متفرق مضامین

برج خلیفہ

برج خلیفہ متحدہ عرب امارات کےشہر دبئی میں واقع ہے۔اس بلند ترین عمارت کی لمبائی ۸۲۸؍ میٹر یعنی ستائیس سو سترہ فٹ بتائی جاتی ہے۔یہ عمارت ۱۶۳؍ منزلوں پر مشتمل ہے۔

اس کا سابقہ نام برج دبئی تھا۔یہ انسان کی تعمیر کردہ تاریخ کی بلند ترین عمارت ہے۔اس عمارت کو افتتاح کےموقع پرمتحدہ عرب امارات کے صدر شیخ خلیفہ بن زید النہیان کے نام سےموسوم کیاگیا۔

برج خلیفہ کی تعمیر کا آغاز ۲۱؍ستمبر۲۰۰۴ء کو برج دبئی کے نام سے ہوا۔عمار ت کے ماہر تعمیرات ایڈریان سمتھ ہیں،جن کاتعلق اسکڈمور،اوونگز اینڈ میرل (SOM)سے ہے۔برج خلیفہ سےمتعلق متحدہ عرب امارات میں لوگوں کےدرمیان مختلف طرح کے خیالات بھی پائے جاتے ہیں جو زیر بحث رہتے ہیں۔کچھ لوگوں کاخیال ہے کہ اس عمارت کی وجہ سے یواے ای کانام پوری دنیا میں لیاجاتا ہے۔

بلندی

برج خلیفہ دنیا میں سب سے زیادہ منزلوں کی حامل عمارت ہے۔عمارت نے ۲۱؍جولائی ۲۰۰۷ء کو۱۴۱؍ منزلیں مکمل ہونےپرجب ۵۱۲؍ میٹر (۱۶۸۰؍ فٹ )کی بلندی کو چھوا تو اس وقت کی دنیا کی سب سے بلند عمارت تائی پے۱۰۱(۵۰۹؍ میٹر )(۱۶۷۱؍ فٹ)کو پیچھے چھوڑ دیا، لیکن بلند عمارتوں کےحوالےسے عالمی انجمن برائے بلند عمارات وشہری عادات(Council on Tall Buildings and Urban Habitat)نے اس کوتسلیم تو کیالیکن ان کاکہناہے کہ یہ تب تک بلند ترین عمارت نہیں کہلائے گی جب تک مکمل نہیں ہوجائے گی بالکل اسی طرح جیسے شمالی کوریا کےدارالحکومت پیانگ یانگ میں واقع ریونگ یونگ ہوٹل کومکمل عمارت نہیں سمجھاجاتا۔اس لیے اس عمارت نے باضابطہ طورپر بلند ترین عمارت کااعزاز ۴؍جنوری ۲۰۱۰ء کو حاصل کیا۔اس طرح برج خلیفہ نے فروری ۲۰۰۷ءمیں شکاگو کےسیئر ٹاورز کوپیچھے چھوڑ کردنیامیں سب سے زیادہ منزلوں کی حامل عمارت کااعزاز حاصل کیا واضح رہے کہ سیئرز ٹاور میں ۱۰۸منزلیں ہیں۔

خصوصیات

برج خلیفہ میں دنیا کی تیز ترین لفٹ بھی نصب کی گئی ہےجو ۱۸؍میٹر فی سیکنڈ (۶۵؍کلو میٹر فی گھنٹہ،۴۰؍میل فی گھنٹہ )کی رفتار سےسفرکرتی ہے۔پورے عمارتی منصوبہ میں تیس ہزار رہائشی مکانات،۹؍ ہوٹل،۶؍ ایکڑ باغات،۱۹؍ رہائشی ٹاور اور برج خلیفہ جھیل شامل ہیں۔اس کی تعمیر پر۸؍ ارب ڈالرز کی لاگت آئی۔تکمیل کے بعدٹاور ۲۰؍ ملین مربع میٹر کے رقبے پرپھیل گیا۔علاوہ ازیں برج خلیفہ ٹاور میں دنیا کی سب سےبلند ترین مسجد بھی واقع ہےجو ۱۵۸؍ ویں منزل پر موجود ہے۔

برج خلیفہ کی تکمیل سے مشرق وسطیٰ نے ایک بار پھر دنیا کی بلند ترین عمارت کا اعزاز حاصل کرلیاجو تین ہزار سال تک اہرام مصر کی صورت میں اس خطےکو حاصل تھا۔۱۳۰۰ء میں لنکن کیتھیڈرل کی تعمیر کے بعد سے مشرق وسطیٰ اس اعزاز سے محروم تھا۔

(’اے اے امجد‘)

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button