متفرق مضامین

ایجادات جن کی دریافت اتفاقیہ ہوئی

(زکریاورک۔کینیڈا)

ایجاد کےلیے ننانوے فی صد خون پسینہ اور صرف ایک فی صد وجدان درکار ہوتا ہے۔(امریکی موجد ایڈیسن)

کہتے ہیں ضرورت ایجاد کی ماں ہوتی ہے مگر اس مضمون کو پڑھنے سے قارئین کو اندازہ ہو گا کہ دراصل ایجاد ضرورت کی ماں ہوتی ہے۔ یعنی ایک دفعہ ایجاد ہوگئی اور پھر اس کی ضرورت کا احساس انسان کو ہوا۔اس کی تازہ مثال موبائل فون ہے۔ اس وقت دنیا کی آبادی سات بلین ہے اور شاید اس وقت پانچ بلین فون استعمال ہو رہے ہیں۔ جس کو دیکھو اس کے ہاتھ میں موبائل فون ہے۔ یعنی فون ایجاد ہونے کے بعد ایسا لگتا ہے کہ اس کے بغیر زندگی ادھوری تھی۔سائنس اور جدید ایجادات ہماری روزمرہ زندگی میں یوں رچ بس گئے ہیں کہ ان کے بغیر زندہ رہنا مشکل ہوتا جاتا ہے۔ جدید ایجادات، علاج کےلیے جدید ترین طریقہ کارنے ہماری زندگیوں میں انقلاب پیدا کر دیا ہے۔

لوگ یہ بھی سوچتے ہیں کہ کسی چیز کی ایجاد میں کافی وقت صرف ہوا ہوگا جبکہ اس بارے میں امریکی موجد ایڈیسن کا کہنا ہے کہ ایجاد کےلیے ننانوے فی صد خون پسینہ اور صرف ایک فی صد وجدان درکار ہوتا ہے۔اس مضمون میں ہم چند ایسی ایجادات کا ذکر کریں گے جن کی ایجاد اتفاقیہ تھی۔

ہیضہ کے حفاظتی انجکشن کی ایجاد

فرانس کا مشہور سا ئنسدان لوئیس پا سچرLouis Pasteur انیسویں صدی کا معروف ترین انسان تسلیم کیا جاتا ہے۔1880ء میں اس نے فرانس کی چکن انڈسٹری کوچکن کالرا (مرغیوں کا ہیضہ ) سے محض اپنے علم سے محفوظ رکھا۔ اس بیماری میں مرغیاں جلد ہی موت کی آغوش میں جا کر ابدی نیند سو جاتی ہیں۔ پا سچر نے اس جرثومے کو لیبارٹری میں خود پیدا کیا جس سے ہیضہ کی بیماری ہوتی ہے۔اس نے یہ جراثیم ایک بوتل میں محفوظ کر لیے۔ ایک روز اس کو آئیڈیا ملا اور اس نے یہ جراثیم چند مرغیوں کو کھلا دیے۔ اس کا خیال تھا کہ مرغیاں ان کو ہضم کرنے سے بیمار ہو کر لقمہ اجل بن جائیں گی مگر ہوا یہ کہ مرغیاں بیمار اور لاغر ہوگئیں۔ مگر کچھ عرصے بعد وہ صحت یاب ہو گئیں۔

پاسچر نے یہی جراثیم مرغیوں کے دوسرے گلے کو کھلائے تو تمام کی تمام ابد آباد کو سدھار گئیں۔پاسچر نے محض اتفاقی طور پر یہ حقیقت دریافت کر لی تھی کہ پرانے جراثیم دراصل اپنی ہیئت اور ما ہیت بدل چکے تھے۔ ان کی وجہ سے اب بیماری پید ا نہ ہوتی تھی بلکہ ان پرانے جراثیم کی وجہ سے مرغیاں آئندہ بستر مرض پر پڑنے سے بھی محفوظ رہیں۔

پا سچر نے جلد ہی اس بات کا اندازہ لگا لیا تھا کہ وہ بیکٹیریا جو انسانوں کو متاثر کرتا ہے اس کا اثر بھی ویسا ہی ہوگا۔ چنانچہ1881ء میں اس نے anti-cholera vaccine تیار کر لی جس سے لکھوکھہا انسانوں کو فائدہ پہنچا۔اس واقعہ کو امینالوجی (immunology)کا آغاز تسلیم کیا جاتا ہے۔پاسچر پہلا انسان تھا جس نے لیبارٹری میں ویکسین تیار کی تھی۔ دنیاکی تاریخ میں چار بیماریوں Cholera, bubonic plague, smallpox اور influenzaسےاکثر اموات ہوئی ہیں۔

کو نین کی دریافت

بیماریوں کے علاج میں کونینQuinine یعنی سنکونا درخت کی چھال کے جوہر (کونین پاؤڈر) نے فیصلہ کن کردار ادا کیا ہے۔اس دوا سے ملیریا بخار کا علاج کیا جاتا ہے جو مچھر کے کاٹنے سے پھیلتا ہے۔کہتے ہیں کونین کی دریافت1600ءکے لگ بھگ محض اتفاقی طور پر ہوئی تھی۔ جنوبی امریکہ کے ملک Peru میں ایک ہسپانوی سپاہی کو ملیریا کا سخت بخار ہوگیا اور اس پر کپکپی طاری ہو گئی۔اس کے ملٹری یونٹ میں سپاہی اس کو پیچھے چھوڑ کر آگے روانہ ہوگئے۔ سپا ہی کو سخت پیاس لگی تو وہ رینگتا ہوا ایک قریبی تالاب تک گیا اور پانی پی لیا۔اس کے بعد وہ نیند کی آغوش میں چلا گیا تو اس کا بخار ختم ہو چکا تھا۔وہ دوبارہ سفر پر چل پڑا اور اپنے یونٹ سے جلد ہی جا ملا۔اس نے دیگر سپاہیوں کو اس تالاب سے شفا دینے والے پانی کے اثرات سے مطلع کیا۔اس کے بعد جب تالاب کے پانی کا تجزیہ کیا گیا تو معلوم ہواکہ اس میں کڑواہٹ کی وجہ ایک درخت کی وہ چھال تھی جو تالاب کے کنارے پر تھا۔

اس سپا ہی نے محض حادثاتی طور پر یہ بات دریافت کر لی کہ Cinchona درخت کی چھال سے ملیریا کا علاج کیا جاسکتا ہے۔ درخت کی چھال سے پاؤڈر بنا کر اس کی گولیاں تیار کی جاتی ہیں جو ملیریا کا موثر علاج ہے۔ دنیا میں آج بھی کثرت سے اموات ملیریا بخار سے واقع ہوتی ہیں۔دنیا کی تاریخ میںآج تک جتنی اموات واقع ہوئی ہیں ان میں نصف کی وجہ ملیریا بخار تھا۔ہر سال ملیریا سے دو ملین افراد لقمہ اجل بن جاتے ہیںجن میں سے اکثرافریقہ اور ساؤتھ ایشیا کے مکین ہوتے ہیں۔امریکہ میں ہر سال دو ہزار افراد ملیریا بخار سے بیمار ہوتے ہیںجن میں سےاکثر مہاجر یا مسافر ہوتے ہیں۔

مائیکروویو اون Microwave Ovenکی ایجاد

مائیکر و ویوز گرمی اور روشنی کی لہروں کی طرح شارٹ ریڈیو ویوز ہیں جو موشن کے ذریعہ کام کرتی ہیں۔ یہ غذا کے اندر ما لیکیول میں موشن پید اکرتی ہیں جن کی وجہ سے فرکشن پیدا ہوتی ہے۔اس کی سادہ مثال سردی کے موسم میں انسان کا ہاتھ مَلنا ہے تا ہاتھ گرم ہو جائیں۔ فرکشن کی وجہ سے کھانے کے اندر گرمی پید ا ہوتی ہےجس سے کھانا گرم ہو جاتا ہے۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد 1946ء میں امریکہ میں Raytheonکمپنی کا ایک ملازم Percy Spencer لیبارٹری کے معا ئنہ کے دوران میگنا ٹران کے سامنے آکر رکا جو مائیکرو ویوز پیدا کرتی ہیں۔میگنا ٹرون وہ پاور ٹیوب ہے جس سے ریڈار سیٹ ڈرائیو ہوتا ہے۔Percyکی جیب میں چا کلیٹ تھی جب اس نے جیب میں ہاتھ ڈالا تو وہ پگھل چکی تھی۔اس کو فوراََ اس امر کا احساس ہوا کہ چاکلیٹ دراصل مائیکرو ویوز کی وجہ سے پگھل چکی تھی۔ چنانچہ Raytheonکمپنی نے اس کی سفارش پر 1947ءمیں سب سے پہلا اوون ریڈار رینج کے نام سے مینو فیکچر کیا جس کا وزن750 پاؤنڈ اور پانچ فٹ چھ انچ لمبا تھا۔ 1953ء میں اس کی قیمت تین ہزار ڈالر تھی اور یہ صرف ریستورانوں اور بحری جہازوں کے اندر استعمال ہوتا تھا۔ مگر اب یہ ہر گھر میں کچن کے اندر موجود ہے اور قیمت ایک سو ڈالر کے لگ بھگ ہے۔ اب پَل بھر میں گرم کھانا مل جاتا ہے۔

سٹین لیس سٹیل کی ایجاد

لوہے کو زنگ کیوں لگتا ہے؟ کیونکہ یہ آکسیجن سے مل کر رد عمل کرتا ہے جس سے آئرن آکسائیڈ پیدا ہوتا ہے۔ مگر سٹین لیس سٹیل کو زنگ نہیں لگتا ، کیوں؟ 1391ء کی با ت ہے کہ ایک میٹالرجسٹ Harry Brealyکسی ایسی دھات کی تلاش میں تھا جس سے بندوقوں کی نالیاں Gun barrlesبنائی جا سکیں۔ اس نے مختلف دھاتوں کوآپس میں ملا کر تجربات کیے جن کو الائزalloys کہتے ہیں۔ تجربات کے بعد اس نے کچھ بچے کھچے ٹکڑوں کو باہر پھینک دیا۔کچھ مہینوں کے بعد اس نے دیکھا کہ اگرچہ ان ٹکڑوں کی اکثریت کو زنگ لگ چکا ہے مگر ایک کونے کو زنگ نہ لگا۔اس نے اس کا تجزیہ کیا تو معلوم ہوا کہ اس کے اندر چودہ فی صد کرومیم تھا۔یوں اس نے سٹین لیس سٹیل دریافت کر لیا۔ آج کچن کے اندر گھر گھر میں برتن سٹین لیس سٹیل سے بنے ہوتے ہیں۔ بلکہ سرجری کے اوزار بھی اسی سے بنتے ہیں۔

ٹائپ رائٹر کی ایجاد

ٹائپ رائٹر ملواکی (وسکانسن۔امریکہ) میں 1869ء میں ایجادہوا۔ دراصل ٹائپ رائٹر کی ایجاد کا سہرا امریکہ کے چار افراد کے سر رکھاجاتا ہے ان میں سے ایک ملواکی (وسکانسن) کا رہنے والا Christopher Latham Sholes اور دوسرا ملواکی (وسکانسن) کا موجد Samuel W. Soulé تھا جس نے پریکٹیکل ٹائپ رائٹر مشین شاپ میں بنا ئی تھی۔ راقم السطور نے وہ تاریخی کتبہ دیکھا ہے جو وسکانسن یو نیورسٹی کے پاس لگا ہواہے۔ Christopher Sholesکے بنائے بورڈ پر انگلش کے حروف ابجد A-Z ترتیب دیے گئے تھے۔مگر اس ترتیب میں مسئلہ یہ تھاکہ ABCکی ترتیب سے اس کی کیز Keysآپس میں اٹک جاتی تھیں۔اس کا نتیجہ یہ تھا کہ ٹائپسٹ آہستہ آہستہ ٹائپ کرتا تھا۔

مسٹر شولز نے اپنے ایک عزیز کو key بورڈ دوبارہ ترتیب دینے کےلیے کہا۔یوں کہ حروف تہجی ایک دوسرے سے زیادہ قریب نہ ہوں نیز یہ کہ type bars مختلف اطراف سے آئیں تا کہ آپس میں ٹکرائیں نہیں۔نئی ترتیب میں حروف ابجد یوں بنتے ہیں QWERTYیہی ترتیب اب کمپیوٹرز میں بھی استعمال ہوتی ہے۔رفتہ رفتہ لوگوں نے ٹا ئپ رائٹر کی مقبولیت کے پیش نظر ان حروف کی ترتیب ذہن نشین کر لی۔ کہا جاتا ہے کہ مشہور امریکی مصنف اور ادیب مارک ٹوئین نے 1874ءمیں ٹائپ رائٹر خریدا تھا۔ ایک امریکی خاتون Carol Bechen کی1974ءمیں ٹائپنگ سپیڈ176الفاظ فی منٹ تھی۔ اسی طرح1946ءمیں آئی بی ایم ٹائپ رائٹر پر Stella Pajunas نے ایک منٹ میں 216 الفاظ ٹائپ کیے تھے۔ پھر ایک اور خاتون Barbara Blackburn نے 2005ء میں 212 الفاظ فی منٹ(wpm) ٹائپ کیے تھے۔

آرک ویلڈنگ کی ایجاد

امریکی پر وفیسر تھامپسن فلاڈلفیا شہر کے شہر ہ آفاق فرینکلن انسٹی ٹیوٹ میں بجلی پر لیکچر دے رہا تھا۔لیکچر کے دوران ڈیمانسٹریشن کے دوران اس نے غلطی سے دوتاروں کو آپس میں ملایا تو وہ آپس میں جڑ گئیں۔ تھامپسن کے خیال میں ان تاروں کو جڑنا نہیں چاہیے تھا۔ اس نے ان کو الگ کرنے کی کوشش کی مگر بے سود۔ہوا یہ کہ بجلی کی وجہ سے حرارت پیدا ہوئی تھی اور یہ تاریں ویلڈ ہو گئی تھیں۔ تھامپسن نے یوں اتفاقی طور پر آرک ویلڈنگ کا نیا طریقہ دریافت کر لیا تھا۔

کشش ثقل کی در یافت

اگر زمین پر ایک شخص کا وزن 150 پاؤنڈ ہے تو چاند پر وزن کتنا ہوگا؟ یا مشتری سیارہ پر وزن کتنا ہوگا؟ اس بات کا انحصار اس بات پر ہے کہ اس سیارہ کی کشش ثقل کس قدر ہے۔ کشش ثقل کی دریافت محض حادثاتی ہے۔1666ء میں سر آئزک نیوٹن اپنے فیملی باغ میں کسی گہری سوچ میں غرق تھا کہ قریبی درخت سے سیب اس کے سر پر گرا۔ نیوٹن نے خود سے سوال کیا کہ یہ سیب نیچے کی طرف کیوں گرا ہے؟ مزید سوچ بچار پر اسے یہ بات سمجھ آئی کہ کوئی خاص قوت ہے جو چاند کو زمین کی طرف کھینچتی ہے اور اس کو اس کے مدار میں برقرار رکھتی ہے۔ نیز یہ کہ زمین پر موجود قوانین فطرت وہی ہیں اور اسی طرح عمل کرتے ہیں جس طرح دور کے سیاروں اور ستاروں کےقوانین عمل کرتے ہیں۔

اس معمولی مگر تاریخ ساز واقعہ سے قبل لوگ خیال کرتے تھے کہ زمین کے طبعی قوانین آسمانی قوانین سے الگ ہیں خاص طور پر جہاں تک حرکت کے قوانین کا تعلق ہے۔ 1684ءمیں اس نے اپنی نئی کشش ثقل کی تھیوری کو حسابی طریق سے ثبوت کے ساتھ پیش کیا۔ اب یہ آفاقی قانون فزکس کے بنیادی قوانین میں سے ہے۔ اس کو G forceبھی کہا جاتا ہے۔

ٹیلی فون کی ایجاد

اگرچہ ٹیلی فون کا موجد Graham Bellکو مانا جاتا ہے لیکن اس مفید اور عالمی ایجاد پر کئی ایک دیگر نامور سائنسدانوں نے بھی کام کیا تھا۔ ان میں سے ایک کا نام Elisha Grayتھا۔ 1875ءکے لگ بھگ کی بات ہے کہ ایک روز Elisha Grayنے دوبچوں کو Tin Cans میں باتیں کرتے دیکھا جن کے درمیان رسی لگی ہوئی تھی۔ یہ گویا ان کا ہوم میڈ فون تھا۔ (بچپن میں ہم ماچس کی دو ڈبیوں کو دھاگے سے ملا کر ایسا فون استعمال کیا کرتے تھے۔) جب ایک بچہ ٹن کین میں بات کرتا تو اس سے ہونے والی وائبریشن رسی کے ذریعہ دوسرے ٹن کین تک چلی جاتی۔Elisha Grayکو اس سے یہ آئیڈیا ملا کہ اگر رسی کی بجائے تار لگا دی جائے تو انسان کی آواز ایک مقام دوسرے مقام تک سفر کر سکے گی۔ بشرطیکہ آواز الیکٹریکل سگنلز میں تبدیل کر دی جائے۔ چنانچہ ٹن کین کو سامنے رکھ کر اس نے ٹرانسمیٹر کا سکیچ کاغذ پر بنایا۔14؍فروری 1876ءکو جب مسٹر گرے پیٹنٹ آفس میں اپنی نئی ایجاد کو پیٹنٹ کروانے گیا تو صرف دو گھنٹے قبل گراہم بیل ٹیلی فون کی ایجاد کا پیٹنٹ دائر کر چکا تھا۔ یوں اس انقلابی ایجاد کر سہرا مسٹر بیل کے سر باندھا جاتا ہے۔ آج امریکہ اور کینیڈا میں بیل کے لفظ اور ٹیلی فون میں فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔کینیڈا کی سب سے بڑی ٹیلی فون کمپنی کا نامBell Canadaہے۔ گراہم بیل کا تعلق اونٹاریو کے شہر برانٹ فورڈ سے بھی رہا ہے۔ایک دعویٰ کے مطابق ٹیلی فون اس نے برانٹ فورڈ شہر میں26؍جولائی 1876ءکو ایجاد کیا تھا۔

دنیا کی پہلی لانگ ڈسٹنس فون کال گراہم بیل نے اگست 1876ءمیں برانٹ فورڈ اور پیرس (اونٹاریو) کے درمیان میں کی تھی۔اس وجہ سے برانٹ فورڈکوThe Telephone Cityبھی کہا جاتا ہے۔ گراہم بیل جس گھر میں رہتا تھا اس کو ملکہ ایلزبیتھ دوم نے 28؍جون1997ء کو نیشنل ہسٹارک سائٹ قرار دیا تھا۔

اس ضمن میں یہ بیان کر نا بھی دلچسپی کا باعث ہوگا کہ10؍مارچ 1876ءکو گراہم بیل بوسٹن میں 109 Court Street کی سب سے اونچی منزل پر موجود اپنی ورک شاپ میں ٹیلی فون ایجاد کرنے کے مختلف طریقوں پر تجربات کر رہا تھا۔اس سے پہلے وہ transmitterمیں solid voice coil استعمال کر چکا تھا۔ اب جو تجربہ وہ کر رہا تھا اس میں liquid transmitter یعنی تیزاب کا وائس کائیل استعمال کر رہا تھا۔ غلطی سے تیزاب اس کی پینٹ پر گیا تو اس نے اپنے معاون مسٹر واٹسن کو جو ملحقہ کمرے میں تھا آواز دی کہ

Mr. Watson come here I want to see you

مسٹر واٹسن کو یہ الفاظ صاف سنائی دیے اور وہ دوڑ آیا۔دونوں کی خوشی کی انتہا نہ تھی۔یوں ٹیلی فون پر بولا جانےوالا یہ پہلافقرہ تھا۔ آج ہم ٹیلی فون آنے پر ہیلو کہتے ہیں مگر مسٹر بیل AHOYکہا کرتا تھا۔ جو بگڑ کر ہیلو بن گیا۔

بجلی کی دریافت اور پتنگ

تاریخ عالم میں سب سے مشہور پتنگ امریکی موجد، پرنٹر اور ڈپلومیٹ کے Benjamin Franklin (وفات1790ء) نے اڑائی تھی۔ جو اس نے جون1756ءمیں فلاڈلفیا میں اڑائی اور یہ بات اس پر منکشف ہوئی کہ بادلوں میں پیدا ہونے والی روشنی اور بجلی ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔Franklinنے پتنگ ریشم سے بنائی تھی اور اس کے زمین والے حصے کی طرف ایک رسی کے ساتھ چابی لگی ہوئی تھی۔ جس وقت پتنگ بادلوں میں تھی تو بادلوں کی کڑک میں بجلی موجود تھی۔اس نے بجلی کی سائنس کا مزید مطالعہ کیا اور کہا کہ بجلی میں منفی اور مثبت چار ج ہوتے ہیں۔یاد رہے کہ بجلی کی سائنس کے قریب25الفاظ اس نے ایجاد کیے تھے جیسے charged, armature, conductor, battery۔ بجلی کے تجربات کے دوران وہ خود دو بار بجلی لگنے سے بےہو ش ہو گیا۔اس موضوع پر اس نے ایک کتابExperiments and Observations on Electricity بھی تصنیف کی۔ بجلی کے علاوہ اس کی مشہور ایجادات میں سے Franklin stoveاور bifocal eyeglasses ہیں۔ سائنس اور ایجادات سے دلچسپی رکھنے والے افراد کے لیےفلا ڈلفیا کا Franklin Instituteدیکھنے کے قابل ہے۔

کاغذ کی ایجاد

اگر کاغذ ایجاد نہ ہوا ہوتا تو دنیا میں علم اتنی سرعت سے نہ پھیلتا۔ یورپ میں1450ءسے قبل صرف چند ہزار کتابیں تھیں مگر اسلامی دنیا میں کاغذ کی وجہ سے کتابیں بے شمار تعداد میں لکھی جاتیں اور تقسیم ہوتی تھیں۔ کاغذ کے بزنس سے منسلک لوگ اپنے نام کے ساتھ الورق لکھتے تھے۔ پھر یورپ میں کاغذ اور جرمن موجد Gutenbergکی پرنٹنگ پریس کے ایجاد کے بعد کتابیں ہزاروں کی تعدادمیں شائع ہونے لگیں۔

ملک چین میں ایک شخص Tsai Lun تھا جو کورٹ آفیشل تھا۔ اس نے کاغذ 105ء میں ایجاد کیا۔ اس کے بعد چینی قوم نے بہت ترقی کی۔ پھر عربوں نے کاغذ بنانا آٹھویں صدی میں سیکھا۔ عراق سے یہ فن سپین میں پہنچا جہاں اس وقت مسلمانوں کی حکومت تھی۔ یہ بات بارھویں صدی کی ہے۔ قرطبہ میں اس وقت کاغذ بنانے کے بڑے بڑے کارخانے تھے۔چونکہ کاغذ پرانے کپڑوں سے بنایا جاتا تھا جسے پارچمنٹ کہتے تھے اس لیے پرانے کپڑے اکٹھے کرنا بھی ایک پیشہ ہوتا تھا۔ مگر کاغذ کی مانگ بڑھتی گئی اس لیے اس کو بنانے کےلیے اور طریقے بھی دریافت ہونے لگے۔

ایک فرنچ سائنسدان Reaumeنے 1700ء کے لگ بھگ کاغذ بنانے کا کیمیائی طریقہ دریافت کر لیا۔ ہوا یہ کہ وہ ایک روز پارک میں سیر کے لیے گیا۔اس نے وہاں بھڑ کا چھتہ اٹھا یا اور اس کا بغور تجزیہ کیا۔ اسے پتہ چلا کہ یہ کاغذ سے بنا ہوا تھا۔ اس نے خود سے سوال کیا کہ بھلا بھڑ نے یہ گھر کیسے بنایا تھا۔ یعنی بھڑ نے کسی کیمیکل( آگ) یا دیگر اجزا کے بغیر کاغذ کیسے تیا رکیا؟ اس سوال کا جواب اس کو یہ ملا کہ بھڑ نے چھوٹی چھوٹی لکڑیوں کو چبا کر اپنے تھوک اور معدہ میں موجود جوسز سے تیار کیا تھا۔ خوش قسمتی سے Reaumeنے بھڑوں کے نظام ہضم کا مطالعہ پہلے سے کیا ہوا تھا۔ اب اس نے اس موضوع پر ایک مقالہ تیا رکیا اور اپنی ریسرچ فرنچ رائل اکیڈیمی کے سامنے1719ءمیں پیش کی۔

ایک اور فرنچ میکینکل انجینئر Robert Louis-Nicolas نے ایک ایسی مشین تیار کی جو کاغذ لگاتار بنا تی تھی۔ اس کا پیٹنٹ اس نے 1799ء میں حاصل کیا تھا۔ کسی وجہ سے وہ اپنے پیٹنٹ سے محروم کر دیا گیا تو مشین برطانیہ بھیج دی گئی جہاں اس پر مزید تحقیق ہوئی۔ کینیڈا میں چونکہ درخت بہت بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں ا س لیے اس ملک کی سب سے بڑی ایکسپورٹ انڈسٹری کاغذ ہے۔

انسولین کی ایجاد

Frederick Bantingاور John Macleod(یونیورسٹی آف ٹورنٹو کے پروفیسر) کو1923ء میں ذیا بیطس کے علاج کے طور پر انسولین کی دریافت اور اس کے Clinical استعمال پر نوبیل انعام دیا گیا تھا۔ لبلبے (Pancreas)اور انسولین میں تعلق انہوں نے یورپ کے سائنسدانوں کے تعاون سے معلوم کیا تھا۔

جرمن فزیشن Joseph von Mering اورOscar Minkowski نے ایک صحت مند کتے کے جسم سے لبلبے کو الگ کیا تا کہ نظام ہضم میں اس کے کردار کا پتہ لگا یا جاسکے۔ لبلبہ الگ کرنے کے کئی روز بعد ان دونوں ڈاکٹروں نے دیکھا کہ کتے کے پیشاب کے اوپر مکھیاں اڑ رہی تھیں۔ یہ معلوم کرنے کےلیے کہ مکھیاں پیشاب کے اوپر کیوں اڑ رہی ہیں انہوں نے کتے کے پیشاب کا ٹیسٹ کیا تو معلوم ہوا کہ اس کے پیشاب میں شو گر تھی جو کہ ذیا بیطس کی نشانی ہے۔ڈاکٹروں کو معلوم تھا کہ لبلبے کے الگ کرنے سے قبل کتا صحت مند تھا اس لیے ان کو لبلبے اور ذیا بیطس میں باہمی تعلق معلوم ہو گیا۔ انہوں نے مزید ٹیسٹ کیے تو پتہ چلا کہ لبلبہ ایک چیز پیدا کرتا ہے جو انسانی جسم کے اندر شوگر کو کنٹرول کرتی ہے۔اس کے بعدکئی سائنسدانوں نے انسولین جو لبلبے سے پیدا ہوتی ہےالگ کرنے کی کوشش کی مگر بے سود۔ آخر کار کینیڈین پروفیسرز Banting اور Macleod نے پتہ لگا لیا کہ لبلبے سے پیدا ہونے والا مادہ انسولین ہے۔ اس کے بعد سے اب تک انسولین ذیابیطس کو کنٹرول کرنے کےلیے استعمال ہوتی ہے۔

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

For security, use of Google's reCAPTCHA service is required which is subject to the Google Privacy Policy and Terms of Use.

I agree to these terms.

Back to top button
Close