زلزلۃ الساعۃیعنی عالمی ایٹمی جنگ

اس کے نتائج اور انجام کے بارے میں سیدنا حضرت مسیح موعودؑ کی پیشگوئیاں جب ان الہاما ت کے ظہور کاوقت آئے گا تو اس وقت یہ تحریر مستعد دلوں کے لئے زیادتیٔ ایمان اور تسلّی اور یقین کاموجب ہوگی

[ذیل میں دیا جانے والا مضمون پہلی مرتبہ الفضل انٹرنیشنل (جنوری 1999ء)میں شائع کیا گیا۔ موجودہ حالات کے پیشِ نظر اس کی دوبارہ اشاعت کی جا رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نوعِ انسانی کو توفیق عطا فرمائے کہ وہ اپنے خالق حقیقی کو پہچانے، اس کے حق ادا کرے اور اس کی بتائی ہوئی تعلیمات پر عمل پیرا ہوتے ہوئےدنیا میں امن کا قیام کرے۔ (آمین)]

سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں:

’’…… نبیوں کا عظیم الشان کما ل یہ ہے کہ وہ خدا سے خبریں پاتے ہیں۔ چنانچہ قرآن شریف میں آیاہے فَلَا یُظۡہِرُ عَلٰی غَیۡبِہٖۤ اَحَدًا اِلَّا مَنِ ارۡتَضٰی مِنۡ رَّسُوۡلٍ (الجن: 27تا28) یعنی خدا تعالیٰ کے غیب کی باتیں کسی دوسرے پر ظاہر نہیں ہوتیں ہاں اپنے نبیوں میں سے جس کو وہ پسند کرے۔ جو لوگ نبوت کے کمالات سے حصہ لیتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو قبل از وقت آنے والے واقعات کی اطلاع دیتاہے۔ اور یہ بہت بڑا عظیم الشان نشان خدا کے مامور اور مُرسَلوں کاہوتا ہے۔ اس سے بڑھ کر اَور کوئی معجزہ نہیں۔

پیشگوئی بہت بڑا معجزہ ہے۔ تمام کتب سابقہ اور قرآن کریم سے یہ بات واضح طور پر ثابت ہے کہ پیشگوئی سے بڑھ کر کوئی نشان نہیں ہوتا ……۔

قطع نظر اس بات کے کہ رسول اللہﷺ کی پیشگوئیوں سے قرآن شریف بھرا پڑا ہے اور قیامت تک اور اس کے بعد تک کی پیشگوئیاں اس میں موجود ہیں سب سے بڑھ کر ثبوت رسول اللہﷺ کی پیشگوئیوں کا یہ ہے کہ ہر زمانہ میں ان پیشگوئیوں کا زندہ ثبوت دینے والا موجود ہوتا ہے۔ چنانچہ اس زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے مجھے بطور نشان کھڑا کیااور پیشگوئیوں کاایک عظیم الشان نشان مجھے دیا۔ تا میں ان لوگوں کو جو حقائق سے بے بہرہ اور معرفت الٰہی سے بے نصیب ہیں روز روشن کی طرح دکھا دوں کہ ہمارے پیغمبر خداﷺ کے معجزات کیسے مستقل اور دائمی ہیں۔… پس جو نشانات خوارق عادات مجھے دیے گئے ہیں، جو پیشگوئیوں کا عظیم الشان نشان مجھے عطا ہوا ہے یہ دراصل رسول اللہﷺ کے زندہ معجزات ہیں……۔‘‘(ملفوظات جلد اول مطبوعہ لندن صفحہ 412-414)

حضور علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے علم پا کر جو پیشگوئیاں فرمائی ہیں انہیں سمجھنے کے لئے مذکورہ بالا ارشاد میں رہنما اصول بیان ہیں۔ آپؑ کی ہزارہا ایسی کھلی کھلی پیشگوئیاں ہیں جو نہایت صفائی سے پوری ہو چکی ہیں۔ بہت سی پیشگوئیاں ہیں جو آج اس دور میں پورا ہو کر آپ ؑکی سچائی اور آنحضرتﷺ کی صداقت کی عظمت کی گواہی دے رہی ہیں۔ اور بہت سی ایسی غیب کی خبریں ہیں جو آئندہ زمانوں میں مختلف ادوار میں اپنے وقت پر پوری ہو کر ان الٰہی وعدوں کی حقانیت کو ثابت کرتی چلی جائیںگی۔

مکرم و محترم سید میر مسعود احمد صاحب نے ذیل کے مضمون میں عالمگیر ایٹمی تباہیوں اور ان کے نتائج سے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیوں کواکٹھا کر کے مرتب کیا ہے۔ ان میں سخت انذاری پیشگوئیاں بھی ہیں اور تبشیری بھی۔ ان میں خدا کی وعیدیں یاد دلا کر نہایت پُردَرد نصائح بھی ہیں اور اپنے متبعین کو ان کی ذمہ داریوں کا احساس بھی دلایاگیاہے۔

ہمیں امید ہے کہ قارئین اس مضمون کا گہرے غور اور گداز دل کے ساتھ مطالعہ کریں گے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو دنیا و آخرت کی بلاؤں سے محفوظ رکھے، اپنی رضا کی راہوں پر ثباتِ قدم سے آگے بڑھنے کی توفیق بخشے اور عالمگیر غلبۂ اسلام کے سلسلہ میں ہم اپنی ذمہ داریوں کوکما حقّہٗ ادا کرنے والے ہوں اور اس کے فضلوں کے مبشر وعدے ہم اپنی آنکھوں سے پورا ہوتے دیکھیں۔

(مدیر)

زلزلۃ الساعۃ یعنی ایٹمی جنگ کے بارہ میں پیشگوئی

سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام8؍اپریل 1905ء کے اشتہار ’الانذار‘ میں تحریر فرماتے ہیں :

’’(غور سے پڑھو کہ یہ خدائے تعالیٰ کی وحی ہے )

آج رات تین بجے کے قریب خدا تعالیٰ کی پاک وحی مجھ پر نازل ہوئی جو ذیل میں لکھی جاتی ہے :

تازہ نشان۔ تازہ نشان کا دھکہ۔ زلزلۃ الساعۃ۔ قوا انفسکم۔ ان اللّٰہ مع الابرار۔ دَنیٰ منک الفضلُ۔ جاء الحق و زھق الباطل

ترجمہ مع شرح۔ یعنی خدا ایک تازہ نشان دکھائے گا۔ مخلوق کو اس نشان کا ایک دھکہ لگے گا۔ وہ قیامت کا زلزلہ ہوگا۔(مجھے علم نہیں دیا گیا کہ زلزلہ سے مراد زلزلہ ہے یا کوئی اور شدید آفت ہے جو دنیا پر آئے گی جس کو قیامت کہہ سکیں گے اور مجھے علم نہیں دیا گیا کہ ایسا حادثہ کب آئے گا…… بہرحال وہ حادثہ زلزلہ ہو یا کچھ اور ہو۔ قریب ہو یا بعید ہو پہلے سے بہت خطرناک ہے۔ سخت خطرناک ہے…… جو آنے والا حادثہ ہے وہ بہت بڑھ کر ہے۔

خدا تعالیٰ لوگوں پر رحم کرے۔ ان کو تقویٰ اور نیک اعمال کا خیال آ جاوے۔ … خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ نیکی کر کے اپنے تئیں بچا لو۔ قبل اس کے جو وہ ہولناک دن آوے جو ایک دم میں تباہ کر دے گا۔ اور فرماتاہے کہ خدا ان کے ساتھ ہے جو نیکی کرتے ہیں اور بدی سے بچتے ہیں اور پھر اس نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ میرا فضل تیرے نزدیک آ گیا۔ یعنی وہ وقت آ گیا کہ تُوکامل طور پر شناخت کیاجاوے۔ حق آ گیا اور باطل بھاگ گیا۔

حاصل مطلب یہ ہے کہ جو کچھ نشان ظاہر ہوا اور ہوگا اس سے یہ غرض ہے کہ لوگ بدی سے باز آویں اور اس خدا کے فرستادہ کو جو ان کے درمیان ہے شناخت کر لیں۔ پس اے عزیزو !جلد ہر ایک بدی سے پرہیز کرو کہ پکڑے جانے کا دن نزدیک ہے۔ ہر ایک جو شرک کو نہیں چھوڑتاوہ پکڑا جائے گا۔ ہر ایک جو فسق وفجور میں مبتلا ہے وہ پکڑا جاوے گا۔ ہر ایک جودنیا پرستی میں حد سے گزر گیا ہے اور دنیا کے غموں میں مبتلاہے وہ پکڑا جائے گا۔ ہر ایک جو خدا کے وجود سے منکر ہے وہ پکڑا جائے گا۔ ہر ایک جو خدا کے مقدس نبیوں اور رسولوں اورمُرسَلوں کو بدزبانی سے یاد کرتاہے اور باز نہیں آتا و ہ پکڑا جائے گا۔

دیکھو! آج میں نے بتلا دیا۔ زمین بھی سنتی ہے اور آسمان بھی۔ کہ ہر ایک جو راستی کو چھوڑ کر شرارتوں پرآمادہ ہوگا اور ہر ایک جو زمین کو اپنی بدیوںسے ناپاک کرے گاوہ پکڑاجائے گا۔خدا فرماتا ہے کہ قریب ہے جو میرا قہر زمین پر اترے کیونکہ زمین پاپ اور گناہ سے بھر گئی ہے۔پس اٹھو اور ہوشیار ہوجائو کہ وہ آخری وقت قریب ہے جس کی پہلے نبیوں نے بھی خبر دی تھی۔ مجھے اس ذات کی قسم ہےجس نے مجھے بھیجا کہ یہ سب باتیں اُس کی طرف سے ہیں، میری طرف سے نہیںہیں۔ کاش یہ باتیں نیک ظنی سے دیکھی جاویں۔ کاش میں ان کی نظر میں کاذب نہ ٹھہرتا تا دنیا ہلاکت سے بچ جاتی۔ یہ میری تحریر معمولی تحریر نہیں۔ دلی ہمدرد ی سے بھرے ہوئے نعرے ہیں۔ اگر اپنے اندر تبدیلی کرو گے اور ہر ایک بدی سے اپنے تئیں بچا لو گے تو بچ جائوگے۔ کیونکہ خد ا حلیم ہے جیساکہ وہ قہّار بھی ہے۔ اور تم سے اگرایک حصہ بھی اصلاح پذیر ہوگا تب بھی رحم کیا جائے گا۔ ورنہ وہ دن آتاہے کہ انسانوں کو دیوانہ کر دے گا۔

نادان بدقسمت کہے گا کہ یہ باتیں جھوٹ ہیں۔ ہائے وہ کیوں اس قدر سوتا ہے۔ آفتاب تو نکلنے کو ہے…… انسان کا کیاحرج ہے کہ اگر وہ فسق و فجور کو چھوڑ دے۔ کون سا اُس کا اِس میں نقصان ہے اگر وہ مخلوق پرستی نہ کرے۔ آگ لگ چکی ہے اٹھو اور اس آگ کو اپنے آنسوئوں سے بجھائو… …اس قدر توبہ استغفار کرو تو گویا مر ہی جائو۔ تا وہ حلیم خدا تم پر رحم کرے۔ آمین۔والسلام علی من اتبع الھدیٰ۔

راقم خاکسار مرزا غلام احمد قادیانی۔۸؍اپریل ۱۹۰۵ء‘‘

(مجموعہ اشتہارات جلد سوم صفحہ522تا524)

٭…٭…٭

کرو توبہ کہ تا ہو جائے رحمت

دکھائو جلد تر صدق و انابت

کھڑی ہے سر پہ ایسی ایک ساعت

کہ یاد آ جائے گی جس سے قیامت

مجھے یہ بات مولیٰ نے بتا دی

فسبحان الذی اخزی الاعادی

(اشعار سیدنا حضرت مسیح موعودعلیہ السلام مطبوعہ نومبر 1901ء)

٭…٭…٭

’’آئندہ زلزلہ کی نسبت جو پیشگوئی کی گئی ہے وہ کوئی معمولی پیشگوئی نہیں… مجھے خدا تعالیٰ خبر دیتاہے کہ و ہ آفت جس کا نام اس نے زلزلہ رکھا ہے نمونۂ قیامت ہوگا اور پہلے سے بڑھ کر اس کا ظہور ہوگا… اگر چہ بظاہر لفظ زلزلہ کا آیا ہے مگر ممکن ہے کہ وہ کوئی اور آفت ہو جو زلزلہ کا رنگ اپنے اندر رکھتی ہو۔ مگر نہایت شدید آفت ہو جو پہلے سے بھی زیادہ تباہی ڈالنے والی ہو۔ جس کا سخت اثر مکانات پر بھی پڑے ‘‘

(براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد 21صفحہ 253تا254)

٭…٭…٭

’’کیا تم خیال کرتے ہوکہ تم… امن میں رہو گے یاتم اپنی تدبیروں سے اپنے تئیں بچا سکتے ہو ؟ ہرگز نہیں۔ انسانی کاموں کا اُس دن خاتمہ ہو گا …… اے یورپ توبھی امن میں نہیں اور اے ایشیا تو بھی محفوظ نہیں اور اے جزائر کے رہنے والو کوئی مصنوعی خدا تمہاری مدد نہیں کریگا۔ میں شہروں کوگرتے دیکھتاہوں اور آبادیوں کو ویران پاتاہوں۔وہ واحد یگانہ ایک مدّت تک خاموش رہا اس کی آنکھوں کے سامنے مکروہ کام کئے گئے اور وہ چپ رہا۔ مگر اب وہ ہیبت کے ساتھ اپنا چہرہ دکھلائے گا۔ جس کے کان سننے کے ہوں سنے۔‘‘

(حقیقۃ الوحی صفحہ 257مطبوعہ1906ءروحانی خزائن جلد 22فحہ 268-269)

نظم سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام منقول از نوٹ بک حضور اقدس ؑ بحوالہ درّثمین

یہ نشانِ زلزلہ جو ہو چکا منگل کے دن

یہ تو اک لقمہ تھا جو تم کوکھِلایاہے نہار

اک ضیافت ہے بڑی اے غافلو کچھ دن کے بعد

جس کی دیتاہے خبر فرقاں میں رحماں بار بار

فاسقوںاور ظالموں پر وہ گھڑی دشوار ہے

جس سے قیمہ بن کے پھر قیمہ کا دیکھیںگے بگھار

خوب کھل جائے گا لوگوں پر کہ دیں کس کاہے دیں

پاک کر دینے کا تیرتھ کعبہ ہے یا ہَردَوار

وحیٔ حق کے ظاہری لفظوں میں ہے وہ زلزلہ

لیک ممکن ہے کہ ہو کچھ اَور ہی قِسموں کی مار

کچھ ہی ہو پر وہ نہیں رکھتا زمانہ میں نظیر

فوقِ عادت ہے کہ سمجھا جائے گا روزِ شمار

یہ جو طاعوں ملک میں ہے اِس کو کچھ نسبت نہیں

اُس بلا سے۔ وہ تو ہے اِک حشر کا نقش و نگار

وقت ہے توبہ کرو جلدی۔ مگر کچھ رحم ہو

سست کیوں بیٹھے ہو جیسے کوئی پی کر کُوکنار

تم نہیں لوہے کے کیوں ڈرتے نہیں اُس وقت سے

جس سے پڑ جائے گی اِک دم میں پہاڑوں میں بُغار

وہ تباہی آئے گی شہروں پہ اور دیہات پر

جس کی دنیا میں نہیں ہے مثل کوئی زینہار

ایک دم میں غمکدہ ہو جائیں گے عشرت کدہ

شادیاں جو کرتے تھے بیٹھیں گے ہو کر سوگوار

وہ جو تھے اونچے محل اور وہ جو تھے قصرِ بریں

پست ہو جائیں گے جیسے پست ہو اِک جائے غار

ایک ہی گردش سے گھر ہوجائیں گے مٹی کا ڈھیر

جس قدر جانیں تلف ہونگی نہیں اُن کاشمار

پر خدا کا رحم ہے کوئی بھی اُس سے ڈر نہیں

ان کو جو جھکتے ہیں اس دَرگہ پہ ہو کر خاکسار

یہ خوشی کی بات ہے سب کام اُس کے ہاتھ ہے

وہ جو ہے دھیما غضب میں اور ہے آمُرزگار

کب یہ ہوگا یہ خدا کو علم ہے پر اس قدر

دی خبر مجھ کو کہ وہ دن ہوں گے ایّامِ بہار

’’پھر بہار آئی خدا کی بات پھر پوری ہوئی‘‘

یہ خدا کی وحی ہے اب سوچ لو اے ہوشیار

یاد کر فرقاں سے لفظ زُلزِلَتْ زِلْزَالَھَا

ایک دن ہوگا وہی جو غیب سے پایا قرار

سخت ماتم کے وہ دن ہوں گے مصیبت کی گھڑی

لیک وہ دن ہونگے نیکوں کے لئے شیریں ثمار

آگ ہے پر آگ سے وہ سب بچائے جائیں گے

جو کہ رکھتے ہیں خدائے ذُوالعجائب سے پیار

انبیاء سے بغض بھی اے غافلو اچھا نہیں

دُور تَر ہٹ جائو اس سے ہے یہ شیروں کی کچھار

کیوں نہیں ڈرتے خدا سے کیسے دل اندھے ہوئے

بے خدا ہرگز نہیں بدقسمتو! کوئی سَہَار

یہ نشانِ آخری ہے کام کر جائے مگر

ورنہ اب باقی نہیں ہے تم میں امید سُدھار

آسماں پر ان دنوں قہرِخدا کا جوش ہے

کیا نہیں تم میں سے کوئی بھی رشید و ہونہار

اس نشاں کے بعد ایماں قابلِ عزّت نہیں

ایسا جامہ ہے کہ نوپوشوں کا جیسے ہو اُتار

اس میں کیا خوبی کہ پڑ کر آگ میں پھر صاف ہوں

خوش نصیبی ہو اگر اب سے کرو دل کی سنوار

اب تو نرمی کے گئے دن اب خدائے خشمگیں

کام وہ دکھلائے گا جیسے ہتھوڑے سے لُہار

اس گھڑی شیطاں بھی ہوگا سجدہ کرنے کو کھڑا

دل میں یہ رکھ کر کہ حکم سجدہ ہو پھر ایک بار

بے خدا اس وقت دنیا میں کوئی مأمن نہیں

یا اگر ممکن ہو اب سے سوچ لو راہِ فرار

تم سے غائب ہے مگر میں دیکھتا ہوں ہر گھڑی

پھرتا ہے آنکھوں کے آگے وہ زماں وہ روزگار

گر کرو توبہ تو اَب بھی خیر ہے کچھ غَم نہیں

تم تو خود بنتے ہو قہرِ ذُوالمِنَنْ کے خواستگار

وہ خدا حِلم و تفضل میں نہیں رکھتا نظیر

کیوں پھرے جاتے ہو اس کے حکم سے دیوانہ وار

میں نے روتے روتے سجدہ گاہ بھی ترَ کر دیا

پر نہیں اِن خشک دل لوگوں کو خوفِ کردگار

یا الٰہی اک نشاں اپنے کرم سے پھر دکھا

گردنیں جھک جائیں جس سے اور مکذّب ہوں خوار

اک کرشمہ سے دکھا اپنی وہ عظمت اے قدیر!

جس سے دیکھے تیرے چہرہ کو ہر اک غفلت شِعار

تیری طاقت سے جو منکر ہیں انہیں اب کچھ دکھا

پھر بدل دے گلشن و گلزار سے یہ دشتِ خار

زور سے جھٹکے اگر کھاوے زمیں کچھ غم نہیں

پر کسی ڈھب سے تزلزل سے ہو مِلّت رستگار

دین و تقویٰ گم ہوا جاتا ہے یارب رحم کر

بے بسی سے ہم پڑے ہیں۔کیا کریں۔ کیا اِختیار

میرے آنسو اس غم دلسوز سے رُکتے نہیں

دیں کا گھر ویراں ہے اور دنیا کے ہیں عالی مَنار

دیں تو اِک ناچیز ہے دنیا ہے جو کچھ چیز ہے

آنکھ میں ان کی جو رکھتے ہیں زر و عِزّو وقار

جس طرف دیکھیں وہیں اک دَہریت کاجوش ہے

دیں سے ٹھٹھّا اور نمازوں روزوں سے رکھتے ہیں عار

مال و دولت سے یہ زہریلی بلا پیدا ہوئی

موجب نخوت ہوئی رفعت کہ تھی اک زہرِ مار

ہے بلندی شانِ ایزد گر بشر ہووے بُلند

فخر کی کچھ جا نہیں وہ ہے مَتاعِ مُستعار

ایسے مغروروں کی کثرت نے کیا دِیں کو تباہ

ہے یہی غم میرے دل میں جس سے ہُوں میں دلفگار

اے مرے پیارے مجھے اس سَیلِ غم سے کر رِہا

ورنہ ہوجائے گی جاں اس درد سے تجھ پر نثار

(درمکنون حصہ دوم صفحہ 2تا 21۔شائع کردہ احمدیہ بک ایجنسی قادیان4؍اپریل1917ء۔درثمین)

(جاری ہے)

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Check Also
Close
Back to top button
Close