مضامین

دیوار برلن کی تاریخی اہمیت اور خلافت احمدیہ کی راہنمائی

(ڈاکٹر محمد داؤد مجوکہ۔جرمنی)

دنیا کی تاریخ کو بغور دیکھنے سے احساس ہوتا ہے کہ کچھ بھی اتفاقی نہیں ہوتا۔عالمی نوعیت کے تمام واقعات مسلسل ایک ہی رُخ پر ظہور پذیر ہوتے چلے جاتے ہیں اور ان کے پیچھے اللہ تعالیٰ کی خاص تقدیر کام کر رہی ہوتی ہے۔

دیوار برلن مغربی برلن کے گرد تعمیر کی گئی تھی کیونکہ مغربی برلن مشرقی جرمنی کے عین وسط میں واقع تھا

جرمنی کی تقسیم

دوسری جنگ عظیم میں جرمنی اور اس کے ساتھ کی محوری طاقتوں (axis powers) کے مد مقابل اتحادی (allied powers) طاقتیں تھیں۔ جنگ سے پہلے ہی جرمنی ۱۹۳۶ء میں رائن لینڈ کے علاقہ میں افواج بھیج کر، ۱۹۳۸ء میں آسٹریا کے جرمنی کے ساتھ الحاق کی صورت میں اور ۱۹۳۸ء ہی میں چیکوسلواکیہ کے جرمن علاقوں پر بغیر گولی چلائے ہی وسیع علاقوں پر قبضہ کر چکا تھا۔ اس وقت کی برطانوی اور فرانسیسی حکومتیں جرمنی کے ساتھ جنگ کا تباہ کن خطرہ مول نہ لیتے ہوئے ان اقدامات کو تسلیم کر کے ہٹلر کو مزید توسیع پسندانہ اقدامات سے باز رکھنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ ان کی یہ Appeasment پالیسی آج تک ہدفِ تنقید ہے اور بعض علماء کا خیال ہے کہ آغاز ہی میں اگر ہٹلر کو توسیع نہ کرنے دی جاتی اور مضبوط موقف اپنایا جاتا تو شاید اتنی تباہی نہ ہوتی جتنی دوسری جنگ عظیم کے نتیجے میں ہوئی۔ تاہم یہ موقف محل نظر ہے۔ کسی بھی واقعہ کے بعد جب کہ نتائج سامنے آ چکے ہوتے ہیں گیان بانٹنا بہت آسان ہوتا ہے۔ اُس وقت برطانیہ و فرانس جنگ سے بچنا چاہتے تھے اور انہیں معلوم تھا کہ جنگ کی صورت میں شدید تباہی ہو گی۔ ہٹلر نے کسی کے مضبوط موقف سے اپنی پالیسیوں سے پیچھے نہیں ہٹ جانا تھا۔ چنانچہ جنگ ہی نتیجہ تھا خواہ کچھ سال پہلے ہوتی یا بعد میں۔ اگر پہلے ہوتی تب بھی ایسی ہی تباہی ہونی تھی کیونکہ جرمنی ہی نہیں بلکہ برطانیہ اور فرانس بھی اس وقت ۱۹۳۹ء کی نسبت جنگ کے لیے کم تیار تھے۔

بہرحال یکم ستمبر ۱۹۳۹ء کو جرمنی نے باقاعدہ طور پر پولینڈ کے خلاف لشکر کشی کے ساتھ دوسری جنگ عظیم کا آغاز کیا۔ جنگ میں ابتدائی طور پر جرمنی کو حیرت انگیز کامیابی حاصل ہوئی اور ہٹلر کی بلٹز کریگ (Blitzkrieg) یعنی بجلی کی چمک جیسی تیز رفتار اور مختصر جنگی مہمات کی کامیابی نے یورپ کو ششدر کر کے رکھ دیا۔ یکم ستمبر سے ۶ اکتوبر تک قریباً ایک ماہ میں پولینڈ جیسے وسیع ملک پر قبضہ کر لیا گیا۔ ۹ اپریل کو ڈنمارک کو ایک ہی دن میں زیرِ نگیں کر لیا گیا۔ ناروے بھی کسی بڑی مزاحمت کے بغیر ہی فتح ہو گیا۔ مئی اور جون ۱۹۴۰ء میں دو ماہ کے دوران ہالینڈ، لکسمبرگ، بیلجیم کے علاوہ فرانس جیسا وسیع اور طاقتور ملک بھی جرمنی کے زیر تسلط آ گیا۔ ۶ اپریل ۱۹۴۱ء کو جرمنی نے یوگوسلاویہ اور یونان پر چڑھائی کی جس کے نتیجہ میں گیارہ دن میں یوگوسلاویہ اور پندرہ دن میں یونان کو فتح کر لیا۔

تاہم دو سال کی مسلسل اور خیرہ کن فتوحات کے بعد جنگ کا پانسہ پلٹنا شروع ہوا اور ۲۲؍جون ۱۹۴۱ء کو روس کے خلاف شروع کی جانے والی جنگ بالآخر جرمنی کے زوال پر منتج ہوئی۔ تین سال بعد حالت اس قدر بدل چکی تھی کہ ۶ جون ۱۹۴۴ء کو اتحادی افواج فرانس میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئیں اور یوں جرمنی کا یورپ پر تسلط ٹوٹنا شروع ہوا۔ اس کے قریباً ایک سال بعد جرمنی کی مکمل شکست اور اس کے ہتھیار ڈالنے پر ۸؍مئی ۱۹۴۵ء کو یورپ میں جنگ بند ہو گئی۔

مشرق سے روسی افواج، جو کہ اس وقت سوویت یونین کی صورت میں موجود تھا، قریباً نصف جرمنی پر قبضہ کر چکی تھیں جبکہ مغرب سے امریکی، برطانوی، فرانسیسی افواج نصف جرمنی پر قابض تھیں۔جنگ میں مشترکہ دشمن، یعنی جرمنی، کو زیر نگیں کرنے کے بعد اتحادی طاقتوں کے دونوں دھڑوں میں آپس کی چپقلش زیادہ شدت کے ساتھ شروع ہو گئی جو کہ ’’سرد جنگ‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ جنگ بندی کے وقت ہی یہ فیصلہ کر لیا گیا تھا کہ جرمنی کے چار حصے ہوں گے۔ جن کو روسی برطانوی، فرانسیسی اور امریکی زونز کہا جاتا ہے۔ گو مشرق میں برلن سے کہیں آگے تک سوویت افواج نے قبضہ کیا تھا لیکن خود دار الحکومت کی اہمیت کے پیش نظر برلن میں مغربی افواج نے اپنے کچھ فوجی ہوائی جہازوں سے اتار کر ایک حصہ پر قبضہ کر لیا تھا۔

مئی ۱۹۴۵ء تک روس و امریکہ وغیرہ اتحادی تھے مگر جنگ کے فوراً بعد ۱۹۴۵ء کی گرمیوں میں ہی آپس میں چپقلش شروع ہو گئی۔دسمبر ۱۹۴۶ء میں سوویت حصہ کی سرحد پر پولیس تعینات کر دی گئی۔ سوویت یونین کو یہ احساس ہوا کہ جنگ کا جو تاوان جرمنی پر ڈالا گیا ہے، اس کا روس سے متعلق حصہ مشرقی جرمنی سے وصول کرنا ممکن نہ ہو گا۔ اس لیے اس نے اس بات پر زور دینا شروع کیا کہ مغربی جرمنی کے صنعتی حصہ سے جو آمد ہوتی ہے اس میں سے بھی سوویت یونین کو حصہ دیا جائے ورنہ جرمنی کو ایک اقتصادی اکائی کے طور پر قائم نہیں رکھا جا سکے گا۔ دوسری طرف ۱۹۴۸ء میں برطانیہ وغیرہ نے لندن میں ایک کانفرنس کی جس میں سوویت یونین کو سرے سے بلایا ہی نہیں گیا۔ اس کے ساتھ ہی یہ فیصلہ کر لیا گیا کہ فرانس، برطانیہ اور امریکہ کے زیر تسلط تینوں حصوں کو جمع کر کے ایک متحدہ حصہ بنا دیا جائے۔ اس حصہ میں ۲۰؍جون ۱۹۴۸ء سے جرمن مارک کو بطور سکہ رائج الوقت جاری کر دیا گیا۔ اس پر سوویت یونین نے برلن میں مغربی طاقتوں کے حصہ کا بائیکاٹ کر دیا۔ بالآخر ۲۳؍مئی ۱۹۴۹ء کو مغربی حصہ میں ’’وفاقی جمہوریہ جرمنی‘‘ کے نام سے ایک الگ ملک قائم کر دیا گیا۔ جبکہ مشرق میں ’’ عوامی جمہوریہ جرمنی‘‘ قائم ہو گئی۔

دیوار برلن کی تعمیر

ان حالات میں لوگ سوویت علاقے سے مغربی جرمنی کے علاقے میں چلے جایا کرتے تھے۔ چنانچہ وقت کے ساتھ ساتھ مشرقی جرمنی کی حکومت نے پابندیاں عائد کرنا، پولیس کے ذریعہ تفتیش کرنا اور نئی سڑکوں کی تعمیر اور نئے ریلوے ٹریک بچھا کر یہ کوشش شروع کر دی کہ مشرقی برلن میں رہنے والوں کو مغربی حصہ میں سے گزرنے کی ضرورت نہ پڑے۔ ان سب کوششوں کے باوجود مشرقی برلن سے مغربی برلن جانے کا سلسلہ مکمل طور پر نہ رک سکا۔ چنانچہ دوسری جنگ عظیم کے خاتمہ کے بعد سے دیوار برلن کی تعمیر تک کے عرصے میں پینتیس لاکھ افراد سوویت یونین کے علاقوں سے مغربی جرمنی میں بھاگنے میں کامیاب ہوئے۔یاد رہے کہ اس وقت جنگ کی ہولناک تباہی کے بعد جرمنی میں افرادی قوت کی شدید کمی تھی۔ اس لیے لوگوں کا اتنی بڑی تعداد میں مغرب چلے جانا مشرقی جرمنی کے لیے بہت بڑا مسئلہ بن چکا تھا۔ چنانچہ۱۲ اور۱۳؍اگست ۹۶۱ء کی درمیانی رات کو برلن کے دونوں حصوں کی سرحد پر فوج اور پولیس تعینات کر دی گئی، زیر زمین ٹرین سٹیشن بند کر دیے گئے اور ۱۳؍اگست کو دیوار برلن کی تعمیر شروع ہو گئی۔ عام تصور کے برخلاف یہ دیوار دو ممالک کے درمیان سیدھی سرحدی دیوار نہیں تھی بلکہ مغربی برلن، جو کہ مغربی جرمنی کا حصہ تھا کے ارد گرد دائرہ کی شکل میں گھیرا ڈالے ہوئے تھی۔

یہ محض ایک دیوار نہیں تھی۔ اس کے ساتھ مزید کئی چیزیں تعمیر کی گئی تھیں۔ مثلاً گاڑیوں کو روکنے کے لیے مغربی برلن کی جانب ایک کھائی سی بنائی گئی تھی۔ اس کے بعد فوجیوں کے گشت کرنے کے لیے ایک سٹرک تعمیر کی گئی تھی۔ اس پر جیپ میں بیٹھ کر یا پیدل گشت کیا جا سکتا تھا۔ اس کے ساتھ ہی کھمبے لگا کر روشنی کا انتظام کیا گیا تھا۔اس کے بعد وقفہ وقفہ سے برج بنائے گئے تھے جن پر فوجی تعینات ہوتے تھے۔ اس کے بعد کنکریٹ کی رکاوٹیں رکھی گئی تھیں۔ وغیرہ۔ آخر پر یعنی مشرقی جرمنی کی جانب ایک باڑ لگی ہوئی تھی۔ پس دیوار کے ساتھ ایک کافی چوڑی پٹی تھی جس کے ذریعہ مغربی برلن کو پوری طرح مشرقی جرمنی سے علیحدہ کر دیا گیا تھا۔ اتنے زیادہ اور سخت انتظامات اور اقدامات کی موجودگی میں دیوار کو عبور کرنا قریباً ناممکن تھا اور اس کوشش میں بہت سے لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

سرد جنگ

دیوار برلن کی تعمیر امریکہ کے بنائے ہوئے نیٹو بلاک اور روس کے بنائے ہوئے وارسا پیکٹ بلاک کے درمیان ایک طویل جنگ کا مظہر بن گئی۔ یہ دونوں بلاک نہ صرف عسکری طور پر ایک دوسرے کے مد مقابل تھے بلکہ اپنی سیاسی بنیاد اور فلسفہ ریاست کے لحاظ سے بھی ایک دوسرے کے مخالف تھے۔ امریکی یا مغربی بلاک کا سیاسی نظام کثیر الجماعتی جمہوریت پر مبنی تھا جبکہ ان کا معاشی نظام سرمایہ داری پر۔ اس کے مقابل پر روسی یا مشرقی بلاک کا سیاسی نظام یک جماعتی جمہوریت پر مبنی تھا جبکہ معاشی نظام اشتراکیت پر۔یوں قدرتی طور پر جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد ان دونوں طرح کے نظاموں میں دنیا پر بالادستی کے لیے سخت مقابلہ شروع ہو گیا۔ اس دوران حسب معمول ہر قسم کے جائز و ناجائز ہتھکنڈوں سے بھی کام لیا گیا۔ جہاں ضرورت سمجھی حکومتیں الٹا دی گئیں، ڈکٹیٹروں کو ساتھ ملا کر کمزور اقوام کا بے پناہ استحصال کیا گیا، اپنے مفادات کے لیے ہر طرح کا ظلم روا رکھا گیا۔ ان مذموم حرکات میں دونوں بلاک حسب توفیق ملوث رہے۔ یہ الگ بات ہے کہ مغربی بلاک کو اپنی جغرافیائی برتری اور اپنی معاشی مضبوطی کی بنا پر ایسا کرنے کا زیادہ موقع ملا۔

ان دونوں قسم کے نظاموں کے کچھ فوائد بھی ہیں اور کچھ نقصانات بھی۔ اس جگہ ان کی تفصیل میں جائے بغیر محض ایک ایک نکتہ مختصر طور پر بیان کر کے ان میں فرق کو واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ معلوم ہو کہ یہ نظام کیوں ایک دوسرے سے بالکل متضاد اور مقابل پر تھے اور کیوں ایک نظام بالآخر شکست و ریخت کا شکار ہوا؟ جبکہ دوسرا ابھی تک طاقتور اور ترقی پذیر ہے۔

مغربی نظام کے فوائد و نقصانات

مغربی نظام سیاست میں حکمران چونکہ کھلے عام مختلف پارٹیوں میں تقسیم ہوتے اور ایک دوسرے کے نظریات کی مخالفت کرتے اور عوام کے سامنے ووٹ کے لیے جاتے ہیں، اس لیے وہ عوام کی صورت حال سے لاپرواہ نہیں رہ سکتے اور عوام کی امنگوں، ان کی ضروریات، ان کی تکالیف کا خیال رکھنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ اگر وہ ایسا نہ کریں تو اگلی مرتبہ عوام ان کو ووٹ نہیں دیں گے۔اسی طرح مغربی نظام ریاست میں عوام کے سامنے جواب دہی اور ریاست کے تینوں ستونوں، حکومت، مقننہ اور عدلیہ، میں توازن قائم ہونے کے باعث ایک حد تک ہر ایک کے لیے عدل و انصاف پر قائم رہنا ضروری ہے ورنہ ریاست کا کوئی اور ستون مداخلت کر کے مساوات بحال کر دے گا۔ ان سب پر اضافی نگرانی ریاست کے چوتھے ستون، یعنی صحافت، کی ہے جو کسی بھی قسم کے اختیارات سے تجاوز اور زیادتی کو فوراً عوام کے سامنے لے آتی ہے اور یوں متعلقہ لوگوں کے متعلق عوام میں نفرت پیدا ہو کر آئندہ انتخابات میں شکست ممکن ہو جاتی ہے۔

اس سیاسی نظام کا نقصان دہ پہلو یہ ہے کہ سیاستدان انفرادیت کھو کر پارلیمنٹ میں اپنی پارٹی کی حمایت پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ چنانچہ پارٹی کی ہر قسم کی جائز و ناجائز باتوں کی حمایت کرتے ہیں۔ بہت کم سیاستدان ایسے ہوں گے جو آزاد حیثیت میں کسی پارٹی کی حمایت کے بغیر دیگر پارٹیوں کے امیدواروں کے مقابل پر انتخابات جیت سکیں۔اور جو جیت بھی جائیں وہ ان اہداف اور وعدوں کو اکیلے حاصل نہیں کر سکتے جن کو پیش کر کے انتخاب لڑا ہوتا ہے۔یوں قدرتی طور پر پارٹی کا مفاد انفرادی مفاد سے بجا طور پر اور قومی مفاد سے غلط طور پر زیادہ اہم ہو جاتا ہے۔

معاشی طور پر مغربی نظام کا فائدہ یہ ہے کہ ہر شخص اپنی صلاحیتوں کے مطابق ہر طرح کی ترقی کرنے میں مکمل آزاد ہے۔ چاہے کوئی شخص کسی پس منظر سے آیا ہو، کسی طبقہ سے تعلق رکھتا ہو، کتنی زیادہ ترقی کرنا چاہے، اس پر کوئی قدغن نہیں۔اس آزادی اور ترقی کرنے کی امید کے نتیجے میں ایجادات، جدید نظریات، دریافت، تجربات ہوتے ہیں۔ چنانچہ مغربی دنیا میں معیشت اور سائنس کی حیرت انگیز ترقی کی بنیاد یہی آزادی اور کھلے مقابلہ کی فضا ہے۔ یوں نظام ارتقا کے شہرہ آفاق اصول (survival of the fittest) کے تحت بہترین خیالات، ایجادات اور طریق کار ترقی کرتے اور حاوی ہو جاتے ہیں اور یوں قوم مجموعی طور پر ترقی کرتی رہتی ہے۔

اس نظام کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ جو لوگ کسی وجہ یا مجبوری کی بنا پر ’’بہترین‘‘ میں شامل نہیں وہ بالکل ہی پِس جاتے ہیں۔ گو سیاسی نظام میں ان کے پاس بھی ووٹ کی طاقت ہے اور اس لیے غرباء اور کمزوروں کی دیکھ بھال کا ایک نظام قائم کرنا بھی سیاستدانوں کی مجبوری ہے، لیکن امیر و غریب میں بڑھتا تفاوت ظاہر کر رہا ہے کہ یہ نظام ناقص ہے۔

اشتراکی نظام کے فوائد و نقصانات

سیاسی طور پر اشتراکی نظام میں عملاً ایک ہی پارٹی ہوتی ہے۔ اس کے نتیجے میں پارٹی مفادات کا ٹکراؤ نہیں ہوتا اور جو بھی اہداف پارٹی حاصل کرنا چاہتی ہے وہ کسی قسم کے دباؤ اور افہام و تفہیم کے بغیر مکمل طور پر حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ چنانچہ بہت سے معاملات میں جہاں فوری فیصلوں کی ضرورت ہو اور جہاں تمام تر قوت کو ایک نکتہ پر مرکوز کر کے کسی ہدف کو حاصل کرنا ہو، وہاں اشتراکی نظام غیر معمولی نتائج دے سکتا ہے اور بحث و تمحیص میں وقت خرچ نہیں ہوتا نہ ہی مختلف پارٹیوں کے مفادات کو مدنظر رکھنے کی مجبوری کی وجہ سے اصل ہدف سے کم بات پر راضی ہونا پڑتا ہے۔

اس نظام کا نقصان یہ ہے کہ عوام کے پاس چونکہ کوئی حقیقی متبادل نہیں ہوتا، اس لیے سیاستدان رفتہ رفتہ عوام کی صورت حال سے لا تعلق ہو جاتے ہیں۔ ان کا مطمح نظر اشرافیہ اور طاقتور لوگوں کی رضامندی حاصل کر کے خود مراعات اور دیگر فوائد لینا ہو جاتا ہے۔اسی طرح طاقت کے ارتکاز کے باعث ریاستی ستونوں میں بھی توازن قائم نہیں رہ سکتا۔چنانچہ عدلیہ بھی پھر مطلوبہ فیصلے کرنے اور پارلیمنٹ مطلوبہ قوانین بنانے پر مجبور یا راضی ہو جاتی ہے۔ ضروری نہیں کہ بزور شمشیر ایسا کیا جائے بلکہ اکثر گذشتہ مثالوں سے سبق حاصل کرتے ہوئے ایسا خود بخود کیا جاتا ہے۔چنانچہ پھر جوابدہی کا نظام ختم ہو کر اشرافیہ میں بالخصوص اور معاشرے میں بالعموم بددیانتی اور ناانصافی پھیلتی ہے۔

معاشی طور پر اشتراکی نظام بہت زیادہ طاقت رکھتا ہے۔ اگر تمام عوام کی مجموعی دولت کو ریاستی سرپرستی میں عقل مندی کے ساتھ لگایا جائے تو ظاہر ہے کہ کسی بھی انفرادی یا گروہی سرمایہ کاری پر وہ بھاری ہو گی۔ چین، سنگاپور یا سعودیہ کی ریاستی سرمایہ کاری کی کمپنیوں کو اسی لیے نجی کمپنیوں پر برتری حاصل ہے کہ ریاست کی بے شمار دولت ان کی پشت پر ہے۔ دوسرا بڑا فائدہ یہ ہے کہ کم صلاحیت رکھنے والے لوگوں کو بھی اس نظام میں تباہ ہونے سے بچایا جا سکتا ہے۔ جب دولت ریاست کے قبضہ میں ہو اور وہ اسے عوام پر تقسیم کرتی رہے، تو کم صلاحیت لوگوں کو بھی کچھ حصہ ملتا رہے گا۔

اس نظام کا نقصان دہ پہلو یہ ہے کہ اول تو جدت پسندی ختم ہو جاتی ہے۔جب معلوم ہو کہ ریاست نے تمام بنیادی سہولیات مہیا کرنی ہیں تو جد و جہد اور مقابلےکی خواہش کم ہو جاتی ہے۔ دوسرے یہ کہ دولت کی تقسیم جن طاقتور لوگوں کے ذمہ ہے، وہ جب عوام کی صورت حال سے لا تعلق ہوتے ہیں تو اپنے مفادات کو عوام سے جدا کر لیتے ہیں۔اس کا نتیجہ چند افراد پر مشتمل اشرافیہ کو بے شمار مراعات حاصل ہونا اور باقی عوام کا زوال ہے۔

اشتراکی نظام کی شکست

طاقت کے ارتکاز اور ہر قسم کی اختلافی رائے کے ناپید ہونے کے بعد حسب توقع اشتراکی نظام کی اشرافیہ عوام سے بےتعلق ہو گئی تھی۔چنانچہ اس میں بددیانتی اور مراعات کے حصول کی حرص بڑھتی رہی۔ اس کے جواب میں عوام میں پیدا ہونے والی مخالفت کو دبانے کے لیے ظلم سے کام لینا قدرتی نتیجہ تھا۔ اس لیے ملک کے اندر لوگوں پر نظر رکھنے کے لیے خفیہ ایجنسیوں کا قیام، خصوصی جیلوں کی تعمیر، مخالفین کا غداری کے الزام میں قتل وغیرہ بہت سے ہتھکنڈوں سے کام لیا گیا۔ یہی امور یعنی اشرافیہ میں بددیانتی، عدل کا فقدان، اور مقابلہ نہ ہونے کے باعث سستی اور کاہلی کی ترویج بالآخر اشتراکی نظام کے زوال پر منتج ہوئے۔

تاہم ۱۹۱۷ء کے لینن کے انقلاب سے لے کر ۱۹۸۹ء میں دیوار برلن کے گرنے تک اس نظام کے خاتمہ میں ۷۲سال کا طویل عرصہ لگا۔اس بات پر بحث کی جا سکتی ہے کہ فلاں واقعہ یا فلاں پالیسی یا فلاں شخص کے ہونے یا نہ ہونے سے سوویت یونین کی زندگی کتنی طویل ہو جاتی مگر اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اس نظام نے شکست و ریخت کا شکار ہونا ہی تھا کیونکہ یہ نظام بنیادی انسانی فطرت اور ارتقا کے اصولوں کے خلاف تھا۔

دیوار برلن کا انہدام

سوویت یونین کے اختتام کا آغاز صدر گورباچوف کی گلاسنوٹ (یعنی شفافیت) اور پریسٹرائیکا (یعنی تجدید)کی پالیسیوں سے ہوا۔ ان پالیسیوں کا مقصد سوویت یونین کو جدید خطوط پر استوار کرنا اور حکومت کو عوام کے سامنے شفاف بنانا تھا۔ گورباچوف کو غالباً یہ احساس ہو چکا تھا کہ اشرافیہ میں موجود بددیانتی اور اس کی چیرہ دستیوں کے خلاف عوام میں بڑھتے تحفظات کو روکنا اب مشکل سے مشکل تر ہوتا جائے گا۔ اسی طرح سوویت یونین کی معاشی اور سائنسی میدانوں میں کمزوری کے پیش نظر اسے جدید دنیا کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ضروری ہے۔ مگر اسے شاید ان اہم اور ضروری پالیسیوں کے نتائج کا اندازہ نہ ہو گا۔

مشرقی جرمنی کو جہاں ان پالیسیوں کی بنا پر سوویت یونین سے ایک حد تک آزادی ملی، وہیں وہ ایک امتحان سے دوچار ہو گیا۔ سن ۱۹۸۹ء کی گرمیوں میں مشرقی جرمنی سے کثیر تعداد میں لوگوں نے مغربی جرمنی جانا شروع کر دیا جس کے لیے ہنگری اور چیکوسلوواکیہ کا راستہ استعمال کیا جاتا تھا۔ یہ لوگ مشرقی جرمنی سے ان ممالک میں جاتے اور وہاں قائم مغربی جرمنی کے سفارتخانوں میں پناہ لے لیتے۔ چنانچہ ان دنوں ۳۵ ہزار لوگ مشرقی جرمنی سے بھاگ کر ہنگری، چیکوسلوواکیہ ، پولینڈ وغیرہ چلے گئے۔ وہاں سے مغربی جرمنی کے سفارتخانوں کے ذریعہ مغربی جرمنی سفر کا انتظام کیا گیا۔ دوسری طرف خود مشرقی جرمنی کے اندر بھی حکومت کے خلاف احتجاج شروع ہو گیا۔ اس پُرامن احتجاج میں دانشور اور چرچ کے بعض اکابرین کلیدی کردار ادا کر رہے تھے۔گو سوویت یونین کی افواج اس سے قبل مشرقی یورپی ممالک میں ہونے والے ہر احتجاج کو سختی سے کچل دیتی تھیں مگر اب فضا بدل چکی تھی۔ چنانچہ یہ مظاہرے بڑھتے گئے اور ۴؍نومبر ۱۹۸۹ء کو مشرقی برلن میں پانچ لاکھ افراد نے مظاہرہ کیا جس میں حکومت سے اصلاحات کا مطالبہ کیا گیا۔ یاد رہے یہ سب کچھ انتہائی خوف کی حالت میں ہو رہا تھا۔ ان واقعات سے چند ماہ قبل ہی چین میں دس لاکھ افراد نے احتجاج کیا تھا جسے ۳، ۴؍جون ۱۹۸۹ء کی درمیانی رات چینی افواج نے سختی سے کچل دیا تھا اور اس دوران ہزاروں لوگ مارے گئے تھے۔ چنانچہ اس جگہ یہ حقیقی خطرہ موجود تھا کہ سوویت افواج کی مدد سے اس احتجاجی تحریک کو بھی کچل دیا جائے۔ اس سے پہلے ۱۹۵۳ء میں مشرقی جرمنی میں اور ۱۹۶۸ء میں چیکوسلوواکیہ میں بھی ایسا ہو چکا تھا۔ تاہم اس مرتبہ اس جگہ اللہ تعالیٰ کی غالب تقدیر کا فیصلہ کچھ اور تھا۔

دنیا کی تاریخ کو بغور دیکھنے سے احساس ہوتا ہے کہ کچھ بھی اتفاقی نہیں ہوتا۔عالمی نوعیت کے تمام واقعات مسلسل ایک ہی رُخ پر ظہور پذیر ہوتے چلے جاتے ہیں اور ان کے پیچھے اللہ تعالیٰ کی خاص تقدیر کام کر رہی ہوتی ہے۔ اس زمانے میں حضرت مسیح موعودؑ کی آمد کے بعد اللہ تعالیٰ کی تقدیر یہ ہے کہ وہ آنحضورﷺ کی تعلیم کے ذریعہ اپنی وحدانیت اور اپنے پسند کردہ دین یعنی اسلام کو روئے زمین پر پھیلا دے۔ اس کے لیے یہ ضروری تھا کہ دنیا کے تمام ممالک میں، خواہ سوویت یونین ہو یا مشرقی یورپ یا چین، آمد و رفت اور مذہبی خیالات کے تبادلہ اور تبلیغ کے راستے کھلیں۔ چنانچہ اس تقدیر کے موافق یہ راستے کھلنے تھے اور اس کے لیے ضروری سامان مہیا ہو گئے۔ اِنَّ اللّٰہَ بَالِغُ اَمۡرِہٖ ؕ قَدۡ جَعَلَ اللّٰہُ لِکُلِّ شَیۡءٍ قَدۡرًا۔ (الطلاق: ۴) یقیناً اللہ اپنے فیصلہ کو مکمل کرکے رہتا ہے۔ اللہ نے ہر چیز کا ایک منصوبہ بنا رکھا ہے۔

جماعت احمدیہ اپنی پہلی صدی مکمل ہوتے ہوئے اس مقام پر پہنچ رہی تھی جہاں اسے وہ روابط اور وسائل اور ذرائع مہیا ہونا شروع ہو چکے تھے جن کی بنا پر ان ممالک میں اسلام کا پیغام پھیلنا تھا۔ پس تقدیر الٰہی کے مطابق اب وہ وقت آ گیا تھاتو اس جگہ انقلاب بھی آ گیا اور چین میں وقت نہیں آیا تو وہاں انقلاب ناکام ہو گیا بلکہ اب تک ناکام ہے۔

بہرحال ان حالات میں ۹؍نومبر ۱۹۸۹ء کی شام کو دیوار برلن کو کھولنے کی اجازت دے دی گئی۔ چنانچہ ۹؍نومبر کو رات آٹھ بج کر تیس منٹ پر دیوار برلن کا پہلا دروازہ کھل گیا اور لوگ مغربی برلن جانا شروع ہو گئے۔ رات بارہ بجے جب کہ ۱۰؍نومبر کا آغاز ہو رہا تھا دیوار برلن مکمل طور پر کھل چکی تھی۔ اور یوں دیوار کے گرنے کے متعلق خبریں Friday the 10th کے اخبارات ہی میں شائع ہوئیں جو کہ حضرت خلیفۃالمسیح الرابع کا ایک کشف تھا (خطبہ جمعہ ۲۳؍فروری ۱۹۹۰ء)۔ اس کشف کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے پہلے سے بتا رکھا تھا کہ اس کی تقدیر کا ایک اہم حصہ جمعہ دس تاریخ کو ظہور پذیر ہونا شروع ہو جائے گا۔

آئندہ چند دنوں میں چالیس لاکھ افراد نے مغربی جرمنی کا ویزا حاصل کیا اور سرحد پر مختلف جگہ پر گاڑیوں کی ایک سو کلومیٹر لمبی قطاریں بن گئیں۔ یوں ۱۹۶۱ء میں تعمیر کردہ دیوار ۱۹۸۹ء میں ۲۸سال کے بعد گر گئی۔اس کے بعد کی تاریخ، جرمنی کا اتحاد، سوویت یونین کے ساتھ تعلقات ، مشرقی یورپی ممالک کی آزادی وغیرہ بہت سے امور اس واقعہ سے وابستہ ہیں جن کی تفصیل میں جانا اس مضمون میں ممکن نہیں۔

حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کا دورہ برلن

دیوار برلن اگرچہ دس نومبر ۱۹۸۹ء بروز جمعہ ظاہری طور پر گر چکی تھی تاہم جرمنی ابھی متحد نہیں ہوا تھا۔ اس دوران دیوار دوبارہ بند کر دی گئی اور یوں جرمنی کے دونوں حصوں میں آمد و رفت ایک مرتبہ پھر رک گئی۔ مختلف حکومتوں کے درمیان اس وقت جرمنی کے مستقبل اور مشرقی جرمنی کی حیثیت کے متعلق سفارتی سرگرمیاں زوروں پر تھیں۔ اسی درمیانی زمانے میں جبکہ جرمنی متحد نہیں ہوا تھا، حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ جرمنی تشریف لائے۔ آپؒ کے دورہ کا ایک حصہ مغربی برلن بھی تھا۔

محترمی امیر صاحب جرمنی، عبد اللہ واگس ہاؤزر صاحب نے خاکسار کو بتایا کہ حضورؒ قافلے کے ساتھ مغربی جرمنی سے مغربی برلن تشریف لے گئے۔ وہاں حضورؒ نے دیوار برلن کے قریب تعمیر کردہ ایک برج سے مشرقی برلن کا دوربین کے ساتھ نظارہ فرمایا۔یہ دوربین امیر صاحب نے اپنے بھائی سے مستعار لی تھی۔ اس نظارے کے بعد حضورؒ دیوار کے قریب تشریف لے گئے۔ اسی دوران حضورؒ نے دریافت فرمایا کہ کیا دیوار کے پار جانے کا کوئی طریقہ ہے؟ چنانچہ ایک پولیس والے سے پوچھا گیا۔ اس نے بتایا کہ سڑک سے پار جانے کا راستہ تو نہیں لیکن اگر آپ زیر زمین ریل استعمال کریں تو فریڈرش شٹراسے کے اسٹیشن پر اتر کر پیدل مشرقی برلن جا سکتے ہیں۔ جب حضورؒ کو بتایا گیا تو آپؒ نے فرمایا کہ ٹھیک ہے ہم زیر زمین ریل کے ذریعہ ہی جائیں گے۔ چنانچہ تمام لوگ زیر زمین ریل میں چلے گئے۔ اس تاریخی سفر کی ویڈیو بھی محفوظ ہے جو کہ انٹرنیٹ پر درج ذیل لنک پر دیکھی جا سکتی ہے۔

دیوار کے پار مشرقی جرمنی کے زیر زمین ریلوے سٹیشن سے نکل کر حضور ؒنے کچھ چہل قدمی فرمائی۔ پھر آپؒ نے ایک جگہ طویل دعا کروائی۔ پاس ہی چند دکانیں بھی تھیں جن کی کھڑکیوں میں مختلف چیزوں کے نمونے یا تصاویر رکھی تھیں۔ حضورؒ نے امیر صاحب سے فرمایا کہ ایک دکان میں جا کر کچھ چیزیں خریدیں۔ امیر صاحب دکان میں داخل ہوئے تو وہاں کچھ بھی نہیں تھا محض اشتہار ہی تھے۔چنانچہ آپ نے واپس آ کر حضورؒ کی خدمت میں عرض کیا۔ حضورؒ نے فرمایا میں یہی دیکھنا چاہتا تھا۔

پس یہ وہ پہلا موقع ہے جب حضرت مسیح موعودؑ کی نیابت میں خلیفہ وقت نے مشرقی برلن، مشرقی جرمنی، یا سوویت یونین یا کمیونزم کے زیر اثر علاقوں میں بابرکت قدم رکھا۔اس جگہ لمبی دعا کروانے کا مقصد بھی غالباً یہی تھا کہ اسلام کی ان ممالک میں تبلیغ اور ترقی کے راستے کشادہ ہوں۔اس سے پہلے ۱۹۶۷ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ ماسکو ائیرپورٹ پر رکے تھے لیکن یہ صرف ٹرانزٹ تھا۔ائیر پورٹ ہی سے آپؒ آگے فرینکفورٹ روانہ ہو گئے۔

خلافت احمدیہ کی راہنمائی

اسلام کسی مخصوص نام کے اقتصادی یا ریاستی نظام کی تائید نہیں کرتا بلکہ چند بنیادی اصول وضع کرتا ہے جن کی بنیاد پر چلنے والا کوئی بھی اقتصادی نظام یا سیاسی حکومت درست اور مفیدہے۔ ان اصولوں میں مشاورت، عدل، مساوات ، اختلاف رائے ، آزادی ضمیر ،غریب پروری اور احسان کے اصول اہم ترین ہیں۔ روس کی سرکردگی میں قائم اشتراکی نظام میں نہ صرف ان میں سے متعدد اصولوں کو توڑا گیا تھا بلکہ کسی بھی مذہبی جماعت کے لیے اہم ترین اصول، یعنی آزادی ضمیر، کو تو بالکل ہی ختم کر دیا گیا تھا۔ اس پر مستزاد یہ کہ ماضی کی مذہبی زیادتیوں اور خون آشام اختلافات کے ردعمل میں روس نے دہریت کو فروغ دینے اور ہر قسم کی مذہبی تحریکات کو ختم کرنے کی کوشش کی۔

چنانچہ خلفائے احمدیت نے اشتراکی نظام کے متعلق توجہ دلائی اور اس کی تباہ کاریوں سے خبردار کیا۔ یہی وجہ ہے کہ کمیونزم کے عروج کے زمانے کے ہمارے لٹریچر میں ، جلسہ ہائے سالانہ کی تقاریر میں، مختلف بزرگان سلسلہ کی تحریرات میں اس نظام کے خلاف بہت سے دلائل جمع کیے گئے۔ نیز اس کے استحصال کے لیے بہت دعائیں کی گئیں۔ خصوصیت سے مثیل مسیح موعودؑ یعنی حضرت مصلح موعودؓ نے بہت دعائیں کیں جن کی قبولیت اللہ تعالیٰ نے آپ پر ظاہر فرما دی تھی اور آپؓ کے رؤیا و کشوف میں مذکور ہے۔ چنانچہ ان دعاؤں کے اثر سے یہ نظام ہماری آنکھوں کے سامنے اچانک ہی اسی طرح پگھل کر پانی بن کر بہ گیا جیسا کہ برف کے نمک کے زیر اثر پگھلنے کی مثال میں پہلے سے بتا دیا گیا تھا۔

اس جگہ یہ ذکر شاید ضروری ہو گا کہ یہ خیال نہیں کرنا چاہیے کہ جب وہ نظام برف کے پگھلنے کی طرح ختم ہو گیا تو پھر روس نے دوبارہ طاقت کیسے پکڑ لی۔ اس لیے کہ وہ دعائیں کمیونزم اور اشتراکیت کے مذہب مخالف، دہریت کو فروغ دینے والے، بنیادی انسانی حقوق اور آزادی ضمیر کے خلاف پہلو کے متعلق تھیں۔ یہ پہلو ختم ہو چکا ہے۔ اب روس کی جو طاقت ہے وہ ایک نئے ریاستی نظام کی طاقت ہے اور اس کے متعلق الگ پیشگوئیاں ہیں جو ہمارے لٹریچر میں موجود ہیں۔ انشاء اللہ روس کا کمیونزم اور دہریت والا مذہب بیزار نظام اب دوبارہ کبھی طاقت نہیں پکڑے گا۔

خلافت احمدیہ نے اس دوران مسلسل مختلف پہلوؤں سے دنیا کی راہنمائی کی۔ کمیونزم اور اشتراکیت کا عروج حضرت مصلح موعودؓ کے زمانے میں ہوا، اس لیے آپؓ نے اس بارے میں بہت تفصیل سے تجزیہ فرمایا۔ تاہم اس مضمون میں دیوار برلن کے حوالے سے اس نظام کے اختتام کے متعلق پہلو کا ذکر کیا گیا ہے۔ چونکہ یہ واقعات حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کے زمانے میں رونما ہوئے ، اس لیے ذیل میں آپؒ کے ہی حوالے سے خلافت احمدیہ کی راہنمائی کی چند مثالیں پیش کی گئی ہیں۔

سوویت نظام کے خاتمہ سے قبل اشتراکی نظام میں انفرادی آزادی پر بہت زیادہ قدغن لگائی گئی تھی۔ یہ بات حریت اور انسانی شرف کے خلاف ہے۔ چنانچہ یہ ظاہر تھا کہ اس سے بغاوت ہو گی۔ تاہم ایسے وقت میں جوش میں آ کر زیادتی کرنا بھی عام بات ہے۔ حضورؒ نے قرآنی تعلیم میں آزادی کے حوالے سے فرمایا:’’قرآن کریم پہلے نفسیاتی آزادی کا حکم دیتا ہے، پھر قناعت کا حکم دیتا ہے، پھر اُس کے بعد جو تیسرا حکم ہے قرآن کریم کا آزادی کا پروگرام یہ ہے کہ تم حقوق کی طلب کے بجائے دوسروں کے حقوق کی ادائیگی کی طرف توجہ کرو اور یہ تیسرا پہلو قوم کے رجحان کا بالکل رُخ بدل دیتا ہے۔ بہت سی دنیا میں جد وجہد اور بے چینیاں ایسی ہیں کہ ایک انسان سمجھتا ہے کہ میرے پاس نہیں ہے تو وہ دوسرے سے چھیننے کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے اور اس رجحان کے نتیجے میں کبھی بھی اعتدال پہ قائم نہیں رہتا وہ ہمیشہ اپنے حق سے بڑھ کر دوسرے کا حق چھیننے کی طرف ہاتھ بڑھانے کی کوشش کرتا ہے…

چنانچہ اس کے نتیجے میں ایک اور غلامی پیدا ہوتی ہے۔جس کے لیے اشتراکی حکومتیں مجبور ہیں۔ وہ جب بھی اپنے نظام میں نرمی پیدا کریں ذرا سی بھی۔جس طرح آج کل ہمارے روس کے پریذیڈنٹ گورباچوف صاحب کوشش کر رہے ہیں۔اُس کے نتیجے میں تھوڑی سی بھی وہ کوشش کرتے ہیں اور اچانک لوگوں کی توجہ حقوق کو لینے کی طرف اور پھر حقوق سے بڑھ کر لینے کی طرف شروع ہو جاتی ہے اور اس تضاد میں پھنس کر یہ لوگ بے اختیار ہو جاتے ہیں۔آزاد ی دینا بھی چاہیں تو دے نہیں سکتے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ آزادی دینے کا مطلب یہ ہے کہ حقوق کی تمنا آزاد کرو اور حقوق کی تمنا آزاد کرنے کا مطلب یہ ہے کہ پھر ساری حدیں قوم پھلانگ جائے۔ یہ تجربے روس کے بعض حصوں میں ابھی سے نہ صرف ناکام ہو چکے ہیں بلکہ خطرات کی گھنٹیاں بجا رہے ہیں اور آرمینیا وغیرہ کے علاقے میں جو فسادات ہوئے ہیں حال ہی میں وہ اسی گورباچوف کی آزادی پالیسی کے نتیجے میں ہوئے ہیں ۔‘‘(خطبہ جمعہ فرمودہ۲۰؍مئی ۱۹۸۸ءمطبوعہ خطبات طاہر جلد۷صفحہ۳۵۶تا۳۵۷)

جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے اس نظام کا ایک طبعی نتیجہ ایک مخصوص طبقہ کا طاقت میں آ کر مراعات حاصل کرنا اور پھر بددیانت ہونا بھی تھا۔ سوویت یونین میں بددیانتی کی طرف توجہ دلاتے ہوئے حضورؒ نے فرمایا:’’وہاں بعض صوبائی حکومتیں اتنی کرپٹ ہو چکی ہیں، اتنی بد دیانت ہو چکی ہیں کہ یہ سوال روس میں بالا سطح پر بار بار اٹھایا جا رہا ہے کہ قومی لڑائی کرنی پڑے گی ان بدیوں کے خلاف۔ایسے اقدامات کرنے پڑیں گے جس کے نتیجہ میں بڑے بڑے علاقے متاثر ہوں گے اور بعض اقدامات انہوں نے کئے بھی ہیں لیکن خود ماسکو بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ روس کے وہ حکام جو تجارت کے تعلقات کی خاطر بیرونی دنیا کا سفر کرتے ہیں ان سے جب لوگوں کے رابطے ہوتے ہیں بعض ان میں سے مجھے بھی باتیں بتاتے ہیں اور وہ یہی بتاتے ہیں کہ وہ رشوت مانگتے ہیں۔ جب تک ان کا حصہ مقرر نہ کیا جائے اس وقت تک وہ اپنے تجارتی روابط پر صاد نہیں کر تے ، اپنے دستخط نہیں کریں گے۔ باتیں حکومتوں نے طے بھی کر لی ہوتی ہیں کوئی بہانہ بنائیں گے اور ساتھ کہہ دیتے ہیں کہ بھئی تم سے ہمارا سودا نہیں ہو گا جب تک اتنے روپے سوئٹزرلینڈ میں یا فلاں جگہ جمع نہ کرا دو۔ تو مالی بے راہروی کا تو یہ حال ہے کہ بڑی بڑی اشتراکی حکومتیں بھی اپنے ارادوں میں مخلص ہونے کے باوجود ان سے لڑائی میں ناکام ہو چکی ہیں اور ہوتی چلی جا رہی ہیں ۔‘‘(خطبہ جمعہ فرمودہ ۲۱؍اکتوبر ۱۹۸۸ءمطبوعہ خطبات طاہر جلد ۷صفحہ۷۱۰)

جب سوویت یونین ٹوٹ گیا تو آپؒ نے دوبارہ اس بات کا ذکر فرمایا کہ اس کی شکست و ریخت کی ایک بڑی وجہ بددیانتی تھی:’’میں آپ کو یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ روس کے نظا م کی ناکامی میں صرف اشتراکی فلسفے کو دخل نہیں تھا روس کی طاقت اس لئے ٹوٹی ہے کہ اس نظام کی حفاظت کرنے والے دیانتدار نہیں رہے تھے۔(خطبہ جمعہ فرمودہ ۱۵؍جنوری ۱۹۹۳ءمطبوعہ خطبات طاہر جلد۱۲صفحہ۵۴)

روس کے دوبارہ عروج کے لیے دعا کی نصیحت

روس کی طاقت اور ہیبت کی وجہ سے مغربی ممالک ایک حد سے زیادہ بڑھ کر یک طرفہ اقدامات کرنے سے باز رہتے تھے۔ چنانچہ روس کی شکست و ریخت کے بعد ان کو بلا روک ٹوک ہر طرح کے ظلم کرنے کا موقع مل گیا۔ اسی لیے ۱۹۸۹ءکے بعد یکے بعد دیگرے عراق، بوسنیا، افغانستان، شام وغیرہ کا جو حشر ہوا، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اور یہ سلسلہ ابھی چل رہا ہے۔ اس لیےحضورؒ نے فرمایا:’’روس کے متعلق میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ یہ خیال دل سے مٹا دیں کہ کمزور ہو گیا اور ٹوٹ گیا، یہ دوبارہ ضرور ابھرے گا، روس کے اندر طاقت کی وہ اکائیاں موجود ہیں جن میں دہائیاں بننے کی صلاحیتیں موجود ہیں اس وقت وہ آپ کو اکائیاں دکھائی دے رہی ہیں لیکنPotentialsمیں یہی بات ہوا کرتی ہے کہPotentialاگر صحیح استعمال ہو تو ایک وقت کے بعد بڑھتا ہے پھولتا پھلتا ہے اور زیادہ ہو جایا کرتا ہے۔ روس میں طاقت کی بڑی بھاری اکائیاں موجود ہیں اور گزشتہ ۷۰سالہ اقتصادی غلطیوں کے نتیجہ میں روس کو جو نقصان پہنچا تھا یہ دائمی نقصان نہیں ہے روس نے لازماً ایک بڑی طاقت بن کر ابھرنا ہے خواہ تمام ریاستیں اکٹھی رہ کر ابھریں یا الگ الگ رہ کر، بعد ازاں دوبارہ ایک دوسرے کی طرف Gravitateکریں اور ایک دوسرے کی طرف جھکیں اور ایک بڑی وسیع پیمانے کی کنفیڈریشن بنا لیں لیکن جو بھی ہو گا اس علاقے کی تقدیر میں دیکھ رہا ہوں کہ آئندہ زمانوں میں اس نے دنیا میں ضرور اہم کردار ادا کرنے ہیں، اس لئے میں جماعت کو روس کی طرف توجہ دلاتا ہوں اس کے لئے بھی دعائیں کریں کیونکہ اس سے پہلے جب ساری دنیا میں روس کا ہوّا پھیلایا جا رہا تھا اور مغربی پراپیگنڈہ کے ذریعہ اس کو دنیا کی سب سے بڑی انسان دشمن طاقت کے طور پر دکھایا جاتا تھا تو اس وقت بھی یہ روس کا ہی فیض تھا کہ غریب ملکوں کو سانس لینے کی آزادی ملی ہوئی تھی چھوٹے ہو کر بڑوں کو للکارنے کی طاقت تھی۔یہ توفیق تھی کہ اگر ان پر ظلم ہوں تو دنیا میں علی الاعلان کہیں کہ ہم پر ظلم ہو رہا ہے اور روس کی حمایت کا ہوا تھا جو بڑی بڑی طاقتوں کو امریکہ کو اور یورپ کی طاقتوں کو اپنے مقام پر رکھتا تھا، ان کی مجال نہیں تھی کہ اپنے مقام سے ہٹ کر آگے بڑھ کر کسی پر مزید ظلم کر سکیں، ظلم کے ہاتھ جو چل پڑتے تھے اور وہ تیر جو کمانوں سے نکل چکتے تھے ان کو بھی واپس لے لیا جاتا تھا…پس یہ احسان بالارادہ تھا یا حالات کے تقاضوں کے نتیجہ میں خود بخود ظاہر ہو رہا تھا لیکن احسان احسان ہی ہے، دنیا کو ایک قسم کا امن نصیب تھا وہ امن دنیا سے اُٹھ گیا ہے۔ اس لئے اپنے اس محسن کو دعاؤں میں یاد رکھیں، دعائیں کریں کہ پھر خدا روس کو ایک عظیم طاقت بنا دے لیکن ایسی طاقت بنائے جو اپنے ملک کے باشندوں کے لئے بہتر ثابت ہو اور دنیا کے دوسرے ملکوں کے باشندوں کے لئے بھی بہتر ثابت ہو، یہ ایسی طاقت بن کر ابھرے جو اسلام کے اس اصول کو سینے سے لگا کر اُٹھے کہ ہم نے عالمی عدل قائم کرنا ہے اور مظلوموں کی حمایت کرنی ہے اور نیکیوں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرنی ہے۔(خطبہ جمعہ فرمودہ ۱۵؍جنوری ۱۹۹۳ءمطبوعہ خطبات طاہر جلد۱۲صفحہ۵۳تا۵۴)

بعض ممالک کی تباہی اور الٰہی تقدیر

روس کا عروج اور اس کا سوویت یونین میں تبدیل ہونا پھر اس کا زوال اور دوبارہ عروج، یہ سب کچھ ایک خاص ترتیب سے اور اللہ تعالیٰ کی تقدیر کے مطابق ہو رہا ہے۔ اس کی لمبی تاریخ ہے، ہر قدم کے متعلق قدیم سے پیشگوئیاں موجود ہیں جن کا ذکر کرنا اس جگہ طوالت کا باعث ہو گا۔ تاہم یہ ذکر مفید ہو گا کہ یہ سب کچھ ایک مقصد کے تحت اور ایک منصوبہ کے مطابق ہو رہا ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کو اللہ تعالیٰ نے ۱۹۷۷-۷۸ء میں اس بارے میں خبر دی تھی۔آپؒ فرماتے ہیں:’’جن دنوں میں ایران کا انقلاب آرہا تھا ابھی شروع ہوا تھا ۱۹۷۷-۷۸ء کی بات ہے۔ افغانستان میں تبدیلیاں پیدا ہوئیں، ایران میں بھی یہ ان دنوں کی بات ہے۔

مَیں نے رؤیا میں دیکھا کہ مَیں ایک جگہ نظارہ کر رہا ہوں لیکن سب کچھ دیکھنے کے باوجود گویا میں اس کا حصّہ نہیں ہوں، موجود بھی ہوں۔ دیکھ بھی رہا ہوں لیکن بطور نظارے کے مجھے یہ چیز دکھائی جا رہی ہے۔ ایک بڑے وسیع گول دائرے میں نوجوان کھڑے ہیں اور وہ باری باری عربی میں بہت ہی ترنم کے ساتھ ایک فقرہ کہتے ہیں اور پھر انگریزی میں گانے کے انداز میں اس کا ترجمہ بھی اسی طرح ترنم کے ساتھ پڑھتے ہیں اور باری باری اس طرح منظر ادلتا بدلتا ہے۔ پہلے عربی پھر انگریزی پھر عربی پھر انگریزی۔ اور وہ فقرہ جو اس وقت یوں لگتا ہے جیسے قرآن کریم کی آیت ہے۔ لا یعلم الا ھو۔لا یعلم الا ھو۔کوئی نہیں جانتا سوائے اس کے، کوئی نہیں جانتا سوائے اس کے اور یہ جو مضمون ہے یہ اس طرح مجھ پر کھلتا ہے کہ نظارے دکھائے جار ہے ہیں۔ میں نے جیسا کہ کہا ہے میں وہاں ہوں بھی اور نہیں بھی۔ ایک پہلو سے سامنے یہ نوجوان گا رہے ہیں اور پھر میری نظر پڑتی ہے عراق کی طرف، شام مجھے یاد ہے، عراق یاد ہے اور پھر ایران کی طرف، پھر افغانستان پھر پاکستان، مختلف ملک باری باری سامنے آتے ہیں اور مضمون دماغ میں یہ کھلتا ہے کہ یہاں جو کچھ ہو رہا ہے جو عجیب واقعات رونما ہو رہے ہیں جو انقلابات آ رہے ہیں ان کا آخری مقصد سوائے خدا کے کسی کو پتا نہیں ۔‘‘

پس مختلف ممالک میں جو تغیرات ہو رہے ہیں ان سب کے پیچھے اللہ تعالیٰ کی خاص تقدیر جاری ہے۔ عربی اور انگریزی میں فقرہ پڑھنے سے شاید یہ مراد ہے کہ یہ تغیرات بار بار مختلف مسلمان اور مغربی ممالک میں ہوں گے۔ مسلمان ممالک کا تو ذکر ہو چکا ہے، یورپی ممالک میں سوویت یونین کا ٹوٹنا سب سے بڑا تغیر تھا۔ پھر جرمنی کا اتحاد۔ مشرقی یورپی ممالک میں تغیرات۔ برطانیہ کا یورپی یونین سے نکلنا۔ یوکرائن کی جنگ۔ ’’لا یعلم الا ھو ‘‘ یعنی ان تغیرات کا حقیقی مقصد اللہ ہی جانتا ہے، اور یہ بھی کہ یہ تغیرات غیر متوقع ہوں گے اور ان کی صورت اور وقت کا اللہ کے سوا کسی کو علم نہیں۔ خدا جانے ابھی آئندہ کیا کیا ہونا باقی ہے۔ لیکن یہ سب اللہ تعالیٰ کی خاص تقدیر کے ماتحت ہو رہا ہے اور اسلام و احمدیت کے لیے انجام کار مفید اور بابرکت ہو گا۔ انشاء اللہ۔ و اللہ اعلم۔

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button