متفرق مضامین

مرہم عیسیٰ (قسط چہارم-آخری)

Ointment of Jesus

Secret of the Second Sacrament

ٹورن کا مقدس کپڑ ا اور مرہم عیسیٰ

ٹورن کے مقدس کپڑے پر جسے کفنِ مسیح بھی کہا جاتا ہے۔ ایک درمیانے قامت کے شخص کی سامنے اور پیچھے سے پورے جسم کی شبیہ رقم ہے۔ کپڑے پر موجودد یگر شہادتیں اور یہ عکس مل کر جو مجموعی تصویر پیش کرتے ہیں وہ ایک ایسے مصلوب شخص کی ہیں جسے صلیب سے اتارا گیا ہو۔ اس کی ہڈیاں سلامت ہوں  اور وہ شدید زخمی حالت میں ہو۔

عکس کیسے بنا؟

بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا اس کپڑے پر موجود شبیہ فوٹوگراف ہے یا چھاپ ہے۔ گزشتہ صدی کے شروع میںPaul Joseph Vignon نے ایک پولی ٹیکنیک سکول کے پروفیسر Rene Colson کی مدد سے یہ مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی۔ ان کا تجربہ مُر، عود اور ایلوا کی مدد سےشبیہ بنانے کی کوشش کرنے تک ہی محدود تھا۔

عرصہ تک یہ خیال غالب رہا کہ شبیہ السی کے کپڑے کے دھاگوں کےانتہائی اوپر کے Fiberals پر ہی ہے اور کوئی مواد دھاگے میں سوائے خون کےجذب نہیں ہوا۔ لیکن کچھ عرصہ قبل اٹلی کے سائنس دان ڈاکٹر فانٹی (Fanti) نےکپڑے کو اس وقت مشاہدہ کیا جب اس کا استر  اتارا گیا تھا تو انہوں نے ایک ہلکی سی شبیہ کپڑے کے دوسری طرف بھی مشاہدہ کی۔ اگرچہ وہ یہی تاویل کرنے کی کوشش میں رہے ہیں کہ یہ شبیہ اوپر اور نیچے تو موجود ہےلیکن درمیان میں موجود نہیں لیکن عقلِ سلیم اب میڈیم کے استعمال کا انکار نہیں کر سکتی۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ایک ایسی طبی مرہم نے جو صلیبی حالت کے علاج کے لئے استعمال میں لائی گئی کیا شبیہ بنانے میں کوئی کردار ادا کیا ہو گا؟

ظاہر ہے کہ اگر میڈیم استعمال ہوا ہے تو مرہمِ عیسیٰ سے بڑھ کر اور کوئی شے تجربات کے لئے موزوں نہیں ہو سکتی۔ لیکن یہ تجربات بعض شرائط کے تحت ہونے چاہئیں جیسے:

1۔ یہ کپڑا ایک مصنوعہ (Artifact)ہے۔

2۔شبیہ کی حقیقت معلوم کرنے کے لئے کوئی بھی تجربہ پہلی صدی عیسوی کے حالات، ماحول اور دستیاب اشیاء و معلوم ٹیکنالوجی کی حدود سے باہر نکل کر نہیں کیا جانا چاہیے۔

3۔ ہاں تجربات کے بعد تجزیات ماڈرن سائنس اور ٹیکنالوجی کی مدد سے کئے جانے چاہئیں۔

جو امور ہمیں معلوم ہیں وہ یہ ہیں ۔

1۔ ایک ہلکا سا امیج کپڑے کےد وسری طرف بھی موجود ہے۔

2۔ مرہم عیسیٰ کے نام سے ایک طبی نسخہ مختلف صورتوں میں پہلی صدی اور اس کے بعد موجود رہا ہے۔

3۔ امکان ہے کہ مسیح کو صلیب سے اتار کر یہ مرہم آپؑ کےجسم پر لگایا گیا تھا۔

امریکی سائنسدان رے روجرز کے مطابق کپڑے پر شبیہ کیمیائی ردّ عوامل کا نتیجہ ہے اور اس معمے کو حل کرنے کے لئے کسی معجزے کی ضرورت نہیں۔ اور نارما سی ویلر ( Norma C.Weller) کے مطابق ماضی کے معجزات کی مستقبل میں سائنسی وضاحت پیش کی جا سکتی ہے۔

جبکہ ڈاکٹر گازرا والڈی(Dr. Leoncio Garza-Valdes) DNA of Godمیں لکھتے ہیں کہ شبیہ بننا بالکل ایک معجزہ تھا۔ لیکن معجزہ دراصل یہ تھا کہ وہ تمام اسباب ایک جگہ جمع ہو گئے جو بظاہر جمع ہونے مشکل تھے اورشبیہ بن گئی۔

اگر میڈیم استعمال ہوا تو ظاہر ہے کہ وہ مرہم ہی تھی اور مرہم سے شبیہ بنانے کے تجربات بتاتے ہیں کہ:

1۔ کپڑا کچھ نم ہو تو ناک سےٹھوڑی کے درمیان شبیہ پھٹتی نہیں۔

2۔ مرہم سے تیار کردہ شبیہ ہرگز پھیلتی نہیں۔ اس سے برش کے اسٹروک موجود نہ ہونے کا معمہ بھی حل ہو جاتا ہے۔

3۔ مرہم سے بننے والی شبیہ چہرے کے تاثر کو ریکارڈ کرتی ہے اور نازک ترین تفاصیل معلوم کی جا سکتی ہیں۔

4۔ مرہم سے بنائی گئی شبیہ کا نیگیٹو بھی پازیٹو آتا ہے اور خدو خال واضح ہو جاتے ہیں۔

5۔ مرہم سے شبیہ بنانے سے آنکھ کے ڈھیلے کا گول نشان کپڑے پر ابھر آتا ہے۔ جس سے سکے والا مسئلہ بھی حل ہو جاتا ہے۔

زندہ یا مردہ

طبی کتب میں نسخہ مرہم عیسیٰ کی موجودگی نے اس راز پر سے تو پردہ اٹھا دیا کہ صلیب سے اتارے جانے کے بعدآپ کا علاج کیا گیا۔ لیکن ٹورن کا کپڑا بھی اس کی تائید کرتا ہے یا نہیں؟ یہ سوال لگ بھگ ایک صدی سے محدود علمی حلقوں میں بہت سرگرمی سے زیر بحث ہے۔ اگرچہ عوام الناس کو اس کی تفاصیل سے دور رکھا گیا ہے کہ جس شخص کی شبیہ ہے وہ شبیہ بنتے وقت زندہ تھا یا مردہ۔

Rodney Hoare نے جو ٹورن کے کپڑے کا مطالعہ کرنے والی برٹش سوسائٹی کے صدر ہیں ۔ اس معاملے میں جو واقعہ بیان کیا ہے وہ نہ صرف دلچسپ ہے بلکہ آنکھیں کھول دینے والا بھی ہے۔ انہوں نےطبی ماہرین کی ایک ٹیم کےسامنے ٹورن کے کپڑے پر موجود شہادت تفصیلاً رکھی۔ مطالعہ کے بعد نصف گھنٹے کے بحث مباحثے کے بعد ان طبی ماہرین نے یہ متفقہ رائے پیش کی۔

If he lived before the seventeenth century, he would have been dead. He may have been unconscious on the cross and barely breathing, so he would have been dead to the onlookers. That’s what they looked for. After Harvery they would have tested his pulse which would have been beating weakly.

If he had lived in the twentieth century he would have been certified as in coma.

حال ہی میں Miguel Lorente Acosta   جو دنیا کے چوٹی کے Forensic  ماہرین میں سے ایک ہیں (آپ تشدد کے شکار افراد کو قانونی معاونت فراہم کرنے والے ادارے کے ڈائریکٹر جنرل ہیں اورتشدد اور اور Forensic دونوں میدانوں میں کثرت سے ان کی تحقیق شائع ہوتی رہتی ہے) نے 42 days, Forensic analysis of the Crucifixion and Resurrection of Jesus کے نام سے کتاب شائع کی ہے۔

ان کے نزدیک جی اٹھنے سے مراد آپ کا حیاتیاتی احیاء ہے۔ اور ٹورن کا کپڑا جعلی نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ کپڑے پر موجود شبیہ بتاتی ہے کہ یہ ایک زندہ شخص کی شبیہ ہے۔ اور اس کی دو وجوہات ہیں:

پہلی یہ کہ جسم میں موت کے وارد ہونے کےعمل کی کوئی تفصیل موجود نہیں۔ دوسری یہ کہ زندگی کی نشانیاں کپڑے پر موجود ہیں۔ جیسے خون کے دھبے اور ہاتھوں کی پوزیشن وغیرہ۔ ان کے نزدیک Hypovolemic Shock asphyxia  جو خون کے بہہ جانے کے نتیجے میں واقعہ ہوا یا پھر Traumatic Shock  تینوں میں سے کوئی ایک حالت آپ پر طاری ہوئی جسے موت سمجھ لیا گیا ۔

ان کے اخذ کردہ نتیجے کے مطابق:

Our work gets to the conclusion that the signs found on the shroud of turin are compatible with the fact that the person convered by the cloth was alive.

اور اس کی تائید میں انہوں نے دو ’’Group of data‘‘ پیش کئے ہیں۔

1۔ موت کی علامات کی غیر موجودگی

2۔ زندگی کی علامات کا موجود ہونا۔

موت کی علامات کی غیر موجودگی کے ضمن میں ان کی تحقیق یہ بتاتی ہے کہ شبیہ ’’صلب‘‘ یعنی Stifness  تو دکھاتی ہے لیکن یہ صلب موت کے بعد کا صلب نہیں ہے یعنی Cadaveric stiffness۔ جو صلب کی کیفیت جسم پر موجود ہے وہ اتارے جانے اور کپڑے میں رکھے جانے اور صلیب پر موت کے مزعومہ وقت کی درمیانی مدت میں پیدا نہیں ہو سکتی۔ پھرصلب کی حالت جسم کے مختلف اعضاء پر مختلف ہے۔ مثلاً بعض جوڑ سخت ہیں اور بعض نہیں۔

Brown Sequard Law کو مدنظر رکھیں تو پشت کے حصے پر جو زخموں سے چور تھا موجود زخموں کو موت کی صورت میں کپڑے پر خون کے دھبوں اور شبیہ میں جو پیٹرن اختیار کرنا چاہیے تھا وہ کپڑے پر موجود نہیں۔ وہ لکھتے ہیں:

The dorsal part of the body is full of wounds; in a dead body, blood would accumulate in the hypostatic parts that would produce a hemorrhage through the wounds in the back with a completely different pattern in bloodstains and image.

زندگی کی علامات میں خون کے دھبوں کا پیٹرن، دھبوں کا جائے وقوع distribution اور لمبائی بطور خاص ان دھبوں کی جو کیل کے زخموں کے نتیجے میں بنے ہیں۔ نیز clot retraction  زندگی سے متعلقہ Physiopathological processes کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اور پٹھوں کی سختی (صلب) بھی اس عمل کی نشاندہی کرتی ہے۔ نہ کہ موت کے صلب کی۔ شبیہ میں ہاتھوں کی پوزیشن کے بارے میں وہ لکھتے ہیں:

Hand position in the image with no visibility of the thumbs is compatible with metabolic alterations (Hypocalcemia) due to a fraumatic shock; This process is only present in a living person and disappears after death.

ترجمہ: (اس تصویر میں ہاتھ کے پوزیشن ، جس میں انگوٹھے نظر نہیں آرہے، میٹابولک تبدیلیوں (ہائیپوکلہمیا)جو کہ فرمیٹک جھٹکے  کے وجہ سے ہو ،مطابقت رکھتی ہے۔یہ عمل صرف زندہ انسان میں ہی پایا جاتا ہے جبکہ انسان کے مرنے کے بعد یہ ختم ہو جاتا ہے۔)

اپنے ایک مضمون میں وہ یوں اپنی تحقیق کا خلاصہ پیش کرتے ہیں:

Our hypothesis is that during the process of the preparation of the body, it was discovered that Jesus had not died on the Cross. It is not an idea conceived before hand nor it a questioning of seemingly inexplicable specific events but rather the consequence of the study of objective elements that appear on the Shroud of Turin. The arguments owe to be found in the Shroud itself and have been divided under two broad headings. On the one hand, the signs that indicate that the body which produced the image was not that of a dead person and on the other hand, the evidence of signs that somehow reflect vitality in the elements of the Shroud…

زندگی کی وجوہات جاننے کی کوشش میں یہ بات بہت اہم ہے کہ کپڑا جسم پر صلیب سے اتارنے کے کم ازکم دو گھنٹے بعد رکھا گیا۔ اس پر زندگی یا موت کی واضح علامات ہونی چاہئیں۔ زندگی کی ایک اہم علامت یہ ہے کہ موت کی شکل میں جسم کےتمام حصے سخت ہونے چاہئے تھے اور جہاںشبیہ کو وزن کے نتیجے میں بہت flat ہونا چاہیے تھا۔ مثلاً رانوں کے پچھلے  بالائی حصے وہاں شبیہ ہر گز اتنی flat  نہیں ہے۔

پیر، گھٹنے اور گردن تو مصلوب شخص کی حالت پیش کر رہی ہیں Brown Sequard کے قانون کے مطابق اگر موت پٹھوں کو کافی نقصان اور پانی کی کمی کے نتیجے میں واقع ہو تو جسم میں سختی آہستہ آہستہ اور کم کم ہی آتی ہے۔ لیکن دو گھنٹے بعد کپڑے سے تعلق کے حوالے سے شبیہ میں یہ سختی اس سے بہت تیز رفتاری سے واقع ہوئی ہے۔ یہ کافی پھیلی ہوئی اور نمایاں ہے۔

ایک اور بات یہ کہ اگر سختی پٹھوں کی تھکاوٹ اور کمزوری کی وجہ سے ہے تو پھر یہ بالائی اعضاءسے غائب کیوں ہے اور گھٹنوں اور گردن میں کیوں موجود ہے۔

لمبی انگلیوں اور غائب انگوٹھے کی وجہ بھی انہوں نے بیان کی ہے:

The discoveries would be compatible with tetany caused by hypocalcaemia which, as we have already explained, causes the so called “midwife’s hand۔The hand appears in a peculiar position, as if making a hollow with its palm or trying to gather water while also showing adduction of the thumb. I is possible that the cloth drenched with aromatic substances, adapted itself to the hand ion this posture and after wards, once it was removed and allowed to dry, the image appeared slightly distorted and showin a longer hand as it appears on the Shroud.

In conclusion, the analysis of the image on the shroud of Turin shows certain incompatibilities between the stiffness described and cadaveric stiffness, while it is compatible with hypocalcmia, which can come about after symptoms of traumatic shock due to the events surrounding the Passion and Crucifixion of Jesus.

Miguel  نے اپنی سائنسی تحقیق کا خلاصہ یوں بیان کیا ہے:

The comprehensive analysis of the events based on the objective elements of the Shroud, both on the image and on the stains, although not limited to them but rather including them in historically documented facts, creates an extraordinary situation. Its analysis results in information which allows us to conclude that the different elements characterizing the moments and events that occurred around the sepulcher and ended with the Shroud enveloping the body of Jesus of Nazareth are more compatible with a vital situation, due to the characteristics of the signs that are present and to the absence of signs of death, and also due to their meaning (reclining position and soft surface). They insist upon a situation compatible with life and distance themselves from funerary practices carried out on a dead body.[1]

نارما۔ سی ۔ ویلر (Norma C.Weller)کی تحقیق

نارما۔ سی۔ ویلر مصورہ تھیں اور رنگوں کی سائنس کی ماہر بھی۔ انہوں نے زندگی کی آخری دہائی میں ٹورین کے کپڑے پر تصویر بننے کے عمل کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کی۔ ان کی توجہ مندائی فرقے کی تدفینی رسومات اور جٹا مانسی کے تیل پر مرکوز تھی اور ان کا مفروضہ یہ تھا کہ کپڑے پر تصویر جٹا ماسی کے تیل کی وجہ سے آئی ہے۔ یعنی میڈیم استعمال ہوا ہے۔ اس کا ثبوت ان کے پاس یہ تھا کہ جٹا ماسی کا تیل spectrometry ٹیسٹ میں ایک نیلگوں fluorescenceدیتا ہے اور ٹورین کے کپڑے پر بھی ایک نیلگوں fluorescence موجود ہے۔ جب مرہمِ عیسیٰ پر تحقیق ان کے علم میں آئی تو انہوں نے خود مرہم منگوا کر جٹا ماسی کے تیل میں ملا کر تجربات کئے اور کپڑے پر پرنٹ لئے۔ اپنے گزشتہ کام کے اکثر حصے کو کالعدم قرار دے کر انہوں نے یہ رائے قائم کی جٹا ماسی اور مرہم عیسیٰ ہی وہ میڈیم ہے جو امیج بننے کا ذمہ دار ہے۔اس وقت تک یہ بات ہمارے علم میں نہیں تھی کہ جاؤ شیر میں بھی جو مرہم عیسیٰ  کا ایک جزو ہے umbelliferone کے نام سے ایک نیلگوں تیل موجودہے ۔

وہ شخص جس کی تحقیق کے نتیجے میں ٹورین کا کپڑا برباد ہو گیا!

گزشتہ سالوں میں ٹورین کے کپڑے پر تصویر ابھر آنے کے عمل کو سمجھنے کی کوشش میں کئی بار میں نے خود کو حقیقت کے بہت قریب پہنچا ہوا محسوس کیا ہے۔ مثلاً Mac Crone نے اس عمل کا شاندار سائنسی مطالعہ کیا ہے لیکن تجزیے اور نتیجے کے بیان کے مرحلے پر حقائق سے کنّی کترا گیا ہے۔ Marcel Alonso کا ’’پتے کی چھاپ کا نظریہ‘‘ (Leaf imprints theory) بھی بہت جاندار ہے اور مزید سائنسی تجربات اور تحقیق چاہتا ہے۔ لیکن جس شخص کی سائنسی اور آثاریاتی تحقیق نے سارا معاملہ گویا دو جمع دو چار کی طرح واضح کر کے رکھ دیا ہے وہ امریکی میڈیکل ڈاکٹر اور ماہر آثاریات Leonico A.Garza-Valdes ہیں۔ انہوں نے تصویر بننے کے عمل کی یوں قابل فہم الفاظ میں تصویر کشی کی ہے کہ تصویر بننے کے عجیب و غریب نظریات پیش کرنے والوں کے پاس ان کی تردید کرنے کا کوئی ذریعہ باقی نہیں رہا۔ چنانچہ ڈاکٹر موصوف کی تحقیق کے خلاف بیس برس سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود کوئی ٹھوس سائنسی مواد سامنے نہیں آیا۔ البتہ ان کے کام کو بہت بُری طرح نظر انداز کیا گیا اور اس کتاب کی اشاعت کے بعد ان کی زندگی کے آخری چند سال بھی تنہائی کا شکار کر دئیے گئے۔ انہوں نے تصویر بننے کے عمل پر اپنا جامع بیان یوں دیا:

For me, the miracle in the production of the image on the Shroud is the presence of all the conditions necessary to form the image at the exact moment they were needed. Even if these conditions are explained scientifically, their presence at the precise moment they were needed for the production of the image may be interpreted as the miracle.[2]

ترجمہ:میرے لئے کفن پر شبیہ بننے کے عمل میں اصل معجزہ ان تمام ضروری حالتوں کا جو شبیہ بننے کے لئے ضروری ہیں عین اس لمحے پر موجود ہونا ہے جس پر ان کی ضرورت تھی ۔ اگرچہ ان حالتوں کی سائنسی طور پر وضاحت کردی جائےتب بھی ان کی عین اس لمحے پر جب ان کی شبیہ بننے کے لئے ضرورت تھی موجود ہونے کو شاید معجزہ قرار دیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے یہ انکشاف بھی کیا کہ ڈاکٹر Robert Dinegar نے ان کے سامنے اعتراف کیا کہ انہوں نے تو 1978ء میں ہی آپٹیکل خورد بین سے وہ تہہ جو تصویر بننے کی ذمہ دار ہے دیکھ لی تھی لیکن STURP ٹیم کے ایک سینئر ممبر نے اسے’’منہ بند رکھو‘‘ کہہ کر خاموش کرا دیا تھا۔ [3]

Dinegar نے بتایا کہ Rodgers نے 1978ء میں جو ٹیپ سامپل لئے تھے ان کے فائبرز پر اس نے اس تہہ (coating) کی نشاندہی کی تھی ۔ لیکنSTURP کے دوسرے ممبران نے اسے اپنی چونچ بند رکھنے کو کہا تھا۔ [4]

ڈاکٹر گارزاکے کام  نے ثابت کیا کہ صداقت ہمیشہ قابل فہم، خالص اور سائنسی ہوتی ہے۔ وہ دراصل امریکہ کی قدیم تہذیب مایا کے آثار سے ملنے والے(Jade)کے آلات کے مطالعہ کے ماہر تھے۔ اور اس بات کو دریافت کر چکے تھے کہ ان مصنوعات پر ایک باریک خوردبینی تہہ نامیاتی مواد کی موجود ہے۔ جو دراصل بیکٹیریا کے نامیاتی مواد کو کھا کر زنک آکسائیڈ وغیرہ میں بدلنے کا نتیجہ ہے۔ اس حقیقت نے ان کی توجہ ٹورین کے کپڑے پر موجود تصویر کی طرف دلائی۔

 بڑی تگ ودو کے بعد انہیں ٹورین کے کپڑے کے دو نمونے مہیا ہو گئے۔ ان کے خوردبینی مطالعہ سے ڈاکٹر گارزا کو وہ نامیاتی خورد بینی تہہ مل گئی جویاقوت کے مصنوعات پر موجود تھی۔

 اسے انہوں نے بائیو پلاسٹک کوٹنگ یا Polyhydroxyalkanoate کا نام دیا۔ یہ ایک بڑی شفاف قسم کی تہہ تھی جو کہ آلات کے بغیر آنکھ نہیں دیکھ سکتی تھی۔ اور دیکھنے والوں کو ایک چمکدار لیمینیشن  کی طرح دکھائی دیتی تھی۔ یہ دراصل لاکھوں کروڑوں زندہ خورد بینی اجسام کی ایک تہہ تھی جو وقت کے ساتھ ساتھ وجود میں آئی تھی۔ جیسے سمندروں میں گھونگے کی چٹانیں ۔ جب انہوں نے ایک دھاگے کو احتیاط سے کاٹا تو وہ قینچی تلے یوں کٹا جیسے پلاسٹک کی تہہ والی مچھلی پکڑنے کی ڈور یا تانبے کی تار ہو۔

دسمبر 1993ء میں انہوں نے Bio plastic Coating on the Shroud of Turin. A Preliminary Report کے نام سے تحقیقی مضمون شائع کیا۔

1993ءJune میں انہوں نے Biogenic Varnish and the Shroud of Turin کے نام سے لیکچر دیا جس میں انہوں نے سامعین کو بتایا کہ تصویر اس bio plastic تہہ کی نسبتی موٹائی (relative thickness) کی وجہ سے وجود میں آ ئی ہے۔

اب بڑا سوال یہ تھا کہ کیا بیکٹیریا ئی موادتصویر بنا سکتا ہے۔ وہ جواب کے بارے میں قطعاً مطمئن تھے کہ جی ہاں بیکٹیریا اس معجزے کے ذمہ دار ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے سامعین کو بتایا کہ بیکٹیریا ابھی تک زندہ ہیں اور اب بھی  بیکٹیریا ئی موادپیدا کر رہے ہیں۔ 80 x پر انہیں دھاگے کی حیران کر دینے والی چمک کا راز مل گیا۔ دھاگے پرمع لاکھوں کروڑوں بیکٹیریا اور براوٴن فنجائی (fungi) کے  ایک پیلاہٹ مائل بائیو پلاسٹک تہہ موجود تھی ۔

مزید طاقتور خورد بینی عمل سے انہوں نے یہ بیکٹیریا اور گہرےبراوٴن فنجائی بھی دیکھ لئے۔ جو فیتوں کے ایک جال کی صورت میں نظر آتے تھے۔ ایک scanning الیکٹرونی خورد بین کی مدد سے انہوں نے دیکھاکہ فائبر مکمل طور پربائیو پلاسٹک تہہ سے ڈھکے ہوئے تھے۔ نیز ان پر فنجائی کی کئی آبادیاں بھی موجود تھیں۔ بعض فائیبرز کےسروں پر گلابی رنگ موجود تھا جو بیکٹیریا کی پیداوار تھا۔ اسی جگہ میں بعض دھاگے’’تصویر والے فائبر‘‘تھے ان پر کوئی خون موجود نہیں تھا اور ان کی رنگت پیلی تھی۔ اور ان پر بغیر تصویر والے دھاگوں کی نسبت تہہ(coating)زیادہ موٹی تھی۔ بغیر تصویر والے فائبرہلکی پیلی رنگت کے اور کم موٹی تہہ والے تھے۔ الٹرا وائلٹ روشنی میں فائبر ایک گہری پیلاہٹ مائل سبز  fluorescence دکھاتے تھے۔

انہوں نے تصویری اور غیر تصویری فائبروں پر ایک polarizing microscope اور cross poolers استعمال کر کے calcite ،iron oxide, quartz اور manganese oxide کے نہایت مرتب کرسٹل دریافت کئے۔ یہ دونوں طرز کے فائبرزپر موجود تھے لیکن تصویری فائبرز پر ان کی تعداد بہت زیادہ تھی۔

یونیورسٹی آف واشنگٹن میں ڈاکٹر Paul Bierman نے مزید تجربات کئے جن سے معلوم ہوا کہ قدیم مصنوعات پر موجود صحرائی وارنش کی ماہیت وترکیب اس تہہ کی ترکیب جیسی ہی ہے۔ بائیو پلاسٹک تہہ کے بعض حصوں میں manganese کی زیادہ مقدارتھی۔ کچھ حصے  میں لوہےکی اور کچھ میں کیلشیئم کی۔ back scattered light والی ایک الیکٹرونک خوردبین نے یہ ثابت کر دیا کہ یہ معدنی مواد واقعی موجود ہیں۔ انہوں نے یہی نتیجہ اخذ کیا کہ تہہ جو بیکٹیریا نے بنائی معدنی اور نامیاتی دونوں قسم کے مواد رکھتی ہے۔

نہ صرف یہ بلکہ twelve culture media کے استعمال سے کپڑے پر موجود بیکٹیریا اور فنجائی کی لیب میں بھی افزائش کر لی گئی۔ بطور خاص اہم species ایک گلابی رنگ کا مواد اور PHA پیدا کرنے و الا بیکٹیریا تھا جسے ڈاکٹر گارزا نے Leobacillus rubus (genus Nov- Species Nov) کا نام دیا۔یہ سوائے ٹورین کے کپڑے کے اور کہیں دستیاب نہیں ہوا او ریہ متنوع حالات میں زندہ رہ سکتا ہے۔ کاربن ڈائی اوکسائیڈ میں 10فیصد اضافے سے اس کی افزائش میں تیزی آ جاتی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ مئی 1931ء کے تین ہفتوں میں تصویر کا رنگ orange-red سے بدل کر violet-red ہو گیا تھا۔کپڑے پر  زیادہ مقدار میں نامیاتی مواد والےحصوں میں بغیر نامیاتی deposit والے حصوں کی نسبت تہہ زیادہ موٹی تھی۔

والڈیس نے اس بات کو بھی رد کردیا کہ تصویری فائبرز پرمواد کی تہہ موجود نہیں اوراس نظریہ کی بھی مکمل تردید کر دی کہ تصویر بنناOxidative dehydration of the cellulose کا نتیجہ ہے۔

 40 x  پر کوئی شخص غیر تصویری فائبروں پر بھی مواد کی تہہ دیکھ سکتا ہے۔ ایک غیر تصویری اور تصویری حصے کے درمیان اصل فرق دراصل بائیو پلاسٹک تہہ کی موٹائی ہی تو ہے۔ یوں نہیں ہے کہ بعض حصوں پر کوئی مواد کی تہہ نہیں یا وہ اتر چکی  ہے۔

یہ پلاسٹک کی تہہ والا مواد PHA  یعنی Polyhydroxyalkanoate پر مشتمل ہے جس کو فنجائی کی بعض اقسام بڑی رغبت سے کھاتی ہیں لیکن Leobacillus rubrus جس نے یہ پلاسٹک تہہ بنائی ہے وہ ایک Anti fungal بھی بناتا ہے تاکہ فنجائی کے خلاف دفاع کر سکے۔

ڈاکٹر گارزا نے حتمی طور پر یہ لکھا کہ:

What could have happened to the body of Jesus of Nazareth after it was laid in the tomb? I don’t know. All I can say is that the cloth was not in contact with the body for a long time, because there would have been signs of deterioration, as in any cloth used in the burial of a body….

I believe that the image on shroud was not there at first but developed over time, as did the image in the jades.[5]

ترجمہ:یسوع ناصری کے جسم کے ساتھ مقبرے میں رکھے جانے کے بعد کیا ہو سکتا تھا ؟ میں نہیں جانتا ۔میں صرف اس قدرکہہ سکتا ہوں کہ کپڑا زیادہ عرصے تک جسم کے ساتھ نہیں لگا رہا ۔ کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو پھر اس پر اس کپڑے کی طرح جو تدفین کے لئے استعمال ہوتا ہے بگڑنے کے آثار ہوتے ….میں یقین رکھتا ہوں کہ شروع میں شبیہ نہیں ابھری ۔ بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ ابھری ہے جیسا کہ یاقوتوں پر شبیہ ابھرنے میں بھی ہوا ہے۔

ڈاکٹر گارزا کے کام کی نہ صرف یہ کہ سائنسی سطح پر 20 برس میں کوئی تردید نہیں سامنے آئی بلکہ دبے لفظوں میں ان کے مخالفین کو بھی ان کے ٹھوس کام کو ماننا پڑا۔ مثلاً ان کے ایک ناقد Dr. Hary Gova نے مئی 1995ء میں لکھا:

Those of us who attended this round table were convinced of the general validity of Garza Valdes’ findings- there was some sort of ”halo” of bioplastic coating around some of the threads.[6]

ترجمہ :ہم میں سے وہ جو اس گول میز (اجلاس)میں شریک ہوئےگارزا کی دریافتوں کے عمومی طور پر ٹھوس ہونے کے قائل تھے؛ کچھ دھاگوں (sic)کے گرد واقعی کسی قسم کا بائیو پلاسٹک تہہ کا حلقہ موجود تھا۔

یہ اس کا آفیشل بیان تھا وگرنہ نجی طور پر کانفرنس میں اس نے 60/40 کے تناسب کو تسلیم کر لیا تھا۔

ڈاکٹر گارزا کی تحقیق نے مسیحی بالخصوص رومن کیتھولک حلقوں میں ہلچل مچا دی۔ اس تحقیق کا توڑ ممکن نہیں تھا لہٰذا چرچ نے اسے نظر انداز کرنے کا فیصلہ کیا۔اندرونِ خانہ البتہ معلوم ہوتا ہے کہ اعلیٰ سطح پر یہ فیصلہ کر لیا گیا کہ کپڑے پر موجود تمام شواہد (جواس تحقیق کو جو 1978ء سے چرچ کے علم میں ہونے کے باوجود دبا دی گئی تھی اور گارزا  اسے دوبارہ منظرِ عام پر لے آئے تھے عیاں کرتے ہیں) ضائع کر دئیے جائیں۔

اس فیصلے کے بعد دو ہزار برس سے محفوظ اس کپڑے پر کیا قیامت بیتی۔ اس کا کچھ اندازہ محققین کے اس احتجاج سے کیا جا سکتا ہے جو کپڑے پر سے شہادت ضائع کئے جانے کے بعد منظرِ عام پر آئے۔ مثلاً  ٹیورین کے کپڑے کی بربادی کا نقشہ Daniel R. Porter نے The shroud of Turin for Journalists. Where have all the Skeptics Gone? میں یوں کھینچا ہے:

’’خود (کپڑے کی)مرمت کا کام بھی ایک بہت متنازعہ امر ہے۔ ٹیورین کے اہلکاروں نے یہ کام خفیہ طور پر کیا۔ انہوں نے کفن کو کھرچا، اسے ویکیوم کیا۔ اسے لطیف سی نمی دے کر گیلا کیا۔ اور شکنیں ہٹانے کے لئے اسے وزن باندھ کر کھینچا۔ Forensic مواد جس کا بہترین مطالعہ اسی وقت ہو سکتا ہے جب وہ اصل موقع پر موجود (in-situ) ہو مثلاً پولن اور گرد و غبار انہیں اتار کر بوتلوں میں بند کر دیا گیا۔ محققین کو حیرت تھی کہ کس قدر خون کھرچ ڈالا گیا ہو گا۔ نازک تصویر کو کس قدر نقصان پہنچایا گیا ہو گا یا پھر کھینچنے اور کھرچنے کے نتیجے میں یہ کتنے ڈھیلے ہو گئے ہوں گے کیونکہ بالآخر وہ ایک نازک سی تہہ کا ایک حصہ ہی تو ہیں جو کہ نہایت باریک ہے اور بآسانی اتاری جا سکتی ہے۔ اگر سب نہیں تو کفن پر تحقیق کرنے والےاکثر محققین نے محسوس کیا کہ یہ مرمت و بحالی کا کام سائنسی طور پر اور preservation ہر دو کے لحاظ سے غیر ضروری اور بے نتیجہ تھا۔‘‘[7]

اختتامیہ

Marcel Alonso, Mac Crone اور ڈاکٹر گارزا کے کام کو مجموعی تناظر میں رکھ کر میرا پیش کردہ نظریہ  یہ ہے کہ کپڑے پر تصویر کا ابھر آنا کسی ایک واحد عمل کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ مختلف عوامل کا ایک مجموعہ  اس کا ذمہ دار ہے جو بیک وقت یا الگ الگ اوقات میں اس کپڑے پر کئی صدیوں تک اثر انداز ہوتا رہا۔ یہ ایک چھاپ نما تصویر ہے نہ کہ حقیقی معنوں میں ایک فوٹو گرافک تصویر۔اور اگر یہ ایک حقیقی فوٹو گرافک تصویر نہیں ہے تب پتوں کی چھاپ( leaf imprints) والا نظریہ  بہت قرین قیاس ہے یعنی جسمانی تیزابوں نے مرہم عیسیٰ کے نباتاتی تیلوں کے ساتھ مل کر خام مال مہیا  کیا اور بیکٹیریا نے اسے کھا کر بائیو  پلاسٹک تہہ  میں تبدیل کیا۔بعض امور بنیادی ہیں:

1۔ وقوعہ کے وقت جسمانی حالت

2۔ جسم پر مرہم کا لگایا جانا

3۔دو ہزار سے زائد برس میں بیکٹیریا کی سرگرمی

ایک اور اہم امر جس کا دھیان رکھنا ضروری ہے وہ اس سارے مواد کا صدیوں تک بحیرہ اسود کے آس پاس جو ہائیڈروجن سلفائیڈ کا سب سے بڑا زیرآب ذخیرہ رکھتا ہے موجود رہنا ہے ۔

مندرجہ بالا تحقیق کو پیش نظر رکھ کر ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہمیں ٹیورین کے کپڑے پر شبیہ ابھرنے کے حوالے سے ایسی کافی شہادتیں میسر ہیں جن کی روشنی میں ہم جسمانی تیزابوں، مرہم عیسیٰ او ربیکٹیریا کی کپڑے پر شناخت شدہ اقسام کی مدد سے تجربات کا ایک سلسلہ شروع کر سکیں۔

ڈاکٹر گارزا کے اندازے کے مطابق بیکٹیریا کی کاروائی کے نتیجے میں تقریباً 100برس میں تصویر کپڑے پر ابھر سکتی ہے،لیکن لیبارٹری میں بیکٹیریا  کی افزائش اور صلاحیت میں اضافے کے ذریعے ممکن ہے کہ یہ نتیجہ بہت کم مدت میں بھی حاصل کیا جاسکے۔  

(ماخوذاز رسالہ موازنۂ مذاہب  ماہ اپریل تاجون2012ء)


[1] Migual Lorente Acosta MD,Phd.Forensic Analysis of the image and Bloodstains on the Shroud of turin:Contributions to the Evaluation of the Circumstances Surrounding the Death of Jesus of Nazareth (Based on the Book 42 Days.Forensic analysis on the Crucifixion and Resurrection of Jesus of Nazareth) p:12 www.shroud.info/Lorente.pdf

[2]Leoncio A.Garza Valdes, DNA of God page 59 USA.

[3] Leoncio A.Garza Valdes, DNA of God page 70 USA

[4] ibid page 70

[5] Leoncio A.Garza Valdes, DNA of God page 59 USA.

[6]  H.E Gone,Letters to the Editor,BSTS Newsletter:www.shroud.com/pdfs/n 40 part 6.pdf

[7] Daniel R. Porter http://www.shroudofturin4 journalists.com.

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close