متفرق مضامین

تاریخِ اسلام کے دورِ اوّل و دورِ آخر میں خلافت: حقیقی جہاد کی علَم بردار

(ابو نائل)

اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے:

وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡکُمۡ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسۡتَخۡلِفَنَّہُمۡ فِی الۡاَرۡضِ کَمَا اسۡتَخۡلَفَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِم۪ۡ وَ لَیُمَکِّنَنَّ لَہُمۡ دِیۡنَہُمُ الَّذِی ارۡتَضٰی لَہُمۡ وَ لَیُبَدِّلَنَّہُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ خَوۡفِہِمۡ اَمۡنًا ؕ یَعۡبُدُوۡنَنِیۡ لَا یُشۡرِکُوۡنَ بِیۡ شَیۡئًا ؕ وَ مَنۡ کَفَرَ بَعۡدَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ۔ (النور :56)

ترجمہ : تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال بجا لائے ان سے اللہ نے پختہ وعدہ کیا ہے کہ انہیں ضرور زمین میں خلیفہ بنائے گا جیسا کہ اس نے ان سے پہلے لوگوں کو خلیفہ بنایا اور ان کے لئے ان کے دین کو، جو اس نے ان کے لئے پسند کیا، ضرور تمکنت عطا کرے گا اور ان کی خوف کی حالت کے بعد ضرور انہیں امن کی حالت میں بدل دے گا۔ وہ میری عبادت کریں گے۔ میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔اورجو اس کے بعد بھی نا شکری کرے تو یہی وہ لوگ ہیں جو نافرمان ہیں۔

اس آیت کریمہ سے ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ خلفائے راشدین کے ذریعہ مومنوں کی خوف کی حالت کو امن میں بدل دیتا ہے اور صرف یہی نہیں کہ خوف کی حالت جاتی رہتی ہے بلکہ انہیں تمکنت بھی عطا ہوتی ہے۔

اسلام کے دَور اوّل اور دورِآخر ہر دومیں یہ پیشگوئی اتنی بار پوری ہوئی ہے کہ اس کا احاطہ تو کئی کتب میں بھی نہیں کیا جا سکتا۔اس مضمون میں ان دونوں ادوار سے ایک ایک مثال بطور نمونہ پیش کی جائے گی۔

پہلی مثال دَور اوّلین میں اس وقت کی ہے جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ہر طرف سے جھوٹے مدعیان نبوت اور بغاوتوں کا طوفان امڈ آیا۔دوسری مثال دَور آخرین میں خلافت ثانیہ میں 1930ء کی دہائی کی ہےجب ہندوستان میں ہر طرف سے جماعت احمدیہ کو کچلنے کے لیے صدائیں بلند ہو رہی تھیں۔دونوں مرتبہ خلافت راشدہ کی راہ نمائی میں ان فتنوں کے خلاف ایک عظیم جہاد کیا گیا۔دَور اوّلین میں جب تلوار سے حملے ہو رہے تھے تو جہاد بھی جنگوں کے ذریعہ کیا گیا اور آخرین کے دور میں جب پراپیگنڈا اور سازشوں اور نفرت انگیزی کی قیامت برپا ہوئی تو دلائل اور تبلیغ سے جہاد کیا گیا۔دونوں مواقع پر نہ صرف ایک قلیل مدت میں فتنوں کا سر کچل دیا گیا بلکہ اسلام نے پہلے سے بڑھ کر ترقیات اوربلندیوں کی طرف سفر شروع کیا۔سب سے پہلے ہم حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے دَور میں جہاد کا مختصر جائزہ لیتے ہیں۔

حضرت اسامہ بن زید ؓکی شام کی طرف لشکرکشی

اپنی زندگی کے آخری دنوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر تیار فرمایا تھا۔اس لشکر کا مقصد شام کے علاقوں کی طرف حملہ کرنا تھا۔آپؐ نے اس لشکر کی قیادت حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کے سپرد فرمائی تھی۔یہ لشکر ابھی مدینہ سے کچھ باہر موجود تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا وصال ہو گیا اور ہر طرف بغاتوں نے سر اُٹھانا شروع کردیا۔ کئی صحابہ کا خیال تھا کہ فی الحال مدینہ خود خطرے میں ہے۔اس لیے مناسب ہو گا کہ اس لشکر کی روانگی ملتوی کر دی جائے۔لیکن حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں کسی قیمت پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ کو منسوخ نہیں کر سکتا۔ خواہ مدینہ میں جانور ہماری لاشوں کو گھسیٹتے پھریں،آپؐ کے ارشاد کے مطابق یہ لشکر ضرور روانہ ہو گا۔

تاریخ میں عموماََ یہ واقعہ صرف ایک جذباتی رنگ میں پیش کیا جاتا ہے۔یہ بات تو صحیح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے کسی فیصلہ کو تبدیل کرنا مناسب نہیں تھا۔لیکن یہ سمجھنا ضروری ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فیصلہ بہت سی گہری حکمتوں کی بنا پر کیا گیا تھا۔ان کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم مختصر طور پر کچھ تاریخی حقائق کا جائزہ لیں تا معلوم ہو کہ اس وقت اس فوج کو بھجوانا کیوں ضروری تھا۔

1۔اُس دور میں شام مصراور فلسطین سمیت اس خطے کے کئی علاقے قیصر روم ہرقل (Heraclius)کے ماتحت تھے۔اور اسلامی سلطنت کے شمال میں غسان قبیلہ کی مضبوط حکومت مذہبی طور پر عیسائی تھی اور ہرقل قیصر روم کی اتحادی تھی۔

2۔آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے 6؍ہجری (628عیسوی)میں مختلف بادشاہوں کو خطوط لکھے۔ایک خط ہرقل قیصر روم کے نام بھی لکھا۔ اس وقت ہرقل قیصر روم فارس کے بادشاہ کو شکست دے کر ایلیاء (یروشلم ) میں موجود تھا۔ حضرت دحیہ کلبی یہ خط لے کر اس کی طرف روانہ ہوئے۔روایات کے مطابق اس نے اپنے درباریوں کو جمع کر کے کہا کہ یہ وہی نبی معلوم ہوتے ہیں، جن کی آمد کی ہمیں خبر دی گئی تھی۔ہمارے لیے یہی بہتر ہے کہ ان کو مان لیں۔لیکن جب سب درباری احتجاج کرتے ہوئے بھاگے تو اس نے یہ بات بنائی کہ میں تو تمہیں آزماتا تھا۔پھر اس نے حضرت وحیہ کلبی رضی اللہ عنہ سے کہا کہ فلاں پادری کی یہاں پر بہت عزت ہے اگر وہ ایمان لے آیا تو یہ عیسائی بھی ایمان لے آئیں گے۔لیکن جب اس پادری نے لوگوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کی تو لوگوں نے اس پر حملہ کر کے اس پادری کو فوری طور پر قتل کر دیا۔اُس وقت ہرقل قدرتی طور پر عیسائی مذہبی حلقوں کے دبائو میں تھا۔کیونکہ اس نے فارس کے کسریٰ سے جنگ کرنے کے لیے بہت سے چرچوں کے خزانوں سے بھاری قرضہ لیا ہوا تھا۔اور وہ اب تک ان چرچوں کا مقروض تھا۔

(صحیح بخاری کتاب بدء الوحی)

(تاریخ طبری مصنفہ محمد بن جریر طبری، اردو ترجمہ از سید محمد ابراہیم ندوی ناشر دار الاشاعت کراچی 2003ء اردو ترجمہ جلد دوئم صفحہ299تا306)

3۔یہ بات کم معروف ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہرقل کو دوسرا خط لکھا۔اس وقت شرحبیل ابن عمرو غسانی ہرقل کی طرف سے شام کے علاقہ میں امیر مقرر تھا۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قاصد اس کے علاقہ میں موتہ کے مقام پر پہنچے تو اس امیر نے یہ علم ہونے کے بعد کہ یہ شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قاصد ہیں،قاصد کو گرفتار کر کے انہیں اپنے ہاتھ سے قتل کر دیا۔

4۔یہ واضح طور پر اعلان جنگ تھا۔چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمادی الاوّل 8؍ہجری (629 عیسوی) میں اس کے جواب میں تین ہزار کی فوج کا لشکرحضرت زید بن حارثہؓ کی قیادت میں موتہ کی طرف روانہ کیا۔ہرقل بجائے اپنے امیر کو سرزنش کرنے اور معذرت پیش کرنے کے، خود ایک لشکر لے کر اپنے امیر کی مدد کو آیا اور اس علاقے کے عیسائی قبائل بھی اس کی مدد کو آگئے۔ مسلمانوں کی تین ہزار کی فوج کا مقابلہ دو لاکھ سے زائد لشکر کے ساتھ ہوا۔حضرت زیدؓ، حضرت جعفرؓ اور حضرت عبد اللہ بن رواحہؓ شہید ہو گئے۔

(سیرۃ حلبیہ اردو ترجمہ از محمد اسلم قاسمی جلد 5، صفحہ611تا621

ناشر دارالاشاعت کراچی مئی 2009ء)

5۔اس کے بعد بھی روم کی طرف سے جارحانہ اقدامات ختم نہیں ہوئے۔معلوم ہوتا ہے کہ اس علاقے کے عیسائی قبائل یہ چاہتے تھے کہ اسلام کو مٹا دیا جائے۔چنانچہ 9؍ہجری میں مسلمانوں کے علاقے میں قحط کی کیفیت پیدا ہوئی تو اس موقعے سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے شمال میں عیسائی قبائل نے ہرقل کو لکھا کہ اس وقت مسلمان بالکل تباہ حال ہیں اور اب موقع ہے کہ ان پر حملہ کر کے مٹا دیا جائے۔چنانچہ ہرقل نے ایک لشکر کے ذریعہ ان کی مدد کی اور ان قبائل نے بھی ایک بہت بڑا لشکر جمع کر لیا۔ یہ لشکر پیش قدمی کرتے ہوئے بلقاء کے مقام تک پہنچ گیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ خبریں ملنے کے بعد ایک فوج لے کر تبوک کے مقام تک آئے، باوجود اس کے کہ عددی طور پر عیسائی لشکر بہت بڑا تھا۔جب انہوں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیش قدمی کرتے ہوئے ان کے علاقے میں آگئے ہیں اورکچھ مقامی قبائل نے آپ کی اطاعت بھی قبول کر لی ہے تو عیسائی لشکر پیچھے ہٹ گیا۔

(تاریخ طبری مصنفہ محمد بن جریر طبری، اردو ترجمہ از سید محمد ابراہیم ندوی جلد2صفحہ371تا378 ناشر دار الاشاعت کراچی)(سیرۃ جلبیہ اردو ترجمہ از محمد اسلم قاسمی جلد 5صفحہ395تا447 ناشر دارالاشاعت کراچی مئی 2009ء)

6۔اب اس اہم سوال کی طرف آتے ہیں کہ کیا رومی افواج کی طرف سے ہونے والے حملے صرف ایک علاقہ فتح کرنے کے لیے تھے یا وہ ان حملوں سے کوئی مذہبی مقاصد بھی حاصل کرنا چاہتے تھے؟

عرب کے علاقوں کی دنیاوی حیثیت ایسی نہیں تھی کہ اس وقت کی طاقت وَر ترین سلطنت محض ان کی دنیاوی حیثیت کی وجہ سے ان پر حملہ کرنے کا تردّد کرتی۔ہرقل سمیت رومی فرمانروائوں میں یہ رجحان پایا جاتا تھا کہ وہ اپنے مذہبی نظریات دوسروں پر زبردستی مسلط کرتے تھے۔وہ یہ سمجھتے تھے کہ اگرعوام ایک ہی عقیدے سے وابستہ ہوں گے تو اس سے ان کی سلطنت مضبوط ہو گی۔

اس نظریے کے تحت وہ دوسرے مذاہب اور مسالک پر وحشیانہ مظالم کرتے تھے۔ خود نامور مغربی مصنفین بھی اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں۔جب ہرقل نے یروشلم پر دوبارہ قبضہ کیا تو وہاں پر یہودیوں کا قتل عام کیا گیا۔اس کی سلطنت میں دوسرے فرقہ کے عیسائیوں پر بھی بہت مظالم کیے گئے۔مثال کے طور پر قبطی چرچ عقیدے کے اختلاف کی وجہ سے زیرِ عتاب آگئے۔ ان کے عقائد بادشاہ کے عقائد سے مختلف تھے۔ رومیوں نے ان کے کئی چرچ ان سے چھین لیے۔ان کے نمایاں لوگوں کو اذیتیں پہنچا کران کو سمندر میں پھینک دیا گیا۔انہیں کم از کم ظاہری طور پر یہ ظاہر کرنا پڑا کہ وہ بادشاہ کے عقائد کو قبول کر چکے ہیں۔

(The Preaching of Islam by T.W. Lawrence, published by Low Price Publication Dehli 2001, p 54, 102)

یہ حقائق ظاہر کرتے ہیں کہ رومی اپنے مفتوحہ علاقوں میں زبردستی اپنے مذہبی عقائد کو مسلط کرنا چاہتے تھے۔اور پہلے بھی جب انہیں یہ خبر ملی کہ مسلمان قحط کی وجہ سے کمزور ہیں تو انہوں نے پیش قدمی شروع کر دی تھی۔اب جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد عرب میں اکثر جگہوں پربغاوت ہو چکی تھی تو یہ قدرتی بات تھی کہ یہ طاقت ور ترین سلطنت اس موقع سے فائدہ اُٹھا کر حملہ آور ہو گی اور اسلام کو مٹانے کی کوشش کرے گی۔لیکن حضرت ابو بکر صدیقؓ نے اپنی خداداد فراست کی بنا پر شام کی طرف یہ فوج روانہ فرمادی اور دشمنوں پر رعب پڑ گیا اور انہیں پیش قدمی کی ہمت نہیں ہوئی۔ اس طرح شمالی علاقوں میں جو لوگ مسلمان ہوئے تھے ان کی حفاظت کا سامان بھی ہو گیا۔اس وقت مختلف مقامات پر مرتدین کا فتنہ اُٹھ رہا تھا اور مسلمان خطرے میں تھے اور یہ فوج جس علاقے سے گزری وہاں پر موجود مسلمانوں کے حوصلے بلند ہو گئے۔

اسود عنسی کا دعویٰ نبوت اور بغاوت

اب یہ جائزہ لیتے ہیں کہ اس وقت مدینہ منورہ اور باقی عرب میں کیا حالات تھے؟

عملی طور پر بغاوت کا آغاز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے قبل ہو چکا تھا۔ایک بڑا فتنہ مدعی نبوت اسود عنسی کی بغاوت کی صورت میں یمن اور دوسرے جنوبی علاقوں میں نمودار ہوا تھااور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی دیکھتے دیکھتے اس آگ نے ایک وسیع علاقےکو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

اسود عنسی یمن کے قبیلہ عنس سے تعلق رکھتا تھا۔اور روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ مسمریزم کا ماہر تھا اور جانوروں پر بھی مسمریزم کا اثر ڈال لیتا تھا۔اپنی قوم میں یہ کاہن کے طور پر مشہور تھا۔اس نے اپنے علاقے میں اپنے دعوے کا اعلان کیا اور اس کے اپنے قبیلے کے علاوہ قبیلہ مذحج کے لوگ بھی اس کے ساتھ مل گئے۔اس نے فوری طور پر نجران پر اچانک حملہ کر کے اس پر قبضہ کر لیااور اس کے معاً بعد اس نے یمن کے دارالحکومت صنعاء پر حملہ کیا۔صنعاء پر فارسی النسل شہربن باذام حکمران تھے اور ان کے پاس زیادہ فوج موجود نہیں تھی۔انہوں نے باہر نکل کر اس کا مقابلہ کیا۔لیکن مسلمانوں کو شکست ہوئی اور شہر بن باذام شہید ہو گئے۔اسود عنسی نے ان کی بیوی آزاد سے زبردستی شادی کرلی۔

اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عاملوں کو خط لکھا کہ تم ہمارے علاقے سے نکل جائواور جو مال تم نے جمع کر رکھا ہے وہ ہمارے حوالے کر دو۔جلد ہی صنعاء، حضر موت اور نجران کے علاوہ شمال میں اس کی حکومت بحرین اور طائف کے قریب پہنچ گئی اور مغرب میں عدن اور دوسرے ساحلی علاقوں پر بھی اس کا قبضہ ہو گیا۔

لیکن اس علاقے میں سب کے سب لوگوں نے ارتداد اختیار نہیں کیا تھا۔ مختلف قبائل میں مسلمان بڑی تعداد میں موجود تھے اور اسود عنسی کے مظالم سے نالاں تھے۔ان مظلوم مسلمانوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سارے حالات تحریر کیے۔آپؐ نے فوج کشی کی بجائے وہاں کے مسلمانوں کے نام خطوط روانہ فرمائے کہ وہ مختلف طریقوں سے اسود کا مقابلہ کریں۔اس علاقے میں حضرت معاذ بن جبلؓ بطور معلّم مقرر تھے۔ انہوں نے اس علاقے کے لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام پہنچانا شروع کیااور اسود عنسی کے بعض نالاں پیروکاروں نے بھی مسلمانوں کی حمایت کی حامی بھری۔کئی مسلمان نجران میں جمع ہونے شروع ہوئے۔

آخر کار آزاد کے چچا زاد بھائی فیروز اور آزاد نے اسود عنسی کو قتل کر دیا۔اور مسلمانوں نے اسود عنسی کے پیروکاروں پر حملہ کر کے انہیں بھگانا شروع کر دیا۔ گو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی کے ذریعہ اس کامیابی کی اطلاع مل چکی تھی۔لیکن اس علاقے سے جو قاصد بھجوایا گیا تھا وہ مدینہ میں آپ کی وفات کے اگلے روز پہنچا۔اس طرح دو فارسی النسل مسلمانوں کی بہادری سے مسلمانوں کو اس مشکل سے نجات ملی۔اور یہ کارنامہ اس وقت سرانجام دیا گیا جب چند دنوں بعد دوسرے علاقوں میں بغاوت شروع ہو گئی۔اس طرح یہ اللہ تعالیٰ کا عظیم فضل ہوا کہ جب مسلمان ان حملوں کا مقابلہ کر رہے تھے تو یمن میں مسلمانوں کی حکومت دوبارہ قائم ہو چکی تھی۔

(تاریخ طبری مصنفہ محمد بن جریر طبری، اردو ترجمہ از سید محمد ابراہیم ندوی جلد2صفحہ 463تا473ناشر دار الاشاعت کراچی2003ء)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات 8؍جون 632ء کو ہوئی۔ اس کے بعد عرب میں جو حالات پیدا ہوئےاس کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:

’’غور کرو آپؓ کے خلیفہ ہونے کے وقت مسلمانوں کی کیا حالت تھی۔اسلام مصائب کی وجہ سے آگ سے جلے ہوئے شخص کی طرح (نازک حالت میں) تھا۔ پھر اللہ نے اسلام کو اس کی طاقت لوٹا دی اور اسے گہرے کنویں سے نکالا اور جھوٹے مدعیان نبوت دردناک عذاب سے مارے گئے۔‘‘

(سرّالخلافہ اردو ترجمہ صفحہ50تا51)

منکرین زکوٰۃ کا فتنہ

یہ بات قابل ذکر ہے کہ مسیلمہ کذاب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم کی حیات مبارکہ میں ہی دعویٰ نبوت کر دیا تھا۔اسی طرح طلیحہ نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کےبالکل آخری دنوں میں دعویٰ نبوت کر دیا تھا۔ آپؐ کی وفات کے بعد مسیلمہ کذاب نے مدینہ کے مشرق میں اور طلیحہ نے شمال مشرق میں بغاوت کا آغاز کرکے مسلمانوں کو قتل و غارت کا نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ان کے ساتھ تو مسلمانوں کی جنگ ہونی تھی لیکن ان جنگوں سے قبل ایک اور مسئلہ کھڑا ہو گیا۔

قریب کے قبائل سے وفود مدینہ آنے شروع ہوگئے۔ انہوں نے حضرت ابو بکر صدیق ؓسے کہا کہ وہ نماز پڑھتے رہیں گے۔لیکن زکوٰۃ ادا نہیں کریں گے۔ چونکہ اس وقت حضرت اسامہ ؓکا لشکر ابھی واپس نہیں پہنچا تھا، اس لیے یہ لوگ مدینہ کے اندر مسلمانوں کی کمزور حالت خود اپنی نظروں سے دیکھ رہے تھے۔کئی صحابہ ؓکی بھی یہ رائے تھی کہ جب کہ یہ لوگ کلمہ گو ہیں تو ان کے خلاف جنگ کیسے کی جا سکتی ہے۔لیکن حضرت ابوبکرصدیقؓ خدادا داستقامت کے ساتھ اس موقف پر قائم تھے کہ جو زکوٰۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں وصول کی جا تی تھی، اب بھی وصول کی جائے گی۔دراصل یہ پہلی کوشش تھی کہ دبائو ڈال کر احکامات دین میں تبدیلی کی جائے اور اسلام کو بگاڑا جائے۔لیکن حضرت ابو بکر صدیقؓ کی استقامت کی وجہ سے یہ کوشش ناکام ہوئی۔ان وفود نے واپس جا کر اپنے قبائل کو مشورہ دیا کہ اس وقت مسلمان مدینہ میں کمزور ہیں، اس لیے ابھی ان پر حملہ کردو۔

چنانچہ انہوں نے اپنی طرف سے اچانک حملہ کیا لیکن حضرت ابو بکرصدیقؓ نے چوکیاں قائم کی ہوئی تھیں اس لیے مسلمان مقابلہ کے لیے نکل آئے۔پہلی جنگ میں اونٹ بدک جانے کی وجہ سے مسلمانوں کو پسپائی ہوئی لیکن حضرت ابوبکرصدیقؓ نے مخالفین کو سنبھلنے کا موقع نہیں دیا اور اگلے روز سورج طلوع ہونے سے پہلے ان پر حملہ کر دیا۔ سورج نکلنے سے پہلے ہی منکرین زکوٰۃ کا لشکر بھاگ چکا تھا۔پیشتر اس کے کہ مسیلمہ کذاب اور طلیحہ کے لشکروں سے جنگیں ہوتیں حضرت ابوبکرصدیقؓ کی حکمت عملی نے منکرین زکوٰۃ کا زور پہلے ہی توڑ دیا۔مدینہ کے نواح سے بھاگنے والوں نے اپنے علاقے میں مسلمانوں پر ظلم و ستم اور قتل و غارت کے پہاڑ توڑنے شروع کیے۔

ان مظالم کے باوجود اب مختلف علاقوں میں مسلمان مضبوطی سے اپنے دین پر قائم ہو گئے اور باوجود اس کے کہ مسلمان ہر جگہ خطرے میں تھے حضرت صفوان زبرقان اور عدی جیسے صحابہ از خود اپنی جماعتوں کو لے کر مدینہ پہنچنے شروع ہو گئے تاکہ خلیفۂ وقت کے ہاتھ مضبوط کر سکیں۔اس کےساٹھ(60) روز کے بعد حضرت اسامہ ؓکا لشکر واپس مدینہ پہنچ گیا۔اب مسلمان اپنے دفاع کے جہاد کے لیے تیار تھے۔

(تاریخ طبری مصنفہ محمد بن جریر طبری، اردو ترجمہ از سید محمد ابراہیم ندوی جلد 2صفحہ476تا 482ناشر دار الاشاعت کراچی 2003ء]

طلیحہ کی بغاوت

اس کے بعد حضرت ابوبکر صدیقؓ نے تمام عر ب میں باغیوں کو خطوط روانہ فرمائے اور ان خطوط میں انہیں اپنی بغاوت اور قتل و غارت ختم کرنے کا ارشاد فرمایا اور اس کے ساتھ پورے عرب میں مختلف سمتوں میں گیارہ دستے روانہ فرمائے تا کہ جن ذہنوں میں بغاوت اور قتل و غارت کا خیال آرہا ہے وہ اپنی شرارتوں سے باز آ جائیں اور ریاست کے پُرامن شہریوں کی حفاظت ہو سکے۔نیز جہاں جہاں بغاوت ہو رہی ہو اسے ختم کیا جا سکے۔

بغاوت کرنے والوں کےدو گروہ ایسے تھےجو اب منظم طور پر بڑے پیمانے پر خطرہ بنے ہوئے تھے۔ان میں سے ایک مدعی نبوت طلیحہ کا گروہ تھا اور دوسرا مسیلمہ کذاب کا گروہ تھا۔اس میں سے پہلا مقابلہ طلیحہ کے لشکر کے ساتھ ہوا۔طلیحہ کا تعلق بنو اسد سے تھا اور یہ قبیلہ اس بغاوت میں طلیحہ کے ساتھ شامل تھا۔ اسی طرح طے قبیلےکی اکثریت نے بھی اس کی بیعت کرلی۔یہ دونوں قبیلے مدینہ سے شمال مشرق میں آباد تھے۔لیکن طلیحہ کی بغاوت کی وجہ سے صرف مدینہ کو شمال مشرق کی طرف سے ہی خطرہ نہیں تھا کیونکہ مدینہ کے بالکل شمال میں غطفان قبیلے میں اکثریت نے بھی طلیحہ کی بیعت کر لی تھی۔ان کی سرکوبی کے لیے حضرت خالد بن ولیدؓ کو چار ہزار کا لشکر دے کر روانہ کیا گیا۔

اس موقع پر یہ حکمت عملی استعمال کی گئی کہ قبیلہ طے کے افراد کو طلیحہ کے لشکر میں نہ شامل ہونے دیا جائے۔طے کے سردار حضرت عدی بن حاتمؓ نے اپنے قبیلہ کو طلیحہ کے ساتھ نہ ملنے کی بہت تلقین کی تھی لیکن وہ اپنی ضد پر مصر تھے۔اس پر آپ اپنے وفاد۱ر دستےکو لے کر حضرت ابو بکرصدیقؓ کے پاس مدینہ آ گئے تھے۔لیکن طلیحہ اور حضرت خالد بن ولیدؓ کے درمیان جنگ سے قبل حضرت عدی بن حاتم نے بار بار اپنے قبیلے کو سمجھایا۔آخر وہ اس پر آمادہ ہو گئے کہ وہ طلیحہ کے ساتھ شامل نہیں ہوں گے۔اسی طرح مسلمانوں کے ساتھ مزید لوگوں کے ملنے کی وجہ سے اسلامی لشکر کی تعداد بھی کچھ بڑھ گئی۔ آخر حضرت خالد بن ولیدؓ نے بزاخہ کے مقام پر طلیحہ کو شکست دے دی۔طلیحہ فرار ہو کر شام چلا گیا اور وہاں پر جا کر اس نے اسلام قبول کر لیا۔

جو مرتدین اس روز میدان جنگ سے بھاگے تھے ان میں ایک عورت جو سیدات العرب میں سے تھی اور اس کا نام ام زمل تھا۔ اس کے ارد گرد لوگ جمع ہو گئے اور ان کے ساتھ مدینہ کے جنوب میں آباد قبائل ہوازن اور بنو سُلَیم بھی مل گئے جنہوں نے علم بغاوت بلند کیا۔ لیکن حضرت خالد بن ولیدکی فوج نے ان پر حملہ کر کے انہیں سنبھلنے کی مہلت نہیں دی اور تتربتر کر دیا۔

مسیلمہ کذاب کا فتنہ

اب ایک بڑا خطرہ باقی رہ گیا تھا اور وہ مشرق میں یمامہ کے علاقے میں مسیلمہ کذاب کا فتنہ تھا۔یہاں پر بنو حنیفہ کا قبیلہ آباد تھا۔مسیلمہ کذاب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی نبوت کا دعویٰ کر دیا تھا۔اس کا دعویٰ تھا کہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت میں شریک بنایا گیا ہے۔اور اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس مضمون کا خط بھی لکھا تھا کہ زمین ہمارے قبیلے اور قریش کے درمیان تقسیم کی گئی ہے لیکن قریش اپنے حصے سے تجاوز کر رہے ہیں۔

رسول اللہﷺکی حیات مبارکہ کے آخری دنوں میں ہی اس نے بغاوت کر دی تھی۔اور اس کے قبیلے بنو حنیفہ کی اکثریت اس پر ایمان لے آئی۔حتیٰ کہ نہارالرحال نام کا شخص جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو حنیفہ کے لیے معلّم مقرر فرمایا تھا، بھی مرتد ہو کر مسیلمہ سے مل گیا۔اور اس نے جھوٹا پروپیگنڈا شروع کر دیا کہ میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے سنا ہے کہ نعوذُباللہ مسیلمہ میرے ساتھ نبوت میں شریک کیا گیا ہے۔کہتے ہیں کہ بنو حنیفہ پر اس بات کا مسیلمہ کے دعوے سے بھی زیادہ برا اثر پڑا۔مسیلمہ کے پاس کافی جمعیت جمع ہو گئی تھی۔لیکن حضرت ابو بکر صدیقؓ نے فوری طور پر اس پر فوج کشی کا حکم نہیں دیا کیونکہ اس وقت مسلمانوں کی فوجیں دوسرے مقامات پر مصروف تھیں۔لیکن یہ خطرہ تھا کہ مسیلمہ خود آگے بڑھ کر حملہ نہ کردے یا اپنی سرگرمیوں کو اور وسعت دینے میں کامیاب نہ ہو جائے۔اس لیے حضرت ابو بکرصدیقؓ نے حضرت عکرمہؓ کو کچھ فوج دے کر روانہ کیا اور یہ ہدایت دی کہ وہ مسیلمہ کے مرکز سے کچھ فاصلے پر انتظار کریں۔

اس وجہ سے مسیلمہ اپنے مقام پر پابند ہو کر رہ گیا۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے حضرت شرحبیلؓ کو کچھ فوج دے کر حضرت عکرمہ کی مدد کے لیے روانہ کیا تاکہ وہ زیادہ قوت سے مسیلمہ پر حملہ کریں۔لیکن حضرت عکرمہ نے جلدی کی اور یہ ہدایت نظر انداز کرتے ہوئے مسیلمہ پر حملہ کر دیالیکن انہیں شکست ہوئی۔حضرت ابوبکر صدیقؓ اس بات پر ان سے ناراض ہوئے اور یہ پر حکمت فیصلہ فرمایا کہ وہ واپس مدینہ نہ آئیں کیونکہ اس طرح سارے راستے میں شکست خوردہ فوج کی افواہیں پھیلیں گی۔آپؓ نے انہیں فرمایا کہ وہ عمان اور حضر موت کی طرف روانہ ہو جائیں۔

پھر حضرت ابو بکرصدیقؓ نے حضرت شرحبیل کو ہدایت فرمائی کہ وہ حضرت خالد بن ولیدؓ کا انتظار کریں۔تاکہ وہ مختلف مقامات پر بغاوت ختم کر کے ان کے پاس آئیں اور دونوں مل کر مسیلمہ پر حملہ کریں۔لیکن انہوں نے جلدی کی اور مسیلمہ پر حملہ کیا اور انہیں شکست ہوئی۔حضرت خالد بن ولیدؓ نے وہاں پہنچ کر انہیں سرزنش کی۔

بعد ازاں اس مجتمع فوج نے مسیلمہ پر حملہ کیا۔جنگ یمامہ اکتوبر یا نومبر 632ءمیں ہوئی۔مسیلمہ کالشکر چالیس ہزار کا اور حضرت خالد بن ولیدؓ کی فوج پندرہ ہزار کی تھی۔ابتدا میں حضرت خالد بن ولیدؓ نے فوج کو قبائل اور خاندانوں کی بنیاد پر ترتیب نہیں دیا تھا۔پہلے مسلمانوں نے حملہ کیا مگرمرتد منتشر نہ ہوئے۔پھر مرتدوں نےحملہ کیا اور سخت مقابلے کے بعد مسلمانوں کی فوج کا مرکز منتشر ہو گیا اور مسیلمہ کے فوجی مسلمانوں کے خیموں تک پہنچ گئے۔یہ خطرناک وقت تھا لیکن اس کے فوجی لوٹ مار میں لگ گئے۔

اس موقعے سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے حضرت خالدبن ولیدؓ نے اپنی فوج کو خاندانوں اور قبائل کے حساب سے از سرنو ترتیب دیا۔اس بار جو حملہ کیا تو مسیلمہ کا لشکر بھاگ اُٹھا۔جس وحشی نے حضرت حمزہ ؓکو شہید کیا تھا اس نے اپنے نیزے سے مسیلمہ کو مار دیاجس سے اس فتنے کا اختتام ہوا۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ مسیلمہ اور طلیحہ کے علاقوں سے مزید مشرق کی طرف بحرین اور مہرہ کے علاقوں میں بھی انہی دنوں میں بغاوت اور ارتداد کے فتنے نے سر اٹھایا تھا اور ان کی طرف دستے بھجوا کر اس بغاوت کا خاتمہ کیا گیا تھا لیکن ان کی معین تاریخوں کے بارے میں اختلاف ہے۔

حضرت ابو بکرؓ کی حکمت عملی

گویا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے پانچ ماہ کے اندر اندر ان تمام فتنوں اور بغاوتوں کا خاتمہ ہو گیا۔یہ صرف بغاوت نہیں تھی بلکہ ہر قسم کے مذہبی فتنے بھی اس وقت برپا تھے۔کوئی گروہ اس دبائو کے وقت یہ بات منوانا چاہتا تھا کہ زکوٰۃ جیسے اسلامی احکامات کو منسوخ کر دیا جائے۔دنیا کی مضبوط ترین طاقت مسلمانوں کی دشمن بن چکی تھی اور اس طرح شمالی سرحد بالکل غیر محفوظ تھی۔کوئی گروہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت میں شریک بن گیا تھا۔مختلف مقامات پر مسلمانوں کی قتل و غارت کا بازار گرم تھا۔یہ بغاوت اور فتنے ایک جگہ پر مجتمع نہیں تھے کہ انہیں ایک جنگ کے بعد ختم کر دیا جائے بلکہ یہ بغاوتیں پورے جزیرہ عرب میں جگہ جگہ بکھری ہوئی تھیں۔لیکن اللہ تعالیٰ کی مدد اور حضرت ابو بکر صدیقؓ کی حکمت عملی اور خلافت کی برکت سے صرف چار پانچ ماہ کے جہاد کے بعد خوف کی حالت امن میں تبدیل ہو گئی۔

یہ عظیم معجزہ کیسے رونما ہوا۔پہلا قابل ذکر پہلو یہ ہے کہ ایسے خطرناک مواقع پر بھی جب سامنے موت نظر آ رہی تھی حضرت ابو بکرصدیقؓ نے اصولی امور پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا۔ اس وقت بیسیوں مقامات پر بغاوت ہو رہی تھی تو حضرت ابوبکر صدیقؓ کی جامع حکمت عملی نے بیک وقت تمام مقامات کے مسلمانوں کی طرف پیغامات بھجوائے کہ وہ اپنے طور پر باغیوں کا مقابلہ کریں اور انہیں سمجھانے کی کوششیں کریں اور اس حکمت عملی سے کئی علاقوں میں بغاوت دم توڑ گئی۔اگر مسلمانوں کی افواج کی تعداد اس وقت کم تھی تو آپؓ نے ایک ایک کر کے تمام بڑی بغاوتوں کو کچل دیا۔اور باغی ایسی جنگی حکمت عملی نہ بنا سکے کہ بیک وقت مسلمانوں پر حملہ آور ہو سکتے۔ صرف باغیوں کے بڑے بڑے مقامات پر شکست دینے پر اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ چھوٹے چھوٹے دیہات میں بھی ایسا کیا گیا۔ایک اَور اہم پہلو یہ ہے کہ وقتی شکست صرف اس وقت ہوئی جب خلیفۂ وقت کی ہدایات پر مکمل طور پر عمل نہیں کیا گیا۔جس سے یہ سبق ملتا ہے کہ بحران کی کیفیت میں پہلے سے بھی زیادہ ضروری ہوتا ہے کہ خلیفۂ وقت کی ہدایات پر من و عن عمل کیا جائے۔

فارس کی سلطنت پر حملہ

اس حکمتِ عملی کا نتیجہ یہ ہوا کہ دیکھتے دیکھتے نہ صرف یہ انواع و اقسام کی بغاوتیں اور فتنے ختم ہو گئے بلکہ یہ ریاست اس قابل ہو گئی کہ اس مخالف سلطنت کی طرف توجہ کر سکے جو کہ شمال مشرق میں واقع تھی یعنی فارس کی سلطنت۔

یہ سلطنت بہت پہلے ہی اسلامی ریاست کے خلاف اس طرح اعلان جنگ کر چکی تھی کہ فارس کے بادشاہ خسرو دوئم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کو گرفتار کرنے کے لیے یمن کے گورنر کو ہدایت دی اور اس گورنر باذام نے فقط دو سپاہی اس غرض کے لیے بھجوا دیے کہ آپ ہمارے ساتھ چلیں ورنہ فارس کا بادشاہ آپ کے ملک پر چڑھائی کر دے گا اور اس ملک کا بہت نقصان ہو گا۔

کچھ عرصہ قبل ہی اس بادشاہ کو سورۂ روم میں درج پیشگوئی کے مطابق رومی سلطنت کے مقابل پر بد ترین شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا اور بہت وسیع علاقے اس کے ہاتھ سے نکل گئے تھے اور اسے اپنی جان کے لالے پڑے ہوئے تھے۔ لیکن ابھی بھی تکبر کا یہ عالم تھا کہ اس کا خیال تھا کہ عرب کے صحرا میں رہنے والوں کی کیا مجال کہ اس فرمان کا انکار کر سکیں۔بہر حال کچھ انتظار کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان قاصدوں کو فرمایا کہ جائو رات کو میرے خدا نے تمہارے خدا کو مار دیا ہے۔ جب یہ قاصد واپس یمن یہ پیغام لے کر پہنچے تو دانش مند گورنر نے انہیں کہا کہ انتظار کرو۔جب فارس سے اگلا جہاز آئے گا تو پتہ چل جائے گا کہ یہ پیمبر صحیح کہتا ہے کہ نہیں۔جب اگلا جہاز آیا تو علم ہوا کہ خسرو کے بیٹے شیرویہ نے اپنے باپ کو قتل کر کے تخت پر قبضہ کر لیا ہے۔یہ اتنا واضح نشان تھا کہ گورنر سمیت تمام یمن نے اطاعت قبول کر لی اور وہاں پر اسلام تیزی سے پھیل گیا۔

جب حضرت خالد بن ولیدؓنے فارس کے تحت عرب علاقوں پر حملے شروع کیے تو ایک کے بعد دوسرے علاقے نے اطاعت قبول کر لی۔چند ماہ پہلے خوف کی یہ حالت تھی کہ دنیا والے سمجھ رہے تھے کہ اب اسلامی حکومت ختم ہونے والی ہے اور چند ماہ کے اندر اندر نہ صرف تمام بغاوتیں ختم ہو گئیں بلکہ اب اسلامی سلطنت کامیابی سے فارس جیسی سلطنت کو اس کے جارحانہ اقدامات کا جواب دے رہی تھی۔اس طرح اس عظیم ابتلا سے عظیم فتوحات کا سلسلہ شروع ہوا۔

1930ء کی دہائی میں جماعت احمدیہ پر ابتلائوں کی یلغار اور تحریک جدید کا اجرا

ہم نے اوپر یہ جائزہ لیا ہے کہ کس طرح اسلام کے دَورِاوّلین کی خلافت میں بد ترین حالات سے نکل کر اسلام ایک عظیم فتح کی طرف بڑھا۔بعینہٖ اسی طرح آخرین کے دور خلافت میں ایک ایسا مرحلہ 1930ء کی دہائی میں آیا۔یہ وہ دَور تھا جب ہندوستان اور خاص طور پر پنجاب میں کیا برطانوی حکومت، کیا سیاسی جماعتیں اور کیا مذہبی قوتیں سب جماعت احمدیہ کی مخالفت پر کمر بستہ ہوگئی تھیں۔اور خالصتاََ دنیا کی نگاہ سے دیکھا جائے تو بظاہر ہر طرف سے مایوسیوں کی گھٹائیں چھارہی تھیں۔ پھر انہی ا ندھیروں سے تحریک جدید کا سورج طلوع ہوا۔دشمن تو ہندوستان میں ہی جماعت احمدیہ کو ختم کرنے کے منصوبے بنا رہا تھا۔لیکن ایک طرف حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے ان بدارادوں کو ناکام بنا دیا اور دوسری طرف ایک ایسی تحریک کی بنیاد ڈالی جس کے ذریعہ تمام دنیا میں احمدیت کو پھیلانے کا جہادایک نئے عزم کے ساتھ شروع ہوا۔

برطانوی حکومت کا ایک حصہ جماعت کے خلاف کیوں ہوا؟

سب سے پہلے تو یہ جائزہ لینا ضروری ہے کہ وہ کیا وجوہات تھیں جن کی بنا پر ہر طرف سے جماعت احمدیہ پر حملے شروع ہو گئے؟ ہندوستان کی تاریخ میں یہ دَور ایک تموج کا دَورتھا۔کانگرس اور دوسری سیاسی طاقتیں ہندوستان کی آزادی کے لیے سِول نافرمانی کی تحریکیں چلا رہی تھیں اور ظاہر ہے کہ دوسری طرف برطانوی حکومت ان تحریکوں کو دبانے کی کوشش کر رہی تھی۔اس تنائو کے دَور میں خاص طور پر پنجاب میں حکومت کے بہت سے عہدیداروں نے جماعت کی شدید مخالفت شروع کر دی۔ 1930ء میں بعض اہلکاروں نے جماعت احمدیہ کے مخالفین اور کچھ فتنہ پروروں کی پشت پناہی شروع کرنے کا سلسلہ شروع کیا۔جب قادیان میں ایسے کچھ واقعات ہوئے تو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے 4؍اپریل 1930ءکے خطبہ جمعہ میں فرمایا:

’’پس ایسے افسروں کو یاد رکھنا چاہیے کہ احمدی خوشامد ہر گز نہیں کریں گے اور اگر ایسا کوئی کرے گا تو میں اسے سخت سزا دوں گا کیونکہ وہ قوم کی ناک کاٹنے والا ہو گا۔اور نہ ہی احمدی ناجائز فوائد کے حصول میں مدد دیں گے بلکہ روک ہوں گے اور اگر مجھے پتہ لگ گیا کہ کوئی احمدی ایسا کرتا ہے تو میں اسے سخت سزا دوں گا …۔اگر کسی کو پھانسی کی سزا بھی دی جائے اور وہ بزدلی دکھائے تو ہم اسے ہرگز منہ نہیں لگائیں گے بلکہ میں تو اس کا جنازہ بھی نہیں پڑھوں گا۔‘‘

(خطبہ جمعہ فرمودہ 4؍اپریل 1930ء مطبوعہ خطبات محمود جلد 12صفحہ 352)

2؍مئی 1930ء کو حضورؓ نے خطبہ جمعہ میں فرمایا:

’’ہندوستان کی آزادی اور حریت جس طرح گاندھی جی، پنڈت موتی لال نہرو، پنڈت جواہر لال نہرو، مسٹر سین، مسٹر آئنگر، ڈاکٹر ستیہ پال وغیرہ کو مطلوب ہے اسی طرح ہمیں بھی مطلوب ہے اور ہندوستان ویسا ہی ہمارا ملک ہے جیسا ان لوگوں کا ہے اور اپنے وطن کی محبت اور آزادیٔ خیال اسی طرح ہمارے سینوں میں بھی موجزن ہے جس طرح ان کے سینوں میں ہے …۔

اب ہندوستانی خاموش نہیں بیٹھ سکتے اور یہ ممکن ہی نہیں کہ دنیا کی آبادی کا 4/1حصہ غیر محدود اور غیر معین عرصہ تک ایک غیر ملکی حکومت کی اطاعت گوارا کر سکے۔اگر یہ مطالبہ پورا نہیں کیا گیا تو آج نہیں تو کل اور کل نہیں تو پرسوں تو ملک عقلمندی اور مصلحت اور دوراندیشی کے تمام قوانین کو توڑنے کے لئے کھڑا ہو جائے گا اور خواہ اسے خود کشی کہا جائے، خواہ اس کا نام تباہی اور بربادی رکھا جائے، خواہ اسے ہلاکت اور خون ریزی قرار دیا جائے ملک اس کے لئے آمادہ ہو جائے گا۔‘‘

خطبہ جمعہ فرمودہ 2؍مئی 1930ء مطبوعہ خطبات محمود جلد 12 صفحہ380تا382)

ان ارشادات کا مطلب واضح تھا کہ برطانوی حکمرانوں کو ہندوستان کو آزاد کرنا پڑے گا اور زیادہ دیر تک اسے غلام رکھنا ممکن نہیں ہو گا۔لیکن اس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ جماعت احمدیہ ایک قانون پسند جماعت ہے اور اس وقت کانگرس کی طرف سے سِول نا فرمانی کا حربہ استعمال کیا جا رہا تھا اور جماعت احمدیہ اس قانون شکنی کی حمایت نہیں کر سکتی تھی۔ حضورؓ نے فرمایا کہ وہ جس چیز کا نام عدم تشدّد رکھ رہے ہیں وہ دراصل تشدّد ہے۔اور اسی طرح حضورؓ نے حکومت کے رویہ کو بھی غلط قرار دیا۔

(ماخوذ ازخطبات محمود جلد 12صفحہ 382تا 384)

یہ صرف چند مثالیں ہیں۔یہ ایک مخلص ناصح کا موقف تھا لیکن حالات سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں فریقوں میں سے کوئی بھی اس نصیحت کو پسند نہیں کر رہا تھا کیونکہ دونوں کی غلطیوں کی نشاندہی کی جا رہی تھی اور جلد ہی اس کی علامات ظاہر ہونا شروع ہو گئیں۔اس کے بعد ایک اَور وجہ پیدا ہو گئی جس کی وجہ سے ہندوستان کی سب سے بڑی سیاسی قوت یعنی کانگرس اور ہندوستان کی برطانوی حکومت دونوں جماعت احمدیہ کے خلاف مزید بھڑک اُٹھے۔اس وقت کشمیرپرہندو ڈوگرہ راجہ کی حکومت تھی۔کشمیری عوام کی اکثریت مسلمان تھی اور ریاست کے افسران کی بھاری اکثریت ہندو تھی۔ مسلمانوں کو بنیادی انسانی حقوق سے بھی محروم کر دیا گیا تھا۔اس کے باوجود خود ہندوستان کے مسلمانوں کی طرف سے مظلوم کشمیری لوگوں کے حقوق کے لیے بہت کم آواز اُٹھائی جا تی تھی۔

کشمیر کمیٹی کا قیام

اس صورت حال میں خواجہ حسن نظامی صاحب کی طرف سے بعض نمایاں مسلمان احباب کو غور و فکر کے لیے شملہ میں نواب سر ذوالفقار علی خان صاحب کی رہائش گاہ پر دعوت دی گئی۔ان احباب میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ، حضرت مولانا عبد الرحیم درد صاحبؓ، سر فضل حسین اور علامہ اقبال بھی شامل تھے۔اس میٹنگ میں آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی بنیاد رکھی گئی اور علامہ اقبال کی تجویز پرحضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓکو اس کمیٹی کا صدر مقرر کیا گیا۔اخبارات میں سے مسلم آئوٹ لک، سیاست اور انقلاب کے ایڈیٹروں کو بھی کمیٹی میں شامل کیا گیا تا کہ دنیا کو مہاراجہ کشمیر کے مظالم سے آگاہ کیا جا سکے۔

اس کمیٹی نے فیصلہ کیاکہ14؍اگست1931ءکوپورے ہندوستان میں کشمیر ڈے منایا جائے۔ مختلف شہروں میںکشمیریوں کے حقوق کے لیے آواز اُٹھانے کی غرض سے اس روز اس کامیابی سے جلسے اور جلوس منعقد ہوئے کہ بہت سے گروہوں نے اس کامیابی کو اپنے لیے خطرے کی گھنٹی سمجھا۔کیونکہ اب کشمیریوں کے حقوق کے لیے منظّم طریق پر کام ہو رہا تھا اور اس قانونی جنگ کے اثرات واضح نظر آ رہے تھے۔مہاراجہ کشمیر اور ان کی حکومت اس لیے اس کمیٹی کے خلاف ہو گئی کیونکہ اب کشمیر میں ہونے والے مظالم کا چرچا پورے ہندوستان میں ہو رہا تھا۔چونکہ تمام ریاستیں برطانوی حکومت کی نگرانی میں کام کرتی تھیں، اس لیے ہندوستان میں انگریز حکومت کا اس پر پریشان ہونا ایک قدرتی بات تھی۔آل انڈیا نیشنل کانگرس نے اس عمل کی اس لیے مخالفت کی کیونکہ ان کی ہمدردیاں مہاراجہ کشمیر کے ساتھ تھیں۔ چونکہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓاس کمیٹی کے صدر تھے اس لیے مسلمانوں میں جماعت احمدیہ کے مخالفین کا اس پر بوکھلا جانا ایک قدرتی بات تھی۔

جماعت احمدیہ کی مخالفت شدید ہوتی ہے

چنانچہ کانگرس کے مشہور لیڈر مولانا ابوالکلام آزاد نے مجلس احرا ر کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی سے الگ رہ کر یہ اعلان کریں کہ وہ کشمیر کے مسلمانوں کے حقوق کے لیے جدو جہد کر رہے ہیں۔

فوری طور پر یہ پروپیگنڈا شروع کیا گیا کہ اس کمیٹی کی قیادت احمدیوں کے ہاتھ میں ہے اور یہ ایک خطرناک بات ہے۔اور احرار نے انور شاہ کاشمیری صاحب کے ذریعہ علامہ اقبال کو احمدیوں کے خلاف بھڑکانا شروع کیا۔اور یہ پروپیگنڈا شروع کیا کہ کشمیریوں کے حقوق کے لیے مہم احمدیوں اور انگریزوں کی مشترکہ سازش ہے۔اس نفرت انگیزی کا نتیجہ یہ ہوا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے اس کمیٹی کی صدارت سے استعفیٰ دے دیا۔ اقبال اس کمیٹی کے نئے صدر بنے پھر یہ کمیٹی تحلیل کر دی گئی۔اس کے بعد ایک اور کمیٹی بنی لیکن 1934ء میں وہ بھی ماضی کے دھندلکوں میں گم ہو گئی۔

جماعت احمدیہ کی اشد مخالف جماعت مجلس احرار کے لیڈر پہلے مہاراجہ کشمیر کے محل میں ٹھہر کر مہاراجہ کی مہمان نوازی سے لطف اندوز ہوئے۔پھر انہوں نے یہ بیان دیا کہ کشمیریوںپرہونے والے مظالم کی خبریں مبالغہ آمیز تھیں۔ اس وقت مہاراجہ کشمیر کے بنائے ہوئے ظالمانہ قوانین کو بدلنے کاایک ہی طریقہ تھا کہ برطانوی حکومت ان کی سرپرستی ترک کرے اور ان کی حکومت کو مجبور کرے کہ کم از کم کشمیر کے مسلمانوں کے بنیادی انسانی حقوق پامال نہ ہوں۔لیکن احرار کے لیڈروں نے یہ بیانات دینے شروع کیے کہ وہ اس بات کے مخالف ہیں کہ ہندوستان کی حکومت کشمیر کے معاملات میں کسی قسم کی مداخلت کرے۔انہوں نے ہزاروں افراد کو گرفتار کروا کے اس تحریک کو چلانے کی کوشش کی لیکن 53دن میں ہی یہ تحریک دم توڑ گئی اور نتیجہ صفر۔جو ٹھوس کام پہلے ہو رہا تھا اس کو فرقہ واریت کی بھینٹ چڑھا دیا گیا تھا۔اور ان جھگڑوں سے حاصل یہ ہواکہ کشمیر کے مظلوم عوام ایک پلیٹ فارم پر جمع نہ ہو سکے۔اس کے نتائج ہم آج تک دیکھ رہے ہیں۔

(Iqbal and the Politics of Punjab by Khurram Mahmood p 86-.106), (Political Islam in Colonial Punjab Majlise Ahrar p 38-.53)

یوں تو بہت سے انگریز افسران حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے سے ہی جماعت احمدیہ کے مخالف تھے اور اس مخالفانہ رویہ میں کمی بیشی ہوتی رہتی تھی۔مگر اس موڑ پر بہت سے اعلیٰ سرکاری عہدیداروں میں جماعت احمدیہ کی مخالفت شدید تر ہو گئی۔اس مخالفت کی وجہ یہ تھی کہ وہ یہ سمجھنے سے قاصر تھے کہ کشمیر کے مظلوم لوگوں کے بنیادی انسانی حقوق کے لیے آواز اُٹھانا سیاست یا بغاوت نہیں تھی۔بہر حال پنجاب کے گورنر ایمر سن ہندوستان کی حکومت کے پولیٹیکل سیکرٹری مسٹر گلانسی انہیں لوگوں میں شامل تھے جو اب جماعت کے مخالف بن چکے تھے۔

بہاولپور میں ایک نومبائع احمدی کے تنسیخ نکاح کا مقدمہ 1928ءسےچل رہا تھا۔پہلے نواب بہاولپور کی ریاست کے دربار معلی میں یہ مقدمہ چلا اور وہاں پر جماعت احمدیہ کے مخالفین نے جماعت احمدیہ کے خلاف لمبی چوڑی تقرریں کیں۔جب احمدی فریق مقدمہ نے احمدی عالم کو طلب کیا تو ان پر قدغنیں لگا کر انہیں دلائل دینے سے روکا گیا۔بہر حال جون 1932ء میں ریاست بہاولپور کے دربار معلی سے یہ مقدمہ ڈسٹرکٹ عدالت میں بھجوایا گیا۔اور ڈسٹرکٹ جج منشی محمد اکبر صاحب کی عدالت میں اس کی سماعت کی گئی اور وہاں بھی یہی رویہ رہا اور یہاں تک کہا گیا کہ جو کچھ شیخ الجامعہ صاحب کہہ رہے ہیں تمہیں ماننا پڑے گا۔اس مقدمے میں جماعت کی مخالفت میں دیوبند کے بڑے بڑے علماء پیش ہوئے۔

حد یہ ہے کہ اس دوران وہ مظلوم احمدی جن پر مقدمہ قائم کیا گیا تھا وفات پا گئے۔عدالت میں درخواست دی گئی کہ اب تو مدعا علیہ کی وفات ہو گئی ہے۔لہٰذا یہ کارروائی ختم کی جائے لیکن ایک وفات یافتہ پر مقدمہ اس کی وفات کے بعد بھی چلایا گیا اور آخر کار 7؍فروری 1935ء کو ڈسٹرکٹ عدالت بہاولپور نے اس مظلوم احمدی کے خلاف اور جماعت احمدیہ کے خلاف ایک نہایت زہریلا فیصلہ سنایا اور لکھا کہ احمدی غیرمسلم ہیں۔یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایک ڈسٹرکٹ عدالت میں تنسیخ نکاح کے مقدمےکی کیا اہمیت؟لیکن اس کی اہمیت کا اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس فیصلےکو اب تک مخالفین جماعت اپنے حق میں دلیل کے طور پر عدالتوں میں اور تحریروں میں پیش کرتے ہیں۔اور جب 1974ء میں پاکستان کی قومی اسمبلی کی سپیشل کمیٹی میں جماعت احمدیہ کے خلاف کارروائی ہوئی تو اس تفصیلی فیصلہ کو اس سپیشل کمیٹی کی کارروائی کا حصہ بنایا گیا۔

(تاریخ احمدیت جلد 6صفحہ 37تا 55)

احراری فتنہ برپا کرتے ہیں

ہندوستان میں سب سے زیادہ جماعتیں صوبہ پنجاب میں تھیں۔چونکہ مجلس احرار کا زیادہ تر زور پنجاب میں تھا۔اس لیے جماعت احمدیہ کی مخالفت کا ناٹک چلانے کے لیے یہ جماعت نہایت موزوں تھی۔قادیان جماعت احمدیہ کا مرکز ہے۔اور اس وقت تمام مرکزی دفاتر قادیان میں ہی تھے۔اس کے علاوہ 1934ء تک ہندوستان سے باہر مستحکم جماعتوں کی تعداد زیادہ نہیں تھی۔اس لیے مجلس احرار نے اپنی کارروائیوں کے لیے قادیان کا انتخاب کیا۔

ہمیشہ سے جماعت احمدیہ کے کئی مخالفین یہ طریقہ کار اختیار کرتے ہیں کہ جب احمدی کسی موقع پر بڑی تعداد میں جمع ہوں اس وقت گالی گلوچ کر کے احمدیوں کو اشتعال دلایا جائے تاکہ اگر کوئی نا خوشگوار واقعہ ہو جائے تو مظلومیت کا ڈرامہ کیا جاسکے۔

چنانچہ 1933ء میں جب قادیان میں جماعت کا جلسہ سالانہ ہو رہا تھا تو اس موقع پر احراریوں نے اپنا جلسہ بھی منعقد کیااور قادیان میں اشتعال انگیز لٹریچر تقسیم کیا۔ 1934ءمیں قادیان میں مجلس احرار نے اپنا دفتر قائم کیااور فرضی مظلومیت کا شور مچانا شروع کیا کہ قادیان میں برطانوی حکومت کا تسلط ختم کر دیا گیا ہے اور قادیانیوں نے اپنی حکومت قائم کر لی ہے۔ اب صاف نظر آ رہا تھا کہ حکومت کا ایک حصہ احراریوں کی پشت پناہی کر رہا ہے۔

مجلس احرار کے مقررین خاص طور پر پنجاب میں لوگوں کو احمدیوں کے خلاف بھڑکا رہے تھے۔اکتوبر1934ءمیں مجلس احرار نے یہ فیصلہ کیا کہ قادیان میں ایک تبلیغی اجتماع منعقد کیا جائے۔سابقہ تجربہ ہی یہ ظاہر کر رہا تھا کہ اس موقع پر گالی گلوچ اور اشتعال انگیزی کر کے فساد برپا کرنے کی کوششیں ہوں گی۔لیکن پنجاب کی حکومت احرار کی اس قدر نازبرداریاں کر رہی تھی کہ اس جلسہ سے قبل چیف سیکرٹری پنجاب Garbett نے یہ حکم نامہ جاری کیا کہ جس تاریخ کو قادیان میں احراریوں کا جلسہ ہونا ہے حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ یا کسی جماعتی افسر کی طرف سے قادیان سے باہر رہنے والے کسی احمدی کو نہیں بلایا جائے گا۔اس تاریخ تک جب تک قادیان میں احرار اپنا جلسہ نہیں کر لیتے احمدیوں کی کوئی میٹنگ نہیں ہو گی۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ احرار کے جلسہ تک کسی کا استقبال نہیں کریں گے اور نہ ہی اسے کھانا یا رہائش مہیا کریں گے۔اس ایک مثال سے ہی ظاہر ہوتا ہے کہ اس وقت کی حکومت کس واضح طریق پر مجلس احرار کی پشت پناہی کر رہی تھی۔

(Iqbal and the Politics of Punjab by Khurram Mahmood appendix G)

مخالفین کے ارادے کیا تھے؟

اس وقت جماعت احمدیہ کے مخالفین کے ارادے کیا تھے اور وہ کیا امیدیں لگائے بیٹھے تھے اس کا اندازہ اس مثال سے لگایا جا سکتا ہے۔احرار کے سالانہ جلسے کے موقع پر مجلس احرار کے قائد چودھری افضل حق صاحب نے کہا:

’’احرار کا وسیع نظام باوجود مالی مشکلات کے دس برس کے اندر اندر اس فتنہ کو ختم کر کے چھوڑے گا۔موجودہ وزارت کے بدلنے کے ساتھ حالات بھی بدلیں گے۔باخبر لوگ جانتے ہیں کہ جانباز احرار نے کس طرح مرزائیت کو نیم جاں کر دیا ہے۔‘‘

(خطبات احرار جلد اوّل مرتبہ شورش کاشمیری،ناشر مکتبہ احرار صفحہ37)

اس حوالے سے ظاہر ہے کہ اس وقت جماعت احمدیہ کے مخالفین یہ امیدیں لگائے بیٹھے تھے کہ اب دس برس میں نعوذُباللہ جماعت احمدیہ کا خاتمہ کر دیا جائےگا۔اوراس مقصد کے لیے جگہ جگہ جماعت احمدیہ کے خلاف آگ بھڑکائی جا رہی تھی۔1935ء میں اقبال نے جماعت احمدیہ کے خلاف مضامین شائع کرنے کا ایک سلسلہ شروع کیا۔ان تحریروں میں انہوں نے یہ مطالبہ کیا کہ جماعت احمدیہ مسلمانوں کا حصہ نہیں ہے، اس لیے احمدیوںکامسلمانوں سے علیحدہ مذہب تسلیم کیا جائے۔اسی دہائی میں اقبال کی کوششوں سے پنجاب مسلم لیگ میں احمدیوں کے داخلے پر پابندی لگائی گئی۔اور یہ کوشش بھی کی گئی کہ مرکزی مسلم لیگ میں بھی یہ اصول بنایا جائے لیکن وہاں محمد علی جناح صاحب نے یہ قرارداد پیش نہیں ہونے دی۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ ہر طرف سے اور ہر طرح جماعت احمدیہ پر زمین تنگ کی جا رہی تھی اور ارادے واضح تھے کہ جماعت کو نیست و نابود کر دیا جائے اور ایسے حالات پیدا کر دیے جائیں کہ کوئی احمدیوں سے ہمدردی کرنے کو بھی تیار نہ ہو۔عام حالات میں اس صورت حال میں کہ جب ہر طرح سے دنیاوی اعتبار سے اپنے سے بہت زیادہ طاقتور گروہوں سے مقابلہ ہو تو یہی کوشش کی جاتی ہے کہ مفاہمت کر لی جائے یا اپنے آپ کو دفاع تک محدود کر لیا جائے۔کیونکہ اس وقت خلافت کے زیر سایہ ہندوستان میں جماعت دفاع اور بقا کے لیے جہاد کر رہی تھی۔

تحریک جدید کا اعلان

اگر ایسا کیا جاتا تو ایک لمبے عرصےتک جماعت احمدیہ بڑی حد تک ہندوستان تک محدود ہو جاتی۔اللہ تعالیٰ کی راہ نمائی کے نتیجے میں حضرت مصلح موعود ؓنے اس سے بالکل برعکس حکمت عملی اختیار فرمائی۔آپؓ نے سلسلہ احمدیہ کی تاریخ کی ایک عظیم الشان تحریک یعنی ’’تحریک جدید‘‘کا اجرا فرمایا۔اس تحریک کا القاء تو آپؓ کو احرار کی تبلیغ کانفرنس کے دوران ہو گیا تھا اور آپؓ نے ایک خطبے میں اس کی طرف اشارہ بھی فرما دیا تھا لیکن اس کے بعد 1934ء کے اختتام پر آپؓ نے تین خطبات میں اس تحریک کا اعلان فرمایا۔

آپؓ نے تحریک جدید کے 19؍مطالبات کا اعلان فرمایا۔بعد میں مزید 8؍مطالبات کا اضافہ فرمایا اور ان کی کل تعداد 27؍تک پہنچ گئی۔ان مطالبات کا ایک حصہ یہ تھا کہ لوگ اپنے زائد اخراجات کم کر یں۔ایسے لوگ سامنے آئیں جو تین سال تک اپنی آمدنی کے پانچویں سے تیسرا حصہ تحریک جدید کے چندے میں دیں۔اس وقت جو جماعت کے خلاف گندا لٹریچر شائع کیا جا رہا ہے، اس کا جواب تیار کیا جائے۔اور اپنا نقطۂ نظر احسن طریق پر لوگوں تک پہنچایا جائے۔احمدی تبلیغ کے لیے اپنے وسائل پر ہندوستان سے باہر کے ممالک میں پھیل جائیں۔حضورؓ نے تحریک فرمائی کہ تین سال کے لیے پانچ واقفین سائیکلوں پر پنجاب کے مختلف مقامات کا دورہ کریں اور تبلیغ کے لیےسروے کریں۔سرکاری ملازمین تین تین ماہ کی چھٹیاں لے کر تبلیغ کے لیے ان جگہوں پر جائیں جن کا ان کی ملازمت کے دائرہ کار سے کوئی تعلق نہ ہو۔نوجوان تین سال کے لیے اپنی زندگیاں وقف کریں۔زمیندار ان دنوں میں جب انہیں فرصت ہو اپنے گھر سے نکل کر تبلیغ کریں۔مثال کے طور پر اپنے غیر احمدی رشتہ داروں کے پاس جائیں۔جو لوگ اپنے علم یا کسی اور وجہ سے پوزیشن رکھتے ہیں وہ لیکچروں کی مشق کر کے لیکچر دیں۔خلیفۂ وقت کے پاس ایسا ہنگامی بجٹ ہونا چاہیے جس کے ذریعہ وہ ہنگامی قسم کے کام سرانجام دے سکے۔پنشن یافتہ لوگ اپنے آپ کو خدمت دین کے لیے پیش کریں۔لوگ اپنے بچوں کو قادیان کے ہائی سکول یا مدرسہ میں تعلیم کے لیے بھجوائیں۔لوگ اپنے بچوں کو سلسلےکی ضروریات کے مطابق تعلیم دلائیںتاکہ کوئی بھی شعبہ ایسا نہ ہو جس میں احمدیوں کی نمائندگی نہ ہو۔وہ نوجوان جو ماں باپ کےگھر میں بے کار بیٹھے ہیں وہ ملک سے باہر جائیں اور اگر ملک سے باہر نہیں جا سکتے تو کم از کم ہندوستان میں اپنی جگہ بدل لیں۔احمدی اپنے ہاتھ سے کام کرنے کی عادت ڈالیں۔جولوگ بے کار ہیں وہ بے کار نہ رہیں۔ اگر باہر نہیں نکل سکتے تو گھر میں ہی چھوٹا موٹا کام شروع کر دیں خواہ دو روپیہ کی آمد ہو۔قادیان میں مکان بنائے جائیں۔جو لوگ ان میں سے کچھ نہیں کر سکتے وہ کم از کم دعا کے ذریعہ اس تحریک کی مدد کریں۔

ان مطالبات پر پہلی نظر ہی واضح کر دیتی ہے کہ دشمن تو بڑے فخر سے یہ اعلان کر رہا تھا کہ ہم ہندوستان میں ہی اس جماعت کا خاتمہ کر دیں گے اور تحریک جدید کا منصوبہ یہ تھا کہ نہ صرف ہندوستان میں منصوبہ بندی کے ذریعہ احمدیت کو پھیلانا ہے بلکہ پوری دنیا میں پھیل کر لوگوں کو حقیقی اسلام میں داخل کرنا ہے۔

چنانچہ ابھی اس منصوبہ کا اعلان ہی ہوا تھا کہ جنوری 1936ءسے ہی ہندوستان سے باہر مبلغین بھجوانے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔اس سلسلے میں جو مبلغ سب سے پہلے روانہ ہوئے وہ مکرم احمد خان ایاز صاحب تھے جو تبلیغ اسلام کے لیے ہنگری روانہ ہوئے۔اس کے بعد پوری دنیا میں مبلغین کا جال بچھتا چلا گیا۔

یہ سازشیں اس لیے شروع کی گئی تھیں کہ احمدیت کو مٹا دیا جائے۔لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدوں کے مطابق جماعت احمدیہ کی خوف کی حالت کو امن سے تبدیل کردیا۔اور پوری دنیامیں جماعت احمدیہ کو ایک نئی تمکنت سے نوازا۔

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button