متفرق شعراء

سلام بحضور سیّد الانام صلی الله علیہ وسلم

بہ درگاہ ذی شانِ خیر الانامؐ

شفیع الوَریٰ مرجع خاص و عام

بصَد عجز و منت بصَد احترام

یہ کرتا ہے عرض آپؐ کا اک غلام

کہ اے شاہِ کونین عالی مقام

عَلیکَ الصّلوٰۃُ عَلیکَ السّلام

حسینان عالم ہوئے شرمگیں

جو دیکھا وہ حُسن اور وہ نُورِ جبیں‌

پھر اِس پر وہ اخلاق اکمل تریں‌

کہ دُشمن بھی کہنے لگے آفریں‌

زہے خلقِ کامل زہے حُسنِ تام

عَلیکَ الصّلوٰۃُ عَلیکَ السّلام

خلائق کے دل تھے یقیں‌ سے تہی

بُتوں نے تھی حق کی جگہ گھیر لی

ضلالت تھی دنیا پہ وہ چھا رہی

کہ توحید ڈھونڈے سے ملتی نہ تھی

ہوا آپؐ کے دم سے اُس کا قیام

عَلیکَ الصّلوٰۃُ عَلیکَ السّلام

محبت سے گھائل کیا آپؐ نے

دلائل سے قائل کیا آپؐ نے

جہالت کو زائل کیا آپؐ نے

شریعت کو کامل کیا آپؐ نے

بیان کر دیے سب حلال و حرام

عَلیکَ الصّلوٰۃُ عَلیکَ السّلام

نبوت کے تھے جس قدر بھی کمال

وہ سب جمع ہیں آپؐ میں لا محال

صفاتِ جمال اور صفاتِ جلال

ہر اک رنگ ہے بس عدیم المثال

لیا ظلم کا عفو سے اِنتقام

عَلیکَ الصّلوٰۃُ عَلیکَ السّلام

مقدس حیات اور مطہر مذاق

اطاعت میں‌ یکتا، عبادت میں طاق

سوارِ جہانگیر یکراں براق

کہ بگذشت از قصرِ نیلی رواق

محمدؐ ہی نام اور محمدؐ ہی کام

عَلیکَ الصّلوٰۃُ عَلیکَ السّلام

علمدارِ عشاق ذاتِ یگاں

سپہدارِ افواجِ قُدوسیاں

معارف کا اک قلزمِ بیکراں

افاضات میں زندۂ جاوداں‌

پلا ساقیا آبِ کوثر کا جام

عَلیکَ الصّلوٰۃُ عَلیکَ السّلام

(کلام حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحبؓ)

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close