سیرت خلفائے کرام

یوم مصلح موعودؓ منانے کے اغراض و مقاصد

(انیس احمد خلیل۔ ربوہ)

ازافاضات حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

20؍فروری کا دن جماعت احمدیہ میں بہت ہی اہمیت کا حامل ہے۔یہ دن پیشگوئی مصلح موعودؓ کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ایک عظیم بیٹے کی پیدائش کی خبر دی گئی تھی جو دین کا خادم ہو گا۔لمبی عمر پائے گا اور بےشمار دوسری خصوصیات کا حامل ہو گا۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی قائم کردہ جماعت کی ‘‘مصلح موعود’’کے دور میں غیر معمولی ترقیات کی پیشگوئی بھی تھی۔ یہ پیشگوئی بعینہ اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ پوری ہوئی اورحضرت مسیح موعودؑ کی صداقت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ جماعت احمدیہ کی تاریخ گواہ ہے کہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد المصلح الموعود کے 52 سالہ دَورِ خلافت میں اس پیشگوئی کی تمام جزئیات لفظاً لفظاً پوری ہوئیں۔ لہذا 20؍فروری کا دن جماعت احمدیہ اس عظیم الشان پیشگوئی کی یاد میں مناتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے حضور سجداتِ شکر بجا لاتی ہے تاہمیشہ اس کے فضلوں کی وارث بنتی چلی جائے ۔

بعض کم علم لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ ہم یوم مصلح موعود کیوں مناتے ہیں ؟یا باقی خلفاء کے دن کیوں نہیں مناتے؟

اس مضمون میں ایسےلوگوں کی تسلی و تشفی کےلیےان کےسوالات کے جوابات حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ارشادات کی روشنی میں پیش خدمت ہیں۔

ہم یوم مصلح موعود کیوں مناتے ہیں؟

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز خطبہ جمعہ بیان فرمودہ20؍ فروری 2009ءمیں فرماتے ہیں:

‘‘…مجھے امید ہے کہ اب بعض لاعلم احمدی جو مختلف جگہوں سے خطوں میں لکھ دیتے ہیں، یہاں بھی سوال کر دیتے ہیں کہ ہم یوم مصلح موعود کیوں مناتے ہیں، باقی خلفاء کے دن کیوں نہیں مناتے ان پر واضح ہو گیا ہو گا کہ مصلح موعود کی پیشگوئی کا دن ہم ایمانوں کو تازہ کرنے اور اس عہد کو یاد کرنے کے لیے مناتے ہیں کہ ہمارا اصل مقصد اسلام کی سچائی اور آنحضرتﷺ کی صداقت کو دنیا پر قائم کرنا ہے۔ یہ کوئی آپ کی پیدائش یا وفات کا دن نہیں ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی دعاؤں کو قبول کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے آپ کی ذریت میں سے ایک شخص کو پیدا کرنے کا نشان دکھلایاتھاجو خاص خصوصیات کا حامل تھا اور جس نے اسلام کی حقانیت دنیا پر ثابت کرنی تھی۔ اور اس کے ذریعہ نظام جماعت کے لیے کئی اور ایسے راستے متعین کر دیے گئے کہ جن پہ چلتے ہوئے بعد میں آنے والے بھی ترقی کی منازل طے کرتے چلے جائیں گے۔

پس یہ دن ہمیں ہمیشہ اپنی ذمہ داری کا احساس کرواتے ہوئے اسلام کی ترقی کے لیے اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرنے کی طرف توجہ دلاتا ہے اور دلانے والا ہونا چاہیے نہ کہ صرف ایک نشان کے پورا ہونے پر علمی اور ذوقی مزہ لے لیا۔ اللہ تعالیٰ اس کی توفیق عطا فرمائے۔’’

(خطبہ جمعہ فرمودہ 20؍ فروری 2009ء مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل13؍مارچ2009ء)

اپنے اپنے دائرے میں مصلح بننے کی کوشش کریں

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز خطبہ جمعہ بیان فرمودہ18؍فروری 2011ءمیں فرماتے ہیں:

‘‘پس آپ کے کام کو دیکھ کرحضرت مصلح موعودؓ کی پیشگوئی کی شوکت اور روشن تر ہو کر ہمارے سامنے آتی ہے اور جیسا کہ مَیں نے کہااصل میں تو یہ آنحضرت ﷺ کی پیشگوئی ہے جس سے ہمارے آقا و مطاع حضرت محمد مصطفی ﷺ کے اعلیٰ اور دائمی مرتبے کی شان ظاہر ہوتی ہے۔ لیکن ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اس پیشگوئی کے پورا ہونے کا تعلق صرف ایک شخص کے پیدا ہونے اور کام کر جانے کے ساتھ نہیں ہے۔ اس پیشگوئی کی حقیقت تو تب روشن تر ہو گی جب ہم میں بھی اُس کام کو آگے بڑھانے والے پیدا ہوں گے جس کام کو لے کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام آئے تھے اور جس کی تائید اور نصرت کے لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو مصلح موعود عطا فرمایا تھا جس نے دنیا میں تبلیغِ اسلام اور اصلاح کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں لگا دیں۔

پس آج ہمارا بھی کام ہے کہ اپنے اپنے دائرے میں مصلح بننے کی کوشش کریں۔ اپنے علم سے، اپنے قول سے، اپنے عمل سے اسلام کے خوبصورت پیغام کو ہر طرف پھیلا دیں۔ اصلاحِ نفس کی طرف بھی توجہ دیں۔ اصلاحِ اولاد کی طرف بھی توجہ دیں اور اصلاحِ معاشرہ کی طر ف بھی توجہ دیں۔ اور اس اصلاح اور پیغام کو دنیا میں قائم کرنے کے لیے بھرپور کوشش کریں جس کا منبع اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو بنایا تھا۔ پس اگر ہم اس سوچ کے ساتھ اپنی زندگیاں گزارنے والے ہوں گے تو یومِ مصلح موعود کا حق ادا کرنے والے ہوں گے، ورنہ تو ہماری صرف کھوکھلی تقریریں ہوں گی ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ 18؍ فروری 2011ء مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل 11؍مارچ2011ءصفحہ9)

مصلح موعود کا دن مناتے ہیں تو باقی خلفاء کے دن کیوں نہیں مناتے؟

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز خطبہ جمعہ بیان فرمودہ17؍ فروری 2012ءمیں فرماتے ہیں:

‘‘اس پیشگوئی کے مصداق تو جیسا کہ مَیں نے کہا یقیناً حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ تھے۔ اس کا آپ نے 1944ء میں خود بھی اعلان فرمایا جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو بتایا کہ آپ ہی مصلح موعود ہیں۔ اور اس پیشگوئی کے پورا ہونے کی خوشی میں یومِ مصلح موعود کے جلسے بھی منعقد کیے جاتے ہیں۔ جیسا کہ میں نے کہا، آئندہ چند دنوں میں یہ جلسے مختلف جماعتوں میں ہوں گے۔ اس لیے کہ جماعت کے ہر فرد کو پتہ چلے کہ یہ ایک عظیم پیشگوئی تھی جو بڑی شان سے پوری ہوئی۔

یہاں ضمناً میں اُن لوگوں کے لئے بھی جو دنیا کے ماحول کے زیرِ اثر، جن کا دینی علم بھی ناکافی ہے، کئی دفعہ میں بیان پہلے بھی کر چکا ہوں لیکن پھر بھی سوال کرتے رہتے ہیں۔ جو سالگرہ منانے کی خواہش رکھتے ہیں وہ سالگرہ پریہ سوال کرتے ہیں کہ ہماری بھی سالگرہ منائی جائے۔ اور جیسا کہ مَیں نے کہا دنیا کے زیرِ اثر بھی ہیں جویہ کہتے ہیں کہ اگر ہم مصلح موعود کا دن مناتے ہیں تو باقی خلفاء کے دن کیوں نہیں مناتے اور پھر سالگرہ کیوں نہیں مناتے؟ یعنی باقی خلفاء کی سالگرہ کی آڑ میں اپنی سالگرہ کی طرف جانا چاہتے ہیں۔ تو یہاں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد کا یومِ ولادت نہیں منایا جاتا۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی پیدائش تو 12؍جنوری 1889ء کی ہے۔ اور یہ پیشگوئی جو عظیم الشان پیشگوئی تھی آپ کی پیدائش سے تین سال پہلے کی ہے۔ اُس پیشگوئی کے پورا ہونے کا دن منایا جاتا ہے جو 20؍فروری 1886ء کو کی گئی تھی اور اسلام کی نشأۃ ثانیہ کے لیے یہ پیشگوئی تھی اور یہ پیشگوئی اس لحاظ سے ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے’’۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ17؍فروری2012ءمطبوعہ الفضل انٹرنیشنل9؍مارچ2012ءصفحہ6)

حقیقی یومِ مصلح موعودکب ہوگا

‘‘پس یہ وہ اولوالعزم موعود بیٹا تھا جس نے اپنے دل کی تڑپ کھول کر ہمارے سامنے رکھ دی۔ آج ہم جب یومِ مصلح موعود مناتے ہیں تو حقیقی یومِ مصلح موعود تب ہی ہو گا جب یہ تڑپ آج ہم میں سے اکثریت اپنے اندر پیدا کرے کہ ہمارے مقاصد بہت عالی ہیں، بہت اونچے ہیں، بہت بلند ہیں جس کے حصول کے لیے عالی ہمتی کا بھی مظاہرہ کرنا ہو گا۔ اور اپنے اندر اعلیٰ تبدیلیاں بھی پیدا کرنا ہوں گی، پاک تبدیلیاں بھی پیدا کرنی ہوں گی۔ خداتعالیٰ سے ایک تعلق بھی جوڑنا ہو گا۔ اسلام کا درد بھی اپنے اندر پیدا کرنا ہو گا۔ دل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق و محبت کا درد پیدا کرتے ہوئے اظہار بھی کرنا ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو جو بیشمار خوبیوں کے مالک بیٹے کی خوشخبری عطا فرمائی تھی تو وہ یہ گہرا مطلب بھی اپنے اندر رکھتی تھی۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو فرمایا تھا کہ تیرا سلسلہ صرف تیرے ہی تک محدودنہیں ہو گا۔ جس مشن کو تو لے کر اُٹھا ہے وہ تیری زندگی تک ہی محدودنہیں رہے گا بلکہ تیرا ایک بیٹا جو اولوالعزمی میں اپنی مثال آپ ہو گا، جو اسلام کو دنیا میں پھیلانے کی تڑپ میں تیرا ثانی ہو گا۔ جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا دنیا میں گاڑنے کے لیے بے چین دل رکھتا ہو گا، اور پھر اُس بیٹے تک ہی محدودنہیں بلکہ بعد میں بھی اس مشن کو دنیا کے کونے کونے تک لے جانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے قدرتِ ثانیہ کا تاقیامت تسلسل جاری رہنے کا بھی وعدہ فرمایا ہے جو اس کام کو آگے بڑھاتا چلا جائے گا اور قدرتِ ثانیہ کو ایسے سلطانِ نصیر بھی عطا ہوں گے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلامِ صادق کے مشن کو آگے بڑھانے کے لیے قدرتِ ثانیہ جو خلافت کی صورت میں جاری ہے اس کے مددگار بنیں گے۔

پس آج ہمیں پیشگوئی مصلح موعودجہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی صداقت کی دلیل کے طور پر دکھائی دیتی ہے وہاں اس بات کی طرف بھی توجہ دلاتی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو جس خوبیوں کے مالک بیٹے کی اللہ تعالیٰ نے اطلاع دی تھی اور جس تڑپ اور عزم کے ساتھ اُس بیٹے نے جماعت کو آگے بڑھنے کے راستے دکھائے، ایک خوبصورت نظام عطا فرمایا۔ جماعت کی تربیت کے نظام کے ساتھ دنیا کے کونے کونے میں اسلام کا خوبصورت پیغام پہنچانے کے لیے ایک ایسا نظام مستحکم کر دیا جس کے نتائج ہر روز نئی شان سے پورے ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ اس نظام کو مزید مستحکم کرنے کے لیے ہر احمدی اپنا کردار ادا کرنے والا بنے۔ آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے عرب ممالک میں بھی یہ نظام قائم ہے۔ ایشیا کے دوسرے ممالک میں بھی یہ نظام قائم ہے۔ افریقہ میں بھی یہ نظام قائم ہے۔ یورپ میں بھی یہ نظام قائم ہے۔ امریکہ میں بھی یہ نظام قائم ہے۔ آسٹریلیا میں بھی یہ نظام قائم ہے اور جزائر میں بھی یہ نظام قائم ہے۔

پس جہاں جہاں بھی احمدی ایک جماعت قائم کر کے اس نظام کا حصہ بنے ہیں وہاں وہ اس بات کی طرف بھی خاص توجہ دیں کہ صرف اپنی ذات کی اصلاح تک ہم نے محدودنہیں رہنا، اپنی اگلی نسلوں کو بھی سنبھالنا ہے، اُن کے دل میں بھی یہ چیز راسخ کرنی ہے کہ تم نے اس نظام کا حصہ بنتے ہوئے اپنے عظیم مقصدکوجو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا دنیا میں لہراتے ہوئے توحید کا قیام ہے، اُسے کبھی نہیں بھولنا اور اس کے لیے ہر قربانی کے لیے تیار رہنا ہے۔ اور اُس وقت تک چین سے نہیں بیٹھنا جب تک اس مقصد کو حاصل نہ کر لو۔ اپنی اگلی نسلوں میں یہ روح پھونکنی ہے کہ اس عظیم مقصد کو کبھی مرنے نہیں دینا۔ پس جیسا کہ میں نے کہا آج دنیا کے ہر کونے میں جماعت احمدیہ کا قیام ہے اور قادیان سے اُٹھنے والی آواز دنیا کے کونے کونے میں پھیل چکی ہے اور اس کو دنیا کے کونے کونے میں پھیلانے میں باوجودنامساعد حالات کے بہت بڑا ہاتھ اللہ تعالیٰ کے فضل سے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ہے۔ تو جب مصلح موعود کی پیشگوئی کے پورا ہونے پر جلسے کرتے ہیں تو اپنے عزم اور اپنے پروگراموں میں ایک ایسی روح پیدا کریں جو آپ کے جذبوں کی نئے سرے سے تجدید کرنے والی ہو اور اُن خواہشات کو بھی سامنے رکھیں جو حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان فرمائی ہیں۔ اور جس کا میں نے ذکر کیا ہے کہ ہر مسلمان ملک کا رہنے والا احمدی یہ کوشش بھی کرے کہ ہم نے اسلامستان قائم کرنا ہے۔ وہ اسلامستان بنانا ہے جو ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم جو رحمۃٌ للعالمین تھے وہ بنانا چاہتے تھے۔ وہ اسلامستان بنانا ہے جو اپنوں اور غیروں کے حقوق ادا کرتے ہوئے انسانیت کی قدریں قائم کرنے والا ہو تا دنیا کو یہ پتہ چلے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم محسنِ انسانیت تھے اور یہی ایک بہت بڑا کام ہے جو ہم نے دنیا کو بتانا ہے، جو اس دنیا کے سامنے پیش کرنا ہے۔ ہر اسلامی ملک کو ہم نے یہ باور کرانا ہے۔ یہ ہمارا مقصد ہے۔ یہ باتیں تھیں جن کو لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آئے تھے اور یہ وہ مشن ہے جس کی تکمیل کے لیے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے بھیجا تھا اور یہ کام ہے جو آج جماعت احمدیہ نے کرنا ہے اور ہم نے ہر مسلمان کو، ہر اسلامی ملک کو یہ باور کرانا ہے کہ یہ ہمارے مقاصد ہیں۔ اگر ہماری مخالفت میں یہ لوگ ہماری بات نہیں سنتے تو تڑپ تڑپ کر ان کے لیے دعا کرنی ہے۔ دعا سے تو ہمیں کوئی نہیں روک سکتا کہ یہ اس بات کو سمجھنے والے بن جائیں۔ پاکستان ہو یا سعودی عرب ہو یا مصر ہو یا شام ہو یا ایران ہو یا انڈونیشیا ہویا ملائیشیا ہو یا سوڈان ہو یا کوئی بھی اسلامی ملک ہو، ان لوگوں کو یہ بتانا ہو گا کہ علیحدہ علیحدہ رہ کر تمہاری کوئی ساکھ نہیں بن سکتی۔ تمہاری ساکھ اُسی وقت بن سکتی ہے اور تمہاری بقا اسی میں ہے، ان ممالک کا رعب تبھی ہے جب وہ ایک ہو کر اسلام کی عظمت کے بارے میں سوچیں گے۔ جب وہ اپنے ملکوں کے اندر بھی اور اپنے ہمسایوں میں بھی فرقوں سے بالا ہو کر سوچیں گے۔ یہ پیغام ہے جو ہم نے ان ملکوں کو بھی دینا ہے۔ آج ہمیں مصر کے لیے بھی کوشش کرنی چاہیے اور شام کے لیے بھی کوشش کرنی چاہیے، لیبیا کے لیے بھی یہ پیغام اُن کے اربابِ حل وعقد کو پہنچانا چاہیے کہ اگر اپنے قبیلوں اور فرقوں کو ہی فوقیت دیتے رہے اور اس کے لیے ظلم کرتے رہے تو خود اپنے ہاتھ سے اپنے ملکوں کو کھوکھلا کرنے والے بنتے رہو گے۔ تمہارے اندر نہ ہی ملکی لحاظ سے اور نہ ہی مسلم اُمہ کے لحاظ سے کبھی طاقت آئے گی بلکہ کمزوری بڑھتی ہی جائے گی اور غیر تمہیں پھر اپنے پنجے میں لے لیں گے۔ پھر اللہ نہ کرے، اللہ نہ کرے کہ غلامی کی زنجیروں میں بعض ملک جکڑے بھی جا سکتے ہیں۔ پس ان کو یہ پیغام دینا ہے کہ ہوش کرو اور صرف اپنے ذاتی مفادات کے حصول کی فکر نہ کرو۔ صرف اپنے قبائل اور فرقوں کی ناجائز طرفداری نہ کرو ورنہ سب کچھ ہاتھ سے کھو بیٹھو گے۔ ملکوں کی انفرادیت قائم رکھنے کی بجائے اسلام کی عظمت کو قائم کرنے کی کوشش کرو۔ اللہ تعالیٰ نے اس عظمت کو قائم کرنے کے لیے جس شخص کو بھیجا ہے اُس کی باتوں پر بھی غور کرو۔

پس یہ عظیم مقصد حاصل کرنے کے لیے موقع کے لحاظ سے، سمجھا کر بھی اور دعاؤں سے بھی ہم نے یعنی ہر ملک میں رہنے والے احمدی نے اپنا کردار ادا کرتے چلے جانا ہے۔ جیسا کہ مَیں نے گذشتہ سال بھی کہا تھا کہ ہم میں سے ہر احمدی کو دنیا کی اصلاح کی یہ کوشش کر کے مصلح بننے کا کردار ادا کرنے والا ہونا چاہیے تا کہ مصلح موعود کے مقاصد کو جو دراصل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مشن کی تکمیل ہے بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے دنیا کو لانے کا ایک عظیم منصوبہ ہے اُسے ہم حاصل کرسکیں۔ پس یہ دور جو فساد میں بڑھتے چلے جانے کا دور ہے، جس میں بڑی طاقتوں کی نظریں بھی اسلامی ممالک کے وسائل پر لگی ہوئی ہیں۔ اس میں بہت زیادہ کوشش کر کے ہم احمدیوں کو ہر اسلامی ملک کو بھی اور مسلم اُمہ کو بھی ہوس پرستوں کی ہوس سے بچانے کے لیے اپنے دائرے میں رہتے ہوئے اقدام کرنے چاہئیں اور اس کے لیے سب سے بڑھ کر جیسا کہ میں نے کہا دعا ہے۔

اللہ تعالیٰ مسلمان ملکوں کے سیاستدانوں اور لیڈروں کو بھی عقل اور سمجھ دے کہ وہ اپنے ذاتی مفاد سے بالا ہو کر سوچیں۔ علماء جن کو عوام الناس علوم اور روحانیت میں بڑھا ہوا سمجھتے ہیں وہ بھی عقل سے کام لیں اور اپنے مفادات کے بجائے قرآنی تعلیم کو سمجھنے کی کوشش کریں اور اپنے مفادات کی خاطر عوام اور حکمرانوں کو لڑانے کی بجائے تقویٰ سے کام لیں اور جیسا کہ میں نے کہا، اس کا سب سے خوبصورت حل زمانے کے امام کی آواز کو سن کر اس پر عمل کرنا ہے۔ اور اللہ کرے کہ عوام الناس بھی اپنے نورِ فراست کو بڑھانے کی کوشش کریں اور زمانے کے حالات دیکھنے کے باوجود آنکھیں بند کر کے عقل اور حکمت سے عاری باتیں کرنے والوں کی، چاہے وہ علماء میں سے ہوں یا لیڈروں میں سے ہوں، اُن کی اندھی تقلیدنہ کریں۔ اللہ کرے کہ ہم جیسا کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خواہش کا اظہار فرمایا تھا، ایک خوبصورت اسلامستان دیکھنے والے ہوں اور یہی ایک حل ہے جو دنیا کو فسادوں سے بچا سکتا ہے۔ اللہ کرے دنیا کو عقل آ جائے۔’’

(خطبہ جمعہ فرمودہ17؍فروری2012ءمطبوعہ الفضل انٹرنیشنل9؍مارچ2012ءصفحہ7تا8)

یہ دن حضرت مسیح موعودؑ کی پیشگوئی کی صداقت کا دن ہے

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز خطبہ جمعہ بیان فرمودہ15؍ فروری 2013ءمیں فرماتے ہیں:

‘‘پانچ دن کے بعد یومِ مصلح موعود بھی منایا جائے گا۔ 20؍فروری کو جماعت میں منایا جاتا ہے۔ یہ اس لیے نہیں کہ مصلح موعود کی پیدائش تھی بلکہ اس لیے کہ 20؍فروری کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے مصلح موعود کی جو پیشگوئی فرمائی تھی، یہ اُس کا دن ہے اور صداقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی یہ دلیل ہے۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پیدائش تو 20؍فروری کی نہیں تھی۔’’(خطبہ جمعہ فرمودہ15؍ فروری 2013ءمطبوعہ الفضل انٹرنیشنل 8مارچ2013ءصفحہ5)

حضرت مصلح موعود ؓکی بلندیٔ درجات کے لیے دعائیں

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز خطبہ جمعہ فرمودہ23؍ فروری 2018ءمیں فرماتے ہیں:

‘‘یوم مصلح موعود کا منایا جانا اور اس کے حوالے سے جلسے منعقد کرنا اصل میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ایک عظیم پیشگوئی کے پورا ہونے کی وجہ سے ہے نہ کہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی کی پیدائش کی وجہ سے۔ یہ وضاحت مَیں نے اس لئے کی ہے کہ بعض لوگ اور یہاں کی نئی نسل، نوجوان یا کم علم یہ سوال کرتے ہیں کہ یوم مصلح موعود جب مناتے ہیں تو پھر باقی خلفاء کے یومِ پیدائش کیوں نہیں مناتے۔ ایک تو یہ بات واضح ہو کہ یہ دن حضرت مصلح موعود کی پیدائش کا دن نہیں ہے۔ آپ کی پیدائش تو 1889ء میں 12؍جنوری کو ہوئی تھی۔…

پس اپنوں اور غیروں کے حضرت مصلح موعود کے بارے میں جو تأثرات ہیں وہ آپ سے مل کر آپ کی شخصیت کا جو گہرا اثر اُن پر ہوتا تھا اور آپ کی خصوصیات کا جب علم ہوتا تھا وہ ہر ایک کو حیرت میں ڈال دیتا تھا۔ پیشگوئی کی صداقت کا یہ سب کھلا اظہار ہے۔ ان جلسوں میں جو آج کل ہو رہے ہیں پیشگوئی کا ذکر اور آپ کے کارہائے نمایاں کی باتیں سن کر جہاں ہمیں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے درجات کے بڑھتے چلے جانے کے لیے دعائیں کرنی چاہئیں وہاں اپنی حالتوں کے جائزے بھی لینے چاہئیں کہ احمدیت کی ترقی کے لیے ایک عزم کے ساتھ ہر فرد جماعت کو اپنی تمام تر صلاحیتوں کو نکھارنا اور استعمال کرنا ضروری ہے۔ اگر ہم یہ کریں گے تو ہم احمدیت کی ترقی کو اپنی زندگیوں میں پہلے سے بڑھ کر پورا ہوتے دیکھیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔’’

(خطبہ جمعہ فرمودہ 23؍ فروری 2018ءمطبوعہ الفضل انٹرنیشنل16؍مارچ2018ءصفحہ5تا8)

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close