متفرق مضامین

مجددین امت کی فہرست جامع تعارف اورخدمات کے ساتھ

(عبد السمیع خان۔ گھانا)

پہلی صدی نبوت اور خلافت کی صدی ہے اور پھر بارہ صدیوں کے بارہ ستارے، تیرہویں مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ہیں

آنحضرتﷺ نےہر صدی کے سرپر ایسے مجددین کی پیشگوئی فرمائی ہے جو خدا تعالیٰ کی نصرت سے کھڑے ہو کر دینِ اسلام کی تجدید کریں گے اور امت کی تعلیم و تربیت اور اصلاح کے لیے سرگرم ہوں گے۔

(سنن ابو داؤد کتاب الملاحم باب ما یذکر فی قرن الماۃ۔ حدیث نمبر 4295)

چنانچہ خلافت راشدہ کے بعد پہلی اور دوسری صدی ہجری کے سنگم سے یہ سلسلہ جاری ہوا اور امت محمدیہ کے خاتم الخلفا٫اور مجدد الف آخر حضرت مسیح موعودؑ تک جاری رہا اور ہزار ہا بزرگان نے مختلف خطوں اور وقتوں میں خدمات سرانجام دیں اورایک ہی وقت میں مختلف مجددین مختلف علاقوں میں خدمت کر تے رہے۔ اب یہی کام خلافت احمدیہ منہاج نبوت پر عالمگیر سطح پر کر رہی ہے۔

حضرت مسیح موعودؑ اس حدیث مجددین اور اس کے مصداق بزرگوں کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

’’قال رسول اللّٰہ ﷺ ان اللّٰہ یبعث لھذہ الامۃ علی راس کل مائۃ سنۃ من یجدد لھا دینھا۔ رواہ ابو داؤد

یعنی خدا ہر ایک صدی کے سر پر اِس اُمّت کے لئے ایک شخص مبعوث فرمائے گا جو اُس کے لئے دین کو تازہ کرے گا اور اب اِس صدی کا چوبیسواں سال جاتا ہے اور ممکن نہیں کہ رسول اللہﷺ کے فرمودہ میں تخلف ہو۔اگر کوئی کہے کہ اگر یہ حدیث صحیح ہے تو بارہ صدیوں کے مجددوں کے نام بتلاویں۔ اِس کا جواب یہ ہے کہ یہ حدیث علماء اُمت میں مسلّم چلی آئی ہے …بعض اکابر محدثین نے اپنے اپنے زمانہ میں خود مجدد ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ بعض نے کسی دوسرے کے مجدد بنانے کی کوشش کی ہے۔ پس اگر یہ حدیث صحیح نہیں تو انہوں نے دیانت سے کام نہیں لیا اور ہمارے لئے ضروری نہیں کہ تمام مجددین کے نام ہمیں یاد ہوں یہ علم محیط تو خاصہ خدا تعالیٰ کا ہے ہمیں عالم الغیب ہونے کا دعویٰ نہیں مگر اُسی قدر جو خدا بتلاوے ماسوا اس کے یہ اُمت ایک بڑے حصہ دنیا میں پھیلی ہوئی ہے اور خدا کی مصلحت کبھی کسی ملک میں مجدّد پیدا کرتی ہے اور کبھی کسی ملک میں۔پس خدا کے کاموں کا کون پورا علم رکھ سکتا ہے اور کون اُس کے غیب پر احاطہ کرسکتا ہے۔ بھلا یہ تو بتلاؤ کہ حضرت آدم سے لے کر آنحضرتﷺ تک ہر ایک قوم میں نبی کتنے گزرے ہیں۔ اگر تم یہ بتلادو گے تو ہم مجدّد بھی بتلا دیں گے۔ ‘‘

(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد 22صفحہ 200تا201)

حضرت مسیح موعودؑکے علاوہ کسی اور مجدد کےلیے دعویٰ ضروری نہیں تھااور نہ ہی ان پر ایمان لانے کی ہدایت تھی اس لیے محض چند ایک کا دعویٰ ملتا ہے اور مختلف لوگوں نے اپنے ذوق اور تحقیق کے مطابق کئی بزرگوں کو مجدد قرار دیا۔ حضرت مسیح موعودؑ کے زمانے میں نواب صدیق حسن خان صاحب نے13 صدیوں کے مجددین کی ایک فہرست تیار کی جس میں ہر صدی کے فتنوں اور ان کا قلع قمع کرنے والے ایک سے زیادہ بزرگوں کا ذکر تھا (حجج الکرامہ صفحہ 135تا 139)۔ یہی فہرست محترم ملک عبدالرحمان خادم صاحب نے انہی کے حوالے سے اپنی پاکٹ بک میں بھی درج کی اور یہی فہرست احمدیہ لٹریچر میں بھی متداول رہی۔ اس اعتراض کے جواب میں کہ اگر مرزا صاحب 14ویں صدی کے مجدد ہیں توپہلے 13 صدیوں کے مجدد کون تھے؟ ایک احمدی عالم مرزا خدا بخش صاحب نے حضرت مسیح موعودؑ کی زندگی میں اپنی کتاب عسل مصفیٰ میں ایک فہرست شائع کی اور کئی بزرگوں کا ذکر کیا۔ ( بعد میں یہ لاہوری جماعت میں شامل ہو گئے)۔

یہ سارے بزرگ یقیناً مجدد اور خادم اسلام تھے مگر بعض صدیوں میں بعض بزرگوں کا ذکر رہ گیا ہے اس لیے یہ نئی فہرست تیار کی گئی ہے جس میں کچھ اضافے اور تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ مثلاً نواب صاحب نے پہلے مجدد کے طور پر حضرت عمر بن عبدالعزیز کا ذکر کیا ہے جبکہ اسی وقت میں حضرت امام ابو حنیفہؒ کی خدمات وسعت اور پائیداری میں ان سے بڑھ کر تھیں۔ اسی طرح دوسرے مجدد حضرت امام شافعیؒ کا ذکر ہے جبکہ اسی وقت حضرت امام بخاری بھی تھے جن کی خدمات کا دائرہ بہت بالا اور دائمی ہے۔ ساتویں صدی میں حضرت معین الدین چشتیؒ کے ساتھ ابن عربیؒ کو بھی شامل کی گیا ہے کیونکہ ان کی خدمات بھی کم نہیں اور وہ ہمارے مسلک کے زیادہ قریب ہیں۔ آٹھویں صدی میں امام ابن تیمیہ کی بجائے ابن قیم کو شامل کیا گیا ہے جن کا کام بہت زیادہ ٹھوس اور ہمارے نقطہ نگاہ سے مطابقت رکھتا ہے۔ اسی طرح حضرت مسیح موعودؑ نے اورنگ زیب عالمگیر اور حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ نے حضرت عثمان ڈان فودیو کو بھی مجدد قرار دیا ہے، اس لیے ان کو بھی فہرست میں شامل کر لیا گیاہے۔ اس طرح بعض صدیوں میں ایک کی بجائے 2کا ذکر ہے۔

یہ فہرست پہلی فہرست سے زیادہ جامع اورجماعت احمدیہ کے نقطہ نظر سے زیادہ ہم آہنگ ہے ورنہ مختلف زاویوں سے کئی قسم کی فہرستیں مرتب کی جاسکتی ہیں۔ سابقہ فہرستوں میں صرف نام تھے جبکہ اس فہرست میں تفصیل کے ساتھ بزرگوں کے حالات اور خدمات کے ساتھ ان مسائل کا بھی ذکر کیا گیا ہے جس میں وہ مسیح موعود ؑکے مؤقف کی تائید کرتے ہیں۔

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close