سیرت النبی ﷺ

آنحضرت ﷺ کا عشقِ الٰہی

(جمیل احمد بٹ)

عشق الٰہی کی یہی سرشاری تھی کہ جب اہلِ مکہ نے آپﷺ کو اللہ کی راہ سے روکنے کے لیے مال و دولت، حسین عورت اور سرداری کی پیش کش کی تو آپؐ نے دنیا کی ان نعمتوں کوذرہ برابر اہمیت نہ دی اور ان سب کوبلا تامّل ٹھکرا کران کی جگہ ا للہ کی خاطر اپنے لیے گالیاں، کانٹے، برستے پتھر، بہتا خون اور جلا وطنی کو اختیا ر کر لیا

آنحضرت ﷺ کے عشقِ الٰہی کامضمون آپ کی تمام حیاتِ طیبہ پر محیط ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام نے اپنے درج ذیل فارسی شعر میں آنحضرتﷺ کو عاشقانِ الٰہی کے گروہ کا بادشاہ فرما کر عشقِ الٰہی کے اس دریائے مضمون کو کوزے میں سمیٹ دیا ہے کہ

سرور خاصانِ حق ، شاہِ گروہ عاشقان

آنکہ روحش کرد طے ہر منزلِ و صلِ نگار

(آئینہ کمالات اسلام،روحانی خزائن جلد 5صفحہ 23)

ترجمہ:وہ خاصانِ حق کا سردار اور عاشقانِ الٰہی کی جماعت کا بادشاہ ہے جس کی روح نے معشوق کے وصل کے ہر درجے کو طے کر لیا ہے۔

اس عشق کے چند پہلوؤں کا کسی قدر ذکر اس مضمون کا موضوع ہے۔

ابتدا سے اسیرِ محبت

آنحضور ﷺ کے زمانہ ٔنبوت کے شب و روز تو تمام تر عشقِ الٰہی کے اظہار سے منور تھے ہی لیکن واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ آپ ﷺ ہمیشہ ایک دلدار اور دلبر کے اسیر رہے۔ لڑکپن اور نوجوانی میں آپ ﷺ کا اپنے ہم جولیوں کی سرگرمیوں سے الگ اور ممتاز رہنا۔ جوانی میں طاہر، امین اور صدیق بن کر اسبابِ دنیا سے بے نیازی اور سیر چشمی روا رکھنا اور ظاہراً محرومیوں کو ایک شانِ استغنا سے نظر انداز کر کے ہمیشہ ایک صابر اور راضی با رضا وجود بنے رہنا یہ سب ایک اعلیٰ اور بر تر ہستی کے عشق میںمگن رہنے کے اظہارہی تو تھے۔

محبت کی یہی تڑپ فزوں تر ہو کر آپ کو بار بار زندگی کی ہل چل سے دور، شہر سے باہر ایک تنگ و تاریک غار میں لے جاتی۔جہاں کئی کئی دن آپ تنِ تنہا قیام کر کے ہمہ وقت اللہ کی یاد میں محو رہتے۔آپؐ کووہاں تاریکی سے وحشت ہوتی نہ تنہائی سے اداسی، نہ بچھوئوں کا خوف ہوتا اور نہ سانپوں کا ڈر۔ آپﷺ کو شب و روز یوںعشق میں گم دیکھنے والے آپ کے مخالف بھی پکار اٹھتے :

عَشِقَ محمدٌ رَبَّہٗ کہ محمدﷺ اپنے ربّ کا عاشق ہے۔

بارگاہِ الٰہی میں مقبولیت

یہ بے خودی ، ایک ایسا غیر معمولی اظہار عشق تھا جو بارگاہِ الٰہی میں مقبول ہوا اورآپ کو قربِ الٰہی کا انعام عطا ہوا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

وَ وَجَدَکَ ضَآلًّا فَہَدٰی ( الضحیٰ : 8)

اس آیت میں لفظ ضَآلًّاکی خوبصورت توضیح حضرت مسیح موعود ؑنے یہ بیان فرمائی ہے کہ ’’اور تجھ کوضالّ (یعنی عاشق وجہ اللہ)پایاپس اپنی طرف کھینچ لایا‘‘۔

(آئینہ کمالاتِ اسلام روحانی خزائن جلد5صفحہ 171)

یہ منزل آنحضرت ﷺ کے عشقِ الٰہی کے سفر میں ایک نیا آغاز بن گئی اورآپ نے خدا سے اتنی محبت کی کہ جو بالآخر اس سَند خوشنودی کی حق دار ٹھہری کہ

قُلۡ اِنَّ صَلَاتِیۡ وَ نُسُکِیۡ وَ مَحۡیَایَ وَ مَمَاتِیۡ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ( الانعام :163)

تو کہہ دے کہ یقیناً میر ی نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت اللہ رب العالمین کے لیے ہے۔

سرشاری عشق

عشق الٰہی کی یہی سرشاری تھی کہ جب اہلِ مکہ نے آپﷺ کو اللہ کی راہ سے روکنے کے لیے مال و دولت ، حسین عورت اور سرداری کی پیش کش کی تو آپ نے دنیا کی ان نعمتوں کوذرہ برابر اہمیت نہ دی اور ان سب کوبلا تامل ٹھکرا کران کی جگہ ا للہ کی خاطر اپنے لیے گالیاں، کانٹے، برستے پتھر، بہتا خون اورجلا وطنی کو اختیار کر لیا۔

مزیدطلب گارِ محبت

اس عشق کے باوجوداللہ سے محبت کو اور بھی بڑھانے کے لیے آپ یوں دعا گو رہتے :

’’اے اللہ مَیں تجھ سے تیری محبت مانگتا ہوں اَور ان کی محبت جو تجھ سے محبت کرتے ہیں اور اس عمل کی محبت جو مجھے تیری محبت تک پہنچا دے۔ اے میرے اللہ ایسا کر کہ تیری محبت مجھے اپنی جان ،اپنے مال، اپنے اہل و عیال اور ٹھنڈے میٹھے پانی سے بھی زیادہ پیاری لگے۔‘‘

(ترمذی کتاب الدعوات )

ذکرِ محبوب

ایک عاشقِ صادق ہونے کے ناطے محبوب کا ذکر ہر دم آپﷺ کی زبان پر رہتا۔ اٹھتے بیٹھتے ، چلتے پھرتے ، سوتے جاگتے غرضیکہ ہر حرکت اور سکون میںآپ اللہ کو یاد کرتے اور اسی سے مدد چاہتے۔ہر ارادہ پر ان شاءاللّٰہ ، ہر کام کے آغاز پر بسم اللّٰہ ، ہر نعمت پر الحمد للّٰہ ، ہر بڑے واقعے پر سبحان اللّٰہ ، مصیبت کے وقت

اِنَّا لِلّٰہِ ،

مکروہ بات پر

لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ ،

گناہ کی بات پر استغفراللّٰہ اور ہر اہم کام کے آغاز پر اَعُوْذُ بِاللّٰہ وردِ زبان ہوتا۔ اس کے علاوہ ہر موقع کی مناسبت سے اللہ سے دعائیں آپ کا معمول تھا۔

غیرتِ محبوب

محبوب کے لیے غیرت عشق کا ایک لازمہ ہے۔یہ اسی کا ایک بے تابانہ اظہارتھا کہ جب جنگِ احد کے اختتام پر ایک کافر سردار نے آپ اور آپ ﷺ کے قریبی ساتھیوں کے نام پکارے اور صحابہ ؓتعمیلِ حکم میں خاموش رہے تو دشمن کو اپنی جیت اَور بڑی لگی اور اُس نے ھُبل بت کے حق میں نعرہ لگایا تب آپ ﷺ غیرتِ الٰہی سے تڑپ اُٹھے اور نزاکتِ وقت سے بے پروا ہو کر صحابہ ؓکو ان جوابی نعروں کی ہدایت فرمائی کہ

اللّٰہُ اَعلیٰ و اَجَل۔اللّٰہُ مَولٰنا وَلَا مَولیٰ لَکُم

(بخاری کتاب المغازی)

کہ اللہ ہی صاحبِ عزت اور عظمت ہے۔اللہ ہمارا کارساز ہے اور تمہارا کوئی کارساز نہیں۔

شغفِ عبادت

اپنے محبوب کے پاس حاضری کے لیے حالتِ نمازآپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک تھی۔

حضرت عائشہ ؓ فرماتی تھیں کہ’’ آپؐ کی نماز کے حسن اور طوالت کا کیا کہنا!‘‘

(بخاری کتاب الجمعۃ)

نماز میں خُدا کے حضور اتنی دیر کھڑے رہتے کہ پنڈلیاں سوج جاتیں۔ کسی وقت شریک نماز ایک صحابی ؓکا درج ذیل اظہار اسی کیفیت پر گواہی ہے :

’’مَیں نے ایک ایسی بات کا ارادہ کیا جو بُری تھی اچھی نہ تھی۔ پوچھا گیا یہ کیا بات تھی بتایا کہ مَیں نے ارادہ کیا کہ مَیں بیٹھ جائوں اور آنحضور ﷺ کو اکیلا کھڑا رہنے دوں۔‘‘

(بخاری کتاب الجمعۃ)

سجدہ کا یہ عالم تھا کہ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ ایک بار اتنا لمبا سجدہ کیاکہ مجھے شبہ ہوا کہ کہیں حضورؐ نے اپنی جان آفریں کے سپرد نہ کر دی ہو۔ بے چینی سے اٹھی ، پائوں کو ہاتھ لگایا تو تسلی ہوئی۔ حضور ﷺ اس سجدہ میں یوں دعا گو تھے :

’’اے اللہ تو معاف کرنے والا ہے، معاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے ، پس مجھے معاف کر دے۔‘‘

خدا تعالیٰ سے راز و نیاز کرنا آپ کو اتنا عزیز تھا کہ کئی سرد اور تاریک راتوں میں آپ حضرت عائشہ ؓ کا بستر چھوڑ کر نماز میں مصروف ہو جاتے۔ ایک بار حضرت عائشہ ؓآپ کو بستر پر نہ پا کر تلاش کے لیے نکلیں تو آپ کو اس حالت میں سجدہ میں پایا کہ سینہ ہنڈیا کی طرح ابل رہا تھا۔ اور زبان پربتکراریہ اظہار ِعشق تھا۔

سَجَد لَکَ سَوَادِیْ وَخَیَالِیْ

یعنی (اے اللہ) تیرے حضور میرے جسم و جان سجدہ کرتے ہیں۔

(مجمع الزوائد ھیثمی جلد 2)

ایک بار حضرت عائشہ ؓسے فرمایا کہ اگر اجازت دو تو یہ رات مَیں اپنے مولیٰ کی عبادت میں گزار لوں۔ حضرت ام المومنین ؓنے عرض کیا یا رسول اللہ میری خوشی تو اسی میں ہے جس میں آپ راضی ہیں۔ پھر وہ طویل رات آپ نے اپنے ربّ کی عبادت میں گزار دی۔

(درِمنثور سیوطی جلد 6)

ان شب بیداریوں کے بعد بھی جب آپ سوتے تو دل خیالِ یار میں ہی اٹکا رہتا جیسا کہ فرمایا:

’’میری آنکھیں تو بے شک سوتی ہیں لیکن دل بیدار رہتا ہے ‘‘( بخاری)

یہ شوقِ عبادت ہی تھا کہ وفات سے کچھ پہلے شدتِ بیماری میں نماز کے لیے اس حال میں چلے کہ آپ کے ہاتھ دو صحابہ کے کندھوں پر تھے اور پائوں زمین پر گھسٹتے جاتے تھے۔

(بخاری کتاب الاذان)

سوزشِ عشق

نماز کی طرح آپ ﷺ کے عشقِ ا لٰہی کا یہی رنگ روزہ میں بھی نمایاں تھا۔ ماہِ رمضان آتے ہی آپ ذکرِ الٰہی اور عبادت کے لیے پہلے سے بھی زیادہ کمر بستہ ہو جاتے۔ ایک عاشقانہ کیفیت میں روزہ گزارتے اور جب افطار کرتے تو کہتے:

اللّٰھُمَّ لَکَ صُمْتُ وَعَلیٰ رِزْقِکَ اَفْطَرْتُ

کہ اے اللہ مَیں تیرے لیے ہی کھانے سے رکا تھااور اب تیرے دیے ہوئے رزق سے ہی پھر کھاتا ہوں۔

سراپا جودو سخا بن کراس مہینہ میں آپ کی تیز آندھی جیسی سخاوت اور سب کچھ لٹا دینے کی کیفیت بھی محبت کی ایک ترنگ ہی تھی۔

(بخاری کتاب الصوم)

جب آخری عشرہ آتا تو بقول حضرت عائشہ ؓآپ راتوں کو اور بھی زندہ کر دیتے۔ہر سال اعتکاف بیٹھتے اور دس دن رات مسجد میں ڈیرے ڈالے اپنے پیارے ربّ سے راز و نیازکے علاوہ کوئی شغل نہ ہوتا۔

(بخاری کتاب الصلوٰۃ)

شکر گزاری

محبوب کی شکرگزاری بھی محبت کا ایک قرینہ ہے۔ آنحضور ﷺ اللہ کی ہر نعمت پر انتہائی شکر کرتے۔اس شکر کا یہ عاشقانہ اظہار ہی تھا کہ بارش ہوتی تو اس کا قطرہ زبان پر لیتے اور فرماتے: ’’یہ میرے ربّ کی تازہ نعمت ہے۔‘‘

(مسند احمد جلد 3)

عبادتِ الٰہی میں مشقت کوبھی آپ اسی شکر گزاری کا تقاضا جانتے۔چنانچہ یہ کیا ہی خوب شکرِ نعمت تھاکہ جب ایک بارحضرت عائشہ ؓنے عرض کیا کہ آپ کو اللہ نے بخش دیا ہے تو پھر کیوں آپ عبادت میں اتنی تکلیف اٹھاتے ہیں توفرمایا:

’’کیا مَیں اپنے ربّ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں؟‘‘

(بخاری کتاب التفسیر)

خشیتِ الٰہی

محبت کے رنگوں میں سے ایک محبوب کی ناراضگی کا خوف ہے۔ آنحضورﷺ بھی اس سے ترساں رہتے۔ اس خشیت کا یہ عالم تھا کہ ۱یک بار افق پر غبار چھایا تو آپ ﷺ مضطرب ہو کر ٹہلنے لگے۔ کسی صحابی نے عرض کیا یا رسول اللہ! بادل آئے ہیں۔ گھبرانے کی کون سی بات ہے ؟ فرمایا: ثمود کی قوم پر اسی طرح ہوا چلی تھی جس نے سب کچھ تباہ کر کے رکھ دیا تھا۔

اسی کے تحت کسی بھی قسم کی کمی رہ جانے کے خیال سے استغفار آپ کا معمول تھا۔

شوقِ ملاقات

عا شق کا منتہیٰ محبوب سے ملاقات ہے۔آپ ﷺ کے عشقِ الٰہی کی یہ معراج تھی کہ اس شوق ملاقات میںآپ نے اخروی دنیا کو ترجیح دی۔ فتح مکہ کے بعد ایک دن فرمایا:

’’اللہ نے ایک بندے کو اختیار دیا کہ چاہوتو اس دنیا میں رہو اورچاہو تو میرے پاس آجائو اور بندے نے اپنے مولیٰ کے پاس جانا ہی پسند کیا۔‘‘

حضرت ابو بکر صدیق ؓنے یہ سنا تو بے اختیار رو پڑے کہ جان گئے کہ یہ بندہ خود آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفی ﷺ ہیں جنہوں نے اپنے محبوب خدا سے ملنے کو اس دنیا میں رہنے پر ترجیح دی ہے۔

اور بالآخر جب یہ وقت آگیا تو ہاتھ آسمان کی طرف اٹھائے ہوئے زبان پر تکرار سے محبوب ہی کا نام تھا کہ

اللّٰھُمَّ بِالرَّفِیْقِ الاَعلیٰ

(اے اللہ! بزرگ و برتر ساتھی) اور یہی کہتے کہتے ہاتھ ڈھلک گیا۔

(بخاری کتاب المغازی باب مرض النبیﷺ)

اوراپنے ربّ سے ملاقات کی منتظر آپ کی روح ِاطہر اسے پکارتی ہوئی اس کے حضورحاضر ہو گئی۔اور یوںعشق الٰہی میں گزری ہوئی اس تمام زندگی کا وقتِ آخر بھی اس بات پر گواہ ہوا کہ عَشِقَ محمدٌ رَبَّہٗ

چراغ سے چراغ

اس عشقِ الٰہی نے آپ کو صاحبِ قوسین اور مظہرِ اتم الوہیت کے آخری روحانی مقام پر پہنچا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو تمام عالمین کے لیے رحمت کر دیا جس کے تحت آپ ﷺ نے تمام مخلوق کواللہ کی اولاد جان کر سب سے خوب محبت کی اور جہاں ان سے شفقت اور محبت کا سلوک کیا وہیں ان کی ہدایت کے لیے بھی بے چین رہے۔ بعض راتیں یہ دعا مانگتے گزر جاتیں کہ

’’اے اللہ! اگر تو انہیں عذاب دینا چاہے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر انہیں بخش دے تو تُو غالب اور حکمت والا ہے۔‘‘

(نسائی کتاب الافتتاح)

اسی تڑپ اور دعائوں کے نتیجہ میں ایک عظیم روحانی انقلاب برپا ہوا۔ وہ توحید جو دنیا سے گم ہو چکی تھی آپ دوبارہ اس کو دنیا میں لائے۔ پشتوں سے شرک میں مبتلا لوگ آپﷺ کی قوت قدسیہ سے نہ صرف باخدا ہو گئے بلکہ ایسے خدانما وجود بن گئے جن کے بارے میں ایک موقع پر یہ ارشاد ہوا :

’’اللہ کے بعض بندے پراگندہ بال اور غبار آلود ہوتے ہیں۔دروازوں پر سے ان کو دھکے دیے جاتے ہیں لیکن اگر وہ اللہ کی قسم کھا لیں کہ ایسا ہو تو خدا تعالیٰ ویسا ہی کر دیتا ہے‘‘ (مسلم)

یہ اصحاب آنحضور ﷺ کے عشقِ الٰہی کی اس شدّت کے زیرِ اثرخود بھی اللہ کے عاشق ہو گئے تھے۔ یہ عشق ہی تھا کہ حضرت بلال ؓسزا بھگت کر ہوش میں آتے تو پھر زبان پر یہی اقرارہوتا کہ اَحَد ، اَحَد کہ اللہ ایک ہے۔ اللہ ایک ہے۔

یہ عشق ہی تھا جس نے اپنی شہ رگ سے ابلتے ہوئے خون کو دیکھ کر حضرت حرام بن ملحان ؓسے یہ نعرئہ مستانہ لگوایا:

فُزْتُ بِرَبِّ الکَعبَۃِ

کہ ربِّ کعبہ کی قسم مَیں کامیاب ہو گیا۔

(بخاری کتاب المغازی باب غزوۃ الرجیع)

یہ عشق ہی تھا کہ حضرت علی ؓکی ایڑی میں پیوست نیزہ نکالنے کے لیے بہترین وقت وہ ٹھہرا جب وہ نماز میں خدا کے حضور سجدہ ریز ہوں اور دنیا کی ہوش نہ رہے۔

یہ اللہ کا عرفان اور اُس کا عشق ہی تھا جس نے آنحضرتﷺ کی وفات پر آپ کے دوست اور ساتھی حضرت ابو بکر صدیق ؓکو صحابہ ؓکی تسلی کے لیے یہ الفاظ سجھائے کہ

’’جو محمدﷺ کی عبادت کرتا تھا وہ جان لے کہ آپﷺ فوت ہو گئے لیکن جو خدا کی عبادت کرتا تھا وہ یاد رکھے کہ خدا زندہ ہے اور کبھی نہیں مرے گا۔‘‘

(بخاری کتاب المغازی باب مرض النبی ﷺ)

محبت کے یہ سب چراغ عشقِ الٰہی کی اُسی شمع سے روشن ہوئے جسے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے اپنی تمام زندگی میں پوری شان سے جلائے رکھا۔

محبت الٰہی کی راہ

آنحضور ﷺ کی اس محبت کو اللہ تعالیٰ نے یہ شرفِ قبولیت بھی بخشا کہ اس کی پیروی آئندہ اللہ کی محبت پانے کا ذریعہ قرار پائی۔ جیسا کہ فرمایا:

قُلۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تُحِبُّوۡنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ یُحۡبِبۡکُمُ اللّٰہُ (آلِ عمران :33)

ترجمہ: تو کہہ دے اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری اتباع کرو (تو) وہ (بھی) تم سے محبت کرے گا۔

اطاعتِ رسول ﷺ کے طریق پر چلنے والوں کوقرآن کریم میں نبیوں ، صدیقوں ، شہداء اور صالحین کے ہم رُتبہ ہونے کی بشارت دی گئی اور بعض کوحدیثِ رسول ﷺ میں انبیاء بنی اسرائیل جیسا اور مجدد اور مسیح و مہدی کا نام دیا گیا۔ سب نے اس سبق کو دہرایا۔ چنانچہ اطاعتِ رسول ﷺ کے طریق پر چل کر امتی نبی کا نام پانے والے آنحضرت ﷺ کے غلام اور عاشق صادق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آج عشقِ الٰہی کی اس شمع کو پھر لَو دی ہے۔ اور خدا سے محبت کے اس چلن کو یوں عام کرنا چاہا ہے کہ فرمایا :

’’یہ دولت لینے کے لائق ہے اگرچہ جان دینے سے ملے اور یہ لعل خریدنے کے لائق ہے اگرچہ تمام وجود کھونے سے حاصل ہو۔ ‘‘

(کشتی نوح ،روحانی خزائن جلد 19صفحہ 21)

اسی لیے ہم سب محبتِ الٰہی کے اس راستے کے مسافر ہیں۔اللہ تعالیٰ کی معرفت ، صرف اُس کو اپنا ربّ جاننا ، اُس سے ذاتی تعلق پیدا کرنا ، اُس سے ڈرنا اور اس سے محبت کرنا ہماری منزلیں ہیں۔اس راستہ پر حضرت مسیح موعود ؑکی بیان فرمودہ یہ خبر ہمارا زادِ راہ ہے کہ

’’تمہیں خوش خبری ہو کہ قرب پانے کا میدان خالی ہے۔ہر ایک قوم دنیا سے پیار کر رہی ہے …جو لوگ پورے زور سے اس دروازے سے داخل ہونا چاہتے ہیں اُن کے لئے موقع ہے کہ وہ اپنے جوہر دکھلائیں اور خُدا سے خاص انعام پاویں۔ ‘‘

(الوصیت ،روحانی خزائن جلد 20صفحہ 308تا309)

محبت اور عشقِ الٰہی کا یہ خالی میدان ہمارے ارادوں اور پیش قدمی کا منتظر ہے۔

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close