متفرق مضامین

قادیان میں برقی ریل کے انجن کی آمد ایک نیا سنگ میل

بھارت کے معروف اردو اخبار’’ ہند سماچار‘‘ کے چندی گڑھ سے طبع ہونے والے ایڈیشن کے مورخہ 26؍مارچ 2021ء کے شمارے کے صفحہ 5 پر ایک خبر پڑھنے کو ملی۔جس کا عنوان تھا:

’’قادیان میں پہنچا پہلی بار بجلی کا انجن‘‘

اس دلچسپ اور ایمان افروز خبر کی تفصیل یوں ہے:

’’قادیان25مارچ…قادیان میں آج تاریخی دن ہے جہاں آج پہلی بار بجلی کا انجن پہنچا۔بٹالہ سے قادیان کے درمیان کئی مہینوں سے بجلی لائن کے چل رہے کام کے مکمل ہونے کے بعد آج اس ریل لائن پر بجلی کے انجن کا کامیاب ٹرائل کیا گیا۔

یہ ٹرائل ریلوے سرکشا کمشنر سلیش کمار پاٹھک سی سی آرایس کی دیکھ ریکھ میں ہوا۔اس موقع پر کثیر تعداد میں ریلوے کے افسران موجود تھے۔

قادیان ریلوے سٹیشن ماسٹرپروین یادو نے بتایا کہ امرتسر، بٹالہ، قادیان کے درمیان بجلی کرن کیا جا رہا ہے۔اسی کے مد نظر آج قادیان میں ریلوے کے سینئر افسران کی ٹیم پہنچی اور بجلی لائن کا ٹرائل کیاہے۔

آج ایک پوری ٹرین ٹرائل کیلئے افسران کو لیکر قادیان پہنچی تھی۔قریب اڑھائی بجے یہ ٹرین بٹالہ کیلئے روانہ ہوئی۔آج کا یہ ٹرائل کامیاب رہا۔امید کی جا رہی ہے کہ کووڈ19سے کچھ راحت کے بعد ماہ اپریل کے بعد جب بھی قادیان کیلئےٹرین چلے گی ڈیزل کی جگہ بجلی کی ٹرین چلا کرے گی۔اس ٹرائل کو دیکھنے کیلئے کثیر تعداد میں شہر واسی بھی پہنچے ہوئے تھے۔‘‘

اس مختصر خبر سے ذہن حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ السلام کے14؍اپریل 1905ء کے ایک رؤیاکی طرف چلا گیا جس میں آپ علیہ السلام کوایک یہ منظر بھی دکھایا گیا کہ

’’میں قادیان کے بازار میں ہوں۔اور ایک گاڑی پر سوار ہوں۔جیسے کہ ریل گاڑی ہوتی ہے…‘‘

(تذکرہ صفحہ 453،ایڈیشن 2004ء)

قادیان میں ریل گاڑی کے پہنچنے کی نسبت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی ایک مشہور پیشگوئی ہے۔ کئی صحابہ نے اسے خود حضورؑ کی زبانِ مبارک سے سنا تھا حتیٰ کہ انہیں حضورؑ نے یہ بھی بتا دیا تھا کہ قادیان کی ریلوے لائن نواں پنڈ اور بسراواں کی طرف سے ہوکر پہنچے گی۔چنانچہ روایات صحابہ میں ایسی شہادتیں موجود ہیں جیسا کہ تذکرہ کے صفحہ 667 پر رجسٹر روایات سے ماخوذ چند روایات کا انتخاب درج ہے کہ

(ا)’’غالباً 1902ء کا واقعہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام صبح سیر کیلئے تشریف لے گئے…جب ہم اس گاؤں کے بیچ میں پہنچے جو نواں پنڈ کے نام سے مشہور ہے…خلیفہ رجب الدین صاحب نے (مجھے کہا)…کہ حضرت صاحب نے اس مقام پر جہاں سے کہ ریلوے لائن گذرے گی، اپنے سوٹا سے نشان کردیا ہے۔چنانچہ کئی سالوں کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے مسیح موعود علیہ السلام کی زبان مبارک سے نکلی ہوئی باتوں کو پورا کیا۔‘‘

(رجسٹر روایات صحابہ جلد 4 صفحہ177)

(ب) ’’آپؑ فرماتے تھے کہ یہاں ریل بھی آئے گی۔‘‘

(رجسٹر روایات صحابہ جلد 5 صفحہ 81 روایت شاہ محمد صاحبؓ سکنہ قادیان رجسٹر روایات صحابہ جلد 6 صفحہ7 روایت نتھو صاحب سکنہ قادیان)

(ج) (بٹالہ والی سڑک کے خراب اور تکلیف دہ ہونے کی شکایت پر) حضرت صاحبؑ نے فرمایا کہ

’’گھبراؤ نہیں۔کوئی دن وہ ہوگا جب یہاںگاڑی آجائے گی۔‘‘

(رجسٹر روایات صحابہ جلد 10صفحہ212 روایت سردار بیگم صاحبہؓ زوجہ چوہدری محمد حسین صاحب تلونڈی عنایت خاں)

ان پیش خبریوں کی عظمت اوران کے غیرمعمولی ناموافق حالات میں پورے ہونے کا اندازہ کرنے کے لیے تحقیق کریں تو ملتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جس وقت خدا سے حکم پاکر دعویٰ ماموریت فرمایا تھا اس وقت قادیان ایک بہت چھوٹا سا گمنام گاؤں تھا ۔قادیان کی آبادی دو ہزار نفوس سے زیادہ نہ ہوگی۔اس کے اکثر گھر ویران نظر آتے تھے۔اور ضروری استعمال کی معمولی معمولی چیزوں کی خرید کے لیے بھی باہر جانا پڑتا تھا۔اسی طرح اس وقت قادیان کی بستی تار اور ریل وغیرہ سے بھی محروم گویا دنیا سے بالکل منقطع حالت میں پڑی تھی۔قادیان کو مغربی جانب 12 میل دور واقع بٹالے کا ریلوے سٹیشن لگتا تھا۔ اس کے اور قادیان کے درمیان ایک ٹوٹی پھوٹی کچی سڑک تھی۔ جس پر نہ صرف پیدل چلنے والے تھک کر چُور ہو جاتے تھے بلکہ یکےّ میں سفر کرنے والوں کو بھی بہت تکلیف اٹھانا پڑتی تھی۔ان راستوں پر برسات کے دنوں میں سیلابی صورت حال ، سواری کے وسائل کی کمیابی، راستوں کی خراب حالت اور دیگر مشکلات کی نقشہ کشی اور تفصیل تو خود خداوند عالم نے اپنے الہا م میں ’’فج عمیق‘‘کہہ کر فرمادی تھی۔بٹالہ سے قادیان تک سڑک کی تعمیر تو کجا اس خراب حالت راستے کی مرمت کا بھی سامان نہ ہوتا تھا۔

قادیان تک ریل گاڑی کے پہنچنے کی تاریخ بھی بہت ہی دلچسپ اور ایمان افروز ہے۔اور معلوم ہوتا ہے کہ گویا ایک خاص تقدیر کے تحت سب مراحل مکمل ہوتے گئے اور 19؍دسمبر 1928ء کو پہلی ٹرین قادیان کے ریلوے سٹیشن پر پہنچی، اس دن قادیان سے بکثرت احمدی احباب اس پیشگوئی کی تکمیل کے عینی شاہد بننے امرتسر سٹیشن پر پہنچ گئے، جہاں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ بھی اپنے خدام کے ساتھ رونق افروز تھے تا قادیان کے لیے پہلی گاڑی چلنے اور اس کے افتتاح کے موقع پر اس خدائے قدوس کے آگے دست دعا بلند کریں جس نے محض اپنے فضل و کرم سے موجودہ زمانہ کی اس ایجاد کو جس کی جانب سابقہ پیش گوئیوں میں خرِ دجال کہہ کر اشارہ کیا گیا تھا،اس کو خدام مسیح موعود علیہ السلام کے آرام و سہولت کے لیے مسخر کرکے دارالامان تک پہنچا دیا۔

اس موقع پر گاڑی کو درج ذیل عبارتوں کے بڑے بڑے سرخ رنگ کے بینرز سے سجایا گیا تھا:

٭…اَلَاۤ اِنَّ رَوْحَ اللّٰہِ قَرِیْبٌ۔اَلَاۤ اِنَّ نَصۡرَ اللّٰہِ قَرِیۡبٌ۔ یَاْتُوْنَ مِنْ کُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍ۔ یَاْتِیْکَ مِنْ کُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍ

٭…وَ اِذَا الۡعِشَارُ عُطِّلَتۡ وَ اِذَا النُّفُوۡسُ زُوِّجَتۡ

یہ میرے رب سے میرے لیے اک گواہ ہے

یہ میرے صدق دعویٰ پر مہر الٰہ ہے

وغیرہ وغیرہ

الغرض یہ خصوصی قافلہ اپنے وقت مقررہ پر امرتسرسے چلا۔ اور راستے میں مزید لوگ ٹرین پر سوار ہوتے چلے گئے۔ بٹالہ اور وڈالہ گرنتھیاں سے بھی لوگ جوں توں کر کے سوار ہوئے جہاں ارد گرد کے بہت سے احمدی مرد و زن جمع تھے۔آخر گاڑی نے اپنے مقررہ وقت 3 بج کر 42 منٹ پر حرکت کی اور ساتھ ہی اللّٰہ اکبرکا نہایت بلند اور پُر زور نعرہ بلند ہوا جو گاڑی کے ریلوے یارڈ سے نکلنے تک برابر بلند ہوتا رہا۔ گاڑی دیکھنے کے لیے آدمیوں کے گذرنے کے پل پر بڑا ہجوم تھا۔اللہ اکبر اور’’غلام احمد کی جے‘‘کے نعرے راستہ کے ہر گاؤں اور اسٹیشن پر بلند ہوتے آئے۔ اگرچہ گاڑی امرتسر ہی سے بالکل پُر ہوگئی تھی اور ہر ایک درجہ میں بہت کثرت سے آدمی بیٹھے تھے۔ لیکن بٹالہ اسٹیشن پر تو ایسا اژدہام ہوگیا تھا کہ بہت لوگ گاڑی میں بیٹھ نہ سکے اور بہت سے بمشکل پائدانوں پر کھڑے ہو سکے۔ قادیان سے پہلے اسٹیشن وڈالہ گرنتھیاں پر بھی جہاں اردگرد کے بہت سے احمدی مرد و عورتیں جمع تھیں چند ہی اصحاب بدقت بیٹھ سکے۔ آخر گاڑی اپنے وقت پر 6بجے شام کو قادیان کے پلیٹ فارم پر پہنچی۔ یہاں بھی قرب و جوار کے بہت سے دوستوں کا ہجوم تھا۔ اسٹیشن جھنڈیوں اور گملوں سے خوب آراستہ تھا۔ فضا بہت دیر تک اللہ اکبر اور ’’غلام احمد کی جے‘‘کے پرجوش نعروں سے خوب گونجتی رہی۔ کچھ عجیب ہی شان نظر آ رہی تھی۔ گذشتہ سال انہی ایام میں کسی کو وہم و گمان بھی نہ تھا کہ اس مقام پر اتنی رونق اور ایسی چہل پہل ہو سکتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے قلیل ہی عرصہ میں ایسے سامان پیدا کر دیے کہ بالکل نیا نقشہ آنکھوں کے سامنے آگیا۔ فالحمد للہ علیٰ ذالک۔

گاڑی کی سواریاں

حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ اور حضور کے اہل بیت کے علاوہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیراحمد صاحبؓ، حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحبؓ اور خاندان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے کئی نونہال بھی اس گاڑی میں تشریف لائے تھے۔ اور حضرت نواب محمد عبداللہ خان صاحبؓ، حضرت مولانا مولوی سید محمد سرور شاہ صاحبؓ، حضرت مولانا مولوی شیر علی صاحبؓ، حضرت عرفانی کبیر شیخ یعقوب علی صاحبؓ ایڈیٹر الحکم، حضرت مولوی میر قاسم علی صاحب ایڈیٹر ’’فاروق‘‘، حضرت مولوی عبدالمغنی خان صاحب ناظر بیت المال، حضرت مولوی عبدالرحیم صاحب دردؓ اور کئی اَور مقامی بزرگوں کو بھی اس گاڑی میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓکی معیت کا شرف حاصل ہوا۔

پھلوں کی تقسیم

حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کی خدمت میں امرت سر کے اسٹیشن پر کئی اصحاب نے پھلوں کی ٹوکریاں پیش کیںجو حضور نے ساری کی ساری رستہ میں گاڑیوں میں تقسیم کرادیں۔

عام امور

اس پہلی گاڑی کے گارڈ کا نام بابو ولی محمد صاحب اور ڈرائیور کا نام بابو عمر دین صاحب تھا۔ گاڑی امرت سر سے بٹالہ تک 25میل فی گھنٹہ کی رفتار سے اور بٹالہ تا قادیان 15میل فی گھنٹہ کی رفتار سے آئی جس میں پانچ بوگیاں، تین سنگل گاڑیاں اور دو بریک وین تھیں۔ انجن Class T۔ S اور 709 نمبر کا تھا۔اس پہلی گاڑی کو جو امرت سر سے قادیان جانی تھی دیکھنے اور اس میں سفر کرنے کے لیے دور ترین فاصلہ سے جو پہلے ٹکٹ خریدے گئے وہ مکرم شیخ احمد اللہ صاحب ہیڈ کلرک کنٹونمنٹ بورڈ نوشہرہ اور ان کی ہمشیرزادی زبیدہ خاتون صاحبہ کے نوشہرہ چھاؤنی سے قادیان تک کے تھے۔ یہ گاڑی رات کو ساڑھے6 بجے امرت سر چلی گئی جس میں بٹالہ، امرت سر اور لاہور کے بہت سے اصحاب واپس ہوگئے۔

اس موقع پر معاند احمدیت مولوی ثناء اللہ امرتسری نے ایک مخالفانہ اشتہار شائع کرکے امرتسر کے سٹیشن پر تقسیم کروایاتھا۔نیز اسی موقع پر حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ صاحبؓ نے بھی ایک چار صفحات کا نہایت عمدہ ٹریکٹ تیار کرکے امرت سر سٹیشن پر تقسیم کروایا۔جبکہ ایک اَور احمدی بھائی نے پنجابی زبان میں بھی منظوم ٹریکٹ تیار کرکے تقسیم کیاتھا۔

لیکن یاد رہے کہ ان غیبی خبروں کے پورا ہونے کا بظاہر کوئی سامان نظر نہیں آتا تھا بلکہ حکومت کی بے اعتنائی کا تو یہ عالم تھا کہ ریلوے لائن بچھوانے کا تو کیا ذکر صرف اتنی بات کی منظوری کے لیے کہ قادیان سے بٹالہ تک سڑک پختہ کر دی جائے اور اس کے لیے سالہا سال کوشش بھی جاری رکھی گئی تھی حکام وقت نے عملاً انکار کر دیا تھا بحالیکہ دوسرے راستے اور سڑکیں آئے دن درست ہوتی رہتی تھیں لیکن اگر آخر تک بھی نوبت نہ آئی تو اس چھوٹے سے ٹکڑے کی جو بٹالہ اور قادیان کے درمیان تھا۔ تب معروضی حالات ایسے تھے کہ ہرگز امید نہ تھی کہ قادیان تک ریلوے لائن اس قدر جلد بچھ جائے گی اور ٹرین پہنچ جائے گی۔ لیکن خدا نے ایسا تصرف فرمایا کہ جماعتی کوشش کے بغیر اچانک سامنے آیا کہ ریلوے بورڈ کے پاس بٹالہ سے دریائے بیاس کے درمیان ایک ریلوے لائن زیر تجویز ہے۔ مگر پھر پتہ چلا کہ محکمہ ریل کے متعلقہ ذمہ دار افسران کے نزدیک یہ ریلوے منصوبہ شاید 1930ءتک بھی مکمل نہیں ہوسکتا ۔ مگر چونکہ خدا کی مشیت میں اب وقت آچکا تھاکہ قادیان کا مرکز احمدیت ریل کے ذریعہ پورے ملک سے ملا دیا جائے اس لیے ریلوے بورڈ نے 1927ء کے آخر میں قادیان بوٹاری ریلوے کی منظوری دے دی اور شروع 1928ء میں محکمہ اطلاعات حکومت پنجاب کی طرف سے سرکاری طور پر یہ اعلان کر دیا گیا کہ ریلوے بورڈ نے نارتھ ویسٹرن ریلوے کے زیر انتظام پانچ فٹ چھ انچ پٹڑی کی بٹالہ سے بوٹاری تک 42میل لمبی ریلوے لائن بنانے کی منظوری دے دی ہے۔ اس منصوبہ کا نام بٹالہ بوٹاری ریلوے ہوگا ساتھ ہی گورنمنٹ گزٹ میں اعلان ہوا کہ سروے ہو چکا ہے اور لائن بچھانے کا کام جلد شروع ہونے والا ہے۔

چنانچہ عملاً یہ کام نہایت تیزی سے جاری ہوگیا اور شب و روز کی زبردست کوشش کے بعد بالآخر 14؍ نومبر 1928ء کو ریل کی پٹڑی قادیان کی حد میں پہنچ گئی۔ اس دن سکولوں اور دفتروں میں تعطیل عام کر دی گئی اور لوگ جوق در جوق ریلوے لائن دیکھنے کے لیے جاتے رہے۔

حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے ارشاد فرمایا کہ نئے راستے کھلنے پر کئی قسم کی مکروہات کا بھی خدشہ ہوتا ہے۔اس لیے ساری جماعت اور مرکز سلسلہ کے لیے ریل کے مفید اور بابرکت ہونے کے لیے دعائیں کرنی چاہئیں اور صدقہ دینا چاہئے۔ چنانچہ قادیان کی تمام مساجد میں دعائیں کی گئیں اور غرباء و مساکین میں صدقہ تقسیم کیا گیا۔ 16؍ نومبر 1928ء کو ریلوے لائن قادیان کے سٹیشن تک عین اس وقت پہنچی جبکہ جمعہ کی نماز ہو رہی تھی۔نماز کے بعد مرد ،عورتیں اور بچے اسٹیشن پر جمع ہونے شروع ہوگئے اور قریباً دو اڑھائی ہزار کا مجمع ہوگیا۔ ریلوے کے مزدوروں اور ملازمین کے کام ختم کرنے پر ان میں مٹھائی تقسیم کی گئی جس کا انتظام مقامی چندہ سے کیا گیا تھا۔

اب صرف اسٹیشن کی تعمیر اور ریلوے لائن کی تکمیل کا کام باقی تھا۔ (الفضل 30؍ نومبر 1928ء) جو دن رات ایک کر کے مکمل کر دیا گیا۔قادیان کے سب سے پہلے اسٹیشن ماسٹر بابو فقیر علی صاحب مقرر ہوئے۔(الفضل 11؍دسمبر 1928ء)اور اسٹیشن کا نام ’’قادیان مغلاں‘‘تجویز کیا گیا۔پہلے بتایا جاچکا ہے کہ لائن کے بوٹاری تک جانے کا فیصلہ ہوا تھا مگر ابھی لائن قادیان کی حدود تک نہیں پہنچی تھی کہ ریلوے حکام نے قادیان سے آگے لائن بچھانے کا فیصلہ ملتوی کر دیا۔اور نہ صرف اگلے حصہ کی تعمیر رک گئی(الفضل 2؍ نومبر 1928ء)بلکہ آگے بچھی ہوئی ریلوے لائن اکھاڑ بھی دی گئی۔ اور جو اراضی اس کے لیے مختلف مالکوں سے خریدی گئی تھیں وہ اخیر میں نیلام عام کے ذریعہ فروخت کر دی گئی۔

ان حالات سے ظاہر ہے کہ یہ لائن خالص خدائی تصرف کے تحت محض قادیان کے لیے تیار ہوئی۔ منشی محمد دین صاحب سابق مختار عام (والد ماجد شیخ مبارک احمد صاحب مبلغ سلسلہ) کا بیان ہے کہ جب ریلوے لائن بچھ گئی تو متعلقہ یورپین ریلوے افسر کی پرتکلف دعوت حضرت نواب محمد علی خاں صاحب کی کوٹھی میں کی گئی۔ سروے کا عملہ بھی شامل تھا۔ اور جماعت کے کئی معززین بھی شامل تھے۔اس موقع پر اس یورپین افسر نے یہ بات ظاہر کی کہ میرے اندر کوئی ایسی طاقت پیدا ہوگئی تھی جو مجھے چین نہیں لینے دیتی تھی۔ اور یہی تحریک ہوتی تھی کہ جلد لائن مکمل ہو۔

تاریخ احمدیت کی جلد پنجم میں خلافت ثانیہ کے پندرھویں سال کے واقعات کے اندراج میں قادیان دارالامان تک ٹرین پہنچنے کے دوران خدا کے خاص سلوک اور دیگر ایمان افروز واقعات کا ریکارڈ درج کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی تصنیف تحفہ گولڑویہ میں اسلام کے غلبہ اور اس کی کامل اشاعت کے مشن کی راہ میں میسر آنے والی سہولتوں کا ذکر فرمایا ہے اور بتایا کہ تکمیل اشاعت کے لیے اقوام عالم کے باہمی تعلقات میں ایسی سواریاں میسر آگئی ہیں کہ جن سے بڑھ کر سہولت سواری کی ممکن نہیں۔اور مزید فرمایا کہ

’’سو اس وقت حسب منطوق آیت

وَ اٰخَرِیۡنَ مِنۡہُمۡ لَمَّا یَلۡحَقُوۡا بِہِمۡ (الجمعہ:4)

اور نیز حسب منطوق آیت

قُلۡ یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنِّیۡ رَسُوۡلُ اللّٰہِ اِلَیۡکُمۡ جَمِیۡعًا(الاعراف:159)

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دوسرے بعث کی ضرورت ہوئی اور ان تمام خادموں نے جو ریل اور تار اور اگن بوٹ اور مطابع اور احسن انتظام ڈاک اور باہمی زبانوں کا علم اور خاص کر ملک ہند میں اردو نے جو ہندوؤں اور مسلمانوں میں ایک زبان مشترک ہو گئی تھی آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بزبان حال درخواست کی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم تمام خدام حاضر ہیں اور فرض اشاعت پورا کرنے کیلئے بدل وجان سرگرم ہیں۔آپ تشریف لائیے اور اس اپنے فرض کو پورا کیجیئے کیونکہ آپ کا دعویٰ ہے کہ میں تمام کافہ ناس کیلئے آیا ہوں اور اب یہ وہ وقت ہے کہ آپ اُن تمام قوموں کو جو زمین پر رہتی ہیں قرآنی تبلیغ کر سکتے ہیں اور اشاعت کو کمال تک پہنچا سکتے ہیں اور اتمام حجت کے لئے تمام لوگوں میں دلائل حقانیت قرآن پھیلا سکتے ہیں تب آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی روحانیت نے جواب دیا کہ دیکھو میں بروز کے طور پر آتا ہوں۔مگر میں ملک ہند میں آؤں گا۔ کیونکہ جوش مذاہب و اجتماع جمیع ادیان اور مقابلہ جمیع ملل ونحل اور امن اور آزادی اسی جگہ ہے…‘‘

(تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد 17صفحہ262تا263)

٭…٭…٭

تصویر:

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

For security, use of Google's reCAPTCHA service is required which is subject to the Google Privacy Policy and Terms of Use.

I agree to these terms.

Back to top button
Close