ایشیا (رپورٹس)

امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے لجنہ اماء اللہ کبابیر کی تاریخی(آن لائن) ملاقات

٭…اصل چیلنج یہ ہے کہ دنیا میں جو برائیاں پھیل رہی ہیں ان سے ہم نے کس طرح مقابلہ کرنا ہے۔ جب ان کے مقابلے کے لیے تیار ہو جائیں گے تو اپنے ماحول میں جو حالات ہیں ان کو بھی سنبھالنے کے لیے تیار ہو جائیں گے

٭…جنت ماں کے قدموں کے نیچے ہے۔ پس اگر جنت میں خود بھی جانا ہے اور اپنے بچوں کو بھی لے کے جانا ہے تو پھر سب سے بڑی یہ چیز ہے کہ اپنی اگلی نسلوں کو سنبھالیں اور ان کی اعلیٰ رنگ میں تربیت کریں

امام جماعت احمدیہ عالمگیر حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے 6؍جون 2021ء کو کبابیر (حیفا) کی ممبرات لجنہ اماء اللہ سے آن لائن ملاقات کو رونق بخشی۔حضورِ انور اس ملاقات کے لیے اپنے دفتر اسلام آباد (ٹلفورد) میں موجود تھے جبکہ ممبرات لجنہ اماء اللہ محمود مسجد کبابیر سے شامل ہوئیں۔

ملاقات کا آغاز تلاوت قرآنِ کریم سے ہوا جو مکرمہ سریا ولید صاحبہ نے کی۔ بعد ازاں مکرمہ کوکب عودہ صاحبہ(صدرلجنہ اماءالله) نےحضورِانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت میں مختصر الفاظ میں استقبالیہ پیش کیا۔ بعد ازاں تین ممبرات (براء عودہ ، نجلہ عودہ اور الاء عودہ ) نے نعتیہ اشعار طَلَعَ الْبَدْرُ عَلَيْنَا مِنْ ثَنِيَّاتِ الْوَدَاعِ پیش کیے۔

مختصر پریزنٹیشنز کے بعد کبابیر میں رہنے والی احمدی خواتین کو حضورِ انور سے چند سوالات پوچھنے کا موقع ملا۔ حاضرین مجلس میں سے ایک (خاتون) نے حضور انور سے مشرق وسطیٰ میں رہنے والوں کی معاشرتی اور سیاسی پریشانیوں کے بارے میں دریافت فرمایا۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا:

ایک تو مخصوص خطرات ہیں جو علاقے کو گھیرے ہوئے ہیں، خاص طور پر مسلمانوں کو اس علاقے میں خطرہ رہتا ہے اور اس میں قطع نظر اس کے کہ قصور کس کا ہوتا ہے، کون پہلے شروع کرتا ہے، کس کی طرف سے کیا کیا پالیسی ہونی چاہیے لیکن بہرحال خطرہ ہے مخالفین اسلام کی طرف سے اور جب ہم موقع دیتے ہیں ان کو تو وہ خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ اس لیے اس علاقے میں بڑی حکمت سے رہنے کی ضرورت ہے اور کل بھی میں نے بتایا تھا کہ صحیح نمونے پیش کرنے کی ضرورت ہے جو اسلام کی حقیقی تعلیم کے نمونے ہیں اور کسی کو موقع نہ دیا جائے کہ اسلام کے خلاف کوئی بات کرے۔

عمومی خطرات کا تذکرہ کرتے ہوئے حضورِ انور نے فرمایا کہ صرف یہاںکی بات نہیں ہے، جو سب سے بڑا خطرہ ہے وہ دنیا میں آجکل ہر جگہ موجود ہے اور وہ خطر ہ ہے دجالی طاقتوں کے غلط قسم کے کاموں کی تشہیر جو میڈیا کے ذریعہ سے، انٹرنیٹ کے ذریعہ سے، مختلف ذرائع سے دنیا میں ہر جگہ ہو رہی ہے اور اس کی وجہ سے ایک دین دار خاندان میں پیدا ہونے والا بچہ یا بچی اپنے دین کو بھی بھول رہا ہے اور دنیا کی اور مادیت کی طرف زیادہ توجہ پیدا ہو رہی ہے۔ ہمیں اس سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اس کے لیے اپنے بچوں کی تربیت کرنی چاہیے اور ماؤں کو اس کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ بچپن سے ہی مائیں اپنے ساتھ بچوں کو اٹیچ کریں۔ انہیں بتائیں کہ دین کیا ہے اور ہمیشہ ایک احمدی ماں کا کام ہے کہ اپنے بچے کے دل میںیہ ڈال دے، دماغ میں ڈال دے، راسخ کر دے، اس کو اچھی طرح سمجھادےکہ تم نے دین کو دنیا پہ مقدم رکھنا ہے، دنیا کی جو خواہشات ہیں یا دنیا کی جو چکاچوند ہے تمہیں متاثر کرنے والی نہ ہو بلکہ ہمیشہ، ہر موقع پر دین مقدم ہو۔ اور جب دین مقدم ہو گا اور خدا تعالیٰ کی رضا مقدم ہو گی اور اس رضا کو حاصل کرنے کے لیے تم کوشش کرو گے، اپنی عبادتوں کو سنوارو گے اپنا اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کرو گے، اعلیٰ اخلاق اختیار کرو گے، اسلامی تعلیم پہ عمل کرو گے تو اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے بنو گے اور جب اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہوتی ہے تو دنیا خود بخود مل جاتی ہے۔ پس بچپن سے ہی اس بات کی تربیت کی ضرورت ہے۔ اگر یہ تربیت آپ اپنے لڑکوں اور لڑکیوں اور بچوں اور بچیوں میں کر دیں تو اگلی نسلوں کو سنبھالنے والے بن جائیں گے اور یہی بڑا چیلنج ہے۔ یہ چھوٹے موٹے چیلنج تو آپ کے حالات کے مطابق اٹھتے ہیں ان کو چیلنج نہ سمجھیں۔ اصل چیلنج یہ ہے کہ دنیا میں جو برائیاں پھیل رہی ہیں ان سے ہم نے کس طرح مقابلہ کرنا ہے جب ان کے مقابلے کے لیے تیار ہو جائیں گے تو اپنے ماحول میں جو حالات ہیں ان کو بھی سنبھالنے کے لیے تیار ہو جائیں گے۔

٭…ایک ممبرنےسوال کیاکہ عرب احمدی مسلمان خواتین کے لیے آ پ کا کیا پیغام ہے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

عرب عورتیں ہوں یا غیر عرب عورتیں ہوں ہر احمدی عورت کے لیے یہی پیغام ہے، ایک تو یہ کہ اپنے نمونے قائم کریں جو آپ کے ماحول میں آپ کو نمایاں کرنے والے ہوں۔ یہ پتہ لگے کہ یہ احمدی مسلمان عورتیں ہیں جن کے عمل، جن کے اخلاق، جن کا اٹھنا بیٹھنا، جن کی بات چیت، جن کا معاشرے میں رہن سہن اور تعلق اسلامی تعلیم کے مطابق ہے۔ دوسری سب سے بڑی اہم بات یہ ہے کہ احمدی عورتوں کو جیسا کہ مَیں پہلے بھی کہہ چکا ہوں بچوں کی تربیت کی طرف توجہ دینی چاہیے، ان کو دین سکھانا چاہیے اور ان کے لیے دعا کرنی چاہئے۔ ماں باپ کی دعائیں بچوں کو لگتی ہیں اس لیے اپنی تربیت کے ساتھ ساتھ، ان کو دین سکھانے کے ساتھ ساتھ، ان کو دین سے اٹیچ کرنے کے ساتھ ساتھ، ان کو خدا کی وحدانیت سے جوڑنے کے ساتھ ساتھ، ان کو اعلیٰ اخلاق اسلامی تعلیم کے مطابق سکھانے کے ساتھ ساتھ، ان کے لیے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ انہیں ہمیشہ دین کے ساتھ جوڑے رکھے اور کبھی وہ اپنے رستے سے بھٹکنے والے نہ ہوں۔ اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ پر چلنے والے ہوں۔ صراط مستقیم پر چلنے والے ہوں۔ اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَکی دعا ان کے لیے کریں کہ ہمیشہ وہ صراطِ مستقیم پر ہوں اور کبھی شیطان کے قبضہ میں نہ جائیں، کبھی ان کے دل میں دین کے بارے میں کوئی انقباض پیدا نہ ہو، کبھی ان کے دل میں معاشرے کے امن کو برباد کرنے کے بارے میں کوئی خیال پیدا نہ ہو۔ پس یہ تربیت ہے جو ایک احمدی عورت کو اپنے بچوں کی کرنی چاہیے اور یہ بہت بڑا فرض ہے۔ اگر احمدی عورتیں اس فرض کو ادا کر لیں تو پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث کی بھی مصداق بن جائیں گی کہ جنت ماں کے قدموں کے نیچے ہے۔ پس اگر جنت میں خود بھی جانا ہے اور اپنے بچوں کو بھی لے کے جانا ہے تو پھر سب سے بڑی یہ چیز ہے کہ اپنی اگلی نسلوں کو سنبھالیں اور ان کی اعلیٰ رنگ میں تربیت کریں۔

٭…ایک خاتون نے ذکر کیا کہ ایسی مسلمان خواتین جو پردہ کرتی ہیں انہیں معاشرے میں غیر مسلموں کی طرف سے تجسس اور سختی کا سامنا ہوتا ہے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

بات یہ ہے کہ حجاب پہننے کو صرف وہاں تو نہیں معیوب سمجھا جاتا، یورپ میں بھی سمجھا جاتا ہے۔ یورپ میں بعض ممالک ایسے ہیں جہاں قانون پاس کیے گئے ہیں کہ حجاب نہیں پہننا یا بعض پبلک جگہوں پر حجاب نہیں پہننا بلکہ (حجاب پہننے پر)جرمانہ اور سزا ہے۔ اس کے باوجود جو عورتیں اور نوجوان بچیاں ایمان پر قائم ہیں وہ حجاب پہنتی ہیں۔ آپ نے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ آیا آپ نے خدا تعالیٰ کی بات ماننی ہے اور اس کے لیے ہر تکلیف اور ہر استہزا اور ہر غلط قسم کے ریمارک کو برداشت کرنا ہے یا ان چیزوں سے ڈر کے لوگوں کی باتیں ماننی شروع کر دینی ہیں اور معاشرے کی جو چال ہے اس کے پیچھے چلنا شروع کر دینا ہے۔ تو یہ فیصلہ تو آپ نے کرنا ہے کہ ایک مومن عورت کا ایمان مضبوط ہونا چاہیے۔ جب یہ ایمان ہے کہ قرآن کریم کی تعلیم ایک ایسی تعلیم ہے جو ہمیشہ کے لیے ہے اور ہمیشہ قائم رہنے والی ہے اور جب یہ ایمان ہے کہ یہ آخری شرعی کتاب ہے اور اس کے جو احکامات ہیں وہ آخری اور ہماری بہتری اور بقا کے لیے ہیں تو پھر اس بات پہ قائم ہو جائیں کہ یہ قرآن کریم کا حکم ہے کہ عورت کو حجاب لینا چاہیے، پردہ کرنا چاہیے۔ تو یہ آپ نے دیکھنا ہو گا، یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ آپ نے اپنے ایمان کی حفاظت کرنی ہے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق جو قائم کیا ہے اس کو قائم رکھنا ہے اور اس کی بات ماننی ہے یا معاشرے سے ڈر کے ان چھوٹی چھوٹی باتوں پر گھبرا کے اور پریشان ہو کے اس تعلیم پر عمل کرنا چھوڑنا ہے۔ تو یہ تو آپ پہ dependکرتا ہے۔

حضورِ انور نے فرمایا کہ آپ خود فیصلہ کریں آپ نے کیا چیز چننی ہے اور میں امید رکھتا ہوں کہ ایک احمدی مومن لڑکی، بچی، نوجوان اور عورت اس بات پر قائم رہے گی کہ اس نے جب مسیح موعود اور مہدی معہودؑ کو مانا ہے تو اس تعلیم پر عمل کرنا ہے جو قرآن کریم کی تعلیم ہے اور جس پر عمل کروانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس زمانے میں مسیح موعودؑ کو بھیجا تھا۔

٭…ایک اَور خاتون نے حضور انور سے سوال کیا کہ ایک ایسی احمدی مسلمان عورت جس نے مالی تنگی کی وجہ سے نوکری کی ہو وہ اپنے خاندان کے متعلق اپنے فرائض کو نظر انداز کیے بغیر کیسے بچائے؟

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

اگر ایک احمدی مسلمان ماں ضرورت کے باعث نوکری کرتی ہے تاکہ گھر کی مالی ضروریات پوری کر سکے تو اس کو ایسی نوکری ڈھونڈنی چاہیے کہ اس کے شوہر کے ا ور بچوں کے دفتر اورسکول سے واپس گھر آنے سے پہلے وہ گھر پہنچ سکے۔ اگر یہ ممکن نہ ہو اور وہ اپنے بچوں کی سکول سے واپسی پر انہیں خوش آمدید نہ کہہ سکتی ہو تو بچوں کو پتہ ہونا چاہیے کہ ان کی ماں نے ان کے لیے کچھ تیار کر رکھاہے، تو منہ ہاتھ دھونے اور کپڑے بدلنے کے بعد کھانا ان کے انتظار میں ہو۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

جو ماں کسی بھی شعبہ میں ملازمت کر رہی ہو اس کو دگنی محنت کرنی پڑتی ہے۔ اسے اپنے کام کی جگہ پر بھی تمام فرائض ادا کرنے ہوتے ہیں اور اپنے بچوں کو بھی مناسب وقت دینا ہوتا ہے۔ اسے چاہیے کہ ان سے باتیں کرے،ان کی اخلاقی طور پر راہنمائی کرے اور انہیں نمازیں پڑھنے کی یاد دہانی کرواتی رہے۔ کچھ بھی ہو، ہر خاندان میں ایک مثبت ماحول ہمیشہ قائم رہنا چاہیے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے مزید فرمایا:

اپنے بچوں پر نظر رکھیں کہ وہ نقصان دہ اور غیر اخلاقی مواد انٹر نیٹ پر نہ دیکھیں۔ اسی طرح جب ہفتہ وار چھٹی کا دن (weekend)ہو تو ہر ماں کو اپنے بچوں کے ساتھ زیادہ وقت گزارنا چاہیے۔ یقیناً یہ باپوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ گھروں میں ماؤں کا ہاتھ بٹائیں۔ والدین اور بچوں کے درمیان ایک مضبوط گھریلو ماحول قائم ہونا چاہیے، اکٹھے بیٹھیں، اپنے خیالات کا کھل کر تبادلہ کریں، اس سے اتحاد قائم ہوگا اور بچوں کو ہمیشہ خاندان سے جوڑے رکھنے کا باعث ہوگا اور یہ بات پھر ان بچوں کو جماعت احمدیہ مسلمہ سے مضبوط تعلق جوڑنے میں بھی مدد دے گی۔

٭…ایک اَور سوال اس بارے میں ہوا کہ نوجوانوں کو جماعت احمدیہ کے پروگراموں کی طرف کیسے مائل کیا جائے، ایسے وقت میں جب لوگ خد ا سے دور ہٹ رہے ہیں؟

حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے نصیحت فرمائی کہ احمدی ماؤں کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو چھوٹی عمر میں جماعت احمدیہ کے پروگراموں میں شامل ہونے میں کر دار ادا کریں۔ لجنہ اماء اللہ اور ناصرات الاحمدیہ کے پروگرام ایسی طرز پر ترتیب دیے جانے چاہئیں جوان کے لیے دلچسپی کا باعث ہوں اور ان کا آپس میں تعلق بھی بڑھے۔

حضور انور نے فرمایا کہ بچوں کے لیے ایسے کھیل اور تفریح کے پروگرام ہونے چاہئیں اور انہیں موقع ملنا چاہیے کہ وہ اپنے خیا لات کااظہار کر سکیں اور خود کو بااختیار محسوس کریں بجائے اس کے کہ ان کو محض تقاریر ہی سنائی جائیں۔

ایک لجنہ ممبر نے سوال کیا کہ اگر ہمیں ہمارے غیر مسلم دوست ایسی تقریبات میں شامل ہونے کی دعوت دیں جہاں غیر اسلامی رسوم پر عمل کیا جا رہا ہو تو کیا ہمیں ان میں شامل ہونا چاہیے؟

حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

بات یہ ہے کہ آپ کا ماحول وہاں صرف کبابیرمیں تو ایسا نہیں ہے یا اسرائیل میں تو ایسا نہیں ہے۔ دنیا کے اکثر ممالک میں یہی ماحول ہے۔ بلکہ مسلمان ملکوں میں بھی خاص طور پہ پاکستان اور ہندوستان جو برصغیر ہے اس میں تو ہندوؤں کی اور غیروں کی رسمیں اتنی راہ پا گئی ہیں کہ مسلمانوں کے اندر بھی وہ غلط قسم کی رسمیں آ چکی ہیں۔ لیکن غیر از جماعت جو اچھے تعلقات والے ہیں وہ احمدیوں کو بلاتے ہیں تو آپ جائیں۔ ان کی تقریبات میں جا کے اپنا ایک وقار رکھ کے بیٹھیں۔ اگر وہاں ڈانس ہو رہا ہے تو ٹھیک ہے اس طرف سے نظر پھیر لیں۔ اگر وہاں کوئی غلط پروگرام ہو رہا ہے تو اٹھ کے دوسرے کونے میں چلے جائیں۔ لیکن عمومی طور پہ یہ اس طرح نہیں ہوتا کہ انتہائی کوئی بیہودگی والا ماحول ہو۔ (اگرہوتو)تو اَور بات ہے۔ پھر وہاں جائیں اور اس کو جس تقریب میں بھی بلایا گیا ہے اگر وہ شادی کی تقریب ہے تو اس کو وہاں بلانے والے کو یا دلہا دلہن کو تحفہ جو بھی دینا ہے آپ دے کے آ جائیں یا کھانا وغیرہ کھایا تو اس کے بعد اٹھ کے آ جائیں۔ اپنے آپ کو بچایا جا سکتا ہے ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ سوائے اس کے کہ بالکل ہی بے حیائی والا ماحول ہو اور جو بے حیائی والا ماحول ہو وہاں پہلے ہی پتہ لگ جاتا ہے اس میں پھر آپ شامل نہ ہوں۔ لیکن عمومی طور پہ ایسا ماحول ہوتا ہے کہ جہاں کسی نہ کسی طرح حالات کے مطابق ایڈجسٹ (adjust)کیا جا سکتا ہے۔

حضورِ انور نے فرمایا کہ ایک دوسرے کی تقریبات میں جانا چاہیے۔ اس سے تعلقات بھی بہتر ہوتے ہیں اور آپس میں تعارف بھی بڑھتا ہے، آپس میں تعلق پیدا ہوتا ہے اور جس کی وجہ سے پھر آپ کےتبلیغ کے رستے بھی کھلیں گے۔ بالکل ہی اپنے آپ کو علیحدہ کر لیں گی تو اس سے پھر تبلیغ کے رستے بھی مسدود ہوتے چلے جائیں گے۔ اس لیے ماحول دیکھ کے وہاں اپنے آپ کو ایڈجسٹ کرنے کی کوشش کریں۔ سوائے اس کے کہ بہت ہی گندہ ماحول ہو جائے تو معذرت کر کے وہاں سے اٹھ کے آجائیں لیکن عمومی طور پر اتنے گندے ماحول بھی نہیں ہوتے، کچھ رسم و رواج ہی ہوتے ہیں ان کو avoidکرکے، ایک طرف منہ کر کے آپ لوگ بیٹھ سکتی ہیں۔ ایسی بات کوئی نہیں ہے۔ اور اگر لڑکیاں ڈانس کر رہی ہیں تو پھر اگر آپ نے ان کی طرف دیکھ بھی لیا تو کوئی حرج نہیں ہے۔ مرد عورتیں اگر اکٹھے کر رہے ہیں تو بعض دفعہ بیہودگی ہو جاتی ہے، غلط حرکات ہو جاتی ہیں اس سے نظر بچا لینی چاہیے لیکن اگر صرف عورتیں ہی عورتیں ہیں اس ماحول میں اور وہ ڈانس کر رہی ہیں تو آپ نے دیکھ لیا تو کوئی حرج نہیں ہو گا۔ ٹھیک ہے؟ اتنا بھی ریجڈ (Rigid)ہونے کی ضرورت نہیں ہے اور پھر اس دوران میں آپ اپنی سہیلیوں سے باتیں بھی کر سکتی ہیں۔ آپ نے شامل تو نہیں ناں ہونا۔ آپ کو زبردستی کوئی نہیں کہے گا اٹھو شامل ہو جاؤ۔ اگر کہے تو کہہ دو کہ میں نے نہیں شامل ہونا میرا دین اس کی اجازت نہیں دیتا۔ اچھا ہے،بلکہ اس حوالے سے آپ کے دین کی تبلیغ کا بھی رستہ کھل جائے گا۔ اگر آپ کو کوئی کہے آؤ سارے رقص کر رہے ہیں تم بھی رقص میں شامل ہو جاؤ تو کہہ دو نہیں میں نہیں شامل ہو سکتی میرا دین مجھے اس کی اجازت نہیں دیتا۔ پھر دین پہ باتیں شروع ہو جائیں گی۔ کوئی نہ کوئی اس میں شریف آدمی ہو گا جو آپ کی بات سننے کی طرف توجہ کرے گا اور اس طرح پھر مزید رستے کھلیں گے تبلیغ کے۔ لیکن اپنے آپ کو معاشرے سے علیحدہ بالکل نہیں کرنا۔ ہاں جو بالکل ہی لغویات والا معاشرہ ہے وہاں سے بچنا چاہیے، وہاں سے اٹھ کے آ جائیں۔ یہ تو آپ کے ایمان پہ dependکرتا ہے، آپ کی مضبوطی اور قوت ارادی پہ dependکرتا ہے کتنی زیادہ قوت ارادی ہے کہ اس معاشرے کو اپنے اوپر حاوی نہ کریں۔

٭…ایک ممبرنےسوال کیا کہ کیا قرآن کریم کی آیت کہ ’مردوں کو عورتوں پر نگران بنایا گیاہے‘، کا یہ مطلب ہے کہ مردوں کے خیالات اور رائے کو ہمیشہ عورتوں پر ترجیح دی جائے گی۔

اس کے جواب میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

نہیں، اس کا قطعاً یہ مطلب نہیں ہے کہ مردوں کی رائے جو ہے اس کی کوئی فضیلت ہے۔ عورتیں بھی ماشاء اللہ بڑی عقل کی باتیں کرنے والی ہیں اور عورتوں کے مشورے سے ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی بعض فیصلے ہوئے۔ صلح حدیبیہ کے وقت جہاں مردوں کی، ساروں کی رائے فیل ہو گئی تھی ام سلمہؓ کی رائے تھی جس پہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عمل کیا اور اس کی وجہ سے پھرصحابہ جو پہلے اپنی قربانیاں کرنے سے انکاری تھے انہوں نے فوری طور پہ قربانیاں کر دیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تو عورتوں کی بڑی تعریف کی ہے اور رائے کو سمجھا بھی ہے مثلاً ایک موقع پر جب ایک مجلس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے ایک صحابیہ آئیں اور انہوں نے کہا کہ مرد تو جہاد بھی کرتے ہیں اور مالی قربانیاں بھی بڑھ چڑھ کے کرتے ہیں اور فلاں کام بھی کرتے ہیں فلاں بھی کرتے ہیں عبادتیں بھی کرتے ہیں۔ ہم بھی عبادتیں کرتی ہیں لیکن ان کے یہ جہاد اور دوسرے ایسے کام ہیں جو باہر کے کرتے ہیں اس کی وجہ سے ان کو شہادت کا رتبہ ملتا ہے یا ان کو زیادہ ثواب مل رہا ہے تو کیا ہم بھی اس میں حصہ دار ہیں؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو دیکھ کے فرمایا تھا کہ کیا کوئی شخص ہے جو اس عورت سے بہتر عورتوں کی اس طرح وکالت کر سکے۔ اس کا مطلب ہےکہ اس کی اس بات کو انہوں نے بڑا سراہا ۔

حضورِ انور نے فرمایا کہ یہ کہنا کہ صرف مرد عقل کی بات کرتا ہے اس لیے اس کی ہر رائے اچھی ہے اس کو ماننا چاہیے یہ غلط ہے۔ اس لیے اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ مرد جو ہے وہ بحیثیت گھر کا سربراہ ہونے کے ذمہ دار ہے کہ اپنے گھر کے اخراجات چلائے اور اپنے گھر کے ماحول کو اسلامی تعلیم کے مطابق رکھے۔ اسلام میں یہ بھی ہے کہ اگر عورت بھی کمائی کر رہی ہے تو مرد اس سے پیسے نہ مانگے کہ تم خرچ چلاؤ گھر کا یا میرے گھر میں مدد کرو۔ اگر عورت نہیں چاہتی اپنے گھر کا خرچ چلانا تو مرد کا فرض ہے کہ چاہے وہ عورت کمائی کر رہی ہو، اس کے پاس پیسہ ہو، دولت ہو تب بھی مرد بحیثیت قوّام ہونے کے، بحیثیت گھرکا سربراہ ہونے کے اس بات کا پابند اور ذمہ دار ہے کہ وہ گھر کا خرچ چلائے اور اسی لیے بحیثیت قوّام ہونے کے مرد اس بات کا بھی ذمہ دار ہے کہ وہ اپنے گھر کی تربیت کو ایسے ماحول میں رکھے کہ جس سے اس کا ماحول اسلامی ماحول ہو اور بہتر تربیت ہو سکے۔ پھر یہ ہے کہ جھگڑے ہوتے ہیں۔ بہت سارے گھروں میں اگر جھگڑے ہوتے ہیں تو مَیں ان جھگڑے کرنے والوں کو بھی بعض دفعہ یہی مثال دیا کرتا ہوں کہ اَلرِّجَالُ قَوَّامُوْنَ عَلَی النِّسَاءِکا مطلب یہ بھی ہے کہ جہاں جھگڑے ہوتے ہیں عورت اور مرد کے، میاں بیوی کے، مرد کیونکہ قوّام ہے، اس کے اعصاب عورتوں کی نسبت زیادہ مضبوط ہوتے ہیں اس لیے اس کو چاہیے کہ صبر سے کام لے اور بلا وجہ عورتوں سے جھگڑے نہ کرے اور جو چھوٹی موٹی باتیں ہیں ان کو برداشت کرے اور مان جائے تا کہ گھر کا ماحول پرسکون رہے۔ قوّام کایہ مطلب ہے کہ مرد اپنے مضبوط اعصاب کی وجہ سے خاموش رہے، گھر کا ماحول پُرسکون رکھے تا کہ بچوں کی تربیت صحیح ہو سکے۔ مرد کو حق ادا کرنے کے لیے قوّام بنایا ہے کہ تم نے عورتوں کے اور بچوں کے حق ادا کرنے ہیں یہ تمہارے قوّام ہونے کی نشانی ہے۔

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

For security, use of Google's reCAPTCHA service is required which is subject to the Google Privacy Policy and Terms of Use.

I agree to these terms.

Back to top button
Close