صحت

COVID-19 – ایک عالمی وبا – تعارف، علامات اور احتیاطی تدابیر

(ڈاکٹر رملہ شاہ۔ لندن)

کورونا وائرس (Corona Virus) سے پیدا ہونے والا انفیکشن یا COVID-19 ایک نئی بیماری ہے جو آپ کے پھیپھڑوں (Lungs) پر اثر کرتی ہے۔ یہ بیماری ایک وائرس کی وجہ سے ہوتی ہے جسے کورونا وائرس Corona Virus کہتے ہیں۔

COVID-19کورونا وائرس کی بیماری کیسے شروع ہوئی؟

کورونا وائرس دراصل جانوروں اور پرندوں میں بیماری پیدا کرنے والا وائرس ہے۔یہ بیماری انسانوں میں چین کے شہر Wuhan میں دسمبر 2019ء میں شروع ہوئی اور اب دنیا کے بہت سے ممالک اس کی لپیٹ میں ہیں۔ Wuhanمیں اس بیماری کے شکار مریض نمونیا (Pneumonia) اور پھیپھڑوں کی تکالیف کا شکار ہوئے۔ یہ کہا جارہا ہے کہ اس بیماری کے زیادہ تر مریضوں کا تعلق ایک ایسی مارکیٹ سے تھا جو Wuhan میں مختلف جانوروں کے گوشت کی فروخت کرتی ہے۔ کچھ ہی عرصہ میں یہ بیماری چائنا کے مختلف شہروں میں پھیلنا شروع ہوگئی۔ اب تک چائنا میں 81,000سے زائد لوگ اس بیماری کا شکار ہو چکے ہیں اور تین ہزار سے زائد اموات چائنا میں ہوچکی ہیں۔ اٹلی میں 69,000 سے زائد لوگ اس بیماری کا شکار ہو چکے ہیں اور 7,000 سے زائد اموات وہاں ہوچکی ہیں۔ جس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اٹلی میں عمررسیدہ افراد کی تعداد زیادہ ہے جن کے لیے عمر اور مختلف طبی مسائل کی وجہ سے بیماری سے پیچیدگیاں پیدا ہوگئیں۔

COVID-19 ایک عالمی بیماری ہے (Pandemic)

اس وقت دنیا کے بیشتر ممالک COVID-19کی بیماری کی لپیٹ میں آچکے ہیں۔WHO (World Health Organisation) نے 11؍مارچ2020ء کو اس بیماری کو Pandemic قرار دے دیا ہے یعنی ایسی بیماری جو پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔ اس وقت 425,000 سے زیادہ لوگ دنیا میں اس بیماری کا شکار ہوچکے ہیں۔ دنیا کے 170؍ممالک میں یہ بیماری پھیل چکی ہے اور اب تک 19 ہزارسے زائد افراد اس مہلک بیماری سے اپنی جان گنوا چکے ہیں۔ برطانیہ میں ساڑھے نو ہزار افراد میں اس کی تشخیص ہو چکی ہے یعنی ان میں اس بیماری کا ٹیسٹ positive آیا ہے۔ لیکن یہ خیال کیا جارہا ہے کہ اصل میں یہ تعداد کم ازکم 50,000 سے زائد ہوسکتی ہے۔ پاکستان میں بھی یہ بیماری تیزی سے پھیل رہی ہے۔ یہ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ اگر اس بیماری کو پھیلنے سے بچانے کے لیے سخت اقدامات نہ کیے گئے تو بے شمار انسان جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ UK میں اندازاً 80 فیصد لوگوں کو اس بیماری کے ہونے کا خدشہ ہے۔

COVID-19کی بیماری کی علامات

COVID-19کی علامات مختلف لوگوں میں مختلف طرح سے ظاہرہوسکتی ہیں۔ عام علامات میں بخار، کھانسی اور سانس پھولنے (breathlessness)کی علامات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ چھاتی میں درد (chest pain) تھکاوٹ، جسم میں درد، گلے میں درد(خراش)، سردرد، متلی یا قے (vomiting) وغیرہ شامل ہیں۔ کچھ لوگوں میں سونگھنے کی حِس (sense of smell) کم ہوجاتی ہے، یا کھانسی کے ساتھ بلغم بھی آتی ہے۔ کچھ لوگوں کو دست (diarrhoea)، آنکھوں میں سوزش (conjunctivitis)، بلغم میں خون وغیرہ کی علامات بھی دیکھی گئی ہیں۔

یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ چند لوگوں میں یہ وائرس کوئی بھی علامات پیدا نہیں کرتا یا بہت کم علامات دیکھنے میں آئیں۔ اس میں عام طور پر نوجوان لوگ (جن کی قوت مدافعت اچھی ہے) شامل ہیں۔ لیکن یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ کچھ نوجوان مریض اس وائرس کی وجہ سے کافی زیادہ بیمار ہوئے۔

Incubation Periodکیا ہے؟

انفیکشن (infection) کے جسم میں داخل ہونے سے لے کر علامات ظاہر ہونے تک کے وقت کو incubation period کہا جاتاہے۔

COVID-19 کے لیے یہ وقت عام طور 5 دن ہے۔لیکن یہ ایک سے 14 دن بھی ہوسکتاہے۔ اس وجہ سے حکومت نے یہ ہدایت دی ہے کہ اگر آپ کو بخار، کھانسی وغیرہ کی علامات ظاہر ہوں تو آپ کو 7 دن اور آپ کے ساتھ رہنے والے لوگوں کو 14 دن isolation میں رہنا ہوگا (تاکہ علامات ظاہر ہونے تک بیماری دوسرے لوگوں میں پھیلانے کا باعث نہ بنیں)۔

COVID-19 کیوں اتنی خطرناک بیماری ہے؟

اس کی کئی وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ تو یہ ہے کہ یہ بیماری بے حد تیزی سے پھیلتی ہے اور عام فلو کے مقابلہ میں بہت زیادہ تیزی سے دوسرے لوگوں کو بیمار کرسکتی ہے۔ دوسری وجہ ہے کہ یہ مریض کے پھیپھڑوں (lungs) پر اثر کرتی ہے جو کہ جان لیوا ثابت ہوسکتاہے۔ ایسے مریض جنہیں مختلف عوارض ہوں مثلاً دل کی بیماری، شوگر (زیابیطس)یا دمہ (asthma) یا پھیپھڑوں کی دوسری بیماریاں یا ایسی بیماریاں جن سے قوت مدافعت پہ اثر ہو، ان میں یہ بیماری مختلف پیچیدگیاں پیدا کرسکتی ہے جوکہ جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے۔

عمررسیدہ لوگوں کے لیے یہ بیماری بے حد خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔ اس لیےبرطانیہ کی حکومت نے تمام عمررسیدہ افراد کو 12 ہفتے کے لیے گھر میں isolation میں رہنے کی ہدایت کی ہے۔

اس بیماری کی پیچیدگیوں میں پھیپھڑوں (lungs) کافیل ہونا، Sepsis یعنی خون میں شدید انفیکشن اور organ failure (یعنی انسانی اعضاء کا فیل ہونا) شامل ہے جو کہ موت کا باعث بن سکتے ہیں۔

COVID-19 کی تشخیص

COVID-9 کی تشخیص ڈاکٹرز زیادہ ترعلامات کی بنیاد پر کررہے ہیں کیونکہ برطانیہ سمیت بعض ممالک میں اس کا ٹیسٹ اس وقت صرف ان لوگوں کے لیے کیا جارہا ہے جوکہ زیادہ بیمار ہیں اور ہاسپیٹل میں داخل ہیں۔ اس وقت برطانیہ میں آپ کے معالج (GP) یہ ٹیسٹ نہیں کرسکتے۔ اُمید ہے کہ کچھ عرصہ میں اس ٹیسٹ کی سہولت عام میسر ہوجائے گی۔

COVID-19کی علامات ظاہر ہونے پر کیا کرنا چاہیے؟

اگر آپ کو بخار، کھانسی یا COVID-19 کی علامات ظاہر ہوں تو panic میں مبتلا نہ ہوں۔ زیادہ ترمریض اس بیماری سے شفایاب ہوجاتے ہیں۔ سب سے پہلے آپ خود کو سب سے مکمل طور پر الگ تھلک (self islolate) کر لیں، یعنی گھر سے باہر نہ جائیں۔اگر آپ کے گھر میں اور لوگ ہیں تو ان سے زیادہ سے زیادہ دور رہیں۔ مثلاً ایک ہی کمرے میں گھر والوں کے ساتھ نہ بیٹھیں۔ اگر کچن میں جانا ہو تو تب جائیں جب باقی گھر والے نہ ہوں۔ کسی بھی شخص سے کم ازکم دو میٹر کا فاصلہ رکھیں۔ ایک ہی کمرے میں تقریباً 15 منٹ تک اگر آپ کسی شخص کے ساتھ رہیں تو اسے انفیکشن دے سکتے ہیں۔ کھانستے یا چھینکتے ہوئے tissueاستعمال کریں اور فوراً ردّی کی ٹوکری میں پھینک دیں۔ tissue نہ ہونے کی صورت میں بازو سے چھینک /کھانسے ہوئے منہ کو ڈھک لیں۔

اگر آپ کے گھر میں کوئی بزرگ ہیں (60سال سے زیادہ عمر) تو ان کو اس بیماری سے محفوظ رکھنے کی خاطر ان سے خاص طور پر فاصلہ رکھیں۔ اگر آپ کے چھوٹے بچے ہیں توبھی کوشش کریں کہ اگر ان کے پاس جانا مجبوری ہے تو منہ/ناک کو coverکریں اور کم سے کم وقت ان کے قریب رہیں۔ ان کے ہاتھ باربار صابن سے دھوئیں اور گھر کی صفائی کا خاص خیال رکھیں۔

جیسا کہ میں نے ذکر کیا ہے کہ زیادہ تر لوگوں میں یہ بیماری mild ہوتی ہے اور فلو کی طرح ظاہر ہوتی ہے (یعنی مریض بہت زیادہ بیمار نہیں ہوتا) ۔ زیادہ تر لوگ اس سے شفایاب ہو جاتے ہیں لیکن اگر آپ ایک ہفتہ تک ٹھیک نہ ہوں تو اپنے معالج (GP) سے رجوع کریں۔ اسی طرح اگر آپ کو سانس لینے میں کافی دشواری ہو، چھاتی میں کافی درد ہو، ایسےمحسوس ہو کہ آپ بہت زیادہ تکلیف میں ہیں تو اپنے معالج سے رجوع کریں۔ یوکے میں اس بیماری کے لیے NHS 111کو فون کیا جا سکتا ہے یا ان سے online بھی رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

اگر آپ high riskگروپ میں آتے ہیں(جس کی آگے جا کر وضاحت کی جائے گی) تو آپ فوراً 111یا GP سے رابطہ کریں۔ اگر آپ یوکے سے باہر رہتے ہیں تو اپنی حکومت/معالج کی دی ہوئی ہدایات کے مطابق GPیا ہسپتال سے رابطہ کریں۔

اس وقت اس بیماری سے موت کا 4.4 فیصد امکان ہے یعنی ہر 100 میں سے 4 سے زائد افراد ہلاک ہورہے ہیں اور تقریباً 95 سے 96 فیصد لوگ صحت یاب ہوجاتے ہیں۔

سب سے الگ تھلک ہونے یا Self-isolation کاکیا مطلب ہے؟

اگر آپ کاکسی ایسے شخص سے contact ہوا ہے جسے COVID-19 کی علامات ہیں (مثلاً ایک گھر میں رہنا) تو آپ کو 14 دن تک گھر میں isolate ہوکررہنا چاہیے۔ یہ اس لیے ہے تاکہ اگر آپ کو یہ بیماری ظاہر ہونی ہے تو یہ 14 دن میں ظاہر ہوجائے گا اور isolate ہونے کی وجہ سے آپ دوسرے لوگوں کوبیماری نہیں پھیلائیں گے۔

اگر خدانخواستہ کسی کو COVID-19 کی علامت ظاہرہوں تو اس صورت میں اسے 7دن تک سب سے الگ تھلک ہوکر رہنا چاہیے۔

Isolation کا مطلب یہ ہے کہ آپ گھر میں رہیں، کام پر نہ جائیں (اگر ممکن ہوتو گھر سے کام کریں) شاپنگ وغیرہ کے لیے بھی نہ جائیں۔ اگر آپ کو گھر میں کسی چیز کی ضرورت ہوتو onlineآرڈر کریں، یا کسی دوست یا رشتہ دار کی مدد لیں جو سامان آپ کے گھر کے دروازے کے باہرچھوڑ جائے۔ isolation کے سلسلہ میں آپ کا GP آپ کو مزید معلومات فراہم کرسکتے ہیں۔

COVID-19کی بیماری کا علاج

فی الحال COVID-19کی بیماری کا کوئی علاج نہیں اور اس سلسلہ میں researchجاری ہے۔ امریکہ اور چند ممالک میں کچھ ادویات تجرباتی طور پر استعمال کی جارہی ہیں۔ یہ بھی اُمید کی جارہی ہے کہ اس بیماری سے بچاؤ کے لیےvaccine تیارہوجائے گی۔ لیکن فی الحال صرف supportive treatment یعنی ایسا علاج کیا جارہا ہے جو ڈاکٹر مریض کی علامات کے مطابق مناسب سمجھیں۔

برطانیہ میں اس وقت GP اس بیماری کے لیے مریضوں کو بذریعہ فون مشورہ دے رہے ہیں تاکہ بیماری پھیلنے کا خدشہ نہ ہو۔ زیادہ بیمار مریضوں کو ہسپتال میں ایک خاص جگہ پر علاج فراہم کیا جاتا ہے تاکہ بیماری دوسرے مریضوں تک نہ پھیلے۔

Corona Virus )COVID-19) سے بچاؤ کے لیے مریضوں کے لیے UK حکومت کی ہدایات

حکومت برطانیہ نے حال ہی میں کوروناوائرس کے متعلق کچھ ہدایات دی ہیں۔ یہ ان لوگوں کے لیے ہیں جنہیں مختلف امراض کی وجہ سے اس virus سے بچنے کی خاص ضرورت ہے کیونکہ اگر وہ اس بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں تو مختلف پیچیدگیوں کا شکار ہوسکتے ہیں جوکہ جان لیوا بھی ثابت ہوسکتی ہیں۔ ایسے مریضوں کو یہ ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اگلے 12 ہفتے (تین ماہ) تک خاص احتیاط کریں تاکہ وہ Corona Virusکی بیماری میں مبتلا نہ ہوں۔ چونکہ دنیا کے مختلف حصوں میں رہنے والے لوگ بھی ان ہدایات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اس لیے انہیں ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔

وہ مریض جنہیں Corona Virus کی وجہ سے طبی پیچیدگیاں ہوسکتی ہیں (high risk group) ان میں درج ذیل لوگ شامل ہیں۔

1۔ ایسے مریض جن کا organ transplant ہوا ہے۔ (حال ہی میں یا کافی عرصہ پہلے)

2۔ ایسے مریض جنہیں کینسر (cancer) کاعارضہ ہے۔

٭…خون یا bone marrow کا کینسر (Leukemia, Lymphoma, Myeloma)

٭…کینسر کے مریض جن کا حال میں علاج ہوا ہے یا ہورہا ہےیا انہیں immunotherapy دی جارہی ہے۔

٭…ایسے مریض جن کا bone marrow یا stem cell transplant پچھلے 6 ماہ میں ہوا ہے یا وہ ایسی ادویات لے رہے ہیں جو قوت مدافعت کو کم کرتی ہیں۔ (immunotherapy)

3۔ ایسے مریض جنہیں پھیپھڑوں کی تکالیف ہیں (respiratory conditions)، ان میں سخت دمہ (severe asthma)، سگریٹ نوشی کی وجہ سے پھیپھڑوں کی بیماری Severe COPD اور Cystic Fibrosis شامل ہیں۔

4۔ ایسی پیدائشی (genetic)بیماریاں جو آپ کو infection ہونے کا خطرہ پیدا کرسکتی ہیں جیسے کہ sickle cell disease(خون کی بیماری)۔

5۔ مریض جو ایسی ادویات لیتے ہیں جو ان کی قوت مدافعت کو کمزور کرسکتی ہیں (لہٰذا infection ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔)

6۔ حاملہ خواتین جنہیں دل کا عارضہ ہے۔

NHS England ایسے تمام مریضوں سے رابطہ کرکے انہیں ہدایات دیں گے۔ اگرآپ اوپر دی ہوئی category میں شامل ہیں اور ایک ہفتہ تک آپ کو NHS England کی طرف سے خط موصول نہیں ہوتا تو اپنے GP یا ہاسپیٹل کے specialistسے رجوع کریں۔

ان کے علاوہ ایسے لوگ جن کی ذیابیطس کا کنٹرول اچھا نہیں ہے، جنہیں دمہ (Asthama) یا COPD (پھیپھڑوں کی بیماری) ہے، دل کا عارضہ ہے وہ بھی high risk پر ہیں اور انہیں بھی بارہ ہفتے تک الگ تھلک (Isolation) میں رہنا چاہیے۔ (مزید معلومات کے لیے اپنے معالج (GP) سے رجوع کریں۔)

حکومت کی ہدایت کے مطابق ان مریضوں کو 12 ہفتے تک گھر میں رہنا چاہیے اور باہر shopping یا فیملی اور دوستوں وغیرہ سے ملنے سے گریز کرناچاہیے۔ اسی طرح تقریبات یا مذہبی مجالس میں جانے سے گریز کرنا چاہیے۔ یہ سب کرنے سے آپ کو Corona Virus کی infection ہونے کا خطرہ کم سے کم ہوگا۔

اگر آپ کے ساتھ گھر میں اور فیملی کے لوگ رہتے ہیں تو ان کے ساتھ بھی بیٹھنے سے گریز کریں اور زیادہ وقت اپنے کمرے میں گزاریں۔ یہ احتیاط کریں کہ اگر آپ ایک کمرے میں ان کے ساتھ ہوں تو کم از کم 2 میٹر کا فاصلہ ہو۔ اگر ممکن ہوتو الگ غسل خانہ استعمال کریں، الگ تولیہ استعمال کریں۔ اگر آپ ایک ہی غسل خانہ اور کچن استعمال کریں تو صفائی کا خاص خیال رکھیں اور کوشش کریں کہ کچن میں اس وقت جائیں جب دوسرے لوگ وہاں موجود نہ ہوں۔

ان ہدایات پر عمل کرنا مشکل ہوسکتا ہے لیکن یہ آپ کی صحت کی حفاظت کے لیے اور بیماری سے بچاؤ کے لیے دی گئی ہیں۔ اس سلسلے میں آپ مزید معلومات GOV.UK ویب سائیٹ یا اپنے معالج سے حاصل کر سکتے ہیں۔

.www.gov.uk/government/publications/guidance-on-shielding-and-protecting-extremely-vulnerable-persons-from-covid-19/guidance-on-shielding-and-protecting-extremely-vulnerable-persons-from-covid-19

COVID-19 کی بیماری سے بچنے کے لیے کیا کرنا چاہئے؟

1۔ صابن سے ہاتھ باربار دھونا اس بیماری سے بچاؤ کے لیے سب سے ضروری اور اہم طریقہ ہے۔ hand sanitizer ضروری نہیں ہے۔ البتہ اگر صابن اورپانی میسر نہ ہو(مثلاً آپ گھر سے باہر ہیں) تو استعمال کریں۔ ہاتھ 20 سیکنڈ تک دھوئیں۔ صاف تولیہ استعمال کریں۔

2۔ اپنے ہاتھوں سے منہ، آنکھ اور ناک کو نہ چھوئیں۔ اگر virus آپ کے ہاتھوں سے جسم کے ان حصوں میں داخل ہوتو infection کرسکتا ہے۔

3۔ اگر کھانسی یا چھینک آئے تو tissue رکھیں اور bin میں پھینکیں۔ اگر ٹشو نہ ہو تو بازو سے منہ/ناک کو cover کریں۔

4۔لوگوں سے ہاتھ نہ ملائیں کیونکہ یہ virus ہاتھ ملانے سے پھیلتا ہے۔ ہر شخص سے (اگر وہ بیمار نہ ہو تو تب بھی)کم ازکم 2 میٹرکافاصلہ رکھیں۔ یاد رکھیں کہ incubation period میں علامات ظاہر نہ ہونے کی وجہ سے بیمار شخص اس virus کو پھیلانے کا باعث بن سکتا ہے۔

5۔گھر سے کم سے کم باہر نکلیں یہ بھی اس صورت میں جبکہ بے حدضروری ہو۔ گھر آکر ہاتھ صابن سے دھوئیں اور (وضو کی طرح) ناک کی صفائی کریں اور کلی کریں۔

6۔ public place پر نہ جائیں۔ باہر اگر جانا ضروری ہو تو باربار ہاتھ صابن سے دھوئیں۔

7۔اگر آپ کی فیملی میں کوئی بزرگ ہوں تو ان کو isolateکریں اور دی گئی ہدایات کے مطابق عمل کریں۔

8۔گھر میں عام استعمال کا ضروری سامان رکھیں تاکہ اگر حکومت کرفیو یا lock down کا فیصلہ کرے تو آپ کے پاس ضرورت کا سامان/ادویات ہوں۔

9۔ COVID-19انفیکشن کی صورت میں ibuprofen استعمال نہ کریں۔ کچھ حوالوں سے پتہ چلا ہے کہ اس بیماری میں اس کے مضر اثرات ہو سکتے ہیں۔ Paracetamol استعمال کی جاسکتی ہے۔ اگرآپ کسی بیماری کے لیے ibuprofen اپنے GP کی ہدایت پر لیتے ہیں تو جاری رکھیں۔

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی احباب جماعت کو ہدایات

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے حال کے چند خطبات میں احباب جماعت کو COVID-19 کے سلسلہ میں ہدایات سے نوازا ہے۔

اسی طرح حضورِانور نے احمدیوں کو اس بیماری سے بچنے کے لیے دعا کے ساتھ ساتھ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا بھی ارشاد فرمایا۔ حضورِ انور نے فرمایا:

’’میں نے تو پہلے بھی کہا ہے اور اب بھی یہی کہہ رہا ہوں کہ جو ماہرین کی طرف سے حکومتی سطح پر احتیاطی تدابیر بتائی جارہی ہیں، لوگ ان پر عمل کریں۔‘‘

فرمایا:

’’احمدیوں کو چاہیے کہ اس وقت بجائے نشان تلاش کرنے کے اپنے لیے اور گھروالوں کے لیے اور مسجدوں میں جو احتیاطی تدابیر بتائی گئی ہیں، ان پر عمل کریں اور اپنے اِردگرد ان احتیاطوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے جس کسی کی مدد کرسکتے ہیں، کریں۔ اللہ تعالیٰ کو خوش کرنے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ اس کی مخلوق کا خیال رکھا جائے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اپنے لیے اور انسانیت کے لیے اللہ کے حضور جھکیں اور اس کارحم مانگیں۔‘‘

اللہ تعالیٰ تمام دنیا کو اس بیماری کے مضراثرات سے محفوظ رکھے۔ بحیثیت احمدی مسلمان ہم نے دعائیں بھی کرنی ہیں اور تدبیر بھی بہت ضروری ہے۔ اس وقت دنیا ایک ایسی بیماری کی لپیٹ میں ہے جس میں ہر انسان نے یہ ذمہ داری لینی ہے کہ وہ اس بیماری کے پھیلنے سے بچانے کے لیے اپناکردار ادا کرے ۔اپنی جماعت میں یا اپنے اردگرد کوئی بزرگ یا اکیلے رہنے والے لوگ اگر اس بیماری کا شکار ہوں تو ان کی مدد کریں۔ ان سے براہ راست رابطہ کیے بغیر بھی آپ ان کی مدد کرسکتے ہیں۔ اپنے بچوں کے سکول بند ہونے کی وجہ سے اس وقت کو ان کی بہترتربیت اور ان کا دینی علم بڑھانے کے لیے استعمال کریں۔ دعاؤں میں وقت گزاریں اور اپنی اور اپنے پیاروں کی صحت کا خاص خیال رکھیں۔اللہ تعالیٰ انسانیت کواس بیماری سے جلد چھٹکارا عطا فرمائے۔ آمین۔

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

تبصرے 2

  1. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۔ ماشا اللہ بہت مفصل اور معلوماتی مضمون ہے، سادہ اور عام فہم الفاظ میں اس مہلک وبائی مرض کے بارے میں آگاہی ملی۔ جزاکم اللہ تعالیٰ احسن الجزا۔

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Check Also
Close
Back to top button
Close