متفرق مضامین

تربیتِ اولاد

(مقصود احمد علوی۔ جرمنی)

تربیتِ اولاد اہم ترین موضوعات میں سے ایک ہے اور جماعت میں اِس پر اکثر و بیشتر گفتگو ہوتی رہتی ہے۔ ہم احمدیوں پر اللہ تعالیٰ کا بڑا ہی فضل ہے اور ہم خوش قسمت ہیں کہ ہم مسیح ِوقت کے ماننے والے ہیں اور آپ کے بعد جاری نظامِ خلافت سے وابستہ ہونے کی وجہ سے اِس کے فیوض و برکات سے مستفیض ہو رہے ہیں۔ یہ بات ہمیں ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ ہماری اور ہماری اولاد کی تربیت کا بہترین ذریعہ خلیفۂ وقت کے خطبات اور آپ کے خطابات ہیں جو ایک جاری روحانی مائدے کے طور پر ہمیں میسر ہیں اور اِس سے ہمیں فائدہ اٹھانا چاہیے۔

اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت سے والدین اِس مائدے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اور تربیتِ اولاد کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے بڑی بیدار مغزی اور احساس ِذمہ داری سے اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کا خیال رکھتے ہیں اور اُن کے لیے اپنے اموال اور اوقات خرچ کرتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے بحیثیتِ مجموعی ہماری نوجوان نسل کی ایک بڑی تعدادنہ صرف اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے بلکہ اچھی اخلاقی اقدار سے بھی مزیّن ہے۔

یہ بات بھی بہرحال ایک حقیقت ہے کہ کچھ ایسے بھی ہیں جو عدم توجہی، سستی اور غفلت کی وجہ سے تربیتِ اولاد کے اِس اہم ترین فریضے کی طرف توجہ نہیں کرتے اور پھر وہ خود اور اُن کے بچے بھی مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اِس لیے ضروری ہے کہ اِن موضوعات پر وقتاً فوقتاً یاد دہانیاں کرائی جاتی رہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ قرآنِ پاک میں فرماتا ہے:

وَ ذَکِّرۡ فَاِنَّ الذِّکۡرٰی تَنۡفَعُ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ۔ (الذّٰریٰت: 56)

اور تُو نصیحت کرتا چلا جا۔ پس یقیناً نصیحت مومنوں کو فائدہ پہنچاتی ہے۔

یہ مضمون بھی اِنہی یاددہانیوں کی ایک کڑی ہے۔

اللہ تعالیٰ قرآنِ پاک میں فرماتا ہے:

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا قُوۡۤا اَنۡفُسَکُمۡ وَ اَہۡلِیۡکُمۡ نَارًا …۔ (التحریم: 7)

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو آگ سے بچاؤ۔

اس مختصر آیت میں مومنین سے نہایت گہرے اور تفصیلی تقاضے کیے گئے ہیں۔ حکم تو صرف یہ ہے کہ خود کو اور اپنے اہل و عیال کو آگ سے بچاؤ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیسے؟ یعنی وہ کونسے طریق یا تدابیر ہیں جن پر عمل پیرا ہو کر آگ سے بچا جا سکتا ہے۔ ظاہر ہے اِس کی بہت سی تفاصیل ہیں جو قرآن اور احادیث میں مذکور ہیں۔

سب سے پہلے تو ہمیں یہ سمجھنا ہے کہ اِس آیت میں کن کو مخاطب کیا گیا ہے۔ یہاںمومنین بالخصوص گھروں کے سربراہوں کو کہا جا رہا کہ چونکہ تم اپنے اہلِ خانہ کی ہر طرح کی مادی ضروریات کےمتکفل اور اُن کی تعلیم و تربیت کے ذمہ دار ہونے کی وجہ سےگھروں کے نگران مقرر کیے گئے ہو اِس لیے تمہارا ہی فرض بنتا ہے کہ تم اپنے تمام اہلِ خانہ کے اخلاق و عادات کی نگرانی اور اُن کی اچھی تربیت کا انتظام کر کے اُنہیں آگ سے بچاؤ۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ اِس آیت کے حوالے سے فرماتے ہیں:

’’اوپر عورتوں کا ذکر ہوا۔ اب اللہ تعالیٰ تاکید فرماتا ہے کہ اپنے اہلِ خانہ کو وعظ و نصیحت کرتے رہو۔ اور اُنہیں نیک باتوں کی طرف متوجہ کرتے رہو تاکہ وہ عذاب سے بچیں اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کریں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ اَلرِّجَالُ قَوَّامُوْنَ عَلَی النِّسَآءِ(النساء: 35)مَرد عورتوں کے مؤدِب ہوا کرتے ہیں کہ اُن کو ہر قسم کے آدابِ شرعیہ و اسلامیہ سکھاویں۔‘‘

(حقائق الفرقان جلد چہارم صفحہ150مطبوعہ 2005ء)

دوسری بات جو سمجھنی ضروری ہے وہ یہ ہے کہ یہاں صرف مرنے کے بعد دوزخ کی آگ ہی مراد نہیں بلکہ اِس دنیا کی آگ بھی مرادہے۔ انسان اپنے قول اور فعل سے اِس دنیا میں اپنے لیے جنت بھی بناتا ہے اور دوزخ بھی۔ جنت اوردوزخ دونوں ساتھ ساتھ اس دنیا میں بھی ہوتے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ کوّے بھی اُسی فضا میں اُڑتے ہیں جس میں کہ کبوتر۔ کرگس اور شاہین بھی ایک ہی فضا میں اُڑتے ہیں۔ لیکن ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ اِن کے الگ الگ جہان ہیں۔ اِسی طرح مومن و کافر اِسی دنیا میں ایک ہی گلی محلے میں ساتھ ساتھ رہتے ہیں۔ اِن کے باسیوں کے مزاج، کردار اور ماحول میں زمین و آسمان کافرق ہے۔ اِسی دنیا میں بعض معاشرے جنت نظیر کہلاتے ہیں جن میں پیار محبت اخوت اور سکون کی فضا ہوتی ہے اور بعض دوزخ کا نقشہ پیش کر رہے ہوتے ہیں۔ اِسی طرح ایک ہی شہر اور گاؤں میں بعض گھروں میں جنت کا نظارہ ہوتاہے اور بعض میں دوزخ کا۔ اگلے جہان میں بھی دراصل اِس دنیا میں کیے گئے ہمارے اعمال ہی جنت کی نعماء اور دوزخ کی سزاؤں کی شکل میں متمثل ہوں گے۔ وہ جنت بھی ہم خود ہی بناتے ہیں اور دوزخ بھی اور اِسی دنیا سے اپنے ساتھ لے کر جاتے ہیں۔ پس آگ سے مراد اِس دنیا کی آگ بھی ہے جو انسان خود اپنے قول اور فعل سے بناتا ہے اوراگلے جہان کی دوزخ کی آگ کے علاوہ اِس جہان کی آگ سے بھی خود کو اور اپنے اہل و عیال کو بچانے کا اِس آیتِ کریمہ میں ارشاد ہے۔

ہمیں اپنا اپنا جائزہ لینا چاہیے اور اپنے اور اپنے بچوں کے حالات پر غور کرنا چاہیے کہ کیا ہم اپنے اور اپنی اولاد کے لیے یہاں اِس دنیا میں جنت بنا رہے ہیں یا دوزخ کی آگ کا سامان کر رہے ہیں۔ یہ تجزیہ بہت ضروری ہے اور یہ اُس وقت تک ممکن نہیں ہوتا جب تک ہمیں اِس کی اہمیت کا علم اوراحساس نہ ہو۔ یاد رکھیں احساس کے لیے علم اور معرفت کا ہونا ضروری ہے کیونکہ اِس کے بغیر نہ تو انسان کسی مفید چیز کے حصول کے لیے کوشش کرتا ہے اور نہ ہی نقصان دہ چیزسے بچنے کے لیے۔

اِس لیے سب سے پہلے تو تربیتِ اولاد کی اہمیت کا علم اور احساس ہونا ضروری ہے۔ آئیں ہم سب غور کریں اور سوچیں کہ ہمارے پاس سب سے زیادہ قیمتی اثاثہ کیا ہے؟ ظاہری مال دولت جیسا کہ سونا، چاندی، ہیرے جواہرات، زیورات، زمینیں، فیکٹریاں، بینک میں لاکھوں کروڑوں روپے ہماری نظر میں قیمتی ہیں یا ہماری اولاد۔ خاکسار سمجھتا ہے کہ دنیا کا ہر انسان ایک لمحے کی تاخیر کے بغیر یہی فیصلہ کرے گا کہ میری بیٹیاں اور میرے بیٹے اِس سارے مال و دولت سے زیادہ قیمتی ہیں۔ پس ثابت ہوا کہ ہماری اولاد ہمارا سب سے قیمتی اثاثہ ہے۔ یعنی ہمارا اصل اثاثہ اور خزانہ ہمارے بچے ہیں۔

اب آئیں ہم فطرت کے ایک اہم اصول پر غور کرتے ہیں۔ وہ اصول یہ ہے کہ انسان قیمتی چیز کی زیادہ حفاظت کرتا ہے۔ جس ظاہری مال و دولت کا خاکسار نے ذکر کیا ہے دنیا کا ہر انسان اِس کی حفاظت کرتا ہے۔ اِنہیں صندوقوں، تجوریوں اور بینک کے لاکرز میں محفوظ رکھتا ہے۔ لکڑ یوں وغیرہ کو تو لوگ باہر برآمدے میں ہی رکھ دیتے ہیں لیکن زیورات اور روپے پیسے کبھی کسی نے یوں باہر نہیں رکھے۔ پس اصول یہ ہوا کہ قیمتی اشیاء کی زیادہ حفاظت کی جاتی ہے۔

اسی اصول کے تحت ہم دیکھتے ہیں کہ سربراہان مملکت اور اعلیٰ افسران کی حفاظت کے خصوصی انتظامات کیے جاتے ہیں کیونکہ ان کا وجود قوم کے لیے قیمتی ہوتا ہے۔

ہم قبل ازیں ثابت کر چکے ہیں کہ ہمارے پاس سب سے قیمتی اثاثہ ہماری اولاد ہے۔ اب فطرت کے اِس اصول کے تحت تو ہمیں سب سے زیادہ یا یوں کہنا چاہیے ظاہری مال و دولت سے بھی بڑھ کر اپنی اولاد کی حفاظت کرنی چاہیے کیونکہ یہ ہمارے گھروں میں سب سے زیادہ قیمتی ہے۔ آئیں ہم سب خود سے سوال کریں کہ کیا ہم ایسا کرتے ہیں؟ اِس قیمتی اثاثے کی حفاظت کرتے ہیں؟ یعنی کیا ہم اپنے بچوں کی صحت، تعلیم وتربیت، اخلاق اور جماعت کے ساتھ مضبوط تعلق کے لیے عملی کوششیں کرتے ہیں؟

افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بعض والدین کا عمل فطرت کے اِس اصول کے خلاف نظر آتا ہے۔ وہ دن رات اِس ظاہری مال و دولت کے پیچھے بھاگتے نظر آتے ہیں اور یوں اِس پر اپنی پیاری اولاد کو قربان کر دیتے ہیں۔ اُن کے پاس اپنے بچوں کے لیے وقت نہیں ہوتا۔ اسکول کے امتحانات میں اُن کاکیا معیار ہے، اُنہیں وہاں کیا مشکلات ہیں، اُن کے دوست کون اور کیسے ہیں، وہ کس وقت اور کہاں جاتے ہیں، ایسے والدین کو اِن سب امور کی طرف دھیان نہیں ہوتا۔ وہ اُن کی تعلیم، اُن کے اخلاق کی نگرانی اور دیکھ بھال کے لیے کچھ نہیں کرتے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ یوں وہ جسے منہ سے اپنا قیمتی اثاثہ کہتے ہیں اُسےخود اپنے ہاتھوں سے ضائع کر دیتے ہیں۔ اِس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آگ سے بچنےکی بجائے وہ خود بھی آگ میں پڑتے ہیں اور اپنی اولاد کے لیے بھی آگ کا سامان کررہے ہوتے ہیں۔

مسلم شریف میں درج یہ مشہور حدیث ہے جو ہم نے کئی بار سنی ہے:

مَا مِنْ مَوْلُودٍ إِلَّا يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ وَيُنَصِّرَانِهِ وَيُمَجِّسَانِهِ كَمَا تُنْتَجُ الْبَهِيمَةُ بَهِيمَةً جَمْعَاءَ هَلْ تُحِسُّونَ فِيهَا مِنْ جَدْعَاءَ

(مسلم کتاب القدر باب معنی کل مولود یولد علی الفطر)

یعنی ہر بچہ فطرتِ اسلامی پر پیدا ہوتا ہے۔ پھر اُس کے والدین اُسے یہودی یا عیسائی یامجوسی بنا دیتے ہیں۔ یعنی قریبی ماحول سے بچے کا ذہن متاثر ہوتا ہے جیسے جانور کا بچہ صحیح سالم پیدا ہوتا ہے، کیا تمہیں اُن میں کوئی کان کٹا نظر آتا ہے؟ یعنی بعد میں لوگ اُس کا کان کاٹتے ہیں اور اُسے عیب دار بنا دیتے ہیں۔

اِس حدیث سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ایک بچہ بڑ ا ہو کر جو بھی بنتا ہے اُس میں اس کے والدین کی تربیت کا ہاتھ ہوتا ہیں۔ یعنی اولاد کی تعلیم و تربیت کی بنیادی ذمہ داری والدین پر عائد ہوتی ہے نہ کہ کسی اور پر۔ وہی ہیں جو اُس کا مستقبل روشن یا تاریک کرنے کے لیے اہم اور مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔

ہمیں اُس آیت کی روشنی میں جو مضمون کے شروع میں درج کی گئی ہے خود کو بھی آگ سے بچانا ہے اور اپنے اہل کو بھی۔ خاکسار نے سوال اٹھایا تھا کہ کیسے؟ اِس کا جواب دینے سے قبل قارئین کی خدمت میں خاکسار کی گزارش ہے کہ ہم سب کو یاد رکھنا چاہیے کہ ہماری اولاد ہمارا چہرہ اور ہماری پہچان ہے۔ ہمارے درخت کا پھل ہے۔ اور درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے۔

اب ہمیں اِس سوال کا جواب جاننا ہے کہ اپنے اِس چہرے کے خدوخال ہم کیسے سنواریں؟ اِس چہرے کو ہم کیسے خوبصورت بنائیں؟ وہ کونسا سامان ہے جس سے اِس چہرے کو خوبصورت بنایا جا سکتا ہے؟ ہمارے درخت کا پھل کیسے میٹھا، لذیذ اور دلکش ہو؟ یعنی بطور والدین اپنی اولادکے کردار کو سنوارنے اور خوبصورت بنانے کے لیے ہمیں کونسے طریق اور کونسی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں۔ یہ ایک نہایت وسیع مضمون ہے۔ بہت سی تدابیر ہیں، خاکسار اِس مضمون میں صرف چند ایک کا ذکر کرے گا۔

دین دار بیوی کا انتخاب

ہم نے کئی بار بخاری شریف کی یہ حدیث سنی ہوئی ہے جو حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے۔ آپ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ کسی عورت سے نکاح کرنے کی چار ہی بنیادیں ہو سکتی ہیں۔ یا تو اُس کے مال کی وجہ سے یا اُس کے خاندان کی وجہ سے یا اُس کے حسن و جمال کی وجہ سے یا اُس کی دین داری کی وجہ سے۔ لیکن تُو دین دار عورت کو ترجیح دے۔ اللہ تیرا بھلا کرے اور تجھے دین دار عورت حاصل ہو۔

(بخاری کتاب النکاح، باب الاکفاء فی الدین، بحوالہ حدیقۃ الصالحین مطبوعہ 2003ء صفحہ 389)

بعض علم النفس کے گہرے مضامین ہوتے ہیں جن پر ذرا ٹھہر کر غور کرنا چاہیے۔ یہاں دین دار عورت کا اِس لیے ذکر فرمایا ہے تا کہ کل کو ایک دین دار ماں کی گود میں ہماری آئندہ نسل پروان چڑھے۔ اگر آج ہمارے بچے اپنے شریکِ حیات کے انتخاب کے لیے اِس حدیث کی روشنی میں دین داری کو ترجیح دیں تو معاشرے کے اندر اِس کا لازماً یہ نتیجہ نکلے گا کہ معاشرے میں دین داری کی طرف توجہ پیدا ہو گی اور اِس طرح صرف اِس طریق پر کماحقہٗ عمل کرنے سے چند سالوں میں ہی معاشرے کی کایا پلٹ سکتی ہے۔

عورت کے دین دار ہونے کو خاص طور پر اِس لیے ترجیح دی جاتی ہے کیونکہ چھوٹے بچے زیادہ تر وقت ماں کے ساتھ گزارتے ہیں۔ اِس لیے خاص طور پر چھوٹی عمر میں ماں کا نمونہ بچوں کے لیے نیکی اور تقویٰ اور دین کی محبت کا ہو تو اولاد میں بھی یہ خوبیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے ماؤں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:

’’اچھے بچے پیدا کرنے کے لیے آپ کو اچھی مائیں بننا ہو گا۔ یہ تو ہو نہیں سکتا کہ آپ اچھی مائیں نہ بنیں اور اپنے بچوں کے لیےدعائیں کرتی رہیں اور دعائیں منگواتی رہیں کہ اِن کو خدا اچھا بنا دے‘‘

(خطاب لجنہ اماء اللہ کینیڈا بمقام ٹورانٹو 6؍ جولائی1991ء)

ماؤں کے اپنے بچوں کی تربیت کے حوالے سے ہمیں ایک نہایت اہم نکتہ بھی مدِّنظر رکھنا چاہیے۔ بعض خصائل فطری یا طبعی ہوتے ہیں جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اسلامی اصول کی فلاسفی میں انسان کی تین حالتیں طبعی، اخلاقی اور روحانی بیان فرمائی ہیں۔ ماں کی بچے سے محبت ایک طبعی اور فطری جذبہ ہے جس میں دیگر تمام جانداروں کی مائیں بھی شامل ہیں۔ بچوں کو دودھ پلانا یا دانہ دنکا کھلانا، سردی میں اُنہیں پروں کےنیچے لے کر بیٹھنا اوراُن کی حفاظت کے لیے بڑے بڑے دشمن سے بھڑ جانا ہم سب ہر روز مشاہدہ کرتے ہیں حالانکہ نہ تو پرندوں یا چوپاؤں کے بچوں نے بڑے ہو کر اپنی ماؤں کی کوئی خدمت کرنی ہوتی ہے اور نہ ہی اِن ماؤں کو اپنے بچوں سے کسی قسم کا کوئی لالچ ہوتا ہے۔ پس بچوں کی جسمانی پرورش اور اُن کی ظاہری حفاظت ایک فطری جذبہ ہے جو دنیا کی ہر ماں میں پایا جاتا ہے۔ خاکسار جس امر کی طرف توجہ مبذول کرانا چاہتا ہے وہ یہ ہے کہ اگر اشرف المخلوقات یعنی انسان کی ماں بھی اپنے بچے کی صرف جسمانی پرورش اور حفاظت ہی کرتی ہے اور پالتی پوستی ہے جیسا کہ دودھ پلانا، کھانا کھلانا، نہلانا، صاف رکھنا، لباس کا خیال رکھنا اور سردیوں میں گرم کپڑے پہنانا تاکہ اُسے ٹھنڈ نہ لگ جائے وغیرہ تو یہ کام تو دیگر جانداروں کی مائیں بھی کرتی ہیں۔ انسان کی ماں ہونے کے ناطے جب تک وہ جسمانی پرورش کے ساتھ ساتھ بچے کے اخلاق اور کردار کو سنوارنے کے لیے کوشش نہیں کرتی وہ کسی تعریف کی مستحق نہیں ہو سکتی۔ اِس اہم نکتے کو مزید واضح کرنے کے لیے خاکسار حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کا ایک اقتباس پیش کرتا ہے۔ آپؓ فرماتے ہیں:

’’عام طور پر انسان اولاد کو خوب کھلاتا پلاتا اور اُس کی خاطر کرتا ہے۔ جتنی زیادہ ناجائز محبت کرنے والے ماں باپ ہوتے ہیں، اُتنی ہی زیادہ اُنہیں یہ فکر ہوتی ہے کہ اُن کے بچے خوب کھائیں پیئیں۔ مگر یہ حیوانوں والی زندگی ہوتی ہے، اِس طرح گویا وہ اولاد نہیں پالتے بلکہ دنبہ پالتے ہیں۔ کیونکہ دنبے کے لیے صرف کھانے پینے اور رہائش ہی کی فکر کرنی پڑتی ہے اور بہت لوگ اپنی اولاد کی بھی اتنی ہی فکر کرتے ہیں کہ اُسے اچھا کھلائیں، اچھا پلائیں، اچھی رہائش ہو، اچھا کپڑا پہنائیں …۔

پس اگر تم بھی چاہتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کے فیوض تم پر اور تمہاری اولاد پر ہمیشہ نازل ہوتے رہیں تو اپنی اولاد کو دنبے کی طرح نہ پالوبلکہ اُس کی روحانی اصلاح کی فکر کرو۔ خدا تعالیٰ کی محبت اُس کے دل میں پیدا کرو۔ خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کی تڑپ اُس میں پیدا کرو۔ اگر تم اولاد کی اصلاح کی طرف اِس طرح توجہ کرو گے اور حیوانوں کی طرح اُس کی پرورش نہ کرو گے بلکہ انسانوں کی طرح کرو گے تو انسانیت اُس میں مذہب کے طور پر قائم ہو جائے گی اور جب یہ قائم ہو جائے گی تو خدا تعالیٰ کے فضل بھی نازل ہوں گے۔ ‘‘

(خطبہ عید الاضحی فرمودہ11؍جون1927ء مطبوعہ خطباتِ محمود جلد2 صفحہ114تا116)

تربیتِ اولاد کی ابتدا

ہمیں یہ علم بھی ہونا چاہیے کہ تربیتِ اولاد کا کام کب سے شروع کرنا ہے۔ یاد رکھیں اِس کام کی تیاری تو جیسا کہ اوپر ذکر ہو چکا ہے بیوی کے انتخاب کے وقت سے ہی شروع ہو جاتی ہے۔ تربیتِ اولاد کے حوالے سے دوسری بات ہمیں یہ یاد رکھنی ہے کہ عملاًبچے کی تربیت کا کام تو اُس وقت سے ہی شروع ہو جاتا ہے جب وہ ابھی پیدا بھی نہیں ہوا ہوتا اور ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے۔ میڈیکل سائنس کی یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ باہر کے ماحول یعنی ہمارے قول اور فعل اور سوچوں اور احساسات تک کا اثر پیٹ کے اندر بچے پر پڑ رہا ہوتا ہے۔ اِس لیے حمل کے دوران بھی گھر کے ماحول اور خاص طور پر ماں کو اپنی سوچوں اور قول وفعل کو اللہ اور اُس کے رسول کے احکامات کے مطابق رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ بلا شبہ اِس کے لیے باپوں کی مدد بھی درکار ہوتی ہے کہ اِس دوران نہ صرف اپنی بیوی کی خوراک کا خیال رکھیں بلکہ گھر کے ماحول کو بھی خوشگوار رکھیں۔ اِسی طرح بطورِ خاص ماں کو چاہیے کہ وہ خوش رہنے کی کوشش کیا کرے۔ جس حد تک ممکن ہو نیکی پر قائم ہو۔ نمازوں کی پابندی، زیادہ سے زیادہ تلاوتِ قرآنِ کریم ترنم کے ساتھ اونچی آواز میں کرنے کا معمول بنا لے۔ جماعتی کتب کا مطالعہ کرے اور دینی امور میں غور و خوض کرے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفائے کرام کا منظوم کلام گنگناتی رہا کرے۔ حساب کے سوالات حل کیا کرے وغیرہ۔ یعنی ایسے معاملات میں مصروف رہے جن میں سوچ بچار، غور و خوض اور تدبرسے کام لینا پڑتا ہے۔ اگر وہ اِن امور کو اپنا معمول بنا لے تو انشاء اللہ تعالیٰ پیٹ کے اندر اُس کے بچے پر اِن کا اثر ہو گا اور وہ ایک نیک، ذہین اور ہونہار بچہ ہو گا۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ نے اِس کا باقاعدہ تجربہ کیا کہ کیا پیٹ کے اندر بھی باہر کے ماحول اور خصوصاً ماں کے قول و فعل کا بچے پر اثر ہوتا ہے؟ آپؓ کے الفاظ میں ہی یہ تجربہ درج ہے:

آپؓ فرماتے ہیں:’’میری بیوی کو جب میرے لڑکے محمود احمد کا حمل ہواتو مَیں نے اُس سے کہا کہ تم لکھا بہت کرو۔ مدعا اِس سے یہ تھا کہ تجربہ کروں کہ یہ بچہ لکھنے کا شوقین ہو گا کہ نہیں؟ چنانچہ جس وقت محمود احمد کے انتقال کا زمانہ قریب تھامَیں نے ایک قلم لیا اور ایک روپیہ لیا۔ دونوں اُس کے سامنے کئے۔ اُس نے ہر مرتبہ قلم ہی کی طرف ہاتھ بڑھایا۔‘‘

(مِرقات الیقین فی حیاتِ نورالدین صفحہ 205)

گھر کا ماحول اور والدین کا ذاتی نمونہ

تیسری بات جس کا ہمیں جائزہ لینا ہے وہ یہ ہے کہ بچے کی پیدائش کے بعد وہ کیسا ماحول ہے جو ہم گھر کے اندر اپنے بچوں کو دیتے ہیں۔ ہمارے بچے ہمارے قول اور فعل سے کیا سیکھتے ہیں۔ یاد رکھیں چھوٹے اور معصوم دودھ پیتے بچے پر بھی ہماری اخلاقی حالتوں اور سوچوں کے اثرات پڑتے ہیں۔ پس یہ خیال غلط ہے کہ ہمارابیٹا یا بیٹی تو ابھی گود میں ہے اِسے کیا پتہ کہ مَیں کیا کہتا اور کرتا ہوں یا کہتی اور کرتی ہوں۔ اگر پیٹ کے اندر بچے پر اثر ہو سکتا ہے تو پیدا ہونے کے بعد کیوں نہیں ہو سکتا؟ ماں کی گود بچے کی سب سے پہلی درسگاہ ہوتی ہے۔ جیسے چھوٹے پودے کے ساتھ لوگ ایک لکڑی گاڑتے ہیں کہ وہ سیدھا رہے اِسی طرح ہمیں چھوٹی عمر سے ہی اپنے بچوں کے ساتھ تربیت کی لکڑی گاڑنا ہے۔ اُس لکڑی گاڑنے کا ایک نہایت اہم پہلو گھر کا ماحول ہے۔ مثلاً والدین کی عام گفتگو۔ یعنی والدین ایک دوسرے اور بچوں کے ساتھ کیسی زبان میں گفتگو کرتے ہیں۔ گھر میں نمازوں اور تلاوتِ قرآنِ پاک کی صورتِ حال کیا ہے۔ ایم ٹی اے کتنا دیکھتے ہیں۔ گفتگو میں سچائی، ایمانداری کا معیار، قانون کا احترام، جماعت سے تعلق اور پروگرامز میں شمولیت کا معیار، رزقِ حلال کمانے کی صورتِ حال کیسی ہے۔ یہ ہیں وہ پہلو جو ایک عملی کلاس کا رنگ رکھتے ہیں جس سے ہمارے بچے ہم سے سیکھتے ہیں اور اُن کا کردارسنورتا یابگڑتا ہے۔

اب فرض کریں ایک والدہ کا پردہ ڈھیلا ہے یا اپنے خاوند سے عزت سے پیش نہیں آتی اور اُس کی اطاعت اور خدمت سے لاپرواہ ہے یا جھوٹ بولتی اور خاوند سے باتیں چھپاتی ہے تودراصل وہ اپنی بیٹی کو اپنے قول اور فعل سے یہی سکھا رہی ہے۔ اب اگر کسی بیٹی نے بیس سال اپنی ماں کو ایسے ہی کرتے دیکھا ہے تو گویا اُس ماں نے اپنی بیٹی کو اپنے عمل سے یہ ٹریننگ دی ہے اور پھر نتیجہ یہ ہو گا کہ کل کو شادی کے بعد اپنے گھر میں جا کر وہ بھی ویسے ہی کرے گی جیسا اُس نے اپنی ماں سے سیکھا تھا۔

اسی طرح اگر کوئی خاوند اپنی بیوی سے بد زبانی کرتا ہے۔ اخراجات کی وجہ سے تنگ کرتا ہے۔ بیوی کے والدین اورعزیز و اقارب کے حقوق کا خیال نہیں رکھتا اور بیوی پر ناجائز پابندیاں لگاتا ہے۔ گھر میں ڈانٹ ڈپٹ کا ماحول ہے۔ بچے اُس کے نام سے گھر آنے پرسہم جاتے ہیں۔ نہ ہی اُنہوں نے باپ کو کبھی نماز پڑھتے اور تلاوت کرتے دیکھا ہے تو وہ اپنے بیٹوں کو اپنے عمل سے یہی کچھ سکھا رہا ہےاور اِس کا بھی یہی نتیجہ ہو گا کہ شادی کے بعد بیٹے بھی اپنے گھروں میں اپنی بیویوں سے ویسا ہی برتاؤ کریں گے جیسا اُنہوں نے باپ سےسیکھا ہو گا۔

ضروری معلوم ہوتا ہے کہ یہاں والد صاحبان کو نیچر کے ایک اہم نکتہ کی طرف توجہ دلائی جائے۔ قبل ازیں ماں کے بچے کے ساتھ قدرتی اور ذاتی تعلق کا ذکر ہو چکا ہے۔ اِس تعلق کی بنا پر بچوں کی ماں کے ساتھ قدرتی محبت اور کشش کے حوالے سے جو بے پناہ طاقت ماں کو حاصل ہوتی ہے وہ باپ کو ہرگز نہیں ہوتی۔ افسوس ہے کہ ہم میں سے بعض والد صاحبان گھر سے باہر اپنے کام کاج، کاروباریا نوکری وغیرہ کے بہانے بچوں کومناسب وقت نہیں دیتے۔ نہ تو اُنہیں بچوں کی تعلیمی صورتِ حال کا علم ہوتا ہے، نہ وہ اُن کے ساتھ کھیلتے ہیں اور نہ ہی اُن کے ساتھ بیٹھ کر محبت کا اظہار کرتے ہیں۔ بچوں کے ساتھ اُن کا رویّہ صرف ڈانٹ ڈپٹ اور رعب و دبدبے کے اظہار والا ہوتا ہے۔ یاد رکھنا چاہیے کہ یہ صورتِ حال ایسے والد صاحبان کے لیے انتہائی خطرناک نتائج کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہے۔ ایک طرف تو ماں کی قدرتی طاقت ہے اور دوسری طرف اِس حوالے سے باپ کی کمزور پوزیشن پر مستزاد اُس کا منفی رویّہ۔ اِس کا لازمی نتیجہ یہ ہو گا کہ بچے جب بڑے ہوں گے تو اُن کا جھکاؤ باپ کی بجائے ماں کی طرف زیادہ ہو گا اوراُن کے دل میں باپ کا وہ مقام نہیں ہو گا جو ہونا چاہیےحالانکہ گھر کے سربراہ کی حیثیت سےاُسے بچوں سے عزّت و احترام کا سلوک ملنا چاہیے تھا۔ خلاصہ کلام یہ کہ والد صاحبان کواِس حوالے سے بطورِ خاص کوشش اورمحنت کرنے کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ دوسری طرف ماں کی قدرتی محبت اور ذاتی تعلق کی کشش ہے۔ اِس لیے والد صاحبان کو چاہیے کہ اپنے بچوں کو مناسب وقت دیں، اُن کی عمر کے مطابق اُن کے ساتھ کھیلیں، اُن کی تعلیم کے حوالے سے دلچسپی لیں اور اُن کی مدد کریں، خود بھی جماعت کے ساتھ مضبوط تعلق رکھیں اور جماعتی پروگرامزاور اجلاسات میں شامل ہوں اور خاص طور پر بیٹوں کو بھی ساتھ لے کر جائیں۔ بچوں کے ساتھ محبت اور دوستی کا تعلق استوار کریں اور اُن کے سَر پر شفقت اورحفاظت کاسائبان بن کر رہیں۔

اِس تیسری تدبیر کا خلاصہ یہ ہے کہ والدین کو بچوں کی تربیت کے لیے اپنے گھرکے ماحول کو دینی اور علمی رنگ دیتے ہوئےاپنے قول اور فعل سے اپنا نیک نمونہ پیش کرنا ضروری ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:

’’پس خود نیک بنو اور اپنی اولاد کے لیے ایک عمدہ نمونہ نیکی اور تقویٰ کا ہو جاؤاور اُس کو متقی اور دیندار بنانے کی سعی اور دعا کرو۔ جس قدر کوشش تم اُن کے لیے مال جمع کرنے کی کرتے ہواُسی قدر کوشش اِس امر میں کرو۔ ‘‘

(ملفوظات جلد 4صفحہ 444، ایڈیشن1988ء)

بچوں کی صحبت اور دوستیاں

تربیتِ اولاد کے حوالے سے چوتھی تدبیر جس کے بارے میں خاکسار بطور یاددہانی عرض کرنا چاہتا ہے وہ ہے بچوں کی صحبت اور اُن کی دوستیاں۔ فارسی میں کہتے ہیں تخم را تاثیر صحبت را اثر۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اِس ضرب المثل کے بارے میں فرماتے ہیں:

’’مثل مشہور ہے ’’تخم را تاثیر صحبت را اثر‘‘۔ اِس کے اوّل جزو (حصہ) پر کلام ہو تو ہو، لیکن دوسرا حصہ ’’صحبت را اثر‘‘ایسا ثابت شدہ مسئلہ ہے کہ اِس پر زیادہ بحث کرنے کی ہم کو ضرورت نہیں۔ ‘‘

(ملفوظات جلد اوّل صفحہ 45، ایڈیشن1988ء)

پس جو والدین اپنے بچوں کو آگ سے بچانا چاہتے ہیں اُن کا فرض ہے کہ اِس بات کی بھی نگرانی کریں کہ اُن کے بچوں کی نیک صحبت ہو اور اُن کے اچھے دوست ہوں۔ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں:

’’…خواہ ماں باپ کتنی بھی کوشش کر یں کہ اُن کا بچہ بداخلاقیوں کے بد اثرات سے محفوظ رہے جب تک بچے کی صحبت اور مجلس نیک نہ ہو گی اُس وقت تک ماں باپ کی کوشش بچوں کے اخلاق درست کرنے میں کارگر اور مفید ثابت نہیں ہو سکتی۔ بے شک ایک حد تک اُن کی اچھی تربیت سے بچوں میں نیک خیالات پیدا ہوتے ہیں لیکن اگر بچے کی عمدہ تربیت کے ساتھ اُس کی صحبت بھی اچھی نہ ہو تو بد صحبت کا اثر تربیت کے اثر کو اتنا کمزور کر دیتا ہے کہ اس تربیت کا ہونا نہ ہونا قریباً مساوی ہو جاتا ہے۔ بچپن کی بد صحبت ایسی عادات بچے کے اندر پیدا کر دیتی ہے کہ آئندہ عمر میں اُن کا ازالہ نا ممکن ہو جاتا ہے…ایک طرف تو ماں باپ کی نیک تربیت اُس کو نیکی کی طرف کھینچتی ہے اور دوسری طرف بد صحبت بدی کا میلان اُس کے اندر پیدا کرتی ہے اور وہ ہمیشہ اِسی کشمکش میں مبتلا رہتا ہے اور نفسِ لوّامہ کے اثر سے اُس کو کبھی آزادی حاصل نہیں ہوتی۔ ماں باپ کی تربیت اگر خشیۃ اللہ اُس کے اندر پیدا کرتی ہے تو بد صحبت اِس کے مقابلہ میں اُس کی ہمت اور حوصلے کو پست کر دیتی ہے۔ پس کامل تربیت اُسی وقت ہو سکتی ہے جب اچھی تربیت کے ساتھ صحبت بھی اچھی ہو۔ ‘‘

(الازھار لذوات الخمار جلد اوّل صفحہ160تا161)

اولاد کےلیے والدین کی دعائیں

پانچویں تدبیر جو والدین کو اختیار کرنی ضروری ہے وہ ہے بچوں کے لیے دعا ئیں کرنا۔ قرآنِ پاک میں اپنی اولاد کے لیے انبیاء کی نصائح کے علاوہ متعدد دعائیں بھی مذکور ہیں۔ اِس سے ہمیں یہ راہ نمائی ملتی ہے کہ دیگر تدابیر کے سا تھ ساتھ اپنی اولاد کے نیک اور صالح ہونے کے لیے دعائیں کرنا بھی سنتِ انبیاء ہے۔ اِس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے بچوں کے لیے سجدوں میں پڑ کر اور نام لے لے کر دعائیں کریں اور اِس کو زندگی کا معمول بنا لیں۔ یقین جانیں والدین کی بچوں کے حق میں دعاؤں کو جناب الٰہی میں خاص قبول بخشا گیا ہے۔

پس ہمیں اپنے بچو ں کی تربیت کے لیے اِن سب تدابیر پر عمل کرنے کی بھرپور کوشش کرنی چاہیے۔ ہمارے بچے ہی ہمارا اثاثہ اور ہماری اصل دولت ہیں۔ اِس کی حفاظت اور اسے بنانے سنوارنے کے لیے جہاں ہمیں اپنے اموال، جذبات و خواہشات اور اوقات کی قربانی کرنی ہے وہاں اِن کی تربیت کے لیے ا پنا ذاتی نیک نمونہ بھی پیش کرنا ہے اور اِن کے لیے دعائیں بھی کرنی ہیں۔ حضرت مسیحِ موعود علیہ ا لصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں:

’’پس جب تک اولاد کی خواہش محض اِس غرض کے لیے نہ ہو کہ وہ دیندار اور متقی ہو اور خدا تعالیٰ کی فرماں بردار ہو کراُس کے دین کی خادم بنے بالکل فضول بلکہ ایک قسم کی معصیّت اور گناہ ہے اور باقیات صالحات کی بجائے اُس کا نام باقیات سیّئات رکھنا جائز ہو گا۔ لیکن ا گر کوئی شخص یہ کہے کہ مَیں صالح اور خد اترس اور خادمِ دین اولاد کی خواہش کرتا ہوں تو اُس کا یہ کہنا بھی نرا ایک دعویٰ ہی دعویٰ ہو گا جب تک وہ خود اپنی حالت میں ایک اصلاح نہ کرے۔ اگر خود فسق و فجور کی زندگی بسر کرتا ہے اورمنہ سے کہتا ہے کہ مَیں صالح اور متقی اولاد کی خواہش کرتا ہوں تو وہ اپنے اِس دعویٰ میں کذّاب ہے۔ صالح اور متقی اولاد کی خواہش سے پہلے ضروری ہے کہ وہ خود اپنی اصلاح کرے اور اپنی زندگی کو متقیانہ زندگی بناوے۔ تب اُس کی ایسی خواہش ایک نتیجہ خیز خواہش ہو گی اور ایسی اولاد حقیقت میں اِس قابل ہو گی کہ اُسے باقیات صالحات کا مصداق کہیں لیکن اگر یہ خواہش صرف اِس لئے ہو کہ ہمارا نام باقی رہے اور وہ ہمارے املاک و اسباب کی وارث ہویا وہ بڑی نامور اور مشہور ہوتو اِس قسم کی خواہش میرے نزدیک شرک ہے …

پھر ایک اور بات ہے کہ اولاد کی خواہش تو لوگ بڑی کرتے ہیں اور اولاد ہوتی بھی ہے مگر یہ کبھی نہیں دیکھا گیا کہ وہ اولاد کی تربیت اور اُن کو عمدہ اور نیک چلن بنانے اور خدا تعالیٰ کے فرمانبردار بنانے کی سعی اور فکر کریں اور نہ کبھی اُن کے لیے دعا کرتے ہیں …۔

میری اپنی تو یہ حالت ہے کہ میری کوئی نماز ایسی نہیں جس میں مَیں اپنے دوستوں اور اولاد اور بیوی کے لیے دعا نہیں کرتا۔ بہت سے والدین ایسے ہیں جو اپنی اولاد کو بُری عادتیں سکھا دیتے ہیں۔ ابتدا میں جب وہ بدی کرنا سیکھنے لگتے ہیں تو اُن کو تنبیہ نہیں کرتے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ دن بدن دلیر اور بےباک ہو جاتے ہیں۔ ‘‘

(ملفوظات جلد اوّل، مطبوعہ صفحہ560تا562، ایڈیشن1988ء)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مورخہ 14؍جولائی 2017ء کے خطبہ جمعہ میں تربیتِ اولاد کے حوالے سے والدین کو خصوصاً دعاؤں اور اُن کی دیگر ذمہ داریوں کی طرف بڑی تفصیل سے توجہ دلائی ہے۔ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:

’’اللہ تعالیٰ نے یہ بھی ہم مسلمانوں پراحسان فرمایا ہے بشرطیکہ مسلمان اِس طرف توجہ دیتے ہوئے اِس پر عمل کرنےوالے ہوں کہ قرآنِ کریم میں مختلف جگہوں پر بچوں کی پیدائش سے پہلے سے لے کر تربیت کے مختلف دَوروں میں سے جب بچہ گزرتا ہے تو اُس کے لیے دعائیں بھی سکھائی ہیں اور والدین کی ذمہ داریوں کی طرف بھی توجہ دلائی ہے۔ اگر ہم یہ دعائیں کرنے والے اور اِس طریق کے مطابق اپنی زندگی گزارنے والے اور اپنے بچوں کی تربیت کی طرف توجہ دینے والے ہوں تو ایک نیک نسل آگے بھیجنے والے بن سکتے ہیں۔ ‘‘

(خطبہ جمعہ فرمودہ 14؍جولائی 2017ء مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل 28؍جولائی 2017ءصفحہ25)

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں بطور والدین اپنی ذمہ داریوں کو سمجھ کر اپنے بچوں کی بہترین رنگ میں تربیت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

For security, use of Google's reCAPTCHA service is required which is subject to the Google Privacy Policy and Terms of Use.

I agree to these terms.

Back to top button
Close