متفرق مضامین

میاں بیوی کے حقوق …اسوۂ رسولﷺکی روشنی میں

(ذیشان محمود۔ مربی سلسلہ سیرالیون)

اَلَا وَحَقُّهُنَّ عَلَيْكُمْ اَنْ تُحْسِنُوْا اِلَيْہِنَّ فِيْ كِسْوَتِهِنَّ وَطَعَامِهِنَّ

عورتوں کے حقوق کی جیسی حفاظت اسلام نے کی ہے ویسی کسی دوسرے مذہب نے قطعاً نہیں کی۔ مختصر الفاظ میں فرما دیا:

وَ لَہُنَّ مِثۡلُ الَّذِیۡ عَلَیۡہِنَّ( البقرہ: 229)

کہ جیسے مردوں کے عورتوں پر حقوق ہیں ویسے ہی عورتوں کے مردوں پر ہیں۔ (حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ و السلام)

آج کل سوشل میڈیا پر بہت ساری پوسٹ میاں بیوی کے متعلق ہوتی ہیں۔ کئی لوگ سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز پر طنزیہ لطائف اورmemes شیئر کرتے ہیں جن میں یا تو یہ بتایا جا رہا ہوتا ہے کہ عورت بحیثیت بیوی یا سسرالی رشتوں کے لحاظ سے معاشرےکا ایک نہایت ظالم کردار ہے اور مرد کو بحیثیت خاوند مظلوم متصور کیا جاتا ہے۔ اس کے بالمقابل Feminismنے بھی سر اٹھایا ہوا ہے جو عورت کو خصوصاً بیوی کو مظلوم ٹھہراتے ہیں اور باقی رشتوں میں اس کی تذلیل کی تردیداور تقدیس کا دفاع کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں۔

اس تفاوت کی وجہ یہ ہے کہ عورتوں اور مردوں کے حقوق کی علمبردار نام نہاد تنظیمیں قرآن کریم میں موجود خدا تعالیٰ کی تعلیم اور اس کے رسولﷺ کے اسوہ اور احکامات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے خود تراشیدہ اصولوں کو رائج کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔

رسول اللہﷺ کا اسوہ عائلی زندگی میں نہایت جامع اور قابلِ تقلید ہے۔ آپؐ کی عائلی حیات مبارکہ نہایت عمدہ، خوشیوں سے بھرپور اور ایک مثالی زندگی ہے۔ آپؐ انسان کامل ہونے کے ساتھ ساتھ ایک کامیاب تاجر، قاضی، حکمران، سپہ سالار اور ایک کامیاب اور مثالی شوہر بھی تھے۔

آنحضرتﷺ فرماتے ہیں:

خَیْرُکُمْ خَیْرُکُمْ لِاَھْلِہٖ وَاَنَاخَیْرُکُمْ لِاَھْلِیتم

میں سے بہتر وہ ہے جس کا اپنے اہل و عیال سے سلوک اچھا ہے۔ اور مَیں تم میں سے اپنے اہل سے اچھا سلوک کرنے کے اعتبار سے سب سے بہتر ہوں۔

رسول اللہﷺ کی سیرت کی روشنی میں میاں بیوی کے حقوق کے موضوع پر لکھنا نہایت آسان اور سہل ترین امر ہے۔ اور اس میں کسی قسم کی مبالغہ آرائی یا بناوٹی امور سےنتائج اخذ کرنے کی ضرورت بھی نہیں۔ کیوں کہ آپؐ کے اسوے سے متعلق دو اہم گواہیاں آپؐ کے اہل کی جانب سے ہیں۔ ایک حضرت خدیجہؓ کی گواہی آپؐ کی اس زندگی کے متعلق ہے جو بارِ رسالت سے قبل کی زندگی ہے اور دوسری گواہی حضرت عائشہؓ کی ہے۔

حضرت خدیجہؓ نے رسول کریمﷺ کے ساتھ قریباً پندرہ برس کا طویل عرصہ گزارنے کے بعد پہلی وحی کے موقع پر حضورﷺ کے حسنِ معاشرت کے بارے میں جو گواہی دی وہ یہ تھی:

فَوَاللّٰهِ لاَ يُخْزِيْكَ اللّٰهُ أَبَدًا وَاللّٰهِ إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ وَتَصْدُقُ الْحَدِيْثَ وَتَحْمِلُ الْكَلَّ وَتَكْسِبُ الْمَعْدُوْمَ وَتَقْرِي الضَّيْفَ وَتُعِيْنُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ ‏۔

اللہ کی قسم! اللہ آپ کو کبھی ضائع نہیں کرے گا۔ اللہ کی قسم! آپ تو صلہ رحمی کرنے والے ہیں، آپ ہمیشہ سچ بولتے ہیں، آپ کمزور و ناتواں کا بوجھ خود اٹھا لیتے ہیں، جنہیں کہیں سے کچھ نہیں ملتا وہ آپ کے یہاں سے پا لیتے ہیں۔ آپ مہمان نواز ہیں اور حق کے راستے میں پیش آنے والی مصیبتوں پر لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔

پھر دوسرا حضرت عائشہؓ کا قول رسول اللہﷺ کی بطور مامور زندگی کا خلاصہ پیش کرتا نظر آتا ہے۔ آپؓ نے فرمایا: کَانَ خُلُقُہٗ القُرآن کہ آپﷺ تو سراپا قرآن تھے۔

عَنْ سَعْدِ بْنِ ہِشَامِ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: أَتَیْتُ عَائِشَۃَ فَقُلْتُ: یَا أُمَّ الْمُؤْمِنِینَ! أَخْبِرِینِی بِخُلُقِ رَسُولِ اللّٰہِ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم قَالَتْ: کَانَ خُلُقُہُ الْقُرْآنَ، أَمَا تَقْرَأُ الْقُرْآنَ قَوْلَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ: وَإِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ؟ قُلْتُ: فَإِنِّی أُرِیدُ أَنْ أَتَبَتَّلَ، قَالَتْ: لَا تَفْعَلْ أَمَا تَقْرَأُ: لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِی رَسُولِ اللّٰہِ أُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ۔ فَقَدْ تَزَوَّجَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم وَقَدْ وُلِدَ لَہُ۔ (مسند احمد: 25108)

حضرت سعد بن ہشامؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے ام المومنین! آپ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق سے آگاہ فرمائیں۔ انہوں نے کہا: قرآن ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا اخلاق تھا، کیا تم قرآن نہیں پڑھتے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وَإِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیمٍ…( قلم: 4) بے شک آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اخلاق کی اعلیٰ قدروں پر فائز ہیں۔ میں نے عرض کیا: میں تبتّل کی زندگی اختیار کرنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے کہا: تم ایسا نہ کرو، کیا تم قرآن میں یہ نہیں پڑھتے:

لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِی رَسُولِ اللّٰہِ أُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ…(احزاب:21)

یقیناً تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی زندگی اسوۂ حسنہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے شادیاں کیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اولاد بھی ہوئی۔

پھر حضرت عائشہؓ کی شہادت گھریلوزندگی کے بارے میں یہ ہے کہ نبی کریمؐ تمام لوگوں سے زیادہ نرم خو تھے اور سب سے زیادہ کریم عام آدمیوں کی طرح بلا تکلف گھر میں رہنے والے۔ آپؐ نے کبھی تیوری نہیں چڑھائی ہمیشہ مسکراتے رہتے تھے۔ نیز آپؓ فرماتی ہیں کہ اپنی ساری زندگی میں آنحضرتﷺ نے کبھی اپنی کسی بیوی پر ہاتھ اٹھایا نہ کبھی کسی خادم کو مارا۔ (شمائل ترمذی باب ماجاء فی خلق رسول اللہؐ )

ان دونوں گواہیوں سےیہ معلوم ہوتاہے کہ آپؐ کے اخلاق اپنے گھر کے اندر اور گھر سے باہرکیسے تھے۔ ایک عام انسان جس کا برتاؤ اس کے گھر پر اپنے اہل وعیال کے ساتھ اچھا نہ ہو یا تو اس کے اخلاق گھر کے باہر بھی اچھے نہیں ہوتے یا اگر باہر اچھے تعلقات اور اخلاق کا مظاہرہ کر بھی لے تو اس کے گھر سے ایسی گواہی ملنا ناممکن ہے۔

حقوق زوجین کے متعلق بنیادی حکم

گذشتہ دنوں عورت مارچ کے نام پر پلے کارڈز اٹھائے عورتیں اپنے حقوق کی جنگ لڑنے نکلیں اور انہوں نے ’’میرا جسم میری مرضی ‘‘سمیت کئی نعرے لگائے۔ لیکن میاں بیوی کے حقوق قائم کرتے ہوئے قرآن کریم نے نہایت احسن رنگ میں فرمایا کہ تم ایک دوسرے کا لباس ہو۔ حقوق زوجین سے متعلق ہمیں یہ قرآنی حکم یاد رکھنا چاہیےکہ

ہُنَّ لِبَاسٌ لَّکُمۡ وَ اَنۡتُمۡ لِبَاسٌ لَّہُنَّ(البقرہ: 188)

عورتیں تمہارا لباس ہیں اور تم ان کا لباس ہو۔

یعنی جیسے لباس ایک انسان کی زیبائش کے سامان مہیا کرنے کے ساتھ ساتھ ننگ و ناموس کی حفاظت کر لیتا ہے۔ اسی طرح میاں بیوی کی شخصیت ایک دوسرے سے ہی مکمل ہوتی ہے۔ دونوں کو ایک دوسرے کے لیے باعثِ حسن وآرائش ہونا چاہیے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کی عائلی زندگی کا اسوہ اس قرآنی ارشاد کی عملی تصویر تھا۔ آپؐ کی تمام ازواج آپ سے خوش اور ایک دوسرے پر رشک کرتی نظر آتی ہیں۔ رسول اللہﷺ کا ان سے حسنِ معاشرت اعلیٰ درجے پر تھا۔ عورت کی فطرتی رشک کی کیفیت کے سوا آپﷺ کی زوجات کی زندگی میں کسی قسم کی لڑائی بغض اور الزام تراشی نظر نہیں آتی۔ جس طرح لباس انسانی جسم کی زینت کا موجب ہے اسی طرح آپﷺ اور آپ کی بیگمات اپنے طرزِ معاشرت میں لباس کی طرح حسین نظر آتے ہیں۔

حقوق سے مراد

شوہر کے حقوق سے مراد بیوی کی وہ ذمہ داریاں ہیں، جن کا پورا کرنا اس کے لیے لازم و ضروری ہے اور بیوی کے حقوق سے مراد نان و نفقہ کی فراہمی سمیت وہ امورِ لازم و شرعیہ ہیں، جن کو بجا لانا مرد کے لیے لازم و ضروری ہے۔ اسی لیے قرآن کریم میں انہیں ایک دوسرے کا لباس قرار دیا گیا ہے۔ یہ تمام حقوق نص صریح کے مطابق شرعاً فرائض کا درجہ رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ

اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوۡنَ عَلَی النِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰہُ بَعۡضَہُمۡ عَلٰی بَعۡضٍ وَّ بِمَاۤ اَنۡفَقُوۡا مِنۡ اَمۡوَالِہِمۡ ؕ فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ لِّلۡغَیۡبِ بِمَا حَفِظَ اللّٰہُ وَ الّٰتِیۡ تَخَافُوۡنَ نُشُوۡزَہُنَّ فَعِظُوۡہُنَّ وَاہۡجُرُوۡہُنَّ فِی الۡمَضَاجِعِ وَ اضۡرِبُوۡہُنَّ ۚ فَاِنۡ اَطَعۡنَکُمۡ فَلَا تَبۡغُوۡا عَلَیۡہِنَّ سَبِیۡلًا ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلِیًّا کَبِیۡرًا۔(النساء: 35)

مرد عورتوں پر نگران ہیں اس فضیلت کی وجہ سے جو اللہ نے ان میں سے بعض کو بعض پر بخشی ہے اور اس وجہ سے بھی کہ وہ اپنے اموال (ان پر) خرچ کرتے ہیں۔ پس نیک عورتیں فرمانبردار اور غیب میں بھی ان چیزوں کی حفاظت کرنے والی ہوتی ہیں جن کی حفاظت کی اللہ نے تاکید کی ہے۔ اور وہ عورتیں جن سے تمہیں باغیانہ رویے کا خوف ہو تو ان کو (پہلے تو) نصیحت کرو، پھر ان کو بستروں میں الگ چھوڑ دو اور پھر (عند الضرورت) انہیں بدنی سزا بھی دو۔ پس اگر وہ تمہاری اطاعت کریں تو پھر ان کے خلاف کوئی حجت تلاش نہ کرو۔ یقیناً اللہ بہت بلند (اور) بہت بڑا ہے۔

حقوق کا قیام

اسلام وہ واحد مذہب ہے جس نے بطور مذہب عورت کے ہر رشتے میں اس کے حقوق کا خیال رکھا ہے۔ عورت اور مرد کے بنیادی مساوی حقوق کا قیام بھی اسلام کے ذریعہ سے ہوا ہے۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں: ’’عورتوں کے حقوق کی جیسی حفاظت اسلام نے کی ہے ویسی کسی دوسرے مذہب نے قطعاً نہیں کی۔ مختصر الفاظ میں فرما دیا:

وَ لَہُنَّ مِثۡلُ الَّذِیۡ عَلَیۡہِنَّ( البقرہ: 229)

کہ جیسے مردوں کے عورتوں پر حقوق ہیں ویسے ہی عورتوں کے مردوں پر ہیں۔ بعض لوگوں کا حال سنا جاتا ہے کہ ان بےچاریوں کو پاؤں کی جوتی کی طرح جانتے ہیں اور ذلیل ترین خدمات ان سے لیتے ہیں، گالیاں دیتے ہیں، حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں اور پردہ کا حکم ایسے ناجائز طریقہ سے برتتے ہیں کہ ان کو زندہ درگور کر دیتے ہیں۔ چاہئے کہ بیویوں سے خاوند کا ایسا تعلق ہو جیسے دو سچے اور حقیقی دوستوں کا ہوتا ہے۔ انسان کے اخلاقِ فاضلہ اور اللہ تعالیٰ سے تعلق کی پہلی گواہ تو یہی عورتیں ہوتی ہیں۔ اگر ان ہی سے اس کے تعلقات اچھے نہیں ہیں تو پھر کس طرح ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ سے صلح ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:

خَیْرُکُمْ خَیْرُکُمْ لِاَہْلِہٖ

کہ تم میں سے اچھا وہ ہے جو اپنے اہل کے لئے اچھا ہے۔ ‘‘

( ملفوظات جلد 3صفحہ300تا301، ایڈیشن1988ء)

Feminism کی حامی تنظیمیں مسلمان ممالک میں بھی قائم ہونی شروع ہو گئی ہیں اور قسما قسم کے نعرے لگانے شروع کر دیے ہیں۔ جیسا کہ پہلے بیان ہوا کہ ان تنظیموں نے عورت کو بحیثیت بیوی کے مظلوم ٹھہرا کر مرد کو بحیثیت شوہر ظالم قرار دے دیا ہے جبکہ اپنے دیگر رشتوں میں عورت فی زمانہ بھی ایک مضبوط کردار سمجھی جاتی ہے۔ عورت کو اپنے شوہر کے ہر طرح کے حقوق ادا کرنے کا عملی نمونہ اسوہ نبوی اور اسوہ امہات المومنینؓ سے ہمیں ملتا ہے۔ شوہر کی تکریم کو اس کا حق قرار دیتے ہوئے رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ

لَوْ كُنْتُ آمِرٌ أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا۔

(مشکاۃ المصابیح، 2/281، باب عشرۃ النساء)

یعنی اگر میں کسی کو یہ حکم کرسکتا کہ وہ کسی (غیر اللہ) کو سجدہ کرے تو میں یقیناً عورت کو حکم کرتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے۔

پھر مرد کو بھی عورت کے تمام حقوق کا عملی نمونہ پیش فرمانے کے ساتھ ساتھ عورت کی تکریم کرنے کا ارشاد بھی فرمایا۔ آپﷺ فرماتے ہیں کہ

أكمل المؤمنين إيمانًا أحسنهم خلقًا، وخياركم خياركم لنسائهم۔

(مشکاۃ المصابیح، 2/282، باب عشرۃ النساء)

یعنی مومنین میں سے کامل ترین ایمان اس شخص کا ہے جو ان میں سے بہت زیادہ خوش اخلاق ہو، اور تم میں بہتر وہ شخص ہے جو اپنی عورتوں کے حق میں بہتر ہے۔

پھر آپﷺ نے اپنی مثال بھی پیش کر کے فرمایا کہ

خَیْرُکُمْ خَیْرُکُمْ لِاَہْلِہٖ وَأَنَا خَیْرُکُمْ لِاَهْلِيْ

(مشکاۃ المصابیح، 2/281، باب عشرۃ النساء)

یعنی تم میں بہترین شخص وہ ہے جو اپنے اہل (بیوی، بچوں، اقربا اور خدمت گزاروں ) کے حق میں بہترین ہو، اور میں اپنے اہل کے حق میں تم میں بہترین ہوں۔

ایک اور حدیث مبارک میں ہے:

لا يفرك مؤمن مؤمنةً إن كره منها خُلقًا رضي منها آخر۔

(مشکاۃ المصابیح، 2/280، باب عشرۃ النساء)

کوئی مسلمان مرد کسی مسلمان عورت سے بغض نہ رکھے، اگر اس کی نظر میں اس عورت کی کوئی خصلت وعادت ناپسندیدہ ہوگی تو کوئی دوسری خصلت وعادت پسندیدہ بھی ہوگی۔

یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ بشری تقاضا کے تحت ایک انسان کو دوسرے انسان کی بعض خامیاں نظر آتی ہیں۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ مومن مرد کومومن عورت کی خوبیوں سے اسے پسند کرنا چاہیے بے شک اس کے مطابق اس میں بعض خامیاں ہی کیوں نہ ہوں۔

باہمی الفت و محبت کا حق

میاں بیوی کے درمیان جب تک الفت اور محبت نہ ہو تو حقوق کا قیام عمل میں نہیں آسکتا۔ اس ضمن میں بھی ہمیں رسول اللہﷺ کا اسوہ ملتا ہے۔ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ سے مروی ایک طویل حدیث میں رسول اللہﷺ کا بنیادی حکم یہ ہے کہ

إِنَّكَ أَنْ تَذَرَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَذَرَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ، وَإِنَّكَ لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَةً تَبْتَغِي بِهَا وَجْهَ اللّٰهِ إِلَّا أُجِرْتَ بِهَا، حَتَّى مَا تَجْعَلُ فِي فِي امْرَأَتِكَ۔

(بخاری کتاب الجنائز: 1295)

یعنی اگر تو اپنے وارثوں کو اپنے پیچھے مالدار چھوڑ جائے تو یہ اس سے بہتر ہو گا کہ محتاجی میں انہیں اس طرح چھوڑ کر جائے کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں۔ یہ یاد رکھو کہ جو خرچ بھی تم اللہ کی رضا کی نیت سے کرو گے تو اس پر بھی تمہیں ثواب ملے گا۔ حتیٰ کہ اس لقمہ پر بھی جو تم اپنی بیوی کے منہ میں رکھو۔

مذکورہ بالا حدیث میں جہاں اپنے پیچھے محتاج اور یتیم اولاد کو نہ چھوڑنے کی بابت یہ حکم ہے وہیں یہ حدیث میاں بیوی کی باہمی الفت و محبت کا بھی پتہ دیتی ہے۔ آج کل معاشرے میں لوگ پیسہ جمع کرنے میں جوشیلے نظر آتے ہیں لیکن اپنے اہل و عیال پر خرچ کرنے میں بخل سے کام لیتے ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا: ’’تم جو کچھ اپنے آپ کو کھلاتے ہو وہ تمہارے لیے صدقہ ہے۔ جو اپنے بچے کو کھلاتے ہووہ بھی صدقہ ہے۔ جو بیوی کو کھلاتے ہو وہ بھی صدقہ ہے اور جو اپنے خادم کو کھلا تے ہووہ بھی صدقہ ہے۔ ‘‘

(مسند احمد بن حنبل، حدیث المقدام بن معدیکرب، الحدیث: 17179، جلد6صفحہ92)

محبت اور الفت کے یہ معیار خود رسول اللہﷺ نے اپنی عملی زندگی میں بھی دکھائے ہیں۔

اسلام سے پہلے عورت کی ناقدری اور ذلت کا ایک اور پہلو یہ تھا کہ اپنے مخصوص ایام میں اسے سب گھر والوں سے جدا رہنا پڑتاتھا۔ خاوند کے ساتھ بیٹھنا تو در کنار اہل خانہ بھی اس سے میل جول نہ رکھتے تھے۔ (مسلم کتاب الحیض)

آنحضرتﷺ نے اس معاشرتی برائی کو دور کیا اور آپؐ کی شر یعت میں یہ حکم اترا کہ حیض ایک تکلیف دہ عارضہ ہے ان ایام میں صرف ازدواجی تعلقات کی ممانعت ہے عام معاشرت ہرگز منع نہیں۔ (البقرہ: 223)چنانچہ آنحضورؐ بیویوں کے مخصوص ایام میں ان کا اور زیادہ لحاظ فرماتے۔ ان کے ساتھ مل بیٹھتے۔ بستر میں ان کے ساتھ آرام فرماتے اور ملاطفت میں کوئی کمی نہ آنے دیتے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ ایام مخصوصہ میں بھی بسا اوقات ایسا ہوتا کہ میرے ساتھ کھانا تناول کرتے ہوئے حضورؐ گوشت کی ہڈی یا بوٹی میرے ہاتھ سے لے لیتے اور بڑی محبت کے ساتھ اس جگہ منہ رکھ کر کھاتے جہاں سے میں نے اسے کھایا ہوتا تھا۔ میں کئی دفعہ پانی پی کر برتن حضورؐ کو پکڑا دیتی تھی۔ حضورؐ وہ جگہ ڈھونڈ کر جہاں سے میں نے پانی پیا ہوتا تھا وہیں منہ رکھ کر پانی پیتے تھے۔ (ابوداؤد کتاب الطہارة)اور یہ آپؐ کے پیار کا ایک انوکھا اور ادنیٰ سا اظہار ہوتا تھا۔

(اسوۂ انسان کامل صفحہ 448)

ادائیگی حقوق کی فضیلت

حضرت ام سلمہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ

اَيُّمَا اِمْرَاَةٍ مَاتَتْ وَزَوْجُهَا عَنْهَا رَاضٍ دَخَلَتِ الجَنَّةَ۔

(ترمذی، کتاب الرضاع، باب ماجاء فی حق الزوج علی المرأة، حدیث: 1161)

یعنی ہر عورت جو اس حال میں فوت ہوکہ اس کا خاوند اس سے راضی ہو، تو وہ جنت میں داخل ہوگی۔ اس حدیث سے واضح ہے کہ خاوند کے راضی رہنے کا یہ مطلب ہے کہ عورت پر لازم ہے کہ اپنے خاوند کی ہر امر میں اطاعت اور فرمانبردار رہے۔ ان تمام مذکورہ بالا احادیث پر یکجائی نظر ڈالی جائے تو یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ میاں بیوی کو حقوق مانگنے کی بجائے حقوق دینے پر زور دینا چاہیے۔

عورت کے حقوق

مردوں پر عورتوں کے حقوق قرآن کریم نے صراحتاً بیان فرمائے ہیں۔ جیسا کہ اوپر آیت مذکورہ بالا میں واضح درج ہے کہ مرد قوام ہے۔ یعنی بیوی کے معاشرتی، سماجی اور تمدنی حقوق کی پاس داری کے ساتھ گھر کی کفالت بھی مرد کی ذمہ داری ہے۔

قوام ہونے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ ایک جابر بادشاہ کی طرح عورت کو اپنی لونڈی یا ملکیت خیال کرے بلکہ قوام ہونے کا یہ مطلب ہے کہ وہ عورت کو نان نفقہ کے ساتھ ساتھ معاشرے میں اس کا مقام بھی قائم کرے۔ اسے شرعی حدود و قیود کے دائرہ میں معاشرہ میں نکلنے اور ترقی کرنے کی اجازت دے۔ زبردستی کے بغیر اس کی مرضی کے مطابق اس سے معاشرت کرے۔ اسی آیت میں اللہ تعالیٰ نے

فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ لِّلۡغَیۡبِ بِمَا حَفِظَ اللّٰہُ

کے ساتھ وضاحت بھی فرمادی کے قوام مرد وں کی جانب سے ادائیگی حقوق کے بعد ان عورتوں کو نیک بنتے ہوئے اور فرمانبرداری دکھاتے ہوئے غیب یعنی پوشیدہ امور کی حفاظت بھی کرنی ہوگی۔ عورت کے مساوی حقوق کے بارے میں یہ حدیث کریم بھی ہے۔

میاں بیوی کے حقوق میں اسوۂ رسولﷺ

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی گوناگوں قومی و دینی مصروفیات کے باوجود تمام گھریلو ذمہ داریوں کو بھی ادا فرماتے اور ہر ضروری کام میں حصہ لیتے۔ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جتنا وقت آپ گھر پر ہوتے گھر والوں کی مدد اور خدمت میں مصروف رہتے تھے، یہاں تک کہ آپ کو نماز کا بلاوا آتا اور آپ مسجد تشریف لے جاتے۔

(صحیح بخاری کتاب الادب باب کیف یکون الرجل فی اھلہٖ)

جب آپؓ سے پوچھا گیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں کیا کیا کرتے تھے؟ اس کے جواب میں آپ نے فرمایا: آپ تمام انسانوں کی طرح ایک انسان تھے، کپڑے کو خود پیوند لگا لیتے تھے، بکری خود دوہ لیتے تھے اور اپنے ذاتی کام خود کر لیا کرتے تھے۔

(مسند احمد بن حنبل جلد6 صفحہ242)

نیز بتایا کہ آپ اپنے کپڑے خود سی لیتے تھے، جوتے ٹانک لیا کرتے تھے اور گھر کا ڈول وغیرہ خود مرمت کر لیتے تھے۔

(مسند احمد بن حنبل جلد 5 صفحہ285)

اور جب رات کو دیر سے گھر آتے تو کسی کو زحمت دیے یا جگائے بغیر کھانا یا دودھ خود تناول فرما لیا کرتے تھے۔

(صحیح مسلم کتاب الاشربہ باب اکرام الضیف)

رسول کریمؐ کوشش فرماتے کہ تمام بیویوں کے حقوق کی ادائیگی میں سرُمو فرق نہ آئے۔ جنگوں میں جاتے ہوئے بیویوں میں سے کسی کو ساتھ لے جانے کے لیے قرعہ اندازی فرماتے تھے اور جس کا قرعہ نکلتا اس کو ہمراہ لے جاتے تھے۔

(بخاری کتاب الجہاد باب 63)

ہر چند کہ آیت

تُرۡجِیۡ مَنۡ تَشَآءُ مِنۡہُنَّ وَ تُــٔۡوِیۡۤ اِلَیۡکَ مَنۡ تَشَآءُ (الاحزاب: 52)

کے مطابق آپؐ کو اختیار تھا کہ بیویوں میں سے آپؐ جس کو چاہیں اس کی باری مؤخر کر دیں اور جسے چاہیں اپنے ہاں جگہ دے دیں۔ پھر بھی زندگی میں ایک دفعہ بھی آپؐ نے یہ اختیار استعمال نہیں فرمایا کہ بلاوجہ معمول کی باریوں میں کوئی تفریق کی ہو۔ حضرت عائشہؓ اپنے خاص انداز محبت میں عرض کیا کرتی تھیں کہ اگر یہ اختیار مجھے ہوتا تو میں تو صرف آپؐ کے حق میں ہی استعمال کرتی۔

(بخاری کتاب التفسیر باب سورة الاحزاب باب279)(بحوالہ اسوۂ انسان کامل صفحہ 447)

اقربا پروری

ہمارے آقا و مولیٰﷺ کی اہلی زندگی میں ایک نمایاں خلق یہ بھی نظر آتا ہے کہ آپؐ بیویوں کے نیک اوصاف کی بہت قدر فرماتے تھے۔ چنانچہ حضرت خدیجہؓ کے ایثار وفدائیت اور وفا کی ان کی زندگی میں بھی ہمیشہ پاسداری کی۔ اور وفات کے بعد بھی کئی سال تک آپؐ نے دوسری بیوی نہیں کی۔ ہمیشہ محبت اور وفا کے جذبات کے ساتھ حضرت خدیجہؓ کا محبت بھرا سلوک یاد کیا۔ آپؐ کی اکثراولاد حضرت خدیجہؓ کے بطن سے تھی اس کی تربیت و پرورش کاآپؐ نے خوب لحاظ رکھا۔ نہ صرف ان کے حقوق ادا کیے بلکہ حضرت خدیجہؓ کی امانت سمجھ کر ان سے کمال درجہ محبت فرمائی۔ آپؐ حضرت خدیجہؓ کی بہن ہالہ کی آواز کان میں پڑتے ہی کھڑے ہوکر ان کا استقبال کرتے اور خوش ہوکر فرماتے خدیجہؓ کی بہن ہالہ آئی ہیں۔ گھر میں کوئی جانور ذبح ہوتا تو اس کا گوشت حضرت خدیجہؓ کی سہیلیوں میں بھجوانے کی تاکید فرماتے۔

(صحیح مسلم کتاب الفضائل باب من فضائل خدیجہؓ )

آپؐ حضرت خدیجہؓ کی وفاؤں کے تذکرے کرتے تھکتے نہ تھے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ’’مجھے نبی کریمؐ کی کسی دوسری زندہ بیوی کے ساتھ اس قدر غیرت نہیں ہوئی جتنی حضرت خدیجہؓ سے ہوئی حالانکہ وہ میری شادی سے تین سال قبل وفات پاچکی تھیں۔ ‘‘

(بخاری کتاب الادب باب حسن العہد من الایمان)

قواریر

حقوق کی ادائیگی کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ جسمانی لحاظ سے بھی خیال رکھا جائے۔ اور آپؐ اپنے اہل خانہ کا ہر لحاظ سے بہت خیال رکھتے۔ ایک موقع پر جب اونٹنیوں پر سوار آپؐ سفر فرمارہے تھے تو ایک ایسی اونٹنی جس پر آپؐ کی ازواج سوار تھیں۔ اس کے چلانے والے نے بہت تیزی کے ساتھ اونٹنیوں کو چلایا تو آنحضورﷺ نے فرمایا:

رُوَيْدَكَ يا أنْجَشَةُ، لا تَكْسِرِ القَوَارِيرَ۔

(صحیح بخاری حدیث نمبر 6211)

یعنی آرام سے چلو اے انجشہ! شیشوں کو نہ توڑ دینا۔ آجکل کے زمانے کا یہ محاورہ کہ Glass with care یعنی شیشہ ہے احتیاط سے۔ یہ سب سے پہلے چودہ سو سال قبل حضرت محمدﷺ کی زبان مبارَک سے نکلا تھا۔

پھر ایک سفر میں آنحضرتﷺ نےاپنے اونٹ کے پیچھے اپنی چادر کو پھیلا دیا۔ اس پر حضرت صفیہؓ کو بٹھایا اور جب سواری پر چڑھانا ہوتا تو اپنا گھٹنا قدم رکھنے کے لیے پیش کرتے اور حضرت صفیہؓ اس گھٹنے پر پاؤں رکھ کر پھر اوپر بیٹھتی تھیں۔

نان نفقہ کا حق

پھر بنیادی حقوق کی ادائیگی سے متعلق فرمایا کہ

اَلَا وَحَقُّهُنَّ عَلَيْكُمْ اَنْ تُحْسِنُوْا اِلَيْہِنَّ فِيْ كِسْوَتِهِنَّ وَطَعَامِهِنَّ۔

(ترمذی، کتاب الرضاع، باب ماجاء فی حق المرأة علی زوجھا حدیث: 1166)

یعنی غور سے سنو! بیویوں کا تم پر حق ہے کہ اوڑھنے پہننے اور کھانے پینے کے معاملات میں اُن کے ساتھ بھلائی سے پیش آؤ۔

آنحضورؐ کا نمونہ گھریلو زندگی میں ہر لحاظ سے مثالی اور بہترین تھا۔ آپؐ اپنے اہل خانہ کے نان و نفقہ کا بطور خاص اہتمام فرماتے تھے۔ ہر چند کہ آپؐ کے گھر میں وہ دن بھی آئے جب دودو ماہ تک چولہے میں آگ نہ جلی اور صرف پانی اور کھجور پر گزارا رہا۔

(بخاری کتاب الرقاق باب کیف کان عیش النبیؐ )

رسول کریمؐ اپنے اہل خانہ کو حتّی المقدور قوت لا یموت نہ صرف مہیا فرماتے تھے بلکہ اپنی ذات سے زیادہ اہل خانہ کا فکر فرمایا کرتے تھے۔ خود بسا اوقات کھانا نہ ہونے کی صورت میں روزہ کی نیت فرمالیتے تھے۔ ایسے دن بھی آپؐ پرآئے جب سخت فاقے سے نڈھال ہوکر بھوک کی شدت روکنے کے لیے پیٹ پر سلیں باندھنی پڑیں لیکن اہل خانہ کا اپنے سے بڑھ کر خیال رکھتے اور بوقت وفات بھی اپنی بیویوں کے نان و نفقہ کے بارے میں تاکیدی ہدایت کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کا خرچہ ان کو باقاعدگی کے ساتھ ادا کیاجائے۔ (بخاری کتاب الوصایا)

آپؐ اکثر یہ دعا کرتے کہ ’’اے اللہ میرے اہل کو دنیا میںقوت لایموت ضرور عطا فرمانا۔ ’’یعنی کم ازکم اتنی غذا ضرور دینا کہ فاقوں سے نہ مریں۔

(مسند احمدبن حنبل جلد 2 صفحہ 232، بحوالہ اسوۂ انسانِ کامل صفحہ 442)

بیماری میں خیال رکھنا

بیویوں میں سے کوئی بیمار پڑجاتی تو آپؐ بذات خود اس کی تیمارداری فرماتے۔ تیمارداری کا یہ سلوک کس قدر نمایاں اور ناقابلِ فراموش ہوتا تھا اس کا اندازہ حضرت عائشہؓ کی ایک روایت سے ہوتا ہے۔ آپؓ فرماتی ہیں کہ واقعہ اِفک میں الزام لگنے کے زمانہ میں، اتفاق سے مَیں بیمار پڑ گئی۔ تو اس وقت تک مجھے اپنے خلاف لگنے والے الزامات کی کوئی خبر نہ تھی، البتہ ایک بات مجھے ضرور کھٹکتی تھی کہ ان دنوں میں مَیں آنحضرتﷺ کی طرف سے محبت اور شفقت بھرا تیمارداری کا وہ کریمانہ سلوک محسو س نہیں کرتی تھی جو اس سے پہلے کبھی بیمار ی میں آپؐ فرمایا کرتے تھے۔ واقعہ افک کے زمانے میں تو بس اتنا تھا کہ آپؐ میرے پاس آتے سلام کرتے اور یہ کہہ کر کہ کیسی ہو؟ واپس تشریف لے جاتے۔ اس سے مجھے سخت تکلیف ہوتی تھی کہ پہلے تو بیماری میں بڑے ناز اٹھاتے تھے اب ان کو کیا ہوگیا ہے؟

(بخاری کتاب المغازی بحوالہ اسوۂ انسان کامل صفحہ 448تا449)

معمولی نزاع میں ثالث کا حق

آپﷺ نے معمولی نزاع میں بھی حضرت عائشہؓ کو ثالثیت کا حق دیا اور ان کی پسند سے ثالث مقرر کیا۔

حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول کریمؐ کے ساتھ ایک دفعہ کچھ تکرار ہوگئی آپؐ فرمانے لگے کہ تم کسی کو ثالث بنالو۔ کیا عمر بن الخطابؓ ثالث منظور ہیں؟ حضرت عائشہؓ نے کہا نہیں وہ سخت اور درشت ہیں۔ آپؐ نے فرمایا اچھا اپنے والد کو ثالث بنالو۔ کہنے لگیں ٹھیک ہے تب رسول اللہؐ نے حضرت ابوبکرؓ کو بلوا بھیجا اور بات شروع کی کہ عائشہؓ کی یہ بات یوں ہوئی۔ میں نے کہا آپؐ اللہ سے ڈریں اور سوائے سچ کے کچھ نہ کہیں۔ اس پر حضرت ابوبکرؓ نے زور سے مجھے تھپڑ رسید کیااور فرمانے لگے تمہاری ماں تمہیں کھوئے۔ تم اور تمہارا باپ سچ بولتے ہو اور خدا کا رسول حق نہیں کہتااس تھپڑ کے نتیجے میں مجھے نکسیر پھوٹ پڑی۔ رسول کریمﷺ فرمانے لگے اے ابوبکرؓ !ہم نے تجھے اس لیے تو نہیں بلایا تھا۔ حضرت ابوبکرؓ نے ایک کھجور کی چھڑی لی اور مجھے مارنے کو دوڑے۔ میں آگے آگے بھاگی اور جاکررسول اللہؐ سے چمٹ گئی۔ رسول کریمؐ نے حضرت ابوبکرؓ سے کہا میں آپؐ کو قسم دے کر کہتا ہوں کہ اب آپؐ چلے جائیں۔ ہم نے آپؐ کو اس لیے نہیں بلایا تھا۔ جب وہ چلے گئے تو میں رسول اللہؐ سے الگ ہوکر ایک طرف جابیٹھی۔ آپؐ فرمانے لگے عائشہؓ میرے قریب آجائو۔ مَیں نہیں گئی تو آپؐ مسکراکر فرمانے لگے ابھی تھوڑی دیر پہلے تو تم نے میری کمر کو زور سے پکڑ رکھا تھااورخوب مجھ سے چمٹی ہوئی تھیں۔

(ازواج النبیﷺ از محمد بن یوسف الصالحی مطبوعہ بیروت بحوالہ السمط الثمین صفحہ 50 بحوالہ اسوۂ انسان کامل صفحہ 456تا457)

لیکن یہ نہیں کہ ہر بار باپ کو بیٹی کو مارنے کی اجازت دی۔

ایک دن حضرت عائشہؓ گھر میں آنحضرتﷺ سے کچھ تیز تیز بول رہی تھیں کہ اوپر سے ان کے ابا حضرت ابو بکرؓ تشریف لائے۔ یہ حالت دیکھ کران سے رہا نہ گیا اور اپنی بیٹی کو مارنے کےلیے آگے بڑھے کہ خدا کے رسول کے آگے اس طرح بولتی ہو۔ آنحضرتؐ یہ دیکھتے ہی باپ اور بیٹی کے درمیان حائل ہوگئے اور حضرت ابو بکرؓ کی متوقع سزا سے حضرت عائشہؓ کو بچا لیا۔ جب حضرت ابوبکرؓ چلے گئے تورسول کریمؐ حضرت عائشہؓ سے ازراہ تفنن فرمانے لگے۔ دیکھا آج ہم نے تمہیں تمہارے ابا سے کیسے بچایا؟ کچھ دنوں کے بعد حضرت ابو بکرؓ دوبارہ تشریف لائے تو آنحضرتﷺ کے ساتھ حضرت عائشہؓ ہنسی خوشی باتیں کررہی تھیں۔ حضرت ابوبکرؓ کہنے لگے دیکھو بھئی تم نے اپنی لڑائی میں تو مجھے شریک کیا تھا اب خوشی میں بھی شریک کرلو۔

(ابوداؤد باب الادب بحوالہ اسوۂ انسان کامل صفحہ 456)

تفریح کا سامان

بعض لوگوں میں عورت کے پردہ کو لے کر اتنی شدت آگئی ہے کہ وہ عورت کے گھر سے باہر قدم نکالنے کو بھی گناہِ کبیرہ قرار دیتے ہیں۔ اس ضمن میں یاد رکھنا چاہیے کہ اسلام کی ایسی کوئی سخت تعلیم نہیں۔ بلکہ پردہ میں رہ کر عورت خود کو ایک محفوظ حصار میں خیال کرتے ہوئے ہر کام کر سکتی ہے۔

رسول اللہﷺ کا اسوہ اس بارے میں واضح ہے کہ آپ اپنی زوجات کو جنگوں میں لے کر جاتے، حج و عمرہ میں بھجوایا بلکہ ساتھ بھی لے کر گئے، اور پھر خود حفاظتی حصار مہیا کرکے بیوی کے لیے تفریح کا سامان بھی مہیا کیا۔ درج ذیل حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہﷺ کو عورت کے باپردہ گھر سے باہر نکلنے پر اعتراض نہ تھا۔

عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ الْحَبَشُ يَلْعَبُونَ بِحِرَابِهِمْ، فَسَتَرَنِي رَسُولُ اللّٰهِ صلى اللّٰه عليه وسلم وَأَنَا أَنْظُرُ، فَمَا زِلْتُ أَنْظُرُ حَتَّى كُنْتُ أَنَا أَنْصَرِفُ فَاقْدُرُوا قَدْرَ الْجَارِيَةِ الْحَدِيثَةِ السِّنِّ تَسْمَعُ اللَّهْوَ‏۔ (صحیح بخاری حدیث نمبر: 5190)

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ کچھ فوجی کھیل کا نیزہ بازی سے مظاہرہ کر رہے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اپنے جسم مبارک سے) میرے لیے پردہ کیا اور میں وہ کھیل دیکھتی رہی۔ میں نے اسے دیر تک دیکھا اور خود ہی اکتا کر لوٹ آئی۔ اب تم خود سمجھ لو کہ ایک کم عمر لڑکی کھیل کو کتنی دیر تک دیکھ سکتی ہے اور اس میں دلچسپی لے سکتی ہے۔

عورت کو مارنا

آپﷺ کی سیرت سے معمولی اور وقتی ناراضگی کے علاوہ کوئی ایسی مثال نہیں ملتی جس سے معلوم ہو کہ آپﷺ لمبے عرصہ تک اپنی کسی زوجہ سے ناراض رہے ہوں یا آپؐ کو مارنے کی نوبت آئی ہو۔ بلکہ آپؐ نے تشدد کو ناپسند فرمایا۔ مرد کی فطرت کے مطابق حدود کا تعین بھی کردیا کہ اگر مارنے کی نوبت آئے تو چہرے پر نہیں مارنا۔

خطبہ حجۃ الوداع کی طویل حدیث میں درج ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:

فَاتَّقُوا اللّٰهَ فِي النِّسَاءِ، فَإِنَّكُمْ أَخَذْتُمُوهُنَّ بِأَمَانِ اللّٰهِ، وَاسْتَحْلَلْتُمْ فُرُوجَهُنَّ بِكَلِمَةِ اللّٰهِ، وَلَكُمْ عَلَيْهِنَّ أَنْ لَا يُوطِئْنَ فُرُشَكُمْ أَحَدًا تَكْرَهُونَهُ، فَإِنْ فَعَلْنَ ذَلِكَ فَاضْرِبُوهُنَّ ضَرْبًا غَيْرَ مُبَرِّحٍ، وَلَهُنَّ عَلَيْكُمْ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ۔ (صحیح مسلم کتاب الحج حدیث نمبر 2950)

یعنی تم لوگ عورتوں کے معاملے میں اللہ کا تقوی اختیار کرو۔ اس لیے کہ ان کو تم نے اللہ کی امان سے لیا ہے اور تم نے ان کے ستر کو اللہ تعالیٰ کے کلمہ سے حلال کیا ہے اور تمہارا حق ان پر یہ ہے کہ تمہارے بچھونے پر کسی ایسے شخص کو نہ آنے دیں (یعنی تمہارے گھر میں ) جس کا آنا تم کو ناگوار ہو۔ پھر اگر وہ ایسا کریں تو ان کو ایسے مارو کہ ان کو سخت چوٹ نہ لگے (یعنی ہڈی وغیرہ نہ ٹوٹے، کوئی عضو ضائع نہ ہو۔ حسن صورت میں فرق نہ آئے کہ تمہاری کھیتی اجڑ جائے) اور ان کا حق تمہارے اوپر اتنا ہے کہ روٹی ان کی اور کپڑا ان کا دستور کے موافق تمہارے ذمہ ہے۔

لیکن ایک اَور جگہ فرمایا کہ

لَا يَجْلِدُ اَحَدُكُمْ اِمْرَاَتَهُ جَلْدَ الْعَبْدِ ثُمَّ يُجَامِعُهَا فِيْ آخِرِ الْيَوْمِ۔

(صحیح بخاری حدیث نمبر 5204)

یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں کوئی شخص اپنی بیوی کو غلاموں کی طرح نہ مارے کہ پھر دن کے آخری حصہ میں اس سے ہمبستر ہو گا۔ یعنی اس وقت کیا عزتِ نفس باقی رہ جائے گی کہ دن میں عورت کو ذلیل کیا ہو اور رات کو اسی کے پاس تسکین کی غرض سے جاؤ۔

24؍جون2005ء کو انٹرنیشنل سینٹرٹورانٹو کینیڈا میں حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے خطبہ جمعہ ارشاد فرماتے ہوئے مردوں کو عورتوں سے حسنِ سلوک کرنے کی نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: ’’مرد کو اللہ تعالیٰ نے قَوّام بنایا ہے، اس میں برداشت کا مادہ زیادہ ہوتا ہے۔ اس کے اعصاب زیادہ مضبوط ہوتے ہیں۔ اگر چھوٹی موٹی غلطیاں، کوتاہیاں ہو بھی جاتی ہیں تو ان کو معاف کرنا چاہئے۔ ‘‘

(مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل 08؍جولائی2005ء)

حقوق کا مطالبہ نہ کیا

رسول اللہﷺ کی سیرت میں ہمیں یہ امر قطعاً نظر نہیں آتا کہ آپ نے اپنی عائلی زندگی میں کسی بھی زوجہ سے اپنے حقوق کا مطالبہ کیا ہو۔ بلکہ آپﷺ تو یہ تلقین کرتے کہ خدا کی خاطر حق چھوڑ دینے کا کہتے۔ ایک روایت میں آتا ہے کہ ایک بار حضرت عائشہؓ سےساری رات عبادت کرنے کی اجازت چاہی۔

عطا ء روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں ابن عمرؓ اور عبیداللہ بن عمرؓ کے ساتھ حضرت عائشہؓ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اور میں نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے عرض کی کہ مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی عجیب ترین بات بتائیے جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دیکھی ہو۔ اس پر حضرت عائشہؓ آپ(صلی اللہ علیہ وسلم) کی یاد سے بیتاب ہو کر رو پڑیں اور کہنے لگیں کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر ادا ہی نرالی ہوتی تھی۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات میرے پاس تشریف لائے۔ میرے ساتھ میرے بستر میں لیٹے پھر آپؐ نے فرمایا اے عائشہ! کیا آج کی رات تو مجھے اجازت دیتی ہے کہ میں اپنے رب کی عبادت کر لوں۔ میں نے کہا خدا کی قسم! مجھے تو آپؐ کی خواہش کا احترام ہے اور آپ کا قرب پسند ہے۔ میری طرف سے آپ کو اجازت ہے۔ تب آپ اٹھے اور مشکیزہ سے وضو کیا۔ نماز کے لیے کھڑے ہو گئے اور نماز میں اس قدر روئے کہ آپ کے آنسو آپ کے سینہ پر گرنے لگے۔ نماز کے بعد آپ دائیں طرف ٹیک لگا کر اس طرح بیٹھ گئے کہ آپؐ کا دایاں ہاتھ آپؐ کے دائیں رخسار پر تھا۔ آپؐ نے پھر رونا شروع کر دیا۔ یہاں تک کہ آپ کے آنسو زمین پر ٹپکنے لگے۔ آپؐ اسی حالت میں تھے کہ فجر کی اذان دینے کے بعد بلال آئے جب انہوں نے آپ کو اس طرح گریہ و زاری کرتے ہوئے دیکھا تو کہنے لگے یا رسول اللہ! آپ اتنا کیوں روتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ آپ کے گذشتہ اور آئندہ ہونے والے سارے گناہ بخش چکا ہے۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں۔

(تفسیر روح البیان زیر تفسیر سورہ آل عمران آیت 191تا192، ماخوذ ازخطبہ جمعہ فرمودہ18؍ فروری 2005ء)

اسلام کی عورت سے حسنِ سلوک کی عمومی مثالی تعلیم

حضور انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے عورتوں سے حُسنِ سلوک کے بارے میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ایک حوالہ سناتے ہوئے فرمایا:

’’ایک جگہ آپؑ فرماتے ہیں یہ دل دُکھانا بڑے گناہ کی بات ہے اور لڑکیوں کے تعلقات بہت نازک ہوتے ہیں۔ تو جہاں مردوں کو سختی کی اجازت ہے وہ تنبیہ کی اجازت ہے۔ مارنے کی تو سوائے خاص معاملات کے اجازت ہے ہی نہیں اور وہاں بھی صرف دین کے معاملات میں اور اللہ تعالیٰ کے واضح احکامات کی خلاف ورزی کرنے کے معاملات میں اجازت ہے۔ لیکن جو مرد خود نماز نہیں پڑھتا، خود دین کے احکامات کی پابندی نہیں کر رہا وہ عورت کوکچھ کہنے کا کیا حق رکھتا ہے؟ تو مردوں کو شرائط کے ساتھ جو بعض اجازتیں ملی ہیں وہ عورت کے حقوق قائم کرنے کے لئے ہیں۔ (شاید عورتوں کو یہ خیال ہو کہ یہ باتیں تو مردوں کو بتانی چاہئیں۔ فکر نہ کریں ساتھ کی مارکی میں مرد سن رہے ہیں بلکہ ساری دنیا میں سن رہے ہیں آپ کے حقوق کی حفاظت کے لئے۔ )

ایک صحابی کے اپنی بیوی کے ساتھ سختی سے پیش آنے اور ان سے حسن سلوک نہ کرنے پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے الہاماً بیویوں سے حسن سلوک کرنے کا حکم فرمایا کہ: یہ طریق اچھا نہیں اس سے روک دیا جائے مسلمانوں کے لیڈر عبدالکریم کو۔

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ۔ روحانی خزائن جلد نمبر 17صفحہ 75)

آپ علیہ السلام فرماتے ہیں کہ: ’’اس الہام میں تمام جماعت کے لئے تعلیم ہے کہ اپنی بیویوں سے رفق اور نرمی کے ساتھ پیش آویں۔ وہ ان کی کنیزیں نہیں ہیں۔ درحقیقت نکاح مرد اور عورت کا باہم ایک معاہدہ ہے۔ پس کوشش کرو کہ اپنے معاہدہ میں دغا باز نہ ٹھہرو۔ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے:

عَاشِرُوْ ھُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ (النساء: 20)

یعنی اپنی بیو یوں کے ساتھ نیک سلوک کے ساتھ زندگی بسرکرو۔ اور حدیث میں ہے: خَیْرُکُمْ خَیْرُکُمْ لِاَھْلِہٖٖ یعنی تم میں سے اچھا وہی ہے جو اپنی بیوی سے اچھا ہے۔ سو روحانی اور جسمانی طور پر اپنی بیویوں سے نیکی کرو۔ ان کے لئے دعا کرتے رہو اور طلاق سے پرہیز کرو۔ کیونکہ نہایت بد، خدا کے نزدیک وہ شخص ہے جو طلاق دینے میں جلدی کرتا ہے۔ جس کو خدا نے جوڑا ہے اس کو ایک گندے برتن کی طرح جلد مت توڑو۔ ‘‘

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ۔ روحانی خزائن جلد نمبر 17صفحہ 75حاشیہ)

تو دیکھیں کہ اس زمانے میں بھی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ سے حقوق ادا کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم فرما دیا۔ ایک جگہ آپؑ فرماتے ہیں کہ: اصل میں تو مرد کو ایک طرح سے عورت کا نوکر بنا دیا ہے۔ آج پڑھی لکھی دنیا کا کوئی قانون بھی اس طرح عورت کو حق نہیں دلواتا‘‘۔

(جلسہ سالانہ یوکے خطاب از مستورات فرمودہ 31؍جولائی 2004ء مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل 24؍اپریل 2015ء)

حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے خطاب31؍جولائی 2004ء برموقع جلسہ سالانہ برطانیہ میں مردوں اور عورتوں کو اُن کے فرائض کی طرف نہایت احسن رنگ میں توجہ دلاتے ہوئے فرمایا:

’’دیکھیں کتنی وضاحت سے آپؑ نے فرمایا کہ حقوق کے لحاظ سے دونوں کے حقوق ایک جیسے ہیں۔ اس لئے مرد یہ کہہ کر کہ میں قوّام ہوں اس لئے میرے حقوق بھی زیادہ ہیں، زیادہ حقوق کا حق دار نہیں بن جاتا۔ جس طرح عورت مرد کے تمام فرائض ادا کرنے کی ذمہ دار ہے اسی طرح مرد بھی عورت کے تمام فرائض ادا کرنے کا ذمہ دار ہے۔ ‘‘

آگے چل کر فرمایاکہ’’ہمارے ہاں یہ محاورہ ہے کہ عورت پاؤں کی جوتی ہے، یہ انتہائی گھٹیا سوچ ہے، غلط محاورہ ہے۔ اس محاورے کا مطلب یہ ہے کہ جب عورت سے دل بھر گیا تو دوسری پسند آ گئی اس سے شادی کر لی اسے چھوڑ دیا اور پہلی بیوی کے جذبات و احساسات کا کوئی خیال ہی نہ رکھا گیا تو یہ انتہائی گھٹیا حرکت ہے۔ عورت کوئی بے جان چیز نہیں ہے بلکہ جذبات احساسات رکھنے والی ایک ہستی ہے۔ مردوں کو یہ سمجھایا ہے کہ یہ ایک عرصے تک تمہارے گھر میں سکون کا باعث بنی، تمہارے بچوں کی ماں ہے، ان کی خاطر تکلیفیں برداشت کرتی رہی ہے۔ اب اس کو تم ذلیل سمجھو اور گھٹیا سلوک کرو اور بہانے بنا بنا کر اس کی زندگی اجیرن کرنے کی کوشش کرو تو یہ بالکل ناجائز چیز ہے۔ یا پھر پردہ کے نام پر باہر نکلنے پر ناجائز پابندیاں لگا دو۔ اگر کوئی مسجد میں جماعتی کام کے لئے آتی ہے تو الزام لگا دو کہ تم کہیں اور جا رہی ہو۔ یہ انتہائی گھٹیا حرکتیں ہیں جن سے مردوں کوروکا گیا ہے حالانکہ ہونا تو یہ چاہئے کہ تمہارا عورت سے اس طرح سے سلوک ہو جیسے دو سچے اور حقیقی دوستوں کا ہوتا ہے۔ جس طرح دو حقیقی دوست ایک دوسرے کے لئے قربانیاں کرنے کے لئے تیار ہوتے ہیں اس طرح مرد اور عورت کو تعلق رکھنا چاہئے کیونکہ جس بندھن کے تحت عورت اور مرد آپس میں بندھے ہیں وہ ایک زندگی بھر کا معاہدہ ہے اور معاہدے کی پاسداری بھی اسلام کا بنیادی حکم ہے۔ معاہدوں کو پورا کرنے والے اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ ٹھہرتے ہیں اور کیونکہ یہ ایک ایسا بندھن ہے جس میں ایک دوسرے کے راز دار بھی ہوتے ہیں اس لئے فرمایا کہ مرد کی بہت سی باتوں کی عورت گواہ ہوتی ہے کہ اس میں کیا کیانیکیاں ہیں، کیا خوبیاں ہیں، کیا برائیاں ہیں۔ اس کے اخلاق کا معیار کیا ہے؟ تو حضرت اقدس مسیح موعودؑ فرما رہے ہیں کہ اگر مرد عورت سے صحیح سلوک نہیں کرتا اور اس کے ساتھ صلح صفائی سے نہیں رہتا، اس کے حقوق ادا نہیں کرتا تو وہ اللہ تعالیٰ کے حقوق کیسے ادا کرے گا، اس کی عبادت کس طرح کرے گا، کس منہ سے اس سے رحم مانگے گا؟ جبکہ وہ خود اپنی بیوی پر ظلم کرنے والا ہے۔ اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ تم میں سے و ہی اچھا ہے جو اپنے اہل سے اچھا ہے، اپنی بیوی سے اچھا ہے۔ تو دیکھیں یہ ہے عورت کا تحفظ جو اسلام نے کیا ہے۔ اب کو نسا مذہب ہے جو اس طرح عورت کو تحفظ دے رہا ہو۔ اس کے حقوق کا اس طرح خیال رکھتا ہو۔ ‘‘

سورت النساء آیت 35کی تفسیر بیان فرماتے ہوئے حضور انور نے اسی خطاب میں فرمایا کہ

’’ اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَی النِّسَآءِ

یعنی مردوں کو عورتوں پر حاکم بنایا گیاہے۔ اور پھر یہ:

بِمَا فَضَّلَ اللّٰہُ (النساء: 35)

مرد کو ہر پہلو سے عورت پر فضیلت دی گئی ہے۔ اس کی مفسرین نے مختلف تفسیریں کی ہیں۔ لیکن ایک بہت خوبصورت تفسیر جو حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے کی ہے وہ میں تھوڑی سی بیان کرتاہوں۔ فرمایا: ’’کہ سب سے پہلے تو لفظ قوّام کو دیکھتے ہیں۔ قوّام کہتے ہیں ایسی ذات کو جو اصلاح احوال کرنے والی ہو، جودرست کرنے والی ہو، جوٹیڑھے پن اور کجی کو صاف سیدھا کرنے والی ہو۔ چنانچہ قوّام اصلاح معاشرہ کے لئے ذمہ دار شخص کو کہا جائے گا۔ پس قوّامون کا حقیقی معنی یہ ہے کہ عورتوں کی اصلاحِ معاشرہ کی اول ذمہ داری مرد پر ہوتی ہے۔ اگر عورتوں کا معاشرہ بگڑنا شروع ہوجائے، ان میں کج روی پیدا ہوجائے، ان میں ایسی آزادیوں کی رو چل پڑے جو ان کے عائلی نظام کو تباہ کرنے والی ہو۔ یعنی گھریلوں نظام کو تباہ کرنے والی ہو، میاں بیوی کے تعلقات کوخراب کرنے والی ہو، توعورت پر دوش دینے سے پہلے مرد اپنے گریبان میں منہ ڈا ل کر دیکھیں۔ کیونکہ خدا تعالیٰ نے ان کو نگران مقرر فرمایا تھا۔ معلوم ہوتاہے انہوں نے اپنی بعض ذمہ داریاں اس سلسلہ میں ادا نہیں کیں اور:

بِمَا فَضَّلَ اللّٰہُ بَعْضَہُمْ عَلٰی بَعْضٍ(النساء: 35)

میں خداتعالیٰ نے جوبیان فرمایاہے وہ یہ ہے کہ خد اتعالیٰ نے ہر تخلیق میں کچھ خلقی فضیلتیں ایسی رکھی ہیں جو دوسری تخلیق میں نہیں ہیں اور بعض کو بعض پر فضیلت ہے۔ قوّام کے لحاظ سے مرد کی ایک فضیلت کا اس میں ذکر فرمایا گیا ہے۔ ہرگزیہ مرادنہیں کہ مرد کو ہر پہلو سے عورت پر فضیلت حاصل ہے۔ ‘‘

(خطاب حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ بر موقع جلسہ سالانہ انگلستان۔ یکم اگست 1987ء)

تو، اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَی النِّسَآءِ (النساء: 35)

کہہ کر مردوں کو تو جہ دلائی گئی ہے کہ تمہیں جو اللہ تعالیٰ نے معاشرے کی بھلائی کا کام سپرد کیا ہے تم نے اس فرض کو صحیح طور پر ادا نہیں کیا۔ اس لئے اگر عورتوں میں بعض برائیاں پیدا ہوئی ہیں تو تمہاری نا اہلی کی وجہ سے پیدا ہوئی ہیں۔ پھر عورتیں بھی اس بات کو تسلیم کرتی ہیں، اب بھی، اس مغربی معاشرے میں بھی، اس بات کو تسلیم کیا جاتا ہے یہاں تک کہ عورتوں میں بھی، کہ عورت کو صنف نازک کہا جاتاہے۔ تو خود تو کہہ دیتے ہیں کہ عورتیں نازک ہیں۔ عورتیں خود بھی تسلیم کرتی ہیں کہ بعض اعضاء جو ہیں، بعض قویٰ جو ہیں مردوں سے کمزور ہوتے ہیں، مردکا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔ اس معاشرے میں بھی کھیلوں میں عورتوں مردوں کی علیحدہ علیحدہ ٹیمیں بنائی جاتی ہیں۔ تو جب اللہ تعالیٰ نے کہہ دیا کہ میں تخلیق کرنے والا ہوں اور مجھے پتہ ہے کہ میں نے کیا بناوٹ بنائی ہوئی ہے مرد اور عورت کی اور اس فرق کی وجہ سے میں کہتا ہوں کہ مرد کو عورت پر فضیلت ہے تو تمہیں اعتراض ہو جاتاہے کہ دیکھو جی اسلام نے مرد کو عورت پر فضیلت دے دی۔ عورتوں کو تو خوش ہو نا چاہئے کہ یہ کہہ کر اللہ تعالیٰ نے مرد پر زیادہ ذمہ داری ڈال دی ہے اس لحاظ سے بھی کہ اگر گھریلو چھوٹے چھوٹے معاملات میں عورت اور مرد کی چھوٹی چھوٹی چپقلشیں ہوجاتی ہے، ناچاقیاں ہو جاتی ہیں تو مرد کو کہا کہ کیونکہ تمہارے قویٰ مضبوط ہیں، تم قوّام ہو، تمہارے اعصاب مضبوط ہیں اس لئے تم زیادہ حوصلہ دکھاؤاور معاملے کوحوصلے سے اس طرح حل کر و کہ یہ ناچاقی بڑھتے بڑھتے کسی بڑی لڑائی تک نہ پہنچ جائےاور پھر طلاقوں اور عدالتوں تک نوبت نہ آجائے۔ پھر گھر کے اخراجات کی ذمہ داری بھی مرد پر ڈالی گئی ہے۔ ‘‘

(جلسہ سالانہ یوکے خطاب از مستورات فرمودہ 31؍جولائی 2004ء مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل 24؍اپریل 2015ء)

اپنے اسی خطاب کے دوران حضور انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے سورت النساء آیت 20کی تلاوت اور ترجمہ بیان کرنے کے بعد اس کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا:

’’یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا یَحِلُّ لَکُمۡ اَنۡ تَرِثُوا النِّسَآءَ کَرۡہًا ؕ وَ لَا تَعۡضُلُوۡہُنَّ لِتَذۡہَبُوۡا بِبَعۡضِ مَاۤ اٰتَیۡتُمُوۡہُنَّ اِلَّاۤ اَنۡ یَّاۡتِیۡنَ بِفَاحِشَۃٍ مُّبَیِّنَۃٍ ۚ وَ عَاشِرُوۡہُنَّ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ۚ فَاِنۡ کَرِہۡتُمُوۡہُنَّ فَعَسٰۤی اَنۡ تَکۡرَہُوۡا شَیۡئًا وَّ یَجۡعَلَ اللّٰہُ فِیۡہِ خَیۡرًا کَثِیۡرًا۔ (النساء: 20)

اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! تمہارے لئے جائز نہیں کہ تم زبردستی کرتے ہوئے عورتوں کا ورثہ لو۔ اور انہیں اس غرض سے تنگ نہ کرو کہ تم جو کچھ انہیں دے بیٹھے ہو اس میں سے کچھ(پھر) لے بھاگو، سوائے اس کے کہ وہ کھلی کھلی بےحیائی کی مرتکب ہوئی ہوں۔ اور ان سے نیک سلوک کے ساتھ زندگی بسر کرو۔ اور اگر تم اُنہیں ناپسند کرو تو عین ممکن ہے کہ تم ایک چیز کو ناپسند کرو اور اللہ اس میں بہت بھلائی رکھ دے۔

اللہ تعالیٰ تمہیں یہ حکم دیتا ہے کہ عورتوں سے حسن سلوک کرو۔ جن کو تم دوسرے گھروں سے بیاہ کر لائے ہو ان کے عزیز رشتے داروں سے ماں باپ بہنوں بھائیوں سے جدا کیا ہے ان کو بلاوجہ تنگ نہ کرو، ان کے حقوق ادا کرو اور ان کے حقوق ادا نہ کرنے کے بہانے تلاش نہ کرو۔ ‘‘

(جلسہ سالانہ یوکے خطاب از مستورات فرمودہ 31؍جولائی 2004ءمطبوعہ الفضل انٹرنیشنل 24؍اپریل 2015ء)

حرف آخر

جون2012ء میں امریکہ کی طالبات کے ساتھ ایک نشست میں ایک سوال کے جواب میں حضور انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نےفرمایا کہ ’’سوسائٹی میں، اپنے گھر میں، اپنے سسرال والوں کے ساتھ اور اپنے ماحول میں جو بھی بےچینیاں اور پریشانیاں پیدا ہوں وہ استغفار کرنے اور

لَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْم

پڑھنے سے دور کی جاسکتی ہیں۔ ‘‘

(مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل 17؍ اگست2012ء)

اللہ تعالیٰ نے نبی پاکﷺ کے ذریعہ اکمل دین حق میں عورت کو وہ حقوق عطا فرمائے کہ وہ بد نصیبی جو عورت کا مقدر سمجھی جاتی تھی اور عورت کو جانور سے بدتر مقام حاصل تھا، ان تمام رسوم اور عادات کا خاتمہ کر دیا گیا۔ عورت کو مرد کے مساوی حقوق عطا کیے گئے۔ بحیثیت بیوی عورت کا مقام اور حقوق جو دینِ اسلام میںرسول اللہﷺ نے قائم فرمائے آج کل کی ترقی یافتہ قومیں ان کو از خود رائج کرکے یہ خیال کرتی ہیں کہ وہ نئے قوانین اور حقوق ایجاد کر رہے ہیں۔ لیکن یاد رکھنا چاہیے کہ آپﷺ نے عورت کے بنیادی معاشرتی رشتے میں وہ عظیم نمونہ قائم کیا کہ جس نے آپ کی اہلی و عائلی حیات کو حسین تر اور جنت نظیر بنا دیا۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو توفیق عطا فرمائے کہ ہم رسول اللہﷺ کے اسوۂ حسنہ اوراعلیٰ اخلاق کو اپنی زندگیوں میں قائم کر کے عائلی زندگی سنوارنے والے ہوں اور سب سے بڑھ کر ہم اپنے اور اپنے اہل کے لیے ہر دم دعائیں اور استغفار کرنے والے ہوں۔ آمین

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

For security, use of Google's reCAPTCHA service is required which is subject to the Google Privacy Policy and Terms of Use.

I agree to these terms.

Back to top button
Close