حضرت مصلح موعود ؓ

تقدیر الٰہی (قسط نمبر 11)

از: حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ

تقدیر کس طرح ٹل سکتی ہے؟(حصہ دوم)

خاص تقدیر کے خاص تقدیر سے بدلنے کی مثال آتھم کا واقعہ ہے۔ اس نے اپنی کتب میں اور زبانی طور پر رسول کریم ﷺ کی ہتک کرنی چاہی اور آپؐ کو (نعوذباللہ من ذالک) دجال کہا اور پھر اس پر ضد کی اور اصرار کیا اور آپؐ کے نائب اور اللہ تعالیٰ کے مامور مسیح موعودؑ سے مباحثہ کیا اس پر خدا تعالیٰ کی تقدیر جاری ہوئی کہ اگر وہ حق کی طرف رجوع نہیں کرے گا تو پندرہ ماہ کے اندر ہاویہ میں گرایا جائے گا۔ یہ خاص تقدیر تھی لیکن جب وہ ڈر گیا اور اس نے علی الاعلان کہا کہ میں محمد (ﷺ) کی نسبت یہ الفاظ استعمال نہیں کرتا اور بدزبانی چھوڑ کر خاموشی اختیار کر لی تو یہ تقدیر ٹلا دی گئی۔ اگر کوئی تلوار لے کر کسی پر حملہ کرے اور کہے کہ چونکہ تم مجھ سے لڑتے ہو۔ اس لیے میں بھی تمہارے قتل کے لیے کھڑا ہوں اور اب میں تم کو قتل کر دوں گا۔ اس پر حملہ آور اپنی تلوار نیچی کر لے تو یہی اس کا لڑائی سے رجوع سمجھا جائے گا۔ اور یہ ضروری نہیں ہوگا کہ وہ بغل گیر بھی ہو جائے۔ ہمارے مخالفین کہتے ہیں کہ آتھم کے متعلق رجوع الیٰ الحق کی شرط تھی جس کا یہ مطلب ہے کہ وہ اسلام لائے۔ ہم کہتے ہیں کہ رجوع الیٰ الحق کے اندر تو رسول کریم ﷺ کا مقام بھی آجاتا ہے اس کے معنی یہی نہیں ہیں کہ انسان گمراہی سے حق کی طرف آئے بلکہ حق کی طرف بار بار توجہ کرنا بھی رجوع الیٰ الحق کہلاتا ہے تو کیا پھر اس رجوع الیٰ الحق کے یہ معنی کیے جاویں گے کہ آتھم نبیوں کے مقام کو پہنچ جائے تب اسے معاف کیا جائے گا۔ دراصل رجوع الیٰ الحق کے کئی درجے ہیں۔ مسلمان ہونا، حضرت مسیح موعودؑ کو مان لینا، شہداء میں داخل ہونا، صدیق بننا، مگر یہ بھی رجوع الیٰ الحق ہے جو رسول کریم ﷺ کو گالیاں دیتا ہو اس کا رک جانا۔ اور یہ رجوع الیٰ الحق آتھم نے کیا اور اس کا فائدہ اٹھایا۔ اس کے متعلق جو خاص تقدیر جاری ہوئی تھی اسے دوسری تقدیر خاص نے ٹلا دیا اور خدا تعالیٰ کی صفت رحم نے اپنا غلبہ ثابت کر دیا۔

تقدیر کے ٹلنے کا پیشگوئیوں سے تعلق

چونکہ پیشگوئیوں سے نبوت کی صداقت کا بہت بڑا تعلق ہوتا ہے اور ان کے ٹلنے سے دشمنان انبیاء کو شور کا موقع ملتا ہے اور پیشگوئیاں مسئلہ تقدیر کی ہی ایک شاخ ہیں اس لیے میں بتاتا ہوں کہ تقدیر اور پیشگوئیوں کا کیا تعلق ہے؟ یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ پیشگوئیاں دو طرح کی ہوتی ہیں۔ ایک علم ازلی کے اظہار کے لیے اور ایک قدرت کے اظہار کے لیے۔ تقدیر کے اس پہلو کے نہ سمجھنے کی وجہ سے عام مسلمانوں نے اسی طرح بڑے بڑے دھوکے کھائے ہیں جس طرح تقدیر کے ایک اور پہلو کو نہ سمجھنے سے ہندوؤں نے۔ اہل ہنود کا تناسخ کا مسئلہ بھی تقدیر کے نہ سمجھنے کی وجہ سے ہے۔ وہ کہتے ہیں ایک بچہ کیوں اندھا پیدا ہوتا ہے؟ اسی لیے کہ اس نے پہلے کچھ ایسے کام کیے تھے جن کی سزا اسے دی گئی۔ حالانکہ بات یہ ہے کہ تقدیر دو قسم کی ہے ایک شرعی اور دوسری طبعی۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک بچہ لولا لنگڑا کیوں پیدا ہوتا ہے؟ کیا خدا ظالم ہے کہ بلا قصور اس کو عیب دار پیدا کر دیتا ہے؟ اس سے وہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ اس نے ضرور کسی پہلے زمانہ میں ایسے عمل کیے ہوں گے جن کی سزا میں اسے ایسا بنایا گیا ہے۔ مگر یہ دھوکا انہیں دو غلطیوں کی وجہ سے لگا ہے۔ اول یہ کہ انہوں نے تقدیر کی اقسام کو نہیں سمجھا۔ تقدیر جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں دو قسم کی ہوتی ہے ایک طبعی اور ایک شرعی۔ شرعی تقدیر کا اثر شرعی احکام کے بجا لانے یا ان کے توڑنے پر ظاہر ہوتا ہے اور طبعی تقدیر کا اثر اس کے احکام کے بجالانے یا ان کے توڑنے پر ظاہر ہوتا ہے۔ بچے جو اندھے پیدا ہوتے ہیں یا اپاہج پیدا ہوتے ہیں وہ شرعی تقدیر نہیں بلکہ طبعی تقدیر کے ٹوٹنے کی وجہ سے اندھے یا اپاہج ہوتے ہیں۔ طب سے ہمیں یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ماں باپ کے پرہیز کا اثر بھی اور ان کی بد پرہیزی کا اثر بھی بچوں پر پڑتا ہے۔ بعض عورتوں کے رحم میں کمزوری ہوتی ہے تو ان کے بچے ہمیشہ اپاہج اور عیب دار پیدا ہوتے ہیں۔ خصوصاً بعض بیماریاں تو بچوں پر بہت ہی برا اثر کرتی ہیں۔ مثلاً سل، خنازیری مادہ، آتشک، ہسٹیریا، جنون وغیرہ۔ پس بچہ کا عیب دار اور ناقص ہونا کسی پچھلے گناہ کی سزا میں نہیں ہوتا بلکہ اس کے ماں باپ کے کسی جسمانی نقص کی وجہ سے ہوتا ہے یا ایام حمل کی بعض بدپرہیزیوں کے سبب سے ہوتا ہے۔ اور چونکہ بچہ کی پیدائش ماں باپ کے ہی جسم سے ہوتی ہے اس لیے ان کے جسمانی عیوب یا جسمانی خوبیوں کا وارث ہونا اس کے لیے ضروری ہے۔ کیونکہ بچہ ماں باپ کے اثر سے تبھی متاثر نہ ہوگا جب خدا تعالیٰ قانون قدرت کو اس طرح بدل دے کہ ایک شخص کے کام کا اثر دوسرے پر نہ پڑے۔ اور اگر یہ قانون جاری ہو جائے تو سمجھ لو کہ موجودہ کارخانہ عالم بالکل درہم برہم ہو جائے۔ کیونکہ تمام کارخانہ عالم اسی قانون پر چل رہا ہے کہ ایک چیز دوسری کے نیک یا بداثر کو قبول کرتی ہے۔

دوسری وجہ جس سے اہل ہنود کو اس مسئلہ کے سمجھنے میں غلطی لگی ہے یہ ہے کہ انہوں نے خیال کیا ہے کہ روحیں کہیں جمع کر کے رکھی ہوئی ہیں اور اللہ تعالیٰ پکڑ پکڑ کر ان کو عورتوں کے رحم میں ڈالتا ہے۔ حالانکہ اس سے بیہودہ عقیدہ اور کوئی نہیں ہوسکتا کیونکہ اس عقیدہ کو مان کر پھر یہ بھی ماننا پڑے گا کہ انسان کے اعمال بھی اللہ تعالیٰ ہی کرواتا ہے۔ کیونکہ ایک روح کے جسم میں آنے کا اگر وقت آگیا اور اس وقت وہ شخص جس کا پیدا کرنا منظور ہو وہ کہیں سفر پر گیا ہوا ہو یا اس نے شادی ہی نہ کی ہو تو پھر وہ روح کیونکر آسکتی ہے۔ پس اس عقیدہ کے ساتھ ہی یہ بھی ماننا پڑے گا کہ تمام اعمال انسان سے اللہ تعالیٰ ہی کراتا ہے اور تمام دنیاوی اعمال بھی خدا تعالیٰ کے حکم سے مجبور ہو کر اسے کرنے پڑتے ہیں۔ اور اس طرح انسان کی وہ آزادیٔ عمل جس کی وجہ سے وہ جزاء و سزا کا مستحق ہوتا ہے برباد ہو جاتی ہے۔ دوسرا نقص اس عقیدہ کی وجہ سے یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس سے ایک مشاہدہ شدہ امر کا انکار کرنا پڑتا ہے اور وہ یہ ہے کہ درحقیقت روح نتیجہ ہے اس تغیر کا جو نطفہ رحم مادر میں پاتا ہے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ اس تغیر کے نقص کی وجہ سے بچہ بے جان رہتا ہے یا جان پڑ کر پھر رحم مادر ہی میں نکل جاتی ہے۔ پس اس عقیدہ کو مان کر کہ ارواح خدا تعالیٰ نے جمع کر کے رکھی ہوئی ہیں۔ اس مشاہدہ کا بھی انکار کرنا پڑتا ہے اور مشاہدات کا انکار ایک عقلمند انسان کے لیے بالکل ناممکن ہے۔ (اس مسئلہ کی تفصیل حضرت صاحبؑ کی کتاب براہین احمدیہ حصہ پنجم میں ضرور دیکھنی چاہیے)

عام مسلمانوں کو بھی پیشگوئیوں کو سمجھنے میں ایسا ہی دھوکا لگا ہے مگر ہندوؤں کو تقدیر طبعی اور تقدیر شرعی میں فرق نہ سمجھنے کی وجہ سے دھوکا لگا ہے اور مسلمانوں کو علم الٰہی اور تقدیر الٰہی میں فرق نہ سمجھنے کی وجہ سے دھوکا لگا ہے کیونکہ جیسا کہ میں بتا چکا ہوں جس طرح تقدیر دو قسم کی ہوتی ہے۔ اسی طرح پیشگوئیاں بھی دو قسم کی ہوتی ہیں۔ ایک پیشگوئیاں وہ ہوتی ہیں جن میں اللہ تعالیٰ کے ازلی علم کو ظاہر کیا جاتا ہے اور دوسری وہ پیشگوئیاں ہوتی ہیں جن میں خدا تعالیٰ کی قدرت کے ماتحت ایک حکم کا اظہار کیا جاتا ہے۔ جو پیشگوئیاں کہ علم ازلی کے ماتحت ہوتی ہیں وہ کبھی نہیں ٹلتیں۔ کیونکہ اگر وہ ٹل جائیں تو اس کے یہ معنی ہوئے کہ خدا کا علم ناقص ہوگیا۔ لیکن وہ پیشگوئیاں جو خدا تعالیٰ کی قدرت اور طاقت کے اظہار کے لیے ہوتی ہیں وہ کبھی ٹل بھی جاتی ہیں اور جو پیشگوئیاں ٹلتی ہیں وہ وہی ہوتی ہیں جو خداتعالیٰ کی صفت قدیر کے ماتحت ہوتی ہیں۔ اور جو صفت علیم کے ماتحت ہوتی ہیں وہ کبھی نہیں ٹلتیں۔

پیشگوئیاں کیوں ٹلتی ہیں؟

جو پیشگوئیاں ٹلتی ہیں ان کی کئی قسمیں ہیں۔

(1)یہ کہ جن حالات میں سےانسان گزر رہا ہے ان کے نتیجہ سے انسان کو اطلاع دی جاتی ہے۔
یعنی تقدیر عام کے ماتحت جو نتائج نکلتے ہوں ان سے اطلاع دی جاتی ہے مثلاً ایک شخص ہے جو ایسی جگہ جا رہا ہے جہاں طاعون کے کیڑے ہوں۔ اور اس کے جسم میں ان کو قبول کرنے کی طاقت بھی ہو اور کوئی ایسے سامان بھی نہ ہوں جن کو استعمال کر کے وہ ان کے اثر سے بچ سکتا ہو اسے خدا تعالیٰ یہ خبر ایسے رنگ میں دے کہ وہ شخص دیکھے کہ اس کو طاعون ہوگئی ہے تا وہ اس نظارہ سے متاثر ہو کر ایسی جگہ جانے کا ارادہ چھوڑ دے جہاں طاعون ہے یا اگر ایسی جگہ موجود ہے تو ان احتیاطوں کو برتنا شروع کر دے جن سے طاعون کی روک تھام ہوسکتی ہے۔ اگر وہ ایسا کرے گا تو وہ طاعون سے بچ جائے گا۔ اور اس کی رؤیا جھوٹی نہ کہلائے گی بلکہ بالکل سچی ہوگی۔

(2)دوسری صورت یہ ہوتی ہے کہ انسان کے روحانی یا اخلاقی حالات کے ماتحت جو تقدیر خاص جاری ہونی ہو اس سے اطلاع دے دی جاتی ہے۔

(3)تقدیر مبرم یعنی اٹل تقدیر سے اطلاع دی جاتی ہے۔

ان تینوں صورتوں میں سے اول الذکر اور ثانی الذکر تو کثرت سے بدل جاتی ہیں لیکن آخری تقدیر نہیں بدلتی۔ ہاں کبھی کبھی خاص حالات میں وہ بھی بدل جاتی ہے۔

اب میں بتاتا ہوں کہ پہلی پیشگوئی کیوں اور کس طرح بدلتی ہے؟ سو یاد رکھنا چاہیے کہ پیشگوئی نام ہے اظہار تقدیر کا۔ یعنی جو کچھ کسی شخص کے طبعی حالات یا شرعی حالات کے مناسب حال معاملہ ہونا ہوتا ہے اسے اگر ظاہر کر دیا جائے تو اسے پیشگوئی کہتے ہیں۔ اس حقیقت کو مدنظر رکھ کر اب دیکھنا چاہیے کہ پہلی قسم پیشگوئی کی یہ تھی کہ کسی شخص کو اس کے طبعی حالات کا نتیجہ بتا دیا جائے ۔ مثلاً یہ بتا دیا جائے کہ اس وقت اس کی جسمانی صحت ایسی ہے کہ اس کا نتیجہ موت ہوگا۔ اب فرض کرو کہ اس کو یہ خبر نہ دی جاتی اور وہ اپنی جسمانی صحت کا فکر کرنے لگ جاتا اور احتیاط برتنی شروع کر دیتا تو کیا اس نتیجہ سے بچ جاتا یا نہیں۔ پھر اگر خدا تعالیٰ نے اسے قبل از وقت خبر دے دی تو اس کا وہ حق جو بصورت تبدیلی حالت اس کو حاصل تھا کسی وجہ سے ضائع ہوگیا۔ ضرور ہے کہ اگر وہ پورے طور پر ان ذرائع کو استعمال کرے جن سے ان حالات کو جن کے بدنتائج اس کو پہنچنے والے ہیں وہ بدل سکے تو پھر وہ مصیبت سے بچ جائے اور ہلاکت سے محفوظ ہو جائے۔

تقدیر عام کے ماتحت ہونے والے واقعات تقدیر خاص کے ماتحت بھی بدل جاتے ہیں۔ پس کبھی وہ پیشگوئی جو تقدیر عام کے ماتحت کی گئی تھی۔ تقدیر خاص سے بھی ٹل سکتی ہے۔ مثلاً ایک شخص کو بتایا جائے کہ اس کے گھر میں کوئی موت ہونے والی ہے۔ اور وہ خاص طور پر صدقہ اور دعا سے کام لے تو بالکل ممکن ہے کہ وہ موت ٹل جاوے۔ اس قسم کی پیشگوئی کی مثال بالکل ایسی ہے جیسے کوئی شخص ایسی جگہ جا رہا ہو جس کا حال اسے معلوم نہ ہو اور سخت تاریکی ہو کچھ نظر نہ آتا ہو اور اس کے سامنے ایک گڑھا ہو جس میں اس کا گرجانا اگر وہ اپنے راستہ پر چلتا جائے یقینی ہو۔ اور ایک واقف شخص اسے دیکھ کر کہے کہ میاں کہاں جاتے ہو گرو گے یا یہ فقرہ کہے کہ تمہاری موت آئی ہے۔ اس پر وہ شخص گڑھے تک جا کر واپس آجائے اور آکر اس شخص کو کہے کہ تم بڑے جھوٹے ہو میں تو نہیں گرا اور نہیں مرا۔ وہ یہی کہے گا کہ اگر تم جاتے تو گرتے۔ جب گئے نہیں تو گرتے کیوں؟ اور دوسرے لوگ بھی ایسے شخص کو ملامت کریں گے کہ کیا اسے جھوٹ کہتے ہیں۔ تو اپنی جان بچانے کے احسان کا بدلہ اس نامعقول طور پر دیتا ہے۔ یہ تو تقدیر عام کو تقدیر عام سے بدلنے کی مثال ہے۔ اور تقدیر خاص کی مثال یہ ہے کہ مثلاً وہ شخص جسے دوسرے آدمی نے کہا تھا کہ تو مرے گا، یا گرے گا، وہ اس تنبیہ کرنے والے شخص کو کہے کہ مجھے کام ضروری ہے مہربانی فرما کر کوئی مدد ہوسکے تو کرو۔ اور وہ تنبیہ کرنے والا شخص کوئی بڑا تختہ لا کر گڑھے پر رکھ دے جس پرسے وہ گزر جائے۔ کیا اس صورت میں بھی یہ ممکن ہے کہ اس شخص کو کوئی کہے کہ تم نے جھوٹ بولا تھا۔ یہ شخص تو گڑھے پر سے سلامت گزر آیا۔ اس میں کیا شک ہے کہ اگر وہ شخص اطلاع نہ دیتا تو یہ اندھیرے کی وجہ سے گڑھے میں گر کر ہلاک ہو جاتا۔ اور اگر وہ مدد نہ کرتا تو یہ گڑھے پر سے کبھی پار نہ ہوسکتا۔

اسی طرح کبھی اللہ تعالیٰ بھی خبر دیتا ہے کہ فلاں مصیبت فلاں شخص پر آنے والی ہے اور اس سے غرض اس شخص یا اس کے رشتہ داروں کو متنبہ کرنا ہوتا ہے کہ ان کے موجودہ حالات کا نتیجہ اس طرح نکلنے والا ہے۔ جب وہ ان حالات کو بدل دیتے ہیں یا حالات نہیں بدل سکتے تو خدا تعالیٰ سے عاجزانہ طور پر اس کی مدد چاہتے ہیں تو پھر وہ مصیبت بھی ٹل جاتی ہے۔ اور کوئی عقلمند انسان اس اطلاع کو جھوٹی نہیں کہہ سکتا نہ خدا تعالیٰ پر جھوٹ کا الزام لگا سکتا ہے۔

……………………………(جاری ہے)

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button