متفرق مضامین

مجلسِ مشاورت کا قیام اور پہلی مجلسِ مشاورت کی رُوداد

(’م م محمود‘)

حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کاایک عظیم الشان کارنامہ

’’اس مجلس کی ممبری بہت بڑی عزت ہے اور اتنی بڑی عزت ہے کہ اگر بڑے سے بڑے بادشاہ کو ملتی تو وہ بھی اِس پر فخر کرتا۔ اور وہ وقت آئے گا جب بادشاہ اِس پر فخر کریں گے‘‘

خداتعالیٰ نے حضرت اقدس مسیحِ موعود علیہ السلام کی دعاؤں کو شرفِ قبولیت بخشتے ہوئے جس عظیم الشان نشان کی خوشخبری دی،اس خدائی عطا فرمودہ خوشخبری کا اعلان آپؑ نے 20؍فروری 1886ء کو ایک اشتہار کے ذریعہ فرمایا۔ اس پیش خبری میں علاوہ دیگر علامات کےخداتعالیٰ نے آنے والےموعود فرزند کے متعلق ایک نشان یہ بیان فرمایا کہ’’اس کے ساتھ فضل ہے جو اس کے آنے کے ساتھ آئے گا‘‘۔چنانچہ خداتعالیٰ کے الہام کے عین مطابق سیدناحضرت مصلح موعود خلیفۃ المسیح الثانیؓ کی ولادت سے جن افضالِ الٰہی کاآغاز ایک ابر کی صورت ہوا وہ فضل اور عنایات آپؓ کے دَور خلافت میں خداتعالیٰ نے تیز بارش کی مانند نازل فرمائے۔ان فضلوں میں ایک فضل مجلسِ مشاورت کا قیام بھی ہے۔

یوں تو قرآنی حکم

شَاوِرْھُمْ فِیْ الْاَمْرِ

اور آنحضرتﷺ کی سنت کے مطابق سیدنا حضرت اقدس مسیحِ موعودؑ کے دَورمیں ہی شوریٰ کا آغاز ہو چکا تھا۔چنانچہ حضرت مسیحِ موعودؑ نےاپنی تصنیف’’آسمانی فیصلہ‘‘میں مجوزہ انجمن کی تشکیل پر غور کرنے کے لیے جماعت کے دوستوں کو ہدایت فرمائی کہ وہ27؍دسمبر 1891ء کوقادیان پہنچ جائیں۔لہٰذا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ارشاد کے مطابق احبابِ جماعت 27؍دسمبر کو مسجد اقصیٰ قادیان میں جمع ہوئے۔اس موقع پر حضرت مولانا عبدالکریم صاحب سیالکوٹیؓ نے حضورؑ کی تازہ تصنیف’’نشانِ آسمانی‘‘ پڑھ کر سنائی اور بعدازاں یہ تجویز رکھی گئی کہ مجوزہ انجمن کے ممبران کون سے افراد ہوں۔اسی طرح اگلے سال بھی جلسہ سالانہ کے موقع پر دوسرے روز28؍دسمبر1892ء کو حضرت اقدس مسیح موعودؑ کی بابرکت موجودگی میں یورپ اور امریکہ میں تبلیغِ اسلام کے لیے ایک مجلسِ شوریٰ منعقد کی گئی۔جس میں یہ طے پایا کہ ایک رسالہ بغرضِ تبلیغِ اسلام یورپ اور امریکہ میں مفت تقسیم کیا جائے۔اسی طرح یہ تجاویز بھی پیش ہوئیں کہ قادیان میں سلسلہ کا ایک اپنا مطبع ہو نیز اشاعتِ اسلام کے لیے ایک اخبار جاری کیا جائے۔اسی طرح اس رائے پر بھی غور کیا گیا کہ مولانا سیدمحمد احسن صاحب امروہی سلسلہ کے واعظ مقرر ہوں۔اس مشاورت کا مختصر احوال حضرت اقدس مسیحِ موعودؑ نے اپنی تصنیف آئینہ کمالاتِ اسلام میں جلسہ کے ذکر میں درج فرمایا۔(آئینہ کمالاتِ اسلام،روحانی خزائن جلد5صفحہ615)

اسی طرح آپؑ کے بعد حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ بھی سلسلہ کی ضروریات اور اہم امور کی خاطر گاہے بگاہےاحبابِ جماعت سے مشاورت فرماتے رہے۔جس کی ایک مثال 1909ءمیں فتنہ انکارِ خلافت کے سدِ باب کی خاطر 31؍جنوری کو قادیان میں آپؓ نےدو اڑھائی سو نمائندے طلب فرمائے اور مسجد مبارک کی چھت پر کھڑے ہو کرخلافت کی عظمت و اہمیت اور مقام و مرتبہ سے متعلق ایک جلالی تقریرفرمائی۔ بعد از خطاب آپؓ نے خواجہ کمال الدین صاحب،مولوی محمد علی صاحب اور شیخ یعقوب علی صاحب سے دوبارہ بیعت لی۔(تاریخ احمدیت جلد4صفحہ258تا262)

حضرت مصلح موعودؓ کے ذریعہ باقاعدہ مستقل مجلسِ شوریٰ کا آغاز

سیدنا حضرت مصلح موعودؓ نے باقاعدہ مستقل صورت میں آج سے ایک سو سال قبل 1922ء میں مجلسِ شوریٰ کی بنیاد رکھی۔اس مجلسِ مشاورت کی اہمیت سے متعلق حضورؓ نے ایک مجلسِ شوریٰ کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے فرمایا:’’ہماری جماعت کو سمجھنا چاہئے کہ ہماری مجلس شوریٰ کی عزّت ان بنچوں اور کرسیوں کی وجہ سے نہیں ہے جو یہاں بچھی ہیں بلکہ عزت اُس مقام کی وجہ سے ہے جو خداتعالیٰ کے نزدیک اسے حاصل ہے۔ بھلا کوئی کہہ سکتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی عزت اُس لباس کی وجہ سے تھی جو آپ پہنتے تھے۔ آپؐ کی عزت اُس مرتبہ کی وجہ سے تھی جو خداتعالیٰ نے آپؐ کو دیا تھا۔اِسی طرح آج بے شک ہماری یہ مجلس شوریٰ دُنیا میں کوئی عزت نہیں رکھتی مگر وقت آئے گا اور ضرور آئے گا جب دُنیا کی بڑی سے بڑی پارلیمنٹوں کے ممبروں کو وہ درجہ حاصل نہ ہو گا جو اِس کی ممبری کی وجہ سے حاصل ہو گا کیونکہ اِس کے ماتحت ساری دُنیا کی پارلیمنٹیں آئیں گی۔پس اس مجلس کی ممبری بہت بڑی عزت ہے اور اتنی بڑی عزت ہے کہ اگر بڑے سے بڑے بادشاہ کو ملتی تو وہ بھی اِس پر فخر کرتا۔ اور وہ وقت آئے گا جب بادشاہ اِس پر فخر کریں گے پس ضرورت ہے کہ جماعت اس کی اہمیت کو اور زیادہ محسوس کرے۔‘‘(خطاب برموقع مجلسِ شوریٰ 6؍اپریل 1928ء،خطاباتِ شوریٰ جلد اول صفحہ275تا276)

مجلسِ شوریٰ کے انعقاد سے متعلق اعلان

پہلی مجلسِ مشاورت 16،15؍اپریل1922ء کو تعلیم الاسلام ہائی اسکول کے ہال میں منعقد ہوئی۔اس مجلسِ مشاورت کے انعقاد کی اطلاع کے لیے الفضل میں پہلی مرتبہ اعلان 13؍فروری 1922ء کوحضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ(قائمقام ناظرِ اعلیٰ صدر انجمن احمدیہ) کی جانب سے شائع ہوا۔یہ اعلان الفضل کے صفحہ اول پر ’’اعلانِ ضروری، ایسٹر کی تعطیلات میں احمدیہ کانفرنس‘‘کے عنوان سے شائع ہوا۔اس عنوان کے تحت یہ اعلان کیا گیا:’’حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کا منشاء ہے کہ اس سال ایسٹر کی تعطیلات میں جو غالباً مارچ کے آخر میں ہوںگی۔قادیان میں احمدیہ کانفرنس کا انعقاد کیا جائے۔سو اس اعلان کے ذریعہ تمام جماعت ہائے سلسلہ احمدیہ کو مطلع کیا جاتا ہے کہ ان شاءاللہ ایامِ ایسٹر میں احمدیہ کانفرنس منعقد ہو گی۔ہر جماعت کی طرف سے دودو نمائندے ان ایام میں قادیان پہنچ جاویں۔یہ ضروری نہیں کہ ہر جماعت کے سیکرٹری صاحب اور پریذیڈنٹ صاحب تشریف لاویں۔بلکہ اگر وہ نہ آسکیں تو جن دو اصحاب کو لوکل جماعت منتخب کرے وہ دو دن کے لئے قادیان آجاویں۔ان نمائندوں کے علاوہ جن دوسرے اصحاب کی شمولیت مناسب سمجھی جائے گی اُن کو بذریعہ خاص چٹھی بلوایا جائے گا۔کانفرنس کا اجلاس صرف دو دن ہو گا۔تاریخ ہائے معینہ اور ایجنڈے یعنی امورمشورہ طلب سے بعد میں اطلاع دی جائے گی۔تمام جماعتیں اپنے اپنے نمائندوں کا انتخاب کر کے دفتر ھٰذا میں اطلاع بھجوا دیں۔‘‘(الفضل13؍فروری 1922ء صفحہ1)

اس شوریٰ سے متعلق دوسری مرتبہ اعلان 3؍ اپریل 1922ء کو الفضل میں ’’احمدیہ کانفرنس کے متعلق ضروری اعلان‘‘کے عنوان سے حضرت مولانا شیر علی صاحبؓ ناظرِ اعلیٰ صدر انجمن احمدیہ کی جانب سے مجلسِ شوریٰ کی معین تواریخ کے ساتھ شائع ہوا۔اس اعلان میں ذکرکیا گیا کہ’’جیسا کہ پہلے اعلان ہو چکا ہے احمدیہ کانفرنس کا اجلاس تعطیلاتِ ایسٹر کے دوران میں یعنی16،15 اپریل کو ان شاءاللہ تعالیٰ قادیان میں ہو گا۔پہلے یہ اعلان کیا گیا تھا کہ ہر ایک انجمن کی طرف سے دودو نمائندے احمدیہ کانفرنس میں شریک ہو نے کے لیے منتخب کیےجاویں مگر اب اس تجویز میں ترمیم کی گئی ہے۔اب ہر ایک انجمن کی طرف سے دودو نمائندے نہیں آئیں گے بلکہ نئے انتظام کی رُو سے قریب قریب کی انجمنوں کے حلقے مقرر کیے گئے ہیں۔اور ہر ایک حلقہ اپنی طرف سے ایک نمائندہ منتخب کر کے احمدیہ کانفرنس میں شریک ہونے کے لیے بھیجے گا۔سوائے چند خاص حلقوں کے جہاں سے بجائے ایک نمائندے کے دو نمائندے آنے چاہئیں۔‘‘اس کے بعد57حلقوں اور ان کے تحت آنے والی جماعتوں کے اسماء درج کیے گئے اور نمائندوں کے انتخاب سے متعلق ضروری ہدایات دی گئیں۔10؍اپریل1922ء کو یہ اعلان ایک مرتبہ پھر شائع ہوا۔

پہلی مجلسِ شوریٰ کی کارروائی

15؍اپریل بروز ہفتہ صبح ساڑھےنو بجے کارروائی کا آغاز ہوا۔ اس مجلسِ مشاورت میں بیرونی جماعتوں سے 52 جبکہ قادیان سے 30نمائندگان شامل ہوئے۔جیسا کہ ابتدا میں ذکر کیا گیا کہ یہ مجلسِ مشاورت تعلیم الاسلام ہائی اسکول کے ہال میں منعقد ہوئی۔نمائندگان اور وزیٹرز(زائرین) کا داخلہ بذریعہ ٹکٹ تھا۔وزیٹرز کو ہال کی بالائی منزل کی گیلریوں میں بٹھایا گیا جبکہ نمائندگان کی نشستوں کا انتظام ہال میں کیا گیا تھا۔ہال کی شمالی جانب حضرت مصلح موعودؓ کی میزاور کرسی تھی اور حضورؓ کے سامنے نصف دائرہ کی شکل میں نمائندگان کرسیوں پر بیٹھے تھے۔ حضرت مصلح موعودؓ نے اڑھائی گھنٹے کا افتتاحی خطاب فرمایا جس میں آپؓ نے مجلسِ مشاورت کی ضرورت واہمیت،آنحضرتﷺ کا اس بارے میں طریق، فوائدِمشاورت اور مشورہ دینے سے متعلق تفصیلی ہدایات بیان فرمائیں۔

بعد ازاں صدر انجمن احمدیہ کے صیغہ جات کے متعلق تجاویز مرتب کرنے کے لیے8 سب کمیٹیاں مقرر کی گئیں۔سب کمیٹیوں کے ممبران نمائندگان نے خود تجویز کیے۔کمیٹی کا صدر صدر انجمن احمدیہ کے متعلقہ صیغہ کا ناظر جبکہ سیکرٹری نمائندگانِ شوریٰ میں سے مقرر کیا گیا۔سب کمیٹیوں کے اجلاسات شام چار بجے کے بعد اسکول کے مختلف کمروں میں منعقد ہوئے۔بعض سب کمیٹیوں کے اجلاسات سوائے وقفۂ نماز کے رات بارہ بجے تک جاری رہے۔مندرجہ ذیل صیغہ جات کے لیے سب کمیٹیاں تشکیل دی گئیں۔

1۔مال2۔امورِعامہ3۔تالیف واشاعت4۔تعلیم و تربیت5۔مدرسہ احمدیہ6۔ہائی اسکول7۔لنگر خانہ و جلسہ سالانہ8۔بہشتی مقبرہ

دوسرے روز صبح 7بجے اجلاس کاا ٓغاز ہوا۔

سب کمیٹیوں کی رپورٹ سے قبل حضورؓ نے دوا مور کی بابت رائے لی۔

الف:امراء کا تقرر مفید ہے یا نہیں

ب:اس کے لیے مرکز سے امراء مقرر کیے جائیں یا جماعتیں خود منتخب کریں۔

دوسرے روز کے آغاز میں حضورؓ نے مختصر خطاب فرمایا جس میں گذشتہ روز کے مفصّل خطاب کے بعض امور سے متعلق ذکر فرمایا۔ازاں بعد امرائے جماعت مقرر کرنے کے بارے میں مشورہ طلب فرمایا اور پھر امارت کے فرائض نیزمقامِ خلافت اور صدرانجمن احمدیہ کے اختیارات سے متعلق اصولی ہدایات بیان فرمائیں۔اسی طرح آئندہ مجلسِ شوریٰ کے انعقاد کے متعلق مشورہ فرمایا کہ کن ایام میں احباب بآسانی شامل ہو سکتے ہیں۔بعد ازاں سب کمیٹیوں کے صدران نے اپنی اپنی سب کمیٹیوں کی رپورٹ پیش کی۔اس بات کے لیے کہ کس صیغہ کی سب کمیٹی کی تجاویز پہلے مشورے کے لیے پیش ہوں،قرعہ اندازی کی گئی۔ حضورؓ نے دوسرے روز معاونت کے لیے حضرت چودھری نصراللہ خان صاحبؓ کو مقرر فرمایا۔

مجلسِ مشاورت میں ایک ریزولیوشن بٹالہ سے قادیان تک سڑک پختہ بنانے سے متعلق ڈسٹرکٹ بورڈ کو توجہ دلانے کے لیے بھی پیش ہوا۔

دوپہرایک بجے کے قریب کھانے اور نمازوں کے لیے یہ اجلاس برخاست ہوا۔مسجد نور میں حضرت مصلح موعودؓ نے نمازیں جمع کر کے پڑھائیں۔

دوپہر اڑھائی بجے دوبارہ اجلاس شروع ہوا۔جو شام تک جاری رہا۔

نمازِ مغرب و عشاء اور رات کے کھانے کے بعد شوریٰ کے اختتامی اجلاس کی کارروائی رات نو بجے شروع ہوئی۔مہمانان کے کھانے کاانتظام ہائی اسکول کے ڈائننگ ہال میں تھا۔آخری اجلاس کی کارروائی رات سوا دو بجے تک جاری رہی۔مجلسِ مشاورت کی جملہ کارروائی حضرت مصلح موعودؓ کی زیرِ صدارت ہوئی۔ حضورؓ نے اختتامی خطاب میں ہدایت فرمائی کہ آئندہ ساری انجمنیں اپنے نمائندگان کو بھیجیں گی۔نیز نمائندگان اپنی انجمنوں میں جا کر احباب کو پاس شدہ تجاویز سنائیں اور عمل درآمد کروائیں۔آپؓ نے احباب کو تحریک فرمائی کہ مدرسہ احمدیہ میں اپنے بچوں کو داخل کروائیں۔

تجاویز شوریٰ

٭…صیغہ تالیف واشاعت

1:تالیف واشاعت کے کام کو کس طرح وسعت دی جائے۔

2:نیچ قوموں کو مسلمان کرنے کے لیے کیاتجاویز کی جائیں۔

3: امراء میں تبلیغ کرنے کے لیے کیاتجاویز کی جائیں۔

4: کتب واخباراتِ سلسلہ کی اشاعت کے لیے کیاتجاویز کی جائیں۔

5: اخبارات اور رسالوں میں مضامین لکھنے کی طرف بیرونی احباب کو کس طرح متوجہ کیا جائے۔

6:بیرونی مشن جاری رکھے جائیں یا نہ؟

7:غیر ممالک میں مشن کھولے جائیں یانہ؟

8:انگلستان میں بغیر خرچ کے مبلغین کی تعداد کو کس طرح زیادہ کیاجائے۔

٭…صیغہ امورِ عامہ

1:رشتے ناطوں کی مشکلات دور کرنے کے طریق

2:تنازعاتِ مقامی

3:محکمہ احتساب

4:حصولِ روزگار

٭…صیغہ بیت المال

1:چندہ فصلانہ چستی کے ساتھ ہر چیز پر ڈھائی من کے حساب سے وصول کیا جائے۔

2:تشخیص ازسرِ نوکی جائے۔

3:جماعتوں میں رجسٹرز برائے گوشوارہ رکھے جائیں۔

4:ہر جماعت کے لیے ایک مقررہ تاریخ رکھی جائے جس میں وہ ماہوار چندہ وصول کر کے بھیج دیں۔

5:قریبی انجمنیں مل کر کام کریں۔ہر ضلع اپنی تحصیل اور تحصیل دیہاتی جماعتوں کی نگرانی کرے۔

6:ہر جماعت براہِ راست مرکز کو چندہ بھیج سکتی ہے مگر حسابات کےگوشوارے مرکز کو بھجوائے۔

7:ہر جماعت کا بقایا گوشوارہ بھی ماہوار اور سہ ماہی بھجوایا جاتا رہے۔

8:زکوٰۃ کا قادیان میں علیحدہ رجسٹر رکھا جائے۔

9:مساکین و یتامیٰ کی امداد کے لیے ہر جماعت میں کپڑے ودیگر اشیائے مستعملہ جمع کی جائیں۔

10:چندہ مستورات کو بھی باقاعدہ وصول کیاجائے۔

11:ہر جماعت کے ذمہ ایک مقررہ تعداد کتابوں کی فروخت کے لیے لگائی جائے۔

12:احمدیوں کو کفایت شعاری کی ترغیب دی جائے۔لوگوں کو تجارت کی جانب راغب کیا جائے۔

٭…صیغہ تعلیم و تربیت

1:تمام جماعتوں میں سیکرٹریانِ تعلیم کا تقرر ہو۔

2:تعلیم وتربیت کے سیکرٹریان کے اپنے اپنے حلقہ میں وہی ذمہ داریاں اور فرائض ہوں جو ناظر صاحب تعلیم و تربیت کے تمام جماعت سے متعلق ہیں۔

3:کتب حضرت مسیح موعودؑ سے جماعت کو واقفیت پیدا کروائی جائے۔

4:جماعت میں عام دینی واقفیت پیدا کی جائے۔

5:نماز باجماعت کی پابندی کے متعلق عملی تجاویز

6:اخلاق کی درستی کے لیے عملی تجاویز

7: احمدی لڑکیوں کی تعلیم کے لیے عملی تجاویز

8:درس القرآن کی تجویز۔

٭…صیغہ لنگرخانہ

1:کسی بھی مذہب کا کوئی بھی فرد قادیان سیر یا تحقیقات کی غرض سے آئے تو اُس کے قیام وطعام کا ایک ماہ تک انتظام کیا جائے۔

2:حصولِ دین کے لیے آنے وا لے افراد کو ایک ماہ تک لنگر خانہ سے کھانا دیا جائے گا۔

3:نادارافراد کو کھانا لنگرخانہ سے دینے کی بجائے اگر وہ قابلِ امداد سمجھے جائیں تو اُن کے ضروری اخراجات کے لیے ایک ماہ کی معیّن رقم دے دی جائے۔

4:کشمیری،پٹھان وغیرہ یا خاص موسم میں مزدوری پیشہ لوگوں کو پندرہ دن تک کھانا دیا جائے۔

5:بڑی جماعتیں اپنے مختصر سے مہمان خانے بنوائیں۔

6:جلسہ سالانہ کے اخراجات سے متعلق بعض تجاویز

٭…صیغہ بہشتی مقبرہ

1:جس وصیت میں جائیداد غیر منقولہ ہو اُس کی رجسٹری ضرور ہونی چاہیے۔

2:جس کی جائیداد منقولہ یا غیر منقولہ ہو وہ جائیداد انجمن(مقامی جماعت) کے تصرف میں آنی چاہیے۔اس کے بعد انجمن (مقامی جماعت)کا اختیار ہو گا کہ اُس کو رکھے یا فروخت کرے۔

3:جائیداد کی قیمت انجمن(مقامی جماعت) کے مشورہ سے مقرر ہونی چاہیے۔

4: اگر وصیت میں ایسی جائیداد شامل ہو جو کچھ جدی اور کچھ پیدا کردہ ہو تو موصی کو یہ شرط لکھ دینی چاہیے کہ اگر میرے وارثان میری جائیداد حصہ دینے میں عذر کریں تو یہ حصہ میری پیدا کردہ جائیداد میں سے وصول کیا جائے۔(الفضل17؍اپریل 1922ء،رپورٹ مجلسِ مشاورت منعقدہ1922ء)

حضرت مصلح موعودؓ کی مشاورت سے متعلق نمائندگانِ شوریٰ کو اہم ہدایات

چونکہ حضرت مصلح موعودؓ نے شوریٰ کی صورت میں ایک نیا مستقل نظام جاری فرمایا تھا لہٰذا حضورؓ شوریٰ کے تینوں روز اس کے انتظامی امور سے متعلق وقتاً فوقتاً نمائندگانِ شوریٰ کی راہ نمائی فرماتے رہے ۔یہ ہدایات اختصار کی صورت میں درج ہیں۔

شوریٰ کی ضرورت

حضورؓ نے افتتاحی خطاب کے آغاز میں شوریٰ کی اہمیت وضرورت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:’’سب سے پہلے میں یہ بیان کرنا چاہتا ہوں کہ یہ مجلس جس کو پُرانے نام کی وجہ سے کارکن کانفرنس کے نام سے یاد کرتے رہے ہیں کیا چیز ہے۔ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کا شیوہ یہ ہے کہ وَاَمْرُهُمْ شُوْرٰى بَیْنَهُمْ اپنے معاملات میں مشورہ لے لیا کریں۔ مشورہ بہت ضروری اور مفید چیز ہے ا ور بغیر اِس کے کوئی کام مکمل نہیں ہو سکتا۔ اِس مجلس کی غرض کے متعلق مختصر الفاظ میں یہ کہنا چاہئے کہ ایسی اغراض جن کا جماعت کے قیام اور ترقی سے گہرا تعلق ہے ان کے متعلق جماعت کے مختلف لوگوں کو جمع کر کے مشورہ لے لیا جائے تاکہ کام میں آسانی پیدا ہو جائے یا ان احباب کو ان ضروریات کا پتہ لگے جو جماعت سے لگی ہوئی ہیں تو یہ مجلس شوریٰ ہے۔میں پورے طور پر تو نہیں کہہ سکتا کہ باہر کی کانفرنسیں کن اغراض کے لئے منعقد ہوتی ہیں مگر یہ مجلس شوریٰ ہے۔‘‘(خطاباتِ شوریٰ جلد اول صفحہ3تا4)

پہلی کانفرنسوں اور اِس میں فرق

حضورؓ نےاس سے قبل منعقدہ بعض ایسی کانفرنسوں کا ذکر کرتے ہوئےموجودہ شوریٰ کے فرق کی وضاحت کچھ اس طرح فرمائی:’’اِس میں اور پہلی کانفرنسوں میں جو ہوتی رہی ہیں فرق ہے اور وہ یہ کہ پہلی کانفرنسیں صدر انجمن کے سیکرٹری کے بُلانے پر ہوتی تھیں مگر یہ خلیفہ کے بُلانے پر منعقد ہوئی ہے۔ اُن کانفرنسوں کا کام محدود اور شاید طریقِ عمل بھی مختلف تھا۔ مگر اِس کا کام بہت زیادہ اور وسیع اور اس کا طریقِ عمل بھی مختلف ہے۔میں نہیں جانتا کہ اُن کا طریقِ عمل کیا تھا مگر ایک بات کہنا چاہتا ہوں اور وہ یہ کہ اُن کانفرنسوں کی وجہ سے دو متضاد خیال پیدا ہوگئے تھے۔

ایک کانفرنس منعقد ہوئی تھی اُس میں مَیں بھی شامل تھا۔اُس سے مَیں نے معلوم کیا کہ اس کے ساتھ ہی دو متضاد خیال پیدا ہوگئے۔بعض نے کہا کہ اس کانفرنس کا فیصلہ قطعی ہو اور مجلس معتمدین کا فیصلہ اس کے ماتحت ہو۔جہاں تک مجھے یاد ہے شملہ کے دوستوں نے یہ سوال اُٹھایا تھا اور بہت سے لوگوں نے اس کی تائید کی تھی۔ وہ جو اس کانفرنس کو بُلانے والے تھے اُنہیں یہ بات کھٹکی اور اُنہوں نے ایسی تقریریں کیں کہ فیصلہ انجمن کا ہی ناطق ہو۔چنانچہ پہلے تو بجٹ منظوری کے لئے پیش کیا گیا لیکن پھر مشورہ کے لئے قرار دیا گیا۔

میرے خیال میں اِس رنگ میں کانفرنس کا نتیجہ یہی ہونا چاہئے تھا کہ کانفرنس جس میں ساری جماعت کے قائم مقام ہوں ایک محدود آدمیوں کے مجمع کے اُوپر برتری کا خیال پیدا ہو مگر چونکہ کانفرنس منعقد کرنےوالوں کی نیّتیں اَور تھیں اِس لئے انہوں نے کانفرنس کا کوئی اصل قائم نہ کیا۔ اُن کا خیال تو یہ تھا کہ اِس طرح خلافت کو نقصان پہنچایا جائے اور جماعت کی رائے کو اپنے ساتھ ملا لیا جائے۔جب یہ بات حاصل ہو جائیگی تو خلافت کا فیصلہ کر لیں گے مگر چونکہ کانفرنس اُن کے ہی خلاف ہو گئی اِس لئے انہوں نے توڑ دی۔‘‘(خطاباتِ شوریٰ جلد اول صفحہ4)

شوریٰ کی اغراض

حضورؓ نے افتتاحی خطاب میں شوریٰ کی چار بنیادی اغراض بیان فرمائیں’’(۱) جیسا کہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے زمانہ میں قاعدہ تھا احباب سے ضروری معاملات کے متعلق مشورہ لیا جائے، اُس وقت ریلیں نہ تھیں اور ایسے سامانِ سفر نہ تھے جیسے اب ہیں اِس لئے قاعدہ یہ تھا کہ مدینہ کے لوگوں کو جمع کر لیا جاتا۔ خلفاء کے زمانہ میں بھی ایسا ہی ہوتا رہا کہ مدینہ کے لوگوں سے مشورہ لیا جاتا مگر اب چونکہ سامانِ سفر بہت پیدا ہو گئے ہیں ا ور آسانی سے لوگ جمع ہو سکتے ہیں اور میں نہیں جانتا آگے اور ترقی کہاں تک ممکن ہے ہو سکتا ہے ہوائی جہازوں کی وجہ سے سفر میں ایسی آسانی ہو جائے کہ کلکتہ کے لوگ یہاں مشورہ کر کے اُسی دن واپس جا سکیں۔ ایسی صورت میں مجلس مشاورت کو زیادہ وسیع کرنا ضروری ہے کیونکہ وسعت سے زیادہ فائدہ ہوتا ہے۔اِس لئے میں نے احباب کو بُلایا ہے کہ وہ اپنی اپنی رائے بتائیں تاکہ اگر کوئی مفید ہو تو اس سے فائدہ اُٹھائیں۔ اس میں شبہ نہیں کہ باہر کے لوگ مقامی حالات سے واقف نہیں مگر سارے معاملات ایسے نہیں ہیں کہ جن میں مشورہ دینے کے لئے پچھلے حالات سے واقف ہونا ضروری ہو ۔ بعض معاملات عقلی ہوتے ہیں اُن میں باہر کا آدمی بھی اُسی طرح بلکہ بعض حالات میں اچھی رائے دے سکتا ہے جیسا کہ قادیان کا رہنے والا دے سکتا ہے۔

(۲) باہر کے احباب یہاں کی تکالیف سے واقف نہیں ہوتے اُنہیں جب کہا جاتا ہے کہ چندہ دو تو وہ حیران ہوتے ہیں کہ اتنا روپیہ جاتا کہاں ہے اور اُن میں حالات کی ناواقفیت سے اتنا جوش پیدا نہیں ہوتا جتنا واقفیت سے پیدا ہو سکتا ہے اِس لئے میں نے سمجھا کہ اُن کو واقفیت کرائی جائے اور کارکنوں کی مشکلات کا اندازہ لگانے کا موقع دیا جائے۔

(۳) بعض کاروباری آدمی ایسے ہوتے ہیں جو مشورہ دے سکتے ہیں گورنمنٹ کے کام کرنے والے بڑے ماہر ہوتے ہیں مگر اُن کو بھی ایکسپرٹ منگانے پڑتے ہیں جن سے مشورے لیتے ہیں۔ہماری جماعت میں بھی ایسے لوگ ہیں اُن کو بُلایا گیا ہے تاکہ وہ اپنے تجربہ کی بناء پر مفید مشورہ دیں۔

(۴) بعض احباب قادیان آنے میں سُست ہیں اس طرح انہیں یہاں آنے کا ایک اور موقع دیا گیا ہے پھر یہ کہ جو لوگ جلسہ کے ایام میں یہاں آنے سے محروم رہتے ہیں وہ اس موقع پر فائدہ اُٹھا سکیں اور قادیان سے ان کازیادہ تعلق ہو۔‘‘(خطاباتِ شوریٰ جلد اول صفحہ5تا6)

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مشورہ کا طریق

آنحضرتﷺ کے زمانے میں صحابہ کرامؓ اپنے آقاومطاع کو جس طریق سے مشورہ دیا کرتے تھے اُس کا ذکر کرتے ہوئے حضورؓ نے فرمایا:’’(۱) جب مشورہ کے قابل کوئی معاملہ ہوتا تو ایک شخص اعلان کرتا کہ لوگ جمع ہو جائیں اِس پر لوگ جمع ہو جاتے۔ عام طور پر یہی طریق رائج تھا کہ عام اعلان ہوتا اور لوگ جمع ہو کر مشورہ کر لیتے اور معاملہ کا فیصلہ خلیفہ یا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کر دیتے…۔

(۲) دوسرا طریق مشورہ کا یہ تھا کہ وہ خاص آدمی جن کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم مشورہ کا اہل سمجھتے اُن کو الگ جمع کر لیتے باقی لوگ نہیں بُلائے جاتے تھے۔جن سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم مشورہ لیتے تھے تاریخ سے معلوم ہوتا ہے تیس کے قریب ہوتے تھے رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم سب کو ایک جگہ بُلا کر مشورہ لے لیتے۔ کبھی تین چار کو بُلا کر مشورہ لے لیتے۔

(۳) تیسرا طریق یہ تھا کہ آپ کسی خاص معاملہ میں جس میں آپ سمجھتے کہ دو آدمی بھی جمع نہ ہونے چاہئیں علیحدہ علیحدہ مشورہ لیتے۔ پہلے ایک کو بُلا لیا اُس سے گفتگو کر کے اس کو روانہ کر دیا اور دوسرے کو بُلا لیا۔ یہ ایسے وقت میں ہوتا جب خیال ہوتا کہ ممکن ہے رائے کے اختلاف کی وجہ سے دو بھی آپس میں لڑ پڑیں۔

یہ تین طریق تھے مشورہ لینے کے اور یہ تینوں اپنے اپنے رنگ میں بہت مفید ہیں۔ مَیں بھی ان تینوں طریق سے مشورہ لیتا ہوں۔‘‘(خطاباتِ شوریٰ جلد اول صفحہ6تا7)

مشورہ دیتے وقت کن امور کا خیال رکھنا چاہیے

مشورہ دیتے وقت جن امور کاخیال رکھنا چاہیے،اُن کا ذکر کرتے ہوئےحضورؓ نے ارشاد فرمایا:’’(۱) ہمارا جمع ہونا کسی دنیاوی غرض اور فائدہ کےلئے نہیں۔ میں تو قادیان کا رہنے والا ہوں باہر سے نہیں آیا۔ آپ لوگوں میں سے بعض زمیندار ہیں جن کا فصلیں کاٹنے کا وقت ہے۔اُن کا اِس وقت گھروں سے نکلنا معمولی بات نہیں مگر وہ کام چھوڑ کر آئے ہیں۔ بعض تاجر ہیں، بعض ملازم ہیں، اُن کو کئی دن کے بعد یہ چھٹی ملی ہو گی، کئی اور کام انہوں نے کرنے ہوںگے مگر اُنہوں نے سب کو قربان کر دیا۔ پس ہم خدا کےلئے جمع ہوئے ہیں اِس لئے ہماری نظر خدا پر ہونی چاہئے۔ چونکہ ساری دنیا کا مقابلہ ہے اور اُن کا مقابلہ ہے جو تجربہ میں، انتظام میں، قدرت میں، اختیارمیںہم سے زیادہ ہیں۔ان کے پاس مال بھی ہے، اُن کے قبضہ میں فوج بھی ہے، حکومت بھی ہے، لیکن ہم جنہوں نے دنیا کو فتح کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے ہمارے پاس نہ قوت ہے، نہ مال ہے، نہ تجربہ ہے، نہ واقف کار لوگ ہیں ۔ گویا ہم ہر بات میں ان سے کمزور ہیں اس لئے ہمارے مشورے تبھی مفید ہو سکتے ہیںکہ خدا پر نظر رکھیںاِس لئے پہلی نصیحت مَیں یہ کرتا ہوں کہ ہر شخص خدا کی طرف توجہ کرے اور دعا کرے کہ الٰہی! میں تیرے لئے آیا ہوںتُو میری راہ نمائی کر کسی معاملہ میں میری نظر ذاتیات کی طرف نہ پڑے۔ نہ ایسا ہو کہ کوئی رائے غلط دوں اور اُس پر زور دوں کہ مانی جائے اور اس سے دین کو نقصان پہنچے۔ نہ ایسا ہوکہ کوئی ایسی رائے دے جو ہو تو غلط مگر اس کی چکنی باتوں یا طلاقتِ لسانی سے مَیں اس سے متفق ہو جاؤں۔میں تجھ سے دُعا کرتا ہوں کہ نہ ایسا ہو کہ مجھ میں نفسانیت آجائے یا اپنی شہرت و عزت کا خیال پیدا ہو۔ یا یہ کہ بڑائی کا خیال پیدا ہو ۔ یا یہ کہ بڑائی کا خیال آجائے۔ نہ ایسا ہو کہ میری رائے غلط اورمُضرہو۔ نہ یہ ہو کہ میں کسی کی غلط رائے کی تائید کروں۔میری نیت درست رہے۔ میری رائے درست ہو اور تیری منشاء کے ماتحت ہو۔یہ دعا ہر دوست کو کر لینی چاہئے اور ہمیشہ کرنی چاہئے جب بھی ہماری جماعت مشورہ کرنے لگے صرف آج کے لئے ہی نہیں۔

(۲)یہ کہ پہلی نصیحت دعا کے متعلق ہے مگر کوئی دعا قبولیت کا جامہ نہیں پہنتی جب تک اس کے ساتھ عمل نہ ہو۔مثلاً انسان دعا تو کرے کہ اُسے خدمت دین کی توفیق ملے مگر عملاً ایک پیسہ بھی خرچ کرنے کے لئے تیار نہ ہو تو اسے کیا توفیق ملے گی۔ تو دعا کے ساتھ عمل کی ضرورت ہے اس لئے میں نصیحت کرتا ہوں کہ آج بھی اور کل بھی اور پھر جب کبھی مشورہ ہو ذاتی باتوں کو دل سے نکال دیا جائے۔ لوگوں نے بعض باتیں دل میں بٹھائی ہوتی ہیں کہ یہ منوائیں گے لیکن مشورہ کے یہ معنی نہیں کہ ایسی باتوں کو بیان کرو بلکہ یہ ہیں کہ اپنے دماغ کو صاف اور خالی کر کے بیٹھو اور صحیح بات بیان کرنی چاہئے۔ عام طور پر لوگ فیصلہ کر کے بیٹھتے ہیں کہ یہ بات منوانی ہے اور پھر اس کی پچ کرتے ہیں۔مگر ہماری جماعت کو یہ نہیں کرنا چاہئے بلکہ صحیح بات ماننی اور منوانی چاہئے۔

(۳) یہ کہ جب مشورہ کے لئے بیٹھیں تو مقدم نیت یہ کر لیں کہ جس کام کے لئے مشورہ کرنے لگے ہیں اس میں کس کی رائے مفید ہو سکتی ہے نہ یہ کہ میری رائے مانی جائے۔

(۴) یہ بات مدنظر رکھنی چاہئے کہ آج بھی اور آئندہ بھی ہر وقت جب مشورہ لیا جائے کسی کی خاطر رائے نہیں دینی چاہئے بعد میں بعض لوگ کہا کرتے ہیں کہ میری تو یہ رائے نہ تھی مگر فلاں دوست نے کہا تھا اِس لئے دی تھی۔روپیہ غبن کرنا اتنا خطرناک نہیں جتنی یہ بات خطرناک ہے مگر یہ ایسی آسان سمجھی جاتی ہے کہ بڑے بڑے مدبّر بھی اس کا ارتکاب کرتے ہیں۔ ہندوستان کی کونسل کا واقعہ ہے کہ ایک ممبر نے کہا میری یہ رائے نہ تھی مگر فلاں دوست نے چونکہ کہا تھا اِس لئے میں نے اُس کی خاطر رائے دیدی ۔تعجب ہے اُس نے اِس بات کے بیان کرنے میں کوئی حرج نہ سمجھا۔مگر یہ سخت بد دیانتی ہے ہماری جماعت کے لوگ اس سے بچیں اور کسی کی خاطر نہیں بلکہ جو رائے صحیح سمجھیں وہ دیں۔

(۵) کسی اور حکمت کے ماتحت رائے نہیں دینی چاہئے بلکہ یہ مدنظر ہو کہ جو سوال درپیش ہے اُس کے لئے کونسی بات مفید ہے۔اِس کی تشریح میں مثال دیتا ہوں۔مثلاً ایک سوال پیش ہے کہ فلاں کام جاری کیا جائے بعض لوگ یہ کرتے ہیں کہ کام کو جاری کرنا تو مفید سمجھتے ہیں مگر یہ خیال کرکے کہ اگر جاری ہو گیا تو فلاں اِس پر مقرر ہو گا اس کی مخالفت کرتے ہیں۔ یہ بددیانتی سے بھی کرتے ہیں اور کبھی اس شخص کو مناسب نہیں سمجھتے۔مگر بجائے اس کے کہ اس کے تقرر کا جب سوال آئے تو اس وقت بحث کریں۔ یا اس طرح کہیں کہ اس کام کو جاری نہیں کرنا چاہئے کیونکہ فلاں کے سِوا اور کوئی نہیں جسے اِس کام پر لگایا جاوے اور وہ موزوں نہیں یہ کہتے ہیں یہ کام ہی مفید نہیں۔ چونکہ یہ بد دیانتی ہے اس لئے یہ نہیں ہونا چاہئے۔ یا اس طرح کہ ایک کمیشن مقرر کرنا ہے جس کے لئے فلاں کو مقرر کرنا ہے اس پر ان کی غرض تو یہ ہوتی ہے کہ وہ نہ کیا جائے مگر بحث یہ شروع کر دیتے ہیں کہ کمیشن قائم کرنا ہی ٹھیک نہیں۔ ایسا نہیں ہونا چاہئے اصل معاملہ میں صحیح رائے دینی چاہئے۔

(۶) جو سچی بات ہو اُسے تسلیم کرنے سے پرہیز نہیں کرنا چاہئے خواہ اسے کوئی پیش کرے۔ مثلاً ایک بات ایسا شخص پیش کرے جس سے کوئی اختلاف ہو مگر ہو سچی تو اگر کوئی اُس کو اِس لئے چھوڑتا ہے کہ پیش کرنے والے سے اُس کی مخالفت ہے تو بددیانتی کرتا ہے۔

(۷) چاہئے کہ کوئی رائے قائم کرتے وقت جلد بازی سے کام نہ لے۔ کئی لوگ پہلے رائے قائم نہیں کرتے مگر فوراً بات سُن کر رائے ظاہر کرنے لگ جاتے ہیں۔چاہئے کہ لوگوں کی باتیں سُنیں، ان کا موازنہ کریں اور پھر رائے پیش کریں۔ اور نہ ایسا ہو کہ دوسروں کی رائے پر اِ تکال کریں۔

ایک تو میں نے یہ کہا ہے کہ دوسرے کے لئے رائے نہ دی جائے اور ایک یہ کہ دوسرے کے کہنے پر رائے قائم نہ کی جائے۔مثلاً ایک کہے فلاں کام میں خرابی ہے۔ دوسرا بغیر خرابی معلوم کئے یہ کہے کہ ہاں خرابی ہے۔ اسے خود اپنی جگہ تحقیقات کرنی چاہئے۔

(۸)کبھی اس بات کا دل میں یقین نہ رکھو کہ ہماری رائے مضبوط اور بے خطا ہے بعض آدمی اس میں ٹھوکر کھاتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ ہماری رائے غلط نہیں ہو سکتی اور پھر حق سے دور ہو جاتے ہیں۔ بعض دفعہ دیکھا گیا ہے کہ بچے بھی عجیب بات بیان کر دیتے ہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیویوں سے بھی مشورہ پوچھتے تھے۔ حدیبیہ کے وقت ہی جب لوگ غصے میں تھے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت اُم سلمہؓ سے پوچھا کہ کیا کیا جائے۔انہوں نے کہا آپ جا کر قربانی کریں اور کسی سے بات نہ کریں۔ آپ نے ایسا ہی کیا اور پھر سب لوگوں نے قربانیاں کر دیں تو اپنی کسی رائے پر اصرار نہیں ہونا چاہئے کیونکہ بڑوں بڑوں سے رائے میں غلطی ہو جاتی ہے اور بعض اوقات معمولی آدمی کی رائے درست اور مفید ہوتی ہے۔ مجلس میں علم کی وسعت کے خیال سے بیٹھنا چاہئے۔ہاں یہ بھی عیب ہے کہ انسان دوسرے کی ہر بات کو مانتا جائے۔ سچی اور علمی بات کو تسلیم کرو اور جہالت کی بات کو نہ مانو۔

(۹) ہمیشہ واقعات کو مدنظر رکھنا چاہئے۔ احساسات کی پیروی نہ کرنی چاہئے۔ کئی لوگ احساسات کو اُبھار دیتے ہیں ا ور پھر لوگ واقعات کو مدنظر نہیں رکھتے۔میں نے بھی ایک دفعہ احساسات سے فائدہ اٹھایا ہے مگر ساتھ دلائل بھی پیش کئے تھے۔

ایک مجلس اس بات کے لئے ہوئی تھی کہ مدرسہ احمدیہ کو اُڑا دیا جائے۔ مجلس میں جب قریباً سب اس بات کی تائید کرنے لگے تو مَیں نے تقریر کی اور اس میں اس قسم کے دلائل بھی دئیے کہ اگر ہم میں علماء نہ ہوئے تو ہم فتویٰ کس سے لیں گے کیا ادھر غیروں کو ہم کافر کہیں گے اور ادھر ان سے فتویٰ لیں گے۔ اِس کے ساتھ ہی جذبات سے بھی اپیل کی کہ حضرت صاحبؑ کی یادگار میں یہ مدرسہ قائم کیا گیا ہے۔ اب لوگ کیا کہیں گے کہ آپ کی وفات پر پہلا جلسہ جو ہوا اس میں اس یادگار کو اُڑا دیا گیا!!میری تقریر کے بعد سب نے کہہ دیا نہیں مدرسہ بند نہیں ہونا چاہئے۔حتیٰ کہ خواجہ صاحب نے جو بند کرنے کی تحریک کرنے والے تھے اُنہوں نے بھی کہا کہ میرا یہ مطلب نہیں تھا۔ تو احساسات کو تائیدی طور پر پیش کرنا اور ان سے فائدہ اُٹھانا جائز ہے مگر محض ان کے پیچھے پڑنا یا ان کو اُبھار کر رائے بدلنا خیانت ہے۔ اگر کوئی یہ جانتا ہو کہ اُس کے دلائل کمزور ہیں اور پھر وہ جذبات کو اُبھارے تو وہ بد دیانت ہے۔ اور اگر کوئی یہ جانتا ہوا کہ دلائل غلط ہیں مگر احساسات کے پیچھے لگ کر رائے دیدے تو وہ بھی بد دیانت ہے۔

(۱۰) دو قسم کی باتیں ہوتی ہیں۔ایک وہ جن میں دینی فائدہ زیادہ ہوتا ہے اور دُنیوی کم۔ دوسری وہ جن میں دُنیوی فائدہ زیادہ ہوتا ہے اور دینی کم۔ چونکہ ہم دینی جماعت ہیں اس لئے ہمیں اس بات کے حق میں رائے دینی چاہئے جس میں دینی فائدہ زیادہ ہو۔

(۱۱) ہمیشہ یہ بات مدنظر رکھنی چاہئے کہ ہماری تجاویز نہ صرف غلط نہ ہوں بلکہ یہ بھی مدنظر رہے کہ جن کے مقابلہ میں ہم کھڑے ہیں ان کی تجاویز سے بڑھ کر اور مؤثر ہوں۔ اور ہمارا کام ایسا ہونا چاہئے کہ دشمن کے کام سے مضبوط ہو۔ مثلاً اگر ایسی جگہ ایک مکان بناتے ہیں جہاں پانی کی رَو نہیں آتی۔وہ اگر زیادہ مضبوط نہیں تو خیر لیکن جہاں زور کی رَو آتی ہو وہاں اگر مضبوط نہیں بنائیں گے تو غلطی ہو گی۔ پس ہماری مجلسِ شوریٰ میں یہی نہیں ہونا چاہئے کہ اِس میں غلطی نہ ہو بلکہ یہ بھی ہو کہ ایسی اعلیٰ اور زبردست تجاویز ہوں جو دشمن کا مقابلہ کر سکیں۔ پھر ایک تو یہ بات ہے کہ دشمنوں کے مقابلہ سے ہماری کوششیں اور تجاویز اعلیٰ ہوں۔ دوسری یہ کہ ہماری تجاویز ہماری پچھلی تجاویز سے اعلیٰ ہوں۔ اِن دونوں باتوں کوبھولنے سے قومیں تنزّل میں پڑ جاتی ہیں۔ ان میں سے اگر ایک کو چھوڑ یں تو بھی تنزّل شروع ہو جاتا ہے۔ مثلاً ایک وقت آسکتا ہے جبکہ دشمن نہایت کمزور اور ذلیل ہو جائے جیسا کہ مسلمانوں کے لئے آیا تھا۔ اِسی طرح جب ہمارے لئے وقت آیا تو اُس وقت اگر ہماری کوششیں اپنی پچھلی کوششوں سے کم رہیں تو ضرور نقصان ہو گا۔ ایک وقت مسلمان کمزور تھے مگر ایک وقت وہ آیا کہ ان کے دشمن ذلیل ہو گئے اور مسلمان طاقتور ہو گئے اُس وقت مسلمانوں کی طاقت عیسائیوں سے بہت زیادہ تھی مگر اِس وقت اِس لئے تنزّل میں گر گئے کہ ان کے لشکر کم تھے۔ تو اپنی طاقت کو ہر وقت بڑھانا چاہئے ورنہ نقصان ہوتا ہے مثلاً دشمن کھڑا ہو اور ہم چل رہے ہوں تو اس سے آگے ہوں گے اور اگر دشمن دَوڑ کر آئے اور ہم ذرا تیز قدم کر لیں تو وہ آگے نکل جائے گا۔ اِس وقت ہمیں دشمن سے بھی زیادہ تیز دوڑنے کی ضرورت ہو گی۔ تو ہمیں جہاں یہ دیکھنا چاہئے کہ ہماری تجاویز دشمن کی تجاویز سے اعلیٰ ہوں وہاں یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ ہماری پہلی تجاویز سے بھی اعلیٰ ہوں جب یہ دونوںباتیں مدنظر رہیں تو سوائے اِس کے کہ خدا کا غضب بھڑکا دیا جائے دنیاوی لحاظ سے کوئی قوم تباہ نہیں ہو سکتی اِن دونوں باتوں کا مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

(۱۲) رائے دیتے وقت یہ بات دیکھ لینی چاہئے کہ جو بات پیش ہے وہ واقعہ میں مفید ہے یا مضر،مقابلہ میں آکر کسی معمولی سی بات پر بحث شروع ہو جاتی ہے حالانکہ اس کا اصل بات کےمضریا مفید ہونے سے تعلق نہیں ہوتا۔ پس فروعی باتوں پر بحث نہ شروع کرنی چاہئے بلکہ واقعہ کو دیکھنا چاہئے کہ مفید ہے یامضر۔

(۱۳) سوائے کسی خاص بات کے یونہی دُہرانے کے لئے کوئی کھڑا نہ ہو۔ ضروری نہیں کہ ہر شخص بولے ہاں اگر نئی تجویز ہو تو پیش کرے۔

(۱۴) چاہئے کہ ہر ایک اپنا وقت بھی بچائے اور دوسروں کا بھی وقت ضائع نہ کرے۔(خطاباتِ شوریٰ جلد اول صفحہ6تا12)

شوریٰ کے فوائد

شوریٰ کے بعض فوائد کا ذکر کرتے ہوئے آپؓ نے پانچ امور بیان فرمائے

’’(۱) کئی نئی تجاویز سُوجھ جاتی ہیں۔

(۲) مقابلہ کا خیال نہیں ہوتا اس لئے لوگ صحیح رائے قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

(۳) یہ بھی فائدہ ہے کہ باتوں باتوں میں کئی باتیں اور طریق معلوم ہو جاتے ہیں۔

(۴) یہ بھی فائدہ ہے کہ باہر کے لوگوں کو کام کرنے کی مشکلات معلوم ہوتی ہیں۔

(۵) یہ بھی فائدہ ہے کہ خلیفہ کے کام میں سہولت ہو جاتی ہے۔ وہ بھی انسان ہوتا ہے اُس کو بھی دھوکا دیا جاسکتا ہے۔ اِس طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ لوگوں کا رُجحان کدھر ہے۔ یوں تو بہت نگرانی کرنی پڑتی ہے کہ غلط رستہ پر نہ پڑ جائیں مگر جب شوریٰ ہو تو جب تک اعلیٰ درجہ کے دلائل عام رائے کے خلاف نہ ہوں لوگ ڈرتے ہیں کہ اِس پر عمل کریں اور اس طرح خلیفہ کو نگرانی میں سہولت حاصل ہو جاتی ہے۔‘‘(خطاباتِ شوریٰ جلد اول صفحہ16)

مجلس شوریٰ کا طریق

چونکہ یہ پہلی شوریٰ تھی لہٰذا حضورؓنے افتتاحی خطاب کے آخر میں مجلسِ شوریٰ کے انعقاد کا طریقہ کار وضع کرتے ہوئے نمائندگانِ شوریٰ کو ہدایات دیتے ہوئے فرمایا:’’(۱) خلیفہ عام ہدایات پیش کرے گا کہ کن باتوں پر مشورہ لینا ہے اور کن باتوں کا خیال رکھنا ہے۔ (۲) اِس کے بعد ہر محکمہ کے لئے سب کمیٹیاں مقرر ہو جائیں گی کیونکہ فوراً رائے نہیں دینی چاہئے بلکہ تجربہ کار بیٹھ کر سکیم تجویز کریں اور پھر اس پر بحث ہو۔ پہلے کمیٹی ضرور ہونی چاہئے۔ جیسے معاملات ہوں اُن کے مطابق وہ غور کریں، سکیم بنائیں پھر اس پر غور کیا جائے۔ کمیٹی پوری تفاصیل پر بحث کرے اور پھر رپورٹ کرے۔ وہ تجاویز مجلسِ عام میں پیش کی جائیں اور اُن پر گفتگو ہو۔

جب تجاویز پیش ہوں تو موقع دیا جائے کہ لوگ اپنے خیالات پیش کریں کہ اس میں یہ زیادتی کرنی چاہئے یا یہ کمی کرنی چاہئے یا اس کو یوں ہونا چاہئے۔ تینوں میں سے جو کہنا چاہے کھڑے ہو کر پیش کر دے۔اِن تینوں باتوں کے متعلق جس قدر تجاویز ہوں ایک شخص یا بہت سے لکھتے جائیں۔پھر ایک طریق یا ایک طرز کی باتوں کو لے کر پیش کیا جائے کہ فلاں یہ کمی چاہتا ہے اور فلاں یہ زیادتی۔ اس پر بحث ہو مگر ذاتیات کا ذکر نہ آئے۔اِس بحث کو بھی لکھتے جائیں۔

جب بحث ختم ہو چکے تو اُس وقت یا بعد میں خلیفہ بیان کر دے کہ یہ بات یوں ہو۔بولنے کے وقت بولنے والا کھڑا ہو کر بولے۔ اور جو پہلے کھڑا ہو اُسے پہلے بولنے کا موقع دیا جائے۔ یہ دیکھنے کے لئے ایک آدمی مقرر ہوگا کہ کون پہلے کھڑا ہوا ہے اور کون بعد میں۔ اگر بہت سے کھڑے ہوں تو باری باری انہیں بولنے کے لئے کہنا چاہئے۔ جب سارے بول چُکیںتو پھر پوچھنا چاہئے۔پھر کھڑا ہو تو پہلے نئے بولنے والے کو موقع دینا چاہئے سوائے اِس صورت کے کہ کوئی سوال یا اعتراض اُس کی تقریر پر کیا گیا ہو اُس کے حل کرنے کے لئے کھڑا ہو۔ اور دو دفعہ سے زیادہ بولنے نہ دیا جائے کیونکہ بات کو حل کرنا ہے بحث نہیں کرنی۔ وہ شخص جس کو بولنے کا موقع دینے کے لئے مقرر کیا جائے وہ خلیفہ یا اس کے قائمقام کا مددگار ہوگا کیونکہ وہ دوسرے کاموں کی طرف توجہ کرے گا اِدھر توجہ نہ کر سکے گا اس لئے وہ بطور نائب کام کرے گا۔‘‘(خطاباتِ شوریٰ جلد اول صفحہ16تا17)

مجلسِ مشاورت کے انعقاد کے چند روز بعد حضرت مصلح موعودؓ نے خطبہ جمعہ فرمودہ 21؍اپریل 1922ء میں اس مجلسِ مشاورت کا تفصیلی ذکر فرمایا۔

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close