کلام امام الزمان علیہ الصلاۃ والسلام

اس سے زیادہ بے عزّتی اور کوئی نہیں ہو سکتی کہ یہود بننے کیلئے تو یہ اُمّت ہو مگر عیسیٰ باہر سے آوے

اب خدا تعالیٰ کا یہ دُعا سکھلانا کہ خدایا ایسا کر کہ ہم وہی یہودی نہ بن جائیں جنہوں نے عیسیٰؑ کو قتل کرنا چاہا تھا صاف بتلا رہا ہے کہ اُمّت محمدیہ میں بھی ایک عیسیٰ پیدا ہونے والا ہے۔ ورنہ اس دُعا کی کیا ضرورت تھی۔ اور نیز جبکہ آیات مذکورہ بالاسے ثابت ہوتا ہے کہ کسی زمانہ میں بعض علماء مسلمان بالکل علماءِ یہود سے مشابہ ہو جائیں گے اور یہود بن جائیں گے۔ پھر یہ کہنا کہ ان یہودیوں کی اصلاح کیلئے اسرائیلی عیسیٰ آسمان سے نازل ہوگا بالکل غیر معقول بات ہے۔ کیونکہ اوّل تو باہر سے ایک نبی کے آنے سے مُہر ختم نبوّت ٹوٹتی ہے۔ اور قرآن شریف صریح طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء ٹھہراتا ہے۔ ماسوا اس کے قرآن شریف کے رُو سے یہ اُمّت خیر الامم کہلاتی ہے۔ پس اس کی اس سے زیادہ بے عزّتی اور کوئی نہیں ہو سکتی کہ یہود بننے کیلئے تو یہ اُمّت ہو مگر عیسیٰ باہر سے آوے۔ اگر یہ سچ ہے کہ کسی زمانہ میں اکثر علماء اس اُمّت کے یہودی بن جائیں گے۔ یعنی یہود خصلت ہو جائیں گے۔ تو پھریہ بھی سچ ہے کہ ان یہود کے درست کرنے کیلئے عیسیٰ باہر سے نہیں آئے گا۔ بلکہ جیسا کہ بعض افراد کا نام یہود رکھا گیا ہے۔ ایسا ہی اس کے مقابل پر ایک فرد کا نام عیسیٰ بھی رکھا جائے گا۔ اس بات کا انکار نہیں ہوسکتا کہ قرآن اور حدیث دونوں نے بعض افراد اس اُمّت کا نام یہود رکھا ہے۔ جیسا کہ آیت

غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ

سے بھی ظاہر ہے۔ کیونکہ اگر بعض افراد اس اُمّت کے یہودی بننے والے نہ ہوتے تو دُعا مذکورہ بالا ہرگز نہ سکھلائی جاتی۔ جب سے دنیا میں خدا کی کتابیں آئی ہیں۔ خدا تعالیٰ کا ان میں یہی محاورہ ہے کہ جب کسی قوم کو ایک بات سے منع کرتا ہے کہ مثلاً تم زنانہ کرو۔ یا چوری نہ کرو۔ یا یہودی نہ بنو۔ تو اس منع کے اندر یہ پیشگوئی مخفی ہوتی ہے کہ بعض ان میں سے ارتکاب ان جرائم کا کریں گے۔ دنیا میں کوئی شخص ایسی نظیر پیش نہیں کر سکتا کہ ایک جماعت یا ایک قوم کو خدا تعالیٰ نے کسی ناکردنی کام سے منع کیا ہو۔ اور پھر وہ سب کے سب اس کام سے باز رہے ہوں۔ بلکہ ضرور بعض اس کام کے مرتکب ہو جاتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے توریت میں یہودیوں کو یہ حکم دیا کہ تم نے توریت کی تحریف نہ کرنا۔ سو اس حکم کا نتیجہ یہ ہوا کہ بعض یہود نے توریت کی تحریف کی۔ مگر قرآن شریف میں خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کو کہیں یہ حکم نہیں دیا کہ تم نے قرآن شریف کی تحریف نہ کرنا۔ بلکہ یہ فرمایا کہ

اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّکۡرَ وَ اِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوۡنَ۔

یعنی ہم نے ہی قرآن شریف کو اُتارا اَور ہم ہی اس کی محافظت کریں گے۔ اِسی وجہ سے قرآن شریف تحریف سے محفوظ رہا۔ غرض یہ قطعی اور یقینی اور مسلّم سنت الٰہی ہے کہ جب خدائے تعالیٰ کسی کتاب میں کسی قوم یا جماعت کو ایک بُرے کام سے منع کرتا ہے یا نیک کام کیلئے حکم فرماتاہے تو اُس کے علم قدیم میں یہ ہوتا ہے کہ بعض لوگ اس کے حکم کی مخالفت بھی کریں گے۔ پس خدا تعالیٰ کا سورہ فاتحہ میں یہ فرمانا کہ تم دُعا کیا کرو کہ تم وہ یہودی نہ بن جاؤ۔ جنہوں نے عیسیٰ علیہ السلام کو سُولی دینا چاہا تھا جس سے دنیا میں ہی اُن پر غضب الٰہی کی مار پڑی۔ اس سے صاف سمجھا جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے علم میں یہ مقدر تھا کہ بعض افراد اس اُمّت کے جو علماء اُمّت کہلائیں گے۔ اپنی شرارتوں اور تکذیب مسیح وقت کی وجہ سے یہودیوں کا جامہ پہن لینگے۔ورنہ ایک لغو دُعا کے سکھلانے کی کچھ ضرورت نہ تھی۔ یہ تو ظاہر ہے کہ علماء اس اُمّت کے اس طرح کے یہودی نہیں بن سکتے کہ وہ اسرائیل کے خاندان میں سے بن جائیں۔ اور پھر اس عیسیٰ بن مریم کو جو مدت سے اس دنیا سے گزر چکا ہے سُولی دینا چاہیں۔ کیونکہ اب اس زمانہ میں نہ وہ یہودی اس زمین پر موجود ہیں نہ وہ عیسیٰ موجود ہے۔ پس ظاہر ہے کہ اس آیت میں ایک آئندہ واقعہ کی طرف اشارہ ہے اور یہ بتلانا منظور ہے کہ اس اُمّت میں عیسیٰ مسیحؑ کے رنگ میں آخری زمانہ میں ایک شخص مبعوث ہوگا اور اس کے وقت کے بعض علماء اسلام ان یہودی علماء کی طرح اس کو دُکھ دینگے جو عیسیٰ علیہ السلام کودُکھ دیتے تھے اور ان کی شان میں بدگوئی کریں گے۔ بلکہ احادیث صحیحہ سے یہی سمجھا جاتا ہے کہ یہودی بننے کے یہ معنی ہیں کہ یہودیوں کی بداخلاق اور بدعادات علماء اسلام میں پیدا ہو جائیں گے۔ اور گو بظاہر مسلمان کہلائیں گے۔ مگر اُن کے دل مسخ ہو کر ان یہودیوں کے رنگ سے رنگین ہوجائیں گے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دکھ دیکر مورد غضب الٰہی ہوئے تھے۔ پس جبکہ یہودی یہی لوگ بنیں گے جو مسلمان کہلاتے ہیں تو کیا یہ اس امت مرحومہ کی بےعزتی نہیں کہ یہودی بننے کیلئے تو یہ مقرر کئے جائیں مگر مسیح جو ان یہودیوں کودرست کریگا وہ باہر سے آوے۔ یہ تو قرآن شریف کے منشاء کے سراسر برخلاف ہے قرآن شریف نے سلسلہ محمدیہ کو ہریک نیکی اور بدی میں سلسلہ موسویہ کے مقابل رکھا ہے نہ صرف بدی میں۔ ماسوا اس کے آیت

غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ

کاصریح یہ منشاء ہے کہ وہ لوگ یہودی اس لئے کہلائیں گے کہ خدا کے مامور کو جو ان کی اصلاح کیلئے آئے گا بنظر تحقیر و انکار دیکھیں گے اور اس کی تکذیب کریں گے اور اس کو قتل کرنا چاہیں گے۔ اور اپنے قویٰ غضبیہ کو اس کی مخالفت میں بھڑکائیں گے۔ اس لئے وہ آسمان پر مغضوب علیھم کہلائیں گے۔ اُن یہودیوں کی مانند جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مکذب تھے جس تکذیب کا آخر کار نتیجہ یہ ہوا تھا کہ سخت طاعون یہود میں پڑی تھی اور بعد اس کے طیطوس رومی کے ہاتھ سے وہ نیست و نابود کئے گئے تھے۔

(تذکرۃ الشہادتین، روحانی خزائن جلد 20صفحہ13تا 16)

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

For security, use of Google's reCAPTCHA service is required which is subject to the Google Privacy Policy and Terms of Use.

I agree to these terms.

Back to top button
Close