عالمی خبریں

جماعت احمدیہ مسلمہ کے خلاف نشر ہونے والے دو پروگرامز پر تبصرہ

(ڈاکٹر مرزا سلطان احمد)

دامن کو ذرا دیکھ ذرا بند قبا دیکھ

کچھ روز قبل میڈیا پر یہ خبر نشر ہوئی کہ کابینہ کے اجلاس میں یہ فیصلہ ہوا ہے کہ پاکستان میں اقلیتوں کا ایک قومی کمیشن بنایا جائے اور احمدیوں کو بھی اس کمیشن میں نمائندگی دی جائے۔ اس خبر کا ایک نمایاں پہلو یہ تھا کہ اس سلسلہ میں احمدیوں کی طرف سے کوئی مطالبہ نہیں کیا گیا تھا کہ انہیں اس کمیشن میں شامل کیا جائے۔ جماعت احمدیہ کا موقف اس حوالے سے بڑا واضح ہے اور سینکڑوں مرتبہ بیان کیا جا چکا ہے۔

یہ قدم خود ذمہ دار افراد اور کابینہ کے بعض اراکین کی طرف سے اُٹھایا گیا تھا۔ لیکن یہ خبر نشر ہونے کی دیر تھی کہ پورے ملک میں ایک ناقابل فہم شور شرابے کا آغاز ہو گیا۔ پہلے تو وزیر برائے مذہبی امور پیرنورالحق قادری صاحب نے بیان دیا کہ اس پر بحث ہوئی تھی لیکن ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔ آئین پاکستان کے مطابق قادیانی غیر مسلم ہیں۔ پھر چودھری شجاعت حسین صاحب، سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الٰہی صاحب، اور وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ صاحب نے کہا کہ خواہ مخواہ پنڈورا بکس کھول دیا گیا ہے۔ پھر وفاقی وزیرعلی محمد خان صاحب کی طرف سے ایک مختلف بیانیہ سامنے آیا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان صاحب نے تو اس تجویزکی مخالفت کی تھی اور کہا تھا کہ جب تک قادیانی اپنے آپ کو غیر مسلم نہیں سمجھتے اس وقت تک وہ کسی کمیشن کا رکن نہیں بن سکتے۔ اس کے بعد مختلف چینلز نے اس بارے میں پروگرام کرنے شروع کیے۔ اور حسب سابق ان پروگراموں میں کوئی ٹھوس علمی یا قانونی بات کرنے کی بجائے مختلف سیاسی پارٹیوں کے نمائندوں کو بلا کر انہیں اسی طرح لڑایا گیا جس طرح کسی زمانے میں پنجاب کے دیہات میں مرغوں کی لڑائی کے مقابلے کرائے جاتے تھے۔ اس مضمون میں اس بارے میں صرف اُن دو پراگراموں پر تبصرہ کیا جائے گا جو ندیم ملک لائیو کے نام سے سماء نام کے چینل پر5؍ اور 6؍ مئی 2020ء کو نشر ہوئے۔ان دو پروگراموں کے میزبان ندیم ملک صاحب تھے اورتحریک انصاف کے صداقت عباسی صاحب، وفاقی وزیرعلی محمد خان صاحب، پیپلز پارٹی کی پلوشہ صاحبہ اورمسلم لیگ ن کے طلال چودھری صاحب ان پروگراموں میں شامل ہوئے۔تفصیلات بیان کرنے سے پہلے یہ وضاحت ضروری ہے کہ اس مضمون کا مقصد کسی سیاسی بحث میں الجھنا یا کسی سیاسی جماعت پر تنقید کرنا نہیں ہے۔ لیکن جماعت احمدیہ کے خلاف چلائی جانے والی مہم پاکستان کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے۔ اس مضمون میں صرف ان امور کی نشان دہی کی جائے گی۔

فیصلے کا پس منظر کیا تھا؟

اس کا پس منظر یہ ہے کہ 2014ء میں پشاور کے ایک چرچ میں دھماکہ ہوا۔ اس پر پاکستان کی سپریم کورٹ نے از خود نوٹس لے کر کارروائی شروع کی کیونکہ پاکستان میں مذہبی اختلاف کی وجہ سے عبادت گاہوں پر کئی مرتبہ حملے ہو چکے ہیں اور یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ سپریم کورٹ نے جون 2014ء میں ایک فیصلہ سنایا۔ اس فیصلے میں حکومت سے کہا گیا تھا کہ وہ پاکستان کی مذہبی اقلیتوں کے لیے ایک کونسل تشکیل دے۔اور یہ کونسل آئین کے تحت اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو سفارشات بھیجے گی۔ اور ایک سپیشل فورس تشکیل دی جائے جو اقلیتوں کی عبادت گاہوں کی حفاظت کرے۔اور اس فیصلے میں یہ ہدایت بھی دی گئی تھی کہ حکومت سکول کے نصاب میں مذہبی اور ثقافتی برداشت کے بارے میں مواد بھی شامل کرے تاکہ ملک میں مذہبی رواداری کو فروغ دیا جائے۔ عدالت کے سامنے بلوچستان کی ہزارہ شیعہ برادری پر ہونے والے مظالم کی تفصیلات پیش کی گئیں۔ اس پر عدالت نے تبصرہ کیا کہ گو کہ آئین میں مذہبی آزادی کی ضمانت اہم ہے لیکن صرف یہ ضمانت کافی نہیں۔ حکومت کو اس ضمانت پر عمل درآمد کو یقینی بنانا چاہیے۔

اتنے سال گذر جانے کے باوجود سپریم کورٹ کے اس فیصلےپر عملدرآمد نہیں ہوا۔ اور اب اچانک اس کونسل کی تشکیل کا معاملہ پاکستان کی کابینہ میں پیش ہوا۔ یہ بات قابل غور ہے کہ اس فیصلے کا مقصد تویہ تھا کہ پاکستان میں مذہبی رواداری کو فروغ دیا جائے۔ اور اس پر اس انداز میں عمل در آمد کیا جا رہا ہے کہ ملک میں احمدیوں کے خلاف نفرت انگیزی کی آگ بھڑکائی جا رہی ہے۔ جیسا کہ پہلے عرض کی گئی تھی کہ اس مضمون میں صرف سماء چینل کے دو پروگراموں پر تبصرہ کیا جائے گا۔

پروگرام کے میزبان  کا تبصرہ

5؍ مئی کو جب پہلے پروگرام کا آغاز ہوا تو پروگرام کے میزبان ندیم ملک صاحب نے اس کونسل کی تشکیل اور اس کونسل میں احمدیوں کی فرضی آمد کا قصہ اس طرح سنایا جس طرح بہت بڑا ملکی سانحہ ہو گیا ہے۔اور اس سے قبل کہ وہ پروگرام کے شرکاء سے کوئی سوال کرتے انہوں نے اس مسئلہ کے آئینی پہلوئوں پر اپنی طرف سے ’’ماہرانہ‘‘ تبصرہ پیش کیا۔

ندیم ملک صاحب کی باتوں کا خلاصہ یہ تھا کہ احمدیوں کو 1974ء میں آئینی ترمیم کر کے غیر مسلم قرار دیا گیا تھا لیکن یہ عجیب ہیں کہ مانتے ہی نہیں کہ ہم غیر مسلم ہیں اور اپنے آپ کو مسلمان سمجھتے ہیں۔ گویا اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ پاکستان کے آئین کو نہیں مانتے۔ اسی طرح جنرل ضیاء صاحب کے دور میں ‘‘ردِّ قادیانیت آرڈیننس’’ جاری کیا گیا تھا۔ احمدی اس کو بھی نہیں مانتے۔ پہلے تو احمدی اپنے آپ کو غیر مسلم تسلیم کرنے کا اعلان کریں اور پھر حکومت ان کے اقلیت ہونے کا اعلان کرے۔ پھر ان کو اس کونسل کا ممبر بنایا جا سکتا ہے۔ اس طرح چوردروازے سے داخل ہو کروہ اس کا ممبر نہیں بن سکتے۔ ندیم ملک صاحب نے پروگرام میں للکارتے ہوئے کہا کہ وہ کون ہے جو چھپ چھپ کر ایسے کام کرتا ہے۔ وہ سامنے آکر تو بتائے؟

آئین کا باغی کسے کہتے ہیں؟

کسی چور دروازے یا سامنے والے دروازے سے داخل ہونے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ احمدیوں نے تو اس کونسل میں شامل ہونے کے لیے کوئی درخواست دی ہی نہیں تھی۔ اور حقیقت یہ ہے کہ اگر کوئی شخص یا گروہ آئین کی کسی شق سے اختلاف کرے یا اس سے بھی بڑھ کر اس کو تبدیل کرنے کی آئینی کوشش بھی کرے تو اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہوتا کہ وہ آئین کو تسلیم نہیں کرتا۔ اور نہ ہی اس سے یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ وہ آئین کا باغی ہو گیا ہے۔ حال ہی میں پاکستان کی موجودہ حکومت کے کچھ وزراء نے اس بات کا اظہار کیا کہ وہ آئین کی اٹھارہویں ترمیم سے پوری طرح مطمئن نہیں اور کہا کہ اس میں تبدیلی ہونی چاہیے۔ کیا اس کا یہ مطلب نکالا جائے کہ وہ آئین کو تسلیم نہیں کرتے اور آئین کے باغی ہو گئے ہیں۔ مختلف حکومتوں کے دَور میں پاکستان کے آئین میں بیس سے زائد ترامیم ہوئی ہیں۔ ظاہر ہے کہ ترامیم کرنے والی حکومتیں آئین کے ان حصوں سے اختلاف کرتی تھیں، تب ہی انہوں نے اس کو تبدیل کیا۔ کیا اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ پاکستان کی یہ سب حکومتیں آئین کی باغی ہو گئی تھیں؟

بار بار ’’آئین کے غدار‘‘ کی اصطلاح سننے کو مل رہی ہے۔ جس طرح قوالی کے دوران کہنہ مشق قوال جب تک ایک مصرعے کو دہرا دہرا کر اچھی طرح ذہن نشین نہ کرالیں اس مصرعہ کی جان بخشی نہیں ہوتی۔ اسی طرح احمدیوں کو آئین کا غدار قرار دیا جا رہا ہے۔ لیکن اس شورشرابے میں کسی بھلے مانس کو یہ خیال نہیں آیا کہ آئین پاکستان کو کھول کر دیکھ لے کہ اس آئین میں کس چیز کو آئین کی غداری قرار دیا گیا ہے۔آئین کے آرٹیکل 6کے مطابق

’’کوئی شخص جو طاقت کے استعمال سے یا دیگر غیر آئینی ذریعے سے دستور کی تنسیخ کرے یا تنسیخ کرنے کی سعی یا سازش کرے، تخریب کرے یا تخریب کرنے کی سعی یا سازش کرے سنگین غداری کا مجرم ہوگا۔

کوئی شخص جو… مذکورہ افعال میں مدد دے گا یا معاونت کرے گا، اسی طرح سنگین غداری کا مجرم ہوگا۔‘‘

ظاہر ہے آئین کی رو سے آئین کی کسی شق سے اختلاف کرنا کوئی جرم یا غداری نہیں ہے۔

کیا قانون  انسانی سوچ اور عقیدہ  پر قدغن لگا سکتا ہے؟

آج کل یہ اعتراض بار بار دہرایا جا رہا ہے کہ آئین احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیتا ہے اور احمدی پھر بھی اپنے آپ کو مسلمان سمجھتے ہیں۔ یہ کتنا بڑا ظلم ہے۔ مناسب ہوتا اگر تشویش کے گھوڑے دوڑانے سے قبل یہ احباب آئین کے متعلقہ حصہ پر نظر ڈال لیتے۔ لیکن آئین کی جس شق میں احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا ہے درج کرنے سے پہلے اس بارے میں جماعت احمدیہ کا اصولی موقف درج کرنا ضروری ہے۔

سب سے پہلے یہ واضح ہونا چاہیے کہ جماعت احمدیہ کا ہمیشہ سے یہی نظریہ رہا ہے کہ کسی شخص کے مذہب کا فیصلہ کرنا کسی حکومت، پارلیمنٹ یا آئین کا کام نہیں اور خود پاکستان کے آئین میں بھی اس کی اجازت نہیں ہے۔ اور آئین میں احمدیوں کے خلاف جو ترمیم کی گئی ہے وہ ترمیم پاکستان کے آئین کے باب 2 میں درج بنیادی حقوق کے خلاف ہے۔ ظاہر ہے کہ ان بنیادی حقوق میں اپنے مذہب کی پیروی کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے کی بھی آزادی کا ذکر ہے۔ 1973ء کے اصل آئین میں اپنے مذہب کی پیروی کرنے، اس پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے کی آزادی کی ضمانت دی گئی تھی۔ اس باب کے شروع میں ہی واضح طور پر لکھا ہے کہ اگر کوئی ایسا قانون بنایا بھی جائے جو کہ اس باب میں عطا کردہ حقوق کو سلب کرتا ہو تو وہ قانون کالعدم ہوگا۔

اس کے بعد 1974ء میں احمدیوں کے مذہبی حق کو سلب کرتے ہوئے دوسری آئینی ترمیم کو منظور کرنا خود آئین کی بنیاد کی خلاف ورزی تھی۔ اور5؍اگست 2015ء کو پاکستان کی سپریم کورٹ اپنے ایک فیصلے میں یہ کہہ چکی ہے کہ پاکستان کی پارلیمنٹ کو آئین میں ترمیم کرنے کا غیرمحدود حق حاصل نہیں ہے۔ مثال کے طور پر پارلیمنٹ آئین میں درج نا قابل تنسیخ حقوق کو ختم کرنے کی قانون سازی نہیں کر سکتی۔

آئین کی متعلقہ شق میں کیا لکھا ہے؟

اب آئین کی اس شق کو درج کرتے ہیں جس میں بزعم خود احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 260 میں لکھا ہے

’’دستور اور تمام وضع شدہ قوانین اور دیگر قانونی دستاویزات میں تا وقتیکہ موضوع یا سیاق و سباق میں کوئی امر اس کے منافی نہ ہو…

[الف] مسلم سے کوئی ایسا شخص مراد ہے جو وحدت و توحید قادر مطلق اللہ تبارک و تعالیٰ، و خاتم النبیین حضرت محمد [صلی اللہ علیہ وسلم ] کی ختم نبوت پر مکمل اور غیر مشروط طور پر ایمان رکھتا ہو اور پیغمبر یا مذہبی مصلح کے طور پر کسی ایسے شخص پر نہ ایمان رکھتا ہو نہ اسے مانتا ہوجس نے حضرت محمد [صلی اللہ علیہ وسلم ] کے بعد اس لفظ کے کسی بھی مفہوم یا کسی بھی تشریح کے لحاظ سے پیغمبر ہونے کا دعویٰ کیا ہو…‘‘

اور اس کے نیچے لکھا ہے کہ غیر مسلم سے وہ شخص مراد ہوگا جو مسلم نہ ہو اور غیر مسلم اقلیتوں میں احمدیوں کا نام لکھا ہے۔ آئین کی اس شق میں صرف یہ لکھا ہے کہ قانون اور قانونی دستاویزات میں ایسا شخص غیر مسلم لکھا جائے گا اور وہ بھی اس صورت میں جب موضوع یا سیاق و سباق میں کوئی چیز اس کی نفی نہ کرتی ہو۔ اس شق میں ہر گز یہ نہیں لکھا ہوا کہ احمدیوں پر لازم ہے کہ وہ خود بھی اپنے آپ کو ضرور غیر مسلم سمجھیں۔ اور کوئی ذی ہوش یہ تجویز نہیں کر سکتا کہ انسانوں کی سوچ اور ان کے سمجھنے کے بارے میں بھی کوئی قانون سازی کی جا سکتی ہے۔ یعنی تم وہی سوچو اور سمجھو گے جو ہم تمہیں حکم دیں گے۔

 اٹارنی جنرل کی ایک اہم وضاحت

مجھے لگتا ہے کہ بہت سے صحافی حضرات آئین کے متعلقہ حصہ اور اس کو منظور کرتے ہوئے جو قومی اسمبلی کی سپیشل کمیٹی میں کارروائی ہوئی تھی اس کو پڑھے بغیر تبصرے کر رہے ہیں۔ جب آئین میں دوسری ترمیم کی کارروائی ہو رہی تھی تو اس موقع پر پاکستان کے اٹارنی جنرل یحییٰ بختیار صاحب نے حضرت امام جماعت احمدیہ کو مخاطب کر کے کہا تھا کہ اگر یہ ترمیم کر دی جائے تو بھی:

Nobody is going to violate your right to profess any religion, to practice any religion, to feel what you like, to have any faith you want…. you will be allowed to say your prayers, you will be allowed to call whatever name you want, by the name Ahmadi or whatever you like.

[کارروائی سپیشل کمیٹی 1974ءصفحہ129 و130]

ترجمہ: کوئی بھی آپ کو اس حق سے نہیں روکے گا کہ آپ جس مذہب سے چاہیں وابستہ ہونے کا اظہار کریں۔کسی بھی مذہب پر عمل کریں۔جو چاہیں محسوس کریں۔آپ کو اپنی عبادت کرنے کی اجازت ہو گی۔آپ کا اختیار ہوگا کہ اپنے آپ کو جس نام سے چاہیں پکاریں۔ خواہ اپنے آپ کو احمدی کہیں یا جو بھی چاہیں اپنے آپ کو نام دیں۔

یہ الفاظ واضح ہیں اور قانون کی تشریح کرتے ہوئے اگر ابہام ہو تو یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ قانون بنانے والے ادارے کے ذہن میں اس قانون کا کیا مطلب اور مفہوم تھا۔

کیا آئین میں عقیدے کی بنا پر ملازمت سے  روکا جا سکتا ہے

ویسے تو آئین کا نام لے کر یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ کسی احمدی کو کلیدی عہدوں پر فائز نہ کیا جائے یا حکومت کی کونسلوں میں شامل نہ کیا جائے۔ مناسب ہوگا اگر یہ احباب خود بھی آئین پڑھ لیں۔ آئین کے آرٹیکل 27 میں لکھا ہے۔

’’کسی شہری کے ساتھ جو باعتبار دیگر پاکستان کی ملازمت میں تقرر کا اہل ہو، کسی ایسے تقرر کے سلسلے میں محض مذہب، ذات، نسل، جنس، سکونت یا مقام پیدائش کی بنا پر امتیاز روا نہیں رکھا جائے گا۔‘‘

آئین میں درج اس شق سے واضح ہوجاتا ہے کہ جو احباب ہر دوسرے دن یہ واویلا شروع کر دیتے ہیں کہ احمدیوں کو اس کمیٹی میں نہ شامل کرو یا فلانی کونسل کا رکن نہ بننے دو، وہ خود آئین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں کیونکہ آئین کی رو سے کسی شخص کو مذہبی عقائد کی بنا پر کسی تقرر سے نہیں روکا جا سکتا۔

اور اسی طرح ندیم ملک صاحب کا یہ فرمان بھی ناقابل فہم ہے کہ پہلے احمدی اپنے آپ کو غیر مسلم تسلیم کرنے کا اعلان کریں اور پھر حکومت ان کے غیر مسلم ہونے کا نوٹی فیکیشن جاری کرے۔ اتنے پاپڑ بیلنے کے بعد کیا ہو گا؟ ہوگا یہ کہ انہیں ایک ایسی کمیٹی کا رکن بنا لیا جائے گا جس کے پاس کوئی اختیار نہیں۔ ان کو علم ہونا چاہیے کہ آئین میں مذہبی اقلیتوں کے نام درج ہیں۔ اورآئین میں کہیں پر یہ نہیں لکھا کہ ہراقلیت کے لیے یہ لازم ہے کہ وہ پہلے اخباروں میں اپنے اقلیت ہونے کا اشتہار شائع کرے اور اس کے نتیجے میں حکومت یہ اعلان کرے کہ ہم ازراہِ شفقت انہیں اقلیت تسلیم کرتے ہیں۔

اصل منصوبہ کیا تھا؟

اور جہاں تک ان کے اس سوال کا تعلق ہے کہ وہ کون ہے جو چھپ چھپ کر ایسے کام کرتا ہے؟ اور کیوں کرتا ہے؟ ندیم ملک صاحب نے غور نہیں کیا ورنہ انہیں اس سوال کا جواب اپنے پروگرام میں مل گیا ہے۔ کیونکہ 6؍ مئی کے پروگرام میں وزیر برائے مذہبی امور پیر نوارالحق قادری صاحب نے کہا:

’’پہلی سمری میں بھی ہم نے قادیانیوں کو شامل نہیں کیا تھا اور سوچ سمجھ کر نہیں کیا تھا۔ ادھر جو ڈسکشن ہوئی تھی وہ یہ تھی کہ قادیانیوں کو اگراس کمیشن کا ممبر بنایا جائے تو آئین ان کو غیر مسلم کہتا ہے۔ اور اگر وہ کمیشن میں آ گئے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ انہوں نے بھی قبول کر لیا ہے۔‘‘ اور اس کے ساتھ قادری صاحب نے ندیم ملک صاحب پرلوگوں کو گمراہ کرنے کا الزام بھی لگایا۔

دوسرے لفظوں میں بلی تھیلے سے باہر آ گئی۔ پہلے یہ تجویز تھی کہ احمدیوں کو اس کونسل میں شامل نہ کیا جائے۔ دوسرے لفظوں میں احمدیوں کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھنے کا مصمم ارادہ تھا۔ لیکن جب یہ تجویز کابینہ میں پیش کی گئی تو ایک اَور تجویز سامنے آ گئی کہ اس کونسل میں احمدیوں کو رکنیت دی جائے۔ اگر احمدی اس رکنیت کو قبول کرتے ہیں تو ہم فوراً یہ کہیں گے کہ احمدیوں نے تسلیم کر لیا ہے کہ وہ غیر مسلم ہیں۔ اور اگر وہ اس رکنیت کو قبول نہیں کرتے تو ہم دنیا کے سامنے یہ عذر پیش کر سکیں گے کہ ہم نے تو ان کے بنیادی انسانی حقوق کی بحالی کے لیے انہیں اس کونسل میں شامل ہونے کی دعوت دی تھی لیکن احمدیوں نے خود ہی اس دعوت کو رد کر کے یہ موقع گنوا دیا۔لیکن

وَمَكَرُوْا وَمَكَرَ اللّٰهُ وَاللّٰهُ خَيْرُ الْمَاكِرِيْنَ (اٰل عمران:55)

یعنی انہوں نے تدبیر کی اور اللہ نے بھی تدبیر کی اور اللہ کی تدبیر ہی سب سے اعلیٰ ہوتی ہے۔

پیشتر اس کے کہ اس منصوبے پر عمل درآمد شروع ہوتا، حکومت میں شامل ایک اتحادی پارٹی نے اس مسئلہ کو تحریک انصاف کے خلاف استعمال کرنا شروع کر دیا اور یہ بیان دے دیا کہ حکومت نے بلاوجہ ایک پنڈورا بکس کھول دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں حکومت کو یہ بیان دینا پڑا کہ ابھی اس بارے میں حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔ اور یہ سب ایک دوسرے سے الجھ پڑے۔

کافر کون ؟ یہود  و نصاریٰ کا ایجنٹ کون؟

بہر حال ندیم ملک صاحب کے تبصرے کے بعد آپس میں گفتگو شروع ہوئی۔گفتگو کا بنیادی مرکز تو یہ تھا کہ جماعت احمدیہ پر اعتراضات کیے جائیں کہ ہم نے انہیں غیر مسلم قرار دیا ہے وہ اپنے آپ کو غیر مسلم تسلیم کیوں نہیں کر رہے اور ہمارے نزدیک یہ سو فیصد غیر مسلم ہیں وغیرہ وغیرہ۔

لیکن ابھی گفتگو چند منٹ ہی چلی ہو گی کہ پلوشہ صاحبہ نے موجودہ حکومت پر الزام لگایا کہ یہ لوگ یہود اور نصاریٰ کے ایجنڈے پر چل رہے ہیں اوراس ایجنڈے کے تحت یہ ڈرامہ کر رہے ہیں۔ سب جانتے ہیں کہ اب تک جماعت احمدیہ کے مخالفین احمدیوں پر یہ الزام لگاتے رہے ہیں کہ یہ لوگ نعوذُ باللہ یہودیوں اور مغربی طاقتوں کے ایماء پرعالم اسلام کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں۔ اور اب ایک ٹی وی پروگرام پر جو پورے ملک میں نشر ہو رہا تھا، پاکستان کی ایک بڑی سیاسی پارٹی پاکستان کی حکومت پر الزام لگا رہی تھی کہ وہ یہود و نصاریٰ کے ایجنڈے پر کام کر رہی ہے۔ پہلے جو الزام احمدیوں پر لگایا جا رہا تھا، اب الزام لگانے والے وہی الزام ایک دوسرے پر لگا رہے تھے۔

اس الزام کو لگائے ایک دو منٹ ہی گذرے ہوں گے کہ پاکستان کی ان سیاسی پارٹیوں کے نمائندوں نے ایک دوسرے کے دین اور ایمان پر رکیک حملے شروع کر دیے۔ تحریک انصاف کے نمائندے نے پیپلز پارٹی کے نمائندے کو مخاطب کر کے کہا کہ ان کا ایمان یہاں پر دیسی ہے اور باہر لبرل ہے۔ پیپلز پارٹی کی نمائندہ خاتون نے جوابی جملہ کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان ان کا خدا ہے۔ تحریک انصاف کے نمائندہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی ہمیں دین پڑھائے گی خدا خیر کرے۔ اس حملے کا آنا تھا کہ پلوشہ صاحبہ نے عباسی صاحب کو مخاطب کر کے بلند آواز میں کہا: ’’آپ تو ہیں ہی یہودی۔‘‘

عباسی صاحب نے حیران ہو کر کہا کہ انہوں نے ہمیں یہودی کہا ہے۔ اس پر پلوشہ صاحبہ نے جواب دیا کہ ’’ہاں کہا ہے۔‘‘ عباسی صاحب بھی دوسرے شرکاء کی طرح احمدیوں پر کفر کے فتوے لگانے پروگرام میں آئے تھے لیکن جلد ہی یہ صورتِ حال پیدا ہوگئی کہ خود انہی پر یہودی ہونے کا فتویٰ لگ گیا۔ اب تک تواس پروگرام کے شرکاء یہ موقف پیش کر رہے تھے کہ انہیں بھرپور حق ہے کہ وہ جس طرح پسند کریں احمدیوں کے عقائد کے بارے میں فیصلے کریں۔ لیکن جب یہ صورت حال پیدا ہوئی توعباسی صاحب کو کہنا پڑا:

’’ہمارے  بارے میں یہ کون ہوتی ہیں فتویٰ دینے والی‘‘

پروگرام کے میزبان ندیم ملک صاحب اب تک اس طرح تبصرے کر رہے تھے جیسے انہیں جماعت احمدیہ کے عقائد کے بارے میں فیصلہ کرنے کا بھرپور حق حاصل ہے لیکن جب ان کے پروگرام میں یہ فتوے بازی شروع ہوئی تو انہیں کہنا پڑا : ‘‘کسی کے ایمان کو چیلنج نہیں کر سکتے۔‘‘

بہت خوب۔ لیکن پھر ندیم ملک صاحب کو کس نے حق دیا ہے کہ وہ احمدیوں کے ایمان کو چیلنج کریں؟

تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے

خلاصہ کلام یہ ہے کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کسی تحریک میں جماعت احمدیہ کے بہت سے مخالفین اس پروگرام کے تحت جمع ہوتے ہیں کہ احمدیوں کو کافر قرار دیں لیکن آخر کار ایک دوسرے کو کافر قرار دینے لگ جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر 1953ء میں جماعت احمدیہ کے خلاف پر تشدد مہم چلائی گئی اورمطالبہ یہ تھا کہ احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا جائے۔ جب ان فسادات پر تحقیقاتی عدالت نے کام شروع کیا اور جماعت کے مخالف علماء بطور گواہ پیش ہوئے تو اس تحریک میں شامل مختلف گروہوں نے ایک دوسرے کو ہی کافر قرار دینا شروع کر دیا۔ چند مثالیں پیش خدمت ہیں۔

1۔3 ؍ستمبر 1953ء کو صدر جمعیت العلماء پاکستان سید ابو الحسنات قادری صاحب بحیثیت گواہ نمبر 13 عدالت میں پیش ہوئے۔ انہوں نے اہل حدیث کو کافرِقطعی قرار دیا اور کہا کہ ایک ایسا فتویٰ بھی موجود ہے کہ دیوبندی بھی کافر قطعی ہیں۔ اور ایک اَور فتویٰ میں شیعہ احباب کو فقہی کافر قرار دیا گیا ہے۔

2۔ عبد الحامد بدایونی صاحب نے کہا کہ میں تو ہر دیوبندی کو کافر نہیں سمجھتا لیکن بعض علماء نے ان میں سے بعض کو کافر قرار دیا ہے۔

3۔ 21؍ اکتوبر 1953ء کو مولانا محمد علی کاندھلوی صاحب گواہ نمبر 76کی حیثیت سے عدالت میں پیش ہوئے اور انہوں نے حلفیہ گواہی دی کہ میرے نزدیک معتزلہ اور اہل قرآن کافر ہیں۔

4۔ گواہ نمبر 17 مولوی شفیع دیوبندی صاحب تھے۔ جج صاحبان نے دریافت کیا کہ کیا آپ کو علم ہے کہ احمد رضا خان بریلوی صاحب نے اور سید محمد احمد قادری صاحب نے دیوبندیوں کو کافر قراردیا ہے۔ پہلے انہوں نے کہا کہ یہ فتویٰ غلط ہے اورغلط خیالات کی بنا پر دیا گیا ہے۔ پھر جج صاحب کے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ایک حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جو کسی مسلمان کو غلط کافر قرار دے وہ خود کافر ہو جاتا ہے۔

5۔ اسی طرح جماعت اسلامی کے مولانا طفیل محمد صاحب 14؍ اکتوبر 1953ء کو گواہی کے لیے پیش ہوئے۔ جب ان سے سوال کیا گیا کہ وہ اہل قرآن کو کیا سمجھتے ہیں تو پہلے انہوں نے ان کے عقائد سے لاعلمی کا اظہار کیا۔ جب جج صاحب نے کہا کہ اگر وہ سنت اور حدیث پر یقین نہیں کرتے۔ اس پر انہوں نے کہا پھر تو میں انہیں کافر سمجھوں گا۔

[تفصیلات اس سائٹ پر ملاحظہ کریں http://archive. lums. edu. pk/]

صورت حال واضح ہے۔ جب پاکستان میں جماعت احمدیہ کے خلاف کفر کے فتووں کا انبار لگایا جاتا ہے تو اس کا انجام یہ ہوتا ہے کہ آخر کار جماعت احمدیہ کے مخالفین ایک دوسرے پر کفر کے فتوے لگانا شروع کردیتے ہیں اور اس طرح پاکستان کا امن تباہ کر دیا جاتا ہے۔ یہ عمل پاکستان کی تاریخ میں بہت مرتبہ دہرایا گیا ہے اور جماعت احمدیہ کے لٹریچر میں بارہا اس کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں، اس لیے طوالت کے خوف سے یہ سب تفصیلات یہاں پر درج نہیں کی جاتیں۔

خود وزرا کی زندگیاں محفوظ نہیں ؟

جب بھی یہ سوال کیا جائے کہ پاکستان میں انتہا پسند طبقہ کو من مانی کرنے کی کھلی چھٹی دی جاتی ہے تو اس پر جواب دیا جاتا ہے کہ یہ الزام غلط ہےپاکستان میں تو ہر طرح رواداری کا ماحول ہے اور مذہبی اقلیتوں کو کوئی خطرہ نہیں۔ ان کے حقوق کی حفاظت کی جا رہی ہے۔ لیکن اس پروگرام میں وفاقی وزیر علی محمد خان صاحب نےخود ایسا خوفناک انکشاف کیا کہ رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ پروگرام کے میزبان ندیم ملک صاحب نے سوال کیا کہ ان وزراء کے نام بتائیں جنہوں نے تجویز پیش کی تھی کہ اقلیتوں کی کونسل میں احمدیوں کو بھی رکنیت دی جائے۔ اس کے جواب میں علی محمد خان صاحب نے کہا:

’’اس طرح نیشنل نیٹ ورک پر بیٹھ کر اگر کسی کا نام لوں تو حساس معاملہ ہے کسی کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ قادیانی جن کو میں فتنہ کہتا ہوں۔ اسلام کے خلاف قادیانیت ایک بہت بڑا فتنہ ہے۔ ہم حرمت رسول پر پہرےدار ہیں۔‘‘

اس پر ندیم صاحب نے اس طرح سوال کیا جیسے کوئی استاد پرائمری سکول کے بچے کوڈانٹ کر سوال کرتا ہےکہ ’’تین وزراء کے نام بتانے پڑیں گے۔‘‘ اس پر علی محمد خان صاحب نے پھر یہی بات دہرائی کہ اس طرح کسی کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔

ملاحظہ فرمائیں یہ ایک وفاقی وزیر کی گواہی ہے۔ جنہوں نے یہ تجویز پیش کی تھی آخران کا کیا جرم ہے؟ انہوں نے صرف یہ کہا تھا کہ اس کونسل میں احمدیوں کا نمائندہ بھی شامل ہونا چاہیے۔ اور جیسا کہ آئین کا آرٹیکل درج کیا گیا ہے، پاکستان کے آئین کی رو سے کسی اہل شخص کو اس کے عقائد کی بنا پر کسی عہدے پر مقرر ہونے سے نہیں روکا جا سکتا۔ ایسا کرنا غیر آئینی ہوگا۔ لیکن خود وفاقی وزیر نے یہ اعتراف کیا کہ اگر میں ان کے نام بتا دوں تو اس سے ان کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ اگرحکومت خود اپنے وزراء کی حفاظت نہیں کر سکتی اور انتہا پسند طبقہ کے سامنے اپنے آپ کو بے بس محسوس کرتی ہے تو کسی اَور کے حقوق کی کیا حفاظت کرے گی؟ اگر اس وزیر کی جان کو خطرہ ہے جس کا جرم صرف یہ تھا کہ اس نے یہ کہنے کی غلطی کی تھی کہ ایک احمدی اس کونسل میں شامل ہونا چاہیے تو کیا یہ دعویٰ کیا جا سکتا ہے کہ احمدیوں کی زندگیوں کوکوئی خطرہ نہیں؟

توہین رسالت کے الزام کس طرح لگائے جاتے ہیں؟

اس پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے نمائندے طلال چوہدری صاحب نے اس وقت کا ذکر کیا جب ان کی پارٹی کے دورِ اقتدار میں انتخابی قوانین میں تبدیلی کی گئی تھی اورانتہا پسند طبقہ کو یہ وہم ہوا تھا کہ اس ترمیم کے ایک حصہ سے احمدیوں کو کوئی فائدہ ہو سکتا ہے۔ اور حکومت نے فوری طور پر یہ تبدیلی واپس بھی لے لی تھی اور انتہا پسند طبقہ کی پسند کے مطابق قوانین منظور کردیے تھے۔ لیکن اس کے باوجود اسلام آباد اور راولپنڈی کے درمیان کا راستہ بند کر کے شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی گئی تھی۔ ان دنوں کا ذکر کر تے ہوئے طلال چوہدری صاحب نے کہا کہ ہم پر سیاہی پھینکی گئی، جوتے اچھالے گئے، گولیاں ہم پر چلیں، گھروں پر حملے کیے گئے، کوئی حلقہ ایسا نہیں ہو گا جس میں مساجد کو الیکشن آفس بنا کر ہمیں توہین رسالت کا مجرم نہ بنایا گیا ہو۔الیکشن کے ہر حلقے میں پچیس سے تیس ہزار ووٹ ان لوگوں نے لیا جنہوں نے ہمیں توہین رسالت کا مجرم بنایا۔اب وہ مجاہد ختم نبوت کہاں ہیں؟ اسے یہ لوگ سپورٹ کرتے رہے۔ اب اس لیے یہ سب کچھ نہیں کیا جا رہا کیونکہ اب الیکشن کا ماحول نہیں ہے۔ اب ووٹ نہیں لینے۔ لوگوں کو بیوقوف نہیں بنانا۔

طلال چوہدری صاحب کا بیان یو ٹیوب پرموجود ہے۔ اور ہر کوئی اسے سن کر اپنی تسلی کرسکتا ہے۔ اس سے واضح ہے کہ پاکستان میں مستقل طور پر سیاسی فوائد حاصل کرنے کے لیے ’’ختم نبوت‘‘ کے مقدس عقیدے کا سہارا لیا جاتا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لے کر آپؐ کی امت میں اتحاد اور بھائی چارہ پیدا کیا جاتا لیکن صرف جماعت احمدیہ کی مخالفت کا سوال نہیں عملاً یہ ظلم کیا جا رہا ہے کہ جماعت احمدیہ کے مخالفین آپﷺ کی ختم نبوت کا نام لے کر مسلمانوں میں تفرقہ ڈال رہے ہیں۔ ناجائز طور پر اپنے سیاسی حریفوں پر ’’توہین رسالت‘‘ کا گھنائونا الزام لگا رہے ہیں۔ ایک دوسرے پر گولیاں چلا رہے ہیں۔اور بقول طلال چودھری صاحب کے، مقصد صرف یہ ہے کہ ووٹ حاصل کر کے اقتدار حاصل کیا جائے اور لوگوں کو بیوقوف بنایا جائے۔

یہ سب کیا ہو رہا ہے؟

ان پروگرامز میں جماعت احمدیہ کا کوئی نمائندہ شامل نہیں تھا۔ یہ سب کرم فرما جماعت احمدیہ پر کفر کے فتووں پر مہر تصدیق ثبت کرنے کے لیے جمع ہوئے تھے۔ لیکن پھر کیا ہوا؟ ایک دوسرے پر جھوٹ بولنے اور گمراہ کرنے کے الزامات لگائے گئے۔ ایک دوسرے کو غیر مسلم اور بیرونی طاقتوں کا ایجنٹ قرار دیا گیا۔ ایک دوسرے کو یہودی قرار دیا گیا۔ یہ اقرار کیا کہ صرف اپنے ضمیر کے مطابق اظہار رائے بھی کیا جائے تو خود وفاقی وزراء کی زندگیاں محفوظ نہیں رہتیں۔ یہ تسلیم کیا گیا کہ ’’ختم نبوت‘‘ کا مقدس مسئلہ محض اپنی سیاسی دکان چمکانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔اور محض سیاسی حریف کے ووٹ توڑنے کے لیے ایک دوسرے پر توہین رسالت کا الزام لگا دیا جاتا ہے۔ اور یہ الزام لگا کر اس پر قاتلانہ حملے بھی کیے جاتے ہیں۔

جماعت احمدیہ کی حفاظت خدا تعالیٰ کی ذات کر رہی ہے۔ اگر یہ انسانی منصوبہ ہوتا تو اتنی دوڑ دھوپ کرنے کی ضرورت ہی نہ ہوتی۔ خدا کا ہاتھ جھوٹے مدعی کے سلسلے کو ختم کرنے کے لیے کافی تھا۔ لیکن جماعت احمدیہ کی دشمنی میں ان لوگوں نے پاکستان کا کیا حال کر دیا ہے۔ کیا محمد علی جناح صاحب ایسا پاکستان تعمیر کرناچاہتے تھے؟ زیادہ بحث کی بجائے صرف ان دو پروگراموں کو ہی دیکھ لیں۔ کیا اسلام انہی اخلاق کی تعلیم دیتا ہے؟ یہ پروگرامزیو ٹیوب پر موجود ہیں۔ آپ ملاحظہ کر سکتے ہیں۔ لیکن ان کو دیکھنے سے پہلے یہ تسلی کر لیں کہ کوئی نابالغ بچہ آس پاس موجود نہ ہو۔ اس قسم کی گفتگو سننے سے بچوں کے اخلاق پر برا اثر پڑ سکتا ہے۔

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

تبصرے 6

  1. وَمَكَرُوا وَمَكَرَ اللّٰهُ وَاللّٰهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ (آل عمران:55)
    ماشااللّہ ہمیشہ کی طرح اپ نے بہت اچھا تبصرہ فرمایا
    پاکستان میں تو مذہب بکتا ہے اور ہر بندہ مذہب بیچتا ہے جب کوئی بھی اس عرض پاک میں اپنی کرپشن اور کرتوتوں کی وجہ سے مشکل میں ہوتا ہے تو وہ ختم نبوت کا مجاہد بن جاتا ہے چاہے وہ کوئی حکومت ہو سیاست دان ہو وکیل ہو اداکار ہو کسی بھی شعبہ سے تعلق رکھتا ہو آسان حل ہے

    1. بالکل ایسا ہی ہے جب سے پاکستان بنا ہے ہم دیکھ اور سن رہے ہیں کہ پاکستان کے تقریبا ہر طبقہ کے لوگ ختم نبوت کے مقدس نام کا سہارا لے کر جماعت احمدیہ کو نشانہ بناتے ہیں اور پھر اس سے مذہبی سیاسی اور مالی فوائد حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں گو وقتی طور پر خود کو کامیاب سمجھتے ہیں مگر آخرکار ذلت و رسوائی انکے حصے میں آتی ہے اسکے باوجود بحیثیت قوم اسقدر ذہنی اخلاقی اور روحانی طور پر اپاہج ہوتے ہیں کہ انکو کوئی بات سمجھ نہیں آتی بجائے سیدھا راستہ تلاش کرنے کے تاریکی میں گرتے چلے جاتے ہی اور یہی اب تک ہو رھا ہے اللہ تعالی عقل کے ان اندھوں کو نور ہدایت عطا فرمائے تا یہ مملکت پاکستان محفوظ رہ سکے آمین

  2. ماشا اللہ بہت ہی شاندار اور دلائل سے بھرپور تبصرہ فرمایا، جماعت احمدیہ کا صبر اس کی ثابت قدمی اور حکومتی آسائشوں سے مذہب کی خاطر دوری ہی حکمرانوں اور جماعت احمدیہ کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے والوں کے منہ پر زوردار تمانچہ ہے.
    ہمیں یقین ہے کے جماعت احمدیہ کے اس شاندار تبصرے کا کسی کے پاس جواب نہیں ہوگا.
    اللہ تعالیٰ آپکو جزائے خیر عطا فرمائے اور جماعت احمدیہ کا حامی و ناصر ہو. آمین
    جزاک اللہ خیر

  3. السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبراکاتہ = مکرم و محترم ڈاکٹر مرزا سلطان احمد صاحب نے بڑے ہی خوبصورت انداز اور مدلل پیرائے میں جواب لکھا ہے اللہ تعالی انکے انداز تحریر کو اور زیادہ زور قلم عطا فرمائے تا یہ حضرت مسیح الموعود علیہ السلام کے سلطان نصیر کی حثیت سے زیادہ سے زیادہ خدمات بجا لا سکیں اللہ تبارک و تعالی انکی مدد فرمائے ادارہ الفضل انٹرنیشنل کے سبھی ممبران کو محبت بھرا سلام اور دعائیں اللہ تعالی ہر قدم پر ادارہ ھذا کی تائیدونصرت فرمائے آمین ثم آمین

  4. اللہ تعالیٰ مکرم ڈاکٹر صاحب کو بہترین جزاء سے نوازے۔ آمین بہت عمدہ انداز میں پوسٹمارٹم کر کے رکھ دیا ہے۔ کاش یہ تحریر اہلِ علم تک بھی پہنچے تا کہ پاکستان کی گونگی شرافت میں کچھ ہمت پیدا ہو ورنہ اِسی طرح شدت پسندی نیز بوقتِ ضرورت کسی بھی جماعت یا طبقہ کے خلاف مذہب کارڈ کھیلنے کا سلسلہ جاری رہے گا اور اہلِ پاکستان اس پیر تسمہ پا سے کبھی جان نہیں چُھڑا سکیں گے۔اللہ ہماری قوم کو ہوش کے ناخن لینے والا بنائے۔ آمین

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close