یہ کس کی آمد کے تذکرے ہیں کہ باغ سارا مہک اٹھا ہے

(عرفان احمد خان۔ جرمنی)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک بار احباب سے بعیت لینے کے بعد فرمایا ’’آپ نے جو آج مجھ سے بیعت کی ہے یہ تخمریزی کی طرح ہے۔چاہیے کہ آپ مجھ سے اکثر ملاقات کریں اور اس تعلق کو مضبوط کریں جو آج قائم ہوا ہے۔جس شاخ کا تعلق درخت سے نہیں رہتا وہ آخر خشک ہو کر گر جاتی ہے۔( ملفوظات جلد چہارم صفحہ29)

حضور علیہ السلام کی اس نصیحت سے ایک ایسے احمدیہ کلچر کی بنیاد پڑی جس کے شریں ثمرات احمدی نسل در نسل کھاتے چلے آ رہے ہیں اور یہی نصیحت خلیفۃ المسیح سے محبت اور دلی لگاؤ رکھنے کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔ حضور علیہ السلام کے زمانہ میں بھی صحابہ بکثرت قادیان تشریف لایا کرتے بلکہ حضور کے سفرِ سیالکوٹ،لاہور اور جہلم کے دوران بھی صحابہ حضور سے تعلق کو مضبوط بنانے اور دلی تعلق کے اظہار کے لیے ان شہروں میں حاضر ہوتے رہے۔ عقیدت و محبت کا یہ سلسلہ حضور علیہ السلام کے بعد بھی جاری چلا آ رہا ہے۔ جو دوستوں میں باہمی محبت کے فروغ اور خدا تعالیٰ کے قرب کے حصول کا ذریعہ بھی بنتا ہے۔ حضور نے اپنی کتاب ازالہ اوہام میں خدا تعالیٰ کے خالص دوستوں کی جو بیس علامتیں بیان فرمائی ہیں ان میں درج ذیل پانچ علامتیں بھی شامل ہیں۔

٭…ایک خالص محبت ان کو عطا کی جاتی ہے جس کا اندازہ کرنا اس جہان کے لوگوں کا کام نہیں

٭…ان کو خارقِ عادت استقامت دی جاتی ہے کہ اپنے وقت پر دیکھنے والوں کو حیران کر دیتی ہے

٭…ان کی دُعائیں بہ نسبت اوروں کے بہت زیادہ قبول ہوتی ہیں۔ یہاں تک کے وہ شمار نہیں کر سکتے کہ کس قدر قبول ہویں

٭…ان کی توکل نہایت اعلیٰ درجہ کی ہوتی ہے اور اس کے ثمرات ظاہر ہوتے رہتے ہیں

ان کے آثارِ خیر باقی رکھے جاتے ہیں اور خدا تعالیٰ کئی پشتوں تک ان کی اولاد اور انکے جانی دوستوں کی اولاد پر خاص طور پر نظر رحمت رکھتا ہے اور ان کا نام دنیا سے نہیں مٹاتا ( ازالہ اوہام صفحہ 443 طبع اوّل )

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز حال ہی میں اپنے کامیاب دورۂ امریکہ سے واپس قصرِ خلافت اسلام آباد ٹلفورڈ تشریف لائے ہیں۔ امریکہ کے چاروں شہروں میں جہاں حضور تشریف لے گئے خلافتِ احمدیہ کے جاں نثار سینکڑوں کی تعداد میں ہزاروں میل کا سفر طے کر کے دربارِخلافت میں حاضر ہوتے رہے۔جس کا مشاہدہ راہ گیر کی ان آنکھوں نے بھی کیا۔اس احمدیہ کلچر کی بدولت بہت سارے احباب سے برسوں بعد ملنے کا نادر موقع بھی میسر آیا۔ خدا تعالیٰ کے ان خالص دوستوں کی آمد، خلیفۂ وقت اور ان سے ملنے والے ہزاروں افراد کی آمد مقامی جماعت کے کندھوں پر بھاری ذمہ داری بھی لے کر آتی ہے جس کو وہاں کے مقامی باشندے مرد و خواتین اور بچے بہت ہی بشاشت قلبی اور خوشی سے ادا کرتے ہیں۔ ڈیلس امریکہ کی تعداد کے اعتبار سے ایک چھوٹی جماعت ہے لیکن آفرین ہے خدا کے ان شیروں پر جنہوں نے خلافت اور سلسلہ کی محبت میں ایک ہفتہ تک دن رات ایک کر کے مسیح موعودؑ کے ان مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور مہمان نوازی کی۔ جبکہ ان مقامی احباب کو حضور کی آمد سے قبل بھی کئی ماہ تیاری میں صرف کرنے پڑے۔

جو چیز مشاہدہ میں آئی اور جس نے بطور خاص متاثر کیا وہ مقامی احباب و خواتین کا آنے والے مہمانوں کو خوش آمدید کہنا تھا۔ جہاں حضور کی آمد خوشیاں اور مسرتیں لے کر آتی ہے وہاں حضور کی روانگی کا منظر پوری فضا کو اداس کر دیتا ہے۔ جب قافلہ بیت الا اکرام سے ایئرپورٹ کے لیے روانہ ہوا تو ایک افسردہ نوجوان کے ان غمگین الفاظ نے مجھے اپنی طرف متوجہ کیا کہ ہم تو ڈیوٹیاں دیتے رہ گئے۔ جس طرح سوچا تھا اس طور حضور کے قیام کو انجواے نہیں کر سکے۔ دراصل ایک تو ڈیلس میں توقع سے زیادہ مہمان دور دور سے آئے۔ مقامی جماعت نے جمعہ کے لیے دو ہزار افراد کی تیاری کی تھی لیکن حضور کی ڈیلس میں آمد کے ساتھ ہی مہمانوں کا رش بڑھنا شروع ہو گیا۔ دوسرے مسجد قطعہ زمین کے ایک کونے پر اور حضور کی قیام گاہ دوسرے سرے پر تھی۔ درمیانی فاصلہ کافی لمبا ہونے کی وجہ سے مسجد کے نمازیوں سے بھر جانے کے بعد باقی احباب جنہوں نے خیمہ جات یا کھلے میدان میں صفیں بنانا ہوتیں مسجد اور قیام گاہ کے درمیانی راستہ کے دوران زیارت کے لیے کھڑے ہو جاتے۔ ریلنگ کے ساتھ ساتھ ایک طرف مرد اور دوسری طرف خواتین صف آرا ہو جاتیں جس سے لامحالہ انتظامیہ کے کام میں اضافہ ہو جاتا۔ لیکن اخوت و محبت سے بھرپور یہ منظر آنکھوں کو بہت بھاتا۔ لوگ حضرت صاحب کو قریب سے دیکھ کر اپنے اپنے طور پر دلی جذبات کا اظہار کرتے اور میں بطور صحافی لوگوں کے چہروں پر پھوٹنے والی خوشیوں کو نوٹ کر کے محظوظ ہوتا۔ پورے ہفتہ کے دوران کئی بار الفت و محبت سے بھرپور مناظر سے آنکھیں خیرہ ہوئیں۔

حضور کی ڈیلس میں آمد اور روانگی تک جو وقت میں نے وہاں گزارا اور بچوں کو جس دلچسپی سے اپنے کام میں مگن دیکھ کر جو تاثر میرے ذہن نے لیا اس حوالے سے میں نے صدر جماعت شیخ حامد رحیم صاحب اور نائب صدر (جو دورہ کمیٹی کے صدر تھے ) جناب خالد کڑک سے جو گفتگو کی وہ قارئین الفضل انٹرنیشنل کی نذر کرتا ہوں تا ان نوجوانوں کے لیے دعا کی تحریک ہو جائے جن کو سلسلہ اور خلافت سے خالص محبت عطا کی گئی اور حضور علیہ السلام کے فرمان کے مطابق ان کو خارقِ عادت استقامت دی جاتی ہے کہ اپنے وقت پر دیکھنے والوں کو حیران کر دیتی ہے۔

دونوں حضرات نے بتایا کہ امسال فروری میں ہمیں ممکنہ دورے کے بارے میں بتایا گیا تو ہم نے فوری طور پر تین افراد پر مشتمل ایک ابتدائی انتظامی کمیٹی ترتیب دے دی جس کے ممبران میں وقت کے ساتھ ساتھ ضرورت کے مطابق اضافہ کیا جاتا رہا۔ ابتدائی تین ممبران میں صدر جماعت مکرم شیخ حامد رحیم، مکرم خالد کڑک صاحب اور مکرم کامران مرزا صاحب شامل تھے۔ایک ماہ کے اندر مکرم منور احمد پراچہ بھی کمیٹی میں شامل ہو گئے۔ سب سے پہلے دورے کی پلاننگ ترتیب دے کو مرکز کو میری لینڈ ارسال کی گئی۔ منظوری کے بعد ہر ہفتہ پلاننگ کے کام کا جائزہ لیا جاتا رہا۔ جوں جوں حضور کی آمد کا وقت قریب آتا گیا ہماری انتظامیہ کمیٹی کے ممبران اور شعبہ جات میں اضافہ ہوتا گیا۔ فائنل انتظامی کمیٹی کے شعبہ جات اور ان کے منتظمین یہ ہیں:

خیمہ جات: منصور رانا اور چودھری محمود احمد۔ تعمیراتی کام: منور احمد پراچہ۔ آرائش: کامران مرزا۔ قافلہ کواڑدینیشن: سعد فرید ملک۔ خارجہ امور: عامر رحمان۔ وقفِ نو کلاس: عطاء العلیم۔ لائبریری: داؤد نصراللہ خان۔ نظافت: بابر چودھری۔ خدمتِ خلق: عاصم احمد۔ پارکنگ: احمد ملک۔ ٹرانسپورٹ: حسیب شیخ۔ سیکیورٹی: ولید سیال اور شیراز احمد۔ رہائش: محمود احمد رانا۔ رہائش گاہ خصوصی: محمد علی خان۔ ضیافت،لنگر خانہ: وسیم شیخ۔ کووڈ ٹیسٹنگ: اظہر حسین۔ فرسٹ ایڈ: ڈاکٹر جری اللہ۔ ملاقات(مردانہ): طارق حبیب اللہ۔ شعبہ سمعی و بصری: سید عمار بن طلحہ۔ خدام افسر مقامی: مصطفیٰ احمد (ریجنل قائد) کے ساتھ ریاض محمد، نصیر احمد، وسیم ندیم، اشفاق منہاس، محفوظ شیخ، طارق ملک، سید نعمان خضر اور انور رفیق کو ڈیوٹی دینے کی توفیق ملی۔

خواتین کی طرف صدر لجنہ مکرمہ شازیہ وقار خان کی سربراہی میں جو انتظامی کمیٹی ترتیب دی گئی وہ کچھ اس طرح سے ہے: ملاقات: صائمہ شیخ۔ رجسٹریشن: طوبیٰ ملک۔ نظم و ضبط: طاہرہ رحمان۔ سیکورٹی: عالیہ احمد۔ ضیافت: حنا محموداور عبیرہ محمود۔ خدمت خلق: طیبہ بشیر۔ کلاس واقفات نو: ریحانہ شاہ۔ کووڈ ٹیسٹنگ: شازلی نصیر۔ آرائش و ترانہ: فائزہ نعمان۔ فرسٹ ایڈ: آصفہ اعجازلجنہ میں کام کرنے والی کارکنات کی تعداد 210 تھی جن میں سے 137 کا تعلق ڈیلس جماعت سے تھا۔ 73 لجنات دوسری جماعتوں سے مدد کرنے آئیں۔ اسی طرح مردوں میں 325 معاونین نے خدمت کا حق ادا کیا جن میں ڈیلس جماعت سے 150 اور دوسری جماعتوں سے 175 خدمت کرنے والوں نے سعادتیں لوٹیں۔

کئی ماہ ہر ویک اینڈ پر صبح دس بجے سے ایک بجے تک اور آخری دس دن شام 6 بجے سے رات دس بجے تک وقار عمل کر کے مشن ہاؤس اور مسجد کو حضور اور مہمانوں کی آمد کے لیے تیار کیا گیا۔ شعبہ ضیافت کا اندازہ تھا کہ ایک ہفتہ کے دوران جمعہ سمیت زیادہ سے زیادہ بارہ ہزار افراد کا کھانا پکانا ہو گا۔ لیکن اللہ نے مہمانوں کی تعداد میں برکت دی اور کل پندرہ ہزار افراد کا کھانا بنایا گیا۔ کیونکہ مہمانوں کی ایک بڑی تعداد ہوٹلوں میں ٹھہری ہوئی تھی اس لیے صبح نماز فجر پر آنے والے مہمانوں کو نماز کے معاً بعد ناشتہ مہیا کیا جاتا رہا۔

مہمانوں کے بیٹھنے اور انتظامی دفاتر کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے 22 چھوٹے خیمہ جات 10×10 اور 18 بڑے خیمہ جات 66×115 فٹ کے لگائے گئے تھے جن کو بیس بیس ٹن کے چھ ایر کنڈیشنر کولنگ مہیا کر رہے تھے۔

قبولیت دعا کے نشان

کیونکہ یہ جماعت ڈیلس کا پہلا بڑا فنکشن تھا جس میں باہر سے لوگ تشریف لا رہے تھے اس لیے پولیس اور مقامی شہری انتظامیہ سے بار بار میٹنگ کرنا پڑی۔ سب سے بڑا مسئلہ پارکنگ کا تھا جو پریشانی کا موجب بن رہا تھا۔ مشن ہاؤس میں 120 گاڑیاں پارک کرنے کی گنجائش ہے لیکن خیمہ جات لگنے کے بعد اندر گاڑی پارک کرنے کی گنجائش ختم ہو چکی تھی۔ بالآخر بہت دور پارکنگ کرایہ پر حاصل کی گئی اور وہاں سے لوگوں کو لانے کے لیے ٹرانسپورٹ کا انتظام کیا گیا۔ احبابِ جماعت اس بادل نخواستہ کیے جانے والے فیصلہ سے مطمئن نہیں تھے اس لیے بار بار اعلان کیا جا رہا تھا کہ دوست دعا کریں اللہ غائب سے مدد فرمائے اور ہمیں قریب کوئی پارکنگ مل جاے۔ خالد کڑک صاحب بتاتے ہیں کہ جس دن ہماری پولیس سے آخری میٹنگ ہوی اور پولیس چیف نے پوچھا کہ کوئی اَور بات جس میں ہم آپ کی مدد کر سکتے ہوں تو میں نے پارکنگ کی دقّت کا ذکر کر دیا۔ اس نے بتایا کہ مسجد سے ملحق چار سو ایکٹر کا جو رقبہ ہے میں اس کی مالکن کو جانتا ہوں۔ میں آپ لوگوں کا تعارف اس سے کروا دوں گا۔ آپ اس سے مل کر پارکنگ کے لیے زمین حاصل کرنے کی کوشش کر دیکھیں۔ چنانچہ پولیس چیف نے اس خاتون سے ہمیں متعارف کروایا۔ جماعت کا چار رکنی وفد اس سے جا کر ملا اور تقریب کی تفصیل اس کے سامنے رکھی۔ اللہ تعالیٰ کا ایسا فضل ہوا کہ وہ خاتون کسی معاوضہ کے بغیر بیس ایکڑ زمین کار پارکنگ کے لیے دینے کو تیار ہو گئی جو ہماری ضرورت سے بہت زیادہ تھی۔ اب جبکہ حضور کی آمد کا وقت آیا اس نے اپنی فصل جو ابھی تیار نہیں تھی کٹوا کر زمین ہمارے حوالے کر دی۔ ہماری ضرورت کو اپنے نقصان پر ترجیح دی۔ چنانچہ بیت الا کرا م میں سے پارکنگ کا راستہ مل جانا ایک معجزہ سے کم نہیں۔ اسی طرح جب جماعت نے بارش کے لیے دعا کی تاکہ فصل کٹنے سے ہر طرف جو گرد کا ماحول ہو گیا تھا وہ مٹی بیٹھ جائے۔ خدا نے بارش برسا کر ہماری وہ مشکل بھی آسان کر دی۔ کھانا کھلانے کی مارکی میں نیچے فرش بچھانے کے لیے بعض مسائل کا سامنا تھا۔ کام کرنے والی کمپنی اپنےخرچ پر فرش بچھا کر دینے پر تیار ہو گئی۔ خالد کڑک صاحب نے بتایا کہ نامساعد حالات میں یا درپیش مشکلات کے حل میں خدائی مدد کے اتنے واقعات ہیں کہ ان پر ایک پورا مضمون لکھا جا سکتا ہے۔

ایسے سب واقعات حضور علیہ السلام کے اس فرمان پر گواہ ہیں کہ ’’ان کی دُعایں بہ نسبت اوروں کے بہت زیادہ قبول ہوتی ہیں۔ یہاں تک کے وہ شمار نہیں کر سکتے کہ کس قدر قبول ہوئیں۔‘‘ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان خدمت گزاروں کی خدمت کو قبول فرمائے اور ان کو اس خدمت کا بہترین اجر دے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس منشا سے حصہ پانے والے ہوں کہ ‘‘ پس جو کوئی میری موجودگی اور میری زندگی میں میری منشاء کے مطابق میری اغراض میں مدد دے گا میں امید رکھتا ہوں کہ وہ قیامت میں بھی میرے ساتھ ہو‘‘ ( تبلیغ رسالت جلد دہم صفحہ 53)

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button