متفرق مضامین

حفاظت قرآن کاعظیم الشان اورمحیّرالعقول معجزہ (قسط اوّل)

(شہود آصف۔ استاذ جامعہ احمدیہ گھانا)

اُمّی نبی اور اُمّی قوم کے ذریعہ خدا تعالیٰ کا وعدہ لاثانی شان سے پورا ہوا

’’CORRECTIONS IN THE EARLY QURAN MANUSCRIPTS‘‘

’’نامی کتاب ‘‘ کا ناقدانہ جائزہ اورمتن ِقرآن میں اختلافات سے متعلق بعض اعتراضات کے جواب

روئے زمین پر تمام الٰہی کتب میں سے صرف قرآن کریم ہی کلام اللہ ہونے کا مدعی ہے اور وہی اکملیت اور ابدیت کا دعویٰ کرتا ہے۔ نیز یہ بھی اعلان کرتا ہے کہ خدا نے اس کی حفاظت کا ذمہ لیا ہےاور یہ ہر قسم کی انسانی دست برد سے محفوظ ہےاور ہمیشہ رہے گا۔ جیسا کہ فرمایا :

إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهٗ لَحَافِظُوْنَ (الحجر :10)

ترجمہ: یقیناً ہم نے ہی اس ذکر کو نازل کیا ہے اور یقیناً ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔

ہم احمدی مسلمانوں کا یہ پختہ اعتقاد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدے کے موافق نزول قرآن سے تا دم تحریرقرآن کے نقطہ نقطہ، حرف حرف اور لفظ لفظ کی حفاظت فرمائی ہے۔ قرآن کریم کا ہرحرف، لفظ اورحرکت وہی ہے جو محمد رسول اللہﷺ پر نازل ہوا۔ یہ قرآن آج کروڑوں سینوں، کتابوں اور ڈیجیٹل فارمیٹ میں محفوظ ہے اور اس میں آئندہ بھی کوئی رد و بدل ممکن نہیں۔ یہ عظیم الشان اور محیّرالعقول معجزہ اس کے کلام اللہ ہونے کی زبردست دلیل ہے۔

قرآن کریم کی اس لازوال اور بےمثال خوبی کو دیکھتے ہوئے نزول قرآ ن سے لےکر آج تک مخالفین شدّت سے اس پر حملہ آور ہیں اور نقص نکالنے کی سعی لاحاصل میں مصروف ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے اس وعدے کے مطابق ہمیشہ سے ناکام و نامراد ہیں۔ ہزار ہا کوششوں کے باوجود یہ مخالفین کوئی اختلاف، تحریف یا اضافہ تلاش کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں اور ان کےہاتھ میں ہمیشہ سے چند گھسے پٹے الزامات ہی نظر آتے ہیں جن کے متعدد مواقع پر کافی و شافی جوابات دیے گئے ہیں لیکن کچھ عرصہ گزرنے کے بعد اِن اعتراضات اور الزامات کوایک نیا رنگ دے کر پیش کر دیا جاتا ہے۔ گذشتہ سال ایک عیسائی مصنفDr. Daniel Brubakerنے ایک کتاب تصنیف کی جس کا نام ہے:

Corrections in Early Quran Manuscripts: The Twenty Examples

یہ کتاب مئی 2019ءمیں شائع ہوئی۔ اپنی تحقیق کے بارے میں مصنف کہتےہیں کہ انہوں نے ساتویں سے دسویں صدی عیسوی کے قرآنی نسخوں پر تحقیق کی ہےاور دس ہزار کے قریب نسخے دیکھے ہیں۔ اِن میں سے کوئی ایک بھی مکمل نہیں تھااور نہ ہی حضرت عثمان ؓکے دَور میں لکھے جانے والے نسخوں میں سے تھا۔ اپنی کتاب میں مصنف دعویٰ کرتے ہیں کہ میں نےقرآن کے متن میں800کے قریب ایسی درستیاں تلاش کیں جومتن مکمل ہونے کے بعدکسی انسانی ہاتھ نے عمداً کی ہیں۔ مزید تحقیق کے نتیجہ میں معلوم ہوا ہے کہ یہ درستیاں ہزاروں میں ہیں اور یہ تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ مصنف کے مطابق قرآن میں سات قسم کی دانستہ درستیاں کی گئی ہیں(جن کا آگے چل کر تفصیلی جائزہ لیا جائے گا)۔ پھر لکھتے ہیں کہ یہ درستگیاں قراءت (لہجوں کا فرق)اور اَحْرُف(طرز کتابت میں فرق) والی نہیں ہیں۔

گویا مصنف کے بقول قرآن کے جو نسخےساتویں سے دسویں صدی کے درمیان مسلمانوں میں رائج تھے اُن میں لوگوں نے اپنی مرضی سے اضافے یا کمی کی۔ اس سے یہ نتیجہ نکلا کہ رسول اللہﷺ کے زمانے میں جو متن قرآن تھا اور جس کی خلافت ِعثمان ؓ میں مزید کاپیاں تیار ہوئیں، اُس میں بعد ازاں کئی صدیوں تک تبدیلیاں ہوتی رہیں اورکچھ الفاظ کااضافہ کیا گیا اور بعض الفاظ و آیات کو قرآن سے نکال دیا گیا۔ اِس کتاب کو بنیاد بنا کر یوٹیوب پر اسلام مخالف چینلز نے قرآن میں تحریف ثابت کرنے کے درجنوں پروگرام بھی کر رکھے ہیں۔

یہاں اس کتاب کے مصنف کا کچھ تعارف کروانا بھی مناسب ہو گا۔ Dr. Daniel Brubakerایک مشہورمحقق اورقرآن کے متن پر تحقیقی تنقید کرنے میں ماہر ہیں۔ ان کے PhDکے مقالہ کا موضوع تھا:

’’Intentional changes in Quran Manuscripts‘‘

انہوںنے2010ءسے2014ءکےدرمیان اس موضوع پر کام کیا اور 2014ءمیں Rice University Houstonمیں اپنا مقالہ پیش کر کے اس کا کامیاب دفاع کیا۔ اس کے بعد بھی مصنف اسی موضوع پر کام کر رہے ہیں اور قرآن کے متن کے حوالے سے مزید کتب بھی لکھ رہے ہیں۔ مصنف کے مطابق انہوں نےقرآن کےتقریباً 10ہزار قلمی نسخوں، مخطوطوں، تحریروں اور صحیفوں کامطالعہ کیا ہے۔ اِس وقت مصنف کئی ایسی ایسوسی ایشنز کےممبربھی ہیں جو قرآن کریم پر تحقیق کر رہی ہیں۔ جن میں مندرجہ ذیل شامل ہیں۔

• Islamic Manuscript Association (IMA)

• International Qurʾanic Studies Association (IQSA)

• Association for the Study of the Middle East and Africa (ASMEA)

• Member of editorial board of the Review of Qurʾanic Research (RQR)

جمع و تدوین قرآن کا نظام

مصنف کے پیش کردہ شواہد کی حقیقت بیان کرنےسے قبل قرآن کریم کے جمع و تدوین کے بارے میں مکمل آگاہی ضروری ہے۔ حفاظت قرآن کے وعدے کے پیش نظر اللہ تعالیٰ نے تدوین قرآن کے ایسےطریق اختیارکیے اور ایسے زبردست انداز میں قرآن کے متن کی حفاظت فرمائی کہ اس کی مثال ملنا ناممکن ہے۔ یہ کاوش انسانی طاقت سے بالا معلوم ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے معجزانہ طور پر قرآن کے متن اورمعانی کی حفاظت فرمائی ہے کہ آج بھی بہت سے مخالفین اسلام یہ اعتراف کرنے پر مجبور نظر آتے ہیں کہ بے شک ہم محمد مصطفیٰﷺ کو سچا تو نہیں مانتے، لیکن قرآن کا لفظ لفظ اور حرف حرف وہی ہے جو محمدﷺ نے اپنے ماننے والوں کو دیا۔ چند ایک کا ذکر اسی مضمون کے آخر میں کیا جائے گا۔

رسول اللہﷺ کی عمرپاکیزہ جوانی کے ساتھ جب چالیس سال تک پہنچی تو آپ پر پہلی مرتبہ وحی قرآن کا نزول ہوا۔ اُس وقت آپﷺ غار حرا میں محو عبادت تھے جب جبرائیل ؑ نے آپ کو اللہ کا پیغام پہنچایا۔ رسول اللہﷺ کو قرآن کریم نے اُمّی نبی قرار دیا ہے یعنی آپ پڑھ اور لکھ نہیں سکتے تھے۔ اس وحی قرآن کو آپؐ نے جبرائیلؑ سے سنا اور اپنے اصحاب کو سنایا اور یاد کروایا۔ اس کے بعد اس کوکامل احتیاط کے ساتھ لکھوایا۔ پس قرآن کے نزول کے ساتھ ہی دونوں طریق حفظ اور کتابت کا آغاز ہو گیا۔ مگر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ نے حفاظت قرآن کی بنیاد حفظ پر رکھی اور ہزاروں انسانوں کو اس پاک مہم میں شمولیت کی سعادت بخشی۔

قرآن کریم کی حفاظت بطریق حفظ

قرآن کریم کی حفاظت کا پہلا بے نظیر اور اہم طریق حفظ تھا جو نزول قرآن کی ابتدا سےآج تک امت مسلمہ میں جاری وساری ہے۔ بظاہر تو یہ ایک انسانی ذریعہ معلوم ہوتا ہے مگرجس خصوصیت سے قرآن کریم کی حفاظت بذریعہ حفظ کی گئی، لامحالہ یہ ماننا پڑتا ہے کہ یہ الٰہی تائید اور اللہ تعالیٰ کے وعدے کی تکمیل ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ عربوں کو اللہ تعالیٰ نے بہت غیر معمولی حافظےسے بھی نوازا ہے۔ ابتدائے نزول وحی سے ہی رسول کریمﷺ کامل احتیاط سے صحابہ کرام ؓکوالفاظ قرآنی حفظ کرواتے۔ پھر کاتبین وحی کو بلوا کر لکھواتے۔ رسول اللہﷺ نے چند صحابہ کی باقاعدہ ڈیوٹی لگائی ہوئی تھی کہ وہ قرآن یاد کریں اورسیکھیں پھر دوسروں کو بھی سکھائیں۔ پس آغاز سے ہی صحابہ کرامؓ نے بڑے ذوق وشوق سے قرآن حفظ کرنا شروع کر دیا۔

یہ بات بھی ملحوظ رہے کہ قرآن کی ترتیب، نزولی و کتابی ، مختلف ہے۔ رسول اللہﷺ پر مختلف وقتوں میں مختلف سورتوں کی آیات نازل ہوتیں اور ہر دفعہ یہ بتا دیا جاتا کہ کس آیت کو کہاں رکھنا ہے اور اسی ترتیب سے قرآن یاد کیا جاتا۔ پس جب بھی کوئی نئی وحی نازل ہوتی تو رسول اللہﷺ کاتبین وحی کو بلا کر لکھواتے اور فرماتےکہ ان آیات کو فلاں سورت میں فلاں جگہ پر رکھو۔

(ترمذی کتاب التفسیر سورة التوبة)

سورة المزمل، جو اسلام کے بہت ابتدائی دَورمیں نازل ہوئی، اللہ تعالیٰ نے رسول اللہﷺ کو قرآن کے نزول شدہ حصے نماز میں پڑھنے کاارشاد فرمایا۔ عبادت کے شوق سے لبریز صحابہ نے ایک نئےجوش سے قرآن حفظ کرنا اور نمازوں اور نوافل میں دہرانا شروع کردیا۔ صحابہ اتنے زیادہ نوافل پڑھتے کہ بسا اوقات رسول اللہﷺ کو ان کو زیادہ قیام لیل سے روکنا بھی پڑا۔ جو آیات بھی نازل ہوتیں صحابہؓ ان کو کثرت سے حفظ کرتے، نمازوں وغیرہ میں پڑھتے۔

روزوں کی فرضیت کے ساتھ حفظِ قرآن کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو گیا۔ جبرائیل ؑہر سال رمضان المبارک میں جو قرآن بھی اُس وقت تک نازل ہو چکا ہوتا، رسول اللہﷺ کے ساتھ مل کر اُس کا دَور کرتے۔ رسول اللہﷺ کی وفات سے قبل آخری رمضان میں جبرائیلؑ نے رسول اللہﷺ سے مل کر نزول شدہ قرآن کے دو دَور کیے۔

(بخاری کتاب فضائل القرآن باب کا ن جبریل یعرض القراٰن)

اس کے دو مقاصد تھے۔ ایک تو یہ کہ قرآن کی ترتیب جو ساتھ ساتھ نازل ہورہی تھی وہ مزید پختہ ہو جائے اور دوسرا یہ کہ قرآن ہر غلطی اور التباس سے محفوظ ہو جائے۔ جب قرآن مکمل طورپر نازل ہو چکاتو اللہ تعالیٰ نے دو مرتبہ دَور کروایا۔ اسی کی تقلید کرتے ہوئے مسلمان رمضان میں قرآن کا ایک دَور تلاوت کرتے ہیں اور اجتماعی طور پر بھی نماز ترایح میں قرآن کریم کا کم ازکم ایک دَور کیا جاتا ہے۔

رسول اللہﷺ نے متعدد مواقع پر قرآن حفظ کرنے کی تاکید فرمائی اوراس کی بہت سی برکات اورفضیلتیں بیان فرمائیں۔ حفاظت قرآن میں حصہ لینے والوں کے لیےبڑے بڑے انعامات کا بھی اعلان کیا۔ ایک موقع پر فرمایا کہ جس نے قرآن حفظ کیا، قرآن اسے روز ِقیامت دوزخ سے بچائے گا(کنزالعمال)۔ ایک موقع پر فرمایا کہ جس شخص کے سینے میں قرآن کا کوئی حصہ محفوظ نہیں ہے۔ اس شخص کا دل ویران گھر کی مانند ہے۔ (ترمذی فضائل القرآن باب من قرأ حرفاً)ایک موقع پر آپﷺ نے ایک صحابی سے قرآن سنانے کو کہا تو اس نے عرض کی یا رسول اللہ قرآن تو آپ پر نازل ہوا ہے۔ آپؐ نے فرمایا مجھے دوسروں سے قرآن سننا اچھا لگتا ہے(صحیح بخاری، کتاب فضائل القرآن)۔ ایک دفعہ رسول اللہﷺ نے فرمایا تم میں سے سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور دوسروں کو بھی سکھائے۔ (بخاری کتاب فضائل القرآن)۔ دَور نبوی میں قرآن کی تعلیم کے لیے بسا اوقات قرب و جوار کے قبائل سے لوگ رسول اللہﷺ کے پاس آ کر کچھ روز رہتے۔ علم حاصل کرتے اور پھر چلے جاتے۔

رسول اللہﷺ کی تحریک پر صحابہ میں سے کثیر تعداد نے قرآن کو حفظ کیا۔ رسول اللہﷺ کی زندگی میں ہی حفاظ کی تعداد ہزاروں تک پہنچ چکی تھی۔ اس بات کا اندازہ اس واقعہ سے بھی ہوتا ہے جب قبائل بنو لحیان، رعل، زکوان وغیرہ نے اپنی قوم کی تربیت کے لیے رسول اللہﷺ سےدرخواست کی تو آپ نے یہ درخواست قبول کرتے ہوئے صرف انصار میں سے 70صحابہ کرام ؓکو جنہیں ’’قراء‘‘ کہا جاتا تھا، بھجوایا۔ یہ تمام کے تمام حفاظ تھے۔ (بخاری کتاب الجہاد و سیرباب العون بالمدد)رسول اللہﷺ کی وفات کے اگلے سال صرف جنگ یمامہ میں شہید ہونے والے افراد میں سے 700 حفاظ تھے۔

یہ روایات اورواقعات بتاتے ہیں کہ قرآن کریم کی حفاظت صرف تحریر اورترتیب کرنے سے نہیں ہوئی بلکہ حفاظتِ قرآن کا اوّلین ذریعہ حفظ تھا جس کو کثرت سے صحابہ کرامؓ نے اختیار کیا۔ حفظ ِقرآن کا یہ سلسلہ نزولِ قرآن کے لمحے سے آج تک بڑی عظمت سے جاری و ساری ہے۔ قرآن کریم مسلمانوں کے دلوں میں محفوظ، سینہ بہ سینہ ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہوتا ہواسینکڑوں سال کا سفر کرتا ہوا ہم تک پہنچا ہے۔

قرآن کو وحی الٰہی میں ’’ قُرۡاٰنٌ مَّجِیۡدٌ ‘‘ (سورةالبروج:22) کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔ قرآن کے لغوی معنوں میںیہ پیشگوئی بھی مضمر تھی کہ اس عظمت والی کتاب کو بکثرت پڑھا اور حفظ کیا جائے گا۔ یہی اس کی حفاظت کا باعث بھی بنا۔ یہ قرآن کی ہی امتیازی شان ہےکہ اِس کو دنیا میں سب سے زیادہ پڑھا اور یاد کیا جاتا ہے۔ آج بھی دنیا میں لاکھوں کروڑوں حفاظ موجود ہوں گے۔ قرآن کے ترجمے اور تفسیر میں تو مسلمانوں میں اختلافات موجود ہیں لیکن قرآن کے متن یعنی کسی حرف، لفظ، آیت میں کوئی اختلاف موجود نہیں ہے۔ پس حفظ قرآن سے قرآن کریم کی حفاظت ہونا ایک عظیم معجزہ ہے۔

اگر قرآن صرف تحریرسےہی محفوظ ہوتا تو شاید کسی تحریف کا الزام لگ سکتا۔ لیکن منشا الٰہی کے تحت قرآن کو لاکھوں لوگوں نے حفظ کر کے آگے پھیلایا۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ قرآن کے ابتدئی نسخوں میں تبدیلی ہو اور اِن حفاظ کو علم نہ ہو۔ پس کسی بھی کتاب کی اصل حفاظت اسی صورت ہو سکتی ہے جب اس کو لکھنے اور یاد کرنے کےدو طریق سے محفوظ کیا گیا ہو تاکہ دونوں طریق ایک دوسرے کے شانہ بشانہ ایک دوسرے کے گواہ ہو سکیں۔ قرآنی علوم کے شناور اور جماعت احمدیہ کے دوسرے امام حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد ؓفرماتے ہیں:

’’یہ بھی یاد رہے کہ ایسے آدمیوں کا میسر آنا جو اسے حفظ کرتے اور نمازوں میں پڑھتے تھےآنحضرتﷺ کی طاقت میں نہ تھا۔ ان کا مہیا کرنا آپ کے اختیار سے باہر تھا۔ اسی لئے اللہ نے فرمایا

اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّکۡرَ وَ اِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوۡنَ

کہ ایسے لوگ ہم پیدا کرتے رہیں گے جواسے حفظ کریں گے۔ آج اس اعلان پر تیرہ سو سال ہو چکے ہیں اور قرآن مجید کے کروڑوں حافظ گزر چکے ہیں۔ ‘‘

(تفسیر کبیر جلد4صفحہ18)

قرآن کریم کی حفاظت بطریق کتابت

قرآن مجید کو وحی الٰہی میں ’’ کِتٰب مُبِیۡن‘‘ (سورةیونس:62)کے نام سےبھی موسوم کیا گیا ہے۔ ان الفاظ میں یہ پیشگوئی موجود تھی کہ قرآن کی کتاب کی صورت میں بکثرت اشاعت ہو گی۔ اس پیشگوئی کے مطابق اللہ تعالیٰ نے حفاظتِ قرآن کے لیے کتابت کے طریق کو بھی اختیار فرمایا۔

قرآن جس نبی عظیم پر نازل ہوا، اسے اللہ نے’’النبی الامّی‘‘کہا یعنی رسول اللہﷺ لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے۔ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے حفاظت قرآن کے ایسے سامان پیدا فرمائے کہ نزول کے ساتھ ہی رسول اللہﷺ کے دل میں اس کو تحریر کرنے کا بھی خیال ڈالا۔ اور آغاز نزول وحی سے ہی رسول اللہﷺ خاص طور پر اس بات کا اہتمام فرماتے کہ ہر نازل شدہ آیت کو کمال احتیاط کے ساتھ لکھوا لیا جائے۔ سورة الفرقان جو کہ پہلے یا دوسرے نبوی سال میں نازل ہوئی، میں اس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ قرآن آغاز سے ہی لکھا جا رہا تھا۔ چنانچہ سورة الفرقان میں مشرکین مکہ کا ایک اعتراض ملتا ہے کہ

’’انہوں نے کہا پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں جو اس نے لکھوا لی ہیں۔ پس یہ صبح و شام اس پر پڑھی جاتی ہیں‘‘ ۔

(الفرقان:6)

اس سے معلوم ہوتا ہےکہ آغاز اسلام سے ہی کفار یہ اعتراض کیا کرتے تھے کہ دیکھو یہ محمد(ﷺ) پہلے لوگوں کی کہانیاں لکھوا کر سنا رہا ہے۔

ابتدائےنزول وحی سے ہی رسول اللہ نے چند صحابہ کرام کی بطور کاتبین وحی ڈیوٹی لگائی تھی۔ اس ضمن میں جن صحابہ کے نام ملتے ہیں ان میں حضرت زید بن ثابتؓ، حضرت معاذ بن جبلؓ، حضرت ابو زیدؓ اور حضرت ابو درداؓ ٫کے نام ملتے ہیں۔ ان کے علاوہ قریبا ً40صحابہ کے نام ملتے ہے جو وحی کی کتابت کیا کرتے تھے۔ جن میں حضرت ابو بکرؓ، حضرت علیؓ، حضرت عثمانؓ، حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ، حضرت زبیر بن العوامؓ، حضرت ابی بن کعبؓ، حضرت عبد اللہ بن رواحہؓ وغیرہ بھی شامل تھے۔

6؍نبوی میں حضرت عمرؓ کے ایمان لانے کے واقعہ سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے۔ جب آپ اپنی بہن کے گھر کے قریب پہنچے تواندر قرآن شریف کی تلاوت کی آواز آئی۔حضرت خبابؓ کے پاس لکھی ہوئی کچھ آیاتِ قرآنیہ تھیںجن کو آپ پڑھ کر سنا رہے تھے۔

پس ابتدائے نزول وحی سے ہی قرآن کریم تحریری طور پر رسول اللہﷺکے پاس جمع ہونا شروع ہو گیا۔ رسول اللہﷺ نےیہ طریق شروع فرمایا کہ جو بھی آیات نازل ہوتیں ان کواحتیاط سے لکھواتے۔ صحابہ کرام جو آیات لکھتے اور حفظ کرتے، ان کو گاہے بگاہے رسول اللہﷺ کو سنا کر تسلی کر لیتے کہ یہ سو فیصد درست الفاظ ہیں۔ صحابہ کرامؓ اس حفظ اور کتابت کو ایک دوسرے کو بھی سناتے اور دکھاتے۔ اگر کہیں معمولی سا بھی اختلاف نظر آتا تو رسول اللہﷺ کی خدمت میں معاملہ پیش فرما کر رہنمائی لیتے (حضرت عمرؓ اور حضرت ہشامؓ بن حکیم بن حزام کا مشہور واقعہ بخاری میں مذکور ہے)۔ چنانچہ ایک مخصوص متنِ قرآن تواتر کے ساتھ تحریری طور پر جمع ہونے لگا اوربعینہٖ وہی متن ہم تک پہنچا ہے۔

مرکزی کتابت کے علاوہ صحابہ کرام اپنے شوق سے قرآن کے مختلف حصےاپنے پاس لکھ کر رکھا کرتے تھے۔ سفر وغیرہ میں ساتھ بھی لے جاتے۔ چند صحابہ کے پاس ذاتی نسخے بھی موجود تھے جن میں حضرت عائشہؓ، حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ، حضرت ابی بن کعب ؓوغیرہ شامل ہیں۔ چند آیات اور تحریرات کا تو شمار ہی نہیں۔

حفاظت قرآن کے لیے تحریر میں بھی رسول اللہﷺ نے کمال عزیمت کا مظاہرہ فرمایا۔ ایک موقع پرفرمایا ’’مجھ سے قرآن کے علاوہ کچھ نہ لکھو‘‘ یعنی قرآن اور میری باتیں ایک دوسرے سے مل جل نہ جائیں۔

11؍ ہجری میں رسول اللہﷺ کی وفات تک قرآن کریم رسول اللہﷺ کی زیر نگرانی مرکزی طورپر مکمل ضبط تحریر میں لایا جا چکا تھا۔ اگرچہ یہ قرآن ایک کتاب کی صورت میں نہیں تھا اور مختلف چیزوں پر لکھا ہوا تھا مگر مکمل طور پر تحریر کی صور ت میں موجود تھا۔ عہد نبوی میں جن چیزوں پر قرآن لکھا گیا ان میں کھجور کی شاخیں، اونٹ کی ہڈیاں، پتھر کی سل، چمڑے کے ٹکڑے، جانوروں کی کھال، لکڑی کے ٹکڑے وغیرہ شامل ہیں۔

نزول قرآن کا عرصہ بھی قرآن کو محفوظ کرنے میں بہت ممدومعاون ثابت ہوا۔ قرآن رفتہ رفتہ بہت تھوڑا تھوڑا نازل ہوا۔

وَ قُرۡاٰنًا فَرَقۡنٰہُ لِتَقۡرَاَہٗ عَلَی النَّاسِ عَلٰی مُکۡثٍ وَّ نَزَّلۡنٰہُ تَنۡزِیۡلًا۔ (سورة بنی اسرائیل:107)

اس کا محفوظ کرنا اور یاد رکھنا بہت سہل امر تھا۔ نزول وحی کا کل عرصہ تقریباً ساڑھے 22سال ہے۔ کل ایام7970؍بنتے ہیں اور قرآنی آیات کی تعداد6234؍ہے۔ یعنی روزانہ ایک آیت سے بھی کم حصہ۔ اس لیے بہت آسانی سے اس کو محفوظ اور حفظ کیا گیا۔

(سیرت خاتم النبیین صفحہ532)

کتاب کی صورت میں قرآن جمع کرنے کےلیے حضرت ابو بکرؓ  کی عظیم الشان خدمت

خلافتِ راشدہ کے آغاز میں ہی اللہ تعالیٰ نے ایسےاسباب پیدا کیے کہ قرآن کو ایک صحیفہ کی صورت میں جمع کرنے کی ضرورت محسوس ہونے لگی۔ چنانچہ رسول اللہﷺ کی وفات کے ایک سال کے اندرجنگ یمامہ (632ھ) میں 700حفاظ صحابہ کرامؓ کے شہید ہونے پر حضرت عمرؓ کے دل میں اس بات کا خدشہ پیدا ہوا کہ وہ کِبار صحابہ ؓجنہوں نے قرآن کریم کے نزول سے آخری وحی تک قرآن کو یاد کیا اور وہ اس کی آیت آیت اور لفظ لفظ پر شاہد تھے، کہیں ان کی تعداد کم ہونے سے قرآن کو کسی شک کی نگاہ سے نہ دیکھا جائے، توانہوں نے حضرت ابو بکرؓسے عرض کی کہ قرآن کریم کو ایک صحیفہ کی صورت میں لکھ لیا جائے۔ چنانچہ انہوں نے کہا

’’اِنِّی اَرَی اَنْ تَاْمُرَ بِجَمْعِ الْقرآن‘‘۔

یعنی میری رائے میں آپ قرآن کو ایک کتاب کی صورت میں جمع کرنے کا حکم دیں۔ آغازمیں حضرت ابو بکرؓ نے فرمایا کہ میں کیسے وہ کام کر سکتا ہوں جس کو رسول اللہﷺ نے خود نہیں کیا مگرحضرت عمرؓنے اپنی بات پر بار بار اصرار کیا۔ یہاں تک کہ حضرت ابوبکرؓ کو اس کام پر انشراح صدر ہو گیا۔ اس پر انہوں نے کاتب وحی حضرت زید بن ثابتؓ کو بلایا جو نوجوان، ذہین، بے داغ شہرت کے حامل اور نہایت اعلیٰ درجہ کے صحابی تھے، اور اس کام کا حکم دیا۔ آغاز میں ان کو بھی انشراح صدر نہیں تھا مگر اللہ تعالیٰ نے ان کا سینہ بھی کھو ل دیا۔ اس پر حضرت زید بن ثابتؓ نے نہایت مضبوط اور بہترین اصول متعین کرنے کے ساتھ قرآن کو جمع کرنے کا کام شروع کیا۔ اس جگہ واضح رہےکہ حضرت ابو بکرؓ نے حضرت زید ؓکو قرآن لکھنے کاحکم نہیں دیا بلکہ فرمایا۔ ‘اَجْمِعْہُ‘‘ یعنی اس کو جمع کرو۔ لکھا ہوا تو پہلے ہی موجود تھا۔

(بخاری کتاب فضائل القرآن با ب جمع القرآن)

حضرت زید بن ثابتؓ مسجد میں بیٹھ گئے اور اعلان کر دیا گیا کہ جس کے پاس بھی لکھا ہوا قرآن کا کوئی حصہ موجود ہے وہ اسے لے آئے اور ساتھ دو گواہ پیش کرے یعنی دو ایسی گواہیاں ہوں کہ دو لوگوں نے رسول اللہﷺ سے قرآن کا وہ حصہ سنا اور حفظ کرنے کے بعد رسول اللہﷺ کے سامنے سناکر تصدیق کی ہو یا دو تحریر کی گواہیاں ہو ںکہ نزو ل قرآن کے بعد کسی صحابی نے وہ حصہ لکھا ہو اور پھر رسو ل اللہﷺ کو سنا کر اس کی تصدیق کروائی ہو۔ حضرت زیدؓ خود بھی حافظ قرآن تھے۔ چنانچہ وہ خود بھی ہر آیت بغور سنتے اور تحریر کے ساتھ ساتھ حفظ کا بھی مکمل امتحان لیتے۔ پس اس طرح ہر آیت قرآنیہ کوحفظ اور تحریر کی مستند گواہیوں کے بعد قبول کیا جاتا۔

(اتقان فی علوم القرآن)

اس طریق پر عمل کرتے ہوئے نہایت جانفشانی اور محنت سے حضرت زید بن ثابت ؓنے 18ماہ میں حفظ کے مطابق تحریری ترتیب دی اور قرآن جمع کیا۔ احتیاط،عمدگی اور باریک بینی سے یہ کام کیا گیاکہ کوئی اعتراض اور شک کی گنجائش ہی باقی نہیں رہتی کہ کہیں تحریف یا تغیّر ہوا ہو گا۔ اگر چند صحابہ الگ بیٹھ کر اکیلے میں لکھتے تو کوئی معترض کہہ سکتا تھاکہ دوسروں کو کیا معلوم تھا اپنی مرضی سے جو چاہا جمع کر دیا۔ لیکن ایسا نہیں ہوا بلکہ کھلے عام اعلان کے بعد ہر کسی کو بلایا گیا اور ہر آیت کامکمل باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد اسے لکھا گیا۔ یہ حضرت ابو بکرؓ کا ایک عظیم کارنامہ ہے۔ اس صحیفہ کو مصحف امّ کہتے ہیں۔

حضرت عثمانؓ کے دَورمیں اشاعت قرآن کی عظیم الشان سعادت

عالم اسلام میں قرآن کو کتابی صورت میں پھیلانے کی سعادت حضرت عثمان ؓکے حصہ میں آئی۔ اس سے یہ ہرگز مراد نہیں کہ حضرت عثمان ؓ کے اشاعتِ قرآن سے قبل مسلمانوں کے پاس لکھا ہوا قرآن موجود نہیں تھا۔ اس بات کا پہلے ذکرآ چکا ہے کہ کئی صحابہ کے پاس قرآن کریم مکمل طور پر لکھا ہوا موجود تھا اور لا تعداد کے پاس مختلف سورتیں اور حصص لکھے ہوئے موجود تھے۔ عالم اسلام میں حفاظ کرام کی تعداد تو گنتی سے باہر تھی۔

حضرت عثمان ؓ کے دَور میں اسلامی حکومت مستحکم بنیادوں پر قائم ہو چکی تھی۔ تمام عالم اسلام اور صوبے ایک مرکز کے تابع آ چکے تھے اور براہ راست مدینہ منورہ سے خلافت کے زیر سایہ تمام امور انجام پذیرہو رہے تھے۔ عربی اور عجمی لوگوںمیں باہم ملنے جلنے اور آنے جانے کی سہولت پیدا ہو گئی تھی۔ لوگوں کی کثیر تعداد اسلام میں داخل ہو چکی تھی۔ نئے آنے والے پہلوں سے قرآن کریم اور اسلا می علوم سیکھ رہے تھے۔ قرآن کریم اس وقت تک زبانی روایات اور حفظ کے ذریعہ زیادہ عام تھا۔ حضرت عثمانؓ کے دَور تک قرآن کریم کو عرب قبائل اپنی سہولت سے مختلف قراءتوں میں پڑھتے تھے اوربسا اوقات عربی زبان سے ناواقفیت کی وجہ سے عجمی لو گ یہ خیا ل کرتے کہ شاید یہ شخص غلط آیت پڑھ رہا ہے۔ چنانچہ ایک جنگ کے موقع پر بعض مسلمانوں میں تلاوت پر اختلاف ہواتو حضرت حذیفہ بن الیمانؓ نےیہ معاملہ حضرت عثمانؓ کے سامنے پیش کیا کہ عجمی لوگ عربی زبان سے ناواقفیت کی وجہ سےاختلاف قراءت کو اختلاف قرآن سمجھ رہے ہیں۔

حضرت عثمان ؓ نے اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے صحابہ سے مشورہ کیا اور اتفاق رائے سے آپؓ نے قرآن کا وہی مستند نسخہ منگوایا جوحضرت ابو بکرؓنے لکھوایا تھا اوراُس وقت زوجہ رسولﷺ حضرت حفصہؓ کے پاس محفوظ تھااور حضرت زید بن ثابت ؓکی سربراہی میں چار صحابہ کو یہ ذمہ دار ی سونپی کہ وہ اس نسخہ سے مزید کاپیاں تیار کریں اور اگر کہیں قراءت کا اختلاف نظر آئے تو وہ اسے قریش کی قراءت یعنی اس زبان میں لکھیں۔ یعنی جو رسول اللہﷺ کی زبان تھی اورجس میں نزول قرآن ہوا تھا۔ چنانچہ مصحف امّ کی سات (بعض روایات کے مطابق نو)کاپیاں کروا ئی گئیں اور پھر حضرت عثمان ؓنے یہ نسخے اہم اسلامی ممالک میں بھجوائے اور اس کے ساتھ ایک شخص(قاری)جو قرآن کو بہترین طورپر پڑھ سکتا تھا، بھجوایا تاکہ وہ لوگوں کو صحیح پڑھ کر سنا سکے۔

ایک الزام یہ بھی لگایا جاتا ہے کہ حضرت عثمان ؓنے اس موقع پر باقی قراءتوں والے قرآن جمع کر کے جلوا دیے تاکہ یہ ثبوت ہی ختم ہو کہ قرآ ن میں اختلاف ہے۔ اس لیے اب ہمیں قرآن کے دیگر versionsنہیں ملتے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اگر حضرت عثمانؓ نے ایسا کیا تھا تو محض علامتی طور پر کچھ نسخے جلوائے ہوں گے تا کہ تمام لوگوں کومعلوم ہو جائے کہ قرآن کی وہی مستند قراءت ہے جو مرکز خلافت سے ارسا ل کی جا رہی ہے۔ وگرنہ یہ اُس دَور میں ممکن نہیں تھاکہ سارے عالم اسلام(ایران، وسط ایشیاسے لےکر ترکی اور شمالی افریقہ)سے پہلے تمام قراءتوں والی تحریرات اور نسخے جمع کیے جائیں اور پھر مدینہ پہنچا کر ان کو آگ لگائی جائے۔ واضح رہے کہ اسلام اس وقت ایران سے لےکر وسط ایشیا اور شمالی افریقہ تک پھیل چکا تھا اور جہاں جہاں صحابہ اور مسلمان گئے بطور تبرک قرآن کے قلمی نسخے اور ذاتی تحریرات کو اپنے ساتھ لے کر گئے۔

(جاری ہے)

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button