افریقہ (رپورٹس)

عوامی جمہوریہ کونگو میں عید الاضحی کے موقع پر جماعت احمدیہ کے پروگرام

اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سےامسال عوامی جمہوریہ کونگو میں جماعت احمدیہ نے عید الاضحی مورخہ 31؍جولائی 2020ء بروز جمعةالمبارک منا ئی۔ دنیا میں پھیلی وبا کورونا وائرس کی وجہ سے کونگو کی حکومت نے تمام عبادت گاہوں کو کھولنے پر پابندی لگا رکھی تھی اس لیے احباب جماعت نے گھروں پر اپنے اہل خانہ کے ساتھ نماز عید کا اہتمام کیا۔

کونگو کنشاسا میں جماعت نے ہیومینٹی فرسٹ جرمنی کی شراکت میں قربانی کی۔ اس کے علاوہ احباب جماعت نے انفرادی قربانیاں بھی کیں۔ یہ قربانیاں عید کے تینوں دن ہوئیں۔ کونگو کنشاسا کے 9ریجنز میں 372چھوٹے اور 17بڑے جانور قربان کیے گئے۔ کل 284مقامات پر قربانی کی گئی۔ مجموعی طور پر 5984خاندان اور 33273؍افراد میں قربانی کا گوشت تقسیم کیا گیا جن میں افراد جماعت،دیگر مسلمان اور غیر مسلم سب شامل ہیں۔

دورہ ہائےجیل خانہ جات

ہر سال کی طرح امسال بھی خدا کے فضل سے جماعت احمدیہ کونگوکنشاسا کو جیل خانہ جات میں قیدیوں میں کھانا تقسیم کرنے کی توفیق ملی۔ جس کی تفصیل حسب ذیل ہے:

سینٹرل جیل Bandundu ریجن

جماعت احمدیہ باندندو کو گزشتہ سال کی طرح امسال بھی عید الاضحی کے پر مسرت موقع پر سینٹرل جیل باندندو کے قیدیوں کو کھانا کھلانے کا پروگرام بنانے کی توفیق ملی۔ الحمد للہ علیٰ ذٰلک

اجازت نامہ: قیدیوں کو کھانا کھلانے سے قبل متعلقہ محکمہ سے اجازت حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے۔ جس کے لیے صوبائی ڈائریکٹر جیل خانہ جات Bikoko Mwenga Joseph‏Mr سے رابطہ کرکے اجازت حاصل کی۔

کھانے کی تیاری: 31؍جولائی کو اشیاء کی خریداری کے بعد کھانے کی تیاری کا کام شام کو ہی شروع کردیا گیا جس کے لیے باندندو کے خدام شام کو ہی مشن ہاؤس آگئے۔ خدام ساری رات کام کرتے رہے۔ اگلے دن دوپہر تقریباً1بجے کھانا تیار ہوگیا۔ کھانے میں گائے کے گوشت کا سالن، Fufu اور جوس شامل تھا۔ کھانا تیار ہوتے ہی لوکل معلمین کرام،صدر صاحب باندندو شہر اورچند دیگر احمدی احباب مکرم مولانا فرید احمد بھٹی صاحب ریجنل مشنری کے ہمراہ سینٹرل جیل روانہ ہوئے۔

قیدیوں کو کھانے کی تقسیم: جیل کی انتظامیہ نے جماعتی وفد کو خود کھانا تقسیم کرنے کی اجازت دی۔ ہر سیل کا نگران اور قیدی آتے اور نگران نام بولتا اور قیدی آکر کھانا لے جاتے۔ اس طرح 3گھنٹوں میں 300سے زائد قیدیوں میں کھانا تقسیم کیا گیا۔ اس دوران قیدی دعائیں دیتے،شکریہ ادا کرتے اور جماعت کی اس کاوش کو سراہتے۔ اس کے علاوہ جیل کے تمام سٹاف کو بھی کھانا دیا گیا۔

تأثرات: جیل کی انتظامیہ نے بھی شکریہ ادا کیا۔ صوبائی ڈائریکٹر جیل خانہ جات نے کہا کہ ہم جماعت احمدیہ کے شکر گزار ہیں کہ وہ قیدیوں میں کھانا تقسیم کرنے کے لیے آئے۔ آپ پہلے بھی متعدد بار یہاں کھانا تقسیم کرنے آچکے ہیں۔ جب کبھی ہمیں کچھ ضرورت ہوتی ہے آپ سے رابطہ کرنے پر ہمیں ہمیشہ مثبت جواب ملا،میں برملا اور بلا مبالغہ کہتا ہو ں کہ آپ قیدیوں کی اور ہماری مدد کرنے میں سب سے آگے ہیں۔

اس موقع پر صوبائی ڈائریکٹر جیل خانہ جات نے ایک شکریہ کا خط بھی لکھا کہ میں جماعت احمدیہ کا تہِ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔

سینٹرل جیل و ملٹری کیمپ جیل انونگو ریجن

انونگو ریجن میں جماعت احمدیہ کو 2018ء میں مرکزی مشن ہاؤس کھولنے کی توفیق ملی۔ جماعت احمدیہ انونگو کو بھی امسال عید الاضحی کے پر مسرت موقع پر سنٹرل جیل اور ملٹری کیمپ جیل کے قیدیوں کو کھانا کھلانے کا پروگرام بنانے کی توفیق ملی۔ الحمد للہ علیٰ ذٰلک۔ یہاں بھی قیدیوں کو کھانا کھلانے سے قبل متعلقہ محکمہ سے اجازت حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے۔ جس کے لیے صوبائی ڈائریکٹر جیل خانہ جات سے ملاقات کرکے اجازت حاصل کی۔

کھانے کی تیاری و تقسیم:یکم اگست کو اشیاء کی خریداری کے بعد کھانے کی تیاری کا کام شام کو ہی شروع کردیا گیا جس کے لیے انونگو شہرکے خدام شام کو ہی مشن ہاؤس آگئے۔ خدام ساری رات کام کرتے رہے۔ اگلے دن دوپہر تقریباً12بجے کھانا تیار ہوگیا۔ کھانے میں گائے کے گوشت کا سالن،شکوانگ(مقامی کھانا)، پانی اور جوس وغیرہ تھا۔ کھانا تیار ہوتے ہی قائد صاحب خدام الاحمدیہ انونگو ریجن،ناظم اعلیٰ صاحب مجلس انصار اللہ انونگو ریجن، صدر صاحب جماعت احمدیہ انونگو شہر اور چند دیگر احمدی احباب مکرم مولانا محمد ذکی خان ریجنل مشنری کے ہمراہ سینٹرل جیل روانہ ہوئے۔ سینٹرل جیل کے بعد ملٹری کیمپ جیل گئے اور وہاں کھانا تقسیم کیا۔

ڈائریکٹر صاحب نے تمام قیدیوں کو ایک ہال میں جمع کیا جہاں ایک مختصر تقریب رکھی گئی۔ سب سے پہلے سورۃ الدھر کی آیات 6تا11کی تلاوت کی گئی جس کے بعد ان کا ترجمہ پیش کیا گیا۔ تلاوت کے بعد مولانا محمد ذکی خان ریجنل مشنری نے جماعت احمدیہ کا مختصر تعارف کروایا۔ پھر ڈائریکٹر صاحب نے بھی جماعت کا شکریہ ادا کیا اور کھانا تقسیم کرنے کی اجازت دی۔

قیدیوں میں کھانے کی تقسیم:جیل انتظامیہ نے ہمیں خود کھانا تقسیم کرنے کی اجازت دی۔ اس طرح 2گھنٹوں میں تقریباً 120قیدیوں(سول اور ملٹری جیل)، گارڈ اور انتظامیہ میں کھانا تقسیم کیا گیا۔ اس دوران قیدی شکریہ بھی ادا کرتے اور جماعت کی اس کاوش کو سراہتے بھی۔

تأثرات: ایک قیدی مکرم Mbo Endelele صاحب نے کہا کہ میں جب سے یہاں ہوں یہ پہلی دفعہ ہوا ہے کہ کسی مذہبی جماعت نے جیل میں کھانا دیا ہو اور وہ بھی اتنا اچھا اور وافر مقدار میں۔ یقیناً آج ہم پیٹ بھر کر کھانا کھائیں گے۔

ایک اور قیدی مکرم Djongolis Alias Adjedje صاحب نے کہا کہ خدا احمدیہ مسلم جماعت کی حفاظت کرے کہ تاریخ میں پہلی بار کسی نے قیدیوں کو اتنا اچھا کھانا دیا۔

اسی طرح ڈائریکٹر جیل خانہ جات اور ان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر بار بار جماعت احمدیہ کا شکریہ ادا کرتے رہے۔

سینٹرل جیل Kikwit ریجن

Kikwit ریجن میں جماعت کا مرکزی مشن 2018ء میں قائم ہوا اور یہاں بھی جماعت کو امسال عید الاضحی کے پر مسرت موقع پر سینٹرل جیل کے قیدیوں کو کھانا کھلانے کا پروگرام بنانے کی توفیق ملی۔ الحمد للہ علیٰ ذٰلک

یہاں بھی قیدیوں کو کھانا کھلانے سے قبل باقاعدہ طور پر صوبائی ڈائریکٹر جیل خانہ جات سے ملاقات کرکے اجازت حاصل کی گئی۔ اس موقع پر صوبائی ڈائریکٹر جیل خانہ جات نےکہا کہ ہم آپ کو کیسے بھول سکتے ہیں آپ پچھلے سال بھی عید کے موقع پر کھانا تقسیم کرنے کے لیے تشریف لائے تھے۔

کھانے کی تیاری و تقسیم:یکم اگست کو اشیاءکی خریداری کے بعد کھانے کی تیاری کا کام شام کو ہی شروع کردیا گیا۔ کھانے میں گائے کے گوشت کا سالن اور چاول تھے۔ مکرم عطاءالقیوم صاحب ریجنل مشنری کے ہمراہ معلم صاحب ککوت شہر مکرم ہارونا کونگولو صاحب،صدر صاحب جماعت Kibengiمکرم ادریس موپاتی صاحب اور تین خدام جیل میں کھانا تقسیم کرنے کے لیے گئے۔

جیل انتظامیہ نے ہمارے وفد کو خود کھانا تقسیم کرنے کی اجازت دی۔ اندازاً 350قیدیوں اور انتظامیہ میں کھانا تقسیم کیا گیا۔ اس دوران قیدی شکریہ بھی ادا کرتے رہے اور جماعت کی اس کاوش کو سراہتے بھی۔ انتظامیہ کی اجازت سے قیدیوں میں جماعت احمدیہ کے تعارف کے حوالہ سے پمفلٹس بھی تقسیم کیے گئے۔

سینٹرل جیل Mbanza-Ngungu ریجن

مورخہ 3؍اگست کو مکرم رضوان احمد مجوکہ صاحب ریجنل مشنری کی قیادت میں جماعتی وفد نے باننزا نگونگو ریجن میں واقع سینٹرل جیل میں 400قیدیوں کو کھانا کھلایا۔

سینٹرل جیل Kananga ریجن

اسی طرح عید الاضحی کے موقع پر کانانگا ریجن میں مکرم رمیض احمد صاحب ریجنل مشنری کی قیادت میں جماعتی وفد نے 3جیل خانوں میں کھانا تقسیم کیا جس سے دو صد سے زائد قیدی مستفید ہوئے۔

Kinzao-Mvuete جیل Matadi ریجن

متادی ریجن کے مشنری مکرم فرہاد کاہلوں صاحب نے مقامی معلم مکرم ابوبکر صاحب اور خدام کے ہمراہ Kinzao-Mvueteنامی ایک قصبہ کی جیل میں قیدیوں میں کھانا تقسیم کیا۔ اس موقع پر پچاس سے زائد قیدیوں میں گائے کے گوشت کا سالن،شکوانگ،جوس اور پانی تقسیم کیا گیا۔

یتیم خانوں اور اولڈ ایج ہوم کا دورہ

کونگو کنشاسا کے ریجن Kanangaمیں ایک یتیم خانہ اور ایک اولڈایج ہوم کا بھی دورہ کیا گیا جہاں مکرم رمیض احمد محمود صاحب ریجنل مشنری نے مجموعی طور 126؍افراد میں کھانا تقسیم کیا۔

اسی طرح ریجن Kinshasaمیں لوکل معلم مکرم موسیٰLele صاحب کی قیادت میں جماعتی وفد نے ایک یتیم خانہ میں جوس اور تحائف تقسیم کیے۔

میڈیا کوریج

جماعت احمدیہ کونگو کنشاسا کی ان مساعی کو کونگو کے میڈیا نے بھرپور کوریج دی۔

اخبارات: جن اخبارات نے جماعت کے حوالہ سے خبر شائع کی ان کے نام حسب ذیل ہیں:کونگو کنشاسا کی نیوز ایجنسی

ACP, Le Potentiel, Africa News, Le Courrier de Kinshasa اور Forum Des As۔

ریڈیو: ملک کے مختلف حصوں میں جن ریڈیو سٹیشنز پر جماعت احمدیہ کی خدمات کے حوالہ سے خبریں نشر ہوئیں وہ یہ ہیں:FM Sadm، Congo 24، Rtvs 1، Radio Liberteا ور Radio Okapi۔

Radio Okapi اقوام متحدہ کا ریڈیو ہے اور اس کی نشریات پورے ملک میں جاتی ہیں۔ انہوں نے بھی اپنے ریڈیو میں اس پروگرام کا ذکر کیا اور اپنی ویب سائٹ اور سوشل میڈیا ایپس میں اس پروگرام کے متعلق مضامین بھی شائع کیے۔

مزید بر آں متعدد ویب سائٹس نے بھی جماعت کی خدمات کے حوالہ سے خبر شائع کی۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق اس میڈیا کوریج کے نتیجے میں ڈھائی ملین سے زائد افراد تک جماعت کا پیغام پہنچا۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ان مساعی کے نیک نتائج پیدا کرے اور اس سے مزید بہتر اور اعلیٰ رنگ میں ہمیں اسلام احمدیت کا پیغام لوگوں تک پہنچانے اور ان کی خدمت کرنے کی توفیق دے۔ آمین

(رپورٹ: شاہد محمودخان ، نمائندہ الفضل انٹرنیشنل)

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button