حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

مسیح اور مہدی ایک ہی وجود کے دو نام ہیں مسیح موعود دینی لڑائیوں کو موقوف کر دے گا

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں :

مسیح اور مہدی ایک ہی وجود کے دو نام ہیں

مسیح موعود دینی لڑائیوں کو موقوف کر دے گا

پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے مزید وضاحت فرمائی۔ فرمایا کہ

’’حدیث لَامَہْدِیَّ اِلَّاعِیْسٰی جو ابن ماجہ کی کتاب میںجو اسی نام سے مشہور ہے اور حاکم کی کتاب مستدرک میں انس بن مالک سے روایت کی گئی ہے اور یہ روایت محمدبن خالد الجہنی نے ابان بن صالح سے اور ابان بن صالح نے حضرت حسن بصری سے اور حسن بصری نے انس بن مالک سے اور انس بن مالک نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی ہے اور اس حدیث کے معنے یہ ہیں کہ بجز اس شخص کے جو عیسیٰ کی خُو اور طبیعت اور طریق پر آئے گا اور کوئی بھی مہدی نہیں آئے گا۔ یعنی وہی مسیح موعود ہو گا اور وہی مہدی ہو گا جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی خو اور طبیعت پر طریق تعلیم پر آئے گا۔ یعنی بدی کا مقابلہ نہ کرے گا اور نہ لڑے گا۔ اور پاک نمونہ اور آسمانی نشانوں سے ہدایت کو پھیلائے گا ۔اور اسی حدیث کی تائید میں وہ حدیث ہے جو امام بخاری نے صحیح بخاری میں لکھی ہے جس کے لفظ یہ ہیں کہ

یَضَعُ الْحَرْبَ۔

یعنی وہ مہدی جس کا دوسرا نام مسیح موعود ہے دینی لڑائیوں کو قطعاً موقوف کر دے گا۔ اور اس کی یہ ہدایت ہو گی کہ دین کے لئے لڑائی مت کرو بلکہ دین کو بذریعہ سچائی کے نوروں اور اخلاقی معجزات اور خدا کے قرب کے نشانوں سے پھیلائو۔ سو مَیں سچ سچ، کہتا ہوں کہ جو شخص اس وقت دین کے لئے لڑائی کرتا ہے یا کسی لڑنے والے کی تائید کرتا ہے یا ظاہر یا پوشیدہ طور پر ایسا مشورہ دیتا ہے یا دل میں ایسی آرزوئیں رکھتا ہے وہ خدا اور رسول کا نافرمان ہے‘‘۔ یعنی اگر مسلمان دین کے نام پر لڑائی کریں تو’’ ان کی وصیتوں اور حدود اور فرائض سے باہر چلا گیا ہے‘‘۔

(حقیقۃ المہدی۔روحانی خزائن جلد14صفحہ 429-432)

اب دیکھ لیں آجکل مسلمانوں کے حالات اس کی تائید کر رہے ہیں ۔اگر یہ جنگیں اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہوتیں تو اللہ تعالیٰ نے تو فرمایا ہے کہ

وَکَانَ حَقًا عَلَیْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ

اور مومنوں کی مدد کرنا ہم پر فرض ٹھہرتا ہے۔ پس جب اللہ تعالیٰ کی تائید نہیں مل رہی تو سوچنا چاہئے۔ اگر جنگیں لڑنے کا زیادہ ہی شوق ہے تو پھر اسلام کے نام پر تو نہ لڑی جائیں۔

اس زمانے میں مسلمانوں کا دوسری قوموں سے شکست کھانا یہ بھی اس بات کی خداتعالیٰ کی طرف سے فعلی شہادت ہے کہ جو مسیح آنے کو تھا وہ آ گیا ہے۔ اور یَضَعُ الْحَرْب کے تحت دینی جنگوں کا جو حکم ہے یہ موقوف ہو چکا ہے۔ ہاں اگر جہاد کرنا ہے تودلائل سے کرو، براہین سے کرو۔ اب مسلمانوں کی اسلام کے نام پر لڑی جانے والی جنگوں کے نتائج تو جیسا کہ مَیں نے کہا

اللہ تعالیٰ کی فعلی شہادت کے مطابق مسلمانوں کے خلاف ہیں اور ہر آنکھ رکھنے والے کو نظر آ رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا تو وعدہ ہے کہ میں مومن کی مدد کرتا ہوں اگر مومن ہو تو۔ تو دو ہی باتیں ہیں یا یہ کہ یہ مسلمان مومن نہیں ہیں۔ یا یہ جنگوں کا وقت غلط ہے اور زمانہ ختم ہو چکا ہے۔ لیکن یاد رکھیں ان لوگوں میں یہ دونوں باتیں ہی ہیں۔ کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بات نہ مان کر پھر مومن تو نہیں رہ رسکتے۔ اور مسیح اورمہدی کے دعوے کے بعد، اس کی بات نہ مان کراللہ تعالیٰ کی مدد کے حقدار نہیں ٹھہرسکتے۔ پس اس زمانے میں مسیح و مہدی کا جودعویٰ کرنے والا ہے وہ یقیناً سچا ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا حلفیہ بیان کہ آپ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں

پھر آپؑ نے اپنی اس سچائی کے لئے بہت بڑا دعویٰ کیا ہے، ایسا دعویٰ کیا ہے جو کوئی جھوٹا نہیں کر سکتا۔ آپؑ فرماتے ہیں کہ

’’مَیں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اسی نے مجھے بھیجا ہے اور اسی نے میرا نام نبی رکھا ہے اور اسی نے مجھے مسیح موعود کے نام سے پکارا ہے اور اسی نے میری تصدیق کے لئے بڑے بڑے نشان ظاہر کئے ہیں جو تین لاکھ تک پہنچتے ہیں جن میں سے بطور نمونہ کسی قدر اس کتاب میں بھی لکھے گئے ہیں ‘‘۔ ( تتمہ حقیقۃ الوحی کا یہ حوالہ ہے )۔

فرمایا کہ’’ اگر اس کے معجزانہ افعال اور کھلے کھلے نشان جو ہزاروں تک پہنچ گئے ہیں میرے صدق پر گواہی نہ دیتے تو مَیں ا س کے مکالمہ کو کسی پر ظاہر نہ کرتا اور نہ یقینا ًکہہ سکتا کہ یہ اس کا کلام ہے۔ پر اس نے اپنے اقوال کی تائید میں وہ افعال دکھائے جنہوں نے اس کا چہرہ دکھانے کے لئے ایک صاف اورروشن آئینہ کا کام کر دیا‘‘۔

(تتمہ حقیقۃالوحی۔ روحانی خزائن جلد 22صفحہ503)

جواللہ تعالیٰ کے نام کا دعویٰ کرتا ہے اگر اس کا دعویٰ سچا نہ ہو تو اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کیا سلوک کرتا ہے۔ خود ہی دیکھ لیں اللہ جھوٹے نبی کے متعلق فرماتا ہے

وَلَوْتَقَوَّلَ عَلَیْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِیْلِ۔ لَاَخَذْنَا مِنْہُ بِالْیَمِیْنِ(الحاقۃ:45-46)

اور اگر وہ بعض باتیں جھوٹے طور پر ہماری طرف منسوب کرتا تو ہم اس کو ضرور داہنے ہاتھ سے پکڑ لیتے اور پھر فرمایا

ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْہُ الْوَتِیْنَ(الحاقۃ:47)

پھر ہم یقیناً اس کی رگ جان کاٹ دیتے۔

اب کوئی بتائے کہ کیا اس دعوے کے بعد جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے کیا کہ مَیں نبی ہوں اور مجھے تمام تائیدات حاصل ہیں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی رگ جان کاٹی ہے یا اس وعدے کے مطابق کہ

وَکَانَ حَقًّا عَلَیْنَا نَصْرُالْمُؤْمِنِیْنَ(الروم:48)

اور ہم نے مومنوں کی مدد کرنا اپنے پر فرض ٹھہرا لیا ہے، مدد کی ہے اور جماعت کی مدد کرتا چلا جا رہا ہے۔ ایک آواز جو ایک چھوٹی سی بستی سے اٹھی تھی آج پوری شان کے ساتھ دنیا کے کونے کونے میں پھیلی ہوئی ہے۔ آج 181 ممالک میں جماعت احمدیہ قائم ہے۔ آج حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ماننے والے یورپ میں بھی، امریکہ میں بھی اور افریقہ کے دور دراز جنگلوں میں بھی اور تپتے ہوئے صحرائوں میں بھی اور جزائر میں بھی موجود ہیں۔ تو کیا یہ تمام تائیدات الٰہی آپؑ کی صداقت پر یقین کرنے کے لئے کافی نہیں ہیں۔ اگر یہ شخص جھوٹا ہوتا تو پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے قانون کے مطابق اس کی پکڑ کیوں نہیں کی۔ کیوں اپنی طرف الہامات منسوب کرنے کی وجہ سے اسے تباہ و برباد نہ کر دیا۔ پس سوچنے کا مقام ہے۔ سوچواور عقل سے کام لو۔ مسلمانوں کو مَیں یہ کہتا ہوں، کیوں اپنی دنیا و آخرت خراب کر رہے ہو۔ ایک جھوٹے کا حال تو یہ ہے کہ پچھلے دنوں پاکستان میں کسی نے مہدی ہونے کا دعویٰ کیا تو تھوڑی سی آپس میں فائرنگ کے بعد انہوں نے اس کو گرفتار کر لیا اور اب جیل میں ڈالا ہوا ہے۔ تو یہ انجام تو فوراً ان کے سامنے آ گیا۔ اس سے پہلے بھی کئی ہو چکے ہیں۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حق میں آسمانی شہادت

بہرحال، پھر آپؑ کی صداقت کی ایک آسمانی شہادت بھی ہے جس کا پہلے بھی مَیں نے ذکر کیا تھا۔ یعنی چاند اور سورج کا گرہن لگنا۔ یہ ایک ایسا نشان ہے جس میں کسی انسانی کوشش کا عمل دخل نہیں ہو سکتا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آج سے 1400 سال پہلے جس طرح معین رنگ میں پیشگوئی کی تھی اور ہمیں بتایا تھااس طرح معین طور پر اس زمانے میں بھی جبکہ سائنس نے ترقی کر لی ہے اتنے رستے بلکہ قریب کے رستے کی بھی پیشگوئی نہیں کی جا سکتی کہ رمضان کا مہینہ ہو گا فلاں تاریخ کو سورج کو گرہن لگے گا اورفلاں تاریخ کو چاند کو گرہن لگے گا۔ حدیث میں آتا ہے۔

’’اِنَّ لِمَھْدِیِّنَا اٰیَتَیْنِ لَمْ تَکُوْنَا مُنْذُ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۔ یَنْکَسِفُ الْقَمَرُ لِاَوَّلِ لَیْلَۃٍ مِّنْ رَمَضَانَ وَتَنْکَسِفُ الشَّمْسُ فِی النِّصْفِ مِنْہُ‘‘(دارقطنی صفحہ188)

یعنی ہمارے مہدی کی صداقت کے لئے دو ہی نشان ہیں اور یہ صداقت کے دونوں نشان کسی کے لئے جب سے دنیا بنی ہے کبھی ظاہر نہیں ہوئے۔ رمضان میں چاند گرہن کی راتوں میں سے پہلی رات چاند کو اور سورج گرہن کے دنوں میں سے درمیانے دن سورج کو گرہن لگے گا۔

چنانچہ یہ گرہن 1894ء میں لگا اور 15-14-13 تاریخوں میں سے 13تاریخ کو رمضان کے مہینے میں چاند کو گرہن لگا۔ 29-28-27 تاریخوں میں سے 28تاریخ کو رمضان میں سورج کو گرہن لگا۔ یہ آپ کی صداقت کی بڑی واضح دلیل ہے۔

(باقی آئندہ)

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

For security, use of Google's reCAPTCHA service is required which is subject to the Google Privacy Policy and Terms of Use.

I agree to these terms.

Back to top button
Close