متفرق مضامین

والدین کے حقوق (قسط دوم۔ آخری)

(لئیق احمد مشتاق ۔ مبلغ سلسلہ سرینام، جنوبی امریکہ)

فخر موجوداتﷺ کے فرمودات اور اُسوہ

اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے:اپنے والدین کو بیزاری کا کلمہ مت کہو اور ایسی باتیں ان سے نہ کر جن میں ان کی بزرگواری کا لحاظ نہ ہو

والدین کی خدمت مصائب سے نجات کا ذریعہ

عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا، عَنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: بَيْنَمَا ثَلَاثَةُ نَفَرٍ يَتَمَاشَوْنَ أَخَذَهُمُ الْمَطَرُ فَمَالُوا إِلَى غَارٍ فِي الْجَبَلِ فَانْحَطَّتْ عَلَى فَمِ غَارِهِمْ صَخْرَةٌ مِنَ الْجَبَلِ فَأَطْبَقَتْ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: انْظُرُوا أَعْمَالًا عَمِلْتُمُوهَا لِلّٰهِ صَالِحَةً، فَادْعُوا اللّٰهَ بِهَا لَعَلَّهُ يَفْرُجُهَا، فَقَالَ أَحَدُهُمْ: اللّٰهُمَّ إِنَّهُ كَانَ لِي وَالِدَانِ شَيْخَانِ كَبِيرَانِ وَلِي صِبْيَةٌ صِغَارٌ كُنْتُ أَرْعَى عَلَيْهِمْ، فَإِذَا رُحْتُ عَلَيْهِمْ فَحَلَبْتُ بَدَأْتُ بِوَالِدَيَّ أَسْقِهِمَا قَبْلَ وَلَدِي، وَإِنَّهُ نَاءَ بِيَ الشَّجَرُ فَمَا أَتَيْتُ حَتَّى أَمْسَيْتُ فَوَجَدْتُهُمَا قَدْ نَامَا، فَحَلَبْتُ كَمَا كُنْتُ أَحْلُبُ فَجِئْتُ بِالْحِلَابِ فَقُمْتُ عِنْدَ رُءُوسِهِمَا، أَكْرَهُ أَنْ أُوقِظَهُمَا مِنْ نَوْمِهِمَا، وَأَكْرَهُ أَنْ أَبْدَأَ بِالصِّبْيَةِ قَبْلَهُمَا وَالصِّبْيَةُ يَتَضَاغَوْنَ عِنْدَ قَدَمَيَّ، فَلَمْ يَزَلْ ذَالِكَ دَأْبِي وَدَأْبَهُمْ حَتَّى طَلَعَ الْفَجْرُ، فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَالِكَ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ فَافْرُجْ لَنَا فُرْجَةً نَرَى مِنْهَا السَّمَاءَ، فَفَرَجَ اللّٰهُ لَهُمْ فُرْجَةً حَتَّى يَرَوْنَ مِنْهَا السَّمَاءَ، وَقَالَ الثَّانِي: اللّٰهُمَّ إِنَّهُ كَانَتْ لِي ابْنَةُ عَمٍّ أُحِبُّهَا كَأَشَدِّ مَا يُحِبُّ الرِّجَالُ النِّسَاءَ فَطَلَبْتُ إِلَيْهَا نَفْسَهَا فَأَبَتْ حَتَّى آتِيَهَا بِمِائَةِ دِيْنَارٍ فَسَعَيْتُ حَتَّى جَمَعْتُ مِائَةَ دِيْنَارٍ فَلَقِيتُهَا بِهَا، فَلَمَّا قَعَدْتُ بَيْنَ رِجْلَيْهَا قَالَتْ: يَا عَبْدَ اللّٰهِ اتَّقِ اللّٰهَ، وَلَا تَفْتَحِ الْخَاتَمَ إلَّا بِحَقِّهِ فَقُمْتُ عَنْهَا، اللّٰهُمَّ فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي قَدْ فَعَلْتُ ذَالِكَ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ فَافْرُجْ لَنَا مِنْهَا فَفَرَجَ لَهُمْ فُرْجَةً، وَقَالَ الْآخَرُ: اللّٰهُمَّ إِنِّي كُنْتُ اسْتَأْجَرْتُ أَجِيْرًا بِفَرَقِ أَرُزٍّ فَلَمَّا قَضَى عَمَلَهُ قَالَ أَعْطِنِي حَقِّي فَعَرَضْتُ عَلَيْهِ حَقَّهُ فَتَرَكَهُ وَرَغِبَ عَنْهُ، فَلَمْ أَزَلْ أَزْرَعُهُ حَتَّى جَمَعْتُ مِنْهُ بَقَرًا وَرَاعِيَهَا، فَجَاءَنِي فَقَالَ: اتَّقِ اللّٰهَ وَلَا تَظْلِمْنِي وَأَعْطِنِي حَقِّي، فَقُلْتُ: اذْهَبْ إِلَى ذَالِكَ الْبَقَرِ وَرَاعِيهَا، فَقَالَ: اتَّقِ اللّٰهَ وَلَا تَهْزَأْ بِي، فَقُلْتُ: إِنِّي لَا أَهْزَأُ بِكَ فَخُذْ ذَالِكَ الْبَقَرَ وَرَاعِيَهَا فَأَخَذَهُ فَانْطَلَقَ بِهَا، فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَالِكَ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ فَافْرُجْ مَا بَقِيَ فَفَرَجَ اللّٰهُ عَنْهُمْ۔

(صحيح البخاري كِتَاب الْأَدَبِ، بَابُ إِجَابَةِ دُعَاءِ مَنْ بَرَّ وَالِدَيْهِ، حدیث نمبر: 5974)

حضرت ابن عمرؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ تین آدمی سفر کر رہے تھے کہ بارش نے انہیں آ لیا اور انہوں نے بھاگ کر ایک پہاڑ کے غار میں پناہ لی۔ اچانک اس غار کے منہ پر پہاڑ کی ایک چٹان گری اور اس کا منہ بند ہو گیا۔ اب انہوں نے ایک دوسرے سے کہا کہ تم نے جو نیک کام کیے ہیں ان میں سے ایسے کام کو دھیان میں لاؤ جو تم نے خالص اللہ کے لیے کیا ہو، اور اس کا واسطہ دے کر اللہ سے دعا کرو ممکن ہے وہ غار کو کھول دے۔ اس پر ان میں سے ایک نے کہا: اے اللہ! میرے والدین بہت بوڑھے تھے اور میرے چھوٹے چھوٹے بچے بھی تھے۔ میں ان کے لیے بکریاں چراتا تھا اور واپس آ کر دودھ نکالتا تو سب سے پہلے اپنے والدین کو پلاتا، پھر اپنے بچوں کو دیتا۔ ایک دن میں جانور چراتے ہوئے بہت دور نکل گیا، اور جب رات گئے واپس آیا تو میں نے دیکھا کہ میرے والدین سو چکے ہیں۔ مَیں نے معمول کے مطابق دودھ نکالا اور اسے لےکر ان کے سرہانے کھڑا ہو گیا۔ میں نےگوارا نہ کیا کہ انہیں سوتے میں جگاؤں اور نہ یہ کہ والدین سے پہلے بچوں کو پلاؤں۔ بچے بھوک سے میرے قدموں پر لوٹ رہے تھے اور اسی کشمکش میں صبح ہو گئی۔ پس اے اللہ! اگر تیرے علم میں بھی یہ کام میں نے صرف تیری رضا حاصل کرنے کے لیے کیا تھا تو ہمارے لیے کشادگی پیدا کر دے کہ ہم آسمان دیکھ سکیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ دعا قبول کی اور ان کے لیے اتنی کشادگی پیدا کر دی کہ وہ آسمان دیکھ سکتے تھے۔ دوسرے شخص نے کہا: اے اللہ! میری ایک چچا زاد بہن تھی اور میں اس سے محبت کرتا تھا، وہ انتہائی محبت جو ایک مرد ایک عورت سے کر سکتا ہے۔ میں نے اس سے اسے مانگا تو اس نے انکار کیا اور صرف اس شرط پر راضی ہوئی کہ میں اسے سو دینار دوں۔ میں نے دوڑ دھوپ کی اور سو دینار جمع کر لایا، اور انہیں لے کراس کے پاس گیا پھر جب میں اس کی دونوں ٹانگوں کے درمیان میں بیٹھ گیا تو اس نے کہا کہ اے اللہ کے بندے! اللہ سے ڈر اور مہر کو مت توڑ۔ میں یہ سن کر کھڑا ہو گیا، اور زنا سے باز رہا۔ پس اگر تیرے علم میں بھی میں نے یہ کام تیری رضا و خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کیا تھا تو ہمارے لیے اس چٹان کو ہٹا کر کشادگی پیدا کر دے۔ چنانچہ ان کے لیے تھوڑی سی اور کشادگی ہو گئی۔ تیسرے شخص نے کہا: اے اللہ! میں نے ایک مزدور چاولوں کے عوض مزدوری پر رکھا تھا اس نے اپنا کام پورا کر کے کہا کہ میری مزدوری دو۔ میں نے اس کی مزدوری دے دی لیکن وہ اپنے چاول چھوڑ کر چلا گیا اور اس کے ساتھ بےتوجہی کی۔ میں اس کے چھوڑے ہوئے دھان کو بوتا رہا اور اس طرح میں نے اس سے ایک گائے خرید لی۔ پھر جب وہ شخص واپس آیا تو میں نے اس سے کہا کہ یہ گائے تمہاری ہے لے جاؤ۔ اس نے کہا اللہ سے ڈرو اور میرے ساتھ مذاق نہ کرو۔ میں نے کہا کہ میں تمہارے ساتھ مذاق نہیں کرتا۔ یہ گائےواقعتاًتمہاری ہے۔ چنانچہ وہ اسےلے کر چلا گیا۔ پس اگر تیرے علم میں بھی میں نے یہ کام تیری رضا و خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کیا تھا تو تُو اس رکاوٹ کو کھول دے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے پوری طرح کشادگی کر دی جس سے وہ باہر آ گئے۔

مشرک والدین سے اچھا برتاؤ

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، أَخْبَرَنِي أَبِي، أَخْبَرَتْنِي أَسْمَاءُ ابْنَةَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا، قَالَتْ: أَتَتْنِي أُمِّي رَاغِبَةً فِي عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: آصِلُهَا؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ: فَأَنْزَلَ اللّٰهُ تَعَالَى فِيْهَا لَا يَنْهَاكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ۔ (الممتحنة: 8)۔

(صحيح البخاري كِتَاب الْأَدَبِ،بَابُ صِلَةِ الْوَالِدِ الْمُشْرِكِ، حدیث نمبر: 5978)

حضرت اسماء بنت ابی بکرؓ بیان کرتی ہیں کہ میری والدہ نبی کریمﷺ وسلم کے زمانہ میں میرے پاس آئیں، وہ اسلام سے منکر تھیں۔ میں نے نبی کریمﷺ سے پوچھا کیا میں اس کے ساتھ صلہ رحمی کر سکتی ہوں؟ نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ ہاں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی

لَا يَنْهَاكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِيْنَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ

یعنی اللہ تم کو ان لوگوں کے ساتھ نیک سلوک کرنے سے منع نہیں کرتا جو تم سے ہمارے دین کے متعلق کوئی لڑائی جھگڑا نہیں کرتے۔

عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنهُ قَالَتْ: قَدِمَتْ عَلَيَّ أُمِّي وَهِيَ مُشْرِكَةٌ فِي عَهْدِ قُرَيْشٍ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ إِنَّ أُمِّي قَدِمَتْ عَلَيَّ وَهِيَ رَاغِبَةٌ أَفَأَصِلُهَا؟ قَالَ: نعم صِليها۔

(مشكوة المصابيح كتاب الآداب، حدیث نمبر: 4913)

حضرت اسماء بنت ابی بکرؓ بیان کرتی ہیں، میری والدہ میرے پاس تشریف لائیں جبکہ وہ مشرکہ تھی، یہ اس وقت کی بات ہے جب قریش سے (حدیبیہ کا) معاہدہ ہوا تھا، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری والدہ میرے پاس آئی ہیں، اوروہ بہتر سلوک کی متمنی ہے کیا میں اس سے صلہ رحمی کروں؟ آپﷺ نے فرمایا: ہاں ! اس سے صلہ رحمی کرو۔

ماں کی پریشانی کا احساس

عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِيْهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي لَأَقُومُ إِلَى الصَّلَاةِ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أُطَوِّلَ فِيْهَا، فَأَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ فَأَتَجَوَّزُ فِي صَلَاتِي كَرَاهِيَةَ أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمِّهِ۔

(صحيح البخاري أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ، بَابُ انْتِظَارِ النَّاسِ قِيَامَ الإِمَامِ الْعَالِمِ۔ حدیث نمبر: 868)

حضرت عبداللہ بن ابی قتادہ انصاریؓ اپنے والد ابوقتادہؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ میں نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ اس میں طول دوں، لیکن کسی بچے کے رونے کی آواز سن کر نماز کو مختصر کر دیتا ہوں کہ مجھے اس کی ماں کو تکلیف دینا برا معلوم ہوتا ہے۔

حَدَّثَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللّٰهِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: مَا صَلَّيْتُ وَرَاءَ إِمَامٍ قَطُّ أَخَفَّ صَلَاةً وَلَا أَتَمَّ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنْ كَانَ لَيَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ فَيُخَفِّفُ مَخَافَةَ أَنْ تُفْتَنَ أُمُّهُ۔

(صحيح البخاري أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ، بَابُ انْتِظَارِ النَّاسِ قِيَامَ الإِمَامِ الْعَالِمِ۔ حدیث نمبر: 708)

حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریمﷺ سے زیادہ ہلکی لیکن کامل نماز کسی امام کے پیچھے کبھی نہیں پڑھی۔ آپﷺ کا یہ حال تھا کہ اگر دوران نماز بچے کے رونے کی آواز سن لیتے تو اس خیال سے کہ اس کی ماں کہیں پریشانی میں نہ مبتلا ہو جائے نماز مختصر کر دیتے۔

والد کے دوستوں سے حسن سلوک

عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَبَرَّ الْبِرِّ صِلَةُ الْمَرْءِ أَهْلَ وُدِّ أَبِيهِ بَعْدَ أَنْ يُوَلِّيَ۔

(سنن ابوداؤدکتاب الادب باب فِي بِرِّ الْوَالِدَيْنِ حدیث: 5143)

حضرت عبداللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ رسولﷺ نے فرمایا: سب سے بڑی نیکی یہ ہے کہ آدمی اپنے والد کے انتقال کے بعد ان کے دوستوں کے ساتھ صلہ رحمی کرے۔

عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّ أَبَرَّ الْبِرِّ أَنْ يَصِلَ الرَّجُلُ أَهْلَ وُدِّ أَبِيْهِ۔

(سنن ترمذي ابواب البر والصلة عن رسول اللّٰه، باب مَا جَاءَ فِي إِكْرَامِ صَدِيقِ الْوَالِدِ۔ حدیث نمبر: 1903)

حضرت عبداللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: سب سے بہتر سلوک اور سب سے اچھا برتاؤ یہ ہے کہ آدمی اپنے باپ کے دوستوں کے ساتھ صلہ رحمی کرے۔

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مِنْ أَبَرِّ الْبِرِّ صِلَةَ الرَّجُلِ أَهْلَ وُدِّ أَبِيْهِ بَعْدَ أَن يولي۔

(مشكوٰة المصابيح كتاب الآداب، حدیث نمبر: 4917)

حضرت ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں، رسول اللہﷺ نے فرمایا: بے شک آدمی کا اپنے والد کے فوت ہو جانے کے بعد، اس کے دوستوں سے صلہ رحمی کرنا سب سے بڑی نیکی ہے۔

اولاد کے مال پر حق

عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيْهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ أَبِي اجْتَاحَ مَالِي، فَقَالَ: أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ، وَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَوْلَادَكُمْ مِنْ أَطْيَبِ كَسْبِكُمْ فَكُلُوْا مِنْ أَمْوَالِهِمْ۔

(سنن ابن ماجه كتاب التجارات، بَابُ مَا لِلرَّجُلِ مِنْ مَالِ وَلَدِهِ۔ حدیث نمبر: 2292)

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہﷺ کے پاس آ کر کہا: میرے والد نے میری دولت ختم کر دی۔ آپﷺ نے فرمایا: تم اور تمہاری دولت دونوں تمہارے والد کے ہیں۔ اوررسول اللہﷺ نے فرمایا: تمہاری اولاد تمہاری بہترین کمائی ہے لہٰذا تم ان کے مال میں سے کھاؤ۔

عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ، إِنَّ لِي مَالًا وَوَلَدًا وَإِنَّ وَالِدِي يَحْتَاجُ مَالِي، قَالَ: أَنْتَ وَمَالُكَ لِوَالِدِكَ، إِنَّ أَوْلَادَكُمْ مِنْ أَطْيَبِ كَسْبِكُمْ، فَكُلُوا مِنْ كَسْبِ أَوْلَادِكُمْ۔

(سنن ابي داؤد كِتَابُ الْإِجَارَةِ، باب فِي الرَّجُلِ يَأْكُلُ مِنْ مَالِ وَلَدِهِ۔ حدیث نمبر: 3530)

حضرت عبداللہ بن عمروؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرمﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے پاس مال ہے اور والد بھی ہیں اور میرے والد کو میرے مال کی ضرورت ہے، تو آپﷺ نے فرمایا: تم اور تمہارا مال تمہارے والد ہی کا ہے (یعنی ان کی خبرگیری تجھ پر لازم ہے) تمہاری اولاد تمہاری پاکیزہ کمائی ہے تو تم اپنی اولاد کی کمائی میں سے کھاؤ۔

حق تو یوں ہے کہ حق ادا نہ ہوا

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَجْزِي وَلَدٌ وَالِدَهُ , إِلَّا أَنْ يَجِدَهُ مَمْلُوكًا فَيَشْتَرِيَهُ فَيُعْتِقَهُ۔

(سنن ابن ماجه كتاب الأدب، بَابُ: بِرِّ الْوَالِدَيْنِ۔ حدیث نمبر: 5759)

حضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: کوئی بھی اولاد اپنے باپ کا حق ادا نہیں کر سکتی مگر اسی صورت میں کہ وہ اپنے باپ کو غلامی کی حالت میں پائے پھر اسے خرید کر آزاد کر دے۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَجْزِي وَلَدٌ وَالِدَهُ إِلَّا أَنْ يَجِدَهُ مَمْلُوكًا فَيَشْتَرِيَهُ، فَيُعْتِقَهُ۔

(سنن ابوداؤدکتاب الادب باب فِي بِرِّ الْوَالِدَيْنِ حدیث نمبر 5137)

حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: بیٹا اپنے والد کے احسانات کا بدلہ نہیں چکا سکتا سوائے اس کے کہ وہ اسے غلام پائے پھر اسے خرید کر آزاد کر دے۔

طعنہ زنی سے پرہیز

عَنِ الْمَعْرُورِ هُوَ ابْنُ سُوَيْدٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: رَأَيْتُ عَلَيْهِ بُرْدًا وَعَلَى غُلَامِهِ بُرْدًا، فَقُلْتُ:لَوْ أَخَذْتَ هَذَا فَلَبِسْتَهُ كَانَتْ حُلَّةً وَأَعْطَيْتَهُ ثَوْبًا آخَرَ، فَقَالَ: كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ كَلَامٌ وَكَانَتْ أُمُّهُ أَعْجَمِيَّةً، فَنِلْتُ مِنْهَا فَذَكَرَنِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِي: أَسَابَبْتَ فُلَانًا؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: أَفَنِلْتَ مِنْ أُمِّهِ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: إِنَّكَ امْرُؤٌ فِيْكَ جَاهِلِيَّةٌ قُلْتُ عَلَى حِينِ سَاعَتِي: هٰذِهِ مِنْ كِبَرِ السِّنِّ، قَالَ:نَعَمْ، هُمْ إِخْوَانُكُمْ جَعَلَهُمُ اللّٰهُ تَحْتَ أَيْدِيْكُمْ، فَمَنْ جَعَلَ اللّٰهُ أَخَاهُ تَحْتَ يَدِهِ فَلْيُطْعِمْهُ مِمَّا يَأْكُلُ وَلْيُلْبِسْهُ مِمَّا يَلْبَسُ، وَلَا يُكَلِّفُهُ مِنَ الْعَمَلِ مَا يَغْلِبُهُ، فَإِنْ كَلَّفَهُ مَا يَغْلِبُهُ فَلْيُعِنْهُ عَلَيْهِ۔

(صحيح البخاري كِتَاب الْأَدَبِ، بَابُ مَا يُنْهَى مِنَ السِّبَابِ وَاللَّعْنِ۔ حدیث نمبر: 6050)

حضرت معرور نے بیان کیا کہ میں نے ابوذرؓ کے جسم پر ایک چادر دیکھی اور ان کے غلام کے جسم پر بھی ایک ویسی ہی چادر تھی، میں نے عرض کیا: اگر اپنے غلام کی چادر لے لیں اور اسے بھی پہن لیں تو ایک رنگ کا جوڑا ہو جائے غلام کو دوسرا کپڑا دے دیں۔ ابوذرؓ نے اس پر کہا کہ مجھ میں اور ایک صاحب (بلالؓ ) میں تکرار ہو گئی تھی تو ان کی ماں عجمی تھیں، میں نے اس بارے میں ان کو طعنہ دے دیا انہوں نے جا کر یہ بات نبی کریمﷺ سے کہہ دی۔ نبی کریمﷺ نے مجھ سے دریافت فرمایا کیا تم نے اس سے جھگڑا کیا ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں۔ دریافت کیا تم نے اسے اس کی ماں کی وجہ سے طعنہ دیا ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ تمہارے اندر ابھی جاہلیت کی بو باقی ہے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس بڑھاپے میں بھی؟ نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ ہاں یاد رکھو یہ (غلام بھی) تمہارے بھائی ہیں، اللہ تعالیٰ نے انہیں تمہاری ماتحتی میں دیا ہے، پس اللہ تعالیٰ جس کی ماتحتی میں بھی اس کے بھائی کو رکھے اسے چاہیے کہ جو وہ کھائے اسے بھی کھلائے اور جو وہ پہنے اسے بھی پہنائے اور اسے ایسا کام کرنے کے لیے نہ کہے، جو اس کے بس میں نہ ہو اگر اسے کوئی ایسا کام کرنے کے لیے کہنا ہی پڑے تو اس کام میں اس کی مدد کرے۔

والدین کے لیے استغفار

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: الْقِنْطَارُ اثْنَا عَشَرَ أَلْفَ أُوقِيَّةٍ , كُلُّ أُوقِيَّةٍ خَيْرٌ مِمَّا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، وَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الرَّجُلَ لَتُرْفَعُ دَرَجَتُهُ فِي الْجَنَّةِ , فَيَقُولُ: أَنَّى هَذَا، فَيُقَالُ: بِاسْتِغْفَارِ وَلَدِكَ لَكَ۔

(سنن ابن ماجه كتاب الأدب، بَابُ: بِرِّ الْوَالِدَيْنِ۔ حدیث نمبر: 3660)

حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: قنطار بارہ ہزار اوقیہ کا ہوتا ہے، اور ہر اوقیہ آسمان و زمین کے درمیان پائی جانے والی چیزوں سے بہتر ہے۔ اور رسول اللہﷺ کا یہ بھی فرمان ہے: آدمی کا درجہ جنت میں بلند کیا جائے گا، پھر وہ کہتا ہے کہ میرا درجہ کیسے بلند ہو گیا (حالانکہ ہمیں عمل کا کوئی موقع نہیں رہا) اس کو جواب دیا جائے گا: تیرے لیے تیری اولاد کے دعا و استغفار کرنے کے سبب سے۔

اجازت طلب کرو

عَنْ عَطَاءٍ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَسْتَأْذِنُ عَلَى أُمِّي؟ فَقَالَ: نَعَمْ فَقَالَ الرَّجُلُ: إِنِّي مَعَهَا فِي الْبَيْتِ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اسْتَأْذِنْ عَلَيْهَا۔ فَقَالَ الرَّجُلُ: إِنِّي خَادِمُهَا۔ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اسْتَأْذِنْ عَلَيْهَا أَتُحِبُّ أَنْ تَرَاهَا عُرْيَانَةً؟ قَالَ: لَا۔ قَالَ: فَاسْتَأْذِنْ عَلَيْهَا۔

(مشكوٰة المصابيح كتاب الآداب، حدیث نمبر: 4674)

عطا بن یسارؒ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہﷺ سے عرض کیا: کیا میں اپنی ماں (کے پاس جاتے وقت اس) سے اجازت طلب کروں؟ آپﷺ نے فرمایا: ہاں۔ اس آدمی نے عرض کیا، میں گھر میں اس کے ساتھ ہی رہتا ہوں، رسول اللہﷺ نے فرمایا: پھر بھی اس سے اجازت طلب کرو۔ اس آدمی نے عرض کیا: میں اس کا خادم ہوں، رسول اللہﷺ نے فرمایا: پھر بھی اجازت طلب کرو، کیا تم اسے عریاں حالت میں دیکھنا پسند کرتے ہو؟ اس نے عرض کیا: نہیں، آپﷺ نے فرمایا: اس سے اجازت طلب کرو۔

رسول خداﷺ کا پاکیزہ اسوہ

سید المرسلینﷺ نے خود ہمیشہ رشتوں کے تقدس کو ملحوظ رکھا۔ آپ کے حقیقی ولدین تو بچپن میں اللہ کو پیارے ہو گئے تھے، مگر ان کے لیے محبت اور دعا کا جوش دل میں موجود رہا۔ پھر آپﷺ نے رضاعی رشتوں کا بھی ہمیشہ احترام کیا۔ آپ کے پاکیزہ اسوہ کی چند مثالیں ان احادیث میں موجود ہیں۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: زَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْرَ أُمِّهِ، فَبَكَى وَأَبْكَى مَنْ حَوْلَهُ، فَقَالَ: اسْتَأْذَنْتُ رَبِّي فِيْ أَنْ أَسْتَغْفِرَ لَهَا فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي، وَاسْتَأْذَنْتُهُ فِي أَنْ أَزُورَ قَبْرَهَا فَأُذِنَ لِي، فَزُورُوا الْقُبُورَ فَإِنَّهَا تُذَكِّرُ الْمَوْتَ۔

(صحيح مسلم، كِتَاب الْجَنَائِزِ باب اسْتِئْذَانِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي زِيَارَةِ قَبْرِ أُمِّهِ۔ حدیث نمبر: 2258)

حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ اپنی والدہ کی قبر پر تشریف لے گئے۔ اور آپﷺ نے فرط جذبات سے آنسو بہائے، یہاں تک کہ جو آپ کے ساتھ تھے آپﷺ نے ان کو بھی رلادیا۔ پھر آپﷺ نے فرمایا: مَیں نے اپنے رب سے اجازت مانگی اپنی ماں کی بخشش مانگنے کی تو مجھے اجازت نہ ملی، پھر میں نے قبر کی زیارت کی اجازت مانگی تو مجھے اجازت مل گئی پس تم بھی قبر کی زیارت کیا کرو کیونکہ یہ تمہیں موت یاد کراتی ہے۔

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰهِ، قَالَ: أَقْبَلَ سَعْدٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَذَا خَالِي فَلْيُرِنِي امْرُؤٌ خَالَهُ۔

(سنن ترمذي كتاب المناقب عن رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم باب مَنَاقِبِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رضى اللّٰه عنه حدیث نمبر: 3752)

حضرت جابربن عبد اللہؓ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ سعد بن ابی وقاصؓ رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضرہوئے توآپﷺ نے انہیں دیکھ کر ارشاد فرمایا: یہ میرے ماموں ہیں اگرکسی کا ایساماموں ہو تو دکھائے۔

أَخْبَرَنَا عُمَارَةُ بْنُ ثَوْبَانَ، أَنَّ أَبَا الطُّفَيْلِ أَخْبَرَهُ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ لَحْمًا بِالْجِعِرَّانَةِ، قَالَ أَبُو الطُّفَيْلِ: وَأَنَا يَوْمَئِذٍ غُلَامٌ أَحْمِلُ عَظْمَ الْجَزُورِ، إِذْ أَقْبَلَتِ امْرَأَةٌ حَتَّى دَنَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَسَطَ لَهَا رِدَاءَهُ فَجَلَسَتْ عَلَيْهِ، فَقُلْتُ: مَنْ هِيَ؟ فَقَالُوا: هَذِهِ أُمُّهُ الَّتِي أَرْضَعَتْهُ۔

(سنن ابوداؤدکتاب الادب باب فِي بِرِّ الْوَالِدَيْنِحدیث نمبر: 5144)

حضرت ابوالطفیلؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو جعرانہ میں گوشت تقسیم کرتے دیکھا، ان دنوں میں لڑکا تھا، اور اونٹ کی ہڈیاں اٹھا کے لارہا تھا، کہ اتنے میں ایک عورت آئی، یہاں تک کہ وہ نبی اکرمﷺ سے قریب ہو گئی، آپﷺ نے اس کے لیے اپنی چادر بچھا دی، جس پر وہ بیٹھ گئی۔ میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ تو لوگوں نے کہا: یہ آپؐ کی رضاعی ماں ہیں، جنہوں نے آپؐ کو دودھ پلایا ہے۔

حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ السَّائِبِ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ جَالِسًا، فَأَقْبَلَ أَبُوهُ مِنَ الرَّضَاعَةِ فَوَضَعَ لَهُ بَعْضَ ثَوْبِهِ فَقَعَدَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَقْبَلَتْ أُمُّهُ مِنَ الرَّضَاعَةِ، فَوَضَعَ لَهَا شِقَّ ثَوْبِهِ مِنْ جَانِبِهِ الْآخَرِ فَجَلَسَتْ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَقْبَلَ أَخُوْهُ مِنَ الرَّضَاعَةِ، فَقَامَ لَهُ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَجْلَسَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ۔

(سنن ابوداؤدکتاب الادب باب فِي بِرِّ الْوَالِدَيْنِ حدیث نمبر 5145)

حضرت عمر بن سائب کا بیان ہے کہ انہیں یہ بات پہنچی ہے کہ ( ایک دن ) رسول اللہﷺ تشریف فرما تھے کہ اتنے میں آپ کے رضاعی باپ آئے، آپ نے ان کے لیے اپنے کپڑے کا ایک کونہ بچھا دیا، وہ اس پر بیٹھ گئے، پھر آپ کی رضاعی ماں آئیں آپ نے ان کے لیے اپنے کپڑے کا دوسرا کنارہ بچھا دیا، وہ اس پر بیٹھ گئیں، پھر آپ کے رضاعی بھائی آئے تو آپؐ کھڑے ہو گئے اور انہیں اپنے سامنے بٹھایا۔

حرف آخر

فخر موجوداتﷺ کایہ پاکیزہ اسوہ، رحمی رشتوں کی عزت و تکریم کے حوالے سے زریں ہدایات اور ارشادات ہم سب کے لیے ہمہ وقت قابل عمل ہیں۔

مظہر اتم الوہیت کا وہ عاشق صادق اور غلام کامل جس پر اس زمانے میں آسمان سے قرآنی علوم و معارف کے دروازے کھولے گئے اس حکم خداوندی کی تفسیر میں بیان فرماتےہیں:

‘‘فَلَا تَقُلۡ لَّہُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنۡہَرۡہُمَا وَ قُلۡ لَّہُمَا قَوۡلًا کَرِیۡمًا۔

یعنی اپنے والدین کو بیزاری کا کلمہ مت کہو اور ایسی باتیں ان سے نہ کر جن میں ان کی بزرگواری کا لحاظ نہ ہو۔ اس آیت کے مخاطب تو آنحضرتﷺ ہیں لیکن دراصل مرجع کلام امت کی طرف ہے۔ کیونکہ آنحضرتﷺ کے والد اور والدہ آپ کی خورد سالی میں ہی فوت ہو چکے تھے۔ اور اس حکم میں ایک راز بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ اس آیت سے ایک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ جبکہ آنحضرتﷺ کو مخاطب کرکے فرمایا گیا ہے کہ تُواپنے والدین کی عزت کر اور ہر ایک بول چال میں ان کے بزرگانہ مرتبہ کا لحاظ رکھ تو پھر دوسروں کو اپنے والدین کی کس قدر تعظیم کرنی چاہیئے۔ ’’

(تفسیربیان فرمودہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جلد دوم (حصہ پنجم)صفحہ 205۔ ایڈیشن اگست 2004ء۔ مطبوعہ نظارت نشرو اشاعت قادیان)

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَّعَلَىٰ آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَىٰ إِبْرَاهِيْمَ وَعَلَىٰ آلِ إِبْرَاهِيْمَ إِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ.

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

For security, use of Google's reCAPTCHA service is required which is subject to the Google Privacy Policy and Terms of Use.

I agree to these terms.

Back to top button
Close