کرکٹ ورلڈ کپ ۲۳ء

کرکٹ ورلڈ کپ ۲۰۲۳ء، جنوبی افریقہ کی بنگلہ دیش کے خلاف ۱۴۹ رنز سے فتح

کرکٹ ورلڈ کپ

میچ نمبر23: منگل24 اکتوبر2023ء

جنوبی افریقہ بمقابلہ بنگلہ دیش

بمقام: ممبئی (Mumbai)

24اکتوبرکوممبئی کے وانکھیڈے سٹیڈیم میں جنوبی افریقہ نے بنگلہ دیش کو 149کے بڑے مارجن سے شکست دے دی۔اس فتح کے بعد جنوبی افریقہ پانچ میں سے چارمیچز جیت کر پوائنٹس ٹیبل پردوسرے نمبرپرآگیا۔جبکہ بنگلہ دیش آخری پوزیشن پرچلا گیا۔

دہلی میں سری لنکا کے خلاف 428،ممبئی میں انگلینڈ کے خلاف 399، اوراب  بنگلہ دیش کےخلاف 382رنز بنا کر جنوبی افریقہ نے ثابت کیا کہ وہ جدید طرز کی بلے بازی کو ایک نئی بلندی پر لے جا چکے ہیں۔اس طرز کی بیٹنگ گزشتہ سالوں میں انگلش ٹیم کا خاصہ رہی ہے لیکن اس ورلڈ کپ میں پروٹیز ایک منفرداندازمیں دلیرانہ کرکٹ کھیل رہے ہیں جس کی بدولت انہیں کامیابیاں بھی مل رہی ہیں۔

اس میچ میں بنگلہ دیشی کپتان Shakib Al-Hasan کی واپسی ہوئی لیکن جنوبی افریقہ کے قائدTemba Bavumaمسلسل دوسرے میچ میں شرکت نہ کرسکے۔ جنوبی افریقہ کے قائمقام کیپٹن ایڈن مارکرم(Aiden Markram) نے ٹاس جیت کر ایک مرتبہ پھر پہلے بیٹنگ کرنے کو ترجیح دی لیکن ان کی ابتدائی دووکٹیں صرف36کے سکورپر گرگئیں۔ ریزا ہینڈرکس(Reeza Hendricks)نے 12 جبکہ van der Dussen نے ایک رَن بنایا۔ اس کے بعد تیسری وکٹ کی شراکت میں 131رنز بنے۔ کپتان مارکرم 60کے انفرادی سکورپر آؤٹ ہوئے۔ دوسری طرف جنوبی افریقہ کے وکٹ کیپر بلے باز Quinton de Kockنے اپنی شاندارکارکردگی کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے اس ٹورنامنٹ میں اپنی تیسری اور ون ڈے کیرئیر کی 20وِیں سینچری بنائی۔ انہوں نے 7چھکوں اور15چوکوں کی مدد سے 140گیندیں کھیل کر174رنز بنائے۔چوتھی وکٹ کی ساجھے داری میں انہوں نے اِن فارم بلے بازHeinrich Klassenکےساتھ مل کربرق رفتاری سے 142رنز کا اضافہ کیا۔Klassenنے گزشتہ میچ میں 61گیندوں پرسینچری بنائی تھی،اور اس میچ میں 49بالز پر90رنز بنانے میں کامیاب رہے جس میں 8بلندوبالا چھکے بھی شامل تھے۔

اننگز کے آخرمیں ڈیوڈ ملر(David Miller)نے چارچھکوں کی مدد سے 34رنز بنائے اور یوں جنوبی افریقہ کی بلےبازی382کا بڑا سکورکھڑاکرنے میں کامیاب ہوئی۔جنوبی افریقہ کی طرف سے آخری دس اوورز میں 154رنز سکور کئے گئے۔

بنگلہ دیش کی جانب سے کوئی بھی باؤلر نمایاں کارکردگی نہ دکھا سکا۔تاہم حسن محمود(Hasan Mahmud)کے حصہ میں 6اوورز میں 67رنز دے کردو وکٹیں آئیں۔مہدی حسن میراز،شریف الاسلام اورثاقب الحسن نے ایک ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔

383رنز کے تعاقب میں بنگلہ دیشی بیٹنگ بری طرح ناکام ہوئی اور ان کے ابتدائی چھ بلے باز81کے مجموعی سکورپرواپس لوٹ گئے۔نمبرچھ پر بیٹنگ کرتے ہوئے اپنے کیرئیرکا 225واں ایک روزہ میچ کھیلنے والے 37سالہ محموداللہ(Mahmudullah)نےنہایت قابلِ تعریف بلے بازی کا مظاہرہ کیا۔انہوں نے ورلڈ کپ مقابلوں میں اپنی تیسری اور کیرئیرکی چوتھی سینچری بنائی۔محموداللہ 111گیندیں کھیل کر111رنز بنانے میں کامیاب ہوئے جس میں 4چھکے اور 11چوکے شامل تھے۔ان کے علاوہ کوئی بھی بلے باز زیادہ مزاحمت پیش نہ کرسکا۔بنگلہ دیش کی اننگز کا اختتام 46.4اوورز میں 233رنز پر ہوا۔

جنوبی افریقہ کی طرف سے تیز گیند بازGerald Coetzee نے تین جبکہ Marco Jansen،Lizaad WilliamsاورKagiso Rabadaنے دودو وکٹیں حاصل کیں۔

خلاصہ:

جنوبی افریقہ 5 وکٹوں پر382 رنز،50اوورز

ڈی کوک174،کلاسن 90،مارکرم 60

حسن محمود67/2،مہدی میراز44/1

 بنگلہ دیش 46.4اوورز میں 233رنز بنا کرآل آؤٹ

محموداللہ111،لٹن داس 22

جیرالڈ کوٹزے 62/3،مارکو جینسن 39/2

جنوبی افریقہ نے بنگلہ دیش کو 149رنز سے شکست دی۔کوئنٹن ڈی کوک(Quinton de Kock) کو پلیئرآف دی میچ کا ایوارڈدیا گیا۔

جنوبی افریقہ اپنا اگلا میچ چینئی میں27اکتوبرکو پاکستان کے خلاف کھیلے گا۔جبکہ 28اکتوبرکو بنگلہ دیش کا سامنا کرے گا نیدرلینڈز کا کولکتہ میں۔

اہم اعدادوشماروریکارڈز

  • ورلڈ کپ مقابلوں رنز کے اعتبارسے یہ بنگلہ دیش کی تیسری بڑی ہار ہے۔قبل ازیں 2011ء میں جنوبی افریقہ کے ہاتھوں بنگلہ دیش کو 206رنز اور2007ء کے ورلڈ کپ میں سری لنکا کے خلاف 198رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
  • محموداللہ ورلڈ کپ میچز میں بنگلہ دیش کی طرف سے سب سے زیادہ تین سینچریاں بنا چکے ہیں۔ان کی اننگز میں چارچھکے شامل تھے جوکہ عالمی ٹورنامنٹ میں Litton Dasکے ساتھ مشترکہ طورپر سب سے زیادہ چھکے ہیں۔
  • 2023ء میں چوتھی مرتبہ جنوبی افریقہ نے 380سے زائد رنز بنا کر ایک سال میں سب سے زیادہ مرتبہ یہ سنگ میل عبورکرنے کا اپنا ہی ریکارڈ برابرکردیا۔2015ء میں بھی جنوبی افریقہ نے چارمیچوں میں380سے زیادہ رنز بنائے تھے۔
  • جنوبی افریقہ نے اس سال مجموعی طورپر آٹھویں مرتبہ 100سے زائد رنزکے فرق سے میچ جیتا ہے۔1999ء میں پاکستان نے بھی آٹھ بار یہ اعزازحاصل کیا تھا۔
  • کوئنٹن ڈی کوک کے 174رنز کسی بھی وکٹ کیپر بلے باز کی ورلڈ کپ مقابلوں میں سب سے بڑی انفرادی اننگز ہے۔

(رپورٹ: ۔ن م طاہر)

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button