بچوں کا الفضل

کیوں؟

پیارے بچو! ایک دلچسپ سوال کے ساتھ پھرحاضر ہیں!

ہمیں گدگدی کیوں ہوتی ہے؟

پیارے بچو! گدگدی سبھی کو ہوتی ہے، کسی کو کم کسی کو زیادہ، کسی کو پیٹ پر تو کسی کو تلووں پر۔ لیکن کچھ افراد ایسے ہوتے ہیں کہ آپ ان کی جانب گدگدی کی نیت سے ہاتھ ہی بڑھائیں، تو وہ قہقہے لگانے لگتے ہیں۔ لیکن بعض افراد ایسے بھی ہوتے ہیں کہ آپ لاکھ گدگدا لیں، مجال ہے وہ ٹس سے مس بھی ہوں۔گدگدی سے متعلق مختلف سائنسی تصورات موجود ہیں۔ ایک نظریہ کے مطابق گدگدی جسم کے حساس اور کمزور حصوں کے دفاع کا ایک فطری نظام ہے مگر ایک اور نظریہ کہتا ہے کہ گدگدی سماجی تعلق کی حوصلہ افزائی سے تعلق رکھتی ہے۔گدگدی کی صورت میں دماغ کا ہائپو تھالامُس (Hypothalamus) حصہ سرگرم ہو جاتا ہے۔ یہ دماغ کا وہ علاقہ ہے جو احساساتی ردعمل سے متعلق ہے اور یہی حصہ لڑائی یا درد کے احساس پر ردعمل کا تعین کرتا ہے۔ جب آپ کو گدگدی کی جاتی ہے تو ضروری نہیں کہ آپ خوشی یا مزے والی ہنسی کا اظہار کر رہے ہوں بلکہ یہ خودکار احساساتی ردعمل ہوتا ہے۔ طبی ماہرین تو یہاں تک کہتے ہیں کہ گدگدی کے وقت انسانی جسم ٹھیک ویسے ہی ردّعمل کا مظاہرہ کرتا ہے جیسا شدید تکلیف یا درد کے دوران کرتا ہے۔ماہرین گدگدی کو دو اقسام میں تقسیم کرتے ہیں۔

1)گارگالیسیس(Gargalesis) قہقہے تب ہوتے ہیں جب کوئی شخص آپ کے جسم کے گدگدی والے حصوں کو بار بار چھوئے۔ یہ گدگدی خود بہ خود نہیں ہوتی۔

2) نیس میسیس (Knismesis)گدگدی تب ہوتی ہے جب کوئی دھیرے سے آپ کے جلد پر حرکت کرے، تاہم یہ گدگدی عام طور پر ہنسی یا قہقہے کا باعث نہیں بنتی۔ یہ گدگدی خود بہ خود بھی ہو سکتی ہے۔ اس گدگدی میں آپ کو خارش کا سا احساس ہو سکتا ہے۔ عام حالات میں یہ گدگدی تنگی یا پریشانی کے احساس سے جڑی ہوتی ہے، اس لیے آپ اسے گدگدی سے جوڑتے تک نہیں۔

نومولود بچوں کو گدگدی نہیں ہوتی۔ ماہرین کے مطابق گدگدی کے احساس کا آغاز نومولود بچوں میں چار ماہ کی عمر سے ہوتا ہے جب کہ گدگدی پر ردعمل کا آغاز یہ بچے چھ ماہ کی عمر سے کرتے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ممکن ہے کہ بچوں کو گدگدی کا احساس تو ہوتا ہو، تاہم وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ یہ احساس پیدا کیوں ہو رہا ہے۔

گدگدی جسم کے کسی بھی حصہ پر ہو سکتی ہے، تاہم گدگدی کے عمومی علاقے پیٹ، پہلو، بغل، پاؤں اور گردن ہیں۔ گدگدی کو جسمانی دفاعی نظام کا حصہ قرار دینے والے عموماً یہ دلیل دیتے ہیں کہ یہ تمام حصے نازک ہیں اور جسم ان کو بچانے کے لیے فوری ردعمل کا مظاہرہ کرتا ہے۔

بعض لوگوں کو ایسا کرنا پسند نہیں ہوتا۔ گدگدی کو پرلطف بنانے کا ایک اور طریقہ یہ ہے کہ لطیف انداز اپناتے ہوئے گدگدی کرنے کی بجائے لطائف سناکر دوستوں کو ہنسائیے۔ یاد رکھیں! گدگدی کا لطف لینا ہے، تو جارحانہ انداز ہرگز مت اپنائیے۔

تو بچو! آپ کو سب سے زیادہ گدگدی کہاں محسوس ہوتی ہے۔

اگلی بار نئے سوال کے ساتھ حاضر ہوں گا۔

الله حافظ و ناصر! آپ کا بھائی، اسامہ!

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button