متفرق مضامین

حضرت ہا جرہ کے متعلق بعض اہم حقائق(قسط8۔آخری)

(ڈاکٹر عبد الرحمٰن بھٹہ۔جرمنی)

بائبل کے بیانات کا تنقیدی جائزہ

حضرت ابراہیمؑ کی حضرت ہاجرہ سے شادی اس خدائی پلان کا حصہ تھی جس کے تحت دنیا کی سب قوموں کو برکت بخشنا مقدر تھا۔ اس شادی کے جملہ انتظامات خداتعالیٰ نے اعجازی طور پر فرمائے تھے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ حضرت ابراہیمؑ کی زندگی کا ہر اہم موڑ اور مرحلہ اعجازی رنگ لیے تھا

ایک اعتراض کا ازالہ

مندرجہ بالا وضاحت سے اس اعتراض کا بھی ازالہ ہو جاتا ہے کہ اس زمانے میں بادشاہ اپنی بیٹیاں بادشاہوں کو ہی دیا کرتے تھے اور غیروں کو نہیں دیا کرتے تھے۔لہٰذا فرعون نے جو لڑکی حضرت ابراہیمؑ کو دی وہ اس کی بیٹی نہیں ہو سکتی تھی۔درست ہے کہ عمومی طور پر تو بادشاہ اپنے بچوں کے رشتے آپس میں ہی طے کرتے ہوںگے۔ لیکن یہاں بات ان استثنائی حالات کی ہو رہی ہے جن میں فرعون نے وہ رشتہ تجویز کیا۔ بادشاہوں کی زندگی میں ایسے استثنائی حالات پیدا ہوتے رہے ہیں جب ان کو اپنی مرضی،رواج یا شان کے خلاف فیصلے کرنے پڑے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ فرعون نے قومی اور ملکی مفاد میں ایک نہایت ہی سخت حکم دے رکھا تھا اور بہت سے اسرائیلی بچوں کو مروا دیا تھا۔ لیکن بیٹی/ بیوی کے اصرار پر اس کو جھکنا پڑا اور اپنے حکم میں استثنا کرتے ہوئے ایک اسرائیلی بچے کی جان بخشی کرنی پڑی تھی۔ اب کہاں گیا اس کا شاہی فرمان، وقار اور دستور؟ پھر ہم دیکھتے ہیں کہ فرعون نے بنی اسرائیل کو مصر سے باہر جانے کی اجازت دینے سے انکار کیا ۔وہ جانتا تھا کہ ان کے باہر جانے سے ملکی معیشت تباہ ہو جائے گی۔ وہ بار بار انکار کرتا رہا۔ لیکن جب بلائیں آتیں تو ہر بار عاجز آ کر حضرت موسیٰ کو بلاتا۔ اجازت دینے کا وعدہ کرتا اور دعا کی درخواست کرتا۔ اب کیا اس زمانے میں بادشاہ غیروں کے سامنے عاجز آکر اپنے ارادے بدل لیا کرتے تھے؟یا بیوی / بیٹی کے کہنے پر اپنے ہی حکم کی خلاف ورزی کر لیا کرتے تھے؟پس یہ کہنا کہ وہ فرعون حضرت ابراہیمؑ کو اپنی بیٹی دے نہیں سکتا تھا۔ بالکل بے معنی بات ہے۔ ایسی تو کوئی قدغن یا قانون نہ تھا جس کی خلاف ورزی لازم آتی ہو۔ استثنائی حالات میں اس نے اپنی بیٹی کے بارے میں وہ فیصلہ کیا۔ اور اس فیصلے سے یہ نتیجہ نہیں اخذ کیا جا سکتا کہ وہ لڑکی اس کی بیٹی نہیں ہو سکتی تھی۔ اس بارے میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ خود بنی اسرائیل کی اپنی مستند روایات بار بار یہ تسلیم کرتی ہیں کہ ہاجرہ فرعون کی بیٹی تھیں۔ اور غیروں کی اس شہادت کے باوجود حضرت ہاجرہ کی حیثیت کے بارے میں شک کرنا محض تعصب اور تنگ نظری نہیں تو اور کیا ہے؟ (اس بارے میں حوالے اور دلائل ہم قسط دوم میں دے چکے ہیں)

شادی میں سارہ کا مثبت کردار

ہم بیان کر رہے تھے کہ فرعون نے یہ ارادہ کیا کہ وہ حضرت ابراہیمؑ کی دوسری شادی کی تجویز حضرت سارہ کے سامنے بڑے نرم اور عاجزانہ الفاظ میں پیش کرے گا تاکہ وہ ٹھنڈے دل سے اس پر غور کر سکیں۔ چنانچہ جب حضرت سارہ شاہی خواتین سے ملنے آتی ہیں تو وہ بھی ان میں شامل ہو جاتا ہے۔ گفتگو کے دوران وہ ہاجرہ کا ذکر چھیڑ دیتا ہے۔ حضرت سارہ ہاجرہ کی تعریف کرتی ہیں۔ اس پر وہ اپنی تجویز ان الفاظ میں پیش کر دیتا ہے:’’ہاجرہ کے لیے سارہ کے گھر میں لونڈی ہونا اس کااپنے گھر میں مالکن ہونے سے بہتر ہے۔‘‘پیغام بالکل واضح تھا۔ حضرت سارہ نے سنا اور ساری بات سمجھ گئیں۔ وہ خود بانجھ تھیں اور بوڑھی بھی۔انہیں پورا احساس تھا کہ وہ اپنے خاوند کو وہ وارث نہیں دے سکیں جس کی اس کو اشد ضرورت تھی۔ وہ یہ بھی جانتی تھیں کہ اس مشکل کا حل ابراہیمؑ کی دوسری شادی تھا جس کو وہ عرصہ سے ٹالتی آ رہی تھیں۔ اب جبکہ دوسری شادی کی تجویز سامنے آ گئی تھی تو شاہی خاندان کے سامنے اس سے اختلاف کرنا مشکل تھا۔ چونکہ ہاجرہ کو وہ پسند کرتی تھیں لہٰذا انہوں نے سوچا کہ اگر کسی عورت نے سارہ کے گھر میں لونڈی بن کر آنا ہی ہے تو پھر ہاجرہ سے بہتر اور کوئی نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ کچھ توقف کے بعد وہ فرعون کی تجویز سے اتفاق کر لیتی ہیں۔ اس واقعے کو بعض روایات میں یہ رنگ دیا گیا ہے کہ فرعون نے معجزات سے متاثر ہو کر سارہ کے سامنے کئی لونڈیاں پیش کیں اور کہا کہ وہ ان میں سے ایک چن لے۔ سارہ نے ہاجرہ کو چن لیا کیونکہ وہ ہاجرہ کو پسند کرتی تھیں۔ (جیوئش انسائیکلوپیڈیا۔ سارہ۔ عربی لٹریچر میں) تاہم بعض دوسری روایات واضح طور پر یہ کہتی ہیں کہ اصل میں ہاجرہ ابراہیمؑ کو دی گئی تھی۔ ( جیوئش انسائیکلو پیڈیا۔ ہاجرہ۔ عربی لٹریچر میں)۔مزید برآں قسط دوم میں ہم یہودی علماء کا یہ قول بھی درج کر چکے ہیں :’’فرعون نے یہودیت کے اس ممتاز ترین جوڑے کو ہاجرہ تحفہ میں دی تھی۔ اور یہ تحفہ ان کے بانجھ پن کے علاج کے طور پر دیا گیا تھا۔‘‘ پس بات تو بالکل واضح ہے کہ ہاجرہ دی تو حضرت ابراہیمؑ کو گئی تھیں لیکن اس موقع پر حضرت سارہ کو نظر انداز تو نہیں کیا جا سکتا تھا۔ ان کو اعتماد میں لیےبغیر یہ شادی خوش اسلوبی سے انجام پذیر نہ ہو سکتی تھی۔ فرعون نے بڑی سمجھداری سے کام لیتے ہوئے حضرت سارہ سے بات کی۔ جہاں تک اپنی بیٹی کو لونڈی کہنے کا تعلق ہےاس بارے میں وضاحت اس حصہ کے آخر میں پیش کی جائے گی۔

حضرت ابراہیمؑ اور سارہ

حضرت سارہ کا فرعون کی تجویز سے اتفاق کرنا بہت خوش کن امر تھا۔ اب فرعون نے یہ مناسب اور قرین مصلحت سمجھا کہ سارہ خود جائیں اور اس تجویز کو اپنے خاوند کے سامنے پیش کریں۔ چنانچہ وہ گئیں اور حضرت ابراہیمؑ سے اپنے بانجھ ہونے اور ان کے بے اولاد ہونے کے حوالے سے بات کی۔ اور پھر فرعون کی تجویز پیش کی اور اس کے حق میں دلائل دیے۔ حضرت ابراہیمؑ نے غور کے بعد حضرت سارہ کی بات مان لی۔ سینکڑوں سال بعد جب اس کہانی کو یہود کے کاہنوں نے مرتب کیا تو اس طرح بیان کیا :’’ابرام کی بیوی سارَی کے کوئی اولاد نہ ہوئی۔ اس کی ایک مصری لونڈی تھی جس کا نام ہاجرہ تھا۔ سارَی نے ابرام سے کہا کہ دیکھ خداوند نے مجھے تو اولاد سے محروم رکھا ہے سو تو میری لونڈی کے پاس جا شاید اس سے میرا گھر آباد ہو اورابرام نے ساری کی بات مانی….‘‘ (پیدائش۔ باب 16 آیات 1۔ 2)

ہاجرہ کی رضامندی اور سارہ

حضرت سارہ نے تو فرعون کی تجویز سے اتفاق کر لیا اور اپنے خاوند کو بھی راضی کر لیا لیکن ہاجرہ کے لیےاس تجویز کو قبول کرنا کچھ آسان نہ تھا۔ ایک شہزادی کے لیے مصر کے محلات کو چھوڑکر ایک عمر رسیدہ شخص کے ساتھ کنعان جیسے پسماندہ علاقے میں جا بسنا بہت مشکل فیصلہ تھا۔ لہٰذا قدرتی طور پر ہاجرہ نے اس رشتے پر انقباض محسوس کیا۔ اور اگر ہاجرہ اس رشتے پر رضا مند نہ ہوتیں تو پھر حضرت ابراہیمؑ کے لیے بھی اس تجویز کو قبول کرنا مشکل ہو جاتا۔ یہاں پھر حضرت سارہ نے حالات کو سنبھالا۔ ہم بیان کر چکے ہیں کہ شاہی خواتین حضرت سارہ کی شخصیت سے متاثر تھیں۔ اور ہاجرہ انہی میں سے ایک سادہ اور سعیدالفطرت لڑکی تھی جسے سارہ بھی پسند کرنے لگی تھیں۔ چنانچہ سارہ نے اس رشتے کے بارے میں ہاجرہ کو تسلی دلائی اور اس کا حوصلہ بڑھایا۔ یوں تو شاہی خاندان پہلے ہی حضرت ابراہیمؑ کی عظمت اور تقدس کا قائل ہو چکا تھا۔ تاہم حضرت سارہ نے اس رشتے کے مثبت پہلو مزید اجاگر کیے اور ہاجرہ کو سمجھایا کہ ایسے مقدس شخص کی زوجیت میں آنا بہت بڑی خوش قسمتی کی بات ہے۔ چنانچہ وہ رضا مند ہو گئیں۔ حضرت سارہ کے اس مثبت کردار کی تصدیق اسرائیل کی اس روایت سے ہوتی ہے کہ’’جب سارہ نے ہاجرہ سے ابراہیم سے شادی کی بات کی تو شروع میں ہاجرہ نے کچھ انقباض محسوس کیا۔ اس پر سارہ نے یہ کہہ کر اس کو ترغیب دلائی کہ تم اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھو کہ تم ایک سینٹ (ولی اللہ) سے ملنے جا رہی ہو۔‘‘(جیوئش انسائیکلوپیڈیا۔ ہاجرہ۔ رابانی لٹریچر میں)

ہاجرہ کی رخصتی اور سارہ

جب فرعون کی تجویز سے سب متفق ہو گئے تو شادی کی تیاریاں شروع ہو گئیں۔ اور پھر جلد ہی شادی کے بعد ہاجرہ کو رخصت کر کے حضرت ابراہیمؑ کے سپرد کر دیا گیا۔ قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ رخصتی کے وقت حضرت سارہ نے ہاجرہ کی ماں کا کردار ادا کیا تھا۔ انہوں نے خود اپنی سوکن (لونڈی) کو تیار کروایا اور وہ خود اس کو اپنے خاوند حضرت ابراہیمؑ کی قیام گاہ میں چھوڑکر آئی تھیں۔ بائبل کے درج ذیل الفاظ اس طرف اشارہ کرتے ہیں :’’….اور ابرام نے سارَی کی بات مانی۔ اورابرام کو ملک کنعان میں رہتے دس برس ہو گئے تھے جب اس کی بیوی ساری نے اپنی مصری لونڈی ہاجرہ کو لیا اور اسے اپنے خاوند ابرام کو دیا تاکہ وہ اس کی بیوی بنے‘‘ (پیدائش۔ باب 16 آیت 3۔ ترجمہ از انگریزی بائبل)

کیا ہاجرہ کنعان میں دی گئی تھیں؟

مندرجہ بالا حوالے میں کہا گیا ہے کہ جب حضرت ابراہیمؑ کو ’’کنعان میں رہتے دس برس ہو گئے تھے‘‘ تب سارہ نے اپنی لونڈی ہاجرہ ان کو دی تھی۔ اور اس سے پہلے باب 12 میں لکھا ہے کہ جب حضرت ابراہیمؑ کنعان میں آئے تھے تو ’’وہ 75 سال کے تھے۔‘‘گویا جب حضرت ابراہیمؑ 85 سال کے ہو گئے (اور خود سارہ 75 سال کی ہو گئیں) تب اس بڑھاپے میں جا کر سارہ کو یہ احساس ہوا کہ وہ بانجھ ہیں اور اپنے خاوند کو اولاد نہیں دے سکیں۔ اور پھر انہوں نے اپنی لونڈی اپنے خاوند کے لیے تجویز کی۔ کیا پہلے کوئی لونڈی میسر نہ تھی؟ پس صاف ظاہر ہے کہ یہ 75 سال کی عمر میں کنعان آنے اور 10 سال بعد لونڈی دیے جانے کا تعین کر کے یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ ہاجرہ حضرت ابراہیمؑ کو مصر میں نہیں بلکہ کنعان میں دی گئی تھیں اور اس وقت ان کی عمر 85 سال تھی۔ کیونکہ یہ بات تو مسلّم ہے کہ حضرت ہاجرہ شادی کے چند ماہ بعد ہی حاملہ ہو گئی تھیں اور جب اسماعیل پیدا ہوئے تو حضرت ابراہیمؑ کی عمر 86 سال تھی۔ (پیدائش۔ باب 16۔ آیت 16) حقیقت یہ ہے کہ جب حضرت ابراہیمؑ مصر گئے اور ہاجرہ سے شادی کی تو اس وقت ہی وہ 85 سال کے تھے۔ اور جب وہ مصر سے کنعان لوٹے تو ہاجرہ ان کے ساتھ تھیں اور ان کے پاس ہاجرہ کے جہیز کا ’’سب مال… چوپائے اور سونا چاندی بکثرت تھا‘‘ (پیدائش۔ باب 13 آیت 1)۔ چنانچہ ’’یہودی عورتوں کی انسائیکلوپیڈیا‘‘ کا جو حوالہ ہم حصہ دوم میں درج کر چکے ہیں اس میں تسلیم کیا گیا ہے کہ ہاجرہ مصر میں حضرت ابراہیمؑ کے گھرانے کا حصہ بنی تھیں۔ لکھا ہے کہ’’ تورات اس بات کی وضاحت نہیں کرتی کہ سارہ نے ہاجرہ نامی مصری خادمہ کیسے حاصل کی۔ اور نہ ہی یہ بتاتی ہے کہ وہ کتنے سال سے اپنی مالکن کے پاس تھی جب وہ ابراہیم کو دی گئی تھی۔ رابیوں کے مطابق یہ مصری خادمہ اس وقت ان کے خاندان میں شامل ہوئی تھی جب ابراہیم اور سارہ نے قحط کے ایام میںمصر میں قیام کیا تھا۔ ‘‘گویا اسرائیلی روایات تسلیم کرتی ہیں کہ حضرت ہاجرہ مصر میں حضرت ابراہیمؑ کو ملی تھیں۔ اور جب وہ مصر سے کنعان آئے تو ہاجرہ ان کے ساتھ تھیں۔ لیکن پیدائش کے باب 12 میں جو قصہ حضرت ابراہیمؑ کے مصری سفر کا درج ہے اس میں ہاجرہ کا ذکر لونڈی کے طور پر بھی نہیں۔ اس قصے کو بنانے والے یہودی علماء جانتے تھے کہ ہاجرہ کا ذکر ہی اس جعلی قصے کا قضیہ نمٹا دے گا۔ کوئی نہیں مانے گا کہ وہ تحائف جو حضرت ابراہیمؑ کو دیےگئے وہ ہاجرہ کا جہیز نہ تھے۔ چنانچہ صدیوں بعد جب حضرت ابراہیمؑ کے مصر کے واقعات کو مرتب کیا گیا تو اس میں سے ان کے مصر میں قیام اور ہاجرہ سے شادی وغیرہ کو تو غائب کر دیا گیا۔ البتہ ہاجرہ کا شاہانہ جہیز تو غائب نہ ہو سکتا تھا۔ چنانچہ اس جہیز کو سارہ سے منسوب کرنے کے لیے ایک الگ قصہ مصر کے سفر کا گھڑ کر متن میں داخل کر دیا گیا۔ اس قصے میں ہاجرہ کے جہیز کے متعلق یہ ظاہر کیا گیا کہ یہ تو وہ ’’احسان تھا جو فرعون نے سارہ کی خاطر‘‘ حضرت ابراہیمؑ پر کیا تھا۔ اس جعلی قصے کی تفصیل اور تجزیہ درج ذیل ہے۔

ہاجرہ کا جہیز سارہ سے منسوب

حضرت ابراہیمؑ کی یہ دوسری شادی خداتعالیٰ کی خاص تائید و نصرت سے بخیر و خوبی انجام پذیر ہوئی۔ فرعون نے بیٹی کو رخصت کرتے وقت اچھا خاصہ جہیز دیا۔ چنانچہ حضرت ابراہیمؑ جب مصر سے چلے تو ان کے پاس سونے چاندی اور دیگر مال و متاع کے علاوہ بہت سے غلام، لونڈیاں اور چوپائے بھی ہو گئے تھے۔تاہم صدیوں بعد جب اسرائیلی کاہنوں نے اس کتاب پیدائش کو مرتب کیا تو اس میں حضرت ابراہیمؑ کے مصر کے واقعات کو مسخ کیا اور ان میں سے حضرت ہاجرہ سے شادی کو تو غائب کر دیا لیکن حضرت ہاجرہ کے جہیز کو حضرت سارہ سے منسوب کرنے کے لیے ایک جعلی کہانی گھڑ کر متن میں داخل کر دی۔ اس کہانی کے مطابق حضرت ابراہیمؑ اپنی بیوی سارہ کو لے کر مصر گئے تھے۔وہاں انہوں نے مصری حکام کے سامنے یہ جھوٹا بیان دے دیا کہ وہ بہن بھائی ہیں۔ چونکہ سارہ بہت خوبصورت تھیں۔ لہٰذا:’’…وہ عورت (سارہ) فرعون کے گھر پہنچائی گئی۔ اس نے اس (سارہ) کی خاطر ابرام پر احسان کیا۔ اور بھیڑ بکریاں گائے بیل گدھےگدھیاں غلام لونڈیاں اوراونٹ اس کے پاس بہت ہو گئے۔خداوند نے فرعون اور اس کے خاندان پر سارہ کے سبب سے بڑی بڑی بلائیں نازل کیں۔ تب فرعون نے ابرام کو بلا کر اس سے کہا کہ تو نے مجھ سے یہ کیا کیا ؟ تو نے یہ کیوں کہا کہ یہ میری بہن ہے۔اسی لیے میں نے اسے لیا کہ وہ میری بیوی بنے…. اس کو لے اور چلا جا…اور ابرام مصر سے اپنی بیوی اور اپنے سب مال اور لوط کو لےکر کنعان کے جنوب کی طرف چلا۔ اور ابرام کے پاس چوپائےاور سونا چاندی بکثرت تھا۔ ‘‘(پیدائش۔ باب 12 آیات 16۔ 19 باب 13 آیات 1۔ 2)

تضادات اور بہتان تراشی

مندرجہ بالا قصے کے جھوٹا ہونے کے لیے یہ ہی کافی ہے کہ اس میں حضرت ابراہیمؑ جیسے عظیم نبی کو کذب بیانی اور دھوکا دہی کا مرتکب دکھایا گیا ہے۔ علاوہ ازیں اس میں ایسے تضادات ہیں جو ثابت کرتے ہیں کہ یہ قصہ درست نہیں ہو سکتا۔ مثلاً : اس قصے میں کہا گیا ہے کہ قحط کی وجہ سے حضرت ابراہیمؑ اپنی بیوی کو لے کر مصر گئے۔ ان دونوں میاں بیوی کے سوا کسی اَور کا نام نہیں۔ ان لوگوں کا بھی نہیں جو حاران سے ان کے ساتھ آئے تھے (اور جن کی تعداد دیگر روایات میں 72 بتائی گئی ہے)۔ اب کیا وہ قحط صرف ان میاں بیوی کے لیے ہی تھا ؟ کیا دوسرے لوگ قحط سے متاثر نہ ہوئے تھے؟ اور اگر وہ لوگ بھی متاثر ہوئے تھے اور ساتھ ہی مصر گئے تھے تو پھر ان 72 افرادکی موجودگی میں حضرت ابراہیمؑ کیسے ایسا کھلا جھوٹ بول سکتے تھے کہ سارہ ان کی بیوی نہیں بلکہ بہن ہے۔ پس ظاہر ہے کہ یہ قصہ محض ایک افترا ہے۔ قصے کے مطابق حضرت ابراہیمؑ نے جھوٹ تو اس لیے بولا تھا کہ ان کو اپنی جان کے لیے ایک ممکنہ خطرہ محسوس ہوا تھا۔ لیکن جب اس جھوٹ کی وجہ سے بیوی کی عزت یقینی طور پر خطرہ میں پڑ گئی تھی تو پھر خاموشی کیسی۔ کیوں نہ سچ بولا ؟ مصری افسران تو سارہ کو حضرت ابراہیمؑ کی بہن سمجھتے تھے لیکن وہ خود اور دیگر سب لوگ تو جانتے تھے کہ سارہ ان کی بہن نہیں بیوی ہے۔ تو پھر کیوں نہ کسی نے احتجاج کیا اور سچ بول کر سارہ کو چھڑانے کی کوشش کی؟حضرت ابراہیمؑ تو الٹا سارہ کے پکڑے جانے پر راضی ہی نہیں خوش نظر آتے ہیں کہ فوراً سب تحائف قبول کر لیے۔ صاف ظاہر ہے کہ یہ قصہ ایک بیہودہ افسانہ ہے۔ اسرائیلی اور اسلامی روایات شاہد ہیں کہ حضرت ابراہیمؑ نے ساری عمر خطرات کا مقابلہ کیا۔ اور حق کی خاطر آگ میں پڑنا قبول کر لیا۔ لیکن اس قصے میں یہ بتایا گیا ہے کہ وہ ایک ممکنہ خطرے سے ڈر کر جھوٹ بولنے پر تیار ہو گئے۔ اور اپنی بیوی کی عزت کو بھی داؤ پر لگا دیا۔ پس ان پر ایسے گھناؤنے الزام کو عقل بالکل تسلیم نہیں کرتی۔ حضرت ابراہیمؑ عمر بھر لوگوں کو گمراہی سے نکالتے رہے۔ لیکن اس قصے میں بتایا گیا ہے کہ انہوں نے جھوٹ بول کر خود اپنی ہی بیوی کو گمراہی کے گڑھے میں دھکیل دیا۔ اور اس طرح اپنی بیوی کا روحانی قتل کیا۔ انہوں نے تو اپنی بہن کے عوض تحائف بھی قبول کر لیے تھے۔ اور اگر خداتعالیٰ مداخلت نہ کرتا تو وہ تو اپنی بیوی کو ہمیشہ کے لیے کھو چکے تھے۔ ممکن ہے اس طرح جھوٹ بول کر اور اپنی بیوی کو کھو کر وہ جسمانی طور پر قدرے محفوظ ہو گئے ہوں۔ لیکن کیا روحانی طور پرانہوں نے خود کشی نہیں کر لی تھی؟ پس ظاہر ہے کہ وہ ہرگز ایسے سنگین جرائم کا ارتکاب نہیں کر سکتے تھے۔ اور یہ قصہ محض جھوٹ کا پلندہ ہے۔ اس قصے میں کہا گیا ہے کہ جب حضرت ابراہیمؑ نے اپنی بیوی کو بہن کہہ کر فرعون کے سپرد کردیا تو ’’خداوند نے فرعون اور اس کے خاندان پر سارہ کے سبب سے بڑی بڑی بلائیں نازل کیں۔‘‘لیکن کیوں؟ قصور تو سب حضرت ابراہیمؑ اور سارہ کا تھا جنہوں نے جھوٹ بولا اور اپنے آپ کو بہن بھائی ظاہر کیا۔ اصل مجرم تو یہ دونوں تھے جنہوں نے فرعون کو دھوکا دیا۔ لیکن سزا خدا نے فرعون کو دی۔ کیا خدا بھی دھوکا کھا گیا تھا ؟ پس ظاہر ہے کہ یہ ایک غیر معقول افسانہ ہے جس میں خداتعالیٰ اور اس کے رسول پر الزام تراشی کی گئی ہے۔

جیوئش انسائیکلوپیڈیا کا اعتراف

جن قصوں میں یہ کہا گیا ہے کہ حضرت ابراہیمؑ نے اپنی بیوی سارہ کو اپنی بہن ظاہر کر کے بادشاہوں کے سپرد کر دیا تھا۔ ان کے بارے میں جیوئش انسائیکلوپیڈیا اعتراف کرتی ہے کہ ان میں حضرت ابراہیمؑ کو کذب بیانی کا مرتکب دکھایا گیا ہے اور ان قصوں سے ان کی زندگی میں تضاد پیدا ہوا ہے۔ اور یہ کہ یہ عوام میںپھیلے زبانی قصے ہیں جو تاریخی اعتبار سے قابلِ قبول نہیں۔ چنانچہ حضرت ابراہیمؑ کے اوصاف بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ’’ ابراہیم کی منفرد، پُر عظمت اور پر کشش شخصیت جو پیدائش میں بیان ہوئی ہے وہ کئی نسلوں کے غور و فکر کا نتیجہ ہے۔ ہر دور نے اپنے اس اولین جد امجد کی تصویر میں وہ رنگ بھرا جو نہایت پر خلوص، پاکیزہ اور بیش قیمت تھا….تاہم ان کے کردار میں اونچ نیچ کا امتزاج نظر آتا ہے۔ اس میں فراخدلی، بہادری اور عدل و انصاف ہے۔ لیکن روایات نے ان کو دو مرتبہ کذب بیانی کا مرتکب قرار دیا ہے‘‘

( Jew. Enc. Abraham, his character)

پھر لکھا ہے کہ’’سارہ کی زندگی کی کہانی میں بعض واقعات عجب طور پردہرائے گئے ہیں۔ جیسے فرعون کے ساتھ واقعہ ہوا تھا۔ اور پھر ویسا ہی واقعہ ابی ملک کے ساتھ ہوا (باب 12 اور 20)۔ مزید برآں ویسا ہی ایک واقعہ اسحاق اور ریبیکا کے بارے میں بھی درج ہے (باب 26)۔ایسے واقعات کا بار بار وقوع پذیر ہونا ظاہر کرتا ہے کہ ان میں سے کوئی بھی روایت تاریخی طور پر قابلِ قبول نہیں۔اور یہ کہ یہ تینوں واقعات بزرگوں کی زندگی سے متعلق عوام میںپھیلی زبانی روایات کی مختلف شکلیں ہیں۔‘‘

(Jew. Enc. Sarah, repetition of Narratives)

ہاجرہ سے شادی خدائی پلان کا حصہ

بائبل کے مذکورہ بالا بیان کے برعکس حضرت ابراہیمؑ کے مصر کے سفر اور حضرت ہاجرہ سے شادی کے جو حالات اور واقعات ہم نے مختلف قرائن سے اخذ کر کے لکھےہیں وہ نہ صرف عقلی اور نقلی لحاظ سے معقول اور مربوط ہیں بلکہ ہر صاحبِ فراست کے لیے قابلِ قبول ہیں۔ مزید برآں انہیں اسرائیلی اور اسلامی روایات کی تائید بھی حاصل ہے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ یہ حالات و واقعات حضرت ابراہیمؑ جیسے عظیم نبی کی شان اور مقام و مرتبہ سے مطابقت رکھتے ہیں۔ حضرت ابراہیمؑ کی حضرت ہاجرہ سے شادی اس خدائی پلان کا حصہ تھی جس کے تحت دنیا کی سب قوموں کو برکت بخشنا مقدر تھا۔ اس شادی کے جملہ انتظامات خداتعالیٰ نے اعجازی طور پر فرمائے تھے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ حضرت ابراہیمؑ کی زندگی کا ہر اہم موڑ اور مرحلہ اعجازی رنگ لیے تھا۔افسوس ہے کہ بائبل کی پہلی کتاب پیدائش کو مرتب کرنے والوں نے ان کی زندگی کے بہت سے اہم واقعات حذف کر دیے۔ اس کتاب میں ان کی زندگی کے ابتدائی 75 سال تو بالکل ہی غائب ہیں۔ اور باقی ماندہ زندگی کے حالات کو مسخ کر کے اور ان میں جعلی قصے داخل کر کے ابہام پیداکیا گیا ہے۔ ان قصوں کے بارے میں ہم ثابت کر چکے ہیں کہ یہ عقلی اور نقلی لحاظ سے قابلِ قبول نہیں اور بائبل کے مفسرین بھی ان کو نا قابل قبول قراردیتے ہیں۔

اگر بیٹی تھی تو لونڈی کیوں کہا

اسرائیلی روایات کے حوالے سے ہم یہ دیکھ چکے ہیں کہ حضرت ابراہیمؑ کے مصر کے قیام کے دوران فرعون نے اپنی بیٹی ہاجرہ کی بات کرتے ہوئے حضرت سارہ سے یہ کہا تھا کہ ’’ہاجرہ کے لیے سارہ کے گھر میں لونڈی ہونا کسی دوسرے کےگھر میں مالکن ہونے سے بہتر ہے‘‘۔(جیوئش انسائیکلو پیڈیا۔ ہاجرہ۔ رابی لٹریچر میں)فرعون کا یہ قول بنی اسرائیل کی اہم ترین روایات میں سے ہے۔ اور اسی قول کے حوالے سے یہ مشہور کیا گیا ہے کہ ہاجرہ کو ایک لونڈی کے طور پر حضرت سارہ کو دیا گیا تھا۔ اور اس طرح وہ سارہ کی ذاتی ملکیت بن گئی تھیں۔ لیکن فرعون کے اس قول کا یہ مفہوم محض ایک عامیانہ سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ ذرا تدبر سے کام لیں تو فرعون کے ان الفاظ کا اصل مفہوم واضح ہو جاتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ فرعون نے اپنی بیٹی کے بارے میں حضرت سارہ سے بات کی۔ اب اگر فرعون اپنی بیٹی کا رشتہ سارہ کے بھائی کے لیے تجویز کرتا تو وہ یہ کہتا کہ’’ہاجرہ کے لیے بہتر ہے کہ وہ سارہ کی بہن بن جائے۔‘‘اور اگر وہ اپنی بیٹی کا رشتہ سارہ کے بیٹے کے لیے تجویز کرتا تو وہ یہ کہتا کہ’’ہاجرہ کے لیے بہتر ہے کہ وہ سارہ کی بیٹی بن جائے‘‘۔لیکن وہاں وہ اپنی بیٹی کا رشتہ سارہ کے خاوند کے لیے تجویز کر رہا تھا۔ لہٰذا اس کے لیے یہ کہنے کے سوا اور کوئی چارہ ہی نہیں تھا کہ ’’ہاجرہ کے لیے بہتر ہے کہ وہ سارہ کے گھر میں لونڈی بن جائے۔‘‘سب جانتے ہیں کہ بات جب کسی مرد کی دوسری شادی کی ہو تو پہلی بیوی سے یہی کہا جاتا ہے کہ یہ دوسری بیوی تمہاری خادمہ یا نوکرانی بن کر تمہاری خدمت کرے گی۔ اور نہیں تو کیا وہ یہ کہتا کہ ’’ہاجرہ کے لیے بہتر ہے کہ وہ سارہ کے گھر میں مالکن بن جائے؟‘‘

پس بات تو بالکل صاف اور واضح ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کتاب پیدائش میں فرعون کے اس اصل قول کو چھپایا گیا ہے اور حضرت ہاجرہ کے بارے میں صرف اتنا لکھا کہ وہ سارہ کی لونڈی تھی اور بس۔ اس کہانی کو مرتب کرنے والے جانتے تھے کہ فرعون کے اس قول سے ظاہر ہو جائے گا کہ وہ اپنی بیٹی کو لونڈی کہہ کر دراصل سارہ کی سوکن تجویز کر رہا تھا۔ ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں کہ جب ایک معزز شخص اپنی بیٹی کے بارے میں ایسے الفاظ کسی مہمان خاتون سے کہے تو وہ خاتون اس کی بیٹی کی مجوزہ ساس یا سوکن ہی ہو سکتی ہے۔

ایک حماقت ہزاروں سال سے

فرعون نے حضرت ابراہیمؑ کے لیے اپنی بیٹی کا رشتہ تجویز کیا اور اس سلسلے میں حضرت سارہ سے بات کرتے ہوئے اس نے اپنی بیٹی کے لیے لونڈی کا لفظ استعمال کیا۔ اور جس طرح یہ لفظ عوام میں مشہور ہوا ہے اس سے یہ گمان ہوتا ہے کہ رخصتی کے وقت بھی فرعون نے اپنی بیٹی کو لونڈی کہہ کر ہی حضرت سارہ کے سپرد کیا ہو گا۔ فرعون جانتا تھا کہ سارہ اپنے دیس کی رانی ہیں اور وہ اپنی پردیسن سوکن کے لیے مسائل اور مشکلات پیدا کر سکتی ہیں (جیسا کہ انہوں نے بعد میں کیے)۔ اپنی بیٹی کے لیے لونڈی کا لفظ استعمال کرکے دراصل وہ حضرت سارہ سے اس امید کا اظہار کر رہا تھا کہ وہ اپنی سوکن سے ویسے ہی نرمی اور درگزر کا سلوک کریں گی جیسے ایک اچھی اور رحم دل مالکن اپنی لونڈی سے کرتی ہے۔ فرعون کے ان الفاظ کا اصل مدعا اور مفہوم ہر وہ باپ سمجھ سکتاہے جو اپنی بیٹی کو ایک اجنبی خاندان میں بیاہ کر کسی غیر ملک میں رخصت کرتا ہے۔ مشرقی معاشرے میں ایسے موقع پر دلہن کے والدین کا اس کے سسرال والوں سے ایسی امید کا اظہار کرنا اور ایسے عاجزانہ الفاظ استعمال کرنا ایک قدرتی سی بات ہے۔ ان الفاظ کا اصل مفہوم طرفین اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ ان الفاظ کو ظاہر پر محمول کرنا پرلے درجے کی حماقت ہو گی۔ اور یہ حماقت ہزاروں سال سے ایک ہاجرہ نامی معصوم مصری شہزادی کے بارے میں لاکھوں سے سر زد ہوتی آئی ہے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔

اللّٰہم صلی علیٰ ابراہیم و علیٰ آلہ و ازواجہ اجمعین۔ و بارک وسلم انک حمید مجید۔

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button