متفرق مضامین

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا منفرد اور حقیقی عشقِ رسولﷺ

(ذیشان محمود۔)

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے عشق و محبت کا ادراک اس زمانہ میں ایک احمدی سے بڑھ کر کسے ہو سکتا ہے اور ایک احمدی میں محبت کی یہ لَو حضورﷺ کے عاشقِ صادق بانیٔ سلسلہ احمدیہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی لگائی ہوئی ہے۔ آپؑ کےبے پایاں اور فقید المثال عشقِ محمدی کا گواہ آپؑ کا ہر وہ لفظ ہے جو رسول اللہﷺ کی مدح و نعت میں نثر یا نظم میں بیان ہوا ہے۔ اس محبت ِجاودانی کا گواہ آپؑ کی حیاتِ مبارکہ کا ہر واقعہ، ہر دن اور ہر لمحہ ہے۔ ہر وہ شخص جس کا کسی بھی طرح آپؑ سے واسطہ رہا خواہ احمدی ہو یا غیر احمدی، خواہ کوئی عام شخص ہو یا کوئی بڑے سے بڑا مخالف آپؑ کے عشق رسولؐ کے اظہار کی مدح سرائی میں پیش پیش ہے۔

اس زمانہ میں مخالفین کی جانب سے یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ آپؑ کی تحریرات میں حبّ النبی اور حبّ الرسولﷺ کے جو تقاضے ہیں ان کی نعوذ باللہ ہتک کی گئی ہے۔ تو قارئین پر یہ امر چھوڑتے ہوئے آئیں دیکھیں کہ حب رسولؐ کے جو معیار اور اصول خود رسول اللہﷺ نے بیان فرمائے یا دیگر علماء نے قائم کیے ہیں، کیا حضرت مسیح موعودؑ ان پر پورا اترتے ہیں یانہیں۔

بعد از خدا بعشق محمدؐ مخمرم

گر کفر ایں بود بخدا سخت کافرم

(ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد 3صفحہ 185)

رسول اللہﷺ کی بیان فرمودہ علامات

حضرت عبد اللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

’’ہم رسول اللہﷺ کےہم راہ تھے، آپﷺ نے حضرت عمر بن خطابؓ کا ہاتھ تھاما ہوا تھا۔ حضرت عمرؓ نے آپﷺ سے عرض کیا: ’’اللہ کے رسول! آپ مجھے میری ذات کے علاوہ ہر چیز سے زیادہ محبوب ہیں۔ ‘‘ تو نبیﷺ نے فرمایا: ’’نہیں ! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، جب تک میں تمہارے ہاں تمہاری جان سے بھی زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔ (تب تک محبت کامل نہیں ہوگی)۔ ‘‘ اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے جلدی سے عرض کیا: ’’اللہ کی قسم!بےشک ابھی سے آپ میرے ہاں میری جان سے بھی زیادہ عزیز ہیں‘‘ تو پھر نبیﷺ نے فرمایا: ’’اے عمر ! اب (تمہاری محبت کامل ہے۔ )‘‘(بخاری کتاب الایمان والنذور حدیث 6632)

پھر حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا:

فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُوْنَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ

(بخاری کتاب الایمان حدیث نمبر14)

اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔ تم میں سے کوئی اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا یہاں تک کہ میں اس کے ہاں اس کے والد اور بچوں سے زیادہ عزیز نہ ہو جاؤں۔

اس حدیث میں گویا رسول اللہﷺ نے خود ایک معیار یہ قائم فرمایا کہ حب النبیﷺ کا یہ تقاضا ہے کہ اپنی جان، مال اور اہل و عیال کو بھی رسول اللہﷺ کے مقابل کچھ نہ سمجھا جائے اور ہر دم قربان کرنے کے لیے تیار رہا جائے۔ حضرت مسیح موعودؑ رسول اللہﷺ سے اپنی محبت کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’مخالفین نے ہمارے رسولﷺ کے خلاف بیشمار بہتان گھڑے ہیں اور اپنے اس دجل کے ذریعہ ایک خلق کثیر کوگمراہ کرکے رکھ دیا ہے۔ میرے دل کو کسی چیز نے کبھی اتنا دکھ نہیں پہنچایا جتنا کہ ان لوگوں کے اس ہنسی ٹھٹھا نے پہنچایا ہے جو وہ ہمارے رسول پاکﷺ کی شان میں کرتے رہتے ہیں۔ ان کے دل آزار طعن و تشنیع نے جو وہ حضرت خیرالبشرﷺ کی ذاتِ والا صفات کے خلاف کرتے ہیں میرے دل کو سخت زخمی کررکھا ہے خدا کی قسم اگر میری ساری اولاد اور اولاد کی اولاد اور میرے سارے دوست اور میرے سارے معاون و مددگار میری آنکھوں کے سامنے قتل کردئیے جائیں اور خود میرے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دیے جائیں اور میری آنکھ کی پتلی نکال پھینکی جائے اور میں اپنی تمام مرادوں سے محروم کردیا جاؤں اور اپنی تمام خوشیوں اور تمام آسائشوں کو کھو بیٹھوں تو ان ساری باتوں کے مقابل پر بھی میرے لیے یہ صدمہ زیادہ بھاری ہے کہ رسول اکرمﷺ پر ایسے ناپاک حملے کئے جائیں۔ پس اے میرے آسمانی آقا تُو ہم پر اپنی رحمت اور نصرت کی نظر فرما اور ہمیں اس ابتلائے عظیم سے نجات بخش۔ ‘‘

(ترجمہ عربی عبارت، روحانی خزائن جلد 5، آئینہ کمالات اسلام، صفحہ 15)

جان و دلم فدائے جمال محمدؐ است

خاکم نثار کوچہ آل محمدؐ است

(اخبار ریاض ہند امرتسر یکم مارچ 1884ء)

در رہِ عشق محمدؐ ایں سَر و جانم رَود

ایں تمنا ایں دعا ایں در دِلم عزم صمیم

(توضیح مرام، روحانی خزائن جلد 3صفحہ 63)

سرے دارم فدائے خاکِ احمدؐ

دلم ہر وقت قربانِ محمدؐ

(مجموعہ اشتہارات جلد اوّل، اشتہار 20؍فروری 1893ء )

ترجمہ: میری جان اور دل محمدﷺ کے جمال پر فدا ہے اور میری خاک نبی اکرمﷺ کی آل کے کوچہ پر قربان ہے۔

حضرت محمد مصطفیﷺ کے عشق کی راہ میں میرا سر اور جان قربان ہوجائیں۔ یہی میری تمنا ہے اور یہی میری دعا ہے اور یہی میرا دلی ارادہ ہے۔

میرا سر احمدﷺ کی خاک پر فدا ہے اور میرا دل ہر وقت آپؐ پر قربان۔

اُس نُور پر فدا ہوں اُس کا ہی مَیں ہوا ہوں

وہ ہے مَیں چیز کیا ہوں بس فیصلہ یہی ہے

(قادیان کے آریہ اور ہم روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 456)

آپؑ کی تحریرات سے واضح ہے کہ کس طرح محبت اور ناموسِ رسول اللہﷺ کی خاطر آپؑ اپنی جان، مال اور اہل و عیال کو قربان کرنے کے لیے تیار ہیں۔

امام قسطلانی کی تحریر کردہ علاماتِ حب رسولؐ

امام قسطلانی فرماتے ہیں :

’’ومن علامات هذه المحبة نصر دين الإسلام بالقول والفعل والذبّ عن الشريعة المقدسة والتخلّق بأخلاق الرسول عليه الصلاة والسلام في الجود والإيثار والحلم والصبر والتواضع وغير ذلك مما ذكرته في أخلاقه العظيمة في كتاب المواهب اللدنية بالمنح المحمدية، فمن جاهد نفسه على ذلك وجد حلاوة الإيمان، ومن وجدها استلذ الطاعات وتحمل في الدين المشقات، بل ربما يلتذ بكثير من المؤلمات‘‘

(إرشاد الساري لشرح صحيح البخاريجلد4صفحہ104 الناشر: المطبعة الكبرى الأميرية، مصر)

’’اس محبت کی علامات میں سے ایک دینِ اسلام کی نصرت بھی ہے۔ خواہ وہ قول سے ہو یا فعل سے یا مقدس شریعت کی حمایت سے اور رسول اللہﷺ کے اخلاق مثلاً جودو ایثار اور حلم اور صبر اور تواضع اور اس کے علاوہ دیگر اخلاق میں رنگین ہونے سے ہو۔ ایسی تمام اخلاقِ عظیمہ میں نے اپنی کتاب المواهب اللدنية بالمنح المحمدية میں بیان کی ہیں۔ جوان ( اخلاق) پر نفس کا مجاہدہ کرے وہ ایمان کی حلاوت پا لے گا، اور جو حلاوت پا لے گا وہ اطاعت کی لذت حاصل کر لے گا اور دین کی سختیاں برداشت کر لے گا۔ بلکہ شاید وہ کئی قسم کے دکھوں سے لذت محسوس کرے گا۔ ‘‘

انٹر نیٹ پر دستیاب مختلف مضامین اور کتب میں موجود اکثر علامات کی بنیاد وہی ہیں جو امام قسطلانی نے اپنی کتاب المواهب اللدنية بالمنح المحمدية میں رسول اللہﷺ سے محبت کی مفصل علامات بیان کی ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ

’’نبی اکرمﷺ کی محبت کی کچھ علامات ہیں۔ سب سے بڑی علامت یہ ہے کہ آپ کی اقتدا ،آپ کی سنت کو اپنانا، آپ کے راستے پر چلنا ،آپ کی سیرت طیبہ سے رہ نمائی لینا اور آپؐ کی شریعت کی حدود پر ٹھہر جانا ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ فرماتاہے کہ

قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِي يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ۔

پس اللہ تعالیٰ نے رسول اکرمﷺ کی اتباع کو بندے کی اللہ تعالیٰ سے محبت کی علامت قرار دیا اور رسول اکرمﷺ کی اچھی اتباع کی جزا بندے کے لیے اپنی محبت کو قرار دیا۔‘‘ (صفحہ671)

نبی اکرمﷺ کی محبت کی علامات میں سے یہ بات بھی ہے کہ اس محبت کا دعویٰ کرنے والا آپ کی شریعت پر راضی ہو حتیٰ کہ اپنے نفس میں آپؐ کے فیصلے سے کوئی تنگی محسوس نہ کرے۔ (صفحہ674)

رسول اکرمﷺ سے محبت کی ایک علامت یہ ہے کہ اپنے قول و فعل سے آپ کے دین کی مدد کرے۔ آ پ کی شریعت کا دفاع کرے اور سخاوت میں آپ کی سیرت طیبہ کو اپنائے، بردباری، صبر، تواضع وغیرہ میں آپ کے نقشِ قدم پر چلے یعنی آپ کے تمام اخلاق اپنے سامنے رکھے۔ (صفحہ 676)

رسول اکرمﷺ سے محبت کی ایک علامت یہ ہے کہ مصائب پر صبر کرے کیونکہ اس محبت سے محب کو ایسی لذت حاصل ہوتی ہے کہ وہ مصائب بھول جاتا ہے اور ان مصائب سے دوسروں کو جو تکلیف پہنچتی ہے وہ اسے نہیں پہنچتی گویا یہ اس کی طبیعت ثانیہ بن گئی ہے۔ طبعی اور فطری طور پر ایسا نہ تھا بلکہ محبت کا اس طرح غلبہ ہو جاتا ہے کہ وہ ان مصائب سے اس سے بھی بڑی لذت حاصل کرتا ہے جس قدر لذت ان مصائب سے خالی ہونے کی صورت میں حاصل نہیں ہوتی ذوق اور وجود اس بات پر شاہد ہے۔ پس محبت کرنے والے کے لیےتکلیف مٹھاس کے ساتھ ملی ہوئی ہوتی ہے۔ (صفحہ676)

رسول اکرمﷺ کی محبت کی ایک نشانی آپ کا بکثرت ذکر ہے پس جو شخص کسی چیزسے محبت کرتا ہے اس کا ذکر زیادہ کرتا ہے ۔بعض اشخاص نے فرمایا : محبت، محبوب کو ہمیشہ یاد رکھنے کا نام ہے اور کسی دوسرے بزرگ نے فرمایا کہ جس قدر سانس ہیں ان کے مطابق محبوب کا ذکر کیا جائے۔ ایک اور صاحب کا قول ہے کہ محبت کے لیے تین علامات ہیں ایک یہ کہ اس کے کلام میں محبوب کا ذکر ہو، خاموشی محبوب کی فکر اور عمل اس کی فرمانبرداری ہے۔ محاسبی فرماتے ہیں کہ محبت کرنے والوں کی علامت محبوب کا ہمیشہ ذکر کرنا ہے کہ نہ وہ اسے منقطع کریں نہ تھکاوٹ محسوس کریں اور نہ اکتائیں۔ (صفحہ677)

آپ کی محبت کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ آپ کا ذکر کرتے وقت تعظیم ہو۔ نیز خشوع و خضوع کا اظہار کیا جائے جب آپؐ کا اسم گرامی سنے۔ کیونکہ جو کوئی کسی سے محبت کرتا ہے تو اس کے لیے جھک جاتا ہے۔ جس طرح نبی اکرمﷺ کے وصال کے بعد اکثر صحابہ کرام ؓآ پؐ کا ذکر کرتے ہوئے خشوع و خضوع اختیار کرتے اور ان کے جسموں پر بال کھڑے ہو جاتے اور وہ رونے لگتے اسی طرح اکثر تابعین اور ان کے بعد کے لوگ آپ کی محبت، شوق اور تعظیم و توقیر کے طور پر ایسا کرتے تھے۔(صفحہ680)

نبی اکرمﷺ کی محبت کی ایک علامت یہ ہے کہ آپؐ کی ملاقات کا بہت زیادہ شوق ہو کیونکہ ہر محب اپنے محبوب سے ملاقات کا شوق رکھتا ہے۔ (صفحہ680)

نبی اکرمﷺ سے محبت کی ایک علامت قرآن مجید سے محبت ہے جسے آپ لائے اس کے ذریعہ راستہ پایا اور اس کو اپنی سیرت بنایا۔ اگر تم معلوم کرنا چاہو کہ تمہارے پاس اور تمہارے غیر کے پاس اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی محبت کس قدر ہے ؟ تو اپنے دل میں قرآن مجید کی محبت کو دیکھو۔ (صفحہ682)

نبی اکرمﷺ کی محبت کی ایک علامت یہ ہے کہ آپؐ کی سنت پر عمل اور آپؐ کی حدیث مبارک پڑھنے کی چاہت ہو۔ بے شک جس آدمی کے دل میں ایمان کی چاشنی داخل ہو جب وہ اللہ تعالیٰ کے کلام میں سے کوئی کلمہ یا کوئی حدیث رسولﷺ سنتا ہے تو وہ اس کی روح، دل اور نفس میں جاگزیں ہو جاتا ہے۔ (صفحہ684)

نبی اکرمﷺ کی محبت کی علامات میں سے ایک بات یہ ہے کہ آپؐ کا محب آپ کے ذکر شریف سے لذت حاصل کرتا ہے اور جب آپ کا اسم گرامی سنتا ہے تو خوشی سے جھوم اٹھتا ہے اور بعض کی نشے جیسی حالت پیدا ہو جاتی ہے جس میں اس کا دل، روح اور سماعت ڈوب جاتی ہے۔ (صفحہ684)

امام قسطلانی محبتِ رسول کی مذکورہ بالاعلامات بیان کر کے یہ نتیجہ بیان کرتے ہیں کہ

’’پس جو شخص ان مذکورہ بالا صفات سے موصوف ہوجاتا ہے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ سے اس کی محبت کامل ہوجاتی ہے اور جو اِن میں سے بعض کی مخالفت کرے اس کی محبت ناقص ہے۔ لیکن وہ اس نام (محب ہونے) سے نہیں نکلتا۔ ‘‘

(المواہب اللدنیہ بالمنح المحمدیہ الجزء الثانی صفحہ686اردو ترجمہ مولانا علامہ محمد صدیق ہزاروی۔ مطبوعہ فرید بک سٹال 38اردو بازار لاہور)

یہ تمام علامات بانیٔ جماعت حضرت مسیح موعودؑ کی ذاتِ مبارکہ و وجودِ اقدس میں ثابت ہیں۔ ہر علامت الگ الگ مضمون کی متقاضی ہے۔ آئیں ان پر یکجائی طور پر نظر ڈالتے ہیں۔

قول و فعل سے شریعت کی حمایت

حضرت اقدس مسیح موعودؑ دین اسلام کی حمایت اور اشاعت میں صفِ اوّل میں شمار ہوتے ہیں۔ کیونکہ جس قدر حملے دین اسلام پر اس زمانہ میں کیے جا رہے تھے اس کی مثال پہلے نہ تھی۔ آپ ایک جری اللہ کی طرح میدان میں اترے اور تحریر و تقریر ہر دو انداز میں اسلام کی حمایت کی اور براہینِ احمدیہ جیسی عظیم کتاب تحریر فرمائی جسے علمائے وقت نے بھی دینِ اسلام کی عظیم خدمت قرار دیا۔ آپؑ فرماتے ہیں کہ

’’ہمارے مذہب کا خلاصہ اور لب لباب یہ ہے کہ لَاالٰہ الَّا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ ۔ہمارا اعتقاد جو ہم اس دنیوی زندگی میں رکھتے ہیں جس کے ساتھ ہم بفضل و توفیق باری تعالیٰ اس عالم گذران سے کوچ کریں گے یہ ہے کہ حضرت سیدنا و مولانا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیّین و خیر المرسلین ہیں جن کے ہاتھ سے اکمال دین ہو چکا اور وہ نعمت بمرتبہ اتمام پہنچ چکی جس کے ذریعہ سے انسان راہ راست کو اختیار کر کے خدائے تعالیٰ تک پہنچ سکتا ہے اور ہم پختہ یقین کے ساتھ اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ قرآن شریف خاتم کتب سماوی ہے اور ایک شُعشہ یا نقطہ اس کی شرائع اور حدود اور احکام اور اوامر سے زیادہ نہیں ہو سکتااور نہ کم ہو سکتا ہے اور اب کوئی ایسی وحی یا ایسا الہام منجانب اللہ نہیں ہو سکتا جو احکام فرقانی کی ترمیم یا تنسیخ یا کسی ایک حکم کے تبدیل یا تغییر کر سکتا ہو اگر کوئی ایسا خیال کرے تو وہ ہمارے نزدیک جماعت مومنین سے خارج اور مُلحد اور کافر ہے۔ ‘‘

(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد3صفحہ169تا170)

حضرت مسیح موعودؑ چھوٹے سے چھوٹے امور میں بھی رسول اللہﷺ کی اتباع فرماتے۔

چنانچہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا طریق تھا کہ چھوٹی سے چھوٹی بات میں بھی آنحضرتﷺ کی اتباع کرتے تھے۔

(سیرت المہدی روایت نمبر 492)

حضرت مرزا دین محمد صاحبؓ ساکن لنگروال بیان کرتے ہیں کہ جب مَیں حضرت صاحبؑ کے پاس سوتا تھاتو آپ تہجد کے لئے نہیں جگاتے تھے۔ مگر صبح کی نماز کے لئے ضرور جگاتے تھے اور جگاتے اس طرح تھے کہ پانی میں انگلیاں ڈبو کر اس کا ہلکا سا چھینٹا پھوار کی طرح پھینکتے تھے۔ مَیں نے ایک دفعہ عرض کیا کہ آپ آواز دے کر کیوں نہیں جگاتے اور پانی سے کیوں جگاتے ہیں۔ اس پر فرمایا کہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح کرتے تھے اور فرمایا کہ آواز دینے سے بعض اوقات آدمی دھڑک جاتا ہے۔

(سیرت المہدی روایت نمبر 492)

حضرت صاحب مردوں کو نصیحت فرمایا کرتے تھے کہ مرد اپنی بیویوں کا گھر کے کام میں ہاتھ بٹایا کریں ،ثواب کا کام ہے۔ رسول کریمﷺ بھی گھر کے کام میں اپنی بیویوں کا ہاتھ بٹاتے تھے۔ اور ساتھ ہی یہ لفظ کہتے، ہمیں تو لکھنے سے فرصت ہی نہیں ہوتی۔

(سیرت المہدی روایت نمبر 1577)

جہاں تک رسول اللہﷺ کی تعظیم و توقیر کا تعلق ہے تو بانی سلسلہ احمدیہ میں یہ علامت بھی افضل طریق پر موجود تھی۔

حضرت مرزا سلطان احمد صاحب جو حضرت مسیح موعودؑ کی پہلی بیوی سے سب سے بڑے بیٹے تھے۔ آپ کے قبول احمدیت سے پہلے کےزمانہ کی بات ہے کہ اُن سے ایک دفعہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے حضرت مسیح موعودؑ کے اخلاق و عادات کے متعلق پوچھا تو انہوں نے اس پر فرمایا کہ

’’ایک بات میں نے والد صاحب (یعنی حضرت مسیح موعودؑ) میں خاص طور پر دیکھی ہے وہ یہ ہے کہ آنحضرتﷺ کے خلاف والد صاحب ذرا سی بات بھی برداشت نہیں کرسکتے تھے اگر کوئی شخص آنحضرتؐ کی شان کے خلاف ذرا سی بات بھی کہتا تھا تو والد صاحب کا چہرہ سُرخ ہوجاتا تھا اور غصے سے آنکھیں متغیّر ہونے لگتی تھیں اور فوراً ایسی مجلس سے اُٹھ کر چلے جاتے تھے آنحضرتﷺ سے تو والد صاحب کو عشق تھا۔ ایسا عشق میں نے کسی شخص میں نہیں دیکھا اور مرزا سلطان احمد صاحب نے اس بات کو بار بار دُہرایا۔ ‘‘

(سیرت طیبہ صفحہ 28تا29)

ایک دفعہ آریہ صاحبان نے وچّھووالی لاہور میں ایک جلسہ منعقد کیا اور اس میں شرکت کرنے کے لیے تمام مذاہب کے ماننے والوں کو دعوت دی۔ اسی طرح حضرت مسیح موعودؑ سے بھی بااصرار درخواست کی کہ آپ بھی اس بین الادیان جلسہ کے لیے کوئی مضمون تحریر فرمائیں اور وعدہ کیا کہ جلسہ میں کوئی بات خلافِ تہذیب اور کسی مذہب کی دلآزاری کا رنگ رکھنے والی نہیں ہوگی۔ اس پر حضرت مسیح موعودؑ نے اپنے ایک ممتاز حواری حضرت مولوی نورالدین صاحب کو جو بعد میں جماعت احمدیہ کے خلیفہ اوّل ہوئے بہت سے احمدیوں کے ساتھ لاہور روانہ کیا اوراُن کے ہاتھ ایک مضمون لکھ کر بھیجا جس میں دینِ محمدؐ کے محاسن بڑی خوبی کے ساتھ اور بڑے دلکش رنگ میں بیان کئے گئے تھے۔ مگر جب آریہ صاحبان کی طرف سے مضمون پڑھنے والے کی باری آئی تو اُس نے اپنی قوم کے وعدوں کو بالائے طاق رکھ کر اپنے مضمون میں رسول پاکﷺ کے خلاف اتنا زہر اُگلا اور ایسا گند اُچھالا کہ خدا کی پناہ۔ جب اس جلسہ کی اطلاع حضرت مسیح موعودؑ کو پہنچی اور جلسہ میں شرکت کرنے والے احباب قادیان واپس آئے تو آپؑ حضرت مولوی نورالدین صاحب اور دوسرے احمدیوں پر سخت ناراض ہوئے اور بار بار جوش کے ساتھ فرمایا کہ جس مجلس میں ہمارے رسول اللہؐ کو بُرابھلا کہا گیا اور گالیاں دی گئیں تم اُس مجلس میں کیوں بیٹھے رہے ؟ اور کیوں نہ فوراً اُٹھ کر باہر چلے آئے ؟ تمہاری غیرت نے کس طرح برداشت کیا کہ تمہارے آقا کو گالیاں دی گئیں اور تم خاموش بیٹھے سُنتے رہے ؟ اور پھر آپؑ نے بڑے جوش کے ساتھ یہ قرآنی آیت پڑھی کہ

اِذَا سَمِعۡتُمۡ اٰیٰتِ اللّٰہِ یُکۡفَرُ بِہَا وَ یُسۡتَہۡزَاُ بِہَا فَلَا تَقۡعُدُوۡا مَعَہُمۡ حَتّٰی یَخُوۡضُوۡا فِیۡ حَدِیۡثٍ غَیۡرِہٖۤ

(سورۃ النساء۔ آیت 141)

یعنی اے مومنو! جب تم سنو کہ خدا کی آیات کا دل آزار رنگ میں کفر کیا جاتا اور اُن پر ہنسی اُڑائی جاتی ہے تو تم ایسی مجلس سے فوراً اُٹھ جایا کرو تا وقتیکہ یہ لوگ کسی مہذبانہ انداز گفتگو کو اختیار کریں۔

اس مجلس میں حضرت مولوی نورالدین صاحب (خلیفہ اوّل) بھی موجود تھے اور وہ حضرت مسیح موعودؑ کے ان الفاظ پر ندامت کے ساتھ سر نیچے ڈالے بیٹھے رہے بلکہ حضرت مسیح موعودؑ کے اس غیورانہ کلام سے ساری مجلس ہی شرم و ندامت سے کٹی جارہی تھی۔ ‘‘

(سیرت طیبہ صفحہ 26تا28)

حضرت مسیح موعودؑ کے دور میں عیسائی مشنریز باقاعدہ منظم طریق پر رسول اللہﷺ کی ذات مبارکہ پر خصوصاً اور دینِ اسلام پر عموماً نہایت سخت اور تند و تیز حملے کر رہے تھے۔ تاریخ اس امر کی شاہد ہے کہ اس وقت حضرت مسیح موعودؑ ایک چٹان کی طرح کھڑے ہوئے اور عیسائی مشنریز کے مقابل تحریر و تقریر سے رسول اکرمﷺ اور دینِ اسلام کا دفاع کیا۔ اس امر کے گواہ خود عیسائی مشنری بھی ہیں۔

حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانیؓ بیان کرتے ہیں کہ

’’1925ء کی دوسری ششماہی میں جب میں لنڈن گیا تو میں ڈاکٹر پادری وایٹ بریخٹ صاحب (جو آجکل وہاں ڈاکٹر سٹانٹسن کہلاتے ہیں )سے ملا۔ پادری صاحب بٹالہ میں مشنری رہے ہیں۔ اور حضرت صاحب سے بھی ان کی بعض ملاقاتیں ہوئی ہیں۔ پادری فتح مسیح صاحب سے بٹالہ میں ایک مباحثہ الہام کے متعلق تھا۔ اس میں بھی ان کا دخل تھا۔ غرض سلسلہ کی تاریخ میں ان کا کچھ تعلق ہے۔ اس سلسلہ میں ان سے مجھے ملنے کی خواہش تھی۔ اور میں ان سے جا کر ملا۔ اثنائے گفتگو میں میرے بعض سوالات کے جواب میں جو حضرت کی سیرت یا بعض واقعات کے متعلق تھے۔ ایک موقعہ پر انہوں نے کہا کہ

’’میں نے ایک بات مرزا صاحب میں یہ دیکھی جو مجھے پسند نہیں تھی۔ کہ وہ جب آنحضرتﷺ پر اعتراض کیا جاتا تو ناراض ہو جاتے تھے۔ اور ان کا چہرہ متغیر ہو جاتا تھا۔ ‘‘

میں نے پادری صاحب کو کہاکہ جو بات آپ کو ناپسند ہے۔ میں اسی پر قربان ہوں۔ کیونکہ اس سے حضرت مرزا صاحب کی زندگی کے ایک پہلو پر ایسی روشنی پڑتی ہے کہ وہ آپ کی ایمانی غیرت اور آنحضرتﷺ سے محبت ہی نہیں عشق اور فدائیت کو نمایاں کر دیتی ہے۔ آپ کے نزدیک شاید یہ عیب ہو۔ مگر میں تو اسے اعلیٰ درجہ کا اخلاق یقین کرتا ہوں۔ اور آپ کے منہ سے سن کر حضرت مرزا صاحب کی محبت اور آپ کے ساتھ عقیدت میں بہت بڑی ترقی محسوس کرتا ہوں۔ غرض آپؑ کو آنحضرتﷺ سے بے انتہا محبت اور عشق تھا۔ آپؑ یہ برداشت ہی نہ کر سکتے تھے کہ کوئی شخص آپؐ کی بے ادبی کرے۔ کوئی چیز آپؑ کو غصہ نہیں دلا سکتی تھی۔ اور سچ تو یہ ہےکہ آپؑ کو غصہ آتا ہی نہ تھا۔ بغیر اس کے کہ آنحضرتﷺ یا شعائر اﷲ کی کوئی بے ادبی کرے۔ ‘‘

(حیاتِ احمد جلد سوم صفحہ 21-22)

ایک دفعہ حضرت مسیح موعودؑ سفر میں تھے اور لاہور کے اسٹیشن کے پاس ایک مسجد میں وضو فرمارہے تھے۔ اس وقت پنڈت لیکھرام حضورؑ سے ملنے کے لیے آیا اور آکر سلام کیا۔ مگر حضرت صاحبؑ نے کچھ جواب نہیں دیا۔ اس نے اس خیال سے کہ شاید آپ نے سنا نہیں دوسری طرف سے ہوکر پھر سلام کیا۔ مگر آپ نے پھر بھی توجہ نہیں کی۔ اس کے بعد حاضرین میں سے کسی نے کہا کہ حضور! پنڈت لیکھرام نے سلام کیا تھا۔ آپ نے فرمایا:

’’ہمارے آقا کو گالیاں دیتا ہے اور ہمیں سلام کرتا ہے۔‘‘

(سیرت المہدی، حصہ اول، صفحہ 272)

کثرت سے ذکر

آپﷺ سے محبت کی یہ علامت کہ آپﷺ کا زیادہ سے زیادہ تذکرہ کیا جائے۔ عام دنیاوی قانون بھی یہ ہے کہ جس چیز سے محبت ہوتی ہے اس کا زبان پر تذکرہ بھی زیادہ ہوتا ہے۔ آپﷺ کا تذکرہ کرنے کا حکم اللہ تعالیٰ نےان الفاظ میں دیا ہے:

إِنَّ اللّٰهَ وَمَلَائِكَتَهٗ يُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِيِّ یَآ أَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوْا صَلُّوْا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا (الاحزاب:56)

یقیناً اللہ اور اس کے فرشتے نبیﷺ پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو تم بھی اس(رسول) پر درود بھیجو اور کثرت سے سلامتی بھی۔

اس بات کا اندازہ ان دو اشعار سے ہوتا ہے کہ کس طرح رسول پاک محمد مصطفیٰﷺ کے عاشقِ صادق ہر وقت اپنے محبوب آقا کی محبت میں فنا رہتے اور کس طرح اپنے نثر اور شعر ہر دو انداز میں اس کا اظہار بھی فرماتے رہتے۔

یَا رَبِّ صَلِّ عَلٰی نَبِیِّکَ دَائمًِا

فِیْ ھٰذِہٖ الدُّنْیَا وَ بَعْثٍ ثَانٖ

مِنْ ذِکْرِ وَجْھِکَ یَا حَدِیْقَۃَ بَھْجَتِیْ

لَمْ اَخْلُ فِیْ لَحْظٍ وَّ لَا فِیْ آنٖ

(آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد5صفحہ 593تا594)

اے میرے رب تو اپنے نبیﷺ پر اس جہان میں بھی درود نازل فرما اور دوسرے جہان میں بھی درود نازل فرمانا۔

اے میرے خوشی اور مسرت کے چشمے ! میں کسی لحظہ اور کسی وقت آپ کے ذکر سے خالی نہیں ہوتا۔

بلند پایاں کلام کے ذریعہ رسول اللہﷺ کی ذاتِ مبارکہ کی عکاسی

چند اقتباسات بھی پیش خدمت ہیں جن سے اپنے آقاﷺ سےآپؑ کی محبت جھلک رہی ہے:

’’وہ انسان جس نے اپنی ذات سے اپنی صفات سے اپنے افعال سے اپنے اعمال سے اور اپنے روحانی اور پاک قویٰ کے پرزور دریا سے کمالِ تام کا نمونہ علماً و عملاً و صدقاً و ثباتاًدکھلایا اور انسانِ کاملؐ کہلایا … وہ انسان جو سب سے زیادہ کامل اور انسان کامل تھا اور کامل نبی تھا اور کامل برکتوں کے ساتھ آیا جس سے روحانی بعث اور حشر کی وجہ سے دنیا کی پہلی قیامت ظاہر ہوئی اور ایک عالم کا عالم مرا ہوا اُس کے آنے سے زندہ ہوگیا وہ مبارک نبی حضرت خاتم الانبیاء امام الاصفیاء ختم المرسلین فخرالنبیین جناب محمد مصطفےٰﷺ ہیں۔ اے پیارے خدا اس پیارے نبی پر وہ رحمت اور درود بھیج جو ابتداء دنیا سے تو نے کسی پر نہ بھیجا ہو۔ ‘‘

(اتمام الحجۃ، روحانی خزائن جلد 8صفحہ 308)

’’ہم نے ایک ایسے نبی کا دامن پکڑا ہے جو خدا نما ہے۔ کسی نے یہ شعر بہت ہی اچھا کہا ہے۔

محمدؐ عربی بادشاہ ہر دو سرا

کرے ہے روح قدس جس کے در کی دربانی

اسے خدا تو نہیں کہہ سکوں پہ کہتا ہوں

کہ اُس کی مرتبہ دانی میں ہے خدادانی

ہم کس زبان سے خدا کا شکر کریں جس نے ایسے نبی کی پیروی ہمیں نصیب کی جو سعیدوں کی ارواح کے لیے آفتاب ہے۔ جیسے اجسام کے لئے سورج وہ اندھیرے کے وقت ظاہر ہوا اور دنیا کو اپنی روشنی سے روشن کر دیا۔ وہ نہ تھکانہ ماندہ ہوا جب تک کہ عرب کے تمام حصہ کو شرک سے پاک نہ کردیا۔ وہ اپنی سچائی کی آپ دلیل ہے کیونکہ اُس کا نور ہر ایک زمانہ میں موجود ہے اور اس کی سچی پیروی انسان کو یوں پاک کرتی ہے کہ جیسا ایک صاف اور شفاف دریا کا پانی میلے کپڑوں کو۔ ‘‘

(چشمہ معرفت حصہ دوم، روحانی خزائن جلد 23صفحہ 289)

’’وہ اعلیٰ درجہ کا نور جو انسان کو دیا گیا تھا۔ یعنی انسان کامل کو۔ وہ ملائک میں نہیں تھا۔ نجوم میں نہیں تھا۔ قمر میں نہیں تھا۔ آفتاب میں بھی نہیں تھا۔ وہ زمین کے سمندروں اور دریاؤں میں بھی نہیں تھا۔ وہ لعل اور یاقوت اور زمرد اور الماس اور موتی میں بھی نہیں تھا۔ غرض وہ کسی چیز ارضی اور سماوی میں نہیں تھا۔ صرف انسان میں تھا۔ یعنی انسان کامل میں۔ جس کا اتم اور اکمل اور اعلیٰ اور ارفع فرد ہمارے سیّد و مولیٰ سید الانبیاء سیّد الاحیاء محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ ‘‘

(آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد5صفحہ 160)

’’میں ہمیشہ تعجب کی نگاہ سے دیکھتا ہوں کہ یہ عربی نبی جس کا نام محمدؐ ہے (ہزار ہزار درود اور سلام اُس پر) یہ کس عالی مرتبہ کا نبی ہے اس کے عالی مقام کا انتہا معلوم نہیں ہوسکتا اور اُس کی تاثیر قدسی کا اندازہ کرنا انسان کا کام نہیں۔ افسوس کہ جیسا حق شناخت کا ہے اس کے مرتبہ کو شناخت نہیں کیا گیا۔ وہ توحید جو دنیا سے گم ہوچکی تھی وہی ایک پہلوان ہے جو دوبارہ اس کو دنیا میں لایا۔ اس نے خدا سے انتہائی درجہ پر محبت کی۔ اور انتہائی درجہ پر بنی نوع کی ہمدردی میں اُس کی جان گداز ہوئی۔ اس لیے خدا نے جو اس کے دل کے راز کا واقف تھا اس کو تمام انبیاء اور تمام اولین و آخرین پر فضیلت بخشی اور اُس کی مرادیں اس کی زندگی میں اُس کو دیں۔ ‘‘

(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد 22صفحہ 115)

حضرت بانیٔ جماعت احمدیہ مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعودؑ فرماتے ہیں :

’’ایک رات اس عاجز نے اس کثرت سے درود شریف پڑھا کہ دل و جان اس سے معطر ہوگیا۔ اُسی رات خواب میں دیکھا کہ فرشتے آب زلال کی شکل پر نور کی مشکیں اس عاجز کے مکان میں لیے آتے ہیں اور ایک نے اُن سے کہا کہ یہ وہی برکات ہیں جو تُونے محمد کی طرف بھیجی تھیں صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم۔ ‘‘

(براہین احمدیہ روحانی خزائن جلد اوّل صفحہ 576)

اے میرے رب تو اپنے نبیﷺ پر اس جہان میں بھی درود نازل فرما اور دوسرے جہان میں بھی درود نازل فرمانا۔

ایک دفعہ کا واقعہ ہے حضرت مسیح موعودؑ اپنے مکان کے ساتھ والی چھوٹی سی مسجد میں جو مسجد مبارک کہلاتی ہے اکیلے ٹہل رہے تھے اور آہستہ آہستہ کچھ گنگناتے جاتے تھے اور اس کے ساتھ ہی آپ کی آنکھوں سے آنسوؤں کی تار بہتی چلی جارہی تھی۔ اُس وقت ایک مخلص دوست نے باہر سے آکر سُنا تو آپ آنحضرتﷺ کے صحابی حضرت حسّان بن ثابتؓ کا ایک شعر پڑھ رہے تھے جو حضرت حسانؓ نے آنحضرتﷺ کی وفات پر کہا تھا اور وہ شعر یہ ہے۔

کُنْتَ السَّوَادَ لِنَاظِرِیْ فَعَمِیَ عَلَیْکَ النَّاظِرُ

مَنْ شَآءَ بَعْدَکَ فَلْیَمُتْ فَعَلَیْکَ کُنْتُ اُحَاذِرُ

(دیوان حسّان بن ثابت)

’’یعنی اے خدا کے پیارے رسولؐ ! تُومیری آنکھ کی پُتلی تھا جو آج تیری وفات کی وجہ سے اندھی ہوگئی ہے۔ اب تیرے بعد جو چاہے مرے مجھے تو صرف تیری موت کا ڈر تھا جو واقع ہوگئی۔ ‘‘

راوی کا بیان ہے کہ جب میں نے حضرت مسیح موعودؑ کو اس طرح روتے دیکھا اور اُس وقت آپ البیت میں بالکل اکیلے ٹہل رہے تھے تو میں نے گھبرا کر عرض کیا کہ حضرت ! یہ کیا معاملہ ہے اور حضور کو کونسا صدمہ پہنچا ہے ؟ حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا۔ مَیں اِس وقت حسّان بن ثابتؓ کا یہ شعر پڑھ رہا تھا اور میرے دل میں یہ آرزو پیدا ہورہی تھی کہ کاش یہ شعر میری زبان سے نکلتا۔

(سیرت طیبہ صفحہ 22تا23)

ذکر کے وقت تعظیم

جہاں حضرت محمد مصطفیٰﷺ پر درود و سلام بھیجنا ایک قرآنی حکم ہے وہیں رسول اللہﷺ کے ذکر پر بھی درود پڑھنا، محبتِ نبی کریمﷺ کی ایک عظیم الشان تعظیم ہے۔

ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی کسی تقریر یا مجلس میں رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کا ذکر فرماتے تو بسا اوقات ان محبت بھرے الفاظ میں ذکر فرماتےکہ ’’ہمارے آنحضرت‘‘نے یوں فرمایا ہے۔ اسی طرح تحریر میں آپ آنحضرتﷺ کے نام کے بعد صرف آپؐ نہیں لکھتے تھے بلکہ پورا درود یعنی ’’صلے اللہ علیہ وسلم‘‘ لکھا کرتے تھے۔

( سیرت المہدی روایت نمبر 547)

حضرت نواب محمد علی خان صاحبؓ فرماتے ہیں کہ رات دن میں جب بھی حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ذکر آتا تو آپ کے منہ سے یہی نکلتا تھا: ’’ہمارے رسول کریم، ہمارے نبی کریم ‘‘

(سیرت المہدی روایت نمبر 1066)

میاں خیر الدین صاحب سیکھوانیؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک عرب غالباً اس کا نام محمد سعید تھا۔ قادیان میں دیر تک رہا تھا۔ ایک روز حضور علیہ السلام بعد نماز مسجد مبارک میں حاضرین مسجد میں بیٹھے ہوئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ذکر مبارک فرمارہے تھے کہ اس عرب کے منہ سے یہ فقرہ نکل گیا کہ ’’رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم غریب تھے۔ ‘‘ پس عرب کا یہ کہنا ہی تھا کہ حضور علیہ السلام کو اس قدر رنج ہوا کہ چہرہ مبارک سرخ ہوگیا اور محمد سعید عرب پر وہ جھاڑ ڈالی کہ وہ متحیر اور مبہوت ہوکر خاموش ہوگیا اور اس کے چہرہ کا رنگ فق ہوگیا۔ فرمایا کہ ’’کیا محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غریب تھا جس نے ایک رومی شاہی ایلچی کو اُحد پہاڑ پر سارا کاسارا مال مویشی عطا کردیا تھا وغیرہ۔ اس کو مال دنیا سے لگاؤ اور محبت نہ تھی۔ ‘‘

(سیرت المہدی روایت نمبر 1246)

ملاقات کا شوق

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

مِنْ أَشَدِّ أُمَّتِي لِي حُبًّا، نَاسٌ يَكُونُونَ بَعْدِي، يَوَدُّ أَحَدُهُمْ لَوْ رَآنِي بِأَهْلِهِ وَمَالِهِ

(صحیح مسلم كتاب الجنۃو صفۃ النعیم و اھلھا۔ حدیث: 2832)

یعنی مجھ سے شدید ترین محبت کرنے والے وہ لوگ ہوں گے جو میرے بعد آئیں گے ان میں سے ایک اپنے اہل خانہ اور پوری دولت کے بدلے میں مجھے دیکھنے کی خواہش کرے گا۔

رسول اللہﷺ کی زیارت کی طلب کا اظہار آپؑ کے اس شعر سے ہوتا ہے۔

یَا حِبِّ اِنَّکَ قَدْ دَخَلْتَ مَحَبَّۃً

فِیْ مُھْجَتِیْ وَ مَدَارِکِیْ وَ جَنَانِیْ

جِسْمِیْ یَطِیْرُ اِلَیْکَ مِنْ شَوْقٍ عَلَا

یَالَیْتَ کَانَتْ قُوَّۃُ الطَّیَرَانٖ

(آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد 5صفحہ 594)

اے میرے محبوب تیری محبت میری جان اور میرے حواس اور میرے دل میں سرایت کرچکی ہے۔

(اے میرے معشوق) تیرا عشق میرے جسم پر (کچھ ) اس طرح غلبہ پا چکا ہے کہ (وفورجذبات کی وجہ سے) وہ تیری طرف اُڑا جاتاہے۔ کاش مجھ میں اُڑنے کی طاقت ہوتی (اور میں اُڑ کر تیرے پاس پہنچ جاتا)۔

اِنِّیْ اَمُوْتُ وَلَا تَمُوْتُ مَحَبَّتِیْ

یُدْرٰی بِذِکْرِکَ فِی التُّرَابِ نِدَائِیْ

(منن الرحمان، صفحہ25)

میں تو (ایک دن) اس دنیا سے کوچ کرجاؤں گا، لیکن میری (وہ) محبت (جو میں تجھ سے کرتا ہوں اس) پر کبھی موت نہیں آئے گی۔ میری (قبر کی) مٹی سے تیری یاد میں آوازیں بلندہوں گی۔

حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ تحریرفرماتے ہیں :

’’ایک دفعہ گھریلو ماحول کی بات ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ کی کچھ طبیعت ناساز تھی اور آپ گھر میں چارپائی پر لیٹے ہوئے تھے اور حضرت امّاں جان نور اللہ مرقدھااور ہمارے نانا جان یعنی حضرت میر ناصر نواب صاحب مرحوم بھی پاس بیٹھے تھے کہ حج کا ذکر شروع ہوگیا۔ حضرت نانا جان نے کوئی ایسی بات کہی کہ اب تو حج کے لیے سفر اور رستے وغیرہ کی سہولت پیدا ہورہی ہے حج کو چلنا چاہیئے۔ اس وقت زیارت حرمین شریفین کے تصور میں حضرت مسیح موعود ؑکی آنکھیں آنسوؤں سے بھری ہوئی تھیں اور آپ اپنے ہاتھ کی اُنگلی سے اپنے آنسو پونچھتے جاتے تھےحضرت ناناجان کی بات سُن کر فرمایا :

’’یہ تو ٹھیک ہے اور ہماری بھی دلی خواہش ہے مگر میں سوچا کرتا ہوں کہ کیا میں آنحضرتﷺ کے مزار کو دیکھ بھی سکوں گا۔ ‘‘

یہ ایک خالصتاً گھریلو ماحول کی بظاہر چھوٹی سی بات ہے لیکن اگر غور کیا جائے تو اس میں اُس اتھاہ سمندر کی طغیانی لہریں کھیلتی ہوئی نظر آتی ہیں جو عشقِ رسولؐ کے متعلق حضرت مسیح موعودؑ کے قلب صافی میں موجزن تھیں۔ حج کی کسے خواہش نہیں مگر ذرا اُس شخص کی بے پایاں محبت کا اندازہ لگاؤ جس کی روح حج کے تصور میں پروانہ وار رسول پاکؐ (فداہ نفسی) کے مزار پر پہنچ جاتی ہے اوروہاں اس کی آنکھیں اس نظارہ کی تاب نہ لا کر بند ہونی شروع ہو جاتی ہیں۔ ‘‘

(سیرۃ طیبہ، صفحہ 30تا31)

حرف آخر

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ

’’ایک جگہ آپؑ فرماتے ہیں کہ

’’مسلمانوں میں اندرونی تفرقہ کا موجب بھی یہی حُبّ دنیا ہی ہوئی ہے۔ کیونکہ اگر محض اللہ تعالیٰ کی رضا مقدم ہوتی تو آسانی سے سمجھ میں آ سکتا تھا کہ فلاں فرقے کے اصول زیادہ صاف ہیں اور وہ انہیں قبول کر کے ایک ہو جاتے۔ اب جبکہ حُبّ ِدنیا کی وجہ سے یہ خرابی پیدا ہو رہی ہے تو ایسے لوگوں کو کیسے مسلمان کہا جا سکتا ہے جبکہ ان کا قدم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم پر نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے تو فرمایا تھا:

قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ

یعنی (کہو) اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہو تو میری اتباع کرو۔ اللہ تعالیٰ تم کو دوست رکھے گا‘‘۔ آپ فرماتے ہیں کہ’’اب اس حُبُّ اللہ کی بجائے اور اِتّباع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بجائے حُبُّ الدنیا کو مقدم کیا گیا ہے۔ کیا یہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اِتّباع ہے؟ کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دنیادار تھے؟ کیا وہ (نعوذ باللہ) سود لیا کرتے تھے؟ یا فرائض اور احکامِ الٰہی کی بجاآوری میں غفلت کیا کرتے تھے؟ کیا آپ میں معاذ اللہ نفاق تھا، مداہنہ تھا؟ دنیا کو دین پر مقدم کرتے تھے؟ غور کرو! اِتّباع تو یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلو اور پھر دیکھو کہ خدا تعالیٰ کیسے کیسے فضل کرتا ہے۔ ‘‘

(ملفوظات جلد8صفحہ348-349۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

لیکن آجکل عملی طور پر جو مسلمانوں کی حالت ہے اور پھر اللہ تعالیٰ کی جو فعلی شہادت اس کے خلاف ہے وہ اس بات کی گواہ ہے کہ اُن کا یہ برا حال ہو رہا ہے۔ ملک ملک لڑ رہے ہیں۔ غیروں کے پاس جا کر ہم مسلمان ممالک دوسرے مسلمان ممالک کے خلاف لڑنے کے لئے بھیک مانگتے ہیں۔

… تو یہ حالات ہیں مسلمانوں کے۔ اور اسی کا نقشہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کھینچا ہے کہ تم لوگ تو پھٹے ہوئے ہو۔ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو کس طرح حاصل کر سکتے ہو۔ ‘‘

(خطبہ جمعہ فرمودہ20؍ اکتوبر 2017ء مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل10؍نومبر2017ءصفحہ6)

پس حضرت مسیح موعودؑ کا بے مثال عشقِ رسول صرف آپ کی حیات تک محدود نہ رہا۔ یہ سلسلۂ محبت ہمیشہ ہمیش جاری رہنے والا ہے۔ خواہ آپ کا کلام ہو یا آپ کا اسوہ ! آپ کے متبعین اور مخلص خلافت حقہ اسلامیہ کے سائے تلے عشقِ محمد کے جذبہ سے سرشار دونوں کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔ لاکھوں بلکہ کروڑوں احمدیوں کے دلوں میں اس حقیقی محبت کا بحرِ بیکراں موجزن ہے۔ یہ وہ فیضان ہے جومسیح محمدی نے اس زمانے میں جاری کیا اور حقیقی عشق محمدی کی جو لازوال دولت ہمیں عطا فرمائی وہ تمام افراد جماعت کا جزوِ ایمان اور ان کے سینوں میں جگمگاتی ہے۔

مخالفین جو چاہیں کہیں، جو چاہے محبت کے معیار قائم کریں لیکن مسیح الزماں کے اپنے آقا و مولیٰ ؐ کےحقیقی عشق میں وہ سارے معیار اور ساری علامات روزِ روشن کی طرح نمایاں ہوتی ہیں جو اللہ تعالیٰ نے قائم کی ہیں کہ

آپؑ کو جنابِ الٰہی سے یہ عظیم الشان سند عطا کی گئی :

ھٰذَا رَجُلٌ یُحِبُّ رَسُوْلَ اللّٰہِ

یعنی یہ وہ آدمی ہے جو رسول اللہﷺ سے محبت رکھتا ہے۔

(براہین احمدیہ ہر چہار حصص۔ روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 597-599 حاشیہ در حاشیہ نمبر 3)

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

ایک تبصرہ

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close