رپورٹ دورہ حضور انور

مسجد بیت البصیر، مہدی آباد، جرمنی کی تقریب افتتاح کے موقع پرحضور انور کا بصیرت افروز خطاب

(عبد الماجد طاہر۔ ایڈیشنل وکیل التبشیر لندن)

……………………………………………

26؍اکتوبر2019ءبروزہفتہ (حصہ دوم۔ آخر)

………………………………………………

مسجد بیت البصیر کی تقریب افتتاح میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا خطاب

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے تشہد، تعوذ اور تسمیہ کے بعد فرمایا:

تمام معزز مہمانان!

السلام علیکم ور حمۃ اللہ وبرکاتہ!

اللہ تعالیٰ آپ سب کو سلامتی اور امن سے رکھے۔ سب سے پہلے تو میں آپ سب مہمانوں کا شکریہ اداکرنا چاہتاہوں جو ہمارے اس مسجد کے افتتاح کے فنکشن میں تشریف لائے۔ مجھے یہ خیال نہیں تھا کہ اس چھوٹی سی جگہ پر اتنے لوگ جو جماعت احمدیہ کے ممبر نہیں ہیں اور غیر مسلم بھی ہیں وہ آسکیں گے ۔ لیکن آپ کا یہاں آنا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ آپ لوگ کھلے اور روشن دماغ کے لوگ ہیں۔ دوسرا مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ آپ کا یہاں آنا کسی تعارف کی وجہ سے ہے اور جماعت احمدیہ کے ممبران اس علاقہ میں کھلے دل کے ساتھ آپ لوگوں کے ساتھ میل جول بھی رکھتے ہیں اور آپ لوگ بھی ان کو قبول کرتے ہیں اور یہ جو اچھے باہمی تعلقات ہیں اس کی وجہ سے آپ ہماری اس مسجد کے افتتاح کے موقع پر تشریف لائے جو ہمارے لیے تو خوشی کا باعث ہے ہی، لیکن ہماری خوشی میں شامل ہونے کے لیے آپ کا یہاں آنا اس خوشی کو اور بھی بڑھاتاہے کہ احمدی مسلمان حقیقت میں اپنے ہمسایوں کا بھی خیال رکھ رہے ہیں اور ہمسایوں سے بھی تعلقات پیداکررہے ہیں۔ اس شکریہ کے بعد میں چند باتیں کہوں گا ۔

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

امیرصاحب نے بتایاکہ یہ چھوٹاساگاؤں ہے اور اس چھوٹی آبادی میں یہ ہماری پہلی مسجد بن رہی ہے۔ چھوٹاگاؤں ہونا، یا بڑا شہرہونا کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ اصل چیز تو وہاں کے لوگوں کا اخلاق اور ان کا آپس میں میل جول رکھنا ہے اور اس بات کو سمجھنا ہے۔ بلکہ چھوٹی جگہ پر سادگی اور اخلاص زیادہ ہوتاہے۔ چھوٹے شہروں میں رہنے والے، قصبوں میں رہنے والے یا گاؤں میں رہنے والے بہ نسبت شہر کے لوگوں کے زیادہ سادہ ہوتے ہیں ۔ اور یہ ایک بہت اچھی چیز ہے۔ اسی لیے بہت سارے لوگ جو شہر میں رہنے والے ہیں پسند کرتے ہیں کہ باہر جاکر اپنے گھر بنائیں اور رہیں۔ میں یوکے میں رہتاہوں ، وہاں تو یہ بڑا رواج ہے کہ جو لوگ affordکرسکتے ہیں وہ باہر جاکر کھلی فضا میں اپنا گھر بناتے ہیں ۔ اس کا ایک فائدہ یہ کہ ایک سادگی کا ماحول ہے ، دوسرا سب سے بڑافائدہ یہ ہے کہ کھلی فضاہے اور ہر قسم کی pollutionسے پاک فضاہے، تازہ ہوا میسرہے۔ اس لحاظ سے میں سمجھتاہوں یہ جگہ ہمارے لیے ، گوچھوٹی ہے، لیکن یہاں کے رہنے والے جس طرح کھلی فضا میں رہ کر اپنے آپ کو ہردم ہوا سے تازہ رکھتے ہیں اسی طرح مجھے یہ بھی امید ہے کہ یہ لوگ سادگی کی وجہ سے اپنے اخلاص کو بھی تازہ رکھنے والے ہوں گے۔ اور اپنے پیداکرنے والے سے جو تعلق ہے اس کو بھی ہمیشہ تازہ رکھنے والے ہوں گے ۔

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

انہوں نے یہ بھی ذکرکیاہے کہ یہ تاریخی جگہ ہے ۔ تاریخ بڑی اہمیت رکھتی ہے اور قوموں کو اپنی تاریخ کی حفاظت کرنی چاہیے اور تاریخ ہی ہے جو بہت ساری ایسی باتیں جو دنیا کی نظر سے اوجھل ہوجاتی ہیں ان کو سامنے لاتی ہے ۔ اسلام کے بارہ میں بہت کچھ کہاجاتاہے ، بہت تحفظات ہیں ۔ اگر ہم اسلامی تاریخ کودیکھیں تو یہ جو تحفظات ہیں کہ مسلمان شاید extremists ہیں، شدت پسند ہیں ،تاریخ اس کو جھٹلاتی ہے اور جب ہم اسلام کا ابتدائی زمانہ دیکھتے ہیں تو بانیٔ اسلام حضرت محمد رسول اللہ ﷺ اور آپ کے ساتھیوں نے 13 سال مکہ میں مخالفت کا سامنا کیا ، دشمنوں نے آپ کو تکلیفیں پہنچائیں، ٹارچر کیا، اسلام لانے والے قتل کیے گئے اور پھر آخر وہ ہجرت کرکے مدینہ چلے گئے جہاں ایک چھوٹی اسلامی مملکت قائم ہوگئی۔ اور جو مملکت قائم ہوئی اس میں سب مسلمان نہیں تھے، وہاں یہودیوں کی بھی اکثریت تھی ۔ ان کے ساتھ معاہدے ہوئے اور پھر اس معاہدے کے تحت ہر ایک کی جو شریعت تھی اس کا قانون ان کا مسائل حل کرنے کے لیے لاگو کیاگیا اور جو مشترکہ باتیں تھیں اس کےلیے ایک قانون نافذ کیاگیا۔ اس کی پابندی ہر ایک فریق کرتاتھا۔

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

پھر اگر یہ کہاجائے کہ مسلمانوں میں شدت پسندی ہے اور انہوں نے جنگیں اس لیے لڑیں کہ وہ اپنا مذہب پھیلائیں۔ گوکہ اس بارے میں مَیں پہلے بھی مختلف موقعوں پر بہت کچھ کہہ چکاہوں ۔ شاید جو جماعت سے واقف ہیں انہوں نے پڑھا بھی ہو۔ لیکن یہاں بہت سے لوگ ایسے بھی ہوں گے جن کو اس تاریخ کا علم نہیں ہوگا۔ مختصر بتادوں کہ ہجرت کرکے مدینہ آنےکے بعد، اتنے ظلم سہنے کے بعد، جب آرام سے ، امن سے ان لوگوں نے مقامی لوگوں سے جن میں مختلف مذاہب کے لوگ بھی تھے اور مختلف قبائل تھے ان کے ساتھ رہنا شروع کردیا تو تب بھی مکہ کے لوگوں نے ان کو امن سے نہیں رہنے دیا اور مسلمانوں پر حملہ کیا ۔ اور اس حملے کا جنگ سے جواب دینے کا جو پہلا حکم قرآن کریم میں خدا تعالیٰ نے نازل فرمایااور وہ یہ تھا کہ یہ لوگ جو حملہ کرنے والے ہیں یہ مذہب کے مخالف ہیں اور اگر ان کا جواب اب سختی سے نہ دیاگیا تو پھر نہ کوئی synagogue باقی رہے گا، نہ چرچ باقی رہے گا، نہ کوئی راہب خانہ باقی رہے گا ، نہ کوئی مسجد باقی رہے گی۔ اور اس آیت میں بھی اگر اس کا sequence دیکھیں تو مسجد کا نام پہلے نہیں آیا، مسجد تو سب سے آخر میں ہے۔ پس جواب دینا اس لیے ضروری ہے کہ مذہب کی حفاظت کرنی ہے اور یہ لوگ مذہب کے خلاف ہیں ۔ اس کے بعد اگر کسی بھی حملہ کا، کسی بھی جنگ کا صحیح تجزیہ کیاجائے ، انصاف سے تجزیہ کیاجائے تو یہی پتہ لگے گا کہ مسلمانوں پر جنگ ٹھونسی گئی، ان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی ، ان پر حملہ کیاگیا اور پھر اس کے جواب میں مسلمانوں نے بھی جنگیں لڑیں۔ بہرحال یہ تاریخ بڑی اہمیت کی حامل ہوتی ہے اور مختصر سے وقت میں مَیں نے اسلام کی تاریخ بھی بتادی ہے کہ اگر مغربی ممالک میں رہنے والوں کے دلوں میں مسلمانوں کے بارہ میں بعض تحفظات ہیں تو دور ہوجائیں۔

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

بعض مسلمانوں کی حرکتیں بھی ایسی ہیں لیکن اب تو جیساکہ بعض مقررین نے ذکر بھی کیا کہ بعض جگہ غیر مسلم بھی حملے کررہے ہیں تو یہ مسلمانوں کی تعلیم نہیں ہے کہ شدت پسندی دکھانی ہے بلکہ یہ ان لوگوں کے اپنے ذاتی عمل ہیں اور اسلامی تعلیم کے مخالف ہیں ۔ بہرحال اس مختصر سے وقت میں بتادوں کہ اگر مسلمانوں کی طرف سے کچھ بھی شدت پسندی ہورہی ہے تو وہ ان کے ذاتی عمل ہیں ۔ نہ اسلام کی تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ یہ جائز ہے اور نہ اسلام کی تعلیم ہمیں یہ بتاتی ہے کہ یہ جائز ہے ۔

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

دوسرے مقرر جو یہاں تشریف لائے جو آرمی کے افسر تھے انہوں نے بڑی اچھی بات کی کہ ان کے دل میں اور ان کے خاندان میں ایک خوف تھا جو تیس سال پہلے پیداہوا جب احمدی یہاں آئے اور جب love for all, hatred for noneکا بینر لگایا تو وہ یہی سمجھے کہ یہ دکھاوے کا بینر ہے۔ تیس سال پہلے اُس زمانہ میں وہ حالات نہیں تھے جو آج ہیں۔ لیکن پھر بھی مسلمانوں کا ایک خوف تھا۔ وہ اس خوف کا اظہارتو نہ کرسکے لیکن دل میں ان کو احساس ہوتارہا۔ لیکن احمدیوں کے ساتھ رہ کر تیس سال کے لمبے عرصہ نے ان کے اس خوف کو دور کردیااور اس لیے کہ احمدیوں نے یہاں آکر کوشش کی کہ اسلام کی حقیقی تعلیم کا اظہارکرسکیں ۔

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

اسلام ہمسائے کے حق کی ادائیگی کی طرف توجہ دلاتاہے اور احمدیوں نے اس بات کا اظہارکیا کہ ہمسائے کے حق کس طرح اداکرنے ہیں اور اس بات نے ان کے شکوک و شبہات بھی دورکردیے۔ ہمسائے کے حق کی بات ہے تو یہاں وضاحت کردوں کہ قرآن کریم میں بڑی وضاحت سے ہمسایہ کی تعریف کی گئی ہے کہ وہ لوگ جو تمہارے گھروں کے ساتھ رہتے ہیں وہ ہمسائے ہیں ، وہ لوگ جو تمہارے ساتھ کام کرنے والے ہیں وہ تمہارے ہمسائے ہیں ، وہ لوگ جو تمہارے ساتھ سفر کرنے والے ہیں تمہارے ہمسائے ہیں اوراس طرح ایک لمبی فہرست ہے۔ اور پھر فرمایا کہ تمہارے لیے ان کی عزت و احترام کرنا ضروری ہے اور پھر بانیٔ اسلام حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمسایہ کا حق اداکرنے کی مجھے اس قدر تلقین فرمائی ہے کہ مجھے احساس ہواکہ شاید ہمسایہ کو بھی جائز ورثاء میں شامل کرلیاجائے گا۔ جس میں شاید اُس کا جائیداد کا حصہ بھی ہوجائے۔پس اس حد تک اسلامی تعلیم ہمسایہ کو اہمیت دیتی ہے۔اور رسول اللہ ﷺ کا عمل اور ہر سچے مسلمان کا عمل اس پر گواہ ہے کہ وہ ہمسایہ کی عزت کرتے ہیں ۔

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

پھر valuesکی بات ہوئی ۔ مختلف قسم کے لوگ ہیں، کلچرز ہیں ان کی اپنی values ہیں۔ ویلیوز تو ہر ایک کی ہوتی ہیں ، اچھی بھی ہیں اور قائم رہنی چاہئیں۔ اصل چیز اخلاقی ویلیوز ہیں اوراعلیٰ اخلاق ہیں جو ہر ایک کی مشترک ہوتی ہیں ۔ اس لیے اگر آپ اعلیٰ اخلاق کو قائم رکھیں گے ، اعلیٰ اخلاق کی valuesکو قائم رکھیں گے ، اعلیٰ اخلاقی قدریں قائم رہیں گی تو پھر ہر ایک ان روایات کی قدر کرتارہے گا۔ ہر ایک کا اپنا کلچرہے ، یا روایات ہیں اور مذہب ہے اس کے مطابق پھر ان کی عزت اور احترام بھی رہے گا۔ اگر انسانی قدریں قائم رہیں ، اخلاقی قدریں قائم رہیں تو پھر کسی قسم کا ، کبھی بھی کوئی conflictپیدانہیں ہوسکتا۔ کسی قسم کا آپس میں کوئی تصادم نہیں ہوسکتا۔پس ہمیشہ ہمیں یادرکھنا چاہیےاور اس بات کی ہم احمدی مسلمان کوشش بھی کرتے ہیں، اور ہر اچھا انسان کوشش کرتاہے کہ اخلاقی قدروں کی حفاظت کرے۔ چاہے مختلف کلچرز بھی ہوں ، مختلف قسم کے لوگ بھی ہوں لیکن ہر ایک میں اچھی باتیں بھی ہوتی ہیں اور بری باتیں بھی ہوتی ہیں، بلکہ بعض ایسی اعلیٰ باتیں ہیں جس کو دوسروں کوبھی اپنانا چاہیے۔بلکہ نبی کریم ﷺ نے تو یہاں تک فرمایاکہ ہر اچھی بات جو تمہیں کہیں سے بھی ملے ، ضروری نہیں کہ مسلمان سے ملے ، کہیں سے بھی ملے، کسی بھی مذہب سے مل سکتی ہے، کسی بھی انسان سے مل سکتی ہے چاہے وہ کسی بھی مذہب پر یقین نہ رکھتا ہوتو سمجھوکہ وہ تمہاری کھوئی ہوئی وراثت ہے ، اس کو حاصل کرواور اس پر عمل کرنے کی کوشش کرو۔پس اچھی valuesہر ایک میں پائی جاتی ہیں اور ہر اچھے انسان کو ان کی قدر کرنی چاہیے۔ اور نہ صرف قدر کرنی چاہیے بلکہ اپنانا بھی چاہیے ۔

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

پھرعورت کے حقوق ہیں ، اس کے بارہ میں بھی اسلام نے تعلیم دی ہے ۔ اسلام نے عورت کو تعلیم کا حق دیا ہے ۔ پھر قرآن کریم میں یہاں تک لکھاہے کہ مردکو چاہیے کہ اپنے گھر والوں سے اچھا سلوک کرے ۔ پھر عورت کو وراثت کا بھی حق دیا ۔ پھر آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جنت ماں کے قدموں کے نیچے ہے۔ یعنی ماں اور عورت وہ ہستی ہے جو نیک تربیت کرکے اپنی اولاد کو جنت میں لےجانے والی ہوتی ہے اور ماحول کو جنت بنانے والی ہوتی ہے ، اس معاشرے کو جنت بنانے والی ہوتی ہے ، اس شہر کو، ملک کو جہاں وہ رہتی ہے جنت بنانے والی ہوتی ہے۔ پس اسلام عورت کی جو عزت اور احترام کرتاہے ، اسلام نے عورت کو جو مقام دیا ہے وہ یہ ہے کہ عورت ہی ہے جو قوموں کی تعمیر میں اہم کردار اداکرتی ہے۔ایک نیک عورت، اچھے اخلاق کی عورت، پڑھی لکھی عورت ہی اپنے بچوں کی ایسی تربیت کر سکتی ہے کہ وہ ملک و قوم کے خادم بن سکیں۔ پس اس لحاظ سے اسلام عورت کو بھی ایک مقام دیتا ہے۔

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

پھر چرچ کی نمائندہ تشریف لائی تھیں۔ انہوں نے مذہبی رواداری کی باتیں کیں۔ بہت اچھی بات ہے۔ مذہبی رواداری ضرور ہونی چاہیے۔ پہلے بھی میں ذکر کر چکا ہوں کہ ہمیشہ ایک دوسرے کے خیالات، مذہب کا بلکہ جو روایات ہیں ان کا بھی پاس کرنا چاہیے، ان کا احترام کرنا چاہیے۔ اور تبھی مذہبی رواداری بھی رہتی ہے۔ قرآن کریم کی جو پہلی سورت ہے اس میں اللہ تعالیٰ نے یہی لکھا ہے کہ اللہ ربّ العالمین ہے ۔ وہ عیسائیوں کا بھی رب ہے، وہ مسلمانوں کا بھی رب ہے، وہ یہودیوں کا بھی رب ہے، وہ ہندوؤں کا بھی رب ہے اور ہر مذہب کا رب ہے بلکہ جو اللہ تعالیٰ کے وجود پر یقین نہیں رکھتے ان کا بھی رب ہے، ان کو پالنے والا ہے اور یہی ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ چونکہ پالنے والا ہے، ہر ایک کو دینے والا ہے، اس لیے دنیا کی چیزوں سے بھی ہم فائدے اٹھاتے ہیں وہ اس کی طرف سے ہی مہیا ہوتی ہیں ۔ قطع نظر اس کے کہ کوئی کس مذہب سے تعلق رکھتا ہے، اللہ تعالیٰ ہر ایک کو پال رہا ہے۔ اس نے جب یہ کہہ دیا کہ ربّ العالمین ہے تو ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ رحمٰن بھی ہے، رحیم بھی ہے۔ وہ بغیر مانگے دیتا ہے، انسانوں پر رحم کرتا ہے اور جو مانگنے والے ہیں ان کو اس سے بڑھ کر دیتا ہے۔ گویا کہ اللہ تعالیٰ، چاہے کوئی اس کی عبادت کر رہا ہے یا نہیں کر رہا، چاہے اس سے کوئی مانگتا ہے یا نہیں مانگتا، اس کی رحمانیت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ وہ ہر ایک کو اپنے رحم سے نوازتا رہے اور اس کی ضروریات کو پورا کرتا رہے۔ اور جو مانگنے والے ہیں ان کو اور بھی زیادہ بڑھ کر دینے والا ہے۔

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

پھر چرچ کی نمائندہ نے بعض باتیں بھی کہیں ہمارے درمیان اختلافات ہیں، عورت کے بارہ میں یا فلاں فلاں چیز کے بارہ میں اختلافات ہیں۔ لیکن اختلافات تو بے شک ہیں، جیسا کہ میں نے کہا ہر ایک مذہب کی اپنی تعلیم ہے۔ اس میں اختلافات بھی ہوتے ہیں، لیکن اصل چیز ہے یہ دیکھنا کہ نیت کیا ہے؟ اگر کہیں اسلام نے عورتوں کے متعلق بعض باتیں کہیں کہ یہ نہ کریں تویہ اس لیے نہیں کہ عورت کے احترام کو کم کیا جائے ، عورت کے رتبے کو کم کیاجائے، بلکہ نیّت یہ تھی کہ اس سے عورت کا رتبہ اور احترام قائم ہو۔ جیسا کہ میں نے پہلے بتایا کہ اس سے بڑی بات اور کیا ہو گی کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ عورت کے پاؤں کے نیچے جنّت ہے، مرد کے پاؤں کے نیچے نہیں۔ یہ مقام عورت کو اس لیے ملاکہ اس نے نے اپنے بچوں کی نگہداشت کی اور قوم کو بنایا۔ اور نیک عورت ہی ہے جس کی گود میں پلنے والے لوگ پھر قانون کا بھی احترام کرنے والے ہوتے ہیں، اعلیٰ اخلاق دکھانے والے ہوتے ہیں، اخلاقی قدروں کی حفاظت کرنے والے ہوتے ہیں۔ ان میں برداشت کا بھی مادہ ہوتا ہے، اور ایک دوسرے کے مذہب سے بھی رواداری کا سلوک کرتے ہیں۔ تو اصل چیز یہ ہے کہ نیّت کیا ہے۔ اور ہمارے نزدیک اگر نیّت نیک ہے تو باقی تعلیم تو مختلف مذاہب کی مختلف ہے، اور اس کے لیے ہر ایک کا اپنا اپنا مذہب ہے ، اس پر چلے۔

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

دنیا میں اختلافات کو دور کرنے کے لیے ایک چیز یہ ہے کہ ہم دیکھیں کہ ہمارے اندر مشترک چیزیں کیا ہیں، یہ نہ دیکھیں کہ ہمارے اندر فرق کیا ہے؟ قرآن کریم نے ہمیں بتایا کہ اہل کتاب سے بھی کہہ دو ، دوسرے مذہب والوں سے ، یہودیوں سے، عیسائیوں سے کہو کہ آؤ ہم ایک مشترک چیز، جو ہمارے اندر ہے، وہ دیکھیں۔ یہ نہ دیکھیں کہ ہماری تعلیم کی جزویات کیا ہیں۔ یہ دیکھو کہ ہمارے اندر common چیز کیا ہے۔ اور وہ commonچیز خدا ہے، جو خدائے واحد ہے۔ ہم اس کو پوجنے والے ہیں ، ہم اس کو ماننے والے ہیں اور وہ سب کا ربّ ہے ۔ پس یہ مشترک چیز ہر مذہب میں پائی جاتی ہے۔ اور جب ہم اس بات کو سمجھ لیں اور ایک خدا کی عبادت کرنے والے ہوں اور اس کا حق ادا کرنے والے ہوں اور یہ سمجھنے والے ہوں کہ سب مخلوق خدا نے پیدا کی ہے اور اس کی مخلوق ہے تو پھر مذہبی اختلافات یا کلچر کے اختلافات یا دوسرے فروعی اختلافات، ہر قسم کے اختلافات ختم ہو جاتے ہیں۔

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

میئر صاحبہ نے بھی انہی انسانی قدروں کی بات کی جو میں پہلے بھی کہہ چکاہوں۔ اب یہ اس شہر یا ان کے شہر کی بات نہیں ہے ، اب تو پوری دنیا ایک Global Village بن چکی ہے۔ اور دنیا میں امن قائم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہمارے اندر جہاں برداشت کا مادہ پیدا ہو وہاں دوسرے مذاہب کے لیے ادب اور احترام کا بھی مادہ پیدا ہو۔ اور اسی طرح ہم حقیقت میں ایک دوسرے کے ساتھ امن سے اور پیار سے اور آشتی سے رہ سکتے ہیں۔

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

صوبائی ممبر صاحب نے بھی آزادی کے حق کی باتیں کیں۔ یہ ساری بڑی اچھی باتیں ہیں ۔ ہم یہاں آئے ، ہم نے یہاں اپنے آپ کو جذب کیا تو صرف اپنی ضرورت کے لیے نہیں کہ ہمیں ضرورت تھی ۔ اکثریت جو احمدیوں کی یہاں بعض ملکوں سے آئی ہے ان کی persecution ہو رہی تھی، وہاں ان پہ ظلم ہو رہے تھے، ان کو مذہبی آزادی نہیں تھی، ان کے بہت سارے حقوق غصب ہو رہے تھے اس لیے وہ یہاں آئے۔ لیکن یہاں اگر ہم integrate ہو رہے ہیں تو صرف اس لیے نہیں کہ یہاں آ کر ہمیں یہ سہولتیں مل گئیں، اور اگر ہم نے اپنا یہ اظہار نہ کیا تو کہیں سہولتیں واپس نہ لے لی جائیں۔ بے شک یہ بھی ضروری ہے ، آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ جو انسانوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا وہ خدا تعالیٰ کا بھی شکریہ ادا نہیں کرتا۔ پس اس لحاظ سے یہ ہماری دینی ذمہ داری ہے کہ ہم یہاں کی حکومت کے ، یہاں کے لوگوں کے شکر گزار ہوں جنہوں نے ہمیں یہاں رہنے کی اجازت دی ، اپنے اندر جذب کرنے کی اجازت دی اور اس کی وجہ سے ہمیں یہاں مذہبی آزادی بھی ہے اور دوسری آزادیاں بھی ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ اس ملک کے قانون کی پابندی کرنا اور یہاں کے لوگوں کا ادب و احترام کرنا ہمارے ایمان کا بھی حصہ ہے اور یہی ہمیں آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ ملک کی محبت تمہارے ایمان کا حصہ ہے۔ پس جس ملک نے ہمیں جذب کیا، جس ملک میں ہم آگئے، وہاں کی نیشنیلٹی مل گئی، اس ملک میں بعض جگہ ہماری دوسری اور تیسری نسل بھی شروع ہو گئی، تو اب یہ ملک جرمنی جو ہے، یہ ان کا ملک ہے اور اس سے وفاداری کرنا، جرمنی کے قانون کی پابندی کرنا ، جرمنی کے ہر شہری کے ساتھ حسن سلوک کرنا، اخلاق سے پیش آنا، مذہبی رواداری دکھانا، برداشت رکھنا، یہ سب اس لیے ضروری ہے کہ ملک میں امن قائم رہے۔ اور ملک میں امن قائم رکھنا ہمارے ایمان کا حصہ ہے کیونکہ اسی سے ملک کی معاشی ترقی ہوتی ہے اور اسی سے ملک دوسرے لحاظ سے stable ہوتا ہے ۔ پس ایمان کا تقاضا ہے کہ اب ہم یہاں رہ کر اس ملک کی خدمت کریں۔قطع نظر اس کے کہ کون کس مذہب کا ہے یا کیا قانون ہے، جو بھی قانون ہیں اس کی پابندی کرنا ہمارے لیے ضروری ہے اور ہر سچے مسلمان کے لیے ملک کی خدمت کرنا ضروری ہے۔

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

آزادئ مذہب کی بات کی گئی، تو میں دوبارہ یہی کہوں گا کہ ہم آزادی ٔ مذہب کو قائم رکھیں گے تو امن کے اظہار ہوتے رہیں گے۔ ایک دوسرے کے مذہب کو چھیڑیں گے تو امن قائم نہیں رہ سکتا، بے چینیاں پیدا ہوں گی، اور اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم اس کے لیے ہمیشہ کوشش کرتے رہیں۔ اور ہر شخص چاہے وہ عیسائی ہے یا یہودی ہے ، مسلمان ہے ، ہندو ہے، سِکھ ہے یا کسی بھی مذہب کا ہے ، وہ دوسرے مذہب کی عزّت اور احترام کرے اوران کو یہ حق دے کہ وہ جس مذہب کو بھی اپنائیں، اس کا اظہار بھی کر سکیں اور اس کے مطابق عمل بھی کر سکیں۔

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

قرآن کریم نے کہا ہے کہ مذہب دل کا معاملہ ہے اور اس میں کوئی زبردستی نہیں ۔ جب زبردستی نہیں اور دل کا معاملہ ہے تو پھر ہر ایک کو حق ہے ، کوئی یہودی بننا پسند کرتا ہے تو یہودی ہو سکتا ہے ، یا کوئی عیسائی بننا پسند کرتا ہے تو عیسائی ہو سکتا ہے۔ یا مسلمان بننا پسند کرتا ہے تو مسلمان ہو سکتا ہے۔ ایک تو ایک دوسرے کے لیے نفرتیں نہیں ہونی چاہئیں ، دوسرے کسی قسم کی روک نہیں ہونی چاہیے اور یہی خوبی ابھی تک جرمنی میں بھی اور دوسرے مغربی ممالک میں بھی ہے کہ یہاں مذہبی آزادی ہے۔ اور جب تک یہ مذہبی آزادی قائم رہے گی ، یہاں امن بھی قائم رہے گا اور ملک ترقی بھی کرتا چلا جائے گا۔

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

وفاقی پارلیمینٹ کے ممبر نے بھی باتیں کیں اور کہا کہ مسجد امن کا نشان ہے۔ انہوں نے بھی بڑی عمدہ بات کی کہ مسجد تو امن کا نشان ہے۔ اور مسجد کی تعمیر سے یہ اظہار ہوتا ہے کہ مسلمان یہاں integrate ہونا چاہتے ہیں۔ یقیناً مسجد کی تعمیر جہاں ہمارے لیے خوشی کا باعث ہے ، وہاں اس بات کا بھی اظہار ہے کہ ہم اس ملک کا حصہ ہیں اور مل جل کر اس ملک کی ترقی کا بھی حصہ بننا چاہتے ہیں اور اپنی مذہب کی روایات کے مطابق، اپنی مذہب کی تعلیم کے مطابق عبادت کرتے ہوئے اس ملک کی بہتری کے لیے جو کچھ بھی ہو سکتا ہے وہ کرنا چاہتے ہیں اور کریں گے اور یہی مسجدوں کی اہمیت ہے۔ کیونکہ قرآن کریم نے بھی بڑا واضح فرمایا ہے کہ مسجد میں آنے کے بعد اگر تم لوگ یتیموں کا خیال نہیں رکھتے، انسانی قدروں کا خیال نہیں رکھتے، دوسروں کو دکھ پہنچاتے ہو تو تمہاری نمازیں ، تمہارا مسجد میں آنا ، یہ مسجد تعمیر کرنا ، یہ بے فائدہ ہے۔ پس یہ مسجد کی تعمیر ہمیں اس بات کی طرف توجہ دلاتی ہے کہ ہم نے اس تعمیر کے ساتھ جہاں خدا تعالیٰ کی عبادت میں بڑھنا ہے وہاں ایک دوسرے کے جذبات کا بھی خیال رکھنا ہے۔ چاہے وہ کسی مذہب سے تعلق رکھنے والا ہو یا لا مذہب ہو، اس کے جذبات کا خیال رکھنا ہے۔ اور مذہبی اختلافات کو سامنے لانے کی بجائے جو مشترک چیزیں ہیں ان کو سامنے لانا ہے تا کہ ہم ایک ہو کر کام کر سکیں۔ اور ملک اور قوم کی بہتری کے لیے کام کر سکیں۔

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

اس کے بعد میں احمدیوں کو بھی یہی کہوں گا کہ اس مسجد بننے کے بعد اب آپ لوگوں کی، جو اس علاقہ میں رہتے ہیں، ذمہ داریاں بڑھ گئی ہیں۔ پہلے سے بڑھ کر اس بات کا اظہار کریں کہ آپ لوگ ملک اور قوم کے وفادار ہیں۔ آپ لوگ اخلاقی قدروں کا پاس کرنے والے ہیں، ان کا اظہار کرنے والے ہیں، ان کو نبھانے والے ہیں اورہر احمدی سے پہلے سے بڑھ کر اس بات کا بھی اظہار ہونا چاہیے کہ ہم اب یہاں پیار اور محبت اور صلح و آشتی کی فضا قائم کریں گے۔ اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کو توفیق عطا فرمائے ۔ آپ سب کا شکریہ۔

…………………………………………………………………………

حضور انور کا خطاب چھ بج کر دس منٹ تک جاری رہا۔ اس کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے دعا کروائی جس میں مہمانان اپنے اپنے طریق کے مطابق شامل ہوئے ۔

بعد ازاں تمام مہمانان نے حضور انور کی معیت میں کھانا کھایا ۔

اس تقریب کے بعد سات بجے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مسجد بیت البصیر (مہدی آباد) میں تشریف لا کر نمازِمغرب وعشاء جمع کرکے پڑھائیں۔ نمازوں کی ادائیگی کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنی رہائش گاہ پر تشریف لے گئے۔

آج پروگرام کے مطابق مہدی آباد (Nahe) سے اوسنابروک (Osnabrück) کے لیے روانگی تھی۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کو الوداع کہنے کے لیے احباب جماعت کی ایک بہت بڑی تعداد مہدی آباد میں جمع تھی۔ مردوخواتین کا ایک ہجوم تھا۔ بچوں اور بچیوں کے گروپس الوداعی نظمیں پڑھ رہے تھے۔
سات بج کر پچپن منٹ پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنی رہائش گاہ سے باہر تشریف لائے اور احباب کے درمیان کچھ دیر کے لیے رونق افروز رہے۔ ہر ایک شرف زیارت سے فیضیاب ہوا۔ آٹھ بجے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے دعا کروائی اور قافلہ مہدی آباد سے اوسنا بروک کے لیے روانہ ہوا۔

مہدی آباد سے اوسنا بروک کافاصلہ 262کلومیٹر ہے۔ قریباً اڑھائی گھنٹے کے سفر کے بعد رات ساڑھے دس بجے مسجد بشارت اوسنابروک ورودِمسعود ہوا۔ احباب جماعت اوسنابروک نے اپنے پیارے آقا کا بھرپور استقبال کیا۔ مردوخواتین اور بچوں اور بچیوں کی ایک بڑی تعداد اپنے پیارے آقا کے استقبال کی منتظر تھی۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز جونہی گاڑی سے باہر تشریف لائے۔ صدرجماعت اوسنابروک ملک نویداحمد صاحب اور مبلغ سلسلہ حنان سوبھی صاحب نے حضورِانور کو خوش آمدید کہا اور شرف مصافحہ حاصل کیا۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنا ہاتھ بلند کرکے سب احباب کو السلام علیکم کہا اور اپنی رہائش گاہ میں تشریف لے گئے۔ حضورِانور کی رہائش مسجد بشارت سے ملحقہ مشن ہاؤس کے رہائشی حصہ میں تھی۔

………………………………………………………………………

مہمانوں کے تاثرات

مسجد بیت البصیر مہدی آباد کے افتتاح کے حوالہ سے آج کی تقریب میں حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے خطاب نے شامل ہونے والے مہمانوں پر گہرے تاثرات چھوڑے۔ بہت سے مہمانوں نے اپنے تاثرات کا اظہار بھی کیا۔

چند مہمانوں کے تاثرات پیش ہیں؛

٭…مِس کیراہ ہائنیمن (Miss Kirah Hanemann) صاحبہ جن کا تعلق محکمہ پولیس سے ہے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہتی ہیں :

جب آپ کے خلیفہ ہال میں داخل ہوئے تو مجھ پر ایک ناقابل بیان روحانی کیفیت طاری ہوئی جو میں سمجھتی ہوں کہ قرآنی تعلیم کے حسن کی تاثیر کا اظہار تھا جو امام جماعت احمدیہ کو دیکھنے سے ہوا۔ کسی کی شخصیت کا ایسا اثرمیرے لیے زندگی میں پہلا تجربہ تھا۔ اس لیے اب میری خواہش ہے کہ میں جماعت احمدیہ سے مضبوط تعلق استوار کروں اوراگلےرمضان کا سارامہینہ آپ لوگوں کے ساتھ گزاروں جس سے اس روحانی تجربے کو مزید تقویت ملے۔

٭…ایک مہمان ‘ہارالڈ بوئنزل’(Harald Boensel) نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا :

امام جماعت احمدیہ نے اپنی تقریر میں جو قدر مشترک پر اکٹھے ہونے کو باہمی یگانگت اور گلوبل پیس کی بنیاد بنا کر امن عالم کی تحریک کی ہے مجھے یہ طرز عمل دنیا کے موجودہ حالات میں انتہائی قابل عمل لگتا ہے اور اسی کی اس وقت دنیا کو ضرورت ہے اور میں جان چکا ہوں کہ اس سے قبل جو تعارف ہمیں اسلامی تعلیمات کے بارے میں تھا وہ اسلام کی درست تصویر پیش نہیں کرتا۔ اس لیے آج کی شام میرے لیے ایک مثبت اور پرامن پیغام لائی ہے۔

٭ ایک مہمان مسٹر ہیلموٹ کیراہ (Helmot Kirah)جو ایک مقامی سکول کی طرف سے تقریب میں شامل ہوئے تھےکہتے ہیں :

امام جماعت احمدیہ کی آج کی تقریر سب سکولوں میں طلباء کو سنوا کر پوچھنا چاہیے کہ آپ اس سے کیا سمجھے اور آپ کے خیال میں یہ خوبصورت تعلیم کس مذہب کی ہو سکتی ہے؟

کم ازکم مجھے تو آپ اس کی آڈیو ویڈیو ریکارڈنگ ضرور مہیا کریں تا کہ میں اپنے سکول کے طلباء کے ساتھ اس شام کی کیفیات شیئر کر سکوں۔

٭ ایک مہمان خاتون مِس ایرگ( Miss Ihrig ) صاحبہ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ
علاوہ اس تقدس اور احترام کے اثر کے جو امام جماعت احمدیہ کی شخصیت کے لیے میرے دل میں موجود رہا میں ان کی تقریر کے اس جملے کے اثر میں ہوں، کہ جو آپ نے فرمایا کہ ‘‘اس زمانے میں بین الاقوامی امن کے قیام کے لیے پہلا قدم یہ ہے کہ ہمیں اپنے دلوں کوکھولنا پڑے گا اور دوسروں کے خیالات اور اعتقادات کے لیے اپنے دل میں وسعت پیدا کرنی پڑے گی۔’’

٭ ایک سٹوڈنٹ لیوکس جیرکLucas Goerke کہتے ہیں :

بین المذاہب ہم آہنگی اور گلوبل پیس پر آپ کے خلیفہ کی تمام باتوں سے اتفاق کرنے کے نتیجے میں معاشرہ دیرپا امن کا گہوارہ بن سکتا ہے اور مجھے امام جماعت احمدیہ کی طبیعت میں انکسار اور سادگی بہت پسند آئی۔

٭ من پریت سنگھ صاحبہ اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتی ہیں :امام جماعت احمدیہ کے ہال میں آنے پر جس طرح کی خاموشی اور احترام کی فضاء پیدا ہوئی وہ تو بادشاہوں جیسی تھی مگر جو تاثیر ان کے الفاظ میں تھی اور جس طرح ان کی باتوں نے سیدھا دل پر جا کر اثر کیا ہے یہ بات دنیاوی طور پر عظیم شخصیات کے حصے میں نہیں آتی۔ آپ کا وجود ایک روحانی اثر ڈالنے والا وجود تھا اور امن پہ بات کرنے کے علاوہ امن اورسکون آپ کی ذات اور چہرے سے بھی عیاں تھا۔ خاص طور پر آپ نے بدامنی کے حالات کے تناظر میں جانوروں کی مثال دے کر انسانیت پرستوں کے ضمیر کو جھنجوڑا ہے اور یہ مثال ترقی یافتہ معاشروں کے لیے برمحل اشارہ تھا۔ مجھے امام جماعت احمدیہ کا خطاب اپنی جامعیت کے لحاظ سے بہت پسند آیا۔

٭ ایک ساتھ والے شہر کےمئیر ‘ورنر ڈیٹرش’ (Werner Dietrich) صاحب نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:

مجھے امام جماعت احمدیہ کی تقریر کے الفاظ کےانتخاب نے بہت حیران کیا۔ آپ نے ٹھہراؤ اور پرسکون لب و لہجے میں سارا پیغام بھی دیا، دو طرفہ تحفظات اور تعلقات کا موازنہ بھی پیش کیا اور معاشرے کے طبقات میں موجود باہمی کشمکش کے اسباب بھی کھول کر بتائے اور کھلے لفظوں میں ان عوامل کی نشان دہی بھی کر دی جو معاشرے کا امن برباد کرتے ہیں مگر اس کے باوجود کسی طبقے یا فرقے یا گروہ کی عزت نفس پر کوئی سخت بات نہیں کی بلکہ اجتماعی انسانی ضمیر اور بین الاقوامی انسانی قدروں کے حوالے سے Food for Thought کے رنگ میں بات کرتے گئے اور اختتام اپنوں اور غیروں کے لیے دعائے خیر کے کلمات سے کیا۔

٭ مس سائیبلے(Miss Sybille) صاحبہ کہتی ہیں:

امام جماعت احمدیہ نے بنی نوع انسان کو نصیحت کرنے کے لیے بھی اور تنبیہ کرنے کے لیے بھی الفاظ کا انتخاب بہت احتیاط سےکیا اور لہجے کو بھی ملائم رکھا۔ ان کی شخصیت کی طرح ان کے الفاظ اور لب و لہجہ بھی پر سکون اور ملاطفت رکھتا تھا۔ ان کی تقریر سے قبل مجھے ان کی ذات سے جس تقدس اور نور کا احساس ہو رہا تھا، ان کی گفتگو نے اس تاثر کی تائید اور تصدیق کی ہے۔

موصوفہ مزید کہتی ہیں کہ آپ لوگوں نے بہت اعلیٰ اور عمدہ طریق پر اس دعوت کا انتظام کیا جس کی انتہا امام جماعت احمدیہ کا بنفس نفیس شرکت کرنا تھا۔ میں مسلسل یہ سوچتی رہی کہ کیا صرف ساڑھے چار سو لوگوں سے ملنے کے لیے اور وہ بھی معاشرے کے عام طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے ملاقات کے لیے پوپ کو بلایا جاتا تو وہ اتنا لمبا سفر کر کے ملنے آتے؟میرے دل و دماغ پر اس نوعیت کے موازنے نے امام جماعت احمدیہ کا تاثر مزید گہرا کر دیا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ اگر مذہبی لیڈرشپ ہو تو ایسی ہونی چاہیے جو عام آدمی کے مسائل تک ذاتی طور پر رسائی رکھ سکے۔

٭ اَوش کِنِس (Miss Oschkinis) صاحبہ اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتی ہیں :

امام جماعت احمدیہ گفتگو کرتے ہیں تو بات کو گھما پھرا کر نہیں کرتے بلکہ صاف، سیدھی اور سچی بات کرتے ہیں اور اس میں اثر پیدا کرنے کے لیے لہجے کو سخت نہیں ہونے دیتے۔ ان کی پُرسکون باتیں قابل یقین لگتی ہیں کیونکہ ان میں انسانیت کے لیے سچی اور بے لوث ہمدردی پائی جاتی ہے اور آپ کے کام کرنے والے کارکنان بھی پیسے لیے بغیر بے لوث انداز میں اتنے بڑے پروگرام کرتے ہیں۔ مجھے لگتاہے کہ معاشرے میں دیرپا امن اور انسانی قدروں کے قیام کےلیے ایسی انتھک جماعت اور ایسے قابل اعتماد اور بے لوث ہمدردی کرنے والے لیڈر کی ضرورت ہے۔

٭ ڈاکٹر کوہلر( Dr. Koehler) صاحبہ نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا :

مجھے اس بات نے بہت متأثر کیا ہے کہ آپ کے امام کتنے کھلے دل کے انسان ہیں اور یہی خوبی ہے جس کی وہ تلقین کر رہے تھے کہ انسانی قدروں کے قیام کے لیے اپنے دلوں کو کھولناپڑے گا اور تحفظات دور کرنے ہونگے اور آپ کی جماعت کے افراد بہت ہی نیک اور اعلیٰ اخلاق کے مالک ہیں۔ میں بھی اپنے ہسپتال میں کوشش کرتی ہوں کہ بین المذاہب ہم آہنگی بڑھے اور لوگوں کو روحانیت سے سکون حاصل ہو۔ یہی سکون و امن مجھے آج کی تقریب میں دیکھنے کو ملا ہے۔ میں بہت خوش ہوں کہ مجھے یہاں شامل ہونے کا موقع ملا۔

٭ ہارالڈ بیونزل (Harald Boensel )صاحب کہتے ہیں :

حضور نے اپنی تقریر بہت ہی خوبصورت رنگ میں پیش کی اور میں نےاس تقریر سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ ہم سب میں جو باتیں مشترک ہیں ان کو سامنے لایا گیا ہے اور دیرپا امن کے قیام کے لیے انسانیت کی قدرِ مشترک کے ذریعے ایک دوسرے کے قریب آنے کا راستہ کھولا گیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اسلام کے بارے میں ہمار ا جو عام طور پر تصور ہے وہ ٹھیک نہیں ہے اور ہمیں اسلام کوامام جماعت احمدیہ کے بیان کردہ نکات کی روشنی میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔

٭ سونجا شمتھ (Sonja Schmidt) صاحبہ کہتی ہیں :

میں حضور کی تہ دل سے شکر گزار ہوں ۔ آپ نے وہ باتیں فرمائیں جو میری روح میں موجود تھیں۔ آپ نے ان روحانی حقائق کو اجاگر بھی کیا اور ان کا آج کے جدید زمانے میں قابل عمل ہونا بھی ثابت کر کے دکھایا ہے۔ میں اگرچہ ایک عیسائی ہوں مگر میں خود کو مسلمانوں کی طرح ہی اس تقریر کا مخاطب سمجھتی ہوں۔

٭ ایک خاتون مس پیو (Miss Peiv ) صاحبہ اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتی ہیں :

مجھے آپ کے خلیفہ ایک حیران کن وجود لگے ہیں ۔ میں نے ارادہ کیا تھا کہ میں کچھ وقت کے لیے یہاں رہوں گی اور جلدی واپس چلی جاؤں گی کیونکہ میرے چار بچے ہیں اور میری بہن آج ان کا خیال رکھ رہی ہے۔ مگر اب میں نے اسے messageکردیا ہے کہ میں کچھ زیادہ دیر یہاں رہوں گی کیونکہ میں حضور کی مکمل تقریر سننا چاہتی ہوں۔ ان کی موجودگی میں اٹھ کے جانا ممکن نہیں ہے۔

٭ ایک استاد بَین ایلم (Ben Elm) صاحب کہتے ہیں :

میں حضور کے خطاب سے بہت ہی متاثر ہوا ہوں ۔ خاص طور پر اس وجہ سے کہ آپ نے کوئی پہلے سے تیار شدہ تقریر نہیں پڑھ کے سنائی بلکہ دوسرے مہمانوں کی تقاریر کو بھی اپنی تقریر میں شامل کیا۔ امن کا جو پیغام اور مذاہب کی جو ذمہ داریاں آپ کے خلیفہ نے اپنی تقریر میں بیان کی ہیں ، وہی معاشرے میں حقیقی امن کی ضمانت ہیں ۔

٭ مِس کلوسٹر من (Miss Klostermann) جوکہ جرمنی کے مشہور ٹی وی اور ریڈیو اسٹیشن کی ایڈیٹر ہیں، اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں :

آپ کے خلیفہ کے الفاظ علم و حکمت سے بھر ے ہوئے تھے۔

٭ ایک سیاسی نمائندہ ( Elvira Mihm ) صاحبہ کہتی ہیں :

مجھے یہ سارا پروگرام بہت ہی پسند آیا ہے ۔ آپ کے خلیفہ ایک مسحور کن شخصیت کے مالک ہیں اور ان کو دیکھ کر ایک خاص طرح کی تعظیم کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔آپ کا خطاب بھی ان کی ذات سے ہم آہنگ تھا۔

٭ تھو مین (Thomain) صاحبہ کہتی ہیں :

میں نے خلیفہ کے وجود کو ایک روحانی تاثیر رکھنے والا وجود پایا اور سارے پروگرام میں مجھ پر یہی تاثر غالب رہا ۔ مجھے حضور کا وجود ایک بہت ہی آرام دہ احساس دلاتا رہا اور ان کی تقریر بھی میرے لیے معاشرتی تجزیہ اور جدید دور میں انسانی قدروں کی اہمیت اجاگر کرنے والی تھی۔ خاص طور پر یہ بات کہ وہ دوسروں کی تقاریر کو اپنی تقریر میں شامل کرتے رہے اور ان کے بیان کردہ نکات کی اہمیت کو بھی اپنی تقریر کا حصہ بنایا۔

٭ دانیلا اوٹروائن ( Daniela Otterwein) صاحبہ اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتی ہیں :

مجھے حضور بہت ہی اچھے لگے اور میں الفاظ میں بیان نہیں کرسکتی کہ آپ کس طرح کے اعلیٰ انسان ہیں۔ ایک ایسی شخصیت جس سے نور ہی نور ظاہر ہورہا ہے۔ مجھے اس سے قبل اسلام کا کوئی علم نہیں تھا۔ میرے لیے آپ ہی کی ذات اسلام کا پہلا تعارف ہے، جو مجھے بہت پر کشش لگا۔

٭ ایک مہمان جو کہ پیشہ کے لحاظ سے استادہیں وہ بھی اس تقریب میں شامل ہوئے۔ وہ کہتےہیں:

اسلام کو بالکل اس طرح کے لیڈر کی ضرورت ہے تاکہ تمام مذاہب میں لڑائیاں ختم کی جائیں۔ آپ کے خلیفہ صرف لیڈر نہیں ہیں بلکہ ایک بہت پڑھے لکھے شخص معلوم ہوتے ہیں ۔ میں نے انٹرنیٹ سے ان کے بارے میں معلومات حاصل کی ہیں اورآپ ایک بہت اچھے مقرر بھی ہیں۔

٭ ایک مہمان اولیور وائسن بیرگر(Oliver Weissenberger) صاحب کہتے ہیں :

میں بہت متاثر ہوا ہوں اور ہماری میزبانی بہترین طریق پر کی گئی۔امام جماعت احمدیہ کی شخصیت بہت متاثر کن تھی جو کہ میرے لیے بہت حیران کن بات تھی۔ مجھے خوشی ہے کہ میں آج یہاں پر موجود تھا۔امام جماعت احمدیہ نے قابل ستائش امن کا پیغام دیا ہے جس کی اس وقت دنیا کو اشد ضرورت ہے۔اس سے قبل میرا یہ تاثر تھا کہ اسلام دوسرے مذاہب سے رواداری کا سلوک نہیں کرتا مگرخلیفہ نے اس بات کو مکمل طور پر ردّ فرمایا ہے اور دلیل کے ساتھ اپنا موقف پیش کیا ہے۔

(باقی آئندہ)

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close