امریکہ (رپورٹس)حضور انور کے ساتھ ملاقات

امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ کینیڈا کے واقفین نو (خدام) کی (آن لائن) ملاقات

16؍ اکتوبر 2021ء کو امام جماعت احمدیہ عالمگیر حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے واقفین نو مجلس خدام الاحمدیہ کینیڈا کے ساتھ آن لائن ملاقات فرمائی۔ حضورِانور نے اس ملاقات کو اسلام آباد (ٹلفورڈ) سے رونق بخشی جبکہ 500 واقفین نو نے انٹر نیشنل سنٹر Mississauga, Ontarioسے آن لائن شرکت کی۔

اس ملاقات کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا، جس کے بعدواقفین نو کو اپنے عقائد اور دورِ حاضر کے مسائل کے حوالہ سے حضورِانور کی خدمت میں سوالات پیش کرکے ان کے جوابات حاصل کرنے کا موقع ملا۔

ایک خادم نے اللہ تعالیٰ سے تعلق میں بڑھنے کے حوالہ سے سوال پوچھا۔

حضورِانور نے فرمایا کہ آپ اپنے خطوط میں بھی اس حوالہ سے سوال لکھتے رہتے ہیں، جو آپ مجھے باقاعدگی سے لکھتے ہیں اور اپنے ہر خط میں آپ نے ایک سوال لکھا ہوا ہوتا ہے۔ اور میں ان سوالات کے جواب دے رہا ہوں۔ کیا آپ ہی ہیں جو یہ خطوط لکھتے ہیں؟

خادم نے عرض کیا: جی حضور۔

حضورِانور نے فرمایا: ٹھیک ہے۔ مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ آپ کو ان روحانی چیزوں، اپنے عقائد اور دینی علم کی طرف توجہ ہے۔ دیکھیں، یہ درست ہے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ سے اپنا تعلق بڑھانے کی کوشش کرنی چاہیے لیکن اس کے لیے ضروری نہیں ہے کہ ہر مرتبہ آپ کو کوئی الہام ہو یا خواب آئے یا دیگر ایسی چیزیں ہوں۔ اگر نماز پڑھنے کے بعد اور اللہ تعالیٰ کی مدد مانگنے کے بعد تسلی ہو جاتی ہے اور آپ کا دل مطمئن ہو جاتا ہے تو اس کا مطلب ہےکہ آپ کا اللہ تعالیٰ سے اچھا تعلق ہے۔ اور جس قدر اس تعلق کو آپ بڑھا سکیں بڑھانے کی کوشش کریں۔ تو یہ ایک process ہے، آپ کسی چیز کو ایک تھوڑے عرصہ میں حاصل نہیں کر سکتے۔ جب آپ ایک پرائمری کے طالب علم ہوتے ہیں تو آپ کسی ایسے آدمی سے مقابلہ نہیں کر سکتے جس نے پوسٹ گریجوایشن کی ڈگری حاصل کی ہو۔ تاہم آپ کو محنت اور خوب لگن سے کام لینا ہوگا کہ اس مقصد کو حاصل کریں۔ ایسا کرتے رہیںگے تو ایک دن انشاء اللہ آپ کو اچھے نتائج ملیں گے۔ ہمیشہ یاد رکھیں کہ اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ سے دعا کی جائے اور اس کے سامنے جھکا جائے اور ہر معاملے میں بخشش اور مدد طلب کی جائے۔ یہ ایک مومن کی نشانی ہے۔ آہستہ آہستہ آپ بہتری کی طرف چل پڑیں گے اور اللہ تعالیٰ سے تعلق پکڑ لیں گے۔

ایک اور خادم نے سوا ل کیا کہ آج کے دور میں ماڈرن میڈیسن نے ہومیو پیتھک کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے، بطور واقفِ نو ہم دنیا کوہومیو پیتھک کی حقیقت کیسے بتا سکتے ہیں اور انسانی جسم پر اس کے مثبت اثرات پر آگاہی کیسےدے سکتے ہیں۔

حضورِانور نے فرمایا کہ دیکھیں ہومیو پیتھک ایک قسم کی دوائی ہے، ایک طرح کا علاج ہے، جو لوگوں کے علاج کے لیے استعمال ہو رہاہے۔ اس لیے آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے کہ ایلو پیتھک نے ہومیو پیتھک کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ دیکھیں اصل بات یہ ہے کہ ہم اپنے مریضوں کا کیسے بہتر طور پر علاج کر سکتے ہیں۔ اس لیے ہومیو پیتھک مختلف علاجوں میں سے ایک علاج ہے یا علم ہے یا میڈیسن ہے جو علاج کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اور آپ اس پر یقین رکھتے ہیں تو بہتر ہے۔ جو اس پر یقین نہیں رکھتے تو جب آپ انہیں ہومیوپیتھک دیں گے تو ان پر اس کا اثر نہیں ہوگا۔

دیکھیں ایک آدمی تھاجس کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر مضبوط ایمان تھا تو اس کی وجہ سے وہ یقین رکھتاتھاکہ آپ کے بچوں کا بھی اللہ تعالیٰ سے پختہ تعلق ہوگا۔ ایک دفعہ اس کے پیٹ میں سخت درد ہوا اور کوئی دوائی اثر نہیں کر رہی تھی۔ اس وقت حضرت مرزا شریف احمد صاحبؓ جو انہیں جانتے تھے، انہیں دیکھنے کے لیے تشریف لے گئے۔ تو وہ درد سے چیخ رہے تھے، تو حضرت مرزا شریف احمد صاحب نے اپنا ہاتھ جیب میں ڈالا اور تین سے چار منٹ بعد انہیں کہا کہ اپنا منہ کھولیں اور ایک گولی کی شکل میں کچھ ان کے منہ میں رکھا کہ اس کو پانی سے نگل لیں۔ دس منٹ کے بعد وہ مریض ٹھیک تھا۔ کسی نے حضرت مرزا شریف احمد صاحب سے پوچھا کہ آپ نے کیا کیا۔ تو انہوں نے بتایا کہ اس مریض کو تکلیف تھی اور مجھے پتہ تھا کہ اس کا علاج نفسیاتی لحاظ سے ممکن ہے تو میں نے کاغذ کے ایک ٹکڑے پر جو میری جیب میں تھا، دعا کرکے گولی کی شکل میں اس کو دیا اور اس سے اس کو شفا ہو گئی۔ تو اس طرح معجزات ہوتے ہیں۔ چند ہومیوپیتھک ادویات ایسی ہیں جو معجزانہ طور پر کام کرتی ہیں۔ لیکن یہ ضروری نہیں کہ ہر مریض اور علاج اور بیماری میں ہومیو پیتھک کام کرے گی۔ یہ غلط ہے کہ ہو میو پیتھک میں ریسرچ نہیں ہو رہی۔ فرانس اور جرمنی میں کئی ہو میو پیتھک ڈاکٹرز ہیں جو ہومیو پیتھی میں ریسرچ کرتے ہیں اور انہوں نے کچھ نئی ادویات بنا ئی ہیں۔ اور یہ ادویات کئی بیماریوں کے علاج میں مفید ثابت ہو رہی ہیں۔ آپ کو پریشانی کی کوئی ضرورت نہیں ہے، یہ کوئی شرعی مسئلہ نہیں ہے۔ اگر آپ ہومیو پیتھک پر یقین رکھتے ہیں تو یہ اچھا ہے۔ لیکن جو ہو میو پیتھک پر یقین نہیں رکھتےتو ان پر زبردستی اپنے خیالات مت ٹھونسیں کہ وہ ضرور ہومیو پیتھک علاج کریں۔

ایک اور خادم نے سوال کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ پر اپنے ایمان اور یقین کو کیسےبڑھا سکتے ہیں۔

حضورِانور نے فرمایا کہ پہلی بات یہ ہے کہ آپ فجر کی نماز پڑھنے میں کتنا وقت صَرف کرتے ہیں، پانچ منٹ؟

خادم نے عرض کیا پانچ سے دس منٹ۔

حضورِانور نے فرمایا: آپ پانچ سے دس منٹ میں سورۃ الفاتحہ کیسے سمجھ سکتے ہیں۔ اگر آپ سنتیں ادا کر رہے ہیں یا نوافل جو باجماعت مسجد میں فجر یا کوئی اور نماز ادا نہیں کر رہے تو انفرادی نمازوں میں آپ کو بار بار سورۃ الفاتحہ پڑھنی چاہیے۔ اور بار بار اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ، اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ، اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ پڑھیں۔ تو اللہ تعالیٰ آپ کو سیدھے راستے کی راہنمائی کرد ے گا۔ اس لیے بار بار اس دعا کو اپنی نمازوں میں دہرائیں۔ اور اپنے سجدوں میں بار بار یہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اچھا مومن بننے کی طاقت عطا فرمائے اور ایمان کی مضبوطی عطا کرے۔ اس میں وقت لگےگا۔ آپ کیا کر رہے ہیں، کیا آپ سکول یا کالج جا رہے ہیں؟

خادم نے عرض کیا کہ وہ بارہویں گریڈ میں سکول جارہے ہیں۔

حضورِانور نے فرمایا: دیکھیں یہ سیکنڈری سکول میں آپ کا آخری سال ہے۔ جب تک آپ محنت اور لگن سے کام نہ کریں اور آپ کو اپنے مضامین کا جو آپ کو پڑھائے جا رہے ہیں یا جو کچھ بھی آپ کے نصاب، کتابوں یا کورس میں ہے، گہرائی سے علم نہ ہو، آپ آگے نہیں بڑھ سکتے یا کامیاب نہیں ہو سکتے۔ تو پھر آپ تقویٰ کے معیار میں بغیر محنت اور لگن کے کیسے آگے بڑھ سکتے ہیں۔ آپ اس وقت سکول کے بعد چھ سے سات گھنٹے اپنی پڑھائی کو دے رہے ہیں، خاص طور پر جب امتحان ہو رہے ہوںمگر یہاں آپ صرف پانچ سے دس منٹ دیتے ہیں۔ اور پھر جو تلاوت قرآن کریم سے کر رہے ہیں وہ بھی پتہ نہیں کہ کیا پڑھ رہے ہیں۔ اس لیے اگر آپ کو اپنے مضمون کا پتہ نہیں ہوگا تو پھر جواب کیسے لکھیں گے؟ جب آپ سوالنامہ دیکھیں گے تو جب آپ نے بغیر سمجھے کوئی کتاب پڑھی ہو گی تو آپ کو سوال کی سمجھ نہیں آئے گی۔ سوال کو سمجھنے کے لیے آپ کو کتاب کا علم ہونا اور اس بات کا بھی کہ استاد نے کیا پڑھایا تھا ضروری ہے۔ پھر آپ اس کا جواب لکھ سکیں گے۔ یہاں آپ کو کچھ پتہ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کیا فر ما رہاہے اور آپ پوچھ رہے ہیں کہ میں اللہ تعالیٰ پر ایمان کیسے لاسکتا ہوں۔ جب آپ کو پتہ ہی نہیں کہ اللہ تعالیٰ کیا فرما رہاہے تو اس پر ایمان لانے کا کیا جواز بنتا ہے؟ اس لیے آپ کو پتہ کرناہوگا اور قرآن کریم کا ترجمہ پڑھنا ہوگا۔ پھر آپ کو پتہ چلے گا، پھر یہ چیز آپ کو اللہ تعالیٰ پر ایمان اور یقین میں ترقی دے گی۔

ایک خادم نے سوال کیا کہ ایک احمدی دوست جو بہت سے گناہوں میں پڑ رہا ہو اور جماعت سے دور ہو رہا ہو اور اپنے لیے نقصان دہ حالات پیدا کر رہاہو، اس کو کیسے سمجھایا جائے۔

حضورِانور نے فرمایا کہ بات یہ ہے کہ آپ کو پہلے اس کی وجہ معلوم کرنی پڑے گی۔ اگر وہ آپ کاقریبی دوست ہےپھر آپ کو پتہ ہونا چاہیے کہ اب اس کی ترجیحات کیا ہیں؟ وہ کن لوگوں کے ساتھ بیٹھ رہا ہے؟ اس کی دوستی کن لوگوں سے ہے؟کیا وہ آپ سے دور ہٹنے کی کوشش کر رہا ہےاور دوسروں کے ساتھ بیٹھ رہا ہے جو اچھے نہیں ہیں، جو بہت سے گناہوں میں ملوث ہیں؟ تو پھر آپ کو اسے بتانا چاہیے کہ جس راستے پر تم چل رہے ہو وہ ٹھیک راستہ نہیں ہے۔ یہ راستہ تمہاری زندگی تباہ کردے گا اور بالآخر تم اپنے آپ کو تباہ و برباد کر لوگے۔ اس کے ساتھ ہمدردی کا سلوک کریں تاکہ اس کو احساس ہو کہ آپ اس کے سچے دوست ہیں اور ہمدرد ہیں، پھر وہ آپ کی بات سنے گا۔ چند دیگر وجوہات بھی ہو سکتی ہیں۔ بسا اوقات جب نوجوان لڑکوں کے گھروں میں کچھ مسائل چل رہے ہوں اور ماں باپ کے اچھے تعلقات نہ ہوں تو وہ بھی وجہ بن رہے ہوتے ہیں۔ کیونکہ ماں باپ ایک طرف تو یہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ مذہب اچھی باتیں کرنے کا حکم دیتا ہے دوسری طرف جب وہ ان کا عمل دیکھتے ہیں تو وہ ایسا کر نہیں رہے ہوتے۔ یہ بات ان (نوجوانوں) کے لیے پریشانی کا باعث بنتی ہے۔ بسا اوقات کچھ عہدیداران اس مسئلہ کی وجہ بن جا تے ہیں۔ ٹھیک ہے؟ اس لیے بہت سی چیزیں ہیں جو آ پ کو تلاش کرنی ہوں گی کہ کیا وجوہات ہیں۔ اور اس کے مطابق ان سے سلوک کریں۔ بنیادی بات یہ ہے کہ آپ ان کو اس بات کا احساس دلائیں کہ آپ ان کے ہمدرد اور بہترین دوست ہیں۔ پھر وہ آپ کی بات سنیں گے۔

ایک وقف نو نے بتایا کہ میں ایک شہید کا بیٹا ہوں، آپ کی پاکستان سے آنے والی شہداء کی فیملیز کے لیےکیا ہدایات ہیں۔

حضورِانور نے فرمایا کہ آپ کے والد صاحب کو پاکستان میں شہید کر دیا گیا تھا۔ انہوں نےاپنی زندگی جماعت کے لیے قربان کردی۔ اور آپ اس ملک میں جماعت کی وجہ سے ہیں۔ یہاں اس ملک میں معاشرے کی گندی چیزوں میں ملوث ہونے کی بجائے معاشرے کی اچھی چیزیں ڈھونڈیں اور یہاں کے لوگوں کے اپنے آپ کو بطور نمونہ پیش کریں۔ اگر آپ طالب علم ہیں تو اپنی تعلیم میں بڑھنے کی کوشش کریں۔ اگر کام کر رہے ہیں تو محنت سے کام کریں۔ اور ہمیشہ یہ بات ذہن میں رکھیں کہ آپ جو بھی کر رہے ہیںاللہ تعالیٰ ہمیشہ آپ کو دیکھ رہا ہے اور آپ کی نگرانی کر رہا ہے۔ لوگ نہیں بھی دیکھ رہے تو اللہ تعالیٰ دیکھ رہاہے۔ اس لیے آپ کیونکہ جماعت کی وجہ سے یہاں آئے ہیں، کیونکہ آپ کے والد یا کسی رشتہ دار نے جماعت کی خاطر اور اللہ کی خاطر اپنی زندگی قربان کر دی تو آپ کو محنت کرنی چاہیے کہ آپ اللہ کے احکامات پر توجہ دیں، ان پر عمل کریں اور اپنے آپ کو مثالی نمونہ اور مومن اور احمدی کے طور پر ظاہر کریں۔

ایک خادم نے حضورِانور سے راہنمائی طلب کی کہ وقف زندگی کے لیے درست نہج کو کیسے اپنایا جائے خاص طور پر ایسے معاشرے میں جو مادہ پرستی میں حد سے بڑھا ہوا ہو۔

حضورِانور نے فرمایا کہ اگر پندرہ سال کی عمر میں آپ نے اپنے وقف کی تجدید کی ہے اور پھر اکیس سال کی عمر میں دوبارہ (تجدید) کی ہے تو یہ پھر آپ کا فرض ہے کہ جب آپ نے خود یہ کہا ہے کہ میں اپنے والدین کی پیشکش کو قبول کرتا ہوں اور اللہ کی راہ میں اپنی زندگی قربان کر نے کے لیے تیار ہوں۔ پھر آ پ کو اس عزم اور اپنے فرائض کا علم ہونا چاہیے۔ اس دنیا میں جہاں ہر طرف مادہ پرستی کی بھرپور کشش ہے آپ کو ان کے خلاف لڑنا ہوگا۔ ایک واقف نو ہونے کی حیثیت سے یہ آپ کا فرض ہے کہ اسلام کا پیغام پھیلائیں، اللہ تعالیٰ کا پیغام پھیلائیں، اسلام اور قرآن کریم کا پیغام پھیلائیں۔

حضورِانور نے اظہار فرمایا کہ آج کا دور مادہ پرستی کے خلاف ایک جنگ کا دور ہے اور احمدی نوجوانوں کو خود کو اس جنگ کے لیے بھرپور طریقہ سے تیار کرنا چاہیے اور اس کے لیے علم اور روحانیت میں بڑھنا چاہیے۔

حضورانور نے فرمایا کہ آپ روحانیت کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ اب آپ کو خود فیصلہ کرنا ہوگا کہ آپ اپنے دشمن (مادہ پرستی)سے لڑنے جا رہے ہیں یا اس کی فوج میں شامل ہونے جا رہے ہیں۔ اس کے لیے پہلی چیز یہ ہے کہ آپ کو پنجوقتہ نماز ادا کرنی چاہیے اور اپنے وقف کو نبھانے کے لیے اللہ سے راہنمائی اور مدد طلب کرنی چاہیے، دوسرا یہ کہ قرآن کریم پڑھیں، راہنمائی دیکھیں، اور قرآن کریم میں ہمیں جو احکامات دیے گئے ہیں وہ دیکھیں۔ مزید یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا مطالعہ کریں اور ان سے راہنمائی حاصل کریں کہ آپ انسان کو کیسے زندگی گزارنے کے بارے میں راہنمائی فرماتے ہیں۔ یہ بات پھر آپ کو مزید پُر عزم بنائے گی اور ایمان اور تعلق کو مضبوط کرے گی۔ تو جیساکہ میں نے آپ کو بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں، قرآن کریم پڑھیں، اس کے احکامات پر غور کریں تاکہ اس دنیاوی مادہ پرستی کے خلاف لڑ سکیں۔ یہ سب آپ کے عزم پر منحصر ہے اور اس پر بھی کہ آپ کس قدر ایمان میں مضبوط ہیں اور اپنے وقف پر قائم ہیں۔

ایک اور خادم نے سوال کیا کہ تبلیغ میں جوش و جذبہ کیسے پیدا کیا جا سکتا ہے۔

حضورِانور نے فرمایا کہ آپ ایک واقف نو ہیں اور جماعت احمدیہ مسلمہ کی خدمت کے لیے اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنی زندگی وقف کی ہے۔ اس لیے اگر آپ کا اللہ تعالیٰ سے مضبوط تعلق ہے، اگر آپ کو اللہ تعالیٰ پر کامل ایمان ہے اور اگر آپ سمجھتے ہیں کہ اسلام اور قرآن کی تعلیمات صحیح تعلیمات ہیں اور صحیح راستہ ہے جو آپ کی اللہ تعالیٰ کی طرف راہنمائی کر سکتا ہےتو پھر آپ کے دل میں یہ خواہش پیدا ہو گی کہ اس چیز کو صرف اپنے اندر تک محدود نہ رکھیں بلکہ اس کو پھیلائیں تاکہ دنیا بھر کے انسانوں کو بچا سکیں۔

حضورِانور نے مزید فرمایا کہ اگر آپ کے دل میں لوگوں کے لیے ہمدرد ی ہے تو دوسروں کو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی سے بچانے کے لیے آپ کو اللہ تعالیٰ کا پیغام پھیلا نا چاہیے۔ اس طرح آپ میں ایک جوش پیدا ہوگا کہ آ پ کو دنیا کو بچانا ہے اور اسلام کا پیغام پھیلانا ہے اور انسانیت کو اللہ تعالیٰ کے قریب لانا ہے۔ پھر اپنا علم بھی بڑھانے کی کوشش کریں۔ اگرآپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب پڑھیں گے اور قرآن کریم اور احادیث تو آپ کو جوش و جذبہ بڑھانے کے راستے اور ذرائع ملیں گے اور یہ بھی کہ بنی نوع انسان کے لیے اپنی ہمدردی کیسے ظاہر کی جائے اور یہ بات پھر تبلیغ کرنے میں ممد ثابت ہو گی۔

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button