متفرق شعراء

صبحِ تازہ کی ہَوا

(محمد مقصود احمد منیب)

چاند نکلا تو سمندر کے کنارے جاگے
لوگ سب سو گئے تب درد کے مارے جاگے

ہر ستارے کو بتا دو جو ہیں راتوں کے الم
جو ہمارا ہے وہی ساتھ ہمارے جاگے

حبس ایسا تھا کہ تحریر کا دم گھٹتا تھا
اُس نے لکھا تھا تو حرفوں کے ستارے جاگے

دم بخود رہ گئے سب لوگ صحائف والے
حکَم اور بدْر کے جب تازہ شمارے جاگے

صبحِ تازہ کی ہوا تب ہی چلی بستی میں
جب مسیحا کی صدا لے کے منارے جاگے

آدھ کُھلی آنکھ سے جب وصل کا پانی ٹپکا
میری اُجڑی ہوئی اِس جاں کے سہارے جاگے

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close