متفرق مضامین

قرآن کریم کی صبح درخشاں۔ حق کا سورج۔ انقلاب کا آفتاب (قسط اوّل)

(عبد السمیع خان۔ گھانا)

مضامین قرآن۔ لفظی اور معنوی حفاظت کا معجزہ۔ ترتیب۔ 23 سال میں نزول۔ اعراب و نقاط کا جائزہ

صدیوں کی لمبی اور گہری تاریک رات صبح درخشاں میں ڈھل گئی مگر حیف ہے کہ اس دنیائے رنگ و بو کے انسانوں کی اکثریت آج بھی اس شمس روحانی سے بے خبر یا اس کی عظمتوں سے نابلد ہے۔ جب انسانیت کلیةً اندھیروں میں ڈوب چکی تھی۔ ہر خشکی اور تری فساد کا شکار ہوگئی تھی۔ سب جزیرے غرق ہو چکے تھے۔ تب آسمان سے وہ سرمدی پیغام اترا جس نے نور کی ابدی شمعیں روشن کر دیں۔ خوشحالی کے نئے در وا کیے۔ خوشی و انبساط کی کھڑکیاں کھولیں۔ بنی نوع انسان کی نگاہیں بلند کیں آسمان کی طرف چڑھنا سکھایا۔ جنتوں کی راہ دکھائی۔ درندوں اور بھیڑیوں سے بچنے کے گر بتائے۔ وحشیوں کو انسان، انسانوں کو باخدا اور باخدالوگوں کو خدا نما بنا دیاجن کی آخری معراج سیدنا محمد مصطفیٰﷺ ہیں۔

قرآن محبتوں کی کتاب ہے۔ عقیدتوں کا نصاب ہے۔ پیاسی روحوں کے لیے زندگی کا آب ہے۔ سچائیوں سے معمور اس کا ہر ایک باب ہے۔ وعدوں کے مطابق ہر نبی کی قوم جس کی منتظر تھی وہ یہی دُرِّ نایاب ہے۔ اسی سے دکھوں کا سمندر پایاب ہے۔ اسی سے کافر جل کر کباب اور شیطان کا خانہ خراب ہے۔ اسی سے وقت کا ہر ابو جہل اور فرعون غرقاب ہے۔ منکروں اور اس کے درمیان حائل حجاب ہے۔ اسی لیے ان کی نظر میں شَیۡءٌ عُجَابہے مگر اہل حق کے لیے اس کا عشق سرمایہ حیات ہے اور اس پر غور کرنے والے اولوالالباب ہیں مگر بہت کمیاب ہیں۔

قرآن وہ حبل اللہ ہے جس نے تمام خطوں کی سعید روحوں کو متحد کردیا۔ نفرتوں کے الاؤ بجھا دیے۔ امیوں کی وحشت دور ہوگئی اور محبت کے زمزم بہنے لگے۔ یہ قرآن کریم ہی ہے جس نے قانون اخلاق، قانون شریعت اور قانون تمدن اور سب علوم کائنات کو تکمیل کے آخری نقطہ تک پہنچا دیا۔ یہ رحمتوں کا سندیسہ ہے۔ شفقتوں کا گلدستہ ہے۔ امن و آشتی کا علمبردار ہے۔ تمام ابدی صداقتوں کاجامع ہے۔ ماضی کا مرقع، حال کا نگہبان اور مستقبل کی نوید ہے۔ یہ روح کی بالیدگی کا سامان ہے۔ انسان کی ذہنی اور روحانی صحت کا ضامن ہے۔ تمام صلاحیتوں کو جلابخشتا ہے۔ قرا ٓن کا خدا کہتا ہے کہ اس کے فضائل لکھنے بیٹھیں تو تمام درخت قلمیں بن کر ختم ہو جائیں اور تمام سمندر روشنائی بن کر خشک ہو جائیں مگر یہ بحرِبیکراں اسی طرح رواں دواں رہے گا۔ اگرچہ اور سمندر بھی انڈیل دیے جائیں۔

قُلۡ لَّوۡ کَانَ الۡبَحۡرُ مِدَادًا لِّکَلِمٰتِ رَبِّیۡ لَنَفِدَ الۡبَحۡرُ قَبۡلَ اَنۡ تَنۡفَدَ کَلِمٰتُ رَبِّیۡ وَ لَوۡ جِئۡنَا بِمِثۡلِہٖ مَدَدًا۔ (الکہف:110)

پھر فرمایا :

وَ اِنۡ مِّنۡ شَیۡءٍ اِلَّا عِنۡدَنَا خَزَآئِنُہٗ ۫وَ مَا نُنَزِّلُہٗۤ اِلَّا بِقَدَرٍ مَّعۡلُوۡمٍ(الحجر:22)

یعنی اور کوئی چیز ایسی نہیں جس کے (غیر محدود) خزانے ہمارے پاس نہ ہوں۔ لیکن ہم اسے ایک معین اندازے سے ہی اتارا کرتے ہیں۔

قرآن کے خزانے

قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلالت اور اس کی ذات و صفات کی قدوسیت سے معطر آب زلال ہے وہ یہ بھی بتاتا ہے کہ اللہ تمام صفات حسنہ کا مجموعہ ہے صفات الٰہیہ کے ظہور کا طریق اور باہمی تعلق کیا ہے وہ انسان کے لیے اللہ کی جسمانی اور روحانی نعمتوں کا بار بار ذکر کر کے اس کی حمد و شکر بجا لانے اور اس سے سچے ربط کی تلقین کرتا ہے۔ قرآن میں جو صفات الٰہیہ اسم فاعل وغیرہ کے صیغے میں ہیں وہ 169ہیں جو مستقل افعال ہیں وہ اس کے علاوہ ہیں۔

قرآن انسانی پیدائش کی غرض و غایت کا سرمدی پیغام ہے۔ وہ اس کے بلند ترین مقصود کو پانے کے تمام وسائل کے لیے راہ ہدایت ہے اور یہ بھی بتاتا ہے کہ کون کون سی روکیں اس راہ میں حائل ہیں اور ان پر کیسے قابو پانا ہے۔قرآن عظیم اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والے انبیاء، مامورین اور منذرین کی تاریخ کا سب سے سچا باب ہے۔ وہ یہ بھی بیان کرتا ہے کہ انسانوں نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا، کیوں کیا اور پھر خدا کی سنت کیسے جاری ہوئی۔ قرآن تمام نبیوں کی عصمت کا عام اعلان کرتا ہے۔

قرآن حکیم صحف سابقہ کی ابدی سچائیوں اور حقائق کا زمزم ہے

فِيْهَا كُتُبٌ قَيِّمَةٌ (البینہ : 4) وَإِنَّهُ لَفِي زُبُرِ الْأَوَّلِيْنَ (الشعرا٫: 197)

وہ غنچے تھے تو یہ گل بلکہ گلستان ہے۔ قرآن بتاتا ہے کہ وہ کیسے انسانی دستبرد کا شکار ہوئے اور ان کی کون کون سی باتیں قابل تقلید ہیں۔

قرآن آدمؑ کو ملائکہ کا سجدہ ہے۔ نوحؑ کی تبلیغی کارروائیاں ہیں۔ ہودؑ، صالحؑ اور شعیبؑ کی تعلیمات ہیں۔ یہ ابراہیمؑ کے صحیفے اور محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے لیے دردمندانہ دعائیں ہیں۔ یہ یعقوبؑ اور یوسفؑ کی سوانح ہے۔ یہ یونسؑ کی مناجات ہیں۔ یہ موسیٰؑ کی الواح اور توریت ہے۔ یہ داؤدؑ کی زبور ہے سلیمانؑ کی غزل الغزلات ہے۔یحیٰ کے لیے زکریاؑ کی دعاہے مسیحؑ کی انجیل ہے۔ مریم کی پاکیزگی ہے۔ اصحاب کہف کی قربانیاں ہیں۔ لقمان کی نصائح ہیں۔ ذوالقرنین کی فتوحات ہیں مومنوں کی دعائیں ہیں۔ کرشن کی گیتا ہےدنیا بھر کے عوام کے لیے خدا کا پیغام ہے۔

قرآن مجید سلسلہ انبیاء کی معراج حضرت اقدس محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر مبارک کا حوض کوثر ہے۔ رسول اللہﷺ کا مقام، آپ کی ذاتی اور اجتماعی زندگی، آپ کا کردار، اخلاق، آپ کی سنت کا تفصیلی تعارف کروا کے آپ کی پیروی کی تلقین اور اس کے ثمرات بیان کرتاہے۔

یہ دلآویز بیان پیدائش رسولؐ کے سال کعبہ پر ابرہہ کے حملے اور اس کی نامرادی سے شروع ہوتا ہے جس کا ذکر سورۃ الفیل میں ہے۔ سورۃالضحیٰ میں آپ کی یتیمی، عیال داری اور خدا کی محبت میں سرگرداں ہونے کا ذکر ہے(الضحیٰ 7تا 9) سورۂ یونس اور سورۂ قلم میں آپ کی پاکیزہ زندگی اور خلق عظیم کا نشان ہے (یونس :17۔ قلم : 5)۔ سورۃ العلق میں قرآن کی ابتدائی آیات ہیں ( علق: 2تا 6)۔ سورۃ القیامہ اور سورۃ الحجر میں قرآن کی حفاظت اور کتاب بننے کی پیشنگوئی ہے (القیامہ:17تا 20۔ الحجر:10)۔ سورۃ المزمل اور سورۃ المدثر میں آپؐ کی حضرت موسیٰؑ سے مشابہت،تبلیغ،عبادت مخالفت اور صبر کا ذکر ہے۔ سورۃ الانفال اورسورۂ توبہ میں آپ کی ہجرت اور جہاد بالسیف کا ذکر ہے (الانفال : 6تا 9)سورۃ الحج میں جہاد کے مقاصد کا بیان ہے۔سورۃ النجم اور بنی اسرائیل میں آپ کی سیر روحانی، سیر زمانی اور سیر لامکانی کا ذکر ہے (النجم 9تا12۔ بنی اسرائیل:2)۔ سورۃ الاحزاب میں آپ کو اسوۂ حسنہ کہہ کر اور خاتم النبیین کا لقب دے کر آپ کی کثیر روحانی اولاد کا ذکر ہے (الاحزاب:22۔41)۔

کئی مقامات پر دشمن کے اعتراضات اور ان کے جواب ہیں۔ کئی جگہ مومنوں کی قربانیوں اور ان کی اعلیٰ صفات کا ذکر ہے۔ کئی جگہ دشمن کے بد انجام کا ذکر ہے۔ سورۃ النساء میں آپ کی اتباع کے اعلیٰ ترین انعامات کا تذکرہ ہے (النسا٫: 70)۔ سورۃ النور میں آپ کو اللہ تعالیٰ کے نور کا مظہر اتم قرار دے کر آپ کی امت میں ابدی خلافت کا ذکرہے(النور:36و56)قرآن میں آپ کے بیسیوں القابات، صفات، افضال خداوندی، ذمہ داریوں اور دعاؤں کا بھرپور تذکرہ ہے۔ ان تمام قرآنی علوم کا خلاصہ سورۂ الفاتحہ میں ہے جو اُمُّ الکتاب ہے اور قرآن عظیم بھی۔

قرآن کریم عقائد حقہ اور اعمال صالحہ کا چشمہ معرفت ہے۔ تلاوت کے ساتھ حکمت بھی بیان کرتاہے ۔حقوق اللہ اور حقوق العباد کا مجموعہ انوار ہے۔ عبادات، معاملات اور خصومات میں قول فیصل ہے۔ قرآن نیکیوں اور بدیوں کے بیان میں خضر رہ طریقت ہے۔ نیکوں اور بدوں کے کردار کی ڈائری ہے۔ کوئی زندگی کا پہلو ایسا نہیں جس کے متعلق قرآن میں رہ نمائی نہ ہو اور رسول اللہﷺ کا نمونہ موجود نہ ہو۔

کلام اللہ یہ راز حقیقت بھی آشکار کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر قوم اور ہر خطے میں نبی بھیجے ہیں۔ قرآن نبیوں کی صداقت کے دلائل اور ان کو پہچاننے کے اصول بھی بیان کرتا ہے اس طرح قرآن ہر نبی کو اپنی صداقت میں حصہ دار بناتا ہے اور ہر قوم کو محبت کے ساتھ اپنی طرف کھینچتا ہے۔

کلام اللہ اپنی اخلاقی تعلیم میں یکتا ہے۔ وہ اخلاق جو مدھم سروں میں موجود تھے قرآن نے بلند آہنگی سے ان کے نغمات بلند کیے۔ انسان کا انسان سے تعلق ہو، یا خدا سے، یا اپنی ذات سے، ہر سلسلے کو معراج تک پہنچا دیتا ہے جس کا نمونہ وہ رسول اللہﷺ کو قرار دیتا ہے۔

قرآن کریم مخلوق کے تمام طبقات کے حقوق کا آب حیات ہے خواہ وہ جمادات ہوں، پودے ہوں، حیوانات ہوں، خواہ درندے، چرندے اور پرندے ہوں، خاص طور پر مظلوم طبقات جن میں عورتیں اور غلام اور ماتحت، یتامیٰ، مساکین اور مسافر شامل ہیں۔ وہ مومنوں کے باہمی تعلقات کا ذکر کرکے جنت نظیر معاشرے کا قیام کرتا ہے۔ لڑائی ہو جائے تو صلح اور آشتی کی تلقین اور طریق بیان کرتا ہے۔ ظلم و تعدی سے ہر حال میں روکتا ہے۔

قرآن کریم تاریخ کی کتاب نہیں مگر سب سے سچا مورخ ہے۔ وہ سائنس کی کتاب نہیں مگر سائنسی صداقتوں کی دُوربین ہے۔ وہ نفسیات کی کتاب نہیں مگر فطرت کا سب سے بڑا نباض ہے۔ وہ آثار قدیمہ کی کتاب نہیں مگر ماضی کا سب سے بڑا آئینہ ہے۔ وہ تمام دینی اور دنیاوی علوم کا منبع اور ماخذ ہے۔ وہ دنیا کی دولت نہیں مگر کوئی دنیاوی اور روحانی دولت اس لعل بےبہا سے بڑھ کر نہیں۔ وہ جواہرات کی تھیلی ہے وہ بظاہر خاموش ہے مگر دنیا میں سب سے زیادہ گونجنے والی آواز اسی کی ہے۔ یہی سب سے زیادہ پڑھی اور لکھی جانے والی کتاب ہے جیساکہ قرآن کے نام میں پیشگوئی تھی۔

قرآن عربی مبین ہے۔ زبان و ادب کا شاہکارہے۔ عربی لغت کا معیارہے۔ اس کی عبارت بہار جاوداں ہے۔ اس میں نغمگی اور ترنم ہے۔ وہ شاعری نہیں مگر اوزان سے خالی بھی نہیں۔ ساحر ی نہیں مگر مسحور کن لطافت ہے۔ اس کی تلاوت وجد طاری کر دیتی ہے دلوں سے زنگ دھل جاتے ہیں وہ پھیلنے والی خوشبو ہے جس سے مشام جاں معطرہو جاتا ہے۔

وہ نشہ نہیں مگرروح کی بالیدگی کا سامان ہے۔ قبلہ نہیں قبلہ نما ہے۔ اور عاشقوں کا کعبہ ہے جس کے گرد وہ دیوانہ وارگھومتے ہیں۔ وہ سورج نہیں مگر سچائی اور حکمت کا نہ ڈوبنے والا آفتاب ہےاور اندھیروں سے نور کی جانب نکالتا ہے۔ وہ چاند نہیں مگر سالک اس کی روشنی میں روحانیت کا سفر کرتے ہیں۔ وہ سمندر نہیں مگر روحانیت کا بحرنا پیدا کنار ہے۔ وہ بادل نہیں مگررحمت کی گھٹا ہے اور الہامی بارشیں اس سے برستی ہیں۔ وہ درخت نہیں مگر شجرہ طیبہ ہے جس کی جڑیں زمین کے پاتال میں ہیں اور شاخیں آسمان سے باتیں کرتی ہیں۔ وہ پہاڑ نہیں مگر پہاڑاس کی ہیبت سے لرزتے ہیں اور چکنا چور ہو جاتے ہیں کیونکہ وہ دست قدرت کی سب سے مضبوط صناعی ہے۔ اس سےنُوۡرُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِکا وجود چھلکتا ہے۔

قرآن علم غیب کا ذخیرہ ہے۔ عٰلِمُ الۡغَیۡبِ وَ الشَّہَادَۃِکا ترجمان ہے۔ اس کی پیشگوئیوں کا دامن آغاز سے لے کر قیامت تک پھیلا ہوا ہے۔ ہر زمانہ میں اس کی پیش خبریاں پوری ہو کراس کے منجانب اللہ ہونے پر مہرلگاتی ہیں۔ آج کے انسان کی تمام سائنسی، تمدنی، سماجی اور طبی ترقیات کے اشارے قرآن میں موجود ہیں۔ قرآن 1400؍سال سے ھل من معارضکا نقارہ بجا رہا ہے یعنی تمام جن وا نس مل جائیں تواس کی ایک آیت کی مثال لانے پر قادر نہیں۔ بڑے بڑے ادیبوں اور سور ماؤں نے اس کا بیڑا اٹھایا مگر ان کی قلمیں ٹوٹ گئیں اور دماغ ماؤف ہو گئے اور ایک سطر بھی نہ بن سکی۔

قرآن ایک زندہ کتاب ہے۔ اس معنی میں کہ اس کی تعلیمات ہمیشہ کے لیے قابل عمل ہیں اور اس معنی میں بھی کہ اس کی برکات کا سلسلہ اور انعامات الہٰیہ کا ورود ہمیشہ جاری رہے گا۔ قرآن کسی ایک قوم، ملک، نسل اور ر نگ کا رہ نما نہیں کل عالم کے انسانوں، قوموں اورخطوں کا رہ نما ہے۔ ہر شخص کا ہے ہر مرد عورت بچے بوڑھےاور جوان کا رہ نما ہے۔ کوئی دانشور، کوئی عالم، کوئی متقی، کوئی فلاسفر اس کی حدود سے باہر نہیں۔ اس کا پرچم بلندوبالا چوٹیوں پر بھی لہراتا ہے سطح ارض پر بھی اور سمندروں کی گہرائیوں میں بھی۔

قرآن کتاب عزیز ہے۔ غور و فکر کی تلقین کرتا ہے۔ ایمان با لغیب کا داعی ہے مگر صُمٌّۢ بُکۡمٌ عُمۡیٌہو کر نہیں بلکہ علیٰ وجہ البصیرت ایمان کی راہ دکھاتا ہے۔ توہم پرستی نہیں بلکہ حقائق کا ساتھ دیتا ہے۔ آباو اجداد کی اندھی پیروی نہیں بلکہ تدبر کی راہ کھولتا ہے۔ صرف علم نہیں دیتا بلکہ تزکیہ نفس بھی کرتا ہے۔

قرآن میں خوابیں بھی ہیں اور ان کی تعبیریں بھی۔ استعارات وتشبیہات، ضرب الامثال اور محاورات بھی ہیں اور ان کے مطالب سمجھنے کے اصول بھی۔ پر جوش کلام بھی ہے اور پر سکون روانی بھی۔ یہ روح کو بھی اپیل کرتا ہے عقل کو بھی اور جذبات کو بھی۔

یا الٰہی تیرا فرقاں ہے کہ اک عالم ہے

جو ضروری تھا وہ سب اس میں مہیا نکلا

کس سے اس نورکی ممکن ہو جہاں میں تشبیہ

وہ تو ہر بات میں ہر وصف میں یکتا نکلا

ایک آبشار ہے جس کا ہر نظارہ وجد آفریں ہے۔ ایک قوس قزح ہے جس میں فطرت کے سارے رنگ جھلکتے ہیں۔ اس کے بعض حصے سربفلک چٹانوں کی طرح سر بلند ہیں۔ بعض سطح مرتفع کی طرح۔ بعض نخلستانوں کی طرح۔ بعض گھنے باغات کی طرح۔ بعض دل دہلا دینے والے نظاروں کی طرح۔ کہیں ٹھہرنے اور غور و فکر کرنے کو دل چاہتا ہے کہیں چومنے اور بوسہ دینے کی خواہش پیدا ہوتی ہے کہیں زبان پر حمد الٰہی اور کہیں استغفار جاری ہو جاتا ہے۔

پس لازم تھا کہ ایسے عظیم الشان دائمی خزانے کی خدا کی طرف سے حفاظت بھی کی جاتی کیونکہ یہ انسان کے بس کی بات نہیں تھی۔ سو خدا نے ایسا ہی کیا اور تاریخ عالم کا ایک اور محیر العقول معجزہ وقوع پذیر ہوا۔

النبی الامی کا امتیازی لقب

قرآن کریم ایک ایسے شخص پر نازل ہوا جو امی یعنی ان پڑھ تھا اور قرآن اس کے لیے تفاخر کے ساتھ النبی الامی کا لفظ استعمال کرتا ہے (اعراف :158۔ 159)لفظ امی کی قرآن کریم وضاحت کرتا ہے کہ آپ لکھنے اور پڑھنے دو نوں باتوں سے ناواقف تھے۔ (العنکبوت : 49) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جس قوم کے فرد تھے اس میں پڑھائی لکھائی کا رواج بہت کم تھا اس لیے ان کو بھی امی کہا گیا ہے۔ (الجمعہ : 3۔ آل عمران: 21) سوائے گنتی کے چند اشخاص کے سارا ملک ہی ان پڑھ تھا۔

قرآن کے معنے

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کا آغاز لفظ اِقۡرَاۡ سے ہوا۔ جس کے بنیادی معنی جمع کرنے اور اکٹھا کرنے کے ہیں۔ اسی سے لفظ قراءت نکلاہے کیونکہ وہ حروف کو ایک خاص ترتیب سے اکٹھا کر کے معنی پیدا کرتی ہے۔ اسی سے لفظ قرآن بنا ہے جو فعلان کے وزن پر مصدر ہے جس میں مبالغہ کے معنی پائے جاتے ہیں یعنی کثرت سے پڑھنا۔ پس قرآن کے معنے ہوئے وہ کتاب جو کثرت سے پڑھی جائے اور وہ کتاب جو دنیا بھر کو اکٹھا کر دے تمام علوم کا اجتماع کرے اور تمام سچائیوں کو جمع کردے۔

حفاظت قرآن کا الٰہی وعدہ

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جب قرآن کریم نازل ہوتا تھا تو آپ اسے تیزی سے دہرانے کی کوشش کرتے تھے تاکہ یاد ہوجائے مگر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تو اپنی زبان کو حرکت نہ دے تا کہ یہ قرآن جلدی سے یاد کر لے اس کا جمع کرنا ہمارے ذمہ ہے اور اس کو دنیا کے سامنے پڑھ کر سنانا بھی ہمارے ذمہ ہے جب ہم اسے پڑھ لیا کریں تو ہمارے پڑھنے کے بعد اس کو پڑھ لیا کر پھر اس کا بیان کرنا یعنی معارف بیان کرنا بھی ہمارے ذمہ ہے

لَا تُحَرِّکۡ بِہٖ لِسَانَکَ لِتَعۡجَلَ بِہٖ۔ اِنَّ عَلَیۡنَا جَمۡعَہٗ وَ قُرۡاٰنَہٗ۔ فَاِذَا قَرَاۡنٰہُ فَاتَّبِعۡ قُرۡاٰنَہٗ۔ ثُمَّ اِنَّ عَلَیۡنَا بَیَانَہٗ۔ (القیامہ:17تا 20)

اس کے بعد جب قرآن نازل ہوتا تھا تو آپؐ خاموشی سے اسے سنتے رہتے وہ آپؐ کے سینے میں محفوظ ہو جاتا اور جبرئیل کے جانے کے بعد آپؐ آرام سے اس کی تلاوت کر سکتے تھے۔

(صحیح بخاری کتاب بد٫ الوحی حدیث نمبر 5)

پس الفاظ قرآن کے لیے سب سے پہلا محافظ اور سب سے پہلا مرکز جبرئیل امین کے بعد سینہ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم تھا۔

حفاظت قرآن کی مکمل سکیم

اس آیت مذکورہ میں قرآن کا لفظ مصدری معنوں میں استعمال ہوا ہے یعنی پڑھنا۔ اوردو سرا اہم اعلان اس میں یہ ہے کہ قرآن کا جمع کرنا۔ اس کی صحیح طرح تلاوت کرنا اور اس کا بیان یعنی اس کے علوم و معارف کا اظہار کرنا یہ سب باتیں خدا نے اپنے ذمہ لی ہیں۔ اس مقصد کے لیے اللہ تعالیٰ نے انسانوں سے کام لیا مگر مکمل سکیم اور پروگرام اور اس کی تکمیل خدا ہی کے دست قدرت کی مرہون منت ہے۔ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے ہی اس قرآن کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے۔

إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُوْنَ (الحجر: 10)

مکی سورۃ البروج میں قرآن کا نام لےکر حفاظت کا ذکر موجود ہے۔ یہ قرآن لوح محفوظ میں ہے یعنی محفوظ تھا اور ہمیشہ محفوظ رہے گا۔

بَلۡ ہُوَ قُرۡاٰنٌ مَّجِیۡدٌ۔ فِیۡ لَوۡحٍ مَّحۡفُوۡظٍ (البروج:22۔ 23)

حفاظت قرآن کی یہ سکیم آغاز وحی سے آج تک پھیلی ہوئی ہے اور صرف مذہبی دنیا ہی نہیں علمی اور سماجی دنیا کا بھی ایک عجیب ترین معجزہ ہے آئیے اس کے چند اوراق کھولیں۔

رسول اللہﷺ کی زندگی کی حفاظت

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعویٰ نبوت کے بعد 23 سال تک مورد نزول وحی رہے۔ 13سال مکہ میں اور دس سال مدینہ میں قیام فرمایا۔ اس 23سالہ زندگی میں کتنے ہی مواقع ایسے آئے جب آپ کی جان سخت خطرہ میں تھی اور اگر خدا تعالیٰ کی خاص تقدیر آپ کی حفاظت نہ کرتی تو قرآن کریم دنیا سے نابود ہوجاتا۔ پس حفاظت رسول حفاظت قرآن کی پہلی کڑی ہے۔ اس سلسلہ میں چند اہم واقعات یہ ہیں۔

1۔ جب آپؐ شعب ابی طالب میں تین سال محصور رہے۔ کھانے پینے کا کوئی انتظام نہ تھا اور جان کا سخت خطرہ تھا

2۔ جب ہجرت مدینہ والی رات کفار نے آپ کا محاصرہ کر لیا تھا اور آپ کو قتل کرنے کی قسمیں کھائی تھیں

3۔ جس وقت جب آپ غار ثور میں چھپے ہوئے تھے اور دشمن غار کے منہ پر پہنچ گیا۔

4۔ جب ہجرت کے سفر میں سراقہ نے آپ کا تعاقب کیا اور قریب پہنچ گیا۔

5۔ جنگ احد میں آپ زخمی ہوکر لاشوں کے انبار میں گر گئے اور یہ خبر مشہور ہوگئی کہ آپ شہید ہو گئے ہیں۔

6۔ جب یہودی قبیلہ بنو نضیر نے چھت سے پتھر گرا کر آپ کو مارنا چاہا۔

7۔ جب کسریٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی گرفتاری کے لیے دو سپاہی بھیج دیےمگر آپ نے جانے سے انکار کر دیا۔

8۔ جب جنگ خیبر کے بعد ایک یہودیہ نے آپ کوکھانے میں زہر دے دیا۔

9۔ جب ایک غزوہ سے واپسی پر آپؐ اکیلے درخت کی چھاؤں میں سو رہے تھے دشمن نے آپؐ کی تلوار اٹھا کر پوچھا بتاؤ تمہیں میرے ہاتھ سے کون بچائے گا۔

10۔ جنگ حنین میں جب آپؐ محض چند صحابہ کے ساتھ دشمن کے نرغے میں تھے۔

ان تمام مواقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت قرآن کریم کی حفاظت اور تکمیل کا لازمی حصہ تھا۔ ان تمام مواقع پر اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جان یا حواس کو نقصان پہنچتا مثلاً دل، آنکھیں، حافظہ اور دیگر اعضا٫تو قرآن کریم کی تکمیل نہ ہو سکتی اور حفاظت بھی مشتبہ ہو جاتی۔

عربوں کے مثالی حافظے

عربوں کے حافظے مثالی تھے۔ صدیوں کی تاریخ، نسب نامے، طویل قصیدے اور اشعار انہیں زبانی یاد تھے۔ اور اسی قوم سے خدا نے قرآن کی قرا٫ت کی حفاظت کا کام لیا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم آغاز میں قرآن کی آیات نازل ہوتے ہی صحابہ کو سناتے یاد کراتے نمازوں میں تلاوت کرتے ہر وحی کے نازل ہونے کے بعد خدائی حکم کے ماتحت بتا دیتے کہ اسے فلاں سورت میں یا فلاں موقع پر رکھو (ترمذی کتاب التفسیر سورۂ توبہ ) حضرت جبرئیلؑ ہر سال رمضان کے مہینہ میں رسول اللہﷺ کے ساتھ قرآن کا دور کرتے تھے یعنی اس وقت تک نازل شدہ قرآن کی ترتیب کے ساتھ دہرائی کی جاتی گویا ترتیب اور حفظ بیک وقت مقصود تھے۔ رسول اللہﷺ کی زندگی میں آخری رمضان میں قرآن کریم قریباً مکمل ہو چکا تھا اس سال یہ دہرائی دو دفعہ ہوئی۔ بعد میں رسول اللہؐ نے ایسے پڑھے لکھے افراد بھی مقرر فرمادیے جو قرآنی وحی کو لکھ لیتے تھے۔ ایسے کاتبان وحی 40؍کے قریب تھے۔

کتاب مبین کی پیشگوئی

قرآن کریم آغاز میں صرف پڑھا جاتا تھا۔ یعنی صرف زبانی تلاوت کی جاتی تھی مگر اللہ تعالیٰ نے خود یہ پیشگوئی قرآن کریم میں درج فرمائی کہ یہ کلام ایک وقت میں کتاب بنے گا۔ لکھا جائے گا اور اس کی تحریر کے اثرات اس کی زبانی قرا٫ت سے زیادہ ہوں گے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں قرآن مبین کا لفظ دو دفعہ جبکہ کتاب مبین کا لفظ 10دفعہ استعمال کیا ہے جس میں اس کی تحریر اور کتابت کی عظمت کی پیشگوئی ہے۔

جو ابتدائی مومنین اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کیے ان میں سے ایک تعداد پڑھنا لکھنا جانتی تھی۔ یہ لوگ معاشرے کے سچے اور بلند کردار لوگ تھے۔ آئندہ انہی سے قرآن کے حفظ اور کتابت کا کام لیا جانا تھا اور گو یہ عام طور پر کمزور اور غریب طبع لوگ تھے مگر ان کی نیکی اور پارسائی پر کسی نے شک نہیں کیا۔

نزول قرآن کے وقت عربوں کے پاس کاغذ نہیں تھا اس لیے وہ جن چیزوں پر لکھا گیا وہ کھجور کی شاخیں، اونٹ کی ہڈیاں، پتھر کی سل، چمڑے کے ٹکڑے جانوروں کی کھال، اورلکڑی کے ٹکڑے ہوتے۔

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں قرآن کریم زبانی طور پر مکمل ترتیب کے ساتھ محفوظ تھا اور تحریری طور پر بھی کاتبین وحی اور دیگر صحابہؓ کے پاس موجود تھا مگر ایک جگہ تحریری طور پر اکٹھا نہیں تھا۔ حضرت ابوبکرؓ کے عہد خلافت میں اس تحریر کو زبانی قرا٫ت کے مطابق تحریری گواہیوں کے مطابق کتاب کی شکل دی گئی اور وہ کتاب قرار پایا۔

قرآن کے نقاط اور اعراب

نزول قرآن کے وقت عربی زبان میں نقطوں اور اعراب کا رواج نہیں تھا اس کے باوجود عرب تمام الفاظ اور عبارت کو آسانی سے پڑھ لیتے تھے مگر کئی الفاظ ایسے ہوتے ہیں جو نقطہ کے وجود اور عدم وجود دونوں طرح پڑھے جا سکتے ہیں اور معانی بالکل بدل جاتے ہیں مگر یہ چیز بھی قرآن کی حفاظت میں کوئی روک نہیں بنی۔ مثلاً ح اور ج۔ د اور ذ۔ ر اور ز، بلکہ اس کی حفاظت میں کردار ادا کیاکیونکہ جب عجمیوں میں قرآن پھیلا تو نقطوں اور اعراب کے بغیر ان کا صحیح قرآن پڑھنا ناممکن تھا پس خدا نے اپنی تقدیر خاص سے یہ سامان بھی کر دیا۔

(جاری ہے)

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

For security, use of Google's reCAPTCHA service is required which is subject to the Google Privacy Policy and Terms of Use.

I agree to these terms.

Back to top button
Close