متفرق مضامین

لَاحَوْل… ۔ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ

(ذیشان محمود۔ مربی سلسلہ ربوہ)

آج کل کے جان لیوا وائرس کی وجہ سے جہاں تمام خلقت ایک عذاب سے دوچار ہے۔ وہاں لاحولکی دعا کے فضائل سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ دعا وبا کے مقابل ایک اکسیر کا حکم رکھتی ہے۔

لاحول کی دعا جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے جو ہمارے پیارے آقا و مولا محمد مصطفیٰﷺ کی امت پر شفقتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے استغفار کے لیے ان مختصر الفاظ کی دعا میں کئی امور سے بچاؤ کے سامان مہیا فرمائے ہیں۔ رسول اللہﷺ نے جہاں اس دعا کو پڑھنے کی تلقین فرمائی وہیں آپﷺکے عاشقِ صادق حضرت مسیح موعودؑ اور آپ کے خلفاء نے بھی بطور وظیفہ یا روز مرہ استغفار کے لیے احباب جماعت کو تلقین فرمائی کہ لاحول کو اپنا ہر روزہ ورد بنایا جائے۔

گو بانی سلسلہ علیہ الصلوٰة والسلام نے اپنی جماعت کو کسی چِلّے، ورد اور وظائف پر توکل کرنے سے منع فرمایا کہ یہ وظائف کسی طور پر جنتر منتر کے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ سے تعلق مستحکم کرنا ایک دوام چاہتا ہے۔ اور اسی دوام اور ذکرِ الہٰی کو عادتِ ثانیہ بنانے کے لیے حضرت مسیح موعودؑ نے بہت زور دیا ہے۔

ذیل میں ایسے واقعات درج کیے جا رہے ہیں جو کہ اس عظیم دعا اور استغفار پر دوام اختیار کرنے والوں کا عملی نمونہ اور اس سے حاصل شدہ فوائدو ثمرات کا اظہار خدا تعالیٰ کی تائید کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ لیکن اس سے قبل درج ذیل اقتباس کو ذہن نشین کرنا ضروری ہے تا کہ کسی قسم کی غلط فہمی کا شکار ہونے سے بچا جا سکے۔

چلّے، وِرد اور وظائف ناپسند فرمائے

حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتےہیں کہ

ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ بعض بدعات جب رائج ہو جائیں تو اصل تعلیم سے دور لے جاتی ہیں۔ اور پھر خدا تعالیٰ کی بھیجی ہوئی اصل تعلیم انسان بھول جاتا ہے اور یہ بدعات پھر بعض دفعہ، بعض دفعہ کیا اکثر دین کو بگاڑتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے مقابلہ پر کھڑا کر دیتی ہیں۔ تمام سابقہ دین اپنی اصلی حالت کو اس لیے کھو بیٹھے کہ ان میں نئی نئی بدعات زمانے کے ساتھ ساتھ راہ پاتی گئیں اور پھر ان کو دور کرنے کے لیے کوئی نہ آیا اور آنا بھی نہیں تھا۔ کیونکہ اسلام نے ہی تا قیامت اپنی اصل حالت میں قائم رہنا تھا۔ اور جس نے آنا تھا وہ آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم تھے جنہوں نے تمام قسم کی بدعات کو اور دین میں جو غلط رسم و رواج راہ پاگئے تھے ان کو حقیقی تعلیم کے ذریعہ سے دور فرمانا تھا۔ گو جیسا کہ مَیں نے بتایا کہ یہ بدعات بھی بعض مسلمانوں میں غلط طور پر راہ پا گئی ہیں اور بعض بدعات ایسی ہیں اور غلط طرزِ عمل ایسے ہیں جن کی وجہ سے شرک بھی داخل ہو گیا ہے۔ نہ صرف مخفی شرک بلکہ ظاہری شرک بھی بعض جگہ ہمیں نظر آتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے مطابق اس زمانہ کے امام کو بھیج کر اس شرک اور بدعت سے اسلام کو محفوظ کرنے کے سامان بہم پہنچا دئیے۔ اور انشاء اللہ تعالیٰ یہ محفوظ رہے گا۔ یہی بدعات جو اسلام میں راہ پا گئی ہیں، مسلمانوں میں راہ پا گئی ہیں اور جو غلط طریقے جو ہیں ان کی طرف نشاندہی کرتے ہوئے ایک جگہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ

’’ہمارا طریق بعینہٖ وہی ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کا تھا۔ آج کل فقراء نے کئی بدعتیں نکال لی ہیں۔ یہ چلّے اور وِرد، وظائف جو انہوں نے رائج کر لیے ہیں ہمیں نا پسند ہیں۔ اصل طریقِ اسلام قرآنِ مجید کو تدبر سے پڑھنا اور جو کچھ اس میں ہے اس پر عمل کرنا اور نماز توجہ کے ساتھ پڑھنا، اور دعائیں توجہ اور انابتِ الی اللہ سے کرتے رہنا۔ بس نماز ہی ایسی چیز ہے جو معراج کے مراتب تک پہنچا دیتی ہے۔ یہ ہے تو سب کچھ ہے‘‘۔ (یعنی نماز ہے تو سب کچھ ہے)۔

(ملفوظات جلد پنجم : 432-431)

پس عام بدعات تو ایک طرف، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے تو بعض وظائف وغیرہ کرنے اور ان وظائف پرزور دینے والوں کے عمل کو بھی بدعات کرنے والا قرار دیا ہے۔ کیونکہ اس سے اصل چیز جو ہے وہ بھول جاتے ہیں۔ نماز جو اصل عبادت ہے وہ بھول جاتی ہے۔ وہ نماز بھول جاتے ہیں اور وِرد و وظائف پر زور شروع ہو جاتا ہے۔ اور پھر یہ بھی شیطانی عملوں میں سے ایک عمل بن جاتا ہے۔

(خطبہ جمعہ 29؍ اکتوبر 2010ء)

لاحول سے صبح سے شام تک حفاظت

حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ

حضرت طلق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص حضرت ابودرداء کے پاس آیا اور کہا کہ آ پ کاگھرجل گیاہے تو آپ نے فرمایا کہ میرا گھر نہیں جلا۔ پھر دوسرا شخص آیا اور اس نے کہا کہ آپ کا گھر جل گیا ہے۔ تو آپ نے فرمایا کہ میرا گھر نہیں جلا۔ پھر تیسرا شخص آیا اور کہا کہ اے ابودرداءؓ! آگ لگی تھی اورجب آپ کے گھرکے قریب پہنچی تو بجھ گئی۔ آپؓ نے فرمایاکہ مجھے معلوم تھاکہ اللہ تعالیٰ ایسا نہیں کرے گا۔

حاضرین مجلس نے حضرت ابودرداء ؓسے کہا کہ آپ ؓ کی دونوں باتیں عجیب ہیں۔ پہلے (یہ کہنا )کہ میرا گھر نہیں جلا اور پھر یہ کہنا کہ مجھے علم تھا کہ اللہ ایسا نہیں کرے گا۔ آپ ؓنے فرمایا کہ یہ مَیں نے ان کلمات کی وجہ سے کہا تھا جو مَیں نے آنحضورﷺسے سنے تھے۔ آپ ؐنے فرمایا تھا کہ جس نے یہ کلمات صبح کے وقت کہے اسے شام تک کوئی مصیبت نہیں پہنچے گی اورجس نے شام کے وقت یہ کلمات کہے اسے صبح تک کوئی مصیبت نہیں پہنچے گی اوروہ کلمات یہ ہیں :

اَللّٰھُمَّ اَنْتَ رَبِّی لَااِلٰـہَ اِلَّا اَنْتَ عَلَیْکَ تَوَکَّلْتُ وَاَنْتَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْم۔ مَاشَاءَاللّٰہُ کَانَ وَلَمْ یشَآء لَمْ یَکُنْ۔ لَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّابِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْم۔ اَعْلَمُ اَنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْر۔ وَاَنَّ اللّٰہَ قَدْ اَحَاطَ بِکُلِّ شَیْئٍ عِلْمًا۔ اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّ نَفْسِیْ وَمِنْ شَرِّکُلِّ دَآبَّۃٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِیَتِھَا اِنَّ رَبِّی عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْم۔

یعنی اے میرے اللہ !تو ہی میرارب ہے۔ تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ مَیں تجھ پرہی توکل کرتاہوں اورتو ہی عرش عظیم کا رب ہے۔ اور جو تو نے چاہا ہوگیااور جو نہ چاہا وہ واقعہ نہ ہوا۔ اعلیٰ اور عظمت والے اللہ کے سوا کسی کو کوئی طاقت حاصل نہیں۔ اورمَیں جانتاہوں کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے اور اس کا علم ہرچیزپر حاوی ہے۔ اے اللہ مَیں اپنے نفس کے شر اور ہر اس جاندار کے شر سے جو تیرے قبضہ ٔقدرت میں ہے تیری پناہ میں آتاہوں۔ یقیناً میرارب سیدھے راستہ پرہے۔

تو یہی توکل تھا جس کی مثالیں ہمیں اس زمانہ میں بھی نظر آتی ہیں کہ باوجود اس کے کہ چاروں طرف آگ پھیلی ہوئی تھی لیکن اس یقین پرقائم رہنے کی وجہ سے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلا م سے خدا کا وعدہ ہے کہ آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی بھی غلام ہے۔ حضرت مولوی رحمت علی صاحب کو اسی وعدہ نے گھر میں بٹھائے رکھا جبکہ ارد گرد چاروں طرف آگ تھی۔ اور پھر اللہ تعالیٰ نے بارش کے ذریعہ سے ان تک اس آگ کو پہنچنے نہ دیا اوریہ آگ ان کے گھر تک پہنچنے سے پہلے ہی بجھ گئی۔

(خطبہ جمعہ 15؍ اگست 2003ء)

احادیث میں بیان شدہ فضائل

لاحول ولا قوة 99 بیماریوں کا علاج ہے

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ، دَوَاءٌ مِنْ تِسْعَةٍ وَتِسْعِيْنَ دَاءً أَيْسَرُهَا الْهَمُّ
(المعجم الأوسط للطبراني: 5/ 187]۔ )

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ لا حول ولا وقوة الا باللّٰہ ننانوے بیماریوں کا علاج ہے ان بیماریوںمیں سے غم کی بیماری کا آسان ترین علاج لا حول ولا وقوة ہے۔

مکرم شیح نور احمد منیر صاحب سابق مبلغ بلاد عربیہ اس حدیث کی تشریح میں فرماتےہیں کہ

‘‘اسلام میں خد اتعالیٰ کی ذات پر ایمان لانے کے معنے یہ ہیں کہ خدا تعالیٰ کے اوامر و نواہی کا خیال رکھا جائے جس کے نتیجہ میں انسان حلال اور حرام کے درمیان آسانی سے فرق کر سکتا ہے اور اس کی حکمت کو بھی سمجھ سکتا ہے۔ اخلاقی بیماریاں جو انسان کے اندر کثرت سے پائی جاتی ہیں ان میں سے ایک بیماری غم اور پریشانی بھی ہے۔ گو ہمارے مہربان آقا کا یہ فرمان ہے کہ تم اپنی تمام بیماریوں کا علاج اس دعا لا حول ولا قوة الا باللّٰہ کے معانی سے کرو۔ اور خدا تعالیٰ کی ذات سے حقیقی تعلق پیدا کر کے اس کی را ہ اور خوشنودی کو تلاش کرو اور اپنی جملہ پریشانیوں اور مصائب کو بحوالہ خدا کر دیا کرو۔ جس کے نتیجہ میں تمہارے اندر اطمینان کی کیفیت پیدا ہو جائے گی اپنے غم کو دعا۔ صدقات، صحبتِ صالحین اور لاحول ولا قوة الاباللّٰہ کی دعا کا ورد خاص سوز اور ابتہال سے کر کے عملی حالت میں انقلاب پیدا کر کے دور کیا جاسکتا ہے۔

(الفضل 9ستمبر 1964ء صفحہ 4)

اس حدیث کی سند میں کلام ہے لیکن اس حدیث کو امام طبرانی اور امام حاکم، امام بیہقی، امام اسحاق نے نقل کیا ہے۔

’’أخرجه إسحاق بن راهويه في’’مسنده‘‘ (541) ، ابن أبي الدنيا في ’’الفرج بعد الشدة‘‘ (11)، الطبراني في ’’الأوسط‘‘ (5028) ، الحاكم في ’’المستدرك‘‘ (1990) ، البيهقي في ’’الدعوات الكبير‘‘

یہ حدیث فضائل کے باب سےہے اور اس کے متعدد شواہد اس کی تقویت کا ذریعہ ہیں۔ علماء کے نزدیک اس حدیث کی تکرار درست ہے۔

بے خوابی علاج

عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ تَعَارَّ مِنَ اللَّيْلِ، فَقَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ، لَهُ المُلْكُ وَلَهُ الحَمْدُ، وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، الحَمْدُ لِلّٰهِ، وَسُبْحَانَ اللّٰهِ، وَلَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، وَاللّٰهُ أَ كْبَرُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ، ثُمَّ قَالَ: اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِيْ، أَوْ دَعَا، اسْتُجِيْبَ لَهُ، فَإِنْ تَوَضَّأَ وَصَلّٰى قُبِلَتْ صَلاَتُهُ

(صحیح البخاری کتاب التھجد باب فضل من تعار من الليل فصلى 1154)

حضرت عبادہ بن صامتؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو رات کو بے خوابی سے بے قرار ہو اور کہے : کوئی معبود نہیں مگرا یک اللہ۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ اسی کی بادشاہت ہے اور اسی کی حمد اور وہ ہر شے پر قادر ہے۔ سب حمد اللہ کے لیے ہے اور پاک ہے اللہ۔ اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اللہ سب سے بڑا ہے نہ بدیوں سے بچنے کی طاقت ہے اور نہ نیکی کرنے کی قدرت مگر اللہ ہی کی مدد سے۔ پھر کہے: اے اللہ مغفرت سے مجھے نواز یا دعا کرے تو اس کی دعا قبول ہو گی اور اگروہ وضو بھی کرے اور نماز پڑھے تو اسکی نماز قبول ہوگی۔

(ترجمہ از صحیح بخاری جلد 2 صفحہ 541 مطبوعہ نظارت اشاعت صدر انجمن احمدیہ پاکستان)

جنت کا ایک خزانہ

عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ،…أَتَى عَلَيَّ وَأَنَا أَقُولُ فِي نَفْسِي: لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ، فَقَالَ: يَا عَبْدَ اللّٰهِ بْنَ قَيْسٍ، قُلْ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ، فَإِنَّهَا كَنْزٌ مِنْ كُنُوزِ الجَنَّةِ أَوْ قَالَ:أَلَا أَدُلَّكَ عَلَى كَلِمَةٍ هِيَ كَنْزٌ مِنْ كُنُوزِ الجَنَّةِ؟ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ۔

(صحیح بخاری كِتَابُ الدَّعَوَاتِ بَابُ الدُّعَاءِ إِذَا عَلَا عَقَبَةً 6384)

حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے۔۔۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے۔ میں اس وقت زیر لب کہہ رہا تھا ‘‘لا حول ولا قوة إلا باللّٰه’’ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’عبداللہ بن قیس کہو’’لا حول ولا قوة إلا باللّٰه‘‘ کیونکہ یہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے‘‘ یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ’’مَیں تمہیں ایک ایسا کلمہ نہ بتا دوں جو جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے اور وہ ’’لا حول ولا قوة إلا باللّٰه‘‘ ہے۔‘‘

اذان کے جواب میں لاحول

عن عُمرَ بنِ الخطَّابِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْه قال: قال رسولُ اللّٰهِ صلَّى اللّٰهُ عليه وسلّم: إذا قال المؤذِّن: اللّٰه أكبر اللّٰه أكبر، فقال أحدُكم: اللّٰه أكبر اللّٰه أكبر، ثم قال: أشهد أنْ لَا إلهَ إلَّا اللّٰه، قال: أشهد أن لا إلهَ إلَّا اللّٰه، ثم قال: أشهد أنَّ محمدًا رسولُ اللّٰه، قال: أشهد أنَّ محمدًا رسولُ اللّٰه، ثم قال: حيَّ على الصَّلاة، قال: لا حولَ ولا قُوَّةَ إلَّا باللّٰه، ثم قال: حيَّ على الفلاح، قال: لا حولَ ولا قوَّةَ إلَّا باللّٰه، ثم قال: اللّٰه أ كبر اللّٰه أ كبر، قال: اللّٰه أ كبر اللّٰه أ كبر، ثم قال: لا إله إلَّا اللّٰه، قال: لا إله إلَّا اللّٰه، مِن قلبِه، دخل الجَنَّةَ

(صحیح مسلم کتاب الصلاة باب اسْتِحْبَابِ الْقَوْلِ مِثْلَ قَوْلِ الْمُؤَذِّنِ حدیث نمبر385)

‏‏‏‏حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب مؤذن

اللّٰهُ ا كْبَرُ اللّٰهُ اكْبَرُ

کہے تو سننے والا بھی یہی الفاظ دہرائے اور جب وہ

أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ

اور

أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللّٰهُ

کہے تو سننے والا بھی یہی الفاظ کہے۔ اور جب مؤذن

حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ

کہے تو سننے والا

لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ

کہے۔ پھر مؤذن جب

حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ

کہے تو سننے والے کو

لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰہِ

کہنا چاہیے۔ اس کے بعد مؤذن جب

اللّٰهُ اكْبَرُ اللّٰهُ اكْبَرُ

اور

لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ

کہے تو سننے والے کو بھی یہی الفاظ دہرانے چاہئیں اور جب سننے والے نے اس طرح خلوص اور دل سے یقین رکھ کر کہا تو وہ جنت میں داخل ہوا۔‘‘

حضرت خلیفة المسیح الثانیؓ 16اور 23نومبر1951ء کے خطبات جمعہ میں لاحول اور اذان کا تعلق بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ

’’جب اذان کے الفاظ دہرائے جائیں تو حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ اور حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ کے مقام میں لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰہِ کہا جاتا ہے۔ جس میں اس طرف اشارہ ہوتا ہے کہ یہ دونوںکام ایسے ہیں جو میں نہیں کرسکتا، یہ کام میری طاقت سے بالا ہے۔ اس لیے میں اللہ سے مدد مانگتا ہوں، کہنا کہ اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر کوئی کام بھی نہیں کر سکتا……اذان نے ہمیں اس طرف بھی توجہ دلائی ہے کہ حقیقی مشکلات کا حل محض اللہ تعالیٰ ہے کیونکہ محض صلوٰة اور فلاح ہی ایسے کام نہیں جو خدا تعالیٰ کی مدد کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتے بلکہ باقی عظیم الشان اور اہم امور بھی جن کے کرنے میں دنیا کے قوانین اور نیچر کا تعلق ہوتا ہے یا ان جماعتوں سے تعلق ہوتا ہے وہ بھی اللہ تعالیٰ کی مدد کے ساتھ ہی مکمل ہوتےہیں۔

…… لاحول ولا قوۃ الا باللّٰہ ہمیں سبق دیتا ہے کہ ہر کام میں عموماً اور اہم مذہبی اور قومی کاموںمیں خصوصاً خدا تعالیٰ کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے اور جب اسے مدد کے لیے انسان بلاتا ہے تو وہ اس کی مدد کو آتاہے۔ جب تم دیکھتے ہو کہ یہ کام ہماری طاقت سے باہر ہے جب تم دیکھتے ہو کہ کامیابی کے تمام راستے ہم پر بند ہوگئے ہیں جب باوجود محنت اور زور لگانے کے تم کسی کام کو سر انجام نہیں دے سکتے تو خدا تعالیٰ کو بلاؤ وہ تمہاری مدد کے لیے آئے گا۔ اس نکتہ کو اگر تم مضبوطی سے پکڑ لو گے تو تمہاری تمام مشکلات حل ہوجائیں گی۔ …… یہ ایک نکتہ ہے جو ہمیں اذان سکھاتی ہے۔ تم اس نکتے کو مشعلِ راہ بناؤ اور اس کے مطابق اپنی اصلاح کرو۔ پھر دیکھو کہ خدا تعالیٰ کی مدد کیسے آتی ہے۔

(فرمودہ 23 نومبر 1951خطباتِ محمود جلد 32صفحہ 203-204، 211)

مکر م قمر الدین صاحب مولوی فاضل اس حدیث کے متعلق لکھتے ہیں کہ

’’اس حدیث میں یہ درج ہے کہ حیّ علی الصلوٰة کہنے پر سننے والے کو

لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰہِ

کہنا چاہیے۔ لا حول ولا قوة کے کیا معنی ہیں۔ اور کس غرض سے لاحول پڑھا جاتا ہے؟

…سو واضح ہو کہ

لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ

میں حول کے معنے پنجابی کے ہول کے نہیں ہیں۔ بلکہ حول کے معنی طاقت کے ہیں۔ لغت میں الحول :

القدرةُ و القوةُ علی التصرُّفِ یُقال لا حول ولا وقوة الا باللّٰہ لا حرَکةَ و لا قُوةَ اِلَّا بِمَشیةِ اللّٰہِ (المنجد)

یعنی حول کے معنی قدرت اور قوت علی التصرف کے ہیں۔ حضرت مسیح موعودؑ نے حول بمعنی طاقت اپنے ایک عربی شعر میں درج کیا ہے۔ فرماتےہیں:

کیف الوصول الیٰ مدارج شکرہ

نثنی علیہ و لیس حول ثناء

یعنی ہم خدا کے مدارج شکر تک کیونکر پہونچ سکتےہیں۔ ہم خدا کی ثناء اور تعریف تو کرتے ہیں مگر ہمیں ثناء کی طاقت نہیں ہے۔ یعنی خدا کے مدارج شکر کو ہماری ثنا نہیں پہنچ سکتی۔ پس جاننا چاہیے کہ حی علی الصلاة کہنے پر سننے والے کو اسلامی ہدایت ہے کہ وہ کہے لا حول ولا قوة الا باللّٰہ العلی العظیم۔ کہ اے خدا مؤذن تو ہمیں تیری نماز کے لیے بلا رہا ہے اور ہم ایسے کاموںمیں مصروف ہیں کہ نماز میں حاضری بڑی دو بھر ہوتی ہے۔ ان کاموں سے چھوٹنا اور ایسے پاکیزہ عمل میں جا کر لگنا دو قوتوں کو چاہتا ہے اور ہم یہ دونوں کام بجز اللہ بلند اور عظمت والے کی امداد کے نہیں کر سکتے۔

شارحین حدیث نے بھی لکھا ہے

قولہ لا حول ولا وقوة الا باللّٰہ ای لا حیلة فی الخلاص عن مواقع الطاعة و لا حرکة علی اوائلھا الا بتوفیقہ تعالیٰ (مشکوٰة باب الاذان صفحہ 55حاشیہ)

کہ لاحول ولا قوة الا باللّٰہ کے یہ معنی ہیں کہ اطاعت کے ورے جو موانع ہیں ان سے چھوٹنے اور خلاصی پانے کے لیے کوئی حیلہ و تدبیر نہیں ہے۔ اور نہ نماز ایسے پاکیزہ عمل کی ادائیگی کے لیے کوئی حرکت اور طاقت استعمال ہو سکتی ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ایسا ہو سکتا ہے۔ جو شخص مؤذن کے نماز کی دعوت دینے پر یہ پاکیزہ کلمات استعمال کرے گا۔ وہ نماز سے کیونکر پیچھے رہ سکتا ہے۔

(الفضل یکم جولائی 1959ء صفحہ 5)

حضرت مسیح موعودؑ کا طریق

کلام نفسی کا علاج

’’اس بات کو خوب یاد رکھو کہ کلام نفسی دو قسم کا ہوتا ہے۔ کبھی شیطان جو خیالی فسق وفجور کے سلسلہ میں چلا جاتاہے اور آرزوؤں کے ایک لمبے سلسلہ میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ جب تک انسان ان دونوں سلسلوں میں پھنسا ہوا ہے۔ اسے شیطانی دخل کا بہت اندیشہ ہوتا ہے۔ اور اس امر کا زیادہ امکان ہوتاہے کہ وہ اس طرح سے نقصان اٹھائے اور شیطان اسے زخمی کردے۔ مثلاً کبھی کوئی منصوبہ باندھتا ہے کہ فلاں شخص میری فلاں غرض اور مقصد میں بڑا مخل ہےاسے ماردیاجائے یا فلاں شخص نے مجھے تُو کر کے بلایا ہے اس کا بدلہ لیا جائے۔ اور اس کی ناک کاٹ دی جائے۔ غرض اسی قسم کے منصوبوں اور ادھیڑبن میں لگا رہتا ہے۔ یہ مرض سخت خطر ناک ہے۔ وہ نہیں سمجھتا کہ ایسی باتوں سے نفس کا کیا نقصان کر رہا ہوں اور اس سے میری اخلاق اور روحانی قوتوں پر کس قسم کا برا اثر پڑرہا ہے۔ اس لیے اس قسم کے خیالات سے ہمیشہ بچنا چاہیے۔ جب کبھی کوئی ایسابیہودہ سلسلہ خیالات شروع ہوتو فوراً اس کے رفع کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ استغفار پڑھو۔ لاحول کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ کی مدد اور توفیق چاہو۔ اور خداتعالیٰ کی کتاب کے پڑھنے میں اپنے آپ کو مصروف کر دو۔ اور یہ سمجھ لو کہ اس قسم کے خیالی سلسلہ سے کچھ بھی فائدہ نہیں بلکہ سراسر نقصان ہی نقصان ہے۔ اگر دشمن مر بھی جاوے تو کیا اور زندہ رہے تو کیا۔ نفع ونقصان کا پہنچانا خداتعالیٰ کے قبضہ واختیار میں ہے۔ کوئی شخص کسی کو کوئی گزند نہیں پہنچا سکتا۔ سعدؔی نے گلستان میں ایک حکایت لکھی ہے کہ نوشیروؔاں بادشاہ کے پاس کوئی شخص خوشخبری لے کر گیا کہ تیرافلاں دشمن مارا گیا ہے اور اس کا ملک اور قلعہ ہمارے قبضہ میں آگیا ہے۔ نوشیرواں نے اس کا کیا اچھا جواب دیا ؎

مرابمرگ عدوجائے شادمانی نیست

کہ زندگانی مانیز جاودانی نیست

پس انسان کو چاہیے کہ اس امر پر غور کرے کہ اس قسم کے منصوبوں اور ادھیڑبن سے کیا فائدہ اور کیا خوشی۔ یہ سلسلہ تو بہت ہی خطرناک ہے اور اس کاعلاج ہےتوبہ، استغفار، لاحول اور خداتعالیٰ کی کتاب کا مطالعہ۔ بیکاری اور بے شغلی میں اس قسم کا سلسلہ بہت لمبا ہو جایا کرتا ہے۔

دوسری قسم کلام نفس کی امانی ہے۔ یہ سلسلہ بھی چونکہ بےجاخواہشوں کو پیدا کرتا ہے اور طمعؔ، حسدؔ اور خود غرضی کے امراض اس سے پیدا ہوتے ہیں۔ اس لیے جونہی کہ یہ سلسلہ پیدا ہو۔ فوراً اس کی صف لپیٹ دو۔ میں نے یہ تقسیم کلام نفس کی جوکی ہے یہ دونوں قسمیں انجام کارانسان کو ہلاک کر دیتی ہیں۔ لیکن نبی ان دونوں قسم کے سلسلۂ کلام سے پاک ہوتا ہے۔‘‘

(ملفوظات جلداول صفحہ 359-358)

لاحول پر مواظبت کریں

حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحبؓ فرماتےہیں کہ بعض لوگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بیعت کرنے کے بعد سوال کیا کرتے تھے۔ کہ حضور کسی وظیفہ وغیرہ کا ارشاد فرما ویں۔ اس کا جواب حضرت مسیح موعود علیہ السلام اکثر یوں فرمایا کرتے تھے۔ کہ نماز سنوار کر پڑھا کریں۔ اور نماز میں اپنی زبان میں دعا کیا کریں۔ اور قرآن شریف بہت پڑھا کریں۔

نیز آپ وظائف کے متعلق اکثر فرمایا کرتے تھے۔ کہ استغفار کیا کریں۔ سورۃ فاتحہ پڑھا کریں۔ درود شریف پر مداومت کریں۔ اسی طرح لاحول اور سبحان اللہ پر مواظبت کریں۔ اور فرماتے تھے۔ کہ بس ہمارے وظائف تو یہی ہیں۔

خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السَّلام منتر جنتر کی طرح وظائف کے قائل نہ تھے۔ بلکہ صرف دُعا اور ذکرِ الٰہی کے طریق پر بعض فقرات کی تلقین فرماتے تھے۔

(سیرت المہدی روایت نمبر475)

حضرت مسیح موعود ؑ لاحول پڑھنے کی تلقین فرماتے تھے۔ حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ

بہت سے لوگ مجھے بھی خط لکھتے رہتے ہیں۔ اُن کو اکثر میں اسی رہ نمائی کی وجہ سے عمومًا یہ بتاتا رہتا ہوں اور ایک جگہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے یہ بھی لکھا ہے کسی کو کہ لَاحَوْل بھی پڑھا کریں۔

لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیّ الْعَظِیْم۔

یہ دعا بھی پڑھنی چاہئے۔ (مکتوبات احمد جلد 2صفحہ 291مکتوب بنام حضرت نواب محمد علی خان صاحبؓ مکتوب نمبر80مطبوعہ ربوہ)

(خطبہ جمعہ 30؍ دسمبر 2011ء)

ایک دفعہ حضرت نوا ب محمد علی خان صاحب کو اپنی بعض مشکلات کی وجہ سے دعا کی تلقین کرتے ہوئے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ

’’آپ درویشانہ سیرت سے ہر ایک نماز کے بعد گیارہ دفعہ

لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ

پڑھیں اور رات کو سونے کے وقت معمولی نماز کے بعد کم سے کم اکتالیس دفعہ درود شریف پڑھ کر دو رکعت نماز پڑھیں اور ہر ایک سجدہ میں کم سے کم تین دفعہ یہ دعا پڑھیں

یَا حَیُّ یَا قَیُّوْمُ بِرَحْمَتِکَ اَسْتَغِیْث۔

پھرنماز پوری کرکے سلام پھیر دیں اور اپنے لیے دعا کریں۔‘‘
(مکتوبات احمدیہ جلدہفتم حصہ اول صفحہ 33)

(خطبہ جمعہ 5؍ ستمبر 2003ء)

حضرت شیخ کرم الٰہی صاحب پٹیالوی تحریر کرتےہیں کہ میں نے جب لدھیانہ میں حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی بیعت کی تو میں نے اُس خلوت کو غنیمت جان کر حضور سے دو تین امور کے متعلق استفسار کیا… …خاکسار نے بطور ورد ووظائف کچھ پڑھنے کے واسطے دریافت کیا۔

توحضورؑ نے فرمایا کہ آپ کی ملازمت بھی نازک اور ذمہ واری کی ہے۔ بس نمازوں کو سنوار کر وقت پر ادا کرنااور اتباع سنت اور چلتے پھرتے درود شریف، استغفار پڑھیے اور وقت فرصت قرآن مجید کی سمجھ کر تلاوت کو کافی فرمایا۔ خاکسار کے مکرر اصرار پر نماز فرض کے بعد اُسی نشست میں گیارہ دفعہ لاحول ولاقوۃ پڑھنے کے لیے ارشاد فرمایا۔

(سیرت المہدی روایت نمبر 1114)

حضرت میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی تحریر کرتےہیں کہ ایک دفعہ حضور علیہ السلام نے ایک شخص کے بار بار بہ تکرار سوال پر استغفار اور لاحول گیارہ گیارہ دفعہ پڑھنے کا بطور وظیفہ فرمایا تھا (سائل کا سوال تعداد معینہ کا تھا)مجھے ٹھیک یاد نہیں رہا۔ شاید درود شریف بھی گیارہ دفعہ پڑھنے کا ساتھ ہی فرمایا تھا۔

(سیرت المہدی روایت نمبر 1214)

نماز میں حضورِ قلب کی طلب

حضرت پیر سراج الحق نعمانی صاحبؓ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت میں آنے سے پہلے کئی قسم کے وظائف کیا کرتے تھے لیکن آپ کو اطمینان نصیب نہ ہوتا تھا۔ بیعت کرنے کے بعد آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے عرض کیا کہ کوئی وظیفہ وغیرہ ارشاد فرمائیں۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے صاحبزادہ صاحب کی نیک طبعیت کو دیکھتے ہوئے آپ کو چند وظائف کرنے کا ارشاد فرماتے ہوئے فرمایا:

اب تم بعد نماز کے دس بار درود شریف اور دس بار

اَسْتَغْفِرُاللّٰہَ رَبِّیْ مِنْ کُلِّ ذَنْبٍ وَّ اَتُوْبُ اِلَیْہِ

اور اکتیس بار

لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ العَلِیُّ الْعَظِیْم

پڑھا کرو اور جو کسی وقت اکتیس مرتبہ لاحول نہ ہو سکے تو اکیس بار اور جو اکیس بار نہ ہو سکے تو گیارہ بار ضرور پڑھ لینا۔

اسی طرح فرمایا کہ جتنی دیر وظیفہ میں لگے وہ نماز میں خرچ کرو۔ نماز میں

اِہۡدِ نَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡم

بکثرت پڑھو اور رکوع اور سجدے میں بعد تسبیح

یَاحَیُّ یَا قَیُّومُ بِرَحْمَتِکَ اَسْتَغِیْث

زیادہ پڑھو اور اپنی زبان میں نماز کے اندر دعائیں کرو۔

اس طرح نماز میں حضور قلب حاصل کرنے کے لیے بھی پیر صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے عرض کیا اور آپ علیہ السلام نے پیر صاحب کو نماز میں حضور قلب کا طریقہ ارشاد فرمایا کہ

’’جس قدر دیر لگے اتنی دیر نماز میں لگاؤ اور اِہۡدِ نَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡم زیادہ پڑھو اور اس قدر پڑھو کہ ہاتھ پیر اور تمام بدن دکھ جاوے۔‘‘

(تذکرة المہدی صفحہ 150)

سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وظائف

حضرت غلام رسول صاب راجیکی ؓ فرماتے ہیں کہ

ایک دفعہ میری موجودگی میں ایک شخص نے سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح اول رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنے مریدوں کو کون سے وظائف اور اذکار بتایا کرتے تھے۔ حضرت خلیفہ اولؓ نے جواباً فرمایا کہ حضرت اقدس علیہ السلام عام طور پر درود شریف، استغفار، لاحول، سورہ فاتحہ اور قرآن کریم کی تلاوت کا ارشاد فرمایا کرتے تھے۔

(حیات قدسی 223)

دوا کے ساتھ ساتھ لا حول سے علاج

حضرت حافظ نور محمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فیض اللہ چک کے مخلص اور قدیمی صحابی تھے۔ جب قادیان میں آتے تو خاکسار کے غریب خانہ پر بھی تشریف لاتے اور ہم حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے واقعات کا ذکر کر کے اپنی روح کو تازہ او ردل کو دولتِ ایمان سے پُر کرتے رہتے……

اسی طرح حضرت حافظ صاحب ؓ نے یہ بھی بیان فرمایا کہ ایک دفعہ ان کے ہونٹوں سے پیپ اور خون بہنا شروع ہو گیا۔ جب تکلیف زیادہ بڑھ گئی تو میں حضرت مولانا حکیم نور الدین صاحب ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ نے فرمایا کہ یہ بواسیر شفتی ہے اور تکلیف دہ بیماری ہے۔ اس کے علاج کے لیے کشتہ جست اور بعض اور ادویہ آپ نے تجویز فرمائیں۔ اس کے بعد میں سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اور اپنی بیماری کا حال اور حضرت مولانا صاحبؓ کے تجویز کردہ نسخہ کا ذکر کیا۔ رات کو جب میں سویا تو خواب میں مجھے حضور نے فرمایا کہ آپ توجہ کے ساتھ متواتر

لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ العَلِیِّ الْعَظِیْم

کا وظیفہ کریں۔ اللہ تعالیٰ جلد شفادے گا۔

چنانچہ میں نے حضور کے ارشاد کے ماتحت روزانہ لاحول پڑھنا شروع کیا۔ ابھی اس وظیفہ پر ایک ہفتہ ہی گذرا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے بیماری بالکل جاتی رہی۔

(حیات قدسی 292-293)

کسی انسان سے خوف کا علاج

حضرت میاں فیاض علی صاحب کپور تھلوی بیان فرماتے ہیں کہ میرا افسر سکھ مذہب کا تھا۔ مسلمانوں سے بہت تعصّب رکھتا تھا اور مجھ کو بھی تکلیف دیتا تھا آخر اس نے رپورٹ کر دی کہ فیاض علی کو موقوف کردیا جائے۔ میں اس کے کام کا ذمہ دار نہیں ہوں۔ میں نے دعا کے واسطے مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں عریضہ بھیجا اور اس کی سختی کا ذکر کیا۔ حضور نے جواب تحریر فرمایا کہ

 ’’انسان سے خوف کرنا خد اکے ساتھ شرک ہے اور نماز فرضوں کے بعد 33مرتبہ لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ پڑھا کریں اور اگر زیادہ پڑھ لیں تو اور بھی اچھا ہے‘‘ ۔

خط کے آتے ہی میرے دل سے خوف قطعی طور پر جاتا رہا۔ ایک ہفتہ کے اندر خواب کا سلسلہ شروع ہوگیا کہ افسر علیحدہ کیا جائے گا۔ اور میں اپنی جگہ پر بدستور رہوں گا۔ میں رخصت لے کر علیحد ہ ہوگیا۔ اور راجہ صاحب کے حکم کا منتظر رہا۔ قبل از حکم ایک احمدی بھائی نے خواب میں دیکھا کہ راجہ صاحب کے سامنے تمہارے افسر کی رپورٹ پیش ہوئی ہے۔ اس پر را جہ صاحب نے حکم لکھا یا ہے کہ افسر کو کہہ دو کہ فیاض علی کو حکماً رکھنا ہوگا۔ اس دوران میں مجھے بھی ایک خواب آئی کہ میں ایک برآمدہ میں ہوں اور مجھ سے کچھ فاصلہ پر ایک اور شخص ہے۔ ایک سیاہ سانپ اس کے بدن سے لپٹ رہا ہے اور اس سے کھیل رہا ہے۔ میں نے اپنے دل میں کہا کہ اس سانپ میں زہر ہی نہیں۔ جب اُس سانپ کی نظر مجھ پر پڑی تو وہ اُس کو چھوڑ کر میری طرف دوڑااور اس نے بہت کوشش کی کہ میرے پاؤں کو کاٹے۔ قدرت خدا سے میں ہوا میں معلق ہوگیا اور جھولے میں جھولنے لگا۔ وہ سانپ برآمدے سے باہر چلا گیا اور میں اُسی جگہ آگیا۔ مالک سانپ آیا اور اس نے دریافت کیا کہ سانپ کہاں گیاوہ تو بہت زہریلا تھا۔ میں نے جواب دیا کہ وہ باہر چلا گیا ہے۔

اسی طرح ایک اور خواب مجھے آیا کہ ایک نیم مردہ سانپ سردی کی وجہ سے راستہ میں سویا پڑا ہے اور آسمان سے چیل اور کوے اس پر جھپٹا مار رہے ہیں۔ ایک چیل آئی تو اس کو اٹھا کر لے گئی۔ اب مجھ کو کامل یقین ہوگیا کہ انشاء اللہ افسر نہیں رہے گا اور یہی وہ سانپ ہے جس کی پہلے وہ حالت تھی کہ دیکھنے سے خوف معلوم ہوتا تھا اور اب اس نوبت کو پہنچ گیا ہے۔ بالآخر افسر کی درخواست را جہ صاحب کے سامنے پیش ہوئی۔ را جہ صاحب نے وہی حکم لکھایا جو ایک احمدی بھائی نے خواب میں دیکھا تھا کہ افسر کو لکھ دو کہ فیاض علی کو حکماً رکھنا ہوگا۔ مجھ کو حکماً بلایا گیا اور حاکم کے سپرد کیا گیا۔ حضرت مسیح موعود ؑ کی دعا کا یہ اثر دیکھنے کے قابل ہے کہ وہ افسر را جہ صاحب کا ہم نشین تھا۔ اور را جہ صاحب کو یہ بھی علم نہ تھا کہ فیاض علی ہمارا ملازم ہے یا کہ نہیں۔ تھوڑے ہی عرصہ کے بعد افسر اپنے عہدہ سے علیحد ہ کردیا گیا اور میں اسی جگہ قائم رہا۔

(سیرت المہدی روایت نمبر 999)

قرض سے نجات

حضرت مولوی عبد اللہ صاحب سنوری مر حوم بیان فرماتے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھے قرضہ سے نجات پانے کے لیے یہ دُعا سکھائی تھی کہ پانچوں فرض نمازوں کے بعد التزام کے ساتھ گیارہ دفعہ

لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ

پڑھنا چاہیے اور میں نے اس کو بار ہا آزمایا ہے اور بالکل درست پایا ہے۔

 (سیرت المہدی روایت نمبر449)

حضرت خلیفة المسیح الاولؓ

حضرت خلیفۃ المسیح الاول ؓنے بارہا احباب جماعت کو لاحول پڑھنے کی طرف توجہ دلائی ہے۔ ذیل میں چند اقتباسات پیش ہیں:

بد تحریک پر لاحول پڑھو

فرمایا: ’’ایک حدیث میں صاف آیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی سے پیار کرتا ہے تو جبرائیل کو آگاہ کرتا ہے تو وہ جبرائیل اور اس کی جماعت کا محبوب ہوتا ہے۔ اسی طرح پر درجہ بدرجہ وہ محبوب اور مقبول ہوتا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ زمین میں مقبول ہو جاتا ہے۔ یہ حدیث اسی اصل اور راز کی حل کرنے والی ہے جو میں نے بیان کیا ہے۔ ایمان بالملائکہ کی حقیقت پر غور نہیں کی گئی اور اس کو ایک معمولی بات سمجھ لیا جاتا ہے۔ یاد رکھو کہ ملائکہ کی پاک تحریکوں پر کاربند ہونے سے نیکیوں میں ترقی ہوتی ہے یہاں تک کہ انسان اللہ تعالیٰ کا قرب اور دنیا میں قبول حاصل کرتا ہے۔ اسی طرح پر جیسے نیکیوں کی تحریک ہوتی ہے میں نے کہا ہے کہ بدیوں کی بھی تحریک ہوتی ہے۔ اگر انسان اس وقت تعوذ و استغفار سے کام نہ لے، دعائیں نہ مانگے، لاحول نہ پڑھے تو بدی کی تحریک اپنا اثر کرتی ہے اور بدیوں میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ پس جیسے یہ ضروری ہے کہ ہر نیک تحریک کے ہوتے ہی اس پر کار بند ہونے کی سعی کرے اور سستی اور کاہلی سے کام نہ لے، یہ بھی ضروری ہے کہ ہر بدتحریک پر فی الفور استغفار کرے، لاحول پڑھے۔ درود شریف اور سورۃ فاتحہ پڑھے اور دعائیں مانگے۔ ‘‘

(خطباتِ نور صفحہ 121)

سابقہ بدیاں دور کرنے کے لئے

فرمایا:’’ اب دیکھو کہ فرمانبرداری اس کا نام ہے کہ جماعت سے ایک شخص الگ کیا جاتا ہے۔ بیوی کو بھی حکم دیا جاتا ہے کہ اس کے پاس نہ جاوے اور دشمن کی طرف سے دلداری اور امداد کا وعدہ ملتا ہے مگر سرمو فرق نہیں آتا۔ غرضیکہ فرمانبرداری میں اپنے آپ کو دیتے وقت یہ ضرور دیکھ لینا چاہئے کہ کسی شیطان کی بیعت تو نہیں کرتے۔ اس لیے کثرت سے استغفار اور لاحول کرنی چاہئے کہ کہیں سابقہ بدیاں اور غلطیاں ٹھوکر کا موجب نہ ہوں۔‘‘

ذاتی کمزوری کو رفع کرنے کے لئے

فرمایا: ……پس اے عزیزو اور دوستو! اپنی کمزوری کے رفع کے لیے کثرت سے استغفار اور لاحول پڑھو اور رب کے نام سے دعائیں کرو کہ خدا تعالیٰ تمہاری ربوبیت یعنی پرورش کرے۔ تم کو مظفر و منصور کرے تاکہ تم آئندہ آنے والی نسلوں کے لیے نیک نمونہ بن سکو۔

مخفی گند کو دور کرنے کے لئے

فرمایا: ……یہی حالت انسان کے اعمال کی ہے۔ اگرچہ وہ بڑے بڑے اعمال کرتا ہے لیکن ایک مخفی گند اندر ہوتا ہے جس سے وہ تمام برباد ہو جاتے ہیں – اس کا علاج وہی ہے جو کہ ذکر کیا کہ دعا اور استغفار اور لاحول سے کام لو۔ پاک لوگوں کی صحبت میں رہو۔ اپنی اصلاح کی فکر میں مضطر کی طرح لگے رہو کہ مضطر ہونے پر خدا رحم کرتا ہے اور دعا کو قبول کرتا ہے۔ دوسرے کی تحقیر مت کرو کہ اس سے خدا بہت ناراض ہوتا ہے اور دوسرے کو حقیر جاننے والے لوگ نہیں مرتے جب تک کہ اس گند میں خود نہ مبتلا ہوں جس کی وجہ سے دوسرے کو حقیر جانتے ہیں۔‘‘

(خطباتِ نور 175-176، 178،179)

شیطانی وسوسوں کا علاج

فرمایا:’’پھر سوال ہوتا ہے کہ اس قسم کے شیطانی اوہام اوروسوسوں سے بچنے کا کیا طریق ہے؟ سو اس کا طریق یہی ہے کہ کثرت کے ساتھ استغفار پڑھو۔ استغفار سے یہ مراد ہرگز نہیں کہ طوطے کی طرح ایک لفظ رٹتے رہو۔ بلکہ اصل غرض یہ ہے کہ استغفار کے مفہوم اور مطلب کو ملحوظ رکھ کر خدا تعالیٰ سے مدد چاہو اور وہ یہ ہے کہ جو انسانی کمزوریاں صادر ہو چکی ہیں اللہ تعالیٰ ان کے بدنتائج سے محفوظ رکھے اور آئندہ کے لیے ان کمزوریوں کو دور کرے اور ان جوشوں کو جو ہلاک کرنے والے ہوتے ہیں دبائے رکھے، پھر لاحول پڑھے، پھر دعاؤں سے کام لے اور جہاں تک ممکن ہو راستبازوں کی صحبت میں رہے۔ اگر اس نسخہ پر عمل کرو گے تو میں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے یقین رکھتا ہوں کہ وہ تمہیں محروم نہ کرے گا۔‘‘

(خطباتِ نور صفحہ 186)

بد خیال دور کرنے کے لئے

فرمایا:’’بیٹھے بیٹھے بغیر کسی بیرونی محرک کے جو انسان کے دل میں ایک نیک کام کرنے کا خیال پیدا ہو جاتا ہے اور اس طرف توجہ ہو جاتی ہے وہ فرشتے کی تحریک ہوتی ہے۔ اور جو بدخیال دل میں اچانک پیدا ہو جاتا ہے وہ شیطان کی تحریک ہوتی ہے۔ جس طرف انسان توجہ کرے اسی میں ترقی کر جاتا ہے۔ ملائکہ پر ایمان لانے کا مطلب یہی ہے کہ جب کسی کے دل میں نیک تحریک پیدا ہو تو فوراً اس نیکی پر عملدرآمد کرے۔ برخلاف اس کے جب بدخیال دل میں آئے تو لاحول پڑھنا اور اعوذ پڑھنا اور بائیں طرف تھوکنا شیطان کی شرارت سے بچاتا ہے۔‘‘

(خطباتِ نور صفحہ 238)

وباؤں کا علاج

فرمایا:’’ایک اور ضروری بات جو اس زمانہ کے لیے نہایت ضروری ہے میں بیان کرنی چاہتا ہوں کہ حضرت صاحب نے ایک دفعہ بہت سے زمینداروں کو اکٹھا کر کے بتایا تھا کہ میں نے دیکھا ہے کہ اس ملک پنجاب میں سیاہ رنگ کے پودے لگائے گئے اور پودے لگانے والوں نے مجھے بتایا ہے کہ یہ طاعون کے پودے ہیں۔ آخر وہ پودے لگے اور لوگوں نے اس کے پھل بھی کھائے۔ اب حضرت صاحب نے پھر فرمایا ہے اور پے در پے الہامات ہوئے ہیں کہ عنقریب طرح طرح کی نئی نئی بلائیں، وبائیں اور بیماریاں پھیل جائیں گی اور عالمگیر قحطوں اور زلزلوں سے دنیا پر سخت درجہ کی تباہی آئے گی اور شدت سے طاعون اور دوسری آفات دنیا کو گھیر لیں گی اور وہ وقت نہایت ہی قریب ہے جبکہ اس قسم کے خطرناک مصائب دنیا کو بدحواس اور دیوانہ سا بنا دیں گے۔ اب دیکھو چار بلاؤں کا مقابلہ دنیا کو کرنا پڑے گا۔ ایک تو خاص وبائیں۔ دوسرے شدت سے ایک نئی قسم کی طاعون۔ تیسرے سخت زلزلے۔ چوتھے قحط شدید۔ اوروں کو جانے دو ان میں سے ایک قحط کو ہی لو۔ گو بچے تو اس بات کو نہیں سمجھ سکتے مگر وہ لوگ جن کے کنبے ہیں خوب سمجھتے ہیں کہ کن کن تکلیفات کا سامنا ہو رہا ہے۔ آگے ربیع کا موسم آیا ہے اس میں اور بھی مشکلات نظر آتے ہیں۔ اور پھر اس کے ساتھ ہی وبائیں ہیں، طاعون ہے، زلزلے ہیں۔

اس لیے چاہیے کہ استغفار اور لاحول اور الحمد اور درود شریف بہت پڑھو اور صدقہ اور خیرات بہت دو اور دعاؤں میں کثرت سے لگے رہو۔‘‘

(خطباتِ نور صفحہ 270)

بچپن کی بد عادات کے خاتمہ کے لئے

فرمایا:’’یاد رکھو کہ ابتدا کی عادات لڑکپن اور جوانی کی بدعادتیں ایسی طبیعت ثانی بن جاتی ہیں کہ آخر ان کا نکلنا دشوار ہو جاتا ہے۔ پس ابتداء میں دعا کی عادت ڈالو اور اس ہتھیار سے کام لو کہ کوئی بدعادت بچپن میں نہ پڑ جاوے۔ بڑے بڈھے اپنی اولاد کے واسطے دعائیں کریں اور لڑکے اور جوان اپنے واسطے آپ کریں کہ ابتدا میں عادات نیک ان کو نصیب ہوں۔ بعض وقت دیکھا ہے کہ بڑے بڑے عباد، زہاد اور صلحاء کے ساتھ ساتھ وہ بچپن کی عادات چلی جاتی ہیں۔

دیکھو! جھوٹ بولنا، چوری کرنا، بدنظری کرنا، بے جا ہنسی مذاق اور ٹھٹھا کرنا غرض کل بدعادتیں ان سے بچنے کی کوشش کرنی چاہئے اور دعا سے کام لینا چاہئے۔ جوں جوں عمر پختہ ہوتی جاتی ہے توں توں بدعادات بھی راسخ ہوتی جاتی ہیں۔ بعض اوقات دل میں ایک شیطانی وسوسہ آ جاتا ہے کہ چلو جی جہاں اور اتنی نیکیاں ہیں ایک بدی بھی سہی۔ خبردار اور ہوشیار ہو جاؤ کہ یہ شیطان کا دھوکہ ہے۔ اس کے فریب میں مت آنا اور ابتدا ہی سے ان بدیوں کے اکھاڑ پھینکنے کی کوشش اور سرتوڑ سعی کرتے رہنا چاہئے اور ان باتوں کے واسطے عمدہ علاج دعا، استغفار، لاحول اور الحمد شریف کا پڑھنا اور صحبت صالحین ہے۔‘‘

 (خطباتِ نور صفحہ 313-312)

وسوسہ سے بچنے کا علاج

فرمایا:’’جب تمہیں کوئی وسوسہ پیدا ہو تو پہلے دائیں طرف تھوک دو، پھر لاحول پڑھو اور ان باتوں کو کثرت سے استعمال کرو۔ دعا کرو۔ پھر تاکید سے کہتا ہوں کہ اب تمہارا کام یہ ہے کہ ہتھیار بند ہو جاؤ۔ کمریں کس لو اور مضبوط ہو جاؤ۔ وہ ہتھیار کیا ہیں؟ یہی کہ دعائیں کرو۔ استغفار، لاحول، درود اور الحمد شریف کا ورد کثرت سے کرو۔ ان ہتھیاروں کو اپنے قبضہ میں لو اور ان کو کثرت سے استعمال کرو۔ میں ایک تجربہ کار انسان کی حیثیت سے اور پھر اس حیثیت سے کہ تم نے مجھ سے معاہدہ کیا ہے اور میرے ہاتھ پر بیعت کی ہے تم کو بڑے زور سے اور تاکیدی حکم سے کہتا ہوں کہ سر سے پاؤں تک ہتھیاروں میں محفوظ ہو جاؤ اور ایسے بن جاؤ کہ کوئی موقع دشمن کے وار کے واسطے باقی نہ رہنے دو۔ بائیں طرف تھوکنا، لاحول کا پڑھنا، استغفار، درود اور الحمد شریف کا کثرت سے وظیفہ کرنا……‘‘

(خطباتِ نور صفحہ 348)

تین وظیفے

فرمایا:’’میں نے چار بزرگوں کی بیعت کی۔ ایک بزرگ تھے بخارا کے، دوسرے عبد القیوم بھوپال کے رہنے والے، تیسرے شاہ عبد الغنی مہاجر اور چوتھے اس وقت کے امام مرزا غلام احمد مسیح مہدیؑ۔

میں نے بقدر اپنی طاقت کے ان کی سچی فرمانبرداری میں کوشش کی۔ ان سب کی روحوں پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کے بادل ہوں۔

تین وظیفے ہیں۔ استغفار،لاحول، درود، الحمدللہ۔ قرآن پڑھو۔ مخلوق کو پہنچاؤ۔ اللہ تمہیں توفیق بخشے۔‘‘

(خطباتِ نور صفحہ 469)

رمضان میں کثرت سے لاحول پڑھو

’’حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی ا للہ تعالیٰ عنہ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زندگی میں ان کے ساتھ میں، اسی طرح رمضان کے آخری جمعہ میں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ ‘‘ہمارے امام فرمایاکرتے ہیں کہ بڑاہی بدقسمت ہے وہ انسان جس نے رمضان پایا مگر اپنے اندر کوئی تغیر نہ پایا۔ پانچ سات روزے باقی رہ گئے ہیں۔ ان میں بہت کوشش کرواور بڑ ی دعائیں مانگو، بہت توجہ الی اللہ کرو اور استغفار اور لاحول کثرت سے پڑھو۔ قرآن مجید سن لو، سمجھ لو، سمجھا لوجتنا ہو سکے صدقہ و خیرات دے لو۔ اوراپنے بچوں کو بھی تحریک کرتے رہو۔ اللہ تعالیٰ مجھے اور تمہیں توفیق دے۔ (آمین)‘‘

(خطبات نور۔جدید ایڈیشن صفحہ 562)

دوسرے کے بداثر سے بچنے کا طریق

آپؓ نے کشمیر کا ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے فرمایا: ’’میں جب کشمیر میں تھا تو وہاں ایک شخص آیا۔ اس کا تعلق خبیث ارواح سے تھا۔ مہاراج نے ایک بنگالی ڈاکٹر کو جو مہاراج کے ہاں نوکر تھا بھیجا۔ اس نے کچھ مٹھائی اور پیسے وغیرہ اس کے سامنے رکھے۔ اس شخص نے کہا کہ اس کے دل میں یہ خیال ہے۔ اور رخصت چاہتا ہے۔ وہ بنگالی ڈاکٹر سن کر حیران ہی رہ گیا۔ کیونکہ اس کے دل کی بات ٹھیک ٹھیک بتائی گئی تھی۔ پھر دہلی کے ایک حکیم صاحب کو بھیجا۔ ان کے دل کی بات بھی اسی طرح اس نے بتادی اور وہ بھی غرق حیرت ہو کر چلے آئے۔ کچھ دل میں سوچ کر میں بھی گیا۔ میں لاحول پڑھتا رہا۔ اس نے بڑی دیر تک غور کرکے کہا کہ اس شخص کا حال مجھ کو کچھ نہیں معلوم ہوتا۔ یہاں ایک لڑکا رہتا تھا۔ اس کا نام عبدالعلی تھا۔ اس کے باپ کو جنات کے حاضر کرنے کا بڑا دعویٰ تھا۔ وہ میرے ساتھ اکثر رہا۔ لیکن کبھی بھی میرے سامنے تو وہ جنات کو حاضر نہ کر سکا۔‘‘

(مرقاۃ الیقین صفحہ 249-248)

حضرت خلیفةا لمسیح الثانی ؓ

منافقین کے فتنہ کا سدّ باب

جب حضرت مصلح موعود ؓ کا بغرض علاج یورپ تشریف لے جانا طے ہوگیا تو آپ ؓنے ان حالات میں جماعت کے نام ایک پیغام میں منافقین کی طرف سے ممکنہ فتنہ سے خبردار کرتے ہوئے تحریر فرمایا:

’’احباب کو چاہیے کہ دعاؤں میں لگے رہیں۔ تاکہ اللہ تعالیٰ ان کا حافظ و ناصر ہو۔ میں بھی انشاء اللہ جس حد تک مجھے توفیق ملی۔ دعائیں کرتا جاؤں گا……

احباب کو خوب یاد رکھنا چاہیے کہ جب کبھی ذمہ دار افسر اِدھر اُدھر ہوتا ہے۔ تو شریر لوگ فتنہ پیدا کرتے ہیں۔ ہماری جماعت بھی ایسے شریروں سے خالی نہیں۔ بعض لوگ اپنے لیے درجہ چاہتے ہیں۔ بعض لوگ اپنے لیے شہرت چاہتے ہیں۔ ایسا کوئی شخص بھی پیدا ہو یا کوئی بھی آواز اُٹھائے خواہ کسی گاؤں میں یا شہر میں یا علاقہ میں تو اس بات کو کبھی برداشت نہ کریں۔ کبھی یہ نہ سمجھیں کہ یہ معمولی بات ہے۔ فساد کوئی بھی معمولی نہیں ہوتا۔ حدیثیں اس پر شاہد ہیں۔ جب کوئی شخص اختلافی آوازاُٹھائے فوراََ لاحول اور استغفار پڑھیں۔‘‘

( الفضل 23 مارچ 1955ء)

ایک لطیفہ

حضرت مصلح موعود فرماتےہیں کہ

’’شروع شروع میں جب ریل جاری ہوئی ہے تو انگلستان میں لوگ ریل کے آگے لیٹ جاتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم مر جائیں گے پر اِسے چلنے نہیں دیں گے مگر آخر ریل دنیا میں رائج ہو گئی۔ ٹیلیفون جب مکہ میں لگا تو عربوں نے کہہ دیا کہ یہ شیطان ہے جو مکہ میں لایا گیا ہے اور ابنِ سعود کی اِس قدر مخالفت ہوئی کہ اس کی فوجیں باغی ہونے لگیں۔ آخراس نے پوچھا کہ یہ شیطان کس طرح ہو گیا؟ وہ کہنے لگے شیطان نہیں تو اور کیا ہے جدّہ میں ایک شخص بات کرتا ہے اور وہ مکہ میں پہنچ جاتی ہے یہ محض شیطان کی شعبدہ بازی ہے۔ وہ سخت گھبرایا کہ اَب میں کیا کروں؟ آخر ایک شخص نے کہا کہ ان لوگوں کو میں سمجھا دیتا ہوں۔ چنانچہ ٹیلیفون پر ایک طرف اُس نے عربوں کے اس لیڈر کو کھڑا کیا جو کہا کرتا تھا کہ شیطان بولتا ہے اور دوسری طرف خود کھڑا ہو گیا اور اُس نے پوچھا کہ بتاؤ حدیث میں آتا ہے یا نہیں کہ لَاحَوْلَ سے شیطان بھاگ جاتا ہے؟اُس نے کہا آتا ہے۔ پھر اس نے پوچھا کہ اگر کوئی حدیث کا مُنکر ہو تو وہ کیسا ہے؟ وہ کہنے لگا کافر۔ اُس نے کہا۔ اچھا سُنو! میں لَاحَوْلَ پڑھتا ہوں اور یہ کہہ کر لَاحَوْلَ پڑھا اور اس معترض مولوی سے کہا کہ اب بتاؤ کہ کیا شیطان یہ لَاحَوْلَ دوسری طرف پہنچا رہا ہے؟ شیطان کو کہاں طاقت کہ وہ لَاحَوْلَ کو پہنچائے، وہ تو لَاحَوْلَ سُنتے ہی بھاگ جاتا ہے۔ یہ بات اُس معترض کی سمجھ میں بھی آگئی اور اُس نے لوگوں کو بھی سمجھا دیا کہ یہ شیطان نہیں ہے کوئی اور چیز ہے۔‘‘

(انقلابِ حقیقی۔ انوار العلوم جلد 15 صفحہ 13)

حضرت خلیفة المسیح الثالثؒ

لاحول کا مقصد

حضرت خلیفة المسیح الثالثؒ فرماتے ہیں کہ

’’جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ جو واقفین عارضی وقف کی تحریک کے ماتحت باہر گئے ہیں۔ ان میں ہر عمر اور علمی معیار کے لوگ شامل تھے اور ان میں سے زیادہ تر کا تاثر یہ ہے کہ بڑی کثرت کے ساتھ انہوں نے استغفار اور لاحول پڑھا۔ یعنی ان کے دل کے اندر یہ احساس اُجاگر ہوا کہ ہم نے غفلت میں دن گزارے ہیں۔ ہم سے بہت سی کوتاہیاں ہوئی ہیں۔ اس لیے ہمیں استغفار کرنا چاہئے۔ تا اللہ تعالیٰ ہماری غفلتوں اور کوتاہیوں کو معاف کرکے ہمیں اپنی مغفرت کی چادر میں ڈھانپ لے۔ دوسرے یہ جو ذمہ داری کا کام ہمارے سپرد کیا گیا ہے۔ اس کو نباہنے کے ہم قابل نہیں۔ اس طرف ہم نے کبھی توجہ نہیں کی تھی نہ ہم نے جماعت کا لٹریچر پڑھا تھا اور نہ ہم نے دعائیں کی تھیں۔ اس لیے ہم سے یہ کام اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت ہمیں حاصل نہ ہو۔ جب تک اللہ تعالیٰ سے ہمیں قوت نہ ملے۔ اس لیے انہیں استغفار اور لاحول پڑھنا پڑا اور لاحول یہی ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ سے (مغفرت کے بعد) قوت حاصل کرتا ہے۔‘‘

(روزنامہ الفضل ربوہ 2/ نومبر 1966ء)

استغفار اکسیرکا حکم رکھتا ہے

حضرت خلیفة المسیح الثالثؒ فرماتے ہیں کہ

’’انصاراللہ، لجنات دونوں کے اجتماع آج شروع ہو رہے ہیں۔ امت محمدیہ میں جب بھی اجتماع ہوں اس بارہ میں قرآن کریم کی ایک ہدایت موجود ہے جسے بھولنا نہیں چاہئے اوروہ یہ ہے کہ جب بھی دینی اجتماع ہو اس وقت اللہ تعالیٰ کی تسبیح وتحمید اور توبہ و استغفار بڑی کثرت سے کرنا چاہئے۔ اس پر نہ توکوئی پیسہ خرچ ہوتا ہے اورنہ وقت لگتا ہے۔ یہ صرف عادت کی بات ہے۔ پس دوستوں کو چاہئے کہ وہ ان دنوں کثرت سے

سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْمِ اللّٰھُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمّدٍ وّاٰلِ مُحَمّدٍ (تذکرہ ایڈیشن چہارم صفحہ 25)

کا ورد کریں۔ تسبیح وتحمید سمیت درود پڑھنے کی تحریک تومیں پہلے بھی کرچکا ہوں۔ پھر استغفار ہے یعنی

اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ رَبِّی مِنْ کُلِّ ذَنْبٍ وَاَتُوْبُ اِلَیْہِ

بھی کثرت سے پڑھنا چاہئے۔ اس کے ساتھ جو دوست لاحول پڑھ سکیں وہ لاحول بھی پڑھیں۔ میرا تجربہ ہے کہ استغفار کرنا اندرونی کمزوریوں کے دورکرنے کے حق میں اکسیر کا حکم رکھتا ہے اور لاحول بیرونی حملوں کے شر سے حفاظت کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے۔

پس

لَئِنْ شَکَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّکُمْ (ابراہیم:8)

کی رو سے آپ جتنی زیادہ تسبیح وتحمید کریں گے آپ اپنے محسن اور انسانیت کے محسن صلی اللہ علیہ وسلم پر جتنا زیادہ درود پڑھیں گے اتنے ہی زیادہ آپ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بنیں گے انصار اللہ کا اجتماع عملاً جمعہ کے بعد شروع ہوجاتاہے۔ اس لیے دوست ابھی سے تسبیح وتحمید اور درود و استغفار پڑھنے لگ جائیں اور اگر ہوسکے تواپنے اس ورد میں لاحول کو بھی شامل کرلیں۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم پر اپنے فضل نازل فرمائے۔ اسکی جو برکات ہمارے لیے مقدر ہیں اور ان برکات کے حصول کے لیے جس قسم کی قربانیوں کی ضرورت ہے اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ہمیں وہ قربانیاں دینے کی توفیق عطا فرمائے اور انہیں قبول بھی فرمائے۔ یعنی ہمیں مقبول ایثار کی مقبول قربانیوں کی توفیق عطا ہو تاکہ ہم اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور اس کی رحمتوں کے زیادہ سے زیادہ وارث بنیں اور انسان کے ضمن میں دنیا کی بحیثیت مجموعی جو ذمہ داریاں ہمارے کندھوں پرڈالی گئی ہیں ہم ان ذمہ داریوں کوالٰہی توفیق سے بہتر رنگ میں ادا کرسکیں۔‘‘

(خطبہ جمعہ فرمودہ 17نومبر1972ء، روزنامہ الفضل ربوہ 19 دسمبر 1972ء)

شیطان کے وسوسے کا علاج

ڈاکٹر مرزا سلطان احمد صاحب تحریر کرتے ہیں:

سیرالیون میں جماعت کے طبی ادارے غریب علاقوں میں کھولے گئے تھے۔ اور یہاں کے اکثر لوگ علاج کے معمولی اخراجات ادا کرنے کی استطاعت بھی نہیں رکھتے تھے۔ مشن اورجماعت کے مالی وسائل بھی بہت محدود تھے اور زیادہ مالی بوجھ کے متحمل نہیں ہو سکتے تھے۔ ان حالات سے قدرے پریشان ہو کر سیرالیون سے ایک وقف ڈاکٹر صاحب نے حضورؒ کی خدمت میں یہ تجویز پیش کی کہ یہاں پر خدمت کی ایک صورت یہ بھی ہو سکتی ہے چونکہ حکومت کو اپنی ڈسپنسریوں پر کام کرنے کے لیے ڈاکٹر نہیں ملتے تو حکومت سے بات چیت کر کے وقف ڈاکٹر صاحبان ان ڈسپنسریوں میں ملازمت شروع کر دیں۔ اور بعض مقامات کا ذکر کر کے عرض کیا کہ چونکہ یہاں پر جماعت کے میڈیکل سینٹر ز کے قریب ہی گورنمنٹ کی ڈسپنسریاں ہیں۔ اس لیے حکومت سے بات چیت کی جا سکتی ہے کہ جہاں پر جماعت کا ہسپتال ہو حکومت وہاں کی بجائے کہیں اور ڈسپنسری کی سہولت مہیا کرے۔ چونکہ جماعت کے پیشِ نظر خدمت کے وہ اعلیٰ مقاصد ہوتے ہیں جو حکومت کے تحت کام کرنے سے پورے نہیں ہوسکتے۔ اس لیے حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒنے انہیں تحریرفرمایا:

’’آپ خدمت کے لیے گئے ہیں۔ اور شیطان کا کام ہے وسوسے پیدا کرتا ہے۔ لاحول اور استغفار بہت کریں۔ آمد کم ہو تو بھی فرق نہیں پڑتا۔ خدمت پوری ہونی چاہیے۔ پیار اور اخوت کے جذبہ کے تحت آپ خدمت کریں گے تو دوسری سب ڈسپنسریاں ناکام ہو جائیں گی اور آپ ہی کامیاب ہوں گے۔ اس لیے ادھر اُدھر کے خیالات میں نہ پڑیں اور وقف کی روح کو سمجھیں اور کام کئے جائیں۔ دولت بھی انشاء اللہ دے گا مگر وہ اصل مقصد نہیں۔ حکومت کی نوکری نہیں کرنی، آپ نے نہ کسی اور نے۔‘‘

(سلسلہ احمدیہ جلد 3 صفحہ 137)

حضرت خلیفة المسیح الرابع ؒ

حضرت خلیفة المسیح الربع ؒنے لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ کے معانی اور مطالب پر ایک اور جہت سے روشنی ڈالی ہے۔

شرک اور جھوٹ کے خلاف جہاد

فرمایا: ’’بہرحال یہ ایک تفصیلی مضمون ہے اس کی دو بنیادیں میں نے آپ کو بتا دی ہیں۔ پہلی بنیاد جھوٹ کی شرک کے اوپر قائم ہے۔ غیر اللہ کا خوف اورجب غیر اللہ کا خوف اللہ کے خوف سے ٹکراتا ہے تو اللہ کا خوف دب جاتا ہے اور غیر اللہ کا غالب آجاتا ہے اس وقت لاحول کہنے کا انسان کو پھر کوئی حق باقی نہیں رہتا۔ جب کہتے ہیں

لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ

جب حول غیر کا آگیا تو الا باللّٰہ کا سوا ل ہی باقی نہیں رہا۔ اسی طرح لاا لہ کا مضمون بھی اسی کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔ جب آپ نے دوسرے کو الہ مان ہی لیا تو پھر لَااِلٰہَ اِلَّااللّٰہ کا کوئی مضمون باقی نہیں رہا۔ تو شرک کے خلاف جہاد اور جھوٹ کے خلاف جہاد اس لحاظ سے ایک ہی چیز کے دو نام بن جاتے ہیں۔‘‘

(خطبہ جمعہ 18 مارچ 1988ء)

لاحول اور سبحان اللہ

فرمایا: ’’حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃو السلام کا یہ طریق تھا کہ جب کوئی وظیفہ کے متعلق پوچھتا تھا کہ وظیفہ بتائیں تو آپ سب سے پہلے استغفار کا ذکر فرمایا کرتے تھے۔ فرماتے تھے استغفار کیا کریں سورہ فاتحہ پڑھا کریں۔ درود شریف پر مداومت اختیار کریں۔ اسی طرح لاحول اور سبحان اللہ پر مداومت کریں اور فرماتے تھے کہ بس ہمارے تو یہی وظائف ہیں۔ پھر روایت آتی ہے کہ جب کوئی پوچھتا تھا کہ کوئی وظیفہ بتائیے تو آپ فرماتے مثلاً ایک صاحب نے سوال کیا کہ یا حضرت ہم کونسا وظیفہ پڑھا کریں تو حضور فرماتے الحمدللہ اور درود شریف اور استغفار اور دعا پرمداومت اختیار کرو اور دعا

اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْم

کثرت سے پڑھا کرو۔‘‘ (ملفوظات جلداول صفحہ نمبر204)

(خطبہ جمعہ 6 مئی 1988ء)

غصہ پر لاحول پڑھنا

فرمایا: ’’اشتعال کے وقت صبر بہت ہی زیادہ ضروری ہے کیونکہ یہ ایک وقتی نقصان نہیں پہنچا رہا بلکہ آپ کی ایک لمبی محنت کو ضائع کر رہا ہے۔ تبھی حضرت اقدس محمد مصطفیٰﷺ نے اشتعال کی حالت سے متنبہ فرمایا اور فرمایا کہ جب تمہیں غصہ آئے تو ٹھہر جایا کرو، بات کرنے سے پہلے اپنے اوپر ضبط کرنے کی کوشش کرو، استغفار کرو، لاحول پڑھو اور پانی پی کے پھر غصہ بجھانے کی کوشش کرو، بیٹھ جایا کرو او ر اس سے بھی غصہ دور نہ ہو، لیٹ جایا کرو اگر بیٹھنے سے بھی غصہ دور نہ ہو اور کوئی حرکت ایسی نہ کرو اس وقت جس کے نتیجے میں بعد میں تمہیں پچھتانا پڑے۔ (ابو داؤد کتاب الادب حدیث نمبر:4149، 4151)جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے اشتعال کی حالت چونکہ انسان سے ضبط کی طاقت دور کر دیتی ہے ایک ایسی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے کہ جو کچھ ہو گا دیکھا جائے گایعنی جو بھی گزرے گزر جائے گی جس طرح کہا جاتا ہے، دیکھی جائے گی اب، ہمیں کوئی پرواہ نہیں، عواقب سے انسان بے خبر ہو جاتاہے۔ ایسی حالت میں خدا تعالیٰ سے بھی بغاوت پیدا ہو جاتی ہے اور بعض لوگ کہہ دیتے ہیں اچھا پھر ٹھیک ہے اگر جہنم ہے تو جہنم ہی سہی، اب ہمیں کوئی پرواہ نہیں۔ وہ وقتی غصہ بعض دفعہ ایسے ایسے خوفناک نتائج پیدا کرتا ہے کہ ساری عمر انسان اس کے اوپر استغفار کرے تب بھی اس گناہ کا داغ نہیں دھلتا……

ایک دفعہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ؓ نے مجھے اپنا ایک واقعہ سنایا جنہیں لوگ کہتے تھے جن بھوت یا اس قسم کے قصے مجھے انہوں نے فرمایا کہ مجھے زیادہ تو اس کا تجربہ نہیں لیکن ایک ایسا واقعہ ہے جو اس قسم کے واقعات کے قریب تر ہے اور وہ یہ کہ میں اپنے دالان میں پوری طرح دروازے بند کر کے لیٹا تھا اور ابھی پوری طرح نیند نہیں آئی تھی کہ میں نے دیکھا میری ٹانگوں پر ہاتھوں کا دباؤ پڑا ہے۔ اتنا واضح اور مضبوط دباؤ تھا کہ اس کو کسی طرح بھی وہم قرار نہیں دیا جا سکتا اورچونکہ بجلی بجھا چکا تھا میں نظر نہیں آسکتا تھا کہ کون ہے۔ کچھ دیر کے بعد پھر دوبارہ، پھر سہ بارہ جب دباؤ پڑا او ربڑے زور سے پڑا تو مجھے اس حالت میں پہلے خوف پیدا ہوا پھر میں خد اکی طرف متوجہ ہوا اور میں نے اس وجود کو جو بھی تھا میں نہیں جانتا اس کو میں نے کہا کہ دیکھو اگرتوتم کوئی غیر اللہ کی خدا کے سوا کوئی طاقت بن کے آئے ہو، کوئی شیطانی طاقت ہو جو مجھے ڈرانے آئے ہو تو میں موحد ہوں، مجھے کسی غیر اللہ سے کوئی خوف نہیں ہے۔ اگر خد انے مجھے تم سے بچانا ہے تو بچائے گا نہیں بچائے گا تب بھی میں اس کی رضا پر راضی ہوں مجھے تمہاری کوئی پرواہ نہیں اور اگر تم خدا کی طرف سے آئے ہو تو پھر کرو جو کرنا ہے میں کون ہوتا ہوں روک ڈالنے والا۔ ادھر یہ الفاظ میں نے بلند آواز میں ادا کئے اور اچانک وہ دباؤ ہٹا اور اس کے بعد پھر کبھی مجھے اس قسم کا تجربہ اس جگہ نہیں ہوا اور نہ کبھی کوئی خوف پیدا ہوا۔

یہ ہے وہ مضمون جو خوف کے وقت صبر یعنی للّٰہ صبر کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے۔ اگر آپ خوف سے اللہ کی خاطر صبر کرتے ہیں تو لازماً آپ کو ایک اندرونی عرفان نصیب ہو گا۔ آپ یہ محسوس کریں گے کہ یہ خوف اگر غالب آجائے تو میں کچھ نہیں کر سکتا مگر میں اللہ کی خاطر اس خوف کو اپنے نفس پر، اپنی روح پر غالب نہیں آنے دوں گا۔ یہ نقصان پہنچا سکتا ہے تو میرے جسم کو پہنچا سکتا ہے لیکن اس خوف سے میں مرعوب نہیں ہوں گا کیونکہ خدا کے سوا میں کسی سے مرعوب ہونے والی چیز نہیں ہوں، میں خدا کی پناہ میں آتا ہوں۔ اس حالت سے خوف آپ پر جب غلبہ نہیں کر سکتا تو آپ کے اندر سے ایک نئی عظمت پیدا ہوتی ہے۔ الٰہی صفات آپ کے اندر جلوہ گر ہوتی ہیں، آپ خدا کو اپنے قریب محسوس کرتے ہیں، آپ جانتے ہیں کہ دنیا کی کوئی طاقت آپ کا کچھ بگاڑ نہیں سکتی۔ لاحول ولا قوۃ کا مضمون آپ کے ضمیر کے اندر روشنی بن کر ابھرتا ہے۔ یعنی صرف ایک ورد نہیں ہے جو زبان پر جاری ہو اس کی روشنی آپ اپنے ضمیر کے اندر محسوس کرتے ہیں کہ کوئی خوف خدا کے سوا ہے ہی نہیں اور اگر کوئی قوت ہے توصرف خدا کی قوت ہے۔ اس کے نتیجے میں آپ پھر اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصَّابِرِیْنَ کا وعدہ پورا ہوتے ہوئے دیکھیں گے۔‘‘

(خطبہ جمعہ 30 دسمبر 1988ء)

توحید کا نقشہ

فرمایا: ’’ایک وجودہے وہ ایک شہزادہ روحانی سلطنت کاجو خدا کانبی ہوتاہے وہ دائیں دیکھتاہے نہ بائیں دیکھتا ہے، سیدھا اپنے خدا کی طرف نظر رکھے ہوئے بڑی بہادری کے ساتھ اس راہ پہ چلتا ہے اور اسی کی زندگی کا نقشہ ہے جو لاحول ولاقوۃ الا باللّٰہ میں کھینچا گیا ہے اور ان شیطانی آوازوں سے بچنے کا طریق بھی قرآن کریم کی اس آیت نے ہمیں سمجھا دیا کہ دیکھو اپنی طاقت سے تم بچ نہیں سکو گے یہ ورد کرتے ہوئے آگے بڑھو، لاحول ولا قوۃ کوئی بھی خوف نہیں ہے۔ ولا قوۃ اور کوئی طاقت نہیں ہے مجھے اچھا بنا دینے کی یا مجھے کچھ عطا کرنے کی الاباللّٰہ اللہ کے سوا کسی کے پاس نہیں ہے۔ یہ اگر ورد جان لے، اگر اس کامضمون سمجھ آ جائے اور انسان کامل یقین رکھے تویہاں توحید کی عبادت شروع ہوتی ہے۔

توحید میں ایک نفی بھی ہے پھر مثبت بات ہے۔ پہلے لَا کا اقرار ہے کہ کوئی بھی نہیں مگرلا حول و لا قوۃنے دو پہلوؤں سے توحید کو روشن کر دیا۔ ایک یہ کہ تمہیں جو خدا کے سوا کو ئی نعمت کی بات عطا کرتا ہے وہ جھوٹاہے۔ نعمت وہی ہے جو خدا عطا کرے یا اس کے قوانین کے تابع تمہیں نصیب ہو۔ اگر خدا کے سوا کوئی اپنے عذاب سے ڈراتاہے جیسا کہ فرعون نے ڈرایا تھا جیسا کہ آج بھی خدا کے نام پر اس کے بھٹکے ہوئے بندے بعض دوسروں کو ڈراتے ہیں کہ اگر تم نے خدا کی آواز پر لبیک کہا توہم سے براکوئی نہیں ہوگا۔ کہتے تویہ ہیں کہ تمہاری آواز جس پرلبیک کہہ رہے ہو شیطان کی ہے مگر وہ خود شیطان ہوتے ہیں اور اسی طرح شیطان بھیس بدل بدل کر جیساکہ قرآن فرما رہاہے بعض دفعہ نصیحت کے رنگ میں، بعض دفعہ دھمکانے کے رنگ میں نیکی کا لبادہ اوڑھ کر آتاہے۔ کہتا ہے اس راہ سے ہٹ جاؤ ورنہ بہت برا سلوک کیا جائے گا۔ جو ڈر جائیں وہ وہیں پتھر ہو جاتے ہیں یعنی ان کا روحانی وجود ختم ہو جاتا ہے۔ مگرنبی نہ صرف خود بچ کرچلتا ہے اور ہمیشہ

لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہ

کا مضمون پیش نظررکھتا ہے بلکہ یہ توحید کا شہزادہ جب منزل تک جا پہنچتاہے جہاں خدا اسے قبول فرما لیتا ہے توجس پتھرپر پھونک مارے وہ پتھرجاگ اٹھتاہے، صدیوں کے مردے زندہ ہو جاتے ہیں۔ تودیکھو کیسا کہانی کے اندر ایک گہرا سبق موجود ہے۔ حضرت مصلح موعودؓ نے بھی ایک رؤیا ایسی ہی دیکھی تھی اور ’’خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ‘‘ ورد کرتے ہوئے اپنے آپ کو آگے بڑھتے ہوئے دیکھا اور ساری بلائیں غائب ہو گئیں۔ ایک نظارہ میں نے خود بھی دیکھا بعینہٖ اسی قسم کا لیکن اس میں خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ نہیں بلکہ

رَبِّ کُلُّ شَیءٍ خَادِمُکَ رَبِّ فَاحْفَظْنَا وَانْصُرْنَا وَارْحَمْنَا

کی دعا تھی جس نے مجھے بچایا اور ساری منزل خدا کے فضل کے ساتھ خیر و عافیت سے طے ہوئی یعنی ارد گرد کے خوف اور ارد گرد کی حرص اور طمعیں کچھ بھی نہ بگاڑ سکیں۔

تویہ ایک صرف رؤیا کاتجربہ نہیں، عملی دنیا میں یہی ہوتاہے۔ پس کسی نہ کسی دعا کے سہارے آپ کو صراط مستقیم پر قائم رہنا ہوگا۔‘‘

(خطبہ جمعہ 4 اپریل 1997ء)

لاحول میں خدا کی آواز سنیں

فرمایا:’’کینیڈا کی جماعتوں کو میراپہلا پیغام تویہ ہے کہ تبلیغ کی طرف توجہ کریں اور جس حقیقت کی طرف میں نے آپ کو متوجہ کیا ہے اس کو پیش نظر رکھیں۔ آ پ کی تبلیغ ہرگزہرگزکامیاب نہیں ہو سکتی اگرآ پ اعوذباللّٰہ من الشیطٰن الرجیم کے معنی نہ سمجھیں اور اپنے نفس کو اور اپنے نفس کے شیطان کوپہچاننے کی صلاحیت پیدانہ کریں……

أعوذ باللّٰہ کے تقاضے سمجھنے ہیں تو لاحول ولا قوۃ کے مضمون کے اوپر بھی غور کریں۔ اللہ تعالیٰ فرماتاہے کوئی بھی خوف کی جگہ نہیں ہے۔

حول، خوف سے بچنے کی طاقت نہیں ہے اور کوئی بھی نعمتیں عطا کرنے والی طاقت یعنی قوت نہیں ہے۔

اِلاباللّٰہ مگر اللہ کے ذریعے اور جھوٹ میں خوف اور حرص دونوں اپنے اپنے رنگ میں گہرااثر دکھاتے ہیں۔ ایک طرف تو انبیاءؑ کاپیغام ہے جس میں بشارت بھی ہے اور انذار بھی ہے۔ انذار بھی ہے اور بشارت بھی ہے۔ دوسری طرف شیطان کاپیغام ہے وہ بھی ایک انذاراپنے اندررکھتاہے، وہ بھی ایک بشارت اپنے اندررکھتاہے۔ اس کا انذاربھی جھوٹا، اس کی بشارت بھی جھوٹی۔ وہ انذار یہ کرے گا کہ دیکھو اگر تم نے میری بات نہ مانی تواپنی دنیا اپنے ہاتھوں سے گنوا بیٹھتے ہو۔ اور یہ مضمون جو ہے کینیڈا میں اس لحاظ سے بھی دیکھاجاسکتاہے کہ بہت سےImmigrantsہیں، بہت سے ایسے دوست ہیں جوپاکستان میں بعض دفعہ حقیقی مظالم سے تنگ آ کر بعض دفعہ اسی خوف سے تنگ آکرکہ یہ حقیقی مظالم ہمارے سر پرلٹکے ہوئے تو ہیں اور بعض ایسے بھی ہیں جو محض اقتصادی خرابی کے پیش نظر اس غربت سے بھاگنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اب ان کے لیے یہ تینوں وجوہات اپنی اپنی جگہ ان کے لیے رزق کا جوازپیداکرنے والی توہیں مگر اللہ تعالیٰ نے وسعت رزق کو بھی ہجرت کا جوازقرار دیاہے کیونکہ یہ نہیں فرمایاکہ رزق پیش نظر ہو اور جھوٹ بولو کہ ہمیں فلاں مصیبت پڑ ی ہوئی تھی اس لیے نکلے ہیں۔ اب یہاں پہنچ کرآپ دیکھیں کتنے ہیں جو لاحول میں شیطان کی آوازسنتے ہیں اور خدا کی آواز نہیں سنتے۔ شیطان ان کو ڈراتاہے۔ وہ کہتاہے دیکھو تم نے اگر سچ بول دیا تو مارے گئے۔ سارے پیسے تم برباد کر بیٹھے ہو۔ اپنی جائیداد یں بیچ آئے ہو یہاں پہنچے ہو، چھوٹے چھوٹے تمہارے بچے ہیں اگر تم نے جھوٹ نہ بولا توتمہیں ہرگزیہ حکومت اجازت نہیں دے گی واپس جانا پڑے گا اور پہلے سے بدترحال میں واپس لوٹو گے۔ یہ شیطان کا ڈراوا ہے اور یہ ڈراوا وقتی طورپرسچا بھی ہو سکتاہے کیونکہ بعض دفعہ شیطان ایسے ڈراوے بھی دیتاہے جو انسان کو شیطان پر ایمان لانے میں مدد دیتے ہیں۔ چنانچہ واقعۃً یہ اس کے ساتھ ہو بھی جاتاہے اگر اس کے دل میں یہ خیال پید ا ہو کہ کاش میں شیطان کی بات مان لیتا اور اللہ کی بات رد کر کے جھوٹ کاسہارا لے لیتا توایسا شخص ہمیشہ کے لیے ضائع ہو گیاپھر کبھی خدا اس کی نہیں سنے گا لیکن اگر وہ ابتلاء میں ثابت قدم رہے اگر وہ کوڑی کی بھی پرواہ نہ کرے جوکچھ جاتاہے خداکی راہ میں جائے اورسوچے کہ اس نے اللہ سے عہد کیاکیا تھا۔ عہد تویہ کیا تھا کہ میری جان، میرا مال، میرا سب کچھ تیرے سپرد ہوگیا اب توجانے اور جو بھی تونے اپنے بندوں سے وعدے کئے ہیں ان وعدوں کا تو میرے حوالے سے بھی خیال رکھے یہ اب تیرا کام ہے۔ جس نے یہ وعدہ کیا ہو اس کو اگر کینیڈا کی امیگریشن نہ مل رہی ہو جھوٹ کے بغیر اور وہ سب خد ا سے کئے ہوئے وعدوں کو چھوڑکرپیٹھ کے پیچھے پھینک کریہ فیصلہ کرے کہ میں نے تویہاں رہنا ہی رہنا ہے توآپ بتائیں کہ یہ جھوٹ اس پر کیا اثر دکھائے گا۔‘‘

(خطبہ جمعہ 27 جون 1997ء)

7 باتوں کی وصیت

حضرت ابو ذر ؓنے رسول اللہﷺ سے 7باتوں کی وصیت روایت کی ہے۔

عن أبي ذر قال أمرني خليلي صلى اللّٰه عليه وسلم بسبع أمرني بحب المساكين والدنو منهم وأمرني أن أنظر إلى من هو دوني ولا أنظر إلى من هو فوقي وأمرني أن أصل الرحم وإن أدبرت وأمرني أن لا أسأل أحدا شيئا وأمرني أن أقول بالحق وإن كان مرا وأمرني أن لا أخاف في اللّٰه لومة لائم وأمرني أن أكثر من قول لا حول ولا قوة إلا باللّٰه فإنهن من كنز تحت العرش۔

(مسند احمد بن حنبل جلد 5صفحہ 159 مطبوعہ بیروت)

حضرت خلیفة المسیح الرابعؒ نے اس کا ترجمہ اس طرح فرمایا کہ

’’حضرت ابو ذر سے مروی ہے کہ مجھے میرے حبیبؐ نے سات اعمال بجا لانے کا حکم دیا۔ (1)مجھے آپ نے مسکینوں سے محبت کرنے اور اُن کے قریب رہنے کا حکم دیا۔ (2) اور آپ نے مجھے اِس بات کا حکم دیا کہ مَیں اپنے سے کم درجہ پر نظر رکھوں۔ اور جو مجھ سے بالا ہیں اُن کی طرف نہ دیکھتا رہوں۔ (3) اور آپ نے مجھے حکم دیا کہ میں صلہ رحمی اختیار کروں اگرچہ میرے سے قطع تعلق اختیار کی جائے۔ (4) اور آپ نے مجھے حکم دیا کہ مَیں کسی سے کبھی کوئی چیز نہ مانگوں۔ (5)اور آپ نے مجھے حکم دیا کہ ہمیشہ سچ بات کہوں اگرچہ وہ کڑوی ہی ہو۔ (6) اور آپ نے مجھے حکم دیا کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈروں۔ (7) نیز آپ نے مجھے حکم دیا کہ کثرت سے

لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ

پڑھتا رہوں۔ یہ باتیں اُس خزانے میں سے ہیں جو اِس عرش کے نیچے ہے۔ ‘‘

(خلاصہ درس القرآن 19 دسمبر 2000سورة المائدہ آیت 55 ۔بحوالہ الفضل انٹرنیشنل 21 جنوری 2001)

حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ

شیطان سے بچاؤ

حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ

ایک بزرگ کا قصہ آتا ہے کہ ان کی ہمشیرہ جو بہت نیک تھیں، نمازیں پڑھنے والی، تہجد گزار، دوسرے نوافل پر زور دینے والی۔ انہوں نے بعض مجلسوں میں جا کر یا لوگوں سے متأثر ہو کر وِرد اور ذِکر اور وظائف کی طرف زیادہ توجہ دینی شروع کر دی۔ اس طرف زیادہ مائل ہو گئیں۔ اور پھر آہستہ آہستہ جو دن کے نوافل تھے وہ چھوڑ دئیے۔ ان بزرگ کو شک پڑا تو انہوں نے پوچھا۔ انہوں نے کہا کہ جی مَیں زیادہ اب وِرد اور وظائف کر لیتی ہوں۔ انہوں نے سمجھایا کہ یہ غلط طریق ہے۔ لیکن بہر حال نہیں سمجھیں۔ انہوں نے کہا کہ مَیں ٹھیک کرتی ہوں۔ آہستہ آہستہ تہجد کی نماز پڑھنی بھی چھوڑ دی۔ اس کی جگہ بھی ذکر شروع ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ دیکھو جو ذکر تم کر رہی ہو تمہیں شیطان ورغلا رہا ہے۔ اس لیے بچو۔ یہ کوئی خدا کا حکم نہیں ہے۔ اگر تم نے اس سے بچنا ہے تو تم لَاحَوْل پڑھا کرو، بچ جاؤ گی۔ کچھ عرصے بعد اس بزرگ خاتون نے دیکھا کہ فرض نمازوں کی طرف بھی میری بے رغبتی ہو رہی ہے تو پھر خودان کو احساس پیدا ہوا۔ پھر انہوں نے شیطان سے بچنے کے لیے لاَحَوْل پڑھنا شروع کیا۔

لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہ۔

پھر آہستہ آہستہ ان کی نمازوں کی طرف توجہ پیدا ہوئی اور وہ انہماک پیدا ہوا۔ پھر تہجد کی طرف توجہ پیدا ہوئی۔ پھر نوافل کی طرف توجہ پیدا ہوئی۔ تو بعض دفعہ انسان کو بعض باتوں کا پوری طرح علم نہیں ہوتا۔ وہ سمجھ لیتا ہے کہ بعض نیکیاں مَیں کر رہا ہوں ان کو کرنے کا بڑا فائدہ ہے۔ اور ذکر کرنے سے یا وِرد وظائف کرنے سے بڑا مقام حاصل ہو سکتا ہے۔ گو یہ بڑی اچھی بات ہے، ذکر کرنا چاہئے۔ ذکرِ الٰہی سے زبان تر رکھنی چاہئے۔ لیکن جو اللہ تعالیٰ نے فرائض بتائے ہیں وہ پورے کر کے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے نوافل اور تہجد کی جو سنت قائم فرمائی اس کو کرکے ساتھ ساتھ یہ چیزیں ہوں تب ٹھیک ہے۔ لیکن صرف ایک چیز پر زور دینا اور اصل فرائض کو چھوڑ دینا، سنت کو چھوڑ دینا، یہ غلط طریقِ کار ہے۔‘‘

(خطبہ جمعہ 29؍ اکتوبر 2010ء)

لغویات سے بچاؤ

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ الفرقان کی آیت 70 میں ’قولِ سدید‘ کے قرآنی حکم کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا:

’’پھر سچائی کے معیار کے حصول کی نصیحت کے ساتھ مزید تاکید یہ فرمائی کہ جن مجالس میں سچائی کی باتیں نہ ہوں، گھٹیا اور لغو باتیں ہوں ان سے فوراً اٹھ جاؤ۔ جہاں خدا تعالیٰ کی تعلیم کے خلاف باتیں ہوں ان مجالس میں نہ جاؤ۔ اب یہ گھٹیا اور لغو باتیں اس زمانے میں بعض دفعہ لا شعوری طور پر گھروں کی مجلسوں میں یا اپنی مجلسوں میں بھی ہو رہی ہوتی ہیں۔ نظام کے خلاف بات ہوتی ہے۔ کئی دفعہ مَیں کہہ چکا ہوں کہ عہدیداروں کے خلاف اگر باتیں ہیں، اگر نیچے اُس پر اصلاح نہیں ہو رہی تو مجھ تک پہنچائیں۔ لیکن مجلسوں میں بیٹھ کر جب وہ باتیں کرتے ہیں تو وہ لغو باتیں بن جاتی ہیں۔ کیونکہ اس سے اصلاح نہیں ہوتی۔ اُس میں فتنہ اور فساد اور جھگڑے مزید پیدا ہوتے ہیں۔ پھر اس زمانے میں ٹی وی پر گندی فلمیں ہیں۔ انٹرنیٹ پر انتہائی گندی اور غلیظ فلمیں ہیں۔ ڈانس اور گانے وغیرہ ہیں۔ بعض انڈین فلموں میں ایسے گانے ہیں جن میں دیوی دیوتاؤں کے نام پر مانگا جا رہا ہوتا ہے، یا اُن کی بڑائی بیان کی جا رہی ہوتی ہے جس سے ایک اور سب سے بڑے اور طاقتور خدا کی نفی ہو رہی ہوتی ہے۔ یا یہ اظہار ہو رہا ہو کہ یہ دیوی دیوتا جو ہیں، بت جو ہیں، یہ خدا تک پہنچانے کا ذریعہ ہیں۔ یہ بھی لغویات ہیں، شرک ہیں۔ شرک اور جھوٹ ایک چیز ہے۔ ایسے گانوں کو بھی نہیں سننا چاہئے۔

پس شیطان کے حملے سے بچنے کے لیے اپنی بھرپور کوشش کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے احسن قول ضروری ہے۔ ہر معاملے میں اللہ تعالیٰ کے احکامات پر نظر رکھنا ضروری ہے۔ پھر دعا بھی اللہ تعالیٰ نے سکھائی کہ قرآنِ کریم کی آخری دو سورتیں جو ہیں جس میں شیطان کے ہر قسم کے حملوں سے بچنے کی دعا ہے۔

پھر ایک جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ

وَ اِمَّا یَنْزَغَنَّکَ مِنَ الشَّیْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰہِ اِنَّہٗ ھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ (حٰمٓ السجدۃ: 37)

اگر تجھے شیطان کی طرف سے کوئی بہکا دینے والی بات پہنچی ہے، ایسی باتیں شیطان پہنچائے جو احسن قول کے خلاف ہو تو اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگ۔ اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آنے کی بہت زیادہ دعا کرو۔

اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ

پڑھو۔

لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ پڑھو۔

اللہ تعالیٰ یہ امید دلاتا ہے جو سننے والا اور جاننے والا ہے کہ اگر نیک نیتی سے دعائیں کی گئی ہیں تو یقیناً وہ سنتا ہے۔‘‘

(خطبہ جمعہ 18؍ اکتوبر 2013ء)

عائلی و معاشرتی پریشانیوں کا حل

جون2012ء میں حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے دورۂ امریکہ کے دوران مسجد بیت الرحمٰن واشنگٹن میں طالبات کے ساتھ ایک نشست ہوئی۔ جس میں طالبات نے حضور انور کی اجازت سے بعض سوالات بھی کئے۔

ایک سوال کے جواب میں حضور انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نےفرمایا کہ ’’سوسائٹی میں، اپنے گھر میں، اپنے سسرال والوں کے ساتھ اور اپنے ماحول میں جو بھی بے چینیاں اور پریشانیاں پیدا ہوں وہ استغفار کرنے اور

لَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْم

پڑھنے سے دور کی جاسکتی ہیں۔‘‘

(الفضل انٹرنیشنل 17؍ اگست2012ء)

حضرت غلام رسول راجیکی صاحبؓ کے آزمودہ نسخہ جات

غیر اللہ کا خیال دل سے نکالنے کا طریق

سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے عہدِ مبارک میں مجھے تبلیغی سلسلہ میں ایک گاؤں جانا پڑا تو وہاں ایک نوجوان عورت جو شادی شدہ تھی مجھے ملی اور میرے سامنے اس بات کا اظہار کیا کہ میں نے جب سے آپ کو دیکھا ہے اور آپ کی باتیں سنی ہیں بس یہی جی چاہتا ہے کہ ایک منٹ کے لیے بھی آپ سے جدا نہ ہوں۔ میں نے اسے سمجھایا کہ ایسی محبت تو اللہ تعالیٰ اور اس کے انبیاء کے لیے ہونی چاہیے۔ ان کے سوا کسی اور سے مناسب نہیں ہے۔ اس پر وہ عورت رو پڑی اور کہنے لگی تب میں کیا کروں۔ میں نے کہا نمازوں میں دعا کرو اور کثرت سے لاحول ولا قوۃ اِلّا بِاللّٰہ پڑھتی رہا کرو اور یہ دعا بھی کرو کہ اے اللہ تعالیٰ! تیرے بغیر جس چیز کی محبت میرے دل میں سب سے زیادہ ہے ایسی محبت مجھے اپنے متعلق عطا کر اور میرے د ل سے غیر اللہ کے خیال کو مٹا دے۔ اور میں بھی انشاء اللہ تمہارے لیے دعا کروں گا۔ چنانچہ اس کے بعد جب میں قادیان گیا تو وہاں قیام کے دوران میں مَیں نے اس کے لیے دعا کی۔ پھر جب واپس آیا تو خدا کے فضل سے میں نے اس عورت کو اس باطل خیال سے صحت یاب پایا الحمد للہ۔ ان باتوں کے ذ کر سے میرا مقصود یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے محض سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی برکت سے مجھے اس زمانہ میں بھی گمراہیوں سے محفوظ رکھا جبکہ میں بالکل عنفوان شباب میں تھا اور میرا ماحول اپنی آبائی وجاہت او ربزرگوں کی وجہ سے ایسے اسباب کے لیے ممد تھا۔ الحمد لِلّٰہ علیٰ ذالک

(حیات قدسی صفحہ 94)

طاعون کا علاج

’’گجرات شہر کے قیام کے بعد ایک دفعہ ضلع گوجرانوالہ میں جبکہ میں اپنے سسرال موضع پیرکوٹ میں تھا میری بیوی کے بھائی میاں عبداللہ خانصاحب کو ایک طاعون والے گائوں میں سے گذرنے سے طاعون ہو گئی۔ جب غیر احمدی لوگوں کو معلوم ہوا تو کہنے لگے مرزائی تو کہا کرتے ہیں کہ طاعون کا عذاب مرزا صاحب کی مخالفت کی وجہ سے پیدا ہوا ہے اب بتائیں کہ پہلے ان کے ہی گھر میں طاعون کیوں پھوٹ پڑی۔ میں نے جب ان کی ہنسی اور تمسخر کو دیکھا او رشماتت اعداء کا خیال کیا تو بہت دعا کی۔ چنانچہ رات میں نے خواب میں دیکھا کہ ہمارے مکان کے صحن میں طاعون کے جراثیم بھرے پڑے ہیں مگر ان کی شکل گجرات والے جراثیم سے مختلف ہے یعنی ان کا رنگ بھورا اور شکل دو نقطوں کی طرح ہے۔ اس وقت مجھے گجرات والے جراثیم کی بات یاد آ گئی کہ جو شخص استغفار کرے ہم اسے کچھ نہیں کہتے چنانچہ میں نے ان کے سامنے بھی استغفار پڑھنا شروع کر دیا۔ اس پر یہ جراثیم مجھے کہنے لگے کہ ہماری قسم بہت سخت ہے اس لیے ہم سے استغفار کرنے والے بھی نہیں بچ سکتے۔ تب میں نے حیران ہو کر دریافت کیا کہ پھر آپ سے بچنے کی کیا صورت ہے تو انہوں نے کہا ہمیں حکم ہے کہ جو شخص

لاحول ولا قوۃ اِلّا باللّٰہِ العلی العظیم

پڑھے اسے ہم کچھ نہ کہیں۔ اس خواب سے بیدار ہو کرصبح میں نے تمام رشتہ داروں اور دیگر احمدیوں کو یہ خواب سنایا اور لاحول پڑھنے کی تلقین کی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس دعا کی برکت سے میاں عبداللہ خاں صاحب کو بھی شفا دی۔ اور دوسرے احمدیوں کو بھی محفوظ رکھا مگر غیر احمدیوں میں کثیر التعداد لوگ اس عذاب کا شکار ہو گئے۔‘‘

(حیات قدسی صفحہ 98-99)

کتے کے حملہ سے بچاؤ

’’ایک مرتبہ مجھے خواب میں بتایا گیا کہ جس وقت کتا حملہ کرے تو اس وقت لاحول ولا قوّۃ الا بِاللّٰہ العلی العظیم کا پڑھنا نہایت سریع التاثیر ہے چنانچہ میں نے اس کا کئی مرتبہ تجربہ کیا ہے اور فائدہ اٹھایا ہے۔‘‘

(حیات قدسی صفحہ 99)

سر درد کا علاج

’’ایک مرتبہ مجھے خواب میں بتایا گیا کہ جس شخص کے سر میں درد ہو اس کے لیے یوں عمل کیا جائے کہ اس کی پیشانی پر ’’لا‘‘ کا حرف لکھتے جائیں اور درود شریف پڑھتے جائیں تو انشاء اللہ درد دور ہو جائے گا۔ چنانچہ جب میں نے اس خواب کا ذکر ایک مرتبہ موضع پٹی مغلاں میں کیا تو وہاں کے ایک احمدی دوست مرزا افضل بیگ صاحب نے اس کا بارہا تجربہ کیا اور لوگوں کو فائدہ پہنچایا ہے۔ الحمد لِلّٰہ علیٰ ذالک‘‘

(حیات قدسی 99)

قرض اور مالی مشکلات سے نجات

’’ایک دفعہ خاکسار اور مولوی عبداللہ صاحب سنوری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو قادیان دارالامان میں اکٹھا رہنے کا موقع ملا۔ ایک دن دوران گفتگو میں نے عرض کیا کہ آپ سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا کوئی خاص واقعہ بتائیں۔ حضرت مولوی صاحبؓ نے حضرت اقدس کی خاص برکات کا ایک واقعہ سنایا۔ آپ نے بیان کیا کہ میں ایک عرصہ تک مالی مشکلات میں مبتلا رہا اور کئی ہزار روپے کا مقروض ہو گیا۔ میں نے مالی مشکلات سے گھبرا کر بے چینی کی حالت میں حضرت اقدس علیہ السلام کے حضور نہایت عاجزی سے اپنی مالی مشکلات کے ازالہ کے لیے درخواست دعا کی۔ اس پر حضوراقدس نے فرمایا میاں عبداللہ! ہم بھی انشاء اللہ آپ کے لیے دعا کریں گے لیکن آپ اس طرح کریں کہ فرضوں کی نماز کے بعد گیارہ دفعہ

لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ العَلِی الْعَظِیْم

کا وظیفہ جاری رکھیں۔ چنانچہ حضور اقدس کے ارشاد کے مطابق میں نے کچھ عرصہ اس وظیفہ کو جاری رکھا اور خود حضور نے بھی دعا فرمائی۔ خدا کے فضل سے تھوڑے ہی عرصہ میں میرا سب قرض اتر گیا۔ اس کے بعد جب کبھی بھی مجھے مالی پریشانی ہوتی ہے تو میں یہی وظیفہ کرتا ہوں۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ میرے لیے کشائش کے سامان پیدا فرما دیتا ہے۔ یہ وظیفہ میں نے بارہا پڑھا ہے اور اس سے بہت فائدہ اٹھایا ہے۔

حضرت مولوی صاحبؓ کی یہ بات سن کر میں نے عرض کیا کہ سیدنا حضرت اقدس علیہ السلام تو اب وصال فرما چکے ہیں اگر حضور اس دنیا میں ہوتے تو آپ کی طرح ہم بھی حضور سے اس وظیفہ کی اجازت لے کر اس سے فائدہ اٹھاتے۔ کیا اب یہ ممکن ہے کہ ہم بھی اس وظیفہ سے کسی صورت میں آپ سے اجازت حاصل کر کے فائدہ اٹھا سکیں۔ اس پر حضرت مولوی صاحبؓ نے تبسم فرماتے ہوئے فرمایا کہ میں نے اب تک اور کسی شخص کو تو اس کی اجازت نہیں دی تھی۔ لیکن آپ کی خواہش پر آپ کو اس کی اجازت دیتا ہوں۔ چنانچہ آپ نے اس بابرکت وظیفہ کی مجھے اجازت فرمائی۔ خاکسار بھی اب اپنی زندگی کے آخری ایام میں ہے۔ لہذا میں ہر اس احمدی کو جو میری اس تحریر سے آگاہ ہو سکے اور اس وظیفہ سے فائدہ اٹھانا چاہے اپنی طرف سے اس وظیفہ کی اجازت دیتا ہوں۔‘‘

(حیات قدسی صفحہ 222)

حرفِ آخر

یہ بات ذہن نشین رکھنی ضروری ہے کہ ہر دعا اپنے وقت پر پوری ہوتی ہے۔ اور ذکر الٰہی ایسی ڈھال ہے جو ہمیں ہر طرح کی برائیوں سے پناہ میں رکھتی ہے۔ ہمیں دعا، استغفار، تعوذ، لاحول بکثرت کرتے رہنا چاہیے۔ اللہ کرے کہ ہم ان اہم دعاؤں میں مخفی سرّ اور فضائل سے حصہ پانے والے ہوں۔

حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ فرماتے ہیں کہ

’’اس قسم کی باتیں بطور منتر جنتر کے نہیں ہوتیں کہ کوئی شخص خواہ کچھ کرتا رہے وہ محض اس وظیفہ کے ذریعہ سے قرض سے نجات حاصل کر سکتا ہے۔ بلکہ خدا کے پیدا کردہ اسباب کی رعایت نہایت ضروری ہے۔ اور ان معاملات میں اس قسم کی دعاؤ ں کا صرف یہ مطلب ہو سکتا ہے کہ اگر دوسرے حالات موافق ہوں تو ایسی دعا خدا کے رحم کو اپنی طرف کھینچنے کا موجب ہوتی ہے۔ نیز اس دعا کے الفاظ بھی ایسے ہیں کہ وہ اس قسم کے معاملات میں خدا کے رحم کو ابھارنے والے ہیں۔ واللّٰہ اعلم۔‘‘

(سیرت المہدی روایت نمبر449)

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

تبصرے 10

    1. بخدمت مکرم ایڈیتر صاحب الفضل۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
      مکرم ذی شان محمودصاحب مربی سلسلہ ربوہ کا مضمنو’’لَاحَوْل… ۔ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ‘‘ بہت عمدہ ہے۔ حالات کی مساسبت سے بہت سبق آموز ہے۔ شیطان سے بچاؤ،عائلی و معاشرتی پریشانیوں کا حل، طاعون کا علاج،سر درد کا علاج،قرض اور مالی مشکلات سے نجات جیسے واقعات بیان کرنے سے یہ مضمون بہت دلچسپ ہوگیاہے۔حضرت مسیح موعودعلیہ السلام، حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ہدایات اوربزرگان دین کے واقعات وغیرہ شامل کرنےسے یہ مضمون ایمان افروز بھی ہوگیاہے۔اللہ تعالیٰ مضمون نگار کو اور ادارہ افضل کو اجر عظیم عطافرمائے۔

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close