مکتوب

مکتوبِ جرمنی (۲)

(محمد کولمبس خاں۔ مہدی آباد، جرمنی)

جنگ عظیم دوم سے جرمنی نے کیا سیکھا

جرمنی ایک ایسا ملک ہے جس کا دنیا میں سائنسی ترقی اور ایجادات کے علاوہ فلسفہ اور سماجیات کی تحقیق میں بھی نمایاں حصّہ ہے۔ جرمنی کی تاریخ کے درمیان لکیر لگائی جائے تو اس عنوان کی غرض سےمطالعہ کے لیے ۸؍مئی ۱۹۴۵ء سے پہلے اور بعد کے دو مختلف جرمنی ہیں۔

جنگ سے پہلے جرمنی باوجود اپنی سائنسی اور سماجی ترقی کے ایک دروں بین ملک تھا جسے فلاح انسانی کے لحاظ سے زیادہ تر اپنے شہریوں سے غرض تھی جو Jus Sanguinis یا حق الدم یعنی خون کے اعتبار سے جرمن نسل کے ہی لوگ تھے۔ اس اصول کے تحت جرمنی میں باہمی نسلی یگانگت کو فروغ تو حاصل ہوا لیکن اس کے ساتھ ہی بنی نوع انسان کے اجتماعی مفاد کے لیے بے حسی،احساس برتری پروان چڑھا جس کے نتیجہ میں انہوں نے جنگ کے دوران انسانوں پر وہ مظالم بھی روا رکھے جن کے بیان سے انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔

دوسری جنگ عظیم میں اتحادیوں کی متوقع فتح کے بعد اتحادیوں نے مستقبل میں جرمنی سے جنگ کے خطرے کے سدِباب کے لیے جب غور و فکر شروع کیا تو اگست ۱۹۴۴ء میں Morgenthau-Planکے تحت ایک منصوبہ اس وقت کے امریکی وزیر خزانہ Morgenthauنے پیش کیا اور تجویز کیا کہ جرمنی کو صنعتی سے زرعی ملک میں تبدیل کر دیا جائے۔ اس تجویز کو بعد از فتح تبدیل کرکے مارشل پلان (Marshall Plan) پیش کیا گیا۔ یہ امریکی وزیر خارجہ کا پیش کردہ تھا اور سوویت یونین کے بڑھتے ہوئے رسوخ کو روکنے کے لیے پورےیورپ کی معاشی ترقی کے لیے تیار کیاگیاتھا ۔ جرمنی کوزرعی کی بجائے صنعتی ملک ہی رہنے دیا گیا کیونکہ ملک میں ہنرمندوں کی استعداد کار سے بہت فائدہ اٹھایا جا سکتا تھا۔

دوسرے نمبر پر جرمنوں کو ڈی نازیفائی کرنا تھا۔ یعنی نازی نظریات اور خیالات کا خاتمہ اور ایسے خیالات رکھنے والوں کو سزائیں دے کر اور تربیت کرکے ان کے خیالات کو پاک کرنا تھا گویا اس کے تحت جرمن نازی پارٹی کے خاتمہ کے بعد کی باقیات کی تطہیر اور عوام میں اس کی مقبولیت کا خاتمہ مقصود تھا۔ یہ ایک طویل عمل تھا۔ مغربی جرمنی میں اس کے باوجود سرکاری محکموں اور عدالتوں سے تمام نازی تونہ نکالے جاسکے۔ عوام پر نازی ازم کا اثر قائم رہا اور اس دور کے لوگوں سےماضی کی بات کی جاتی تو اتحادیوں کے خلاف نفرت کو چھپاتے ہوئے اور اپنے گھر وںمیں بھی دائیں بائیں جھانک کر بات کرتے۔ ڈی نازیفائی ہونے والوں کو سرٹیفکیٹ دیا جاتا تھا۔ مشرقی جرمنی کا معاملہ بالکل مختلف تھا۔ وہاں سوویت یونین کے قبضہ میں آنے کے بعد مشرقی جرمنی میں ایک اشتراکی معاشرہ کی تشکیل مقصود تھی جو ویسے ہی نازی ازم کے متضاد نظریہ تھا۔

جنگ عظیم دوم کے بعد دنیا سرمایہ دارانہ نظام اور اشتراکی نظام کےتحت تقسیم ہونا شروع ہوئی جس سے سرد جنگ کا آغاز ہوا اور اس کے گرم ہوجانے کا خطرہ ہر وقت لاحق رہتا۔(اگرچہ جنگ سے بچنے کے لیے ایک تیسری تجویز بھی سامنے آئی جسے غیرجانبدار تحریک کہتے ہیں جس میں بھارت یوگو سلاویہ اور انڈونیشیا جیسے ممالک شامل تھے)۔ جرمنی پر سرد جنگ کے نفسیاتی اثر کا اس بات سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ہمارے کارخانے میں ایک ٹی پارٹی کے موقع پر ایک نوجوان بیٹھا اور چائے کے ساتھ کچھ کھا پی نہیں رہا تھا۔ اس سے پوچھا گیا کہ کیا وجہ ہے؟ تو کہنے لگا کہ جنگ لگ جانی ہے اور مر ہی جانا ہے لہٰذا کھانے کا فائدہ کیا ہے؟

جنگ کے بعد جس دانشمندی اور انتہائی محتاط روش میں جرمنی کے سیاستدانوں نے حالات سے سمجھوتہ کرتے ہوئے اپنے ملک کو نہ صرف ترقی کی راہ پر گامزن رکھا بلکہ ہیلموٹ کوہل (Helmut Kohl)جیسے نے بظاہر جھلے بن کر جرمنی کو بغیر کسی خون خرابے کےدوبارہ متحد کرنے کی منزل پالی۔ محتاط روش کی چانسلر میرکل کے ایک جملہ سے اندازہ کیا جاسکتا ہے جب اس کا ٹیلیفون امریکیوں نے ہیک کیا تو اس کا رد عمل فقط اس قدر تھا۔ ’’دوستوں میں ایسا نہیں ہوتا‘‘۔

اب متحدہ جرمنی میں شہریت کو حق الدم Jus Sanguinis کے علاوہ اس صدی کے آغاز سے حق تولد Jus Soli تک وسیع کر دیا گیا ہے۔ جس کے مطابق حدود جرمنی میں قانونی طور پر مقیم غیر جرمن والدین کے بچے بھی جرمن شہری قرار پاتے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں تارکین وطن کی جرمنی سے وابستگی کو تقویت پہنچی ہے جس کا بڑا سماجی فائدہ یہ ہوا کہ نئی پود میں رنگ و نسل کی تفریق بہت حد تک جاتی رہی ہے۔اگرچہ بعض علاقوں میں الٹرا رائیٹ AFDکی مقبولیت میں اضافہ ہورہا ہے تاہم تارکین وطن کی مجرمانہ حرکات کو بھی اس میں بڑا دخل ہے۔

جرمنی نے اپنے مشرقی صوبوں کی قربانی کرکے آزادی اور اتحاد ہی حاصل نہیں کیا بلکہ مزاج اور بین الاقوامی سطح پر انسانی ہمدردی کا پرچم بھی بلند کیا۔ خطبہ حجۃ الوداع میں پیش کیے گئے اصولوں کا عملی نمونہ بہت حد تک جدید جرمنی کے رویّہ میں دیکھا جا سکتا ہے۔ فیضؔ کے الفاظ میں انہوں نے اس جنگ سے :

عاجزی سیکھی غریبوں کی حمایت سیکھی یاس و حرمان کے دکھ درد کے معنی سیکھے

زیر دستوں کے مصائب کو سمجھنا سیکھا

سرد آہوں کے رخ زرد کے معنی سیکھے

آج دنیا بھر میں جرمنی اپنے انسانیت نواز ہونے کی وجہ سے قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

جرمنی کی ترقی اور اسلامی تعلیم

جنگ عظیم دوم شدت سے جاری تھی کہ ہمارے پیارے امام سیّدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جرمنی کے ہار جانے کو مفید قرار دیتے ہوئےجماعت احمدیہ کی شوریٰ کو خطاب کرتے وقت ۱۹۴۱ء میں ایک ایسا نکتہ بیان فرمایا جو صرف آپؓ کی خدا داد بصیرت سے ہی ممکن ہو سکتا تھا۔ فرمایا:’’میں تو سمجھتا ہوں کہ اگر اس جنگ میں جرمنی کو شکست ہوئی تواس کے بعد تبلیغ کا بہترین مقام جرمنی ہو گا۔ جرمن قوم تین سو سال سے آگے بڑھنے کی کوشش کر رہی ہے اور اس غرض کے لئے اس نے بڑی بڑی قربانیاں کی ہیں۔ مگر ابھی تک وہ اپنے ارادہ میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ اگر اس جنگ میں بھی اسے کامیابی حاصل نہ ہوئی توہم اسے بتا سکیں گے کہ خدا نے تمہاری ترقی کا کوئی اور ذریعہ مقرر کیا ہوا ہے۔ جو سوائے اس کے کچھ نہیں کہ تم خدا کے دین میں داخل ہو جاؤ۔ اور بِحَبۡلٍ مِّنَ اللّٰہِ (آلِ عمران:۱۱۳) ترقی کر جاؤ۔ پھر تمہیں دنیا میں کوئی مغلوب نہیں کر سکے گا۔ پس میں سمجھتا ہو ں جرمن قوم کا اس شکست میں دینی لحاظ سے بہت بڑا فائدہ ہے اور عنقریب تبلیغ کے لئے ہمیں ایک ایسا میدان میسّر آنے والا ہے جہاں کے رہنے والے باتیں نہیں کرتے بلکہ کام کرتے ہیں اور زبانی دعوے نہیں کرتے بلکہ عملی رنگ میں قربانیاں کر کے دکھاتے ہیں ۔‘‘(خطبات شوریٰ جلد۲۔صفحہ ۵۷۷ مطبوعہ قادیان)

بعد از اتحاد جرمنی کی جنگی مجبوریاں

جرمنی کے دوبارہ متحد ہونے کے بعد جرمنی کی بین الاقوامی ذمہ داریوں میں اضافہ ہوا تو جرمنی کی وفاقی فوج کو بھی اب تک اکیس مقامات پر اتحادیوں اور یونائیٹڈ نیشنز کے ایماپر مشرقی یورپی ممالک، افریقہ اور افغانستان، اور شرق الاوسط میں جنگی کاروائیوں میں حصّہ لینا پڑا۔ ۲۰۰۳ء میں جب امریکی وزیر دفاع Donald Rumsfeld جرمنی کو کیمیائی ہتھیاروں کے جھوٹے بہانے کے تحت عراق کے خلاف کارروائی کی غرض سے جرمنی کو ساتھ ملانے کے لیے آئے تو اس وقت ایس پی ڈی کے شروڈر چانسلر تھے اور گرین پارٹی کے فشروزیر خارجہ تھے۔ فشر نے نہایت صاف گوئی سے پریس کانفرنس میں امریکہ کا جرمنی کو نازی ازم سے آزاد کروانے کاشکریہ اداکرتے ہوئے یہ کہا:’’معافی چاہتا ہوں میرا مسئلہ یہ ہے کہ میں (عراق کے خلاف ۲۰۰۳ء میں حملہ کے جوازکا) خود بھی قائل (کنونسڈ) نہیں ہوں لہٰذا میں پبلک میں کیسے جا کر کہہ سکتا ہوں چلیں جنگ کے لیے، کچھ وجوہات ہیں ‘‘۔

اور امریکی وزیر دفاع کو بے نیل و مرام لوٹنا پڑا۔ مسٹر فشر کے یہ الفاظ ان کی سچائی اور جرات کی علامت کے طور پر تاریخ میں محفوظ رہیں گے اور قدر کی نگاہ سے دیکھے جائیں گے۔

متعلقہ مضمون

ایک تبصرہ

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button