلچسپی بھی بڑھی ہے۔ پہلی دفعہ اتنی بڑی سطح پر جماعت کا تعارف ہوا ہے۔‘‘ حضور نے گفتگو جاری رکھتے ہوئے مزید فرمایا: میری والدہ محترمہ نے بھی خواب میں دیکھا کہ انہیں جرمنی کی کنجیاں دی گئیں۔ پس ایک دن جرمنی میں اسلام کا بریک تھرو ہوگا اور بہت سارے مقامی لوگ اسلام کی سچی تعلیم کو قبول کرلیں گے۔ تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ ہمارے احمدی انتہائی محنت سے کام کریں اور ممکنہ حد تک اس کی بہترین مثال قائم کریں۔ (باقی آئندہ)

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button