یادِ رفتگاں

ہمارے پیارے فرخ جاوید صاحب

(سید شمشاد احمد ناصر۔ مبلغ سلسلہ امریکہ)

6؍ستمبر 2021ءکی بات ہے کہ عزیزم ناصر جدران نے ورجینیا سے علی الصبح یہ خبر دی کہ فرخ جاوید صاحب آج رات ایک بجے انتقال کر گئے ہیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ اس کے بعد تو مسلسل اس المناک خبر کی اطلاع ہر طرف سےپہنچنی شروع ہو گئی۔

آپ ورجینیا جماعت کے ممبر تھے۔ مگر آپ کا مسجد فضل واشنگٹن میں مستقلاً آنا جانا تھا۔ خاکسار جب مسجد بیت الرحمٰن میں خدمات بجا لا رہا تھا تو اس وقت ان سے علیک سلیک رہتی تھی۔ اور انہیں جب بھی دیکھا مسجد فضل میں ہی اکثر دیکھا اور وہیں ان سے ملاقات ہوئی اور مسجد کے کسی نہ کسی کام میں مصروف پایا۔

اِن کی وفات سے جماعت ایک مخلص، وفادار، شریف النفس اور بہت سی خوبیوں سے متصف انسان سے محروم ہوئی ہے۔ ان کی عمر 65 سال تھی۔

بلانے والا ہے سب سے پیارا

اسی پہ اے دل تو جاں فدا کر

جب ان کی وفات کی اطلاع ملی تو ان کے ساتھ گزرے ہوئے لمحات، اور ان کےدوست بھی یاد آنا شروع ہو گئے۔ اُن دوستوں اور اُن کی یادوں کو تازہ کرنے کے لیے فرخ جاوید صاحب مرحوم کے بارے میں کچھ یادیں درج ہیں۔

مرحوم ایک لمبے عرصے سے دل اور آنکھوں کے عارضے میں مبتلا تھےمگر اس کے باوجود ایک زندہ دل انسان تھے۔ جب بھی فون پر بات کرتے تو کھل کھلا کر بات کرتے تھے۔ دل کی بیماری کے ساتھ ساتھ ان کے گردے بھی فیل ہو چکے تھے جس کی وجہ سے اُن کی وفات ہوئی۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند کرے اور اعلیٰ علیین میں جگہ دے۔

آپ 20؍جون 1956ء کو لاہور پاکستان میں پیدا ہوئے تھے۔ آپ مکرم ومحترم عبدالحمید خان صاحب شوق کے بیٹے تھے۔ امریکہ میں 1979ء میں آکر آباد ہوئے۔ آپ مکرم مبشر احمد خان صاحب آف میری لینڈ کے چھوٹے بھائی اور عزیزم مکرم رضوان خان صاحب مربی سلسلہ ہیوسٹن کے چچا تھے۔

آپ کو خدمت کا بہت شوق تھا ۔وہ جماعت کی خدمت ہو، دوستوں اورساتھیوں کی ہویا کسی بھی انسان کی ہوہمہ تن خدمت کے لیےتیار رہتےاور اکثر اوقات رضاکارانہ طور پر بھی اپنے آپ کو خدمت کے لیے پیش کر دیتے تھے ۔

مسجد فضل واشنگٹن میں جیساکہ میں نے بتایا ہے اِن کا اکثر آنا جانا رہتا تھا۔ اس کی زینت، اس کی صفائی، مرمت، اور اسےبہتر سے بہتر رنگ میں رکھنے کی ہمیشہ خواہش رہتی تھی۔ مسجد کی تزئین بہت سلیقے سے کرتے تھے۔ جزاہ اللہ احسن الجزاء۔

عزیزم ناصرسمیع جدران نے بتایا کہ اُن کے والد مکرم عبد السمیع جدران صاحب 9 سال فالج کی وجہ سے بستر پر رہے اور ہسپتال میں داخل رہے ۔ وہ مسلسل ان کی دیکھ بھال اور خدمت کرنے اکثر ہسپتال آتے جاتے تھے۔

پٹس برگ میں خدام کا اجتماع تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ میں جانے کی خواہش رکھتا تھا۔ اور ادھر ابا جان کو زیادہ دیر تک کے لیے ہسپتال میں اکیلے چھوڑنا مشکل تھا۔ ناصر جدران صاحب کہتے ہیں کہ میں نے انکل فرخ جاوید سے ذکر کیا۔ انہوں نے کہا تم اتنی دور اکیلے مت جاؤ میں تمہیں لے چلتا ہوں تا کہ جب تم واپس آؤ تو تمہیں تھکاوٹ نہ ہو اور ابا جان کی خدمت بہتر رنگ میں کر سکو۔

خاکسار 8 سال تک مسجد بیت الرحمان میں خدمت کی سعادت بجا لاتا رہا۔ اور مسجد فضل واشنگٹن میں ہم نے ہر منگل کو درس کا پروگرام طے کیا ہوا تھا۔ چنانچہ ہر منگل کو مکرم ظہیر احمد باجوہ صاحب (آپ اس وقت واشنگٹن مسجد میں رہائش پذیر تھے) کی سرکردگی میں مکرم فرخ جاوید صاحب مرحوم، مکرم سمیع جدران صاحب مرحوم، مکرم مرزا مظفر احمدصاحب مرحوم، مکرم الطاف مانگٹ صاحب، ڈاکٹر نعیم صاحب آف کینیڈا، مکرم میاں وسیم احمد صاحب آف واشنگٹن، مکرم ملک حفیظ صاحب لندن،مکرم شمس پرویز صاحب، مسجد میں آنے والوں کی بہت سلیقے، جوش و جذبہ اور شوق کے ساتھ مہمان نوازی سر انجام دیتے تھے۔

مکرم فرخ جاوید صاحب نہ صرف مہمان نواز تھے بلکہ خود بھی بہترین کھانا پکاتے تھے۔ اور ہر منگل کو سب کو کھانا پکا کر پیش کرتے جس کے اخراجات وہ اور دیگر دوست احباب خود برداشت کرتے تھے۔ جب لوگ کھانے کی تعریف کرتے تو اس بات پر بہت خوش ہوتے تھے کہ الحمدللہ انہیں کھانا پسند آیا ہےاور اب یہ سب دعا بھی کریں گے۔

ایک دفعہ ہمیں واشنگٹن سے ہیرس برگ کسی کام کے لیے ضروری جانا تھا۔ انہوں نے حامی بھر لی کہ میں آپ سب کو لے کر جاؤں گا۔ چنانچہ خاکسار اور عزیزم علی باجوہ ان کے ساتھ گئے۔ راستہ میں انہوں نے مہمان نوازی بھی کی۔

بعض اوقات انہوں نے ریستوران والوں سے دوستی بھی کی ہوتی تھی اور جب ریستوران بند ہو جاتا تو پھر وہاں جاکر خود ہی کھانا پکا کر کھاتے یا دوستوں کو ساتھ لے جاتے اور ان کی وہاں خوب مہمان نوازی کرتے۔

مکرم ظہیر احمد باجوہ صاحب مربی سلسلہ نے بتایا کہ جب شروع شروع میں ایم ٹی اے کی نشریات آنا شروع ہوئیں تو واشنگٹن سے چینل 56 پر حضرت خلیفۃ المسیح رابع رحمہ اللہ کے خطبات اور سوال و جواب کی ویڈیوز بنا کر اس چینل کو بھجوائی جاتی تھیں۔ جس میں مکرم جواد ملک صاحب، مکرم ڈاکٹر ہدایت خان صاحب اور مکرم فرخ جاوید صاحب تعاون کرتےتھے۔ فرخ جاوید صاحب کی ڈیوٹی تیار شدہ ویڈیو کیسٹ چینل 56کو مہیا کرنا تھی۔ انہوں نے سالہا سال یہ کام بڑی خوشدلی، محنت اور تسلسل سے کیا۔

جب 2018ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی بنصرہ العزیز نے امریکہ کا دورہ فرمایا تو اس وقت فرخ جاوید صاحب کی دل کی دو سرجریاں ہو چکی تھیں۔ مگرمکرم سید رفیق صاحب نیشنل سیکرٹری جائیداد کے ساتھ مل کر باوجود بیمار ہونے کے بڑی محنت سے مسجد بیت الرحمان میں رنگ و روغن اور صفائی اور زینت کا کام خوشی سے سرانجام دیتےرہے۔

مرحوم بہت سے کاموں میں مہارت رکھتے تھے۔ مثلاً ڈش انٹینا بھی سیٹ کرتے اور دوستوں کو ایم ٹی اے کی ڈش لگا کر دیتےاور ان کے مسائل گھروں میں جا کر حل کرتے تھے۔

خدا کے فضل سے بہت سے دوستوں کو ان کی خدمت کی توفیق ملی جن میں ایک مکرم بشارت ودھن صاحب بھی ہیں۔ اللہ تعالیٰ سب کو جزائے خیر دے۔آمین۔

آپ نے اپنے پیچھے بھائیوں، بھتیجوں اور دیگر عزیزو اقارب کے علاوہ ایک بیٹا عرفان جاوید صاحب اور دو بیٹیاں فائزہ صاحبہ اور ثمینہ صاحبہ یادگار چھوڑے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کا حافظ و ناصر ہو اور یہ بھی جماعت کے لیے مفید وجود بنیں۔

آپ کی نمازِ جنازہ مکرم مبشر احمد صاحب مبلغ سلسلہ نے مسجد بیت الرحمان میں پڑھائی اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے علاقے کی ایک کثیر تعداد آپ کے جنازے میں شامل ہوئی۔ اور مسجد احمدیہ قبرستان میں تدفین ہوئی۔

اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے اور ان کے درجات بلند فرمائے۔ آمین

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button