آنرایبل کابنے کابا جاکاٹے آف سینیگال

سینیگال جماعت سے تعلق رکھنے والے ایک بہت ہی مخلص اور فدائی احمدی دوست کے آنریبل کابنے کاباجا کاٹے کچھ روز پہلے انتقال کر گئے۔ مرحوم ہمسایہ ملک گنی کوناکری میں سفر پر تھے اور دوران سفر ہی اللہ کو پیارے ہوگئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔

مرحوم کاینے کابا صاحب سینیگال بھر میں بہت مقبول سیاسی اور انتظامی شخصیت تھے۔ ان کا تعلق سینیگال کے معروف شہرتانبا کنڈا سے تھا۔ آپ کا خاندان سیاسی اعتبار سےعلاقہ بھر میں بہت ہی معروف و مقبول ہے۔ جس زمانہ میں خاکسار سینیگال میں خدمات بجا لا رہا تھا اس دورمیں تین ممبرز آف پارلیمنٹ ان کے اپنے گھرانہ میں سےتھے۔

موصوف بنیادی طور پر شعبہ تعلیم سے وابستہ تھے، بعد میں سیاسی میدان میں آگئے پھر مسلسل تین دہائیوں تک بطور ممبر آف پارلیمنٹ،میئر اور دیگر اعلیٰ عہدوں پر خدمت کی توفیق پائی۔

قبول احمدیت کی سعادت

مرحوم کو 1995ء میں آنرایبل نجیک جینگ ڈپٹی سپیکر نیشنل اسمبلی کے ذریعہ جماعت کا پیغام پہنچا۔ پھر جلد ہی اللہ تعالی نے دل کی گرہ کھول دی جس کے بعد بشاشت قلبی اورانشراح صدر کے ساتھ بیعت کرکے جماعت احمدیہ میں شامل ہوگئے۔ دراصل گیمبیا میں ان کے ایک احمدی عزیز رہتے تھے جن کے ذریعہ سے کابنے صاحب کسی حد تک جماعت احمدیہ سے پہلے ہی متعارف تھے۔

انفاق فی سبیل اللہ

سینیگال میں آوائل میں بیعت کرنے والے زیادہ تر دوست مزدور پیشہ یا زمیندار تھے جو حسب توفیق مالی قربانی کرتے تھے۔ جب آپ نے بیعت کی تو بفضل تعالی دل کھول کر مالی قربانی پیش کرنے کی توفیق پاتے، ان دنوں سینیگال بھر میں سب سے زیادہ مالی قربانی کرنے والے آپ ہی تھے۔

چندہ کی برکت۔کیا خوب سودا نقد ہے

ابتدا میں ملک بھر میں کوئی مشن ہاؤس نہیں تھا۔ جماعتیں بھی نئی نئی بننی شروع ہوئی تھیں۔ اکثرزمیندار دوست تھے جو گھاس پھونس کے چھوٹے چھوٹے گھروں میں رہتے تھے جو مشکل ان کے اہل خانہ کے سر چھپانے کے لیے ہی کافی ہوتے تھے۔ اس لیے دوران سفر رات گزارنے کا مرحلہ بھی کٹھن ہوتا تھا۔

جب کابنے کابا صاحب نے بیعت کرلی تو اس کے بعد خاکسار کے گھر تشریف لاتے۔ ایک بار میں نے ان کے علاقہ میں تبلیغی دورہ پر جانے کا پروگرام بنایا۔ انہیں اطلاع دی گئی کہ فلاں دن میں تانبا کنڈا کے علاقہ میں آنا چاہتا ہوں۔ بڑے خوش ہوئے اور وفد کے لیے ایک ہوٹل میں دو کمرے بک کرادیے۔ جب ہم لوگ وہاں پہنچے، بہت خوش ہوئے اور ہمیں ہوٹل میں لے گئے۔ میں نے کہا کہ لازمی نہیں کہ مبلغ ہوٹل میں رہے، ہم تو کہیں بھی رات گزار سکتے ہیں، آپ کو تکلف کرنے کی کیا ضرورت تھی! کہنے لگے یہ میں نے اپنی محبت سے کیا ہے۔ میں نے کہا کیا ہی اچھا ہوتا کہ آپ یہ رقم چندہ میں دے دیتے۔ نومبائع تھے۔ اس لیے مالی قربانی کے نظام کے بارے میں ابھی تک پوری طرح نہیں جانتے تھے۔ اس پر میں نے ان کی خواہش پر مالی نظام کے بارے میں تفصیل کے ساتھ بتایا۔ کہنے لگے ان شااللہ میں اب چندہ جات ادا کیا کروں گا۔

ابھی چند دن ہی گزرے تھے کہ ان کا مجھے فون آیا۔ کہنے لگے میں ڈاکارمیں ایم پی ہاسٹل میں ہوں اور میری گاڑی خراب ہے۔ اس لیے اگر ممکن ہو تو میرے پاس ہاسٹل میں آجائیں۔ میں ہاسٹل پہنچ گیا۔ حال احوال کے بعد انہوں نے اپنا بریف کیس کھولا اوراس میں سے چار سو ڈالر نکال کر مجھے تھما دیے اور کہا کہ یہ میرا چندہ ہے۔ اس سے قبل کبھی بھی کسی احمدی نے سینیگال میں اتنی بڑی مالی قربانی نہ کی تھی۔

چندے کی برکت

اگلے روز مجھے ان کا تانبا کنڈا سے فون آیا۔ کہنے لگے جزاکم اللہ امیر۔ میں نے کہا کہ کس بات کا جزاکم اللہ۔کہنے لگے، میں نے چندہ کی برکت دیکھ لی ہے۔ بتانے لگے جب میں ڈاکار سے واپس اپنے شہر جارہاتھا شام کے وقت میں نے ایک ویران علاقہ میں برلب سڑک نماز اداکی اور کچھ کھایا پیا۔ اس کے بعد اپنی منزل کو رواں دواں ہوگیا۔ رستہ میں مجھے اپنے بریف کیس کی ضرورت پیش آئی۔ دیکھا توبریف کیس نہیں تھا،علم ہوا جہاں رکا تھا ادھر ہی رہ گیا ہے۔ پریشانی میں واپس گیا لیکن وہاں تو کچھ بھی نہ ملا۔ مایوس ہو کر واپس چل پڑا۔ سخت پریشانی تھی، لیکن کیا کر سکتا تھا۔ کہنے لگے،علی الصبح کسی نامعلوم شخص کا فون آیا اور پوچھا آپ کون صاحب ہیں؟ میں نے بتایا کہ میں کابنے بول رہا ہوں۔ دوسری جانب سے آواز آئی کیا آپ کا کوئی سامان گم ہوا ہے۔ میں بتایا میرا بریف کیس کل راستہ میں گم گیا ہے اور بتایا کہ اس میں کچھ کچھ کرنسی ہے، چارپاسپورٹس اور ایئرٹکٹس ہیں۔ کہنے لگے۔ آپ فکر نہ کریں وہ میرے پاس ہے۔ میں فلاں ہوٹل میں ہوں،آکر لے جائیں۔ یہ دوست ایک نیک دل انجینئر تھے جنہوں نے کمال ایمان داری کےساتھ سب کچھ واپس دے دیا۔درحقیقت بریف کیس میں خاصی کرنسی کے علاوہ سعودی عرب کے ویزہ شدہ پاسپورٹ اور ٹکٹیں تھیں۔

غیر ممکن کو ممکن میں بدل دیتا ہے۔ خلیفہ کے الفاظ

یہ مالی قربانی کا واقعہ،ان دنوں کی بات ہے۔ جب ان کی سیاسی پارٹی کے سر براہ نے انہیں آئندہ انتخابات میں ٹکٹ دینے سے معذرت کردی تھی۔بعد میں ایک اور وعدہ کیا مگر پھر مایوس کیا۔میں نے حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ کی خدمت میں ان کی مالی قربانی اورسیاسی حالات کی پریشانی کے بارے میں بذریعہ فیکس اطلاع کی نیز دعا کی درخواست بھی کی۔ چند ایام کے بعد حضور رحمہ اللہ کا خط ملا جس میں تحریر تھا کہ انہیں بتائیں کہ فکر نہ کریں اللہ تعالیٰ ان کو پہلے سے بہتر مقام عطا کرے گا۔ پھر ایسا ہی ہوا۔ صدرمملکت نے انہیں وزیر کے برابرعہدے پرمتعین کردیا۔ الحمد للہ

کمال اخلاص

بہت ہی قابل اعتماد اور ایمان دار انسان تھے۔ جب سینیگال میں خاکسار نے جماعت ضروریات کے لیے کچھ رقبہ خریدا ملکی حالات کے تحت اسے جماعت کے نام پر خرید نہیں سکتے تھے۔ یہ ایک ایکڑ رقبہ مرحوم کے نام پر خریدا گیا۔ بعدازاں کافی سالوں کے بعد جماعت کے نام پر منتقل کیا گیا۔ آجکل اسی رقبہ میں جماعت کے دفاتر، گیسٹ ہاوسزاور جلسہ گاہ ہے۔الحمدللہ

مہمان نوازی

خاکسار کو جماعتی دوروں کے دوران بہت دفعہ ان کے گھر میں رہنے کا موقع ملتا رہا۔ بہت ہی محبت اور پیارسے پیش آتے اور میری ادنیٰ ادنیٰ ضرویات کا خیال رکھتے۔ ایک دفعہ گنی بساؤ میں ملکی حالات بگڑنے کی وجہ سے مرکزی کارکنان، مکرم حمیداللہ ظفر صاحب امیر جماعت گنی بساو کی قیادت میں سینیگال میں ہجرت کرنی پڑی۔ گنی بساو اور سینیگال کے بارڈر کے قریبی شہر میں ان کی رہائش کا انتظام کیا گیا۔ انہی ایام میں پردیسی کی حالت میں عید آگئی۔ ہم نے کابنے کابا صاحب کے شہر میں عید پر اکٹھے ہونے کا فیصلہ کیا۔موصوف نے ایک سرائے میں جو بیرون شہر تھی ہمارے قیام کا انتظام کیا۔ اس دوران انہوں نے ہم سب کا اس قدرخیال رکھا کہ جوبہت ہی قابل ستائش ہے۔ عید کے روزکھانا بن رہا تھا۔ ااس دوران کسی دوست نے کہا کہ لیموں ہونے چاہیے۔ موصوف ادھر ہی تھے، فوری طور بن بتائےاپنی گاڑی پر کہیں چلے گئے۔ ہم نے سوچا کسی کام کے لیے گئے ہیں۔ گھنٹہ بھرکے بعد واپس تشریف لائے اور کہا یہ لیموں حاضر ہیں۔اس موسم میں لیموں ناپید تھے۔ تلاش بسیار کے بعد کہیں سے لے ہی آئے۔یہ مختصر سا واقعہ ان کے اخلاق حسنہ کا مظہر ہے۔

 ہمدرد اور باوفا دوست

سینیگال میں قیام کے دنوں میں میری والدہ محترمہ کا پاکستان میں انتقال ہوا۔ آنرایبل کسی دور دراز علاقے میں دورہ پر گئے ہوئے تھے۔جب انہیں والدہ کی رحلت کاعلم ہوا تو فوری طور دورہ ملتوی کرکے بذریعہ ہوائی جہاز تعزیت کے لیے ڈاکار تشریف لے آئے۔

خلافت سے عشق

جب حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ کا انتقال ہوا تو فوری طور میرے گھر تشریف لائے۔ اسی دوران مرکز سے ارشاد موصول ہواکہ میں بھی انگلستان پہنچوں۔ حسب ارشاد مرکز لندن جانے کے لیے میں ان کے ہمراہ ائر پورٹ پہنچا لیکن کوئی جہاز نہ سکا۔ سارا دن ہم لو گ ادھر ہی محو انتظار رہے،شاید کوئی جہاز مل جائے۔ لیکن سوائے مایوسی کے کچھ نہ مل پایا۔ اگلے روز پھر علی الصبح ائر پورٹ پرپہنچ گئے۔اب ایک ایئر لائن سے ٹکٹ ملنے کی کچھ امید پیدا ہوئی، لیکن اس کی قیمت عام ٹکٹ سے تین گنا زیادہ تھی جو جماعتی مالی صورت حال کے پیش نظر میری سکت سے بہت بالا تھی۔ میں اب مایوسی کی کیفیت میں تھا۔ کابنے صاحب کہنے لگے، دیکھو زندگی میں ایسے مواقع بہت کم ملتے ہیں۔ تم پیسوں کی فکر نہ کرو، یہ رقم میں ادا کردوں گا۔ میں نے کہا کہ پیسے آپ کے ہوں یا جماعت کے، بات توایک ہی ہے۔ لیکن ان کی خلافت اور جماعت کی خاطر محبت سے لبریز جذبات آج تک میرے دل میں نقش ہیں۔ افریقہ میں اللہ کے فضل سے بہت احمدیت کے شیدائی ہیں جو جان ومال وآبرو کی قربانی کرنے کے لیے ہرآن صف بستہ تیار رہتے ہیں، لیکن میں نے اپنے جاننے والے احباب میں سے اس قدر جماعت کی خاطر وسیع القلب سعید روح نہیں دیکھی۔ بعد ازاں بفضل تعالی معجزانہ طور بڑے ہی مناسب داموں ٹکٹ کا انتظام ہوگیا۔

جلسہ سا لانہ انگلستان میں کئی بار اپنے ذاتی اخراجات پر تشریف لائے۔ ایک دفعہ جلسہ کے موقع پر حضور انور کی جانب سے غیر ملکی وفود کو کچھ چیزبطور تحفہ پیش کی گئی،تو کہنے لگے یہ تو ہمارا فرض بنتا ہے کہ اشاعت دین حق کے لیے ہم حضور اقدس کی خدمت میں کچھ پیش کریں۔ میرا ان کے ساتھ ہمیشہ ہی ٹیلی فونک رابطہ رہتا تھا۔ جب بھی بات ہوتی،علیک سلیک کے بعد ہمیشہ پوچھتےکہ حضور کیسے ہیں۔

دعوت الی اللہ

بہت ہی نڈر اور بہادراحمدی تھے۔ دعوت الی اللہ ایک جنون تھا۔ ہر ملنے والے کو دعوت حق دیتے۔ یہاں تک کہ سربراہ مملکت کو بھی جماعت کا تعارف کرانے کی توفیق ملی۔ مرحوم کا حلقہ احباب بہت وسیع تھا۔ ہرملنے والے تک پیغام حق پہنچانے کی کوشش کرتے۔ہر وقت انکی گاڑی میں جماعتی لٹریچراور بیعت فارم دستیاب ہوتے۔

سپین میں موصوف کو شجر احمدیت کی تخم ریزی کی توفیق

گذشتہ سال خاکسار پیارے آقا کے ارشاد کی تعمیل میں تبلیغ کی غرض سے سپین میں تھا۔ ایک روز میں نے انہیں سینیگال فون کیا اور بتایا کہ میں آجکل سپین میں تبلیغی مشن پر ہوں۔بہت خوش ہوئے اور کہنے لگے وہاں میرے بھی کچھ عزیز ہیں۔ اور بتایا کہ میں ان کو آپ کے بارے میں فون کرکے بتادیتا ہوں اورآپ کو ان کے فون نمبر بھیجتا ہوں ان سے رابطہ کریں۔ اندھے کو کیا چاہیے، دوآنکھیں۔ میں نے ان لوگوں کو کابنے کابا کے حوالہ سےاپنا تعارف کرایا۔ وہ دوست بہت خوش ہوئے اس طرح اللہ تعالی نے ایک اور باب رحمت واکر دیا۔بعدازاں ان میں سے چند گھرانےبیعت کرکے احمدیت کی آغوش میں آگئے۔ جن کا اب جماعت سے گہرا رشتہ ہےالحمدللہ

یہ چند سطور میں نے اپنے مخلص دوست کے ذکر خیر میں رقم کی ہیں تا کسی رنگ میں تو میں مرحوم دوست کا کسی حد تک حق ادا کرسکوں۔ ؎ گر قبول افتد زہے عزوشرف

حضرت امیرالمومنین ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے خطبہ جمعہ فرمودہ 11؍ ستمبر 2020ء میں آنریبل کابنے کا ذکرِ خیر فرمایا اور نمازِ جمعہ کے بعد نمازِ جنازہ غائب پڑھائی۔ قارئین کرام کی خدمت میں بھی اس سعید روح کی مغفرت اور جنت الفردوس میں ارفع مقام کے لیے دعا کی درخواست ہے۔ جزاکم اللہ

اللھم اغفر لہ وارحمہ وارفع درجاتہ فی اعلی علیین۔آمین یا رب العلمین

خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را

(منور احمد خورشید۔ مبلغ سلسلہ، سابق امیر و مشنری انچارج سینیگال)

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Check Also
Close
Back to top button
Close