متفرق

فرشتوں کااجرامِ فلکی ور انسانوں پر اثڑ ڈالنااور جسمانی طور پر زمین پر اترنے کے بارے میں رہ نمائی

سوال:ایک خاتون نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصنیف ’’توضیح مرام ‘‘کے حوالے سے فرشتوں کے چاند، سورج اور ستاروں پر اثر ڈالنے، ان اجسام کے انسانوں پر اثر ڈالنے، اور فرشتوں کے جسمانی طور پر زمین پر اترنے کے بارے میں حضور انور سے رہ نمائی چاہی ہے۔ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ 22؍جولائی 2019ء میں اس کا درج ذیل جواب عطا فرمایا۔ حضور نے فرمایا:

جواب:حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی اس تصنیف لطیف میں فرشتوں کے کواکب پراثر انداز ہونے، سورج، چاند، ستاروں کے ہماری زمین کے نباتات و جمادات اور حیوانات پر اثر ڈالنےاور فرشتوں کے انسانوں پر روحانی اثرات ہونے کے مضامین کو نہایت لطیف انداز میں بیان فرمایا ہے۔

چنانچہ فرشتوں کے سورج، چاند، ستاروں پر اثر انداز ہونے کے آپ کے بیان کردہ مضمون کا خلاصہ یہ ہے کہ ملائکہ ان کواکب پر خدا تعالیٰ کے اذن کے تحت مدبر و منظم ہیں اور ان اجرام فلکی پر ان کی تاثیرات بالذات نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے اذن اور حکم سے ہوتی ہیں۔ حضور علیہ السلام فرماتے ہیں :

’’اشارات قرآنیہ سے نہایت صفائی سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض وہ نفوس طیبہ جو ملائک سے موسوم ہیں ان کے تعلقات طبقات سماویہ سے الگ الگ ہیں۔ بعض اپنی تاثیرات خاصہ سے ہوا کے چلانے والے اور بعض مینہ کے برسانے والے اور بعض بعض اور تاثیرات کو زمین پر اتارنے والے ہیں۔‘‘

پھرحضور علیہ السلام نے ایک مضمون یہ بیان فرمایا ہے کہ ان اجرام فلکی یعنی سورج، چاند اور ستاروں کا ہماری زمین کے نباتات، جمادات اور حیوانات پر دن رات اثر پڑتا رہتا ہے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ چاند کی روشنی سے پھل موٹے ہوتے، سورج کی گرمی اور تپش سے پھل پکتے اور میٹھے ہوتے اور بعض ہوائیں بکثرت پھل لانے کا موجب ہوتی ہیں۔

اس ضمن میں ایک مضمون حضور علیہ السلام نے یہ بھی بیان فرمایا ہے کہ جس طرح فرشتے خدا تعالیٰ کے حکم سے اجرام فلکی پر اپنی تاثیرات ڈالتے اور اجرام فلکی کا ہماری زمین کی ظاہری چیزوں پر اثر ہوتا ہے اسی طرح ملائکہ خدا تعالیٰ کے حکم سے ہمارے دل و دماغ پر اپنا روحانی اثر بھی ڈالتے ہیں۔ چنانچہ آپؑ فرماتے ہیں :

’’درحقیقت یہ عجیب مخلوقات اپنے اپنے مقام میں مستقر اور قرار گیر ہے اور بہ حکمت کاملہ خداوند تعالیٰ زمین کی ہر یک مستعد چیز کو اس کے کمال مطلوب تک پہنچانے کیلئے یہ روحانیات خدمت میں لگی ہوئی ہیں۔ ظاہری خدمات بھی بجا لاتے ہیں اور باطنی بھی۔ جیسے ہمارے اجسام اور ہماری تمام ظاہری قوتوں پر آفتاب اور ماہتاب اور دیگر سیاروں کا اثر ہے ایسا ہی ہمارے دل اور دماغ اور ہماری تمام روحانی قوتوں پر یہ سب ملائک ہماری مختلف استعدادوں کے موافق اپنا اپنا اثر ڈال رہے ہیں۔‘‘

جہاں تک فرشتوں کے زمین پر اترنے اور انسانوں سے میل جول کرنے کا سوال ہے تو اس بارہ میں یاد رکھنا چاہیے کہ قرآن کریم، احادیث نبویہﷺ اور ارشادات حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے یہ بات ثابت شدہ ہے کہ فرشتوں کا زمین پر نزول ان کے اصلی وجود کے ساتھ ہر گز نہیں ہوتا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ملائکہ انسانوں کی شکل میں متمثل ہو کر اس کے نیک بندوں سےمیل جول کرتے ہیں۔ چنانچہ قرآن کریم اور احادیث میں ایسے کئی واقعات کا ذکر موجود ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس مضمون کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

’’یہی نفوس نورانیہ کامل بندوں پر بشکل جسمانی متشکل ہو کر ظاہر ہو جاتے ہیں اور بشری صورت سے متمثل ہو کر دکھائی دیتے ہیں۔‘‘

(توضیح مرام، روحانی خزائن جلد3صفحہ 68تا 72)

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button