متفرق مضامین

ہستیٔ باری تعالیٰ کے موضوع پر امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کےساتھ خصوصی انٹرویو

(سید عامر سفیر(ایڈیٹر رسالہ ریویو آف ریلیجنز))

ادارہ ریویو آف ریلیجنز نے ہستی باری تعالیٰ کے متعلق ایک پراجیکٹ ’The Existence Project‘کا آغاز کیا ہے۔ اس کا مقصد امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی ہدایت کے مطابق اس رسالے کے اس بنیادی مقصد (یعنی ہستی باری تعالیٰ کے ثبوت )کو پورا کرنا ہےجس کےلیے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اس رسالے کا اجرا فرمایا تھا۔

ہماری خوش قسمتی ہے کہ اس نئے سیکشن کے آغاز پر ہمیں امام جماعت احمدیہ عالمگیر حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا ایک خصوصی انٹرویو پیش کرنے کی توفیق مل رہی ہے۔

6؍مارچ 2021ءکو خاکسار کو یہ سعادت ملی کہ ہستیٔ باری تعالیٰ کے بارے میں حضور انور کی خدمت میں کچھ سوال پیش کر سکوں۔ حضورِانور کی خدمت میں پیش کیے جانے والے سوالات میں سے بعض نظریاتی نوعیت کے ہیں جبکہ بعض دیگر میں ہمارا مقصد حضورانور کے ذاتی تجربات سے مستفید ہونا تھا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے نہایت بصیرت افروز، پرحکمت اور گہرے علم پر مبنی ارشادات سے قارئین زیادہ سے زیادہ مستفید ہونے والے ہوں۔ آمین

امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں پیش کیے جانے والے سوالات اور ان کے بصیرت افروز جوابات

عامر سفیر: حضور! نوجوان اکثر یہ سوال کرتے ہیں کہ آخر ایسا کیوں ہے کہ اسلام کے مطابق خدا ایمانداروں کو آزمائشوں اور مشکلات میں جبکہ کفار کو مصیبتوں اور سزا میں ڈالتا ہے۔ جو سوال خاکسار سے ہوا تھا وہ یہ ہےکہ’ایسا کیوں نہیں ہے کہ خدا تعالیٰ ایمان لانے والوں اور کفر کرنے والوں کو تکالیف و مصائب میں مبتلا کرنے کی بجائے ان کے حالات میں واضح فرق پیدا کر دے۔ نیز یہ کہ ان دونوں گروہوں کی بقا ایک دوسرے کے ساتھ رہتے ہوئے کیسے ممکن ہے؟ ‘

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ اسلام میں جزا اور سزا کا تصور پایا جاتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ آنحضرتﷺ کے زمانہ سے پہلے تشریف لانے والے انبیائے کرام کی اقوام پر زلازل، طوفان، آگ وغیرہ کی صورت میں سزائیں وارد ہوئی تھیں۔ ایسی سزائیں آنحضورﷺ کے زمانہ میں نازل نہیں ہوئیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ آنحضرتﷺ کے زمانہ میں جو جنگیں لڑی گئیں مثلاً غزوۂ احد اور غزوۂ حنین وہ بھی سزا کی ہی ایک شکل تھیں گو ان جنگوں میں کئی مسلمان بھی شہید ہوئے۔ غزوۂ بدر میں بھی کئی مسلمان شہید ہوئے۔ گو یہ غزوات کفار کے لیے ایک سزا تھی مگر مسلمانوں کو بھی نقصان ہوا۔ اگر ان کا اثر صرف کفار پر ہونا تھا تو مسلمانوں کو مکمل طور پر محفوظ رہنا چاہیےتھا مگر مسلمان بھی شہید ہوئے۔ اس سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک قانون قدرت بنایا ہوا ہے جس کے تحت جب بھی جنگ ہوتی ہے تو دونوں طرف سے لوگ مرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو پہلے ہی بتا دیا تھا کہ جب بھی وہ جنگ کریں گے، ایسی جنگ جس میں وہ اپنے مد مقابل کی جان لینے سے بھی دریغ نہیں کریں گے تو لازمی بات ہے، انہیں بھی موت کا سامنا کرنا ہوگا۔ لیکن اس بات میں بھی شک نہیں کہ انعام کے طور پر اگلے جہان میں مسلمانوں کو جنت نصیب ہوگی اور سزا کے طور پر کفار آگ کا ایندھن بنیں گے۔ یہ زندگی حقیقی زندگی نہیں ہے اسی لیے ہمیں نہایت واضح طور پر یہ سمجھایا گیاہے کہ اخروی زندگی ہی اصل زندگی ہے۔

پھر شہداء کو اللہ تعالیٰ نے نہایت اعلیٰ مدارج اور رتبے عطا فرمائے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ شہید کو مردہ نہ کہو بلکہ وہ تو زندہ ہیں کیونکہ غزوۂ بدر کے شہداء اور دیگر غزوات کے شہداء جنت میں ہیں اور ہم آج بھی ان کی نیکیوں کی وجہ سے ان کو یاد کرتے ہیں۔ جہاں تک ان کفار کا تعلق ہے تو وہ بھلا دیے گئے ہیں اور کوئی انہیں یاد نہیں کرتا۔ اور اگر کوئی انہیں یاد کرتا بھی ہے تو وہ محض رسوائی اور ذلت سے یاد کیے جاتے ہیں۔ بہرحال ان کے حالات کا اکثر حصہ ضائع ہو چکاہے۔

میں نے حال ہی میں [خطبہ جمعہ میں] بیان کیا کہ ابوجہل کے بیٹے عکرمہ نے آپﷺ سے شکایت کی کہ لوگ انہیں ابھی تک ان کے والد کے نام سے پکارتے ہیں جو اسلام کا مخالف تھا۔ ا ن کفار کے مرنے کے بعد بھی ان کے بدکاموں کی وجہ سے ان کی اولادیں بھی ان کی طرف منسوب ہونا پسند نہیں کرتیں مگر شہداء کے نام ہمیشہ زندہ رہتے ہیں اور ہم ان کا ذکر کرتے رہتے ہیں۔ یہی چیزیں دونوں کے درمیان فرق کرتی ہیں۔ پس یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ شہداء کو مردہ نہ کہو کیونکہ ان کی زندگی کے حالات کو بار بار دہرایا جاتا ہے۔ یوں درحقیقت اللہ تعالیٰ جزا اور سزا دیتاہے۔

جہاں تک یہ ہے کہ مومنوں کو تکلیف کیوں پہنچتی ہے تو آپﷺ نے ایک مرتبہ فرمایا جس شدت اور حدت کا بخار آپﷺ کو ہوتا ہے دوسرے اس کی برداشت کی طاقت نہیں رکھتے۔ یہ اس لیے تھا کہ اللہ تعالیٰ نے آپؐ پر مشکلات اور مصائب ڈالیں ورنہ دوسرے لوگ یہ سوال کرتے کہ آپﷺ کو مشکلات کا کیا علم، آپﷺ تو ناز و نعم کی زندگی گزارتے ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ ان مشکلات سے مومنوں کو گزارتا ہے۔

پھر اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں مزید فرماتا ہے کہ کیا محض اس لیے کہ وہ ایمان لے آئے ہیں انہیں کسی آزمائش میں نہیں ڈالا جائے گا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دعا کا فلسفہ بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ایک طرف تو لوگ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ اُدْعُوْنِیْ اَسْتَجِبْ لَکُمْ یعنی مجھے پکارو میں تمہاری پکار کا جواب دوں گا۔ پھر دوسری طرف فرماتا ہے کہ اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ ہر دعا شرف قبولیت پا جائے۔ اگر تم اس زندگی کو سب کچھ سمجھ بیٹھو گے تو تمہیں کچھ حاصل نہیں ہوگا ہاں اگر تم اخروی زندگی کو اصل زندگی گردانو گے تو حقیقت کو پاسکو گے۔

عامر سفیر: حضور! جب لوگوں سے ہستیٔ باری تعالیٰ کے بارےمیں بات ہو تو بعض لوگ سوال کرتے ہیں کہ مشکلات اور مصائب کے مضمون کو خدا سے تعلق کے حوالہ سے کیسے زیر بحث لایا جائے خاص طور پر اس وقت جبکہ ایک شخص خود اس تکلیف سے گزر رہا ہو۔ مثال کے طور پر اگر کوئی شخص کسی مشکل کا شکار ہو یا قدرتی آفت سے گزر رہا ہو جیسے آج کل Covid-19 کی وبا پھیلی ہوئی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس حالت میں جبکہ وہ خود بھی وبا کی آفت میں سے گزررہے ہیں جب دوسروں سے اللہ تعالیٰ کی ہستی کے بارے میں بات کی جاتی ہے تو ان سے اس بارے میں گفتگو کرنا اَور بھی مشکل ہو جاتا ہے اور بسا اوقات منفی رد عمل سامنے آتا ہے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

حقیقت یہ ہے کہ چاہے تیس میں سے ایک ہلاک ہو، ساٹھ میں سے ایک ہو یا سو میں سے ایک بہر کیف یہ ایک وبا ہے جس سے کمزور صحت کے لوگ ایک سے دوسرے کو لگنے کی وجہ سے متاثر ہو رہے ہیں اور یہ قانون قدرت کے مطابق ہو رہا ہے۔ قانون قدرت کے مطابق کچھ لوگوں میں بعض کمزوریاں پائی جاتی ہیں اور ان کے وبا سے متاثر ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہےاور اسی قانون قدرت کے تحت اس وبا کے پھیلنے سے کوئی شخص بیمار ہو سکتا ہے۔ قانون قدرت کمزور اور طاقتور کے درمیان کوئی تفریق نہیں کرتا۔ کچھ لوگ ایسے ہیں جن کا دفاعی نظام ایسا ہوتا ہے کہ وہ آسانی سے (اس وبا سے) گزر جاتےہیں۔ چند صورتوں میں بڑی عمر کے لوگ تو بچ گئے ہیں مگر جوان اس سے متاثر ہوئےہیں اور وفات پاگئے ہیں۔ آج کل نوجوان طبقہ زیادہ بڑی تعداد میں اس سے متاثر ہو رہاہے اس لیے ہر جگہ قانون قدرت کا اثر ہوتا ہے اور ایسا نہیں ہے کہ صرف ایک ہی فرد اس بیماری سے متاثر ہوا ہو۔

جہاں تک تکلیفوں میں پڑنے کا تعلق ہے تو ایک حدیث قدسی ہے آپﷺ نے فرمایا کہ جو کوئی بھی اس دنیا میں کسی تکلیف یا بیماری سے گزر تا ہے تو اللہ تعالیٰ اخروی زندگی میں اس کے گناہ مٹا دیتا ہے۔ اگر آپ ایمان رکھتے ہیں کہ یہ دنیاوی زندگی عارضی ہے جس کے بعد ایک ابدی زندگی ملنے والی ہے۔ اللہ تعالیٰ اگلے جہان میں اس شخص کے لیے جو یہاں تکلیف میں ہے، بہتری کے سامان پیدا کردے گا۔

آپ کو اپنے مخاطب کی ذہنیت کے مطابق اس سے بات کرنی ہو گی۔ لیکن اس مضمون سے بات چیت کا آغاز کرنے کی ضرورت کیا ہے؟ ہمیں بلا سوچے سمجھے کسی ایسے شخص سے ایسی بات کے ساتھ گفتگو کا آغاز نہیں کرنا چاہیے جو کسی تکلیف سے گزر رہاہو اور ہم اسے یہ بتا رہے ہوں کہ یہ تکلیف حقو ق اللہ کی ادائیگی نہ کرنے کی وجہ سے ہے۔ ممکن ہے کہ ایسا شخص حقوق اللہ کی ادائیگی کرنے والا ہو، اس لیے آپ کو ہر مخاطب کے حالات کا جائزہ لے کر پھر بات آگے بڑھانی چاہیے۔

بسا اوقات لوگ بہت زیادہ جذباتی ہو جاتے ہیں اور اپنی عقل سے پوری طرح کام نہیں لے پاتے کہ اس معاملے کی وضاحت کس طرح کریں۔ اس لیے اولاً تکلیف میں ہونے کا ذکر کرنے کی بجائے، انہیں خدا پر ایمان کی طرف لائیں۔یہ پہلا قدم ہے۔ ایسے لوگوں سے خدا کے رحم اور محبت کا ذکر کریں۔ تکالیف کا ذکر بعد میں آنا چاہیے۔ بسا اوقات ہم تکالیف کے بارے میں گفتگو شروع کر دیتے ہیں اور یہ چیز انہیں دور کر دیتی ہے۔ اس لیے لوگوں سے گفتگو بہت احتیاط سے، ان کے مناسب حال ایک خاص ترتیب کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کرنی چاہیے، اور بامقصد انداز میں بات کو آگے بڑھانا چاہیے۔

عامر سفیر:حضور! ہم سنتے ہیں کہ اس وبا کے دوران کئی لوگ خدا کی طرف مائل ہوئے ہیں اور حضورِ انور نے بھی اس کا ذکر اپنے خطبات جمعہ میں فرمایا ہے۔ تاہم ایک بڑی تعداد کا رجحان مذہب کی بجائے روحانیت (spiritualism)کی طرف زیادہ ہوا۔ وہ روحانیت کی طرف زیادہ مائل ہوئے ہیں بجائے کسی مذہب میں شمولیت اختیار کرنے کے۔ حضور ! اس بارے میں راہ نمائی فرمانے کی درخواست ہے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

پہلے آپ کو یہ دیکھنا ہوگا کہ کس قدر لوگ مذہب سے منسلک ہیں۔ دنیا کے 80 فیصد لوگ مذہب سے دور ہو چکے ہیں اور ان میں سے اکثریت عیسائیت کو چھوڑنے والوں پر مشتمل ہے۔

اگر لوگوں کی توجہ روحانیت کی طرف مائل ہوئی ہے تو یہ اچھی بات ہےتاہم آپ کو دنیا میں روحانی انقلاب برپا کرنے کے لیے سائنس کو اور اس کے اصولوں کو بھی پیشِ نظر رکھنا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے روحانی سلسلہ کا قانون وضع فرمایا ہو اہے اور اس روحانی انقلاب کے لیے سلسلۂ انبیاء موجود ہے۔ ہماری اخلاقیات انبیاء کی لائی ہوئی ہیں۔ انبیاء لوگوں کی روحانی ترقی کے لیے خدا کی طرف سے سچی مذہبی تعلیمات کے ساتھ مبعوث ہوئے۔ اس لیے مذہب کی اہمیت بہت زیادہ ہے اور ہر کسی کو بالآخر مذہب کی طرف لوٹنا ہوگا اور اس کی اہمیت کو سمجھنا ہوگا۔

’’حقیقۃ الوحی ‘‘میںحضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے عبد الحکیم خان کا ذکرکیا ہے۔ اس کا بھی یہی خیال تھاکہ روحانیت کے حصول کے لیے کسی مذہب کے سہارے کی ضرورت نہیں، محض توحید پر ایمان روحانیت کے حصول کے لیے کافی ہے۔ مگر اس بات کو کیسے درست تسلیم کیا جا سکتا ہے کیونکہ پھر یہ بات بھی زیر بحث آئے گی کہ آنحضورﷺ کی بعثت کی کیا ضرورت ہے؟ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ وہ غلطی پر تھا اور مذہب بہر حال ضروری ہے۔ دراصل انبیاء کا وجود ہستیٔ باری تعالیٰ کے مظہر کے طور پر ہوتا ہے جو نشانات اور معجزات سے خد اکا چہرہ دکھاتے ہیں۔ انبیاء علیہم السلام کے وجود کے بغیر کسی کو بھی ہستی باری تعالیٰ پر قطعی ایمان نہیں ہو سکتا۔

عامر سفیر: حضور! دہریہ بالعموم یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ ایک بڑی تعداد میں لوگوں کا خدا کو دیکھنا یا تجربہ کرنا، ہستیٔ باری تعالیٰ کی دلیل کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔ وہ کہتے ہیں کہ بہت سے لوگوں نے UFO (فرضی مخلوق) اور غیر مرئی مخلوقات کو بھی دیکھا ہے۔ مگر ان کے مشاہدے کو یقین کا درجہ نہیں دیا جاسکتا۔ حضور ! اس کا جواب کس طرح دیا جائے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن کریم نے بِگ بینگ (Big Bang) اور بلیک ہول (Black Hole) جیسے مظاہر کو بیان فرمایا ہے۔ اسی طرح قرآن کریم نے کئی پیشگوئیاں بیان فرمائی ہیں جن میں سمندروں کا ملنا اور دیگر شامل ہیں۔ پھر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے بھی کئی پیشگوئیاں بیان فرمائی ہیں۔ حضرت مصلح موعود ؓخلیفۃ المسیح الثانی نے بھی چند پیشگوئیاں ’احمدیت – یعنی حقیقی اسلام‘ میں احمدیت کی ترقی کے بارے میں بیان فرمائی ہیں۔ ان پیشگوئیوں کی اس وقت لوگوں کو سمجھ نہیں آئی تاہم آج تک یہ پیشگوئیاں پوری ہو رہی ہیں اور دنیا نے ان کو پورا ہوتے دیکھا ہے۔ آج جب ہم ان پیشگوئیوں کو پورا ہوتے دیکھتے ہیں تو یہ ہماری توجہ ایک ہستی کی طرف مبذول کرواتی ہیں۔ خدا نے انبیاء کو ان حالات کی پہلے سے خبر دی جو بعد میں اس دنیا میں رونما ہونے والے تھے۔مثال کے طور پر خداتعالیٰ نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلا م کو فرمایا کہ فلاں کام ایسے ایسے ہوگا اور پھر بالکل ویسے ہی رونما ہوا۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے پیشگوئی فرمائی کہ طاعون اور جنگیں ہوں گی اور پھر ایسا ہی ہوا۔ آپؑ کی بہت سی پیشگوئیاں آج بھی پوری ہو رہی ہیں۔

بسا اوقات نجومی بھی ستاروں کو دیکھ کر لوگوں کے مستقبل کا حال بتاتے ہیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ لوگ مستقبل کی خبریں جاننے کو ممکن سمجھتے ہیں، ان میں اس کے متعلق باتیں رواج پاچکی ہیں۔ سوال یہ ہےکہ انہوں نے یہ علم کہاں سے حاصل کیا؟ آپ کو نجومیوں کی پیشگوئیوں کا موازنہ انبیاء علیہم السلام کی پیشگوئیوں سے کرتے ہوئے دیکھنا ہو گا کہ کس کی پیشگوئیاں پُر شوکت ہیں اور ان کے سچے ہونے کا تناسب کیا ہے۔ اس کے بھی مزید پہلوؤں کو دیکھنا ہوگا۔

عامر سفیر: حضور! اللہ تعالیٰ سے مکالمہ مخاطبہ اور اس کی ذات کا مشاہدہ صرف انسانوں تک محدود ہے یا جانور بھی خدا سے بات کر سکتے ہیں؟

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

جانوروں کو ان کی ضروریات اور حرکات کے مطابق فطرت ودیعت کی گئی ہے۔ بسا اوقات جانوروں کو غیر معمولی حسیات عطا ہوتی ہیں،جیسے کتے کی سونگھنے کی حس بہت اعلیٰ ہے۔ وہ اس حس کی مدد سے اپنے شکار کو آسانی سے ہدف بنا سکتے ہیں اور سونگھنے والے کتے اس حوالے سے خاص طور پر منشیات کی کھوج لگانے کے لیے استعمال کیے جاتےہیں۔

دوسرے جانوروں کی بعض دوسری صفات اور خواص ہیں جو ان کی ضروریات کے مطابق ہیں۔ وہ ان خصوصیات سے جو اللہ تعالیٰ نے ان کو عطا کی ہوئی ہیںنہ تو بڑھ سکتے ہیں اور نہ ان میں کمی کر سکتے ہیں ۔ جانور وں کے بہترین استعمال کی خاطر کوئی بھی ان کو اچھی طرح سدھا سکتا ہے۔ تاہم ان کی خصوصیات جو انہیں عطا کی گئی ہیں انہیں بڑھایا یا کم نہیں کیا جاسکتا اور کچھ مشق کے بعد وہ ایک خاص حد سے آگے نہیں جا سکتے۔ تمام جانوروں کو الگ الگ خصلتیں عطا ہوئی ہیں۔ بعض ماحول ایسےہوتے ہیں کہ ان میں وحشی جانور ایک گروہ کی صورت اختیار کرکے اپنا دفاع کرتے ہیں۔ یوں اللہ تعالیٰ نے جانوروں کو ایسی خصلتیں عطا فرمائی ہیں کہ وہ اپنا اپنا کردار ادا کر سکیں۔

انسانوں کو عقل بھی عطا کی گئی ہے۔ عمومی طور پر انسان سمیت سب جانوروں کو عقل دی گئی ہے تاہم انسانوں کو عبادت کرنے اور ذہنی صلاحیتوں سے کام لینے کی خاصیت ودیعت کی گئی ہے۔ جانور اپنی حرکات و سکنات میں محدود ہیں جبکہ انسان کو دیگر صفات کے ساتھ ساتھ ایک اضافی مقصد بھی دیا گیاہے جس کے بارے میں قرآن کریم فرماتا ہے کہ وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ۔ اور میں نے جن و انس کو پیدا نہیں کیا مگر اپنی عبادت کے واسطے۔ اس لیے جنوں اور انسانوں کا ایک مقصد پیدائش ہے جو دیگر جانوروں کو عطا نہیں کیا گیا۔ انسان کو سب سے اعلیٰ مقصد دیا گیاہے اس لیے فطرتی طور پر روح کو خد اسے بات کرنے کے زیادہ مواقع مہیا ہیں۔

روحانی ترقی اور جنت یا جہنم کا تصور صرف انسانی روحوں سے تعلق رکھتا ہےکیونکہ انہیں زندگی کا ایک مقصد دیا گیاہے جبکہ قانون قدرت کے مطابق جانوروں کا اپنا اپنا مخصوص کام ہے اور انہیں ایسا کردار دیا گیا ہے جس کو وہ اپنی زندگی میں نبھاتے ہیں اور وہ اس مخصوص دائرہ سے باہر کام کرنے سے قاصر ہیں۔

عامر سفیر: حضور ! خدا سے تعلق کے حوالے سے میرا ایک سوال ہے کہ کسی نبی یا خلیفہ کو یہ کیسے پتہ چلتا ہے کہ کوئی چیز براہ راست خدا کی طرف سے ہے اور وہ اس کو اپنی سوچ قرار نہیں دیتے؟

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

پہلی بات تو یہ ہے کہ نبی اور خلیفہ کے مقام میں فرق ہے۔ ہمیں درجات کا علم ہونا چاہیے۔ ایک خلیفہ ایک نبی کی جملہ صفات کا مظہر نہیں ہو سکتا۔ حضرت مصلح موعودؓ نے بڑی تفصیل سے بتایا ہے کہ انبیاء کا ایک الگ مقام ہوتا ہے اور خلیفہ نبی کی ساری صفات کا حامل نہیں ہو سکتا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جملہ خلفاء میں مجھ سمیت کسی نہ کسی رنگ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کردار کا کوئی رنگ ظاہر ہوا ہے اور بعض نے بعض تعلیمات اور صفات کو اجاگر کیاہے۔ تاہم ہم سب خلفاء کبھی بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ساری صفات کے مظہر نہیں بن سکتے۔ حضرت مصلح موعود ؓاپنی خاص صفات کے باعث نبی کے درجہ کے قریب ترین تھے پھر بھی آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ساری صفات کا مظہر نہ تھے اور نہ ہی آپ کے بعد کے خلفاء میں سے کوئی اَور ایسا ہو سکتا تھا۔ اس لیے سب سے پہلے نبی اور خلیفہ کا فرق سمجھنا ضروری ہے۔

جہاں تک خلفاء کا تعلق ہے تو خاص دعا کے ذریعہ اللہ تعالیٰ خلیفہ کے دل میں بھرپور تسلی نازل کرتا ہے کہ ایسا اور ایسا ہونا چاہیے اور یوں خلیفہ کو معلوم ہو جاتا ہے کہ فلاں چیز نفع رساں ہے اور صحیح طریق ہے۔ اگر کوئی خلیفہ کسی چیز کا از خود فیصلہ کرے اور وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر نہ ہو ، جیساکہ ہم کبھی یہ نہیں کہتے کہ خلیفہ غلطی نہیں کرسکتا، اگر خلیفہ کا فیصلہ جماعت احمدیہ کے متعلق ہو اور اس کے مفاد میں ہو تو اللہ تعالیٰ کسی بھی قسم کے منفی اثرات سے محفوظ رکھتا ہے، اگر خلیفہ سے کوئی غلطی بھی ہو گئی ہو۔ یہ بات میں پہلے بھی تفصیلی طور پر بیان کر چکا ہوں۔

عامر سفیر: حضور! اگر اجازت ہو تو کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ حضورِ انور خدا تعالیٰ سے کیسے رابطہ کرتے، راہ نمائی حاصل کرتے ہیں ؟

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

دعاؤں کے ذریعہ یا خواب کے ذریعہ یا کسی بھی طرح اللہ تعالیٰ میرے دل میں خیال ڈال دیتا ہے کہ کیا کرنا چاہیے۔ یوں مجھے معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ بات اللہ کی طرف سے ہے اور بہترین طریقہ کار ہے۔ بسا اوقات دعاؤں میں یا دل میں خیال پیدا ہونے کے ذریعہ یا کبھی کبھار میں خواب میں دیکھتا ہوں تو مجھے پتہ چل جاتا ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے۔ بسا اوقات یہ ایسی کیفیت ہوتی ہے جو میرے دل میں راسخ ہو جاتی ہے یا وہ بار بار دل میں گزرتی ہے یا نمازوں کے دوران بار بار خیال اس طرف جاتا ہے اوریوں مجھے یقین ہو جاتاہے کہ یہی خدا کی مرضی ہے۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ مجھ پر وحی نازل ہوتی ہے مگر کبھی کبھار خدا تعالیٰ قرآنی آیات کے ذریعہ میری راہ نمائی کردیتا ہے اور میں اس آیت کے ترجمہ اور تعبیر سے سمجھ لیتا ہوں کہ یہ بات خد اکی طرف سے ہے۔

عامر سفیر: حضور ! کیا آپ کشف دیکھتے ہیں؟

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

بسا اوقات جب میں کسی کے لیے دعا کر رہا ہوتا ہوں تو ان کا چہرہ دوران دعا میرے سامنے آجاتاہے۔ میں حتمی طور پر یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ کشف ہی ہے یا میں نے کوئی کشف دیکھا ہے لیکن دعا کے دوران ایک خاص کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔

عامر سفیر: حضور! میرے لیے یہ بات نہایت دلچسپی کا باعث تھی جب آپ نے ایک خطبہ میں فرمایا کہ جب لوگ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو ملنے آتے تھے تو آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کشف میں ان کے حالت کے بارے میں آگاہی دے دی جاتی تھی۔ حضور! جب لوگ آپ سے ملنے آتے ہیں تو کیا اللہ تعالیٰ آپ کو بھی ان کی حالت کے بارے میں آگاہ فرمادیتا ہے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

ایسا ممکن ہے، لیکن بسا اوقات میں کسی آدمی کا چہرہ دیکھ کر بھی بعض باتیں بتا سکتا ہوں۔ بسا اوقات میں کسی کو اُن کے بارے میں کچھ بتاتا ہوں یا یہ کہ کیا ہونے والا ہے اور ان کا خیال ہوتا ہے کہ مجھے اللہ کی طرف سے خبر ملی ہےجبکہ مجھے اس کا احساس صرف ان کے چہرے کو دیکھ کر ہو جاتا ہے یا ان کی ظاہری حالت کو دیکھ کر عمومی طور پر ایک رائے ہوتی ہے۔ بعض ماہرینِ نفسیات بھی اپنے مشاہدہ کی رو سے ایسا اندازہ کر لیتے ہیں اور بسااوقات اللہ تعالیٰ بھی کسی آدمی کے بارے میں میرے دل میں خیال ڈال دیتا ہے یا ان کی کسی برائی یا کوتاہی کے بارے میں اور پھر ایسی چیز میرے دل میں سخت نا پسندیدگی کے جذبات پیدا کردیتی ہے۔

عامر سفیر: حضور! ان دنوں ہم آپ کی راہ نمائی پر بعض احمدی مسلمانوں کے ایسے تجربات اکٹھے کر رہے ہیں جن کی دعائیں اللہ تعالیٰ نے قبول کی ہوں۔ میرا سوال دیگر مذاہب کے لوگوں سے متعلق ہے جو ایسے ہی دعوے رکھتے ہیں کہ خدا ان کی دعائیں قبول کرتاہے۔ ہم بعض ٹی وی چینلز یا دیگر شوز میں دیکھتے ہیں کہ کسی عیسائی پادری یا غیر احمدی امام نے لوگوں کے لیے دعا کی اور ان کا دعویٰ ہوتا ہے کہ فوری طور پر ان کی دعا سنی گئی۔ کیا ایسے ذاتی تجربات کو درست تسلیم کرنا چاہیے؟

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

ہمیں اپنے احباب کے ذاتی تجربات کو شائع کرتے رہنا چاہیے اس خیال سے قطع نظر کہ دوسرے کیا کہیں گے۔ ان کے بیانات درست ہیں یا غلط ، ہمیں فیصلہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ ہمارا مسئلہ نہیں ہے۔ ہمیں صرف اپنے تجربات کے بیان پر توجہ دینی چاہیے۔ بسا اوقات لوگ غلط بیان بھی دے دیتے ہیں۔ بعض غیر احمدی ایسے دعوے بھی کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت آدم سے لے کر جملہ انبیاء کو خواب میں دیکھا ہے۔ آیا انہوں نے واقعی دیکھا ہے یا نہیں، یہ ان کا مسئلہ ہے۔ ہم کچھ نہیں کہہ سکتے۔ ہمارا کام ہے کہ ہم اپنے تجربات کو بیان کریں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قول ہے کہ اگر کسی میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہوگا تو وہ کوڑھی اور بیمار کو درست کر دے گا۔ یہی معاملہ ’’جنگ مقدس‘‘ کے مباحثے کے دوران پیش آیا تھا۔ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے عیسائی پادریوں سے فرمایا کہ انہیں حضرت مسیح علیہ السلام کی اس بات کو بیماروں کو صحت یاب کرکے جو اس وقت پیش کیے گئے تھے، درست ثابت کرنا چاہیے۔ اور انہیں چاہیے کہ اپنے دستِ مسیحائی ان پر رکھ کر انہیں صحت یاب کردیں اور خود کو نجات یافتہ اور ایماندار ثابت کریں۔ البتہ وہ پادری ایسا کرنے میں ناکام رہے اور انہوں نے راہِ فرار اختیار کی۔

مسئلہ یہ ہےکہ آپ لوگوں کا خیال ہے کہ آپ نے لازماً لوگوں کو احمدی کرکے چھوڑنا ہے جبکہ یہ غلط (طریق) ہے۔ ہم کسی کو اس کا مذہب بدلنے پر مجبور نہیں کر سکتے۔ ہم صرف ذاتی تجربات بیان کر رہے ہیں۔ ہمارا یہ کام نہیں کہ لوگوں کا مذہب بدلتے پھریں۔ اللہ تعالیٰ نے آنحضورﷺ کو بھی ہدایت فرمائی کہ آپ لوگوں تک محض پیغام پہنچائیں مگر ان کے دلوں کا حال بدلنے کی ذمہ داری آپؐ پر نہ تھی بلکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ دلوں کو بدلنا اس کا کام ہے۔

جب دوسرے اس طرح کے دعاوی پیش کرتے ہیں تو ہم ان کے بارے میں کوئی حتمی نتیجہ نہیں نکال سکتے۔ مثا ل کے طور پرایک جوتشی یا دہریہ ڈاکٹر بیماریوں کا علاج کرے تو آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ کیونکہ وہ دہریہ ہے اس لیے اس کا علاج ٹھیک کام نہیں کرے گا۔ ایک آدمی جو کسی معالج پر یقین رکھتا ہو اگر وہ (معالج) زنا کار ہو یا بد اخلاق ہو پھر بھی جو علاج وہ کر رہا ہے وہ اپنا اثر دکھائے گا۔

بہر حال بسا اوقات ایسے لوگ اپنے مریضوں پر دورانِ علاج کچھ نفسیاتی اثر بھی ڈال دیتے ہیں۔ لوگ اس نفسیاتی اثر کے تابع جذبات سے مغلوب ہو کر ایسی ذہنی کیفیت سے گزرتے ہیں کہ انہیں لگتا ہے کہ وہ ٹھیک ہو گئے ہیں جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا۔ ایسے زیر علاج آدمی عارضی جذبات اور احساسات سے متاثر ہوکر سمجھتے ہیں کہ وہ ٹھیک ہو گئے ہیں اور بہتر محسوس کر رہے ہیں مگر یہ حالت زیادہ دیر تک نہیں رہتی۔ اصل بات یہ ہے کہ کیا ایسا شخص حقیقی طور پر دلی اور اندرونی تسکین اور سکون پاتا ہے یا نہیں۔ افریقہ میں ایسے لوگ ہیں جو صلیب پہنتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں سکون ملتاہے مگر کیاہم یہ دعویٰ درست مان سکتے ہیں؟ ہم ہرگز نہیں مان سکتے کیونکہ یہ شرک کا ایک حصہ ہے یعنی اللہ کے سوا شریک بنانا۔ حقیقت یہ ہے کہ دوسرے لوگ ایسے دعوے کرتے ہیں لیکن اللہ سب سے بہتر جانتا ہے اور یہ ان کا ذاتی معاملہ ہے۔ بہر حال ہم اپنے ذاتی تجربات بیان کرتے رہیں گے۔

عامر سفیر: حضور! ایک سوال یہ پیدا ہو سکتا ہے کہ ہستی باری تعالیٰ کے ثبوت کے طور پر اگر کسی کا کوئی ذاتی تجربہ یا واقعہ ہو تو غیرمسلم اس تجربے کی صحت پر سوال اٹھا سکتے ہیں کیونکہ عین ممکن ہے کہ اس واقعے کا اس کے علاوہ کوئی اور گواہ ہی نہ ہو۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

اگر کوئی شخص جو جماعت میں داخل ہوتا ہے اپنے ذاتی تجربہ کی بنا پر خدا تعالیٰ کو پالے اور خدا اسے شرفِ کلام بخشے تو ایسے لوگ انفرادی طور پر اپنے کردار میں ایک انقلاب محسوس کرتے ہیں۔ ان میں پیدا ہونے والی اخلاقی بہتری اور مثبت تبدیلی کا پھر ان کا خاندان بھی گواہ ہوتا ہے۔ ایک شخص کسی خواب کے ذریعہ یا کسی اَور ذریعہ سے اپنے ذاتی تجربہ کی بنا پر ایک تبدیلی سے گزرتا ہے۔ ایسی ہی ایک مثال ایک ایسے شخص کی ہے جس میں اخلاقی انقلاب پیدا ہوا۔ اس کے باپ نے اس سے کہا کہ تمہارے اندر پیدا ہونے والی تبدیلیوں سے معلوم ہوتا ہے کہ تمہارا مذہب سچا ہے لیکن پھر بھی میں تمہارا مذہب اختیار نہیں کروں گا۔ دراصل ایک قوت ہے جو ان میں تبدیلی پیدا کردیتی ہے۔ یہ صرف ظاہری طور پر نظر آنے والی باتیں نہیںہیں بلکہ یہ تبدیلی انسان کے اندر رونما ہوتی ہے۔

عامر سفیر: حضور! کیا آ پ تعلق باللہ کا اپنا کوئی واقعہ یا قبولیت دعا کا تجربہ بتا سکتے ہیں۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

بچپن سے جب میں بارہ سال یا پندرہ سال کا تھا، میں دعا کرتا تھا اور بسا اوقات میری دعا پندرہ منٹ میں قبول ہوجاتی تھی۔ سکول میں مَیں اپنی تعلیم کے لیے دعا کرتا تھا اور اللہ میری دعائیں سنتا تھا اور میں پاس ہو جایا کرتا تھا۔ میں اپنے ذاتی تجربات بیان کرتے ہوئے اپنی فطرت کی وجہ سے حجاب محسوس کرتا ہوں۔میں عمومی طور پر اپنے خطبات میں ان کی طرف اشارۃً ذکر کر دیتا ہوں مگر واضح اور صاف طور پر نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جو انسان کی نیک خواہشات پوری کرتا ہے اور اسے سچے خواب دکھاتا ہے اور یہ محض اللہ تعالیٰ کے فضل کی بدولت ہی ممکن ہے محض کسی انسان کے تقویٰ کی وجہ سے ایسا نہیں ہو سکتا۔

اَللّٰہُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ

یعنی اللہ زمین و آسمان کا نور ہے۔ میں نے یہ الفاظ اپنی خواب میں دیکھے جو سارے آسمان پر حدِ نظر تک لکھے ہوئے تھے۔ اس نے میرے علم میں اضافہ کیا اور مجھے اللہ کی صفات کے ادراک میں پہلے سے بڑھا دیا۔ اللہ تعالیٰ سب چیزوں کا علم رکھتا ہے۔

میں نے پہلے ذکر کیاہے کہ بسا اوقات میں کسی معاملے کے لیے دعا کرتا ہوں تو مجھے اللہ کی طرف سے اس کا حل مل جاتا ہے، اللہ تعالیٰ مجھے بتادیتا ہے۔

يَنْصُرُكَ رِجَالٌ نُّوْحِيْ إِلَيْهِمْ مِّنَ السَّمَاءِ

تیری مدد ایسے لوگ کریں گے جن پر ہم آسمان سے وحی نازل کریں گے۔

یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک الہام ہے۔ میں نے یہ الفاظ اپنے خواب میں لکھے ہوئے دیکھے تھے اور جب میں بیدار ہو رہا تھا تو یہ الفاظ میری زبان پر جاری تھے۔ یہ سونے اور بیدار ہونے کی درمیانی کیفیت تھی۔ میں نے اس کا یہی مطلب سمجھا کہ اللہ تعالیٰ نہایت غیر معمولی طریقوں سے میری مدد کرے گا۔ خلافت سے پہلے بھی اللہ تعالیٰ نے مجھے ہر قسم کے حالات میں اپنی نصرت سے نوازا لیکن خلافت کے بعد سے تو اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت بے حد و حساب شامل حال ہے۔

میں اس وقت کافی پریشان تھا مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے اس الہام کے الفاظ کا مفہوم سمجھا دیا اور ہمیشہ میرے لیے اسے پورا بھی فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت ہمیشہ میرے شامل حال رہی۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ خود اپنی جناب سے ایسے لوگوں کو میری نصرت کے لئے بھیجے گا جن کے دل میں وہ خود میری نصرت کی لو جلائے گا ۔ اس طریق پر اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت میرے شامل حال رہتی ہے۔

عامر سفیر: حضور! مجھے سورۃ الفاتحہ کے دم کے بارے میں مزید جاننے کا شوق ہے۔ میں نے کچھ لوگوں سے سن رکھا ہے کہ جب وہ آپ سے ملے، آپ نے اپنا ہاتھ ان پر رکھا اور دعا کی اور بعد میں انہوں نے بتایا کہ ان کی تکلیف دور ہوگئی ہے۔ کسی پر پھونک مارنے یا ظاہری طور پر اپنا ہاتھ کسی کے اوپر رکھنے اور دعا کرنے کی کیا حقیقت ہے؟

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

حدیث میں ہے کہ جب آنحضورﷺ کو پتہ چلا کہ آپؐ کے ایک صحابی نے ایک بیمار کا علاج کیاہے تو آپﷺ نے استفسار فرمایا کہ انہوں نے ایسا کیسے کیا۔ اس صحابی نے بتایا کہ انہوں نے سورۃ الفاتحہ کی تلاوت سے ایسا کیا۔ اس پر آنحضورﷺ نے فرمایا کہ انہیں کس طرح پتہ چلا کہ وہ سورۃالفاتحہ سے ایسا کر سکتے ہیں۔جس پر اس صحابی نے عرض کیا کہ چونکہ اس میں شفا ہے اور اسی لیے انہوں نے اسے یعنی سورۃ الفاتحہ کو پڑھ کر اس سے علاج کیا۔ آپﷺ اس بات کو سن کر خوش ہوئے اور فرمایا کہ اس موقعے پر سورۃ الفاتحہ پڑھنا بالکل درست تھا۔

پہلی بات یہ ہے کہ آپ کو پورا یقین ہونا چاہیے کہ جس سے آپ دعا مانگ رہے ہیں یا جس کا خیال آپ کو ہے وہ دعا کا جواب دے سکتا ہے اور اس میں شفا دینے کی طاقت ہے۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نےفرمایا ہے کہ ہستیٔ باری تعالیٰ پر کامل ایمان اور ایقان کا ہونا بنیادی چیز ہے۔ دوسرا یہ کہ انسان میں شرک کی کوئی ملونی نہیں ہونی چاہیے۔ انسان کو خالصتاً یہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ ایسا محض خدا تعالیٰ کے فضل اور احسان کی بدولت ہی ممکن ہے۔

بسا اوقات جب میں ایسا کرتا ہوں تو میرے دل میں خیال آتا ہے کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ’بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے‘۔مزید برآں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی انگوٹھی اس الہام کو مدنظر رکھ کر بنائی گئی ہے کہ اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ۔ یعنی کیا اللہ اپنے بندے کے لیے کافی نہیں ہے۔اس لیے میرا یقین ہے کہ ضرور اس میں برکت رکھی گئی ہے۔ اس لیے بسا اوقات میں دعا کے لیے کہنے والوں پر دعا کرتے ہوئے یہ انگوٹھی بھی مس کرتا ہوں۔بہر حال میں ایسا اس وقت کرتا ہوں جب اللہ میرے دل میں یہ خیال ڈالے یا اگر کوئی بار بار مجھ سے ایسا کرنے کا کہے۔ میں کئی دفعہ ایسا اس لیے کرتاہوں کہ میرے دل میں اللہ کی طرف سے شدت سے ایسا کرنے کا خیال آتا ہے کہ ایسا کرنے میں مضائقہ نہیں۔ میں ایسا ہر ایک کے لیے نہیں کرتا بلکہ ان کے لیے کرتا ہوں جس کے بارے میں اللہ میرے دل میں خیال ڈالتا ہے۔

جس طرح ہمارے پاس ظاہری بیماریوں کا علاج ہے اسی طرح یہ روحانی بیماریوں کا علاج ہے۔ مگر ضروری نہیں کہ ہر دفعہ یہ سو فیصد ہی کارگر ثابت ہو کیونکہ یہ علاج اللہ تعالیٰ کی مرضی اور رضا سے حاصل ہوتاہے، جب اللہ چاہتا ہے۔ عمومی دعائیں اور التجائیں تو ہوتی ہی ہیں مگر یہاں خاص بات تبرک کی ہے۔ یہ الہام اللہ تعالیٰ کےقرآنی الفاظ پر مشتمل ہے اور پھر یہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو بھی ہوا۔ حقیقت یہی ہے کہ جب اللہ کافی ہے تو پھر وہ اپنے فضل ظاہر کرنے پر بھی قادر ہے۔

میں نے کئی دفعہ لوگوں کو معجزاتی طور پر بیماریوں سے شفایاب ہوتے دیکھا ہے۔ بسا اوقات مجھے ان کی شفا کی اس قدر امید بھی نہیں ہوتی مگر جب لوگ دوبارہ ملتے ہیں تو بتاتے ہیں کہ انہیں شفا مل گئی تھی اور یہ ہوتا بھی اسی لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسا چاہتا تھا۔بہر حال میں پیروں یا فقیروں کی طرح نہیں ہوں (جو نام نہاد مذہبی پیر، روحانی عامل اور راہنما ہوتے ہیں)۔ جو اس طرح کے کام پیشہ کے طور پر کرتے ہیں اور اپنے پاس آنے والے ہر آدمی کے ساتھ ایسے عمل کو دہراتے ہیں۔

عامر سفیر:حضور! خدا سے دعا مانگنی ہو تو جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ اگر تمہیں رونا نہیں بھی آرہا تو ایسی شکل بناؤ گویا کہ تم رو رہے ہو ۔ اس کے متعلق میں مزید جاننا چاہتا ہوں۔ کیا حضور اس بارے میں مزید تفصیل بیان فرما سکتے ہیں کہ اس کا اصل مطلب کیاہے اور اس کو کیسے حاصل کیا جا سکتا ہے؟

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

یہ اس لیے ہے کہ ہماری ظاہری حالت ہماری باطنی اور روحانی حالت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ جب ہم اس طرح کی شکل بناتے ہیں یا عاجزی کا اظہار ہوتا ہے تو ہم اس لیے کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہماری عاجزی کو دیکھے اور پھر یہ بات ایک اثر رکھتی ہے۔ مثال کے طور پر بعض اوقات کوئی شخص ظاہری طور پر غصہ کا اظہار کرتا ہے اور پھر واقعی غصہ میں آجاتا ہے۔ میرے بچپن کے ابتدائی ایام میں ایسا ہوا کہ مذاق مذاق میں مَیں نے ایسا اظہار کیاکہ جیسے میں غصہ میں ہوں۔ میرے دوست کو خیال ہواکہ شاید میں واقعی غصہ میں ہوں اور اس نے ایسا جواب دیا یا حرکت کی کہ مجھے واقعی غصہ آگیا۔ یوں اپنے بچپن میںمَیں نے ایسے تجربات سے اور ایسے واقعات سے ان باتوں کا خود تجربہ کیا ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ تمہاری ظاہری حالتوں کا تمہاری روح پر ایک اثر ہوتا ہے۔ اگر تم ظاہری طور پر رونا چاہو گے اور ایسی شکل بناؤ گے تو ممکن ہے کہ تمہارے آنسو بہ پڑیں اور جب تم آنسو بہاؤ تو تمہارے اندر ایک تکلیف کی کیفیت پیداہوگی اور تم اصل میں رونے لگو گے تو پھر یہ کیفیت تمہاری توجہ دعا کی طرف مبذول کروائے گی۔

ایک لطیفہ بھی ہے کہ ہمارے ایک مبلغ مرزا لطف الرحمٰن صاحب حج کے لیے گئے۔ وہ مسجد نبوی میں بیٹھے ہوئے تھے اور رونے کی پوری کوشش کر رہے تھے مگر ایسا کر نہیں پا رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ جب وہ سجدے سے اٹھ رہے تھے تو لوگوں کا ایک ہجوم آیا اور کسی نے زور سے ان کی کمر پر لات ماری اور ان کی زور دار چیخ نکل گئی۔ انہوں نے کہاکہ وہ بےاختیار درد کی وجہ سے رونے لگے اور پھر سجدہ میں گر گئے اور یوں اس حالت میں خدا سے دعا مانگنے لگے۔ تو ان کا کہنا تھا کہ بسا اوقات کمر میں ایک لات کا پڑنا بھی انسان میں دعا کی کیفیت پیدا کرسکتا ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ انسان کی ظاہری کیفیت کا اس کی روح پر اثر ہوتا ہے اور روح کا اثر اس کے ظاہر پر ہوتا ہے۔ اگر آپ اپنے خیالات کو آلودہ اور پراگندہ رکھیں گے تو یہ آپ کی ظاہری حالت اور کیفیت کو متاثر کریں گے اور اگر ظاہری طور پر آپ دعا کی طرف توجہ کریں گے تاکہ تقویٰ حاصل ہو تو آہستہ آہستہ آپ کی روح میں بھی پاکیزگی آجائے گی۔

عامر سفیر: حضور! آپ نے جو تفصیل بیان فرمائی ہے ، اس پر میرے ذہن میں سوال پیدا ہوا ہے کہ فجر کے وقت یا اس سے کچھ پہلے اٹھتے ہوئے عام طور پر ہم ڈھیلے ڈھالے لباس میں ہوتے ہیں یا سونے والے کپڑے پہنے ہوئے ہوتے ہیں۔ میں نے سنا ہے کہ نماز ادا کرتے وقت مناسب کپڑے پہنے ہوئے ہوں تو بہتر ہوتا ہے؟

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

ظاہری طور پر اسی وجہ سے ہم وضو کرتے ہیں تاکہ اپنے آپ کو پاک کریں، پوری طرح ہوش میں آجائیں اور پاک صاف ہو کر نماز کی تیاری کریں۔ بہر حال اگر کسی کے لیے مناسب لباس اختیار کرنا ممکن نہ ہو تو اس کے لیے وضو کرکے نماز کی تیاری کرنا ہی کافی ہے۔ عمومی طور پر کسی کو بھی نائٹ سوٹ پہن کر نماز نہیں پڑھنی چاہیے بلکہ صاف ستھرا ہو کر اور مناسب لباس پہن کر تہجد ادا کرنی چاہیے کیونکہ ظاہری پاکیزگی کا اندرونی پاکیزگی پر اثر پڑتا ہے۔ جب کوئی کسی دنیاوی اثرو رسوخ والے شخص کے پاس ملاقات کی غرض سے جاتا ہے تو وہ صاف ستھرا اور بہترین لباس پہن کر جاتا ہے۔ اسی طرح خدا کے دربار میں حاضر ہوتے ہوئے بھی آپ کو مناسب لباس اور پاکیزگی کا خیال رکھنا چاہیے۔

عامر سفیر: حضور! کہا جاتا ہے کہ سجدے میں ذاتی نوعیت کی دعائیں کرنے کی اجازت ہے اور یہ ایسی حالت ہے جب انسان خدا کے سب سے زیادہ قریب ہے۔ دعا کی ترتیب کے حوالے سے کئی آراء ہیں یعنی جس ترتیب سے ہمیں سجدہ میں دعا کرنی چاہیے۔ جیسے کوئی اپنے لیے سب سے پہلے دعا کرے یا کسی اَور چیزکے لیے دعا کرے پھر اپنے لیے؟ حضور! ذاتی دعاؤں کی کیا ترتیب ہونی چاہیے، بالخصوص حالت سجدہ میں؟

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

یہ ہر شخص کی اپنی کیفیت ہے اور جن حالات سے وہ گزر رہاہے یا جس معاملہ میں وہ مستغرق ہے۔ فطرتی طو رپر آپ ایسے مسئلہ پر روئیں گے یا زیادہ جذباتی ہوجائیں گے جو آپ کے لیے اہمیت کاحامل ہے، اسی طرح آپ ایسے معاملہ کے لیے دعا کریں گے۔

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ آپؑ اپنے اور اللہ تعالیٰ کے تعلق کی مضبوطی کے لیے دعا کرتے تھے اور پھر جماعتی ترقی اور پھر اپنے خاندان کے لیے اور دوست احباب کے لیے۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے ایک ترتیب تو بیان فرمادی ہے۔ ہر شخص کی الگ کیفیت ہوتی ہے بعض ایسے معاملات ہوتےہیں جو کسی شخص کو زیادہ جذباتی کر دیتے ہیں۔ ایک شخص ممکن ہے کہ کسی سخت مسئلے سے دوچار ہو تو وہ ایسے معاملات کے لیے دعا سے آغاز کرسکتا ہے تاکہ اسے نماز کی درست کیفیت میسر آجائے۔ اس کا کوئی معین اصول نہیں ہے لیکن ہر کسی کو ایسے معاملات کے لیے دعا کرنی چاہیے جن سے دعا کی اصل کیفیت پیدا ہو جائے اور جو آپ کے لیے زیادہ جذباتی ہوں۔

آپ کو سب سے پہلے استغفار کرنا چاہیے پھر جب آپ اللہ تعالیٰ کے فضلوں پر نظر کریں جو اس نے آپ پر فرمائےہیں اور جب آپ اپنی حالت کو دیکھیں اور کمزوریوں کو تو یہی چیز آپ کو جذبات سے بھر دے گی اور جذباتی کیفیت پیدا کردے گی۔

عامر سفیر: حضور! آج کل ہم میں سے اکثر لوگ نمازیں گھروںمیں اپنے گھر والوں کے ساتھ ادا کر رہے ہیں۔ بسا اوقات ایسا ہوتاہے کہ میں نماز پڑھ رہاہوں اور میرے دونوں بچے میرے پاس آکر کھیلنے لگتے ہیں اور شور مچانے لگتےہیں۔ حضور ! کیا ایسا آپ کے اور آپ کے پوتوں یا نواسے، نواسیوں کے ساتھ بھی ہوتاہے اور اگر ایسا ہوتا ہے تو ایسی صورتحال میں بچوں سے کس طرح پیش آیا جائے؟

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

جب میں گھر میں نماز پڑھ رہا ہوتا ہوں تو بہت شاذ ہی وہ میرے پاس آتے ہیں۔ شاذ و نادر ہی کبھی میرا کوئی پوتا آتا ہو گا۔ میرے نماز پڑھنے کے وقت وہ بالعموم نہیں آتے۔ اگر وہ آجائیں تو پھر ہاں ، وہ شرارتیں کرتے ہیں میرے اردگرد کھیلتے ہیں تو میں ان کا ہاتھ پکڑ کر انہیں اپنے ساتھ کھڑا کر لیتاہوں تاکہ وہ میرے ساتھ نماز ادا کریں یا اشارے سے انہیں ایسا کرنے کا کہتا ہوں۔ پھر وہ میرے ساتھ نماز ادا کرتے ہیں لیکن جب میری نماز لمبی ہوجائے تو وہ جلد ہی تھک جاتے ہیں اور بالآخر نماز چھوڑ جاتے ہیں اور کبھی کبھار وہ خود میرے ساتھ نماز پڑھنے لگتے ہیں اور پھر چلے جاتے ہیں۔ یہ میرے چھوٹے پوتوں کا حال ہے۔ میرے بڑی عمر کے پوتے یا نواسے ، نواسیاں کسی قسم کی پریشانی کا باعث نہیں بنتے کیونکہ وہ خود نماز پڑھنے کے عادی ہیں۔

آنحضورﷺ کے دور میں آپؐ کے نواسے آتے اور آپﷺ کی کمر پر بیٹھ جاتے۔ حضرت امام حسین ؓ ایک دفعہ تشریف لائے اور آپﷺ کی کمر پر بیٹھ گئے تو آپﷺ نے سجد ہ لمبا کردیا۔ تو جب نماز ختم ہوئی تو صحابہ نے اس قدر طویل سجدہ کی وجہ پوچھنا چاہی تو آپﷺ نے فرمایا میرا نواسہ میری کمر پر بیٹھ گیا تھا تو میں نے خیال کیا کہ جب وہ اترے تو پھر میں سجدہ سے اٹھوں چنانچہ آپﷺ نے ایسا ہی کیا۔ یوں آپﷺ نے اپنے نواسے کی وجہ سے اپنی نماز لمبی کردی جو آپﷺ کی کمر پر بیٹھ گیا تھا۔ یہ بات ہمیں سکھاتی ہے کہ بچوں کو ڈانٹنا نہیں چاہیے بلکہ پیار سے انہیں سمجھانا چاہیے۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوجائیں تو انہیں بتائیں کہ انہیں آپ کے ساتھ نماز پڑھنی چاہیے جب بھی وہ ایسے وقت میں آئیں۔

عامر سفیر: حضور! آپ کی خدمت میں پوری دنیا سے دعائیہ خطوط موصول ہوتے ہیں۔ مجھے ہمیشہ تعجب ہوتاہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ہر ایک کے لیے (انفرادی طور پر)خدا سے دعا کی جائے کیونکہ ایسے خطوط کی تعداد بہت زیادہ ہوتی ہے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

جب بھی مجھے کوئی دعائیہ خط موصول ہوتا ہے تو میں اسی وقت اس کے لیے دعا کرتا ہوں جب میں وہ خط پڑھ رہاہوتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کو اپنے فضلوں اور رحمتوں سے نوازے۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے بھی فرمایا ہے کہ جب بھی آپ کو ایسے دعائیہ خطوط ملتے تھے تو آپ ایک ایک کرکے خط پڑھتے جاتے اور ساتھ ساتھ دعا کرتے جاتے تھے۔

پھر جب میں سجدہ کرتاہوں تو میں لوگوں کے لیے دعا کرتا ہوں اور کئی ایسی باتوں کے بارے میں سوچتا ہوں جن کے لیے بہت بڑی تعداد میں لوگوں نے اپنے خطوط میں مجھے دعا کے لیے کہا ہوتا ہے۔ کچھ لوگ بیمار ہوتے ہیں، کچھ کے مالی مسائل ہوتے ہیں، پھر میاں بیوی کے مسائل ہوتے ہیں اور دیگر مسائل جن کا لوگوں کو سامنا ہے اور میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان سب مسائل کو حل کرے اور ان لوگوں کی مشکلات دور کرے۔ میں ان لوگوں کے لیے بھی دعا کرتا ہوں جو مجھے خط نہیں لکھتے اور پوری جماعت کے لیے بھی دعا کرتاہوں۔ اپنے سجدوں ، نوافل اور تہجد میںمَیں سب لوگوں کے لیے دعا کرتا ہوں۔ رات کو سونے سے پہلے جب میں قل یا آیت الکرسی پڑھتا ہوں اور پھونکتا ہوں تو میں اللہ سے دنیا بھر کے احمدیوں کے لیے دعا کرتا ہوں کہ اللہ ان پر فضل فرمائے اور ان پر رحم کرے۔ بالکل ویسے ہی جس طرح والدین سونے سے پہلے اپنے بچوں پر دعائیں پڑھ کر پھونکتے ہیں۔ جب میں سونے سے پہلے یہ دعائیں پڑھتا ہوں تو ساری جماعت پر پھونکتا ہوں جو میرے بچوں کی طرح ہیں۔

عامر سفیر: حضور ! ہم کہتے ہیں کہ صرف خد اکی عبادت کرنی چاہیے اور کسی کو اس کا شریک نہیںٹھہرانا چاہیے۔ کچھ عورتیں سوال کرتی ہیں کہ حدیث میں آیا ہے کہ آپﷺ نے فرمایا ہے کہ اگر آپﷺ کسی اَور کو سجدہ کرنے کا حکم دے سکتے تو آپؐ بیوی کو کہتے کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔ حضور ، اس پر روشنی ڈالیں۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

پہلی بات یہ ہے کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ حدیث ضعیف ہے اور بعض کا خیال ہے کہ یہ صحیح ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ اگر ہم اس حدیث کو درست خیال کریں تو اس حدیث کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔ ایک اچھا شوہر ایسی چیز ہے جس پر بیوی ہمیشہ شکر گزار ہوتی ہے۔ یہاں سجدہ کرنے سے مراد شکر کرناہے نہ کہ عملاً سجدہ کرنا۔ اس کا مطلب ہے کامل اطاعت کرنا۔ جب فرشتوں کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کریں تو تفسیر ہمیں بتاتی ہے کہ اس سے مراد حقیقی سجدہ نہ تھا بلکہ اس کا مطلب کامل اطاعت اور فرمانبرداری تھا۔ پس ہر بیوی کو اپنے شوہر کی کامل اطاعت کرنی چاہیے۔ ہمارے والدین جنہوں نے ہمیں پالا اور ہماری نگہداشت کی ، اُن کو بھی قرآن کریم میں رب کہا گیاہے۔ حدیث سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے۔ پس سجدہ سے یہاں مراد یہ ہے کہ اگر کوئی شوہر اچھا ہے تو تمہیں اس کی کامل اطاعت کرنی چاہیے۔ کامل اطاعت سے یہ نتیجہ نہیں اخذ کرنا چاہیے کہ خاوند چاہے زیادتی کرنے والا اور لڑنے والا ہو عورت کو اس کی بھی کامل اطاعت کرنی ہو گی کیونکہ اسلام میں عورتوں کے بہت حقوق رکھے گئے ہیں۔

پھر ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ آنحضورﷺ بسا اوقات لوگوں کی راہ نمائی ان کے مخصوص حالات کے مطابق فرمایا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ ایک آدمی آپﷺ کے پاس آیا اور پوچھا کہ سب سے بڑا جہاد کیاہے؟ آپﷺ نے فرمایا جہاد بالسیف۔ یہ اس وجہ سے تھا کہ سوال کرنے والا بزدل تھا اور جنگ میں شامل ہونے سے خائف تھا تو اس کے لیے یہ سب سے بڑی خوبی کی بات تھی۔ جب ایک اَ ور شخص نے آپﷺ سے پوچھا کہ سب سے اچھا عمل کون سا ہے تو آپﷺ نے فرمایا سب سے بڑی نیکی اس کے لیے مالی قربانی ہے کیونکہ وہ شخص صدقہ و خیرات میں سست تھا۔ ایک تیسرے شخص سے آپﷺ نے فرمایا کہ ماں باپ کی خدمت سب سے بڑی نیکی ہے کیونکہ وہ آدمی اپنے والدین کی خدمت صحیح طریق سے نہیں کر رہاتھا۔ ایک چوتھے آدمی کو آپﷺ نے فرمایا کہ اپنے اہل و عیال سے اچھے طریق سے پیش آئے کیونکہ وہ اپنے اہل و عیال سے اچھا سلوک نہیں کرتا تھا۔

تو ہم بالعموم ان سب حدیثوں کو اکٹھا کردیتے ہیں اور ہم ان سب کے سیاق و سباق کا خیال نہیں رکھ سکتے جب تک علماء ان کی تفصیل نہ بیان کریں یا احادیث کی شرح نہ پڑھ لیں۔ لوگ احادیث کو عمومی رنگ میں دیکھتے ہیں مگر ان میں اکثر اوقات خاص حالات کے مطابق اور خاص سیاق و سباق میں ایک معین راہ نمائی ہوتی ہے۔

عامر سفیر: حضور! پہلے جہاں گھر امن کی جگہ تھے اب خاندانوں کو گھروں کے اندر انٹرنیٹ اور ٹی وی کی بد اخلاقیوں کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے اور یوں برائی کی طرف مائل کرنے والے بہکاوے گھروں میں اور گھروں سے باہر ہر جگہ موجود ہیں۔ معاشرے میں ایسی بہت سی بہکانے والی چیزوں کی موجودگی کے پیش نظر حضور کی کیا نصیحت ہے کہ خدا سے تعلق پیدا کر لینے کے بعد اسے کیسے برقرار رکھا جائے؟

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

ہمیں کثرت سے استغفار اور لا حول پڑھنا چاہیے۔ اگر استغفار صحیح طور پر کیاجائے تو یہ بہت طاقتور ہو سکتا ہے۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ خود کو گناہ سے بچانے کے لیے اور نیکی کی حالت برقرار رکھنے کے لیے کثرت سے استغفار کرنا چاہیے۔ انبیاء اپنی قوم اور اپنے پیروکاروں کے لیے استغفار کیا کرتے تھے نہ کہ اپنے لیے اور وہ استغفار اس لیے بھی کرتے تھے تاکہ ماضی میں جو ان کو گناہوں سے بچنے کی توفیق ملی اس پر شکر ادا کر سکیں۔ یوں ماضی کے گناہوں کو مٹانے کےلیے اور مستقبل میں گناہوں سے بچنے کے لیے شکر گزاری کی خاطر ہر کسی کو استغفار کو اپنانا چاہیے۔

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

For security, use of Google's reCAPTCHA service is required which is subject to the Google Privacy Policy and Terms of Use.

I agree to these terms.

Back to top button
Close