کرکٹ ورلڈ کپ ۲۳ء

کرکٹ ورلڈ کپ 2023ء: جنوبی افریقہ کو ایک مرتبہ پھر سیمی فائنل میں شکست؛ آسٹریلیا آٹھویں بار فائنل میں پہنچ گیا!!

کرکٹ ورلڈ کپ

دوسراسیمی فائنل

جمعرات،16نومبر2023ء

آسٹریلیا بمقابلہ جنوبی افریقہ

بمقام: کولکتہ(Kolkata)

کرکٹ ورلڈ کپ 2023 کے دوسرے سیمی فائنل میں کولکتہ کے ایڈن گارڈنز میں پانچ مرتبہ کی عالمی چیمپئن آسٹریلیا اور پانچویں بار ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں پہنچنے والی جنوبی افریقہ کی ٹیموں کے مابین ایک کانٹے دار مقابلہ دیکھنے کو ملا۔جس میں بالآخرآسٹریلوی ٹیم نے تین وکٹوں سے فتح حاصل کرکے آٹھویں بار فائنل میں جگہ بنالی۔

جنوبی افریقہ نے ڈیوڈ ملر(David Miller) کی سینچری کی بدولت آسٹریلیا کو فتح کے لیے 213 رنز کا ہدف دیا جو انہوں نے 47.2اوورزمیں سات وکٹوں کے نقصان پر حاصل کرلیا۔

 جنوبی افریقہ کے کپتان ٹیمبا باووما (Temba Bavuma)نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔تاہم اننگز کے پہلے ہی اوور میں مچل اسٹارک(Mitchell Starc) نے جنوبی افریقی کپتان کی اننگزصفر کے اسکور پر ہی تمام کردی۔

اسٹارک اور ہیزل وُڈ کی بہترین باؤلنگ کے سبب جنوبی افریقہ کےبلے بازوں کو رنز بنانے میں شدیدمشکلات کا سامنا رہا۔اس ٹورنامنٹ میں چار سنچریاں بنانے والے کوئنٹن ڈی کوک (Quinton de Kock)بھی دباؤ کا شکار ہو کر صرف تین رنز بنانے کے بعد پویلین لوٹ گئے۔

ابتدائی 10 اوورز میں جنوبی افریقہ کے بلے باز صرف 18 رنز بنا سکے۔پھر 22کے مجموعی سکورپرمچل اسٹارک نے اپنادوسرا شکار کرتےہوئےایڈن مارکرم(Aiden Markram)کوآؤٹ کیا۔دوسرےاینڈسےجوش ہیزل وڈ(Josh Hazelwood) نے راسی وین ڈر ڈوسن(Rassie van der Dussen) کی وکٹ حاصل کی تو جنوبی افریقہ کی ٹیم صرف 24 رنز پر چار وکٹوں سے محروم ہو چکی تھی۔

اس موقع پر ہینرک کلاسن(Heinrich Klassen) کا ساتھ دینے ڈیوڈ ملر (David Miller)آئے اور دونوں نے سنبھل کر بلے بازی کرتے ہوئے اسکور کو آگے بڑھانا شروع کیااور ایک نہایت اہم شراکت قائم کی۔

جب جنوبی افریقہ کا اسکور 44 تک پہنچا تو میچ بارش کی وجہ سے روکنا پڑا تاہم میچ میں کوئی اوورز ضائع نہ ہوئے اور جلد اننگز کا دوبارہ آغاز ہو گیا۔

کلاسن اورڈیوڈ ملر نے پانچویں وکٹ کے لیے 95 رنز کی ساجھے داری بنائی ۔آسٹریلیا کے کپتان ٹریوس ہیڈ(Travis Head) کو گیندبازی پر لائے جن کا کلاسن نے لگاتار دو چوکے لگا کر استقبال کیا۔لیکن اسی اوور کی چوتھی گیند پرHead نے 47 رنز بنانے والے کلاسن کو بولڈکردیا۔اورپھراگلی ہی گیند پر مارکو جینسن بھی ایل بی ڈبلیو ہوئے تو پروٹیز کا سکور۳۱ویں اوور میں  6وکٹوں کے نقصان پر 119رنز تھا۔

مشکل پچ اور سیمی فائنل کے دباؤ کے باوجود Millerنے ہمت نہ ہاری اور تن تنہا اسکور کو بڑھاتے ہوئے اپنی نصف سنچری مکمل کی۔ساتویں وکٹ کی شراکت میں انہوں نے جیرالڈ کوئٹزے (Gerald Coetzee)کے ساتھ مل کر 53 رنز کا اضافہ کیا۔پھر آسٹریلین کیپٹن پیٹ کمنز(Pat Cummins) نے Coetzeeکی مزاحمت کا خاتمہ کیا ،انہوں نے 39گیندیں کھیل کر 19رنز بنائے۔اس کے بعد Starcنے کیشو مہاراج کی اننگز بھی 4 رنز پر تمام کردی۔

دوسری طرف David Miller ڈٹے رہے اور بڑے مقابلہ میں بڑی مہارت اور دلیری سے بلے بازی کرتے ہوئے اپنے کیریئر کی چھٹی اور آسٹریلیا کے خلاف تیسری سینچری مکمل کرنے میں کامیاب ہوئے۔تاہم 201کے مجموعی اسکور پرMiller 5 چھکوں اور 8 چوکوں سے سجی 101 رنز کی اننگز بنا کر Cumminsکے ہاتھوں اپنی وکٹ گنوا بیٹھے۔بالآخرجنوبی افریقہ کی پوری ٹیم 50ویں اوور میں 212 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔

آسٹریلیا کی جانب سے مچل اسٹارک نے دس اوور زمیں صرف 34رنز دے کرتین وکٹیں حاصل کیں،پیٹ کمنز بھی تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کرنے میں کامیاب ہوئے جبکہ ،ہیڈ اور ہیزل وُڈ نےدو،دو وکٹیں حاصل کیں۔ہیزل وڈ نے 8اوورز میں صرف12رنزدئیے جن میں تین اوورزmaiden بھی تھے۔

آسٹریلوی  اوپنرزڈیوڈ وارنز اور ٹریوس ہیڈ نے جارحانہ آغاز فراہم کرتے ہوئے 6 اوورز میں 60 رنز بنا ڈالے؛جو بعد میں میچ کا نمایاں ترین فرق ثابت ہوئے۔

اس مرحلہ پر بازی جنوبی افریقہ کے ہاتھ سے نکلتی دکھائی دے رہی تھی۔لیکن آف اسپنر ایڈن مارکرم اپنی ہی  پہلی گیند پر Warnerکو بولڈ کر کے ٹیم کو میچ میں واپس لے آئے ۔پھراگلے ہی اوور میں Rabadaکی گیند پرمچل مارش بغیرکوئی رن بنائے کیچ آؤٹ ہوگئے۔

دوسری طرف ٹریوس ہیڈ نے اپنی روایتی دھواں دار بلے بازی جاری رکھتے ہوئے نصف سنچری مکمل کرلی۔48گیندوں پر9چوکوں اور 2چھکوں کی مدد سے 62 رنز بنانے والے Headکی اننگز کا خاتمہ اس وقت ہوا جب کیشو مہاراج (Keshav Maharaj)نے اپنے اسپیل کی پہلی گیند پر انہیں بولڈ کردیا۔

تین وکٹیں گرنے کے بعد اسٹیو ن سمتھ اور مارنس لبوشین پر مشتمل قابل اعتماد جوڑی نے سنبھل کرکھیلنا شروع کیا تاہم ان دونوں کے رنز بنانے کی رفتار خاصی کم تھی۔جنوبی افریقہ کے اسپنرززبردست نپی تلی باؤلنگ کروا رہے تھے۔جس کے نتیجہ میں لبوشین ایک غلط شاٹ لگاتے ہوئے Tebraiz Shamsiکی بال پرLBWہوگئے۔اس وقت آسٹریلیا کا اسکور133پر پہنچ چکا تھا۔پھر ایک اور اہم وکٹ Shamsiکے حصہ میں آئی جب خطرناک گلین میکسویل صرف ایک رنز بنانے کے بعد بولڈ ہو کر واپس لوٹ گئے۔

5 وکٹیں گرنے کے بعد آسٹریلوی ٹیم مشکلات میں گھرتی نظر آ نے لگی لیکن اس مرحلے پر اسٹیو ن سمتھ کا تجربہ اور صلاحیت کام آئی جنہوں نے جوش انگلس کے ساتھ مل کر اسکور کو 174 تک پہنچا دیا۔Steven Smithنے 62گیندوں پر 30 رنز کی اننگز کھیلی ،وہ ایک غیر ذمہ دارانہ شاٹ لگاتے ہوئے جیرالڈ کوئٹزے کا شکار بنے۔وکٹ کیپر بلےبازجوش انگلس نے بھی مشکل وقت میں ذمہ دارانہ کھیل پیش کیا اور 28 رنز بنانے میں کامیاب رہے۔193 کے مجموعی اسکور پر ان کو بھی Coetzeeنے آؤٹ کر کے میچ کو ایک مرتبہ پھردلچسپ بنا دیا۔

اختتامی لمحات میں پیٹ کمنز اورمچل اسٹارک نے اعصاب قابو میں رکھتے ہوئے جنوبی افریقی باؤلرز کو وکٹ لینے سے باز رکھااور45گیندوں پر22رنز کا اضافہ کرکے 48ویں اوور میں ہدف حاصل کر لیا اور اپنی ٹیم کو فائنل میں پہنچا دیا۔

جنوبی افریقہ کی جانب سے کوئٹزے اور شمسی نے دو،دو وکٹیں حاصل کیں جبکہ کاگیسو رباڈا، مہاراج اور مارکرم نے ایک ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔

ٹریوس ہیڈ(Travis Head) کو 62 رنز کی جارحانہ اننگز اور دو وکٹیں لینے پرمیچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

اس ورلڈ کپ کا آخری معرکہ 19نومبر 2023ء بروز اتوار احمد آباد میں میزبان بھارت اور آسٹریلیا کے مابین ہوگا۔اب دیکھنا یہ ہے  کہ آیا آسٹریلیا کی ٹیم اس ٹورنامنٹ میں ناقابل شکست رہنے والی انڈین ٹیم کو تیسری بار عالمی چیمپئن بننے سے روک پاتی ہے یا نہیں!!

خلاصہ:

جنوبی افریقہ 49.4 اوورز میں 213 رنز پر آل آؤٹ

 ڈیوڈملر 101،ہینرک کلاسن47؛

مچل اسٹارک 3/34،کمنز 3/51،ہیزل وُڈ2/12

 آسٹریلیا 47.2 اوورز میں /7215رنز

ٹریوس ہیڈ62،اسٹیون اسمتھ 30

تبریز شمسی 2/42،کوئٹزے2/47

اہم ریکارڈز و اعدادوشمار

  • ایک روزہ کرکٹ ورلڈ کپ کے سیمی فائنل  میں یہ جنوبی افریقہ کی چوتھی ہار ہے جبکہ 1999ء میں آسٹریلیا کے ساتھ ان کا سیمی فائنل tieہوا تھا۔ورلڈ کپ سیمی فائنل سب سے زیادہ سات بار نیوزیلینڈ کو شکست ہو چکی ہے۔
  • اس ٹورنامنٹ میں ابتدائی دو میچ ہارنے کے بعد آسٹریلیا کی یہ لگاتار آٹھویں کامیابی ہے۔دوسری طرف پہلے سیمی فائنل کی فاتح بھارتی ٹیم دس میچوں میں ناقابل شکست ہے۔
  • فاسٹ باؤلر جیرالڈ کوئٹزے نے اس ٹورنامنٹ میں 20وکٹیں حاصل کرکے جنوبی افریقہ کے لئے ایک ورلڈ کپ ایڈیشن میں سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے کا ریکارڈ بنادیا۔
  • جنوبی افریقہ کے وکٹ کیپر ڈی کاک اس ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ 20شکارکئے ہیں۔ایک ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ21 شکار کرنے ریکارڈ آسٹریلیا کے ایڈم گلکرسٹ (2003ء)اور نیوزیلینڈ کے ٹام لیتھم(2019ء )کے پاس ہے۔
  • آج کے میچ میں آسٹریلوی اوپنرز نے 66گیندوں پر 91رنز بنائے۔جبکہ باقی بلے باز220گیندوں پر107رنز بنانے میں کامیاب ہوسکے۔
  • اس میچ میں ڈیوڈ ملر کے 101رنز جنوبی افریقہ کی طرف سے ورلڈکپ کے knock-outمیچ میں سب سے بڑانفرادی سکورہے۔

 (رپورٹ: ن م طاہر)

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button