خطبہ جمعہ

صدقہ اور خیرات اور غریبوں کی مدد میں کھلا دل رکھنے والے بدری صحابی حضرت سعد بن عُبَادہ رضی اللہ عنہ کی سیرت مبارکہ کا بیان

خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 27؍دسمبر2019ء بمطابق 27؍فتح 1398 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن، (سرے)لندن

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ- بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾
اَلۡحَمۡدُلِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۴﴾إِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ إِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۵ ﴾
اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ أَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ٪﴿۷

گذشتہ خطبے میں حضرت سعد بن عُبادہ کا ذکر ہو رہا تھا۔ ان کے بارے میں آج مزید کچھ بیان کروں گا۔ حضرت سعد بن عُبادہ بیعتِ عَقَبہ ثانیہ کے موقعے پر بنائے جانے والے بارہ نُقَباء میں سے ایک تھے۔

(الطبقات الکبریٰ لابن سعد جلد 3صفحہ461 سعد بن عُبادہ ، دار الکتب العلمیہ بیروت 1990ء)

ان کے بارے میں سیرت خاتم النبیینؐ میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے یوں بیان کیا ہے کہ ‘‘قبیلہ خزرج کے خاندان بنو سَاعِدہ سے تھے اور تمام قبیلہ خزرج کے رئیس تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد ِمبارک میں ممتاز ترین انصار میں شمار ہوتے تھے۔ حتیٰ کہ آنحضرتؐ کی وفات پر بعض انصار نے انہی کو خلافت کے لیے پیش کیا تھا۔’’ یعنی انصار میں سے جو نام پیش ہوا تھا وہ ان کا نام تھا۔ ‘‘…… حضرت عمرؓ کے زمانہ میں فوت ہوئے۔’’

(سیرت خاتم النبیینﷺ از حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ ایم۔اے صفحہ230)

حضرت سعد بن عُبادہؓ، مُنْذِر بن عَمروؓ اور ابو دجانہؓ ،یہ تین اشخاص تھے انہوں نے جب اسلام قبول کیا تو ان سب نے اپنے قبیلہ بنو ساعِدہ کے بت توڑ ڈالے۔

(الطبقات الکبریٰ لابن سعد جلد 3صفحہ461سعد بن عُبادہ ، دار الکتب العلمیہ بیروت 1990ء)

ہجرتِ مدینہ کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بنو ساعِدہ کے گھروں کے پاس سے گزرے تو حضرت سَعد بن عُبادہؓ اور حضرت مُنْذِر بن عَمروؓ اور حضرت ابو دجانہؓ نے عرض کی کہ یا رسول اللہؐ! آپؐ ہمارے پاس تشریف لائیں۔ ہمارے پاس عزت ہے۔ دولت، قوت اور مضبوطی ہے۔ حضرت سعد بن عُبادہؓ نے یہ بھی عرض کیا کہ یا رسول اللہؐ! میری قوم میں کوئی ایسا شخص نہیں جس کے کھجوروں کے باغات مجھ سے زیادہ ہوں اور اس کے کنویں مجھ سے زیادہ ہوں۔ اس کے ساتھ ساتھ دولت، قوت اور کثیر تعداد بھی ہو۔ اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابو ثابت! اس اونٹنی کا راستہ چھوڑ دو ، یہ مامور ہے۔(سبل الہدیٰ والرشاد جلد 3صفحہ 272 الباب السادس في قدومہﷺباطن المدينۃ ……، دارالکتب العلمیة بیروت 1993ء) یہ اپنی مرضی سے کہیں جائے گی ۔حضرت سعد بن عُبادہؓ قبیلہ بنو ساعِدہ کے نقیب تھے جیسا کہ پہلے بھی بیان ہوا کہ جو نقیب مقرر کیے گئے تھے ان میں ان کا بھی نام تھا۔

کہا جاتا ہے کہ قبیلہ اوس اور خزرج میں ایسا کوئی گھر نہ تھا جس میں چار شخص پے در پے فیاض ہوں۔ بڑے کھلے دل کے ہوں سوائے دُلیم کے، پھر اس کے بیٹے عُبادہ کے، پھر اس کے بیٹے سعد کے، پھر اس کے بیٹے قیس کے۔ دُلیم اور اس کے اہلِ خانہ کی سخاوت کے بارے میں بہت سی اچھی اچھی خبریں مشہور تھیں۔

(اسد الغابہ جلد 2صفحہ 441،سعد بن عُبادہ، دارالکتب العلمیہ بیروت 2003ء)

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو سعدؓ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں روزانہ ایک بڑا پیالہ بھیجتے جس میں گوشت اور ثرید، گوشت میں پکے ہوئے روٹی کے ٹکڑے یا دودھ کا ثرید یا سرکے اور زیتون کا ثرید یا چربی کا پیالہ بھیجتے اور زیادہ تر گوشت کا پیالہ ہی ہوتا تھا۔ سعد کا پیالہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ آپؐ کی ازواجِ مطہرات کے گھروں میں چکر لگایا کرتا تھا۔(الطبقات الکبریٰ لابن سعد جلد 3 صفحہ461 سعد بن عُبادہ ، دار الکتب العلمیہ بیروت 1990ء) یعنی یہ کھانا تھا جو مختلف ازواج کے لیے جایا کرتا تھا ۔بعض روایات ایسی بھی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر ایسے دن بھی آتے تھے کہ کھانا نہیں ہوتا تھا۔

(صحیح البخاری کتاب الھبۃ و فضلھا … باب فضل الھبۃ حدیث 2567)

ہو سکتا ہے کہ یہ روزانہ نہیں اکثر بھیجتے ہوں یا شروع میں بھیجتے ہوں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سخاوت کی وجہ سے، غریبوں کے خیال کی وجہ سے بعض اوقات انہیں غرباء میں تقسیم کر دیتے ہوں، مہمانوں کو کھلا دیتے ہوں اس لیے اپنے گھر میں کچھ نہیں ہوتا تھا۔

بہرحال ایک روایت اَور ہے، حضرت زید بن ثابت بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حضرت ابوایوب انصاریؓ کے ہاں قیام فرمایا تو آپؐ کے ہاں کوئی ہدیہ نہیں آیا۔ پہلا ہدیہ جو میں آپؐ کی خدمت میں لے کر حاضر ہوا تھا وہ ایک پیالہ تھا جس میں گندم کی روٹی کی ثرید، گوشت اور دودھ تھا۔ میں نے اسے آپؐ کے سامنے پیش کیا۔ میں نے عرض کی یا رسول اللہ ؐ! یہ پیالہ میری والدہ نے آپؐ کی خدمت میں بھیجا ہے۔ آپؐ نے فرمایا اللہ اس میں برکت ڈالے اور آپؐ نے اپنے صحابہ کو بلایا تو انہوں نے بھی اس میں سے کھایا۔ کہتے ہیں مَیں ابھی دروازے تک ہی پہنچا تھا کہ سعد بن عُبادہؓ بھی ایک پیالہ لے کر حاضر ہوئے جسے ان کا غلام اپنے سر پر اٹھائے ہوئے تھا۔ وہ کافی بڑا تھا۔ میں حضرت ابوایوبؓ کے دروازے پر کھڑا ہو گیا۔ میں نے اس پیالے کا کپڑا اٹھایا تا کہ میں اسے دیکھوں تو میں نے ثرید دیکھی جس میں ہڈیاں تھیں۔ اس غلام نے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا۔

حضرت زیدؓ کہتے ہیں کہ ہم بنو مالک بن نجار کے گھروں میں رہتے تھے۔ ہم میں سے تین یا چار افراد ہر رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں باری باری کھانا لے کر حاضر ہوتے یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات ماہ حضرت ابو ایوب انصاری کے گھر میں قیام فرمایا۔ ان ایام میں حضرت سعد بن عُبادہؓ اور حضرت اَسعد بن زُرارہؓ کا پیالہ ہر روز آپؐ کی خدمت میں آتا تھا اور اس میں کبھی ناغہ نہیں ہوتا تھا۔ یہاں کچھ وضاحت بھی ہو گئی کہ شروع میں روزانہ کھانا آتا تھا ۔ سات مہینے تک باقاعدہ آتا رہا ۔ اس کے بعد بھی آتا ہو گا لیکن شاید اس باقاعدگی سے نہیں۔ پھر کہتے ہیں کہ اسی کے متعلق جب حضرت ام ایوبؓ سے پوچھا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپؓ کے ہاں قیام فرمایا تھا اس لیے آپ بتائیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے زیادہ پسندیدہ کھانا کون سا تھا؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ میں نے نہیں دیکھا کہ آپؐ نے کسی مخصوص کھانے کا کبھی حکم دیا ہو اور پھر وہ آپؐ کے لیے تیار کیا گیا ہو اور نہ ہی ہم نے کبھی یہ دیکھا کہ آپؐ کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا ہو اور آپؐ نے اس میں عیب نکالا ہو۔ یہ کہتے ہیں کہ حضرت ابو ایوب نے مجھے بتایا کہ ایک رات حضرت سعد بن عُبادہؓ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک پیالہ بھجوایا جس میں طَفَیْشَلْ تھا۔ یہ شوربہ کی ایک قسم ہے۔ آپؐ نے وہ سیر ہو کر پیا اور میں نے اس کے علاوہ آپؐ کو کبھی اس طرح سیر ہوکر پیتے نہیں دیکھا۔ پھر ہم بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یہ بنایا کرتے تھے۔ کبھی یہ نہیں کہا کہ یہ لاؤ یا وہ پکاؤ۔ کبھی عیب نہیں نکالا لیکن جو کھانا آتا تھا اس میں سے یہ کھانا آپؐ کو پسند آیا اور آپؐ نے بڑے شوق سے کھایا یا پیا۔ اس کے بعد سے پھر صحابہ کو پتا لگ گیا کہ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پسند ہے تو اس کے مطابق پھر بناتے تھے۔ کہتے ہیں کہ ہم آپ کے لیے ھَرِیْس، مشہور کھانا ہے جو گندم اور گوشت سے بنایا جاتا ہے، یہ بھی بنایا کرتے تھے جو آپؐ کو پسند تھا اور رات کے کھانے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ پانچ سے لے کر سولہ تک افراد ہوتے تھے جس کا انحصار کھانے کی قلت یا کثرت پر ہوتا تھا۔

(سبل الہدیٰ والرشاد جلد3صفحہ 275 الباب السادس في قدومہﷺ باطن المدينۃ …… ، دارالکتب العلمیة بیروت 1993ء)
(سبل الہدیٰ والرشاد جلد3صفحہ 279 الباب السادس في قدومہﷺ باطن المدينۃ …… ،دارالکتب العلمیہ 1993ء)
(لغات الحدیث جلد 4 صفحہ 572 مطبوعہ علی آصف پرنٹرز لاہور 2005ء)

حضرت ابو ایوب انصاریؓ کے گھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام کے دنوں کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے بھی لکھا ہے۔ کہتے ہیں کہ اس مکان میں آپؐ نے سات ماہ تک یا ابن اسحاق کی روایت کے مطابق اور ابن اسحاق کی روایت یہ ہے کہ ماہ صفر2ہجری تک قیام فرمایا تھا گویا جب تک مسجد نبوی اور اس کے ساتھ والے حجرے تیار نہیں ہو گئے آپؐ اسی جگہ مقیم رہے۔ ابوایوبؓ آپؐ کی خدمت میں کھانا بھجواتے تھے اور پھر جو کھانا بچ کر آتا تھا وہ حضرت ابو ایوبؓ خود کھاتے تھے ۔ اور محبت و اخلاص کی وجہ سے اسی جگہ انگلیاں ڈالتے تھے جہاں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھایا ہوتا۔ دوسرے اصحاب بھی عموماً آپؐ کی خدمت میں کھانا بھیجا کرتے تھے۔ چنانچہ ان لوگوں میں سعد بن عُبادہؓ رئیس قبیلہ خزرج کا نام تاریخ میں خاص طور پر مذکور ہوا ہے۔

(ماخوذ از سیرت خاتم النبیینﷺ از حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ ایم اے،صفحہ268)

حضرت انسؓ سے مروی ہے کہ حضرت سعد بن عُبادہؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ یا رسول اللہ ؐ!آپؐ ہمارے گھر تشریف لائیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سعدؓ کے ہمراہ ان کے گھر تشریف لے گئے۔ حضرت سعدؓ کھجور اور تِل لے آئے پھر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دودھ کا پیالہ لائے جس میں سے آپؐ نے پیا۔

(سبل الہدیٰ والرشاد جلد 7صفحہ 200 الباب الرابع في أكلہﷺ أطعمۃ مختلفۃ ، في أكلہﷺ الكسب والسّمسم، دار الکتب العلمیۃ بیروت 1993ء)

قیس بن سعدؓ ، سعد بن عُبادہؓ کے بیٹے ہیں ، بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ملاقات کے لیے ہمارے گھر تشریف لائے تو آپؐ نے فرمایا ’السلام علیکم ورحمة اللہ‘۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر والوں کوسلام کیا۔ قیسؓ نے کہا کہ میرے والد سعدؓ نے آہستہ سے جواب دیا۔ قیسؓ نے کہا میں نے ان سے پوچھا، اپنے باپ سے پوچھا کہ آپؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اندر آنے کا نہیں کہیں گے؟ حضرت سعدؓ نے ، باپ نے ، بیٹے کو یہ جواب دیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہم پر زیادہ سلام کر لینے دو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پھر سلام کر کے واپس ہوئے۔ یعنی آپؓ نے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کیا۔ میں نے آہستہ سے جواب دیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ سلام کریں گے تو اس طرح ہمارے گھر میں سلامتی پہنچے گی۔ بہرحال کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سلام کر کے واپس ہوئے تو پھر سعدؓ آپؐ کے پیچھے گئے اور عرض کیا یا رسول اللہؐ ! میں آپؐ کے سلام کو سنتا اور آپؐ کو آہستہ سے جواب دیتا تا کہ آپؐ ہم پر زیادہ سلام بھیجیں۔ پھر آپؐ سعدؓ کے ہمراہ لَوٹ آئے۔ سعدؓ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے غسل کا عرض کیا۔ آپؐ نے غسل فرمایا۔ سعدؓ نے آپؐ کو زعفران یا وَرْس جو یمن کے علاقے میں پیدا ہونے والا ایک زرد رنگ کا پودا ہے جس سے کپڑے رنگے جاتے ہیں اس سے رنگا ہوا ایک لحاف دیا۔ آپؐ نے اسے ارد گرد لپیٹ لیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ اٹھا کر فرمایا۔ اے اللہ! اپنے درود اور اپنی رحمت سعد بن عُبادہؓ کی اولاد پر نازل کر۔

(اسد الغابہ فی معرفة الصحابہ جلد 2 صفحہ 442- 441 سعد بن عُبادہ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت 2003ء)
(عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری جلد 2 صفحہ 222 کتاب العلم مطبوعہ دار الفکر بیروت)

یہ روایت حضرت انسؓ سے اس طرح مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےحضرت سعد بن عُبادہؓ کے ہاں اندر آنا چاہا ،گھر میں جانا چاہا اور السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہا۔ حضرت سعدؓ نے آہستہ سے کہا وعلیک السلام ورحمۃ اللہ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنائی نہ دیا حتیٰ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ سلام کیا اور سعدؓ نے تینوں مرتبہ اسی طرح جواب دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنائی نہ دیا۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لے گئے۔ حضرت سعدؓ آپؐ کے پیچھے گئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میرے ماں باپ آپؐ پر قربان۔ آپؐ نے جتنی مرتبہ بھی سلام کہا میں نے اپنے کانوں سے سنا اور اس کا جواب دیا لیکن آپؐ کو نہیں سنایا۔ آپؐ کو میری آواز نہیں آئی۔ میں چاہتا تھا کہ آپؐ کی سلامتی اور برکت کی دعا کثرت سے حاصل کروں۔ پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے گھر لے گئے اور کشمش پیش کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تناول کرنے کے بعد فرمایا تمہارا کھانا نیک لوگ کھاتے رہیں اور تم پر ملائکہ رحمت کی دعائیں کرتے رہیں اور روزے دار تمہارے ہاں افطاری کرتے رہیں۔ آپؐ نے ان کو دعا دی۔

(مسند احمد بن حنبل جلد 4صفحہ356-357 مسند انس بن مالک حدیث 12433، مطبوعہ عالم الکتب بیروت 1998ء)

علامہ ابن سیرین بیان کرتے ہیں کہ اہلِ صفہ جب شام کرتے تو ان میں سے کوئی شخص کسی ایک یا دو کو کھانا کھلانے کے لیے لے جاتا تاہم حضرت سعد بن عُبادہؓ اَسّی اہلِ صفہ کو کھانا کھلانے کے لیے اپنے ساتھ لے جاتے۔

(الاصابہ فی تمییز الصحابہ،جلد 3،صفحہ 56،سعد بن عُبادہ،دارلکتب العلمیہ بیروت1995ء)

یعنی اکثر یہ ہوتا تھا لیکن ایسی روایات بھی ہیں کہ اہلِ صفہ پر ایسے دن بھی آئے جب ان کو بھوکا بھی رہنا پڑا۔ بہرحال صحابہ عموماً ان غرباء کا خیال رکھا کرتے تھے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دَر پر بیٹھے ہوتے تھے اور ان کا سب سے زیادہ خیال رکھنے والے حضرت سَعد بن عُبادہؓ تھے۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ تشریف لانے کے ایک سال بعد ماہ صفر میں ابواء، جو مدینہ سے مکے کی شاہراہ پر جُحفہ سے 23میل دور واقع ہے۔ یہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ حضرت آمنہ کی قبر بھی ہے، اس کی طرف کوچ فرمایا۔ آپؐ کا جھنڈا سفید رنگ کا تھا۔ اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینے میں حضرت سعد بن عُبادہؓ کو اپنا جانشین یا امیر مقرر فرمایا۔

(الطبقات الکبریٰ جلد 2 صفحہ5 باب غزوة الابواء،دارالکتب العلمیہ بیروت 1990ء)
(اٹلس سیرت نبویﷺ صفحہ 84 مطبوعہ دار السلام 1424ھ)

غزوۂ ابواء کا دوسرا نام غزوۂ وَدَّان بیان کیا جاتا ہے۔ سیرت خاتم النبیینؐ میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے غزوۂ وَدَّانکا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے۔ یہ لکھتے ہیں کہ

’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا طریق تھا کہ کبھی تو خود صحابہ ؓکوساتھ لے کر نکلتے تھے اور کبھی کسی صحابی کی امارت میں کوئی دستہ روانہ فرماتے تھے۔ مؤرخین نے ہردوقسم کی مہموں کوالگ الگ نام دیے ہیں۔ چنانچہ جس مہم میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود بنفسِ نفیس شامل ہوئے ہوں اس کا نام مؤرخین غزوہ رکھتے ہیں اورجس میں آپؐ خود شامل نہ ہوئے ہوں اس کا نام سَرِیَّہ یا بَعْث رکھا جاتا ہے مگر یہ یاد رکھنا چاہیے کہ غزوہ اورسَرِیَّہ دونوں میں مخصوص طورپر جہاد بالسیف کی غرض سے نکلنا ضروری نہیں‘‘۔ ضروری نہیں ہے کہ تلوار کے جہاد کے لیے نکلا جائے۔ ’’بلکہ ہروہ سفر جس میں آپؐ جنگ کی حالت میں شریک ہوئے ہوں غزوہ کہلاتا ہے خواہ وہ خصوصیت کے ساتھ لڑنے کی غرض سے نہ کیا گیا ہو اور اسی طرح ہروہ سفر جو آپؐ کے حکم سے کسی جماعت نے کیا ہو مؤرخین کی اصطلاح میں سَرِیَّہ یا بَعْث کہلاتا ہے خواہ اس کی غرض وغایت لڑائی نہ ہو لیکن بعض لوگ ناواقفیت سے ہر غزوہ اور سَرِیَّہ کو لڑائی کی مہم سمجھنے لگ جاتے ہیں جودرست نہیں ہے ۔

یہ بیان کیا جاچکاہے کہ جہاد بالسیف کی اجازت ہجرت کے دوسرے سال ماہ صفر میں نازل ہوئی۔‘‘ تھی۔ یہ گذشتہ خطبوں میںپہلے بھی بیان ہو چکا ہے۔ ’’چونکہ قریش کے خونی ارادوں اوران کی خطرناک کارروائیوں کے مقابلہ میں مسلمانوں کومحفوظ رکھنے کے لیے فوری کارروائی کی ضرورت تھی اس لیے آپؐ اسی ماہ میں مہاجرین کی ایک جماعت کو ساتھ لے کر اللہ تعالیٰ کانام لیتے ہوئے مدینہ سے نکل کھڑے ہوئے۔ روانگی سے قبل آپؐ نے اپنے پیچھے مدینہ میں سعد بن عُبادہؓ رئیس خزرج کوامیر مقررفرمایا اور مدینہ سے جنوب مغرب کی طرف مکہ کے راستہ پر روانہ ہو گئے اور بالآخر مقام وَدَّان تک پہنچے۔‘‘ اس کی یہ تفصیل پہلے بھی بیان ہو چکی ہے۔ ’’اس علاقہ میں قبیلہ بنو ضمرہ کے لوگ آباد تھے۔ یہ قبیلہ بنو کنانہ کی ایک شاخ تھا اوراس طرح گویا یہ لوگ قریش کے چچا زاد بھائی تھے۔ یہاں پہنچ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ بنوضمرہ کے رئیس کے ساتھ بات چیت کی اورباہم رضا مندی سے آپس میں ایک معاہدہ ہو گیا جس کی شرطیں یہ تھیں کہ بَنُو ضَمْرَہ مسلمانوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھیں گے اور مسلمانوں کے خلاف کسی دشمن کی مدد نہیں کریں گے اور جب آنحضر ت صلی اللہ علیہ وسلم ان کو‘‘ یعنی بَنُو ضَمْرَہ کو ’’مسلمانوں کی مدد کے لیے بلائیں گے تو وہ فوراً آ جائیں گے۔ دوسری طرف آپؐ نے مسلمانوں کی طرف سے یہ عہد کیا کہ تمام مسلمان قبیلہ بَنُو ضَمْرَہ کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھیں گے اور بوقتِ ضرورت ان کی مدد کریں گے۔ یہ معاہدہ باقاعدہ لکھا گیا اور فریقین کے اس پر دستخط ہوئے اورپندرہ دن کی غیر حاضری کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لے آئے۔ غزوۂ ودان کا دوسرا نام غزوۂ اَبْواء بھی ہے کیونکہ وَدَّان کے قریب ہی ابواء کی بستی بھی ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ ماجدہ کا انتقال ہوا تھا۔ مؤرخین لکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کواس غزوے میں بَنُو ضَمْرَہ کے ساتھ قریش مکہ کابھی خیال تھا۔ اس کا مطلب یہی ہے کہ دراصل آپؐ کی یہ مہم قریش کی خطرناک کارروائیوں کے سدباب کے لیے تھی اور اس میں اس زہریلے اورخطرناک اثر کا ازالہ مقصودتھا جو قریش کے قافلے وغیرہ مسلمانوں کے خلاف قبائل عرب میں پیدا کررہے تھے۔‘‘ قریش مسلمانوں کے خلاف قبیلوں میں جا کے پراپیگنڈہ کرتے تھے۔ ’’اور جس کی وجہ سے مسلمانوں کی حالت ان ایام میں بہت نازک ہو رہی تھی۔‘‘

(سیرت خاتم النبیینؐ از حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ ایم۔اے صفحہ 327-328)

حضرت سعد بن عُبادہؓ کے غزوۂ بدر میں شامل ہونے کے بارے میں دو آرا بیان کی جاتی ہیں۔ واقدی، مَدَایِنِی اور ابنِ کَلْبِی کے نزدیک یہ غزوۂ بدر میں شامل ہوئے تھے۔ جبکہ ابن اسحاق اور ابن عُقْبَہ اور ابن سعد کے نزدیک یہ غزوۂ بدر میں شامل نہیں ہوئے تھے۔

بہرحال اس کی ایک وضاحت طبقات الکبریٰ کی ایک روایت کے مطابق اس طرح ہے کہ حضرت سعد بن عُبادہؓ غزوۂ بدر میں حاضر نہیں ہوئے تھے۔ وہ روانگی کی تیاری کر رہے تھے اور انصار کے گھروں میں جاکر انہیں روانگی پر تیار کر رہے تھے کہ روانگی سے پہلے انہیں کتے نے کاٹ لیا۔ اس لیے وہ غزوۂ بدر میں شامل نہ ہو سکے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگرچہ سعدؓ شریک نہ ہوئے لیکن اس کے آرزو مند تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعدؓ کو غزوۂ بدر کے مالِ غنیمت میں سے حصہ عنایت فرمایا تھا۔ حضرت سعد بن عُبادہؓ غزوۂ احد، خندق سمیت تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شامل ہوئے۔

(الاستیعاب جلد2صفحہ 594 سعد بن عُبادہ مطبوعہ دار الجیل بیروت 1992ء) (الطبقات الکبریٰ لابن سعد جلد 3 صفحہ461 سعد بن عُبادہ مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 1990ء) (سیر الصحابہؓ جلد 3 صفحہ 377 سعد بن عُبادہ مطبوعہ دار الاشاعت کراچی 2004ء)

ایک روایت یہ بھی ہے کہ انصار کا جھنڈا غزوۂ بدر کے روز حضرت سعد بن عُبادہؓ کے پاس تھا۔ یہ المستدرک کی روایت ہے۔

(المستدرک علی الصحیحین جلد 3صفحہ 282کتاب معرفة الصحابہ باب ذکر مناقب سعد بن عُبادہ حدیث 5096 ، دار الکتب العلمیہ بیروت 2002ء)

غزوۂ بدر پر روانگی کے وقت حضرت سعد بن عُبادہؓ نے عضب نامی تلوار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تحفةً پیش کی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ بدر میں اسی تلوار کے ساتھ شرکت کی تھی۔

(سبل الہدیٰ والرشاد جلد 4 صفحہ 24 باب غزوۃ بدر الکبریٰ مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 1993ء)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک گدھا بھی حضرت سعد بن عُبادہؓ نے تحفةً پیش کیا تھا۔

(سبل الہدیٰ والرشاد جلد 7 صفحہ 406 الباب الرابع في بغالہ، وحميرهﷺ مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ بیروت 1993ء)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سات زرہیں تھیں۔ ان میں سے ایک کا نام ذَاتُ الْفُضُوْل تھا۔ یہ نام اسے اس کی لمبائی کی وجہ سے دیا گیا تھا اور یہ زرہ جو تھی حضرت سعد بن عُبادہؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تب بھجوائی تھی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بدر کی طرف روانہ ہو چکے تھے اور یہ زرہ لوہے کی تھی۔ یہ وہی زرہ تھی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو شَحْم یہودی کے پاس جَو کے عوض بطور رہن رکھوائی تھی اور جَو کا وزن تیس صاع تھا اور ایک سال کی مدت کے لیے بطور قرض لیا گیا تھا۔

(سبل الہدیٰ والرشاد جلد 7 صفحہ 368 الباب الرابع في دروعہ، ومغفره، وبيضتہ…… مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ بیروت 1993ء)

حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا حضرت علیؓ کے پاس ہوتا اور انصار کا جھنڈا حضرت سعد بن عُبادہؓ کے پاس ہوتا اور جب جنگ زوروں پر ہوتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انصار کے جھنڈے تلے ہوتے۔

(مسند احمد بن حنبل جلد 1 صفحہ 917 مسند عبد اللہ بن عباس حدیث 3486 مطبوعہ عالم الکتب بیروت 1998ء)

یعنی دشمنوں کا جو زیادہ تر زور تھا انصار کی طرف ہوتا تھا کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی وہیں ہوتے تھے۔

حضرت اسامہ بن زیدؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک گدھے پر سوار ہوئے جس پر فَدک کی بنی ہوئی کملی ڈالی ہوئی تھی اور آپؐ نے حضرت اسامہ بن زیدؓ کو پیچھے بٹھا لیا۔ حضرت سعد بن عُبادہؓ کی عیادت کو جا رہے تھے کیونکہ حضرت سعد بن عُبادہؓ ان دنوں میں بیمار تھے، جو بنو حارث بن خزرج کے محلے میں تھے۔ یہ واقعہ غزوۂ بدر سے پہلے کا ہے۔ حضرت اسامہؓ کہتے تھے کہ چلتے چلتے آپؐ ایک ایسی مجلس کے پاس سے گزرے جس میں عبداللہ بن اُبی بن سلول تھا اور یہ اس وقت کا واقعہ ہےکہ عبداللہ بن اُبی بن سلول جو تھا ابھی مسلمان نہیں ہوا تھا اور یہ وہی واقعہ ہے جس میں عبداللہ بن اُبی بن سلول نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بدتمیزی کا رویہ دکھایا تھا۔ بہرحال جب آپؐ سواری کے جانور پر بیٹھے ہوئے جا رہے تھے تو اس کی گرد، مٹی اڑی اور اس مجلس پر پڑی۔ وہ لوگ کنارے سڑک کے بیٹھے ہوں گے تو عبداللہ بن ابی بن سلول نے اپنی چادر سے اپنی ناک کو ڈھانکا اور کہنے لگا کہ ہم پر گرد نہ اڑاؤ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو السلام علیکم کہا اور ٹھہر گئے۔ جب اس نے یہ بات کی ہے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سواری کو کھڑا کر لیا۔ ٹھہر گئے اور السلام علیکم کہا اور گدھے سے اترے۔ آپؐ نے ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلایا اور انہیں قرآن پڑھ کر سنایا۔ عبداللہ بن اُبی بن سلول نے کہا اے مرد! جو بات تم کہتے ہو اس سے اچھی کوئی بات نہیں۔ اگر یہ سچ ہے تو ہماری مجلس میں آ کر اس سے تکلیف نہ دیا کرو۔ ہماری مجلس میں آنے کی ، یہ باتیں کہنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ مختصر پہلے بھی ایک دفعہ میں یہ بیان کر چکا ہوں۔ اپنے ٹھکانے پر ہی واپس جاؤ۔ پھر جو تمہارے پاس آئے اسے بیان کرو۔ حضرت عبداللہ بن رواحہؓ بھی وہاں بیٹھے ہوئے تھے، مسلمان ہو چکے تھے، صحابی تھے انہوں نے یہ سن کر کہا کہ نہیں یا رسول اللہ ! آپؐ ہماری ان مجلسوں میں ہی آکر ہمیں پڑھ کر سنایا کریں۔ ہمیں تو یہ بات پسند ہے۔ اس پر مسلمان، مشرک اور یہودی ایک دوسرے کو برا بھلا کہنے لگے۔ قریب تھا کہ ایک دوسرے پر حملہ کرتے مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا جوش دبایا۔ آخر وہ رک گئے۔اس کے بعد پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے جانور پر سوار ہو کر چلے گئے یہاں تک کہ حضرت سعد بن عُبادہؓ کے پاس آئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا سعد! کیا تم نے سنا جو ابو حباب نے کہا۔ آپؐ کی مراد عبداللہ بن اُبَیبن سلول سے تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس نے مجھے یوں یوں کہا ہے۔ حضرت سعد بن عُبادہؓ نے کہا یا رسول اللہ ! آپؐ اس کو معاف کر دیں اور اس سے درگزر کیجیے۔ اس ذات کی قسم ہے جس نے آپ پر کتاب نازل فرمائی ہے۔ اللہ وہ حق اب یہاں لے آیا ہے جس کو اس نے آپؐ پر نازل کیا ہے۔ اس بستی والوں نے تو یہ فیصلہ کیا تھا کہ اس کو یعنی عبداللہ بن ابی بن سلول کو سرداری کا تاج پہنا کر عمامہ اس کے سر پر باندھیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے اس حق کی وجہ سے جو اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو عطا کیا ہے یہ منظور نہ کیا تو وہ حسد کی آگ میں جل گیا۔ اس لیے اس نے وہ کچھ کیا جو آپؐ نے دیکھا یعنی وہ سردار بننے والا تھا اور آپؐ کے آنے سے اس کی سرداری جاتی رہی۔ اس وجہ سے اس کو حسد ہے۔ آپؐ سے جلن ہے اور اس نے یہ سب کچھ کہا ہے۔ یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے درگزر کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے صحابہ مشرکوں اور اہل کتاب سے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا درگزر کیا کرتے تھے اور ان کی ایذا دہی پر صبر کیا کرتے تھے۔ اللہ عزّوجل نے فرمایا ہے

لَتُبْلَوُنَّ فِیْ اَمْوَالِكُمْ وَاَنْفُسِكُمْ وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوْا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَمِنَ الَّذِيْنَ اَشْرَكُوْا اَذًى كَثِيْرًا۔ وَاِنْ تَصْبِرُوْا وَتَتَّقُوْا فَاِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ(آل عمران:187)

کہ تم ضرور اپنے اموال اور اپنی جانوں کے معاملے میں آزمائے جاؤ گے اور تم ضرور ان لوگوں سے جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی اور ان سے جنہوں نے شرک کیا بہت تکلیف دہ باتیں سنو گے اور اگر تم صبر کرو اور تقویٰ اختیار کرو تو یقینا ًیہ ایک بڑا ہمت والا کام ہے۔ اور پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ

وَدَّ كَثِيْرٌ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَوْ يَرُدُّوْنَكُمْ مِّنْ بَعْدِ إِيْمَانِكُمْ كُفَّارًا حَسَدًا مِّنْ عِنْدِ أَنْفُسِهِمْ مِّنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْحَقُّ فَاعْفُوْا وَاصْفَحُوْا حَتّٰى يَأْتِيَ اللّٰهُ بِأَمْرِهِ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ(البقرة: 110)

اہل کتاب میں سے بہت سے لوگ بعد اس کے کہ حق ان پر خوب کھل چکا ہے اس حسد کی وجہ سے جو ان کی اپنی ہی جانوں سے پیدا ہوا ہے چاہتے ہیں کہ تمہارے ایمان لے آنے کے بعد تمہیں پھر کافر بنا دیں پس تم اس وقت تک کہ اللہ اپنے حکم کو نازل فرمائے انہیں معاف کرو اور ان سے درگزر کرو اور اللہ یقیناً ہر ایک امر پر پورا پورا قادر ہے۔

اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عفو کو ہی مناسب سمجھتے تھے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو حکم دیا تھا۔ آخر اللہ نے ان کو اجازت دے دی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے مقام پر ان کا یعنی کافروں کا مقابلہ کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس لڑائی میں کفار کے، قریش کے بڑے بڑے سرغنے مار ڈالے تو عبداللہ بن اُبی بن سلول اور جو اس کے ساتھ مشرک اور بت پرست لوگ تھے تب وہ کہنے لگے کہ اب تو یہ سلسلہ شان دار ہو گیا ہے۔ کافروں کی یہ شکست دیکھ کر تب ان کو یقین آیا انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام پر قائم رہنے کی بیعت کر لی اور مسلمان ہوگئے۔

(صحیح البخاری کتاب التفسیر،تفسیر آل عمران حدیث 4566)

غزوۂ بدر کے موقعے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب صحابہؓ سے مشاورت کی تو حضرت سعد بن عُبادہؓ نے اس موقع پر جو کہا اس کے بارے میں ایک روایت میں تذکرہ ملتا ہے۔ حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب ابوسفیان کے آنے کی خبر ملی تو آپؐ نے مشورہ کیا۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت ابوبکرؓ نے گفتگو کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اعراض فرمایا۔ پھر حضرت عمرؓ نے گفتگو کی، مشورے دینے چاہے۔ آپؐ نے ان سے بھی اعراض فرمایا۔ پھر حضرت سعد بن عُبادہؓ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہؐ !آپؐ ہم سے مشورہ طلب کرتے ہیں۔ اس ذات کی قَسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر آپؐ ہمیں سمندر میں گھوڑے ڈالنے کا حکم دیں تو ہم انہیں ڈال دیں گے۔ اگر آپ ہمیں بَرْکُ الْغِمَادْ،یمن کا ایک شہر ہے جومکے سے پانچ رات کی مسافت پر سمندر کے کنارے واقع ہے، اس تک ان کے جگر مارنے کا حکم دیں تو ہم ایسا ضرور کریں گے۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو بلایا۔ وہ چلے یہاں تک کہ بدر میں اترے۔ یہ بات سن کے پھر آپؐ اپنے ساتھیوں کو ہمراہ لے کر چلے اور بدر کے مقام تک پہنچے۔ وہاں قریش کے پانی لانے والے آئے اور ان میں بنو حجاج کا ایک سیاہ لڑکا بھی تھا۔ انہوں نے اسے پکڑ لیا یعنی مسلمانوں نے اسے پکڑ لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ اس سے ابوسفیان اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں پوچھتے رہے۔ کیونکہ پہلے یہی پتا لگا تھا کہ ابوسفیان اپنے ایک بڑے لشکر کے ساتھ یا شاید گروہ کے ساتھ آ رہا ہے۔ بہرحال ان سے ابو سفیان کے بارے میں پوچھتے رہے۔ وہ یہ کہتا رہا کہ مجھے ابوسفیان کے بارے میں کچھ علم نہیں لیکن یہ ابوجہل اور عُتبہ اور شَیبہ اور اُمیہ بن خلف ہیں۔ یہ ضرور یہاں بیٹھے ہوئے ہیں، ابوجہل بھی ہے، عتبہ بھی ہے، شیبہ بھی ہے، امیہ بن خلف بھی ہے۔ جب اس نے یہ کہا تو انہوں نے اسے مارا۔ اس نے کہا اچھا میں تمہیں بتاتا ہوں۔ یہ ہے ابوسفیان یعنی کہ ابوسفیان بھی ان میں شامل ہے۔ جب انہوں نے اسے چھوڑ دیا اور اس سے پھر پوچھا تو اس نے کہا کہ مجھے ابوسفیان کا کوئی علم نہیں لیکن یہ ابوجہل اور عتبہ اور شیبہ اور امیہ بن خلف لوگوں میں موجود ہیں۔ یہ جو گروہ آیا ہوا ہے یا ایک لشکر بدر کے قریب ٹھہرا ہوا ہے اس میں یہ یہ لوگ موجود ہیں لیکن ابوسفیان نہیں ہے۔ جب اس نے ایسا کہا تو انہوں نے پھر اسے مارا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت کھڑے نماز پڑھ رہے تھے جب آپؐ نے یہ صورت دیکھی تو سلام پھیرا اور فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جب وہ تم سے سچ بولتا ہے تو تم اسے مارتے ہو اور جب وہ تم سے جھوٹ بولتا ہے تو تم اسے چھوڑ دیتے ہو۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ لڑکا جو کہہ رہا ہے ٹھیک کہہ رہا ہے۔ پھر فرمایا کہ یہ فلاں کے گرنے کی جگہ ہے۔ یعنی جو دشمنوں کے نام لیے تھے۔ اور بتایا کہ یہ بدر کا میدان ہے یہاں فلاں گرے گا۔ راوی کہتے ہیں آپؐ اپنا ہاتھ زمین پر رکھتے تھے کہ یہاں یہاں۔ راوی کہتے ہیں ان میں سے کوئی اپنی جگہ سے اِدھر اُدھر نہیں ہٹا یعنی جو دشمن تھے وہیں گرے اور مرے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ سے نشان دہی کی تھی۔

(صحیح مسلم کتاب الجھاد والسیر باب غزوہ بدر حدیث (1779)) (فرہنگ سیرت صفحہ57 مطبوعہ زوار اکیڈمی کراچی 2003ء)

غزوۂ احد سے قبل ایک جمعہ کی شام حضرت سعد بن مُعاؓذ، حضرت اُسَید بن حُضَیرؓ اور حضرت سَعد بن عُبادہؓ مسجد نبوی میں ہتھیار پہنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر صبح تک پہرہ دیتے رہے۔ غزوۂ احد کے لیے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینے سے نکلنے لگے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے اور کمان کندھے پر ڈال لی اور نیزہ اپنے ہاتھ میں لے لیا تو دونوں سعد یعنی حضرت سعد بن مُعاذؓ اور حضرت سعد بن عُبادہؓ آپؐ کے آگے آگے دوڑنے لگے۔ یہ دونوں صحابہ زرہ پہنے ہوئے تھے اور باقی لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں اور بائیں تھے۔

(الطبقات الکبریٰ لابن سعد جلد 2 صفحہ28تا30،غزوة رسول اللّٰہ احدًا مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت 1990ء)

حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے غزوۂ احد کے حالات بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ

’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کی ایک بڑی جماعت کے ہمراہ نماز عصر کے بعد مدینے سے نکلے۔ قبیلہ اوس اور خزرج کے رؤسا سعد بن مُعاذؓ اور سعد بن عُبادہؓ آپؐ کی سواری کے سامنے آہستہ آہستہ دوڑتے جاتے تھے اور باقی صحابہ آپؐ کے دائیں اور بائیں اور پیچھے چل رہے تھے۔‘‘

(سیرت خاتم النبیینﷺ از حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے ،صفحہ486)

غزوۂ احد کے موقعےپر جو صحابہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ثابت قدمی سے کھڑے رہے ان میں حضرت سعد بن عُبادہؓ بھی تھے۔

(سبل الہدیٰ والرشاد جلد 4صفحہ197 ذكر ثبات رسول اللّٰہ مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ بیروت 1993ء)

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوۂ احد سے مدینہ واپس تشریف لائے اور اپنے گھوڑے سے اترے تو آپ حضرت سعد بن مُعاذؓ اور حضرت سعد بن عُبادہؓ کا سہارا لیتے ہوئے اپنے گھر میں داخل ہوئے۔(سبل الہدیٰ والرشاد جلد 4 صفحہ 229 باب غزوہ اُحد ذكر رحيل رسول اللّٰهﷺ الى المدينۃ، دار الکتب العلمیۃ بیروت 1993ء)زخمی تھے۔ اس حالت میں جب اترے تو آپؐ نے ان دونوں کا سہارا لیا۔

حضرت جابر بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ غزوۂ حمراء الاسد میں ہمارا عام زادِ راہ کھجوریں تھیں۔ غزوۂ حمراء الاسد شوال 3ہجری میں ہوا۔ غزوۂ احد سے واپسی پر قریش کے لوگ روحاء مقام پر ٹھہرے جو مدینہ سے 36میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس جگہ قریش کو خیال آیا کہ مسلمانوں کو نقصان بہت پہنچا ہے۔ واپس جا کر مدینے پر اچانک حملہ کر دینا چاہیے اور مسلمان مقابلہ نہیں کر سکیں گے کیونکہ کافی ان کو نقصان پہنچ چکا ہے۔ ادھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قریش کے تعاقب میں نکلے اور حمراء الاسد مقام تک پہنچے۔ آپؐ کو بھی پتا لگا کہ یہ ارادہ ہے تو آپؐ نے کہا چلو ہم ان کے تعاقب میں چلتے ہیں۔ حمراء الاسد مدینہ سے ذوالحلیفہ کی جانب آٹھ میل کے فاصلے پر ہے۔ قریشی لشکر کو جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ خبر ملی تو وہ مکےکی طرف بھاگ کھڑا ہوا۔ جب انہوں نے دیکھا کہ مسلمان بجائے اس کے کہ کمزور ہوں یہ تو ہم پر حملہ کرنے آ رہے ہیں تو وہ دوڑ گئے۔ حضرت سعد بن عُبادہؓ تیس اونٹ اور کھجوریں لائے جو حمراء الاسد مقام تک ہمارے لیے وافر رہیں۔ راوی نے لکھا ہے وہ اونٹ بھی لے کر آئے تھے جو کسی دن دو یا کسی دن تین کر کے ذبح کیے جاتے تھے۔(سبل الہدیٰ والرشاد جلد 4صفحہ 310 الباب الرابع عشر في غزوة حمراء الأسد مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ بیروت 1993ء) (فرہنگ سیرت صفحہ106 مطبوعہ زوار اکیڈمی کراچی 2003ء) (سیرت خاتم النبیینؓ از حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ ایم۔اے صفحہ 354) (شرح الزرقانی جلد 2 صفحہ 464 باب غزوہ حمراء الاسد مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 1996ء) اور ان کو کھایا جاتا تھا۔

غزوۂ بنو نضیر، یہ غزوہ ربیع الاول 4؍ہجری میں ہوا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود کے قبیلہ بنونضیر کے قلعوں کا 15 روز تک محاصرہ کیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو خیبر کی طرف جلا وطن کر دیا تھا۔ اس موقع پر اموال غنیمت حاصل ہوا تو آپؐ نے حضرت ثابت بن قیس کو بلا کر فرمایا۔ میرے پاس اپنی قوم کو بلاؤ۔ حضرت ثابت بن قیس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا خزرج کو؟ آپؐ نے فرمایا نہیں تمام انصار کو بلاؤ۔ چنانچہ انہوں نے اوس اور خزرج کو آپؐ کے لیے بلایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی جس کا وہ اہل ہے۔ پھر آپؐ نے انصار کے ان احسانات کا ذکر کیا جو انہوں نے مہاجرین پر کیے ہیں۔ تم نے مہاجرین پر کس طرح احسان کیے ہیں کہ انہیں اپنے گھروں میں ٹھہرایا اور مہاجرین کو اپنے نفوس پر ترجیح دی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم پسند کرو تو میں بنو نضیر سے حاصل ہونے والے مال سے، وہ اموال غنیمت جو کفار سے جنگ کے بغیر مسلمانوں کو حاصل ہو، یہ وہ مال تھا، اس میں سے تم میں اور مہاجرین میں برابر تقسیم کر دوں۔ اس حالت میں مہاجرین حسبِ سابق تمہارے گھروں اور اموال میں رہیں گے اور اگر تم پسند کرو تو یہ اموال میں مہاجرین میں تقسیم کر دوں، یعنی آدھا آدھا تقسیم کروں تو ٹھیک ہے جس طرح تم پہلے ان سے سلوک کر رہے ہو مہاجرین سے کرتے رہو، تمہارے گھروں میں بھی رہتے رہیں گے۔ مؤاخات قائم رہے گی جس طرح یہ سلسلہ چل رہا ہے ۔ لیکن اگر تم پسند کرو تو یہ اموال میں مہاجرین میں تقسیم کر دوں جس کے نتیجہ میں وہ تمہارے گھروں سے نکل جائیں گے۔ مال سارا ان کو مل جائے گا لیکن وہ تمہارے گھروں سے پھر نکل جائیں گے۔ کوئی حق نہیں رہے گا جو پہلے ایک قائم کیا گیا تھا ۔ اس پر حضرت سعد بن عُبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت سعد بن مُعاذؓ دونوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپؐ یہ اموال مہاجرین میں تقسیم فرما دیں اور وہ ہمارے گھروں میں اسی طرح ہوں گے جیسا کہ پہلے تھے۔ ہمیں کوئی ضرورت نہیں۔ آپ یہ تمام مال انہی میں تقسیم کر دیں۔ انصار کو دینے کی ضرورت نہیں ہے لیکن ان کا جو حق ہے اور مہاجرین اور انصار کی جو مؤاخات قائم ہوئی ہوئی ہے، جو حق ہے ہمارے گھروں میں آنے جانے کا، رہنے کا وہ بھی اسی طرح قائم رہے گا اور انصار نے بآواز بلند عرض کی کہ یا رسول اللہ !ہم راضی ہیں اور ہمارا سر ِتسلیم خم ہے۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ! انصار اور انصار کے بیٹوں پر رحم فرما۔

اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو مالِ فَے عطا فرمایا وہ آپ نے مہاجرین میں تقسیم فرمایا اور انصار میں سے دو صحابہ کے علاوہ کسی کو کچھ نہ دیا وہ دونوں صحابہ جو انصار کے تھے ضرورت مند تھے وہ دونوں حضرت سہل بن حُنیفؓ اور حضرت ابو دجانہؓ تھے اور آپ نے حضرت سعد بن مُعاذؓ کو ابن ابی حقیق کی تلوار عطا فرمائی۔

(سبل الہدیٰ والرشاد جلد 4 صفحہ 325 ذكر خروج بني النضير من أرضهم مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ بیروت 1993ء) (اٹلس سیرتِ نبویﷺ صفحہ 264-265 دار السلام 1424ھ) (عمدة القاری شرح صحیح البخاری جلد 12 صفحہ 204 کتاب الوکالۃ مطبوعہ دار احیاء التراث بیروت 2003ء)

حضرت سعدؓ کی والدہ حضرت عَمرہ بنت مسعودؓ جو صحابیات میں سے تھیں ان کی وفات اس وقت ہوئی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوۂ دومۃ الجندل کے لیے تشریف لے گئے تھے۔ یہ غزوہ ربیع الاول 5ہجری میں ہوا تھا۔ حضرت سعدؓ اس غزوہ میں آپؐ کے ہم رکاب تھے۔

سعید بن مُسَیَّبؓ سے مروی ہے کہ حضرت سعد بن عُبادہؓ کی والدہ کی وفات اس وقت ہوئی جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے باہر تھے۔ سعد نے عرض کیا کہ میری والدہ کی وفات ہو گئی ہے اور میں چاہتا ہوں کہ آپؐ ان کی نماز ِجنازہ پڑھائیں۔ آپؐ نے نماز جنازہ پڑھائی حالانکہ انہیں فوت ہوئے ایک مہینہ ہو چکا تھا۔ ایک مہینے کے بعد انہیں خبر پہنچی تھی۔ حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ سعد بن عُبادہؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک نذر کے بارے میں پوچھا جو ان کی والدہ پر تھی اور وہ اس کو پورا کرنے سے پہلے ہی وفات پا گئی تھیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم ان کی طرف سے اسے پورا کرو۔

حضرت سعید بن مسیّبؓ سے مروی ہے کہ حضرت سعد بن عُبادہؓ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ میری والدہ کی وفات ہو گئی ہے۔ انہوں نے وصیت نہیں کی تھی۔ اگر مَیں ان کی طرف سے صدقہ دوں تو کیا وہ انہیں مفید ہو گا؟ آپؐ نے فرمایا ہاں۔ انہوں نے عرض کیا کہ کون سا صدقہ آپؐ کو زیادہ پسند ہے؟ آپؐ نے فرمایا پانی پلاؤ۔

(الطبقات الکبریٰ لابن سعد جلد 3 صفحہ461-462 سعد بن عُبادہ مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 1990ء)

لگتا ہے اس وقت پانی کی کمی تھی۔ کافی ضرورت تھی۔ بہرحال ایک روایت میں ہے کہ اس پر حضرت سعدنے ایک کنواں کھدوایا اور کہا کہ یہ ام سعد کی خاطر ہے۔ ان کے نام پر وہ جاری کر دیا۔

علامہ ابوطیب شمس الحق عظیم آبادی ہیں انہوں نے ابوداؤد کی شرح میں لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو یہ فرمایا کہ سب سے افضل صدقہ پانی ہے یعنی حضرت سعدؓ کو کہا کہ پانی پلاؤ ۔اس کی وجہ یہ تھی کہ ان ایام میں پانی کم یاب تھا یا اس لیے کہ پانی کی ضرورت عام طور پر تمام اشیا ء کی نسبت سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ پھر لکھتے ہیں کہ پانی کا صدقہ آپؐ نے اس لیے بھی افضل قرار دیا کیونکہ یہ دینی اور دنیاوی معاملات میں بالخصوص ان گرم ممالک میں سب سے زیادہ نفع رساں چیز ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اس احسان کا ذکر فرمایا ہے کہ وَأَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً طَهُورًا کہ اور ہم نے آسمان سے پاکیزہ پانی اتارا۔ وہاں مدینے میں پانی افضل ترین تھا۔ گرمی کی شدت کی وجہ سے عمومی ضرورت اور پانی کی کم یابی کی وجہ سے اس کو بہت قیمتی سمجھا جاتا تھا۔

(عون المعبود شرح سنن ابی داؤد جلد 3 صفحہ 65-66 کتاب الزکاۃ باب فی فضل سقی الماء مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 2002ء)

اور پانی کو تو آج بھی قیمتی سمجھا جاتا ہے۔ اس کے لیے حکومتیں بھی کہتی رہتی ہیں۔ خیال بھی رکھنا چاہیے۔ بہرحال انہوں نے صرف اسی پر بس نہیں کیا کہ پانی کا کنواں کھود دیا۔ حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سعد بن عُبادہؓ جو بنو ساعِدہ میں سے تھے ان کی والدہ فوت ہو گئیں اور اس وقت وہ موجود نہ تھے۔ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے انہوں نے کہا یا رسول اللہؐ! میری والدہ فوت ہو گئی ہیں اور میں اس وقت ان کے پاس موجود نہ تھا۔ یہ آنے کے بعد پتا لگا ہو گا۔ پہلے شاید میں نے سفر میں کہہ دیا تھا ۔ بہرحال سفر میں پتا لگا یا آنے کے بعد پتا لگا لیکن بہرحال وہ موجود نہیں تھے۔ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور اس وقت یہ عرض کیا کہ مَیں موجود نہیں تھا تو کیا میرا ان کی طرف سے کچھ صدقہ کرنا ان کو نفع دے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں۔ تو انہوں نے عرض کیا کہ یارسول اللہؐ! پھر میں آپؐ کو گواہ ٹھہراتا ہوں کہ میرا باغ مِخْرَاف ہے وہ ان کی طرف سے صدقہ ہے۔

(صحیح البخاری کتاب الوصایا،باب الاشھاد فی الوقف والصدقۃ حدیث 2762)

صدقہ اور خیرات اور غریبوں کی مدد میں بڑا کھلا دل رکھتے تھے اور بڑا کھلا ہاتھ رکھتے تھے۔ ابھی ان کا ذکر چل رہا ہے۔ ان شاء اللہ آئندہ بیان ہو گا۔

(الفضل انٹرنیشنل 17؍جنوری 2020ء صفحہ 5تا9)

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close