متفرق مضامین

فتنہ انکارِ خلافت کے بعض ابتدائی واقعات

(اسفند یار منیب۔ انچارج شعبہ تاریخ احمدیت ربوہ)

حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ اس گروہ کے عزائم کوپوری طرح بھانپ گئے اور سمجھ گئے کہ یہ لوگ تو سلسلہ احمدیہ میں سے نظام خلافت ہی کو مٹانا چاہ رہے ہیں

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دسمبر1905ءمیں رسالہ الوصیت تحریر فرمایا۔ اس رسالہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے وہ الہامات درج فرمائے جن سے ظاہر ہو رہا تھا کہ آپ علیہ السلام کی وفات قریب ہے۔ ایک نبی کی وفات سےاُس کی قوم میں جو زلزلہ پیدا ہو جاتا ہے اُس کا ذکر کرتے ہوئےحضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی جماعت کے لیے تحریر فرمایا:

’’یہ خدا تعالیٰ کی سنت ہے اور جب سے کہ اس نے انسان کو زمین میں پیدا کیا ہمیشہ اس سنت کو وہ ظاہر کرتا رہا ہے کہ وہ اپنے نبیوں اور رسولوں کی مدد کرتا ہے اور ان کو غلبہ دیتا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے

کَتَبَ اللّٰہُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِیْ

اور غلبہ سے مراد یہ ہے کہ جیسا کہ رسولوں اور نبیوں کا یہ منشاء ہوتا ہے کہ خدا کی حجت زمین پر پوری ہو جائے اور اس کا مقابلہ کوئی نہ کر سکے۔ اسی طرح خدا تعالیٰ قوی نشانوں کے ساتھ ان کی سچائی ظاہر کر دیتا ہے اور جس راستبازی کو وہ دنیا میں پھیلانا چاہتے ہیں ۔ اس کی تخمریزی انہیں کے ہاتھ سے کر دیتا ہے۔ لیکن اس کی پوری تکمیل ان کے ہاتھ سے نہیں کرتا۔ بلکہ ایسے وقت میں ان کو وفات دے کر جو بظاہر ایک ناکامی کا خوف اپنے ساتھ رکھتا ہے۔ مخالفوں کو ہنسی اور ٹھٹھے اور طعن و تشنیع کا موقعہ دے دیتا ہے اور جب وہ ہنسی ٹھٹھا کر چکتے ہیں تو پھر ایک دوسرا ہاتھ اپنی قدرت کا دکھاتا ہے اور ایسے اسباب پیدا کر دیتا ہے جن کے ذریعہ سے وہ مقاصد جو کسی قدر ناتمام رہ گئے تھے اپنے کمال کو پہنچتے ہیں ۔ غرض دو قسم کی قدرت ظاہرکرتا ہے۔ (1)اول خود نبیوں کے ہاتھ سے اپنی قدرت کا ہاتھ دکھاتا ہے۔ (2) دوسرےایسے وقت میں جب نبی کی وفات کے بعد مشکلات کا سامنا پیدا ہو جاتا ہے اور دشمن زور میں آ جاتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ اب کام بگڑ گیا اور یقین کر لیتے ہیں کہ اب یہ جماعت نابود ہو جائے گی اور خود جماعت کے لوگ بھی تردّد میں پڑ جاتے ہیں اور ان کی کمریں ٹوٹ جاتی ہیں اور کئی بدقسمت مرتد ہونے کی راہیں اختیار کر لیتے ہیں تب خدا تعالیٰ دوسری مرتبہ اپنی زبردست قدرت ظاہر کرتا ہے۔ اور گرتی ہوئی جماعت کو سنبھال لیتا ہے۔ پس وہ جو اخیر تک صبر کرتا ہے۔ خدا تعالیٰ کے اس معجزہ کو دیکھتا ہے جیسا کہ حضرت ابوبکر صدیق کے وقت میں ہوا۔ جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی موت ایک بے وقت موت سمجھی گئی اور بہت سے بادیہ نشین نادان مرتد ہو گئے اور صحابہ بھی مارے غم کے دیوانہ کی طرح ہو گئے۔ تب خدا تعالیٰ نے حضرت ابوبکر صدیق کو کھڑا کر کے دوبارہ اپنی قدرت کا نمونہ دکھایا اور اسلام کو نابود ہوتے ہوتے تھام لیا اور اس وعدہ کو پورا کیا جو فرمایا تھا

وَ لَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِيْنَهُمُ الَّذِي ارْتَضٰى لَهُمْ وَ لَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًا

یعنی خوف کے بعد پھر ہم ان کے پَیر جمادیں گے…سو اے عزیزو! جبکہ قدیم سے سنت اللہ یہی ہے کہ خداتعالیٰ دو قدرتیں دکھلاتا ہے تا مخالفوں کی دو جھوٹی خوشیوں کو پامال کر کے دکھلاوے۔ سو اب ممکن نہیں ہے کہ خدا تعالیٰ اپنی قدیم سنت کو ترک کر دیوے۔ اس لئے تم میری اس بات سے جو میں نے تمہارے پاس بیان کی۔ غمگین مت ہو اور تمہارے دل پریشان نہ ہو جائیں کیونکہ تمہارے لئے دوسری قدرت کا بھی دیکھنا ضروری ہے اور اس کا آنا تمہارے لئے بہتر ہے کیونکہ وہ دائمی ہے جس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہوگا اور وہ دوسری قدرت نہیں آ سکتی جب تک میں نہ جاؤں لیکن میں جب جاؤں گا تو پھر خدا اس دوسری قدرت کو تمہارے لئے بھیج دے گا جو ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے گی۔‘‘

( رسالہ الوصیت روحانی خزائن جلد20صفحہ304-305)

اس تحریر میں یہ امربیان کیاگیاہے کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی پہلی قدرت ہیں اور آپ کی وفات کے بعد دوسری قدرت کی صورت میں خلافت قائم ہو گی اور یہ دوسری قدرت دائمی ہوگی جس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہو گا۔انشاءاللہ

وصال حضرت اقدس

26؍مئی بروز منگل سال 1908ء کو دن کے تقریباً ساڑھے دس بجے ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب کے گھر واقع برانڈرتھ روڈ لاہور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی مقدس روح اپنی مولائے حقیقی کے حضور حاضر ہو گئی۔ اسی روز جنازہ بذریعہ ریل گاڑی بٹالہ کے لیے روانہ ہوا۔ رات دس بجے کے قریب بٹالہ پہنچے اور اگلے دن افراد جماعت قریباً صبح آٹھ بجے تک جنازہ لےکر قادیان پہنچ گئے۔

انتخاب خلافت اولیٰ

حضرت اقدس علیہ السلام کی تدفین سے قبل صدر انجمن احمدیہ کے سرکردہ اصحاب مثلاً مکرم خواجہ کمال الدین صاحب، مکرم ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب، مکرم شیخ رحمت اللہ صاحب، مکرم ڈاکٹر مرزا محمد یعقوب بیگ صاحب نے حضرت نواب محمد علی خان صاحب کے مکان کے جنوب مغربی دالان میں باہمی مشورہ کےبعداس بات پر اتفاق کیا کہ حضرت مولوی نور الدین صاحبؓ کو خلیفۃ المسیح کے طور پر ذمہ داری اٹھانے کی درخواست کی جائے۔ پھر اس رائے پر دیگر اکابرین سلسلہ کی رضامندی لینے کے بعد حضرت مولانا حکیم نور الدین صاحبؓ سےیہ درخواست کی گئی مگر حضرت مولوی صاحبؓ نے فرمایا کہ میں دعا کے بعد جواب دو ں گا۔ چنانچہ آپ نےدو نفل نماز ادا کی اور فرمایا کہ ’’چلو ہم سب وہیں چلیں جہاں ہمارے آقا کا جسد اطہر اور ہمارے بھائی انتظار میں ہیں‘‘

پھر یہ تمام اصحاب باغ میں جہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا جسد اطہر رکھا گیا تھا، پہنچے تو تمام احباب کےاتفاق سےحضرت مفتی محمد صادق صاحبؓ ایڈیٹر اخبار بدر نے کھڑے ہو کر درج ذیل تحریر پڑھی:

’’بسم اللہ الرحمن الرحیم

نحمدہٗ و نصلی علٰی رسولہ الکریم

الحمد للّٰہ رب العلمین والصلوٰۃ والسلام علٰی خاتم النبیین محمد المصطفیٰ و علی المسیح الموعود خاتم الاولیاء

اما بعد مطابق فرمان حضرت مسیح موعود علیہ السلام مندرجہ رسالہ الوصیۃ ہم احمدیان جن کے دستخط ذیل میں ثبت ہیں ، اس امر پر صدق دل سے متفق ہیں کہ اول المہاجرین حضرت حاجی مولوی حکیم نورالدین صاحب جو ہم سب میں سے اعلم اور اتقیٰ ہیں اور حضرت امام کے سب سے زیادہ مخلص اور قدیمی دوست ہیں اور جن کے وجود کو حضرت امام علیہ السلام اسوۂ حسنہ قرار فرما چکے ہیں جیسا کہ آپ کے شعر

چہ خوش بودے اگر ہر یک ز امت نور دیں بودے

ہمیں بودے اگر ہر دل پُر از نور یقیں بودے

سے ظاہر ہے، کے ہاتھ پر احمد کے نام پر تمام احمدی جماعت موجودہ اور آئندہ نئے ممبر بیعت کریں اور حضرت مولوی صاحب موصوف کا فرمان ہمارے واسطے آئندہ ایسا ہی ہو جیسا کہ حضرت اقدس مسیح موعودو مہدی معہود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا تھا۔‘‘

(اخبار بدر 2؍جون 1908ء صفحہ6)

اس درخواست کے نیچے بہت سے اصحاب نے دستخط کیے ہوئے تھے جن میں صدرانجمن کےوہ سرکردہ اصحاب بھی شامل تھے جنہوں نے1914ء میں خلافت سے روگردانی اختیار کر لی۔ جب یہ تحریر پڑھی جاچکی تو حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ نے فرمایا کہ یہ ایک بڑا بوجھ ہے، خطرناک بوجھ ہے اس کا اٹھانا مامور کا کام ہو سکتا ہے کیونکہ اس سے خدا کے عجیب در عجیب وعدے ہوتے ہیں جو ایسے دکھوں کے لیے جو پیٹھ توڑ دیں ، عصا بن جاتے ہیں ۔

پھر فرمایا کہ

’’اگر تم میری بیعت ہی کرنا چاہتے ہو تو سن لو کہ بیعت بک جانے کا نام ہے۔‘‘

اس خطاب کے بعد قریباً 1200؍حاضر الوقت اصحاب نے بیعت کی۔ بیعت کے بعد نماز جنازہ ہوئی اور کوئی شام چھ بجے کے قریب حضرت اقدس علیہ السلام کی نعش مبارک کو سپرد خاک کر دیا گیا۔

اعلان بابت انتخاب خلافت وبیعت عام

اس کے بعد صدر انجمن احمدیہ کی طرف سےمکرم خواجہ کمال الدین صاحب نے تمام افرادجماعت کے لیے حسب ذیل اعلان شائع کیا کہ رسالہ الوصیت کے مطابق خلافت کا انتخاب ہو چکا ہے چنانچہ انہوں نے لکھا:

’’حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا جنازہ قادیان میں پڑھا جانے سے پہلے آپ کے وصایا مندرجہ رسالہ الوصیت کے مطابق حسب مشورہ معتمدین صدر انجمن احمدیہ موجودہ قادیان و اقرباء حضرت مسیح موعود و باجازت حضرت ام المومنین کل قوم نے جو قادیان میں موجود تھی اورجس کی تعداد اس وقت بارہ سو تھی، والامناقب حضرت حاجی الحرمین شریفین جناب حکیم نورالدین صاحب سلمہ کو آپ کا جانشین اور خلیفہ قبول کیا۔ اور آپ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ معتمدین میں سے ذیل کے اصحاب موجود تھے۔ مولانا حضرت سید محمد احسن صاحب، صاحبزادہ بشیر الدین محمود احمد صاحب، جناب نواب محمد علی خان صاحب، شیخ رحمت اللہ صاحب، مولوی محمد علی صاحب، ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب، ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب، خلیفہ رشید الدین صاحب، وخاکسار (خواجہ کمال الدین)

موت اگرچہ بالکل اچانک تھی۔ اور اطلاع دینے کا بہت ہی کم وقت ملا۔ تاہم انبالہ، جالندھر، کپورتھلہ، امرتسر، لاہور، گوجرانوالہ، وزیر آباد، جموں ، گجرات، بٹالہ، گورداسپور وغیرہ مقامات سے معزز احباب آ گئے۔ اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا جنازہ ایک کثیر جماعت نے قادیان اور لاہور میں پڑھا۔ حضرت قبلہ حکیم الامت سلمہ کو مندرجہ بالا جماعتوں کے احباب اور دیگر کل حاضرین قادیان نے جن کی تعداد اوپر دی گئی ہے بالاتفاق خلیفۃ المسیح قبول کیا۔ یہ خط بطور اطلاع کل سلسلہ کے ممبران کو لکھا جاتا ہے کہ وہ اس خط کے پڑھنے کے بعد فی الفور حضرت حکیم الامت خلیفۃ المسیح والمہدی کی خدمت بابرکت میں بذات خود یا بذریعہ تحریر حاضرہوکربیعت کریں ۔‘‘

(غیرمعمولی پرچہ الحکم 28؍مئی1908ء)

انتخاب خلافت کے وقت جس قدر احباب قادیان میں موجود تھے، ان سب نے بالاتفاق حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کی بیعت کر لی تھی اور اس اعلان کے بعد دیگر تمام احباب جماعت نے بھی حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کی بیعت کر لی۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنی دوسری قدرت بھیج کر جماعت کو پھر ایک ہاتھ پر جمع کر دیا۔

نظام خلافت کے خلاف کوششوں کا آغاز

مکرم مولوی محمد علی صاحب ایم اے (بعد ازاں امیر غیر مبائعین) کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے سےہی حضرت مولانا حکیم نورالدین صاحب (جو کہ صدر، صدر انجمن احمدیہ تھے) سے انجمن کے بعض معاملات کی وجہ سےکچھ ذاتی رنجشیں پیدا ہو چکی تھیں ۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد جب حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کی بیعت کرنے کی تجویز ہوئی تواُس وقت بھی انہوں نےبیعت خلافت کےمعاملہ پراختلاف کیا۔ اس بارے میں خود مکرم مولوی محمد علی صاحب تحریر فرماتے ہیں :

’’آپ (مرادحضرت مسیح موعودعلیہ السلام)کی نعش مبارک جب قادیان میں پہنچی تو باغ میں خواجہ کمال الدین صاحب نے مجھ سے ذکر کیا کہ یہ تجویز ہوئی ہے کہ حضرت مسیح موعود کے جانشین حضرت مولوی نورالدین صاحب ہوں … اس کے بعد انہوں نے کہا کہ یہ بھی تجویز ہوئی ہے کہ سب احمدی ان کے ہاتھ پر بیعت کریں ۔ میں نے کہا اس کی کیا ضرورت ہے۔ جو لوگ نئے سلسلہ میں داخل ہوں گے انہیں بیعت کی ضرورت ہے اور یہی الوصیت کا منشا ہے …اور اسی پر اب تک قائم ہوں کہ حضرت مسیح موعود کی جن لوگوں نے بیعت کی انہیں آپ کی وفات کے بعد کسی دوسرے شخص کی بیعت کی ضرورت نہیں اور نہ بیعت لازمی ہے لیکن بایں ہمہ میں نے بیعت کر بھی لی اس لئے کہ اس میں جماعت کا اتحاد تھا۔‘‘

(حقیقتِ اختلاف صفحہ 29تا30مصنفہ مکرم مولوی محمد علی صاحب)

اس اقتباس سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ مکرم مولوی محمد علی صاحب حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کی باقاعدہ بیعت کرنا نہ چاہتے تھےکیونکہ بیعت کرنےوالامریداپنےمرشد کی مکمل اطاعت وفرمانبرداری کاعہد کرتاہے یا دوسرے لفظوں میں مرشدکےہاتھ پربِک جاتاہے۔ اس با ت کا حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کوبھی بخوبی اندازہ تھا۔ چنانچہ مکرم ملک صلاح الدین صاحب، حضرت ڈاکٹر عطر دین صاحب کاتذکرہ کرتےہوئے تحریر فرماتے ہیں کہ

’’بعد تدفین حضرت چوہدری فتح محمدصاحب سیال، محترم شیخ محمدتیمورصاحب اور ڈاکٹر صاحب تینوں شہرکوواپس آرہےتھےکہ بڑےباغ کےکنویں کےپاس کسی نےپیچھے سے ڈاکٹرصاحب کےکندھے پرہاتھ رکھ دیا۔ مڑ کردیکھا تو حضرت خلیفہ اول تھے۔ فرمایا۔ میاں عطردین! کیا محمد علی نےمیری بیعت کی ہے؟ ڈاکٹر صاحب نے عرض کیا کہ اُنہوں نے بیعت کی ہے۔ ڈاکٹر صاحب بیان کرتے ہیں کہ میں نے اس وقت اپنے ساتھیوں کوبتادیاتھاکہ مولوی محمد علی صاحب ایم۔ اے کےمتعلق یہ بات حضور نےدریافت فرمائی ہے۔ ڈاکٹرصاحب بیان کرتے ہیں کہ حضور کا یہ سوال بہت معنی خیزتھا۔ اور اس سے عیاں ہے کہ حضور کو بعض یقینی امور کی بناء پریہ خدشہ ہوگا کہ شاید مولوی محمدعلی صاحب کوآپ کی بیعت کرنےپرانشراح نہ ہو۔‘‘

(اصحاب احمد جلد دہم صفحہ 9)

پس اس وقت حالات کے پیش نظر بظاہر بیعت کر لینے کے باوجود مکرم مولوی محمد علی صاحب اپنے اس خیال کو دل سے نہ نکال سکے بلکہ حضرت مسیح موعود ؑکی واضح ہدایات اور ارشادات مندرجہ رسالہ الوصیت کےبرخلاف آہستہ آہستہ اپنے دوست احباب سے اس قسم کے تذکرے شروع کر دیےجن میں جماعت کےاندرموجودنظامِ خلافت کا انکار مقصودہوتا تھایاپھر خلافت کے اختیارات محدود کرنے کے تذکرے کیے جاتے تھے، اورکہاجاتاکہ اب شخصی خلافت کازمانہ نہیں رہابلکہ دنیاوی پارلیمنٹوں کازمانہ ہے، اس لیےصدرانجمن ہی حضرت اقدس مسیح موعودؑکی جانشین ہےجبکہ یہ بات بالبداہت غلط تھی کیونکہ رسالہ الوصیت میں حضرت اقدس نبی کی وفات کے بعدخلافت کو دوسری قدرت قراردےچکے تھے(جیساکہ ابتدائے مضمون میں حوالہ درج کیاگیاہے)اور فرماچکےتھےکہ

’’وہ دوسری قدرت نہیں آسکتی جب تک میں نہ جاؤں لیکن میں جب جاؤں گا تو پھر خدا اس دوسری قدرت کو تمہارے لئے بھیج دے گا۔ جو ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے گی۔‘‘

پس انجمن کیسےجانشین ہوسکتی ہے جوخودحضرت اقدس کی زندگی میں ہی 1906ء میں قائم ہوکر حضرت اقدس کے ماتحت مختلف انتظامی خدمات بجالارہی تھی۔ کیونکہ جانشین تودوسری قدرت یعنی خلافت تھی جس نےحضرت اقدس کے جانے کے بعد آناتھا۔

بہرحال مکرم مولوی محمد علی صاحب مسلسل اپنےپراپیگنڈہ سےصدر انجمن کے کئی سرکردہ افراد کو اپنا ہم خیال بنانے میں کامیاب ہو گئے۔ اس سلسلہ میں ان کےدست راست خواجہ کمال الدین صاحب بنے۔ جو خود بھی ایسے ہی خیالات کے مالک تھے بلکہ بعض معاملات میں محترم مولانا موصوف سے کچھ آگے ہی تھے۔ چنانچہ حضرت سید محمد سرور شاہ صاحبؓ نے اپنی کتاب ’’کشف الاختلاف‘‘ میں ایسےمعاملات میں مکرم خواجہ صاحب کو استاد اور مکرم مولوی محمدعلی صاحب کو شاگرد لکھا ہے۔

پھرمکرم خواجہ کمال الدین صاحب نے خلافت اولیٰ کے چنددنوں بعد ہی حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحبؓ کو بھی اپناہم خیال بنانے کی کوشش کی۔ جس کا ذکر کرتے ہوئے حضرت بھائی عبد الرحمٰن صاحب قادیانیؓ تحریر فرماتے ہیں :

’’قدرت ثانیہ کے چھٹے روز ہمارے کرتے دھرتے اور اصحاب حل و عقد پھر قادیان تشریف لائے۔ حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ شہر سے سیدنا حضرت محمود ایدہ اللہ تعالیٰ کو اور مولوی محمد علی صاحب اور بعض اور اپنے ہم خیالوں کو انہوں نے ساتھ لیا اور مزار سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر جا کر دعا کی۔ کچھ دیر ادھر ادھر کی باتوں کے بعد شہر کو لوٹے۔ مگر باغ کے شمال مشرقی کونہ پر پہنچ کر خواجہ صاحب نے مغربی جانب باغ کی طرف رخ کر لیا اور ادھر ادھر ٹہلنے لگے۔ ٹہلتے ٹہلتے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کو خطاب کر کے بولے:

’’میاں ہم سے ایک غلطی ہو گئی ہے جس کا تدارک اب سوائے اس کے کچھ نظر نہیں آتا کہ ہم کسی ڈھنگ سے خلیفہ کے اختیارات کو محدود کر دیں ۔ وہ بیعت لے لیا کریں ۔ نماز پڑھا دیا کریں ۔ خطبہ نکاح پڑھ کر ایجاب و قبول اور اعلان نکاح فرمادیا کریں یا جنازہ پڑھا دیا کریں اور بس‘‘

(حیات نور صفحہ 364تا365)

حضرت صاحبزادہ مرزا بشیرالدین محمود احمد صاحب نے جواب دیا کہ

’’اختیارات کےفیصلہ کا وہ وقت تھاجبکہ ابھی بیعت نہ ہوئی تھی جبکہ حضرت خلیفہ اول نےصاف صاف کہہ دیاکہ بیعت کےبعد تم کو پوری پوری اطاعت کرنی ہوگی اور اس تقریرکوسن کرہم نےبیعت کی۔ تو اب آقا کے اختیارمقرر کرنے کاحق غلاموں کو کب حاصل ہے میرے اس جواب کو سن کو خواجہ صاحب بات کا رُخ بدل گئے اور گفتگو اسی پر ختم ہوگئی۔‘‘

(آئینہ صداقت، انوار العلوم جلد6صفحہ186)

ان لوگوں نے جب دیکھا کہ حضرت صاحبزادہ صاحب ان خیالات کا شکار نہیں ہیں اور خلافت کے ادب اور اختیارات پر کوئی بات کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں تو اس گروہ نے آپ کو بھی اپنے نشانہ پر رکھ لیا اور خلافت اولیٰ میں اس گروہ نے نظام خلافت کے خلاف محاذ بنانے کے علاوہ حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمدصاحب کی بھی جابجاکبھی در پردہ اور کبھی اعلانیہ مخالفت شروع کردی۔

جلسہ سالانہ1908ءپر خلافت کےخلاف پراپیگنڈہ

دسمبر1908ء کے جلسہ سالانہ پر اس گروہ نے اپنے دبے اور درپردہ خیالات و نظریات کو واشگاف کر دیا اور مکرم مولوی محمد علی صاحب نے اپنے دوست احباب کے ذریعہ مختلف پیرایو ں میں صدر انجمن احمدیہ کو ہی حضرت اقدس کی جانشین قرار دینے کے لیے لوگوں کی ذہن سازی کی بے انتہا کوشش کی۔

مثلاً ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب نے فرمایا کہ ’’کمیٹی خدا کے مقرر کردہ خلیفہ کی جانشین ہے‘‘

پھرخواجہ کمال الدین صاحب نے فرمایا:

’’22؍دسمبر 1905ء کے قریب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو وحی ہوئی کہ بہت تھوڑے دن رہ گئے ہیں۔ اس پر آپ نے فورا ً ایک وصیت شائع فرمائی اور پھر آپ نے قریباً ہر طرح کے کام سے اپنے تئیں الگ کر لیا اور سب کام صدر انجمن احمدیہ کے سپر د فرما دیا…خیراب یہ امام اس انجمن کواپناجانشین کرگیاہے۔‘‘

(اخباربدر31؍دسمبر1908ءصفحہ13)

اس اقتباس سے صاف ظاہر ہے کہ یہ گروہ اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی کی آخری سانس تک دین اسلام کی سر بلندی کے لیے کی جانے والی تمام کوششوں کو بھی نظر انداز کر نے کے لیے تیار ہو چکا تھا۔

خلافت کے وقار کے خلاف ایک حرکت اس گروہ نے یہ بھی کی کہ جلسہ کی تقاریر کے لیےعام مقررین کے لیے ایک گھنٹہ مقرر کیا اور حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کی تقریرکے لیے دو گھنٹے کا وقت مقرر کیا گیا جو کہ حد درجہ بے ادبی اور گستاخی تھی لیکن حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ نے ظہر و عصر کی نمازیں پڑھا کر تقریر کا آغاز فرمایا جو مغرب کے وقت تک جاری رہی۔ یہ حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کی طرف سے اس گروہ کو خلیفہٴ وقت کی تقریر کا وقت مقرر کیے جانے پرایک عملی جواب تھا۔ لیکن حضرت سید محمد احسن امروہی صاحب حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ سے اجاز ت لے کر آپ کی تقریر کے بعد کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ

’’یہ خلیفہ کی ہتک ہے کہ ان کا وقت مقرر کیا گیا اور عام لوگوں کی طرح ان کے لئے وقت کی تعیین کی گئی ہے۔ اس پر خواجہ صاحب نے ذرا کھسیانے ہو کر کہا کہ حکیم الامت صاحب کے مشورہ سے پروگرام بنایا گیا تھا۔ مگر بات ظاہر ہو گئی اور لوگوں میں چرچا ہونے لگا کہ یہ لوگ خلیفہٴ وقت کی اس طرح اطاعت نہیں کرتے جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کرتے تھے۔‘‘

(حیات بقا پوری صفحہ288)

بہر حال ان واقعات سے لوگوں میں اس بات کا چرچا ہونے لگاکہ جماعت میں ایک گروہ خلیفۂ وقت کی اطاعت میں کمزوری دکھا رہا ہے۔

حضرت میرمحمداسحاق صاحبؓ کےسوالات

اس کے بعد اسی گروہ نے باقاعدہ ایک پروگرام بنا کر قادیان اور قادیان سے باہر رہنے والوں کےاندر اپنے خیالات کی اشاعت شروع کر دی۔ بالخصوص مکرم خواجہ کمال الدین صاحب نے بیرونی جماعتوں میں دورے کر کے لوگوں کو اپنا ہم خیال بنانے کی کوششیں شروع کر دی۔ قادیان میں تو خلیفۃ المسیح کی موجودگی کی وجہ سے ان کو زیادہ کامیابی نہ ہوئی لیکن بہرحال افراد جماعت میں ان خیالات پر باتیں ہونے لگیں ۔ جب ان بحثوں نے طول پکڑا تو حضرت میر محمد اسحاق صاحبؓ نے چند سوالات لکھ کر حضرت خلیفۃ المسیح کے حضور پیش کر دیے۔

ان سوالات میں خلافت اور انجمن کے تعلقات کے متعلق روشنی ڈالنے کی درخواست کی گئی تھی۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ نے مکرم مولوی محمد علی صاحب کو یہ سوالات بھیج کر فرمایا کہ ان کا جواب دیں ۔ مکرم مولوی صاحب کا جواب تھا کہ

’’حضرت صاحب کی وصیت سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ خلیفہ کاکوئی فرد واحد ہونا ضروری ہےلیکن کوئی خاص صورتوں میں ایسا ہو سکتا ہے جیسا کہ اب ہے بلکہ حضرت صاحب نے انجمن کو اپنا خلیفہ بنایا ہے اور یہ ضروری نہیں کہ خلیفہ ایک ہی شخص ہو۔‘‘

(حقیقتِ اختلاف صفحہ 41مصنفہ مکرم مولوی محمد علی صاحب )

مکرم مولوی محمد علی صاحب کے اس جواب سے حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ اس گروہ کے عزائم کوپوری طرح بھانپ گئے اور سمجھ گئے کہ یہ لوگ تو سلسلہ احمدیہ میں سے نظام خلافت ہی کو مٹانا چاہ رہے ہیں۔

حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ نے حکم دیا کہ ان سوالات کی نقلیں تیار کر کے مختلف جماعتوں میں بھجوائی جائیں اور ان جماعتوں کے نمائندگان اپنے جوابات لے کر31؍جنوری1909ءکو قادیان آجائیں تاکہ افراد جماعت سے مشورہ ہو سکے۔

(اس دن کی کارروائی سےمتعلق تفصیل حیات نور مؤلفہ حضرت شیخ عبدالقادر صاحب سےتلخیص کر کے درج ذیل کی جاتی ہے)

31؍جنوری1909ء کاتاریخ ساز دن

جماعتوں کے نمائندے30؍جنوری تک مرکز میں پہنچ چکے تھے اور ہر طرف اسی امر کا چرچا تھا کہ دیکھیے کل کیا فیصلہ ہوتا ہے۔ اس نظارہ کو دیکھنے والے بیان کرتے ہیں کہ مخلصین تڑپ تڑپ کر اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں کر رہے تھے اور30؍ اور31؍جنوری کی درمیانی رات میں تو اس قدر دردمندانہ دعائیں کی گئیں اور اس قدر آہ و زاری سے عرش الٰہی کو ہلایا گیا کہ یوں معلوم ہوتا تھا گویا صبح ہوتے ہی حشر کا میدان برپا ہو گا جس میں تمام قوم کی قسمت کا فیصلہ ہوگا۔ خدا خدا کرکے فجر کی اذان ہوئی۔ بیرونی جماعتوں کے اکثر نمائندے تو پہلے ہی مسجد مبارک میں پہنچ گئے تھے۔ مقامی لوگوں نے بھی جوق در جوق مسجد میں پہنچنا شروع کر دیا۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کے مسجد میں آنے میں ابھی کچھ دیر تھی۔ اس موقع کو غنیمت سمجھ کر خواجہ صاحب کے ہمنواؤں نے پھر انجمن کی جانشینی کا سبق دہرانا شروع کر دیا۔

آخر حضور تشریف لے آئے۔ اور حضور کا تشریف لانا تھا کہ مسجد میں ایک سناٹا چھا گیا۔ نماز شروع ہوئی۔ حضور نے نماز میں سورۂ بروج کی تلاوت فرمائی۔ گو وہ نماز ساری کی ساری سوزوگداز اور خشوع و خضوع کا مجموعہ تھی مگر جب حضور نے آیت

اِنَّ الَّذِيْنَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِيْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ لَمْ يَتُوْبُوْا فَلَهُمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَ لَهُمْ عَذَابُ الْحَرِيْقِ۔

پڑھی تو اس کے بعد کی کیفیت حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کے الفاظ میں کچھ اس طرح سے ہے کہ

’’اس وقت تمام جماعت کا عجیب حال ہو گیا۔ یوں معلوم ہوتا تھا گویا یہ آیت اسی وقت نازل ہوئی ہے اور ہر ایک شخص کادل خشیت اللہ سے بھر گیا اور اس وقت مسجد یوں معلوم ہوتی تھی جیسے ماتم کدہ ہے۔ باوجود سخت ضبط کے بعض لوگوں کی چیخیں اس زور سے نکل جاتی تھیں کہ شاید کسی ماں نے اپنے اکلوتے بیٹے کی وفات پر بھی اس طرح کرب کا اظہار نہ کیا ہوگا اور رونے سے تو کوئی شخص بھی خالی نہیں تھا۔ خود حضرت خلیفۃ المسیح کی آواز بھی شدت گریہ سے رک گئی۔ اور کچھ اس قسم کا جوش پیدا ہوا کہ آپ نے پھر ایک دفعہ اس آیت کو دہرایا اور تمام جماعت نیم بسمل ہو گئی اور شاید ان لوگوں کے سوا جن کے لئے ازل سے شقاوت کافیصلہ ہو گیا تھا۔ سب کے دل دھل گئے اور ایمان دلوں میں گڑ گیا اور نفسانیت بالکل نکل گئی وہ ایک آسمانی نشان تھا جو ہم نے دیکھا اور تائید غیبی تھی جو مشاہدہ کی۔ نماز ختم ہونے پر حضرت خلیفۃ المسیح گھر تشریف لے گئے۔‘‘

(آئینہ صداقت، انوار العلوم جلد6صفحہ191)

مگر حیف صد حیف کہ منکرین خلافت پر اس نماز کا ذرا بھی اثر نہ ہوا۔ اور انہوں نے نماز کے معاً بعد پھر اپنی کارروائی کو شروع کر دیا۔ چنانچہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی فرماتے ہیں :

(انہوں نے) ’’پھر لوگوں کو حضرت مسیح موعود کی ایک تحریر دکھا کر سمجھانا چاہا کہ انجمن ہی آپ کےبعد جانشین ہے۔ لوگوں کے دل چونکہ خشیت اللہ سے معمور ہو رہے تھے۔ اوروہ اس تحریر کی حقیقت سے ناواقف تھے۔ وہ اس امر کو دیکھ کر کہ حضرت مسیح موعود نے فیصلہ کر دیا ہے کہ میرے بعد انجمن جانشین ہوگی اور بھی زیادہ جوش سے بھر گئے مگر کوئی نہیں جانتا تھا کہ خشیت اللہ کا نزول دلوں پر کیوں ہو رہا ہے اور غیب سے کیا ظاہر ہونے والا ہے۔‘‘

حضرت میاں عبدالعزیزصاحب مغل فرمایا کرتے تھے کہ مسجد میں پروپیگنڈہ کرنے کے بعد خواجہ صاحب حضرت مرزا سلطان احمد صاحب کی بیٹھک میں تشریف لے گئے۔ اور لوگوں کے ہمراہ مَیں بھی تھا۔ جناب خواجہ صاحب آرام کرسی پر بیٹھ گئےاور فرمانے لگے۔ دیکھا جناب مولوی صاحب (حضرت خلیفۃ المسیح الاول۔ ناقل) نے

اِنَّ الَّذِیْنَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنَاِت

والی آیت کو بار بار دہرا کر کس قدر کرب اور گریہ و زاری کے ساتھ یہ امر ظاہر فرمادیا ہے کہ جو لوگ انجمن کو جسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنا جانشین قرار دیا ہے، کچھ چیز نہیں سمجھتے اور خلافت ہی کو سب کچھ سمجھتے ہیں ، وہ جماعت میں فتنہ ڈال رہے ہیں اور انہیں اس فتنہ پردازی کی سخت سزا ملے گی۔

حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ فرماتے ہیں :

’’آخر جلسہ کا وقت قریب آیااور لوگوں کو مسجد مبارک (یعنی وہ مسجد جو حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے گھر کے ساتھ ہے اور جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام پنجوقتہ نمازیں ادا فرماتے تھے) کی چھت پر جمع ہونے کا حکم دیا گیا۔ اس وقت ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب میرے پاس آئے اور مجھے کہا کہ آپ مولوی صاحب ( خلیفہ اول ) سے جا کر کہیں کہ اب فتنہ کا کوئی خطرہ نہیں رہا۔ کیونکہ سب لوگوں کو بتا دیا گیا ہے کہ انجمن ہی حضرت مسیح موعودؑکی جانشین ہے۔ میں نے تو ان کے اس کلام کی وقعت کو سمجھ کر خاموشی ہی مناسب سمجھی مگر وہ خود حضرت خلیفہ اول کی خدمت میں چلے گئے۔ میں بھی وہاں پہنچ چکا تھا۔ جاتے ہی ڈاکٹر صاحب نے حضرت خلیفۃ المسیح سے عرض کی کہ مبارک ہو، سب لوگوں کو سمجھا دیا گیا ہے کہ انجمن ہی جانشین ہے۔ اس بات کو سن کر آپ نے فرمایا۔ کونسی انجمن؟ جس انجمن کو تم جانشین قرار دیتے ہو وہ تو خود بموجب قواعد کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ اس فقرہ کو سن کر شاید پہلی دفعہ خواجہ صاحب کی جماعت کو معلوم ہوا کہ معاملہ ویسا آسان نہیں جیسا کہ ہم سمجھتے تھے۔‘‘

(آئینہ صداقت، انوار العلوم جلد6صفحہ191-192)

ان لوگوں کا یہ خیال تھا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ جب لوگوں سے ووٹ لیں گے تو لازماً انجمن کی جانشینی کے حق میں ووٹوں کی کثرت ہوگی۔ لہٰذا آپ کی اپنی رائے اگر اس کے خلاف بھی ہوئی تو بھی جماعت میں فتنہ کے ڈر سے آپ انجمن کے حق میں فیصلہ دے دیں گے۔ لیکن ان کے خیالات کی پرواز آیت استخلاف کے اس حصہ تک نہیں پہنچی تھی جس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے

وَ لَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِيْنَهُمُ الَّذِي ارْتَضٰى لَهُمْ

کہ اللہ تعالیٰ خلفاء کے ذریعہ سے اس دین کو مضبوط اور مستحکم بنا دے گا، جو اس نے ان کے لیے پسند فرمایا ہوگا۔ اس لیے انہیں کیا پتہ تھا کہ جس دین پر خلیفۃ المسیح قائم ہیں ، وہی صحیح ہے اور اسی کو اللہ تعالیٰ مضبوط و مستحکم بنائے گا۔

تاریخ احمدیت کا ایک نہایت اہم اوریادگار مجمع

حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ اس جلسہ کا نظارہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

’’جب لوگ جمع ہو گئے تو حضرت خلیفۃ المسیح مسجد کی طرف تشریف لے گئے۔ قریباً دو اڑھائی سو آدمی کا مجمع تھا۔ جس میں اکثر احمدیہ جماعتوں کے قائمقام تھے۔ بیشک ایک ناواقف کی نظر میں وہ دو اڑھائی سو آدمی کا مجمع جو بلا فرش زمین پر بیٹھا تھا ایک معمولی بلکہ شاید حقیر نظارہ ہو مگر ان لوگوں کے دل ایمان سے پُر تھے اور خدا کے وعدہ پر ان کو یقین تھا۔ وہ اس مجلس کو احمدیت کی ترقی کا فیصلہ کرنے والی مجلس خیال کرتے تھے اور اس وجہ سے دنیا کی ترقی اور اس کے امن کا فیصلہ اس کے فیصلہ پر منحصر خیال کرتے تھے۔ ظاہر بین نگاہیں ان دنوں پیرس میں بیٹھنے والی (PEACE) پیس کانفرنس کی اہمیت اور شان سے حیرت میں ہیں مگر درحقیقت اپنی شان میں بہت بڑھی ہوئی وہ مجلس تھی کہ جس کے فیصلہ پر دنیا کے امن کی بناء پڑنی تھی۔ اس دن یہ فیصلہ ہونا تھا کہ احمدیت کیا رنگ اختیار کرے گی۔ دنیا کی عام سوسائٹیوں کا رنگ یا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جماعت کا رنگ، اس دن اہل دنیا کی زندگی یا موت کے سوال کا فیصلہ ہونا تھا۔ بیشک آج لوگ اس امر کو نہ سمجھیں لیکن ابھی زیادہ عرصہ نہ گزرے گا کہ لوگوں کو معلوم ہو جاوے گا کہ یہ مخفی مذہبی لہر ہیبت ناک سیاسی لہروں سے زیادہ پاک اثر کرنے والی اور دنیا میں نیک اور پُرامن تغیر پیدا کرنے والی ہے۔ غرض لوگ جمع ہوئے اور حضرت خلیفۃ المسیح الاول بھی تشریف لائے۔ آپ کے لئے درمیان مسجد میں ایک جگہ تیار کی گئی تھی مگر آپ نے وہاں کھڑے ہونے سے انکار کر دیا اور ایک طرف جانب شمال اس حصہ مسجد میں کھڑے ہو گئے جسے حضرت مسیح موعود نے خود تعمیر کروایا تھا۔

حضرت خلیفۃ المسیح الاول کی تقریر

پھر آپ نے کھڑے ہو کر تقریر شروع کی اور بتایا کہ خلافت ایک شرعی مسئلہ ہے۔ خلافت کے بغیر جماعت ترقی نہیں کر سکتی اور بتایا کہ مجھے خدا تعالیٰ نے بتایا ہے کہ اگر ان لوگوں میں سے کوئی شخص مرتد ہو جاوے گا تو میں اس کی جگہ ایک جماعت تجھے دوں گا۔ پس مجھے تمہاری پروا نہیں ۔ خدا کے فضل سے میں یقین رکھتا ہوں کہ وہ میری مدد کرے گا۔ پھر خواجہ صاحب اور مولوی محمد علی صاحب کے جوابوں کا ذکر کر کے کہا کہ مجھے کہا جاتا ہے کہ خلیفہ کا کام نماز پڑھا دینا یا جنازہ یا نکاح پڑھا دینا یا بیعت لے لینا ہے۔ یہ جواب دینے والے کی نادانی ہے اور اس نے گستاخی سے کام لیا ہے۔ اس کو توبہ کرنی چاہئے ورنہ نقصان اٹھائیں گے۔ دوران تقریر میں آپ نے فرمایا کہ تم نے اپنے عمل سے مجھے بہت دکھ دیا ہے اور منصب خلافت کی ہتک کی ہے۔ اسی لئے میں آج اس حصہ مسجد میں کھڑانہیں ہواجوتم لوگوں کابنایاہوا ہےبلکہ اس حصہ مسجدمیں کھڑا ہوا ہوں جو مسیح موعود علیہ السلام کا بنایا ہوا ہے۔

تقریر کا اثر

جوں جوں آپ تقریر کرتے جاتے تھے۔ سوائے چند سرغنوں کے باقیوں کے سینے کھلتے جاتے تھے اور تھوڑی ہی دیر میں جو لوگ (حضرت )نورالدین کو اس کےمنصب سے علیحدہ کرنا چاہتے تھے وہ اپنی غلطی کو تسلیم کرنے لگے اور یا خلافت کے مخالف تھے یااس کے دامن سے وابستہ ہو گئے۔ آپ نے دوران لیکچران لوگوں پر بھی اظہار ناراضگی فرمایا جو خلافت کے قیام کی تائید میں جلسہ کرتے رہے تھے اور فرمایا کہ جب ہم نے لوگوں کو جمع کیا تھا تو ان کا کیا حق تھا کہ وہ الگ جلسہ کرتے۔ ان کو اس کام پر ہم نے کب مامور کیا تھا۔ آخر تقریر کے خاتمہ پر بعض اشخاص نے اپنے خیالات کے اظہار کے لئے کہا، خیالات کا اظہارکسی نے کیا کرنا تھا۔ تمام مجلس سوائے چند لوگوں کے حق کو قبول کر چکی تھی۔ مجھ سے اور نواب محمد علی خاں سے جو میرے بہنوئی ہیں ، رائے دریافت کی۔ ہم نے بتایاکہ ہم تو پہلے ہی ان خیالات کے مؤید ہیں ۔ خواجہ صاحب کو کھڑا کیا۔ انہوں نے بھی مصلحتِ وقت کے ماتحت گول مول الفاظ کہہ کر وقت کو گزارنا ہی مناسب سمجھا۔ اورپھر فرمایا کہ آپ لوگ دوبارہ بیعت کریں اور خواجہ صاحب اور مولوی محمد علی صاحب سے کہا کہ الگ ہو کر آپ مشورہ کر لیں اور اگر تیار ہوں تب بیعت کریں ۔ اس کے بعد شیخ یعقوب علی صاحب ایڈیٹر الحکم سے جو اس جلسہ کے بانی تھے، جس میں خلافت کی تائید کے لئے دستخط لئے گئے تھے کہا کہ اُن سے بھی غلطی ہوئی ہے۔ وہ بھی بیعت کریں ۔

غرض ان تینوں کی بیعت دوبارہ لی اور جلسہ برخاست ہوا۔ اس وقت ہر ایک شخص مطمئن تھا اور محسوس کرتا تھا کہ خداتعالیٰ نے جماعت کو بڑے ابتلاء سے بچایا۔ لیکن مولوی محمد علی صاحب اور خواجہ صاحب جو ابھی بیعت کر چکے تھے اپنے دل میں سخت ناراض تھے اور ان کی وہ بیعت جیسا کہ بعد کے واقعات نے ثابت کر دیا، دکھاوے کی بیعت تھی۔ انہوں نے ہرگز خلیفہ کو واجب الاطاعت تسلیم نہ کیا تھا۔‘‘

(آئینہ صداقت، انوارالعلوم جلد6صفحہ192تا 194)

حضرت ماسٹر عبدالرحیم صاحب نیر کا بیان ہے کہ

’’مسجد کی چھت سے نیچے اترتے ہی مولوی محمد علی صاحب نے خواجہ صاحب کو کہا کہ آج ہماری سخت ہتک کی گئی ہے۔ میں اس کو برداشت نہیں کر سکتا۔ ہمیں مجلس میں جوتیاں ماری گئی ہیں ۔ یہ ہے صدق اس شخص (مراد حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل ) کا جو آج جماعت کی اصلاح کا مدعی ہے۔‘‘

حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ فرماتے ہیں :

’’ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم اس وقت ان لوگوں سے خاص تعلق رکھتے تھے اور مولوی محمد علی صاحب کو جماعت کا ایک بہت بڑا ستون سمجھتے تھے۔ (اس واقعہ کےبعد) ایک دفعہ میں حضرت خلیفہ اول کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ڈاکٹر صاحب اس قدر گھبرائے ہوئے آئے کہ گویا آسمان ٹوٹ پڑا ہے اور آتے ہی سخت گھبراہٹ کی حالت میں حضرت خلیفہ اول سے کہا کہ بڑی خطرناک بات ہو گئی ہے آپ جلدی کوئی فکر کریں ۔ حضرت خلیفہ اول نے فرمایا۔ کیا بات ہے؟ انہوں نے کہا۔ مولوی محمد علی صاحب کہہ رہے ہیں کہ میری یہاں سخت ہتک ہوئی ہے میں اب قادیان میں نہیں رہ سکتا۔ آپ جلدی سے کسی طرح ان کو منوالیں ۔ ایسا نہ ہو کہ وہ قادیان سے چلے جائیں ۔ حضرت خلیفہ اول نے فرمایا۔ ڈاکٹرصاحب میری طرف سے مولوی محمدعلی صاحب کو جا کر کہہ دیں کہ اگر انہوں نے کل جانا ہے تو آج ہی قادیان سے تشریف لے جائیں ۔ ڈاکٹر صاحب جو سمجھتے تھے کہ مولوی محمد علی صاحب کے جانے سے نہ معلوم کیا ہو جائے گا، آسمان ہل جائے گا یا زمین لرز جائے گی۔ انہوں نے جب یہ جواب سنا تو ان کے ہوش اڑ گئے اور انہوں نے کہا۔ میرے نزدیک تو پھر بہت بڑا فتنہ ہوگا۔ حضرت خلیفہ اول نے فرمایا۔ ڈاکٹر صاحب میں نے جو کچھ کہنا تھا کہہ دیا۔ اگر فتنہ ہوگا تو میرے لئے ہوگا۔ آپ کیوں گھبراتے ہیں آپ انہیں کہہ دیں کہ وہ قادیان سے جانا چاہتے ہیں تو کل کی بجائے آج ہی چلے جاویں ۔ غرض اسی طرح یہ فتنہ بڑھتا چلا گیا۔‘‘

(خلافت احمدیہ کےمخالفین کی تحریک صفحہ 21-22)

اس واقعہ کےبعد انہوں نے یہ سوچ کر کہ اب ہم نے خلافت کے خلاف کھلم کھلا پروپیگنڈہ شروع کیا تو معاملہ ایسا صاف ہو جائے گا کہ آئندہ ہمارے لیے اس مسئلہ میں تاویلات کی گنجائش نہ رہے گی۔ اس لیے اب اس معاملہ میں بالکل خاموشی اختیار کرنی چاہیے۔ چنانچہ انہوں نے عام مجالس میں خلافت کا تذکرہ ہی چھوڑ دیا بلکہ بظاہر اپنے آپ کو خلافت کا مطیع اور فرماں بردار ظاہر کرتے رہے لیکن درپردہ خلافت کو مٹانے کی تدابیر جاری رکھیں ۔ چنانچہ ایک تدبیر انہوں نے یہ اختیار کی کہ صدر انجمن کے معاملات میں جہاں کہیں حضرت خلیفۃ المسیحؓ کے کسی حکم کی تعمیل کرنی پڑتی وہاں ‘‘خلیفۃ المسیح’’ کی بجائے ‘‘پریذیڈنٹ’’ لکھنا شروع کر دیا بلکہ یہ لکھا جاتا کہ پریذیڈنٹ صاحب نے اس معاملہ میں یوں سفارش کی ہے۔ اس کارروائی سے مقصد ان کا یہ تھا کہ صدر انجمن کے ریکارڈ سے یہ ثابت نہ ہو کہ خلیفہ کبھی انجمن کا حاکم رہا ہے۔

حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ بھی ان لوگوں کی حرکات کو خوب جانتے تھے۔ چنانچہ آپ نے ان لوگوں کے اس حربہ کو یوں توڑا کہ 1910ءمیں صدرانجمن کو لکھ دیا کہ میں چونکہ خلیفہ ہوں ۔ ممبر انجمن اور صدر انجمن نہیں رہ سکتا۔ میری جگہ مرزا محمود احمد کو پریذیڈنٹ مقرر کیا جاوے اور یوں ان کی اس تدبیر کو خاک میں ملادیا۔

اس گروہ کو اس امر کا مکمل یقین ہوچلا تھا کہ آئندہ خلافت ان میں سے کسی کو نہیں ملے گی۔ اس لیے ان کا بغض خاندان مسیح موعودؑسے عموماً اور حضرت صاحبزادہ مرزامحموداحمد صاحب سے خصوصاً بڑھتا چلاگیا۔ اور وہ یہ مصمم ارادہ کیے ہوئے تھے کہ اگر حضرت خلیفۃ المسیح الاول کی وفات کے بعد حضرت صاحبزادہ صاحب خلیفہ منتخب ہو گئے تو ہم قادیان کو چھوڑ کر لاہور چلے جائیں گے اور اپنا مشن الگ کھول دیں گے۔ اور چونکہ غیر احمدیوں کو ناراض کرنے والے مسائل ہم چھوڑ دیں گے، اس لیے غیر احمدی خوش ہو کر اشاعت اسلام کے کام میں شرکت کرنے کے لیے لاکھوں کی تعداد میں ہمارے ساتھ شامل ہو جائیں گے۔ اور خلافت سے تعلق رکھنے والا گروہ ہمارے مقابل میں کوئی حیثیت ہی نہیں رکھے گا۔ اس کے بعد ان لوگوں نے عزت اور شہرت حاصل کرنے کے لیے احمدیت کے خصوصی مسائل کو بگاڑنا شروع کر دیا۔ ان کا یہ خیال تھا کہ علم کلام تو ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا پیش کریں گے مگر ایسی باتیں جن سے غیر احمدی ناراض ہوتے ہیں انہیں ایسے رنگ میں پیش کریں گے جن سے وہ ناراض نہ ہوں ۔ مگر اللہ تعالیٰ کے کام بھی نرالے ہوتے ہیں ۔ جس قسم کے خواب یہ لوگ دیکھ رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ جانتا تھا کہ وہ کبھی بھی شرمندہ تعبیر نہ ہوں گے۔ چنانچہ خلافت ثانیہ کے آغاز میں یہ لوگ الگ ہو کر لاہور آ گئے اور غیر احمدیوں کو خوش کرنے کے لیے اکثر احمدیت کے خصوصی مسائل کو خیرباد کہہ دیا۔ مگر نہ انہوں نے خوش ہونا تھا اورنہ ہوئے، نتیجہ یہ ہوا کہ آج جبکہ ان کو مرکز سلسلہ سے الگ ہوئےسوسال سےزائد گزر چکاہےاور اس گروہ نےاپنا مرکز بھی لاہور ایسے مرکزی شہر میں بنایا، جہاں ہر قسم کی سہولتیں میسر ہیں ، لیکن ان کی تعداد جماعت مبائعین کے مقابلہ میں آٹےمیں نمک کےبرابر بھی نہیں اور بقول یکےازغیرمبائعین‘‘تحریک ایک لاش بن کررہ گئی تھی اورچندآدمی اسےنوچ نوچ کرکھارہےتھے۔‘‘

(پیغام صلح 24؍فروری1954ء)

دوسری طرف اللہ تعالیٰ کی مسلسل فعلی شہادت نےیہ بتادیا ہے کہ اس کا ہاتھ خلافت پرہے۔ پس جولوگ خلافت سے وابستہ ہوں گےوہی حبل اللہ کو تھامنے والے ہوں گےاور وہی دنیا و آخرت میں کامیاب ہونے والے ہیں ۔ پس اب بھی اگر یہ غیرمبائعین چاہیں تو اب بھی حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کی ان زریں نصائح اورفرمودات سےفائدہ اُٹھاکردنیا وآخرت میں کامیاب و کامران ہوسکتےہیں ، جواس گروہ کومخاطب کرکے حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ وقتاً فوقتاً ارشادفرماتے رہے۔ ان ارشادات میں سے کچھ درج ذیل ہیں ۔

حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ فرماتےہیں :

٭…’’خلافت کیسری کی دُکان کاسوڈا واٹر نہیں ۔ تم اس بکھیڑےسےکچھ فائدہ نہیں اُٹھا سکتے۔ نہ تم کوکسی نےخلیفہ بنانا ہے اورنہ میری زندگی میں کوئی اوربن سکتاہے۔ میں جب مرجاؤں گاتوپھروہی کھڑا ہوگاجس کو خدا چاہےگا او ر خدا اُس کو آپ کھڑا کردے گا…تم نےمیرےہاتھوں پر اقرار کئےہیں تم خلافت کانام نہ لو، مجھے خدا نے خلیفہ بنادیاہےاوراب نہ تمہارے کہنےسےمعزول ہوسکتا ہوں اور نہ کسی میں طاقت ہےکہ وہ معزول کرے۔‘‘

(اخبار بدر 11؍جولائی 1912ءصفحہ4)

٭…’’میں خداکی قسم کھاکرکہتاہوں کہ مجھے بھی خدا ہی نےخلیفہ بنایاہے…جس طرح پرآدم و داؤد اورابوبکروعمر کواللہ تعالیٰ نےخلیفہ بنایاہےاسی طرح اللہ تعالیٰ ہی نےمجھے خلیفہ بنایا ہے۔ اگرکوئی کہےکہ انجمن نےخلیفہ بنایاہےتو وہ جھوٹاہے۔ اس قسم کےخیالات ہلاکت کی حد تک پہنچاتے ہیں ۔ تم ان سےبچو۔ پھرسن لوکہ مجھےنہ کسی انسان نے، نہ انجمن نےخلیفہ بنایاہےاورنہ میں کسی انجمن کو اس قابل سمجھتا ہوں کہ وہ خلیفہ بنائے۔ پس مجھ کونہ کسی انجمن نے بنایاہےاورنہ میں اس کےبنانےکی قدر کرتاہوں اور اس کے چھوڑ دینےپرتھوکتابھی نہیں ۔ اور نہ اب کسی میں طاقت ہےکہ وہ اس خلافت کی رداءکومجھ سےچھین لے۔‘‘

(اخباربدر4؍جولائی 1912ء صفحہ 7)

٭…’’اب میں تمہارا خلیفہ ہوں۔ اگرکوئی کہےکہ الوصیت میں حضرت صاحب نے نورالدین کا ذکر نہیں کیا، توہم کہتے ہیں کہ ایسا ہی آدم اور ابوبکر کا ذکر بھی پہلی پیشگوئیوں میں نہیں ہے۔‘‘

(اخبار بدر 21؍اکتوبر1909ء )

٭…’’خدا نےجس کام پر مجھے مقرر کیاہے میں بڑے زور سےخدا کی قسم کھاکر کہتا ہوں کہ اب میں اس کُرتے کو ہرگز نہیں اُتار سکتا۔ اگرسارا جہان بھی اور تم بھی میرےمخالف ہوجاؤ تومیں تمہاری بالکل پرواہ نہیں کرتا اور نہ کروں گا۔ خدا کےمامور کا وعدہ ہے اور اس کا مشاہدہ ہےکہ وہ اس جماعت کو ہرگز ضائع نہیں کرےگا۔‘‘

(اخبار بدر 21؍اکتوبر1909ء)

ان شاء اللہ العزیز

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close