ادبیات

ملفوظات حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور فارسی ادب (قسط نمبر 44)

(محمود احمد طلحہ ۔ استاد جامعہ احمدیہ یو کے)

قرآن شریف پر غور کی ضرورت

فرمایا:’’افسوس ہے کہ لوگ جوش اور سرگرمی کےساتھ قرآن شریف کی طرف توجہ نہیں کرتےجیسا کہ دنیا دار اپنی دنیاداری پر یا ایک شاعر اپنے اشعار پر غور کرتاہے۔ویسا بھی قرآن شریف پر غور نہیں کیا جاتا۔بٹالہ میں ایک شاعر تھا اس کا ایک دیوان ہے۔ اس نے ایک دفعہ ایک مصرعہ کہا۔

صبا شرمندہ می گردد بہ روئے گل نگہ کردن

مگر دوسرے مصرعے کی تلاش میں برابر چھ مہینےسرگردان وحیران پھرتا رہا۔ بالآخرایک دن ایک بزاز کی دوکان پر کپڑا خریدنے گیا۔بزاز نے کئی تھان کپڑوں کے نکالے۔پر اس کو کوئی پسند نہ آیا۔ آخر بغیر کچھ خریدنے کے جب اٹھ کھڑا ہو اتو بزاز ناراض ہواکہ تم نے اتنے تھان کھلوائےاور بے فائدہ تکلیف دی۔اس پر اس کودوسرا مصرع سوجھ گیا۔ اور اپنا شعر اس طرح سے پورا کیا۔

صبا شرمندہ مے گردد بروئے گل نگہ کردن

کہ رخت غنچہ را وا کرد ونتو انست تہ کردن

جس قدر محنت اس نے ایک مصرعہ کےلئے اٹھائی۔اتنی محنت اب لوگ ایک آیت قرآنی کے سمجھنے کے لئے نہیں اٹھاتے۔ قرآن جواہرات کی تھیلی ہےاور لوگ اس سے بیخبر ہیں ‘‘۔

(ملفوظات جلد دوم صفحہ 343-344)

*۔اس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فارسی کا یہ شعر استعمال کیا ہے۔

صَبَا شَرْمَنْدِہْ مِےْ گَرْدَدْبِرُوْئے گُلْ نِگَہْ کَرْدَنْ

کِہْ رَخْتِ غُنْچِہْ رَاوَا کَرْدونَتَوَانِسْت تِہْ کَرْدَنْ

شاعر شاہ عبا س دوم کا یہ شعر ہے۔جس کا اردو ترجمہ ذیل میں درج ہے۔

ترجمہ: صبا پھول کو دیکھ کر شرمندہ ہوتی ہے کہ اس نے پھول کو کِھلا تو دیالیکن اسے لپیٹنے کی طاقت نہیں رکھتی۔

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close