متفرق مضامین

ارکانِ اسلام

(ذیشان محمود۔ مربی سلسلہ ربوہ)

اس مضمون کو بآواز سننے کے لیے یہاں کلک کیجیے:

(امام الزّمان حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کے پُر معارف ارشادات کی روشنی میں)

دینِ اسلام کی بنیاد جہاں نہایت مضبوط ہے وہیں اس کی عمارت بھی الٰہی وعدوں کےمطابق ہمیشہ ہمیش کے لیے قائم و دائم رہے گی ۔

اسلام کی عمارت کے پانچ بنیادی ارکان یا ستون ہیں جنہیں ارکان اسلام یا ارکان الدین یا فرائض بھی کہا جاتا ہے۔ ان کےمتعلق حدیث میں درج ہے کہ

عن أبی عبد الرحمٰن عبد اللّٰہ بن عمر بن الخطّاب قال:سمعت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یقول: بُنِيَ الإِسْلَامُ عَلٰی خَمْسٍ : شَهَادَةِ أنْ لَّا إِلٰهَ إِلَّا اﷲ وَأنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اﷲِ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيْتَاءِ الزَّکَاةِ، وَالْحَجِّ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ.

(الصحيح البخاری، کتاب الايمان، باب قول النبی صلی اللّٰه عليه وآله وسلم : بنی الإسلام علی خمس)

یعنی حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت ہےکہ میں نے رسول اللہ ﷺکو فرماتے ہوئے سنا کہ

‘‘اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے :گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا ،زکوٰۃ ادا کرنا،بیت اللہ کا حج کرنا،اور رمضان المبارک کے روزے رکھنا۔’’

حضرت اقدس مسیح موعود ؑ فرماتے ہیں کہ

‘‘سو اے وے تمام لوگو!جو اپنے تئیں میری جماعت شمار کرتے ہو۔ آسمان پر تم اس وقت میری جماعت شمار کیے جاؤ گے جب سچ مچ تقویٰ کی راہوں پر قدم مارو گے۔ سو اپنی پنجوقتہ نمازوں کو ایسے خوف اور حضور سے ادا کرو کہ گویا تم خدا تعالیٰ کو دیکھتے ہو۔ اور اپنے روزوں کو خدا کے لیے صدق کے ساتھ پورے کرو۔ ہر ایک جو زکوٰۃ کے لائق ہے وہ زکوٰۃ دے اور جس پر حج فرض ہوچکا ہے اور کوئی مانع نہیں وہ حج کرے۔’’

(کشتی نوح، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 15)

پہلا رکن: توحید

اسلام کا پہلا رکن دو حصوں پر مشتمل ہے۔ پہلا حصہ خدا تعالیٰ کی وحدانیت کا اقرار ہے اور دوسرا حصہ رسول اللہ ﷺ کو اس کا رسول ماننا ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیان فرماتے ہیں:

‘‘ہمارے مذہب کا خلاصہ اور لُبّ لباب یہ ہے کہ لَااِلٰہَ اِلاَّاللّٰہ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ ہمارا اعتقاد جو ہم اس دنیوی زندگی میں رکھتے ہیں جس کے ساتھ ہی ہم بفضل و توفیق باری تعالیٰ اس عالمِ گزران سے کُوچ کریں گے یہ ہے کہ حضرت سیدنا و مولانا محمد مصطفےٰ ﷺ خاتم النبیین و خیر المرسلین ہیں جن کے ہاتھ سے اکمالِ دین ہوچکا اور وہ نعمت بمرتبہ اتمام پہنچ چکی جس کے ذریعہ سے انسان راہ راست کو اختیار کرکے خداتعالیٰ تک پہنچ سکتا ہے ۔’’

(ازالہ اوہام حصہ اوّل ، روحانی خزائن جلد3صفحہ 137)

پہلا حصہ: توحید کا اقرار

حضرت مسیح موعود ؑفرماتے ہیں کہ

‘‘دیکھو مَیں بہت خوشی سے خبر دیتا ہوں کہ تمہارا خدا درحقیقت موجود ہے اگرچہ سب اُسی کی مخلوق ہے لیکن وہ اُس شخص کو چن لیتا ہے جو اُس کو چنتا ہے وہ اُس کے پاس آ جاتا ہے جو اُس کے پاس جاتا ہے جو اُس کو عزت دیتا ہے وہ اس کو بھی عزت دیتا ہے۔تم اپنے دلوں کو سیدھے کر کے اور زبانوں اور آنکھوں اور کانوں کو پاک کر کے اس کی طرف آجاؤکہ وہ تمہیں قبول کرے گا ۔عقیدہ کے رو سے جو خدا تم سے چاہتا ہے وہ یہی ہے کہ خدا ایک اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم اُس کا نبی ہے اور وہ خاتم الانبیاء ہے اور سب سے بڑھ کر ہے۔’’

(کشتی نوح ، روحانی خزائن جلد19 صفحہ 16-15)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی ماموریت کا مقصد بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

‘‘وہ کام جس کے لیے خدا نے مجھے مامور فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ خدا میں اور اس کی مخلوق کے رشتہ میں جو کدورت واقع ہو گئی ہے اس کو دور کرکے محبت اور اخلاص کے تعلق کودوبارہ قائم کروں…اور سب سے زیادہ یہ کہ وہ خالص اور چمکتی ہوئی توحید جو ہر ایک قسم کی آمیزش سے خالی ہے، جو نابود ہو چکی ہے۔ اس کا دوبارہ قوم میں دائمی پودا لگاؤں۔’’

(لیکچرلاہور، روحانی خزائن جلد20صفحہ180)

اے سونے والو جاگو کہ وقت بہار ہے

اب دیکھو آکے در پہ ہمارے وہ یار ہے

کیا زندگی کا ذوق اگر وہ نہیں ملا

لعنت ہے ایسے جینے پہ گر اس سے ہیں جدا

توحید کا اقرار انسان کو خدا کی محبت میں فنا ہونے پر مجبور کر دیتا ہے ۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دل میں خدا تعالیٰ کی محبت اتنی رچی ہوئی اور اتنا غلبہ پائے ہوئے تھی کہ اس کے مقابل پر ہر دوسری محبت ہیچ تھی۔چنانچہ ایک جگہ آپؑ خدا تعالیٰ کو مخاطب کرکے فرماتے ہیں۔

در دو عالم مَرا عزیز توئی

و آنچہ می خواہم از تو نیز توئی

یعنی دونوں جہانوں میں میرا تو بس تو ہی محبوب ہے اور میں تجھ سے صرف تیرے ہی وصال کا آرزو مند ہوں۔

پھر آپ ؑ نےفرمایا کہ

‘‘میں نے ایک سونے کی کان نکالی ہے ا ور مجھے جواہرات کے معدن پر اطلاع ہوئی ہے اور مجھے خوش قسمتی سے ایک چمکتا ہوا اور بے بہا ہیرا اس کان سے ملا ہے…وہ ہیرا کیاہے ؟ سچا خدا۔اور اس کو حاصل کرنا یہ ہے کہ اس کو پہچاننا،اور سچا ایمان اس پر لانا اور سچی محبت کیساتھ اس سے تعلق پیدا کرنا اورسچی برکات اس سے پانا۔ پس اس قدر دولت پا کر سخت ظلم ہے کہ میں بنی نوع کو اس سے محروم رکھوں اوروہ بھوکے مریں اور میں عیش کروں۔یہ مجھ سے ہر گز نہیں ہو گا۔میرا دل ان کے فقرو فاقہ کو دیکھ کر کباب ہو جاتاہے۔ان کی تاریکی اورتنگ گذرانی پر میری جان گھٹتی جاتی ہے۔میں چاہتا ہوں کہ آسمانی مال سے ان کے گھربھر جائیں اورسچائی اوریقین کے جواہر ان کو اتنے ملیں کہ ان کے دامنِ استعداد پُر ہو جائیں۔’’

(اربعین نمبر1، روحانی خزائن جلد 17صفحہ344تا345)

خداتعالیٰ کی تعظیم اور معرفت کو مذہب کی پہچان کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں:

‘‘جس مذہب میں سب سے زیادہ تعظیم الٰہی اور سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی معرفت کا سامان ہو وہی سب سے اعلیٰ مذہب ہے۔ انسان اسی چیز کی قدر زیادہ کرتا ہے جس کا علم اس کو زیادہ حاصل ہوتا ہے۔ مثلاً ایک شخص کو معلوم ہو کہ فلاں مکان میں ایک سانپ پھرتا ہے اور وہ آدمیوں کو کاٹتا ہے تو وہ شخص کبھی جرأت نہ کرے گا کہ رات کو ایسے مکان میں جا کر سوئے۔ اگر کسی کو معلوم ہو جائے کہ اس کھانے میں جو میرے آگے رکھا ہے زہر ہے تو وہ ہرگز کبھی ایک لقمہ بھی اس کھانے میں سے نہ اٹھائے گا۔ اگر کسی گاؤں میں طاعون ہو اور لوگ مر رہے ہوں تو کوئی شخص اس گاؤں میں جانے کا حوصلہ نہیں کرتا۔ جس کو معلوم ہو کہ جنگل میں شیر رہتا ہے وہ اس جنگل میں ہرگز داخل نہیں ہوتا۔ ان سب کا اصل علم اور معرفت ہے جس چیز کا علم انسان کو بخوبی ہو جاوے اور اس کے متعلق معرفت تام پیدا ہو جاوے۔ انسان اس کے برخلاف بالکل نہیں کر سکتا۔ پھر کیا وجہ ہے کہ لوگ گناہ کو ترک نہیں کرتے؟ اس کا سبب یہی ہے کہ خدا تعالیٰ کی ہستی کا کامل علم اور معرفت تام ان کو حاصل نہیں۔یہ جو کہا جاتا ہے اور اقرار کیا جاتا ہے کہ ہم خدا پر ایمان رکھتے ہیں۔ یہ صرف ایک رسمی ایمان ہے ورنہ دراصل گناہ سوز معرفت حاصل نہیں ہے۔ اگر وہ حاصل ہو تو ممکن ہی نہیں کہ انسان پھر گناہ کر سکے۔ ہر شئے کی قدر اس کی پہچان اور معرفت سے ہوتی ہے۔ دیکھو۔ ایک جاہل گنوار کو ایک قیمتی پتھر لعل یا موتی مل جاوے تو وہ حد درجہ اس کو دو چار پیسہ میں فروخت کر دے گا۔ یہی مثال ان نادانوں کی ہے جنہوں نے خدا تعالیٰ کو نہیں پہچانا وہ الٰہی احکام کے بالمقابل دو چار پیسوں کی زیادہ قدر کرتے ہیں۔ جہاں کوئی دنیوی تھوڑا سا فائدہ نظر آتا ہے۔ وہاں اپنا ایمان فروخت کر دیتے ہیں۔ جھوٹی گواہیاں عدالتوں میں جا کر دو آنہ یا چار آنہ کے بدلے دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک خدا تعالیٰ کے اس پاک حکم کی قدر کہ جھوٹ نہ بولو اور سچی گواہی دو اس سے بڑھ کر نہیں کہ دو چار آنہ کی خاطر اس کو چھوڑ دیں اور بیچ ڈالیں۔ خدا تعالیٰ کی آیتوں کو تھوڑے مول پر بیچنے کے یہی معنے ہیں کہ انسان تھوڑے سے ظاہری فائدہ کی خاطر احکام الٰہی کی بے قدری کرتا ہے۔’’

(ملفوظات جلد 5صفحہ 42تا43۔ایڈیشن1988ء)

پھر خدا تعالیٰ کی ہستی کا ثبوت دیتے ہوئے حضرت مسیح موعود ؑ فرماتے ہیں:

‘‘دنیا میں جس قدر قومیں ہیں کسی قوم نے ایسا خدا نہیں مانا جو جواب دیتا ہو اور دعاؤں کو سنتا ہو۔ کیا ایک ہندو ایک پتھر کے سامنے بیٹھ کر یا درخت کے آگے کھڑا ہو کر یا بیل کے روبرو ہاتھ جوڑ کر کہہ سکتا ہے کہ میرا خدا ایسا ہے کہ میں اس سے دعا کروں تو یہ مجھے جواب دیتا ہے۔ ہرگز نہیں۔ کیا ایک عیسائی کہہ سکتا ہے کہ میں نے یسوع کو خدا مانا ہے وہ میری دعا کو سنتا ہے اور اس کا جواب دیتا ہے۔ ہرگز نہیں۔ بولنے والا صرف ایک ہی ہے جو اسلام کا خدا ہے جو قرآن نے پیش کیا ہے۔ جس نے کہا اُدعُونِی اَستَجِب لَکُم(المؤمن:61)تم مجھے پکارو میں تم کو جواب دوں گا۔’’

(ملفوظات جلد 2صفحہ 148۔ایڈیشن 1988ء)

سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام خدا تعالیٰ کی ہستی کا زندہ و جاوید ثبوت پیش کرتے ہوئے ببانگِ دہل فرماتے ہیں:

‘‘ہمارا خدا وہ خدا ہے جو اب بھی زندہ ہے جیسا کہ پہلے زندہ تھا اور اب بھی وہ بولتاہے جیسا کہ پہلے بولتاتھا اوراب بھی وہ سنتا ہے جیسا کہ پہلے سنتاتھا۔ یہ خیال خا م ہے کہ اس زمانہ میں وہ سنتا تو ہے مگر بولتا نہیں بلکہ وہ سنتا اور بولتابھی ہے۔ اس کی تمام صفات ازلی ابدی ہیں کوئی صفت بھی معطل نہیں اور نہ کبھی ہو گی۔’’

(الوصیت،روحانی خزائن جلد20صفحہ309)

وہ خدا اب بھی بناتا ہے جسے چاہے کلیم

اب بھی اُس سے بولتا ہے جس سے وہ کرتا ہے پیار

اس کے باوجود بھی جو لوگ خدا کی معرفت حاصل کرنے کے لیے کوشش نہیں کرتے ایسے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے بڑے درد کا اظہار کرتے ہوئے آپؑ فرماتے ہیں کہ

‘‘کیا بدبخت وہ انسان ہے جس کو اب تک یہ پتہ نہیں کہ اُس کا ایک خدا ہے جو ہر ایک چیز پر قادر ہے۔ ہمارا بہشت ہمارا خدا ہے ہماری اعلیٰ لذّات ہمارے خدا میں ہیں کیونکہ ہم نے اس کو دیکھا اور ہر ایک خوب صورتی اس میں پائی۔ یہ دولت لینے کے لائق ہے اگرچہ جان دینے سے ملے اور یہ لعل خریدنے کے لائق ہے اگرچہ تمام وجود کھونے سے حاصل ہو۔ اے محرومو! اس چشمہ کی طرف دوڑو کہ وہ تمہیں سیراب کرے گا ۔یہ زندگی کا چشمہ ہے جو تمہیں بچائے گا۔ میں کیا کروں اور کس طرح اس خوشخبری کو دلوں میں بٹھا دوں۔ کس دَفْ سے میں باز اروں میں منادی کروں کہ تمہارا یہ خدا ہے تا لوگ سُن لیں اور کس دوا سے میں علاج کروں تا سُننے کے لیے لوگوں کے کان کھلیں۔

اگر تم خدا کے ہو جاؤ گے تو یقیناًسمجھو کہ خداتمہارا ہی ہے تم سوئے ہوئے ہوگے اور خدا تعالیٰ تمہارے لیے جاگے گا تم دشمن سے غافل ہوگے اور خدا اُسے دیکھے گا اور اس کے منصوبے کو توڑے گا ۔تم ابھی تک نہیں جانتے کہ تمہارے خدا میں کیا کیا قدرتیں ہیں۔ اور اگر تم جانتے تو تم پر کوئی ایسا دن نہ آتاکہ تم دنیا کے لیے سخت غمگین ہو جاتے۔ ایک شخص جو ایک خزانہ اپنے پاس رکھتا ہے کیا وہ ایک پیسہ کے ضائع ہونے سے روتا ہے اور چیخیں مارتا ہے اور ہلاک ہونے لگتا ہے۔ پھر اگر تم کو اس خزانہ کی اطلاع ہوتی کہ خدا تمہارا ہر ایک حاجت کے وقت کام آنے والا ہے تو تم دنیا کے لیے ایسے بے خود کیوں ہوتے۔ خدا ایک پیارا خزانہ ہے اُس کی قدر کرو کہ وہ تمہارے ہر ایک قدم میں تمہارامددگار ہے ۔تم بغیر اُس کے کچھ بھی نہیں اور نہ تمہارے اسباب اور تدبیریں کچھ چیز ہیں۔’’

(کشتی نوح ، روحانی خزائن جلد19 صفحہ22-21)

دوسرا حصہ

حضرت مسیح موعودؑ کواپنے آقا و مطاع حضرت محمدﷺ سے کمال عشق اور محبت تھی۔ اور آپ کا عقیدہ یہ تھا کہ رسول اللہ ﷺ ہی انسانیت کی فلاح اور نجات کا ذریعہ مقرر کیے گئے ہیں۔ اس کی وضاحت کرتے ہوئےآپؑ فرماتے ہیں:

‘‘نوع انسان کے لیے روئے زمین پر اب کوئی کتاب نہیں مگر قرآن ، اور تمام آدم زادوں کے لیے اب کوئی رسول اور شفیع نہیں مگر حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ ۔ سو تم کوشش کرو کہ سچی محبت اس جاہ و جلال کے نبیؐ کے ساتھ رکھو اور اس کے غیر کو اس پر کسی نوع کی بڑائی مت دو تا آسمان پر تم نجات یافتہ لکھے جاؤ اور یاد رکھو کہ نجات وہ چیز نہیں جو مرنے کے بعد ظاہر ہوگی بلکہ حقیقی نجات وہ ہے کہ اسی دنیا میں اپنی روشنی دکھلاتی ہے۔ نجات یافتہ کون ہے؟ وہ جو یقین رکھتا ہے کہ خدا سچ ہے اور محمد ﷺ اس میں اور تمام مخلوق میں درمیانی شفیع ہے اور آسمان کے نیچے نہ اس کے ہم مرتبہ کوئی اَور رسول ہے اور نہ قرآن کے ہم مرتبہ کوئی اَور کتاب ہے۔ اور کسی کے لیے خدا نے نہ چاہا کہ وہ ہمیشہ زندہ رہے ۔ مگر یہ برگزیدہ نبی ہمیشہ کے لیے زندہ ہے ۔ ’’

(کشتی نوح ، روحانی خزائن جلد19 صفحہ 13)

رسول اللہ ﷺ سے عشق کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ

‘‘وہ اعلیٰ درجہ کا نور جو انسان کو دیا گیا یعنی انسان کامل کو ۔ وہ ملائک میں نہیں تھا ۔ نجوم میں نہیں تھا ۔ قمر میں نہیں تھا ۔ آفتاب میں بھی نہیں تھا ۔ وہ زمین کے سمندروں اور دریاؤں میں بھی نہیں تھا ۔ وہ لعل اور یاقوت اور زمرد اور الماس اور موتی میں بھی نہیں تھا ۔ غرض وہ کسی چیز ارضی اور سماوی میں نہیں تھا ۔ صرف انسان میں تھا ۔ یعنی انسان کامل میں ۔ جس کا اتم اور اکمل اور اعلیٰ اور ارفع فرد ہمارے سیّد و مولیٰ سید الانبیاء سیّد الاحیاء محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔ ’’

(آئینہ کمالات اسلام ، روحانی خزائن جلد5صفحہ 160)

حضرت بانی ٔجماعت احمدیہ مرزا غلام احمد صاحب قادیانی مسیح موعود ؑفرماتے ہیں:

‘‘ایک رات اس عاجز نے اس کثرت سے درود شریف پڑھا کہ دل و جان اس سے معطر ہوگیا۔ اُسی رات خواب میں دیکھا کہ فرشتے آب زلال کی شکل پر نور کی مشکیں اس عاجز کے مکان میں لیے آتے ہیں اور ایک نے اُن سے کہا کہ یہ وہی برکات ہیں جو تُونے محمد کی طرف بھیجی تھیں صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم۔’’

(براہین احمدیہ، روحانی خزائن جلد اوّل صفحہ 576)

ہر سہ زبان میں اپنے منظوم کلام میں اپنے معشوقؐ سے عشق کا اظہار کیا:

وہ پیشوا ہمارا جس سے ہے نور سارا

نام اس کا ہے محمد ؐ دلبر میرا یہی ہے

سب پاک ہیں پیمبر اک دوسرے سے بہتر

لیک از خدائے برتر خیرالوریٰ یہی ہے

(قادیان کے آریہ اور ہم ، روحانی خزائن جلد20 صفحہ 456)

بعد از خدا بعشق محمدؐ مخمرم

گر کفر ایں بود بخدا سخت کافرم

(ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد 3صفحہ 176)

خدا تعالیٰ کے بعد میں محمد مصطفےٰ ﷺ کے عشق میں دیوانہ ہوچکا ہوں اگر اس عشق کی دیوانگی کا نام کوئی کفر رکھتا ہے تو خدا کی قسم میں سخت کافر ہوں (کیونکہ آپ ﷺ سے میں شدید محبت رکھتا ہوں )

یَارَبِّ صَلِّ عَلٰی نَبِیِّکَ دَائِمًا

فِیْ ھٰذِہٖ الدُّنْیَا وَ بَعْثٍ ثَانٖ

(آئینہ کمالات اسلام ، روحانی خزائن جلد5 صفحہ 593)

اے میرے رب تو اپنے نبی ﷺ پر اس جہان میں بھی درود نازل فرما اور دوسرے جہان میں بھی درود نازل فرمانا۔

دوسرا رکن : نماز

ارکان اسلام پر عمل کرناخدا کی رضا ا ور انسان کی روحانی ترقیات کا ذریعہ ہے۔ ارکانِ اسلام میں سے پہلا عملی رکن قیامِ نماز ہے۔

حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی صاحب ؓحضرت مسیح موعود ؑ کی سوانح میں ایک عجیب واقعہ تحریر کرتے ہیں کہ جب آپؑ کی عمر نہایت چھوٹی تھی تو اس وقت آپ اپنی ہم عمر لڑکی کو جس سے بعد میں آپ کی شادی ہوئی کہا کرتے تھے کہ‘‘نامرادے دعا کر کہ خدا میرے نماز نصیب کرے’’،نماز کا شوق نصیب کرے۔ نہایت بچپن میں آپ کے دل میں ایسے پاک جذبات تھے اور دراصل یہ اس لیے تھا کہ آپ نے دنیا میں عظیم الشان تغیر پیدا کرنا تھا اور خدا نے مسیحائی کے لیے آپ کو چن لیا تھا۔ حضرت مسیح موعود ؑکو بچپن سے ہی عبادت سے محبت اورلگاؤ تھا اور یہ ذوق و شوق اور رغبت صرف بچپن کی عمر تک محدود نہ تھی۔بسا اوقات ایسا ہوا کہ آپ نماز پڑھنے میں مصروف ہیں اور ادھر عدالت میں پیشی کا وقت ہوگیا آپ پوری سکینت اور پورے اطمینان کے ساتھ مصروف رہے اور نماز کی تکمیل کے بعد ہی عدالت میں حاضر ہوئے۔

حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی صاحب فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت مسیح موعود ؑ کی ایک تحریر ملی جس میں حضورؑ کی سیرت کا خلاصہ اور مغز ہے ۔کہنے کو تو صرف ایک فقرہ ہے مگر وہ ایک بحرِ بے کنار ہے ۔ حضور ؑ لکھتے ہیں :

المساجد مکانی والصالحون اخوانی

وذکر اللّٰہ مالی و خلقُ اللّٰہ عَیَالِی

یعنی میرا مکان تمام مسجد یں ہیں اور تمام صالحین میرے بھائی ہیں اور میرا مال ذکر الٰہی ہے اور میرا کنبہ میرے اہل و عیال خدا کی مخلوق ہے۔

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں:

‘‘تم کو چاہیئے کہ راتوں کو اٹھ اٹھ کر دعائیں مانگو اور اس کے فضل کو طلب کرو۔ ہر ایک نماز میں دعا کے لیے کئی مواقع ہیں۔ رکوع، قیام، قعدہ،سجدہ وغیرہ۔ پھر آٹھ پہروں میں پانچ مرتبہ نماز پڑھی جاتی ہے۔ فجر، ظہر، عصر، شام اور عشاء۔ ان پر ترقی کر کے اشراق اور تہجد کی نمازیں ہیں۔ یہ سب دعا ہی کے مواقع ہیں۔’’

(ملفوظات جلداوّل صفحہ234۔ایڈیشن1988ء)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے دوستوں کو نماز میں حصول حضور کی دعا سکھائی۔ آپؑ فرمایاکرتے تھے کہ نماز میں حصول حضور کا ذریعہ خود نماز ہے۔ اسے ذوق و شوق سے پڑھا جائے تو خدا کے فضل سے نماز میں لذت آنی شروع ہو جاتی ہے۔ یہ دعا ہمیں بکثرت پڑھنی چاہیے۔
‘‘اے خدا تعالیٰ قادروذوالجلال ! میں گناہ گار ہوں اور اس قدر گناہ کے زہر نے میرے دل اور رگ وریشہ میں اثر کیا ہے کہ مجھے رقت اور حضور نماز حاصل نہیں تُواپنے فضل و کرم سے میرے گناہ بخش اور میر ی تقصیرات معاف کر اور میرے دل کو نرم کر دے اور میرے دل میں اپنی عظمت اور اپنا خوف اور اپنی محبت بٹھا دے تاکہ اس کے ذریعہ سے میری سخت دلی دور ہو کرحضور نمازمیں میسر آوے۔’’

(الحکم 4؍مئی1904ء صفحہ 2)

حضرت مسیح موعود علیہ السلا م فرماتے ہیں:

‘‘میری اپنی تو یہ حالت ہے کہ میری کوئی نماز ایسی نہیں ہے جس میں میں اپنے دوستوں اور اولاد اور بیوی کے لیے دعا نہیں کرتا۔’’

(ملفوظات جلداوّل صفحہ265)

آپؑ نے شرائط بیعت میں دوسری شرط یہ رکھی ہے کہ

‘‘یہ کہ بلاناغہ پنجوقتہ نماز موافق حکم خدا اور رسول کے اداکرتا رہے گا اور حتی الوسع نماز تہجد کے پڑھنے اور اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے اور اپنے گناہوں کی معافی مانگنے اور استغفار کرنے میں مداومت اختیار کرے گا اور دلی محبت سے خدا تعالیٰ کے احسانوں کو یاد کرکے اس کی حمد اور تعریف کو اپنا ہر روز ہ ورد بنائے گا۔’’

(اشتہار تکمیل تبلیغ12؍جنوری1889ء)

ایک شخص نے بیعت کے بعد حضرت مسیح موعود ؑ کی خدمت میں عرض کیا۔کہ حضور مجھے کوئی وظیفہ بتائیں۔اس پر حضورؑ نے فرمایا کہ

‘‘نمازوں کو سنوار کر پڑھو۔کیونکہ ساری مشکلات کی یہی کنجی ہے۔اور اس میں ساری لذت اور خزانے بھرے ہوئے ہیں۔’’

(الحکم جلد 7 ۔28؍ فروری 1903ء)

نماز سے متعلق چند مزید ارشادات درج ذیل ہیں:

فرمایا: ‘‘ہمارے غالب آنے کے ہتھیار استغفار، توبہ، دینی علوم کی واقفیت اور خدا تعالیٰ کی عظمت کو مد ِنظر رکھنا اور پانچوں وقت کی نمازوں کو ادا کرنا ہیں۔ نماز قبولیت دعا کی کنجی ہے۔’’

(ملفوظات جلد پنجم صفحہ303)

‘‘جو شخص پنجگانہ نماز کا التزام نہیں کرتا وہ میری جماعت میں سے نہیں۔’’

(کشتی نوح صفحہ28)

‘‘اگر سارا گھر غارت ہوتا ہے تو ہونے دو۔ مگر نماز کو ترک مت کرو۔’’

(ملفوظات جلد6 صفحہ371)

‘‘نماز پڑھو۔ نماز پڑھو کہ وہ تمام سعادتوں کی کنجی ہے۔’’

(روحانی خزائن جلد5 صفحہ549)

‘‘نماز ساری ترقیوں کی جڑ اور زینہ ہے۔ اسی لیے کہا گیا ہے کہ نماز مومن کی معراج ہے۔’’

(ملفوظات جلد 8صفحہ310)

‘‘نماز سے بڑھ کر اور کوئی وظیفہ نہیں۔ کیونکہ اس میں حمد الٰہی ہے۔ استغفار ہے درود شریف، تمام وظائف اور اورادکا مجموعہ یہی نماز ہے۔’’

(الحکم31؍مئی1903)

تیسرا رکن روزہ

روزہ اسلامی عبادات کا دوسرا اہم رکن ہے۔ یہ ایسی عبادت ہے جس میں نفس کی تہذیب، اس کی اصلاح اور قوت برداشت کی تربیت مدنظر ہوتی ہے۔ صوم (روزہ) کے لغوی معنی رکنے اور کوئی کام نہ کرنے کے ہیں۔ شرعی اصطلا ح میں طلوع فجر (صبح صادق)سے لے کر غروب آفتاب تک عباد ت کی نیت سے کھانے پینے اور جماع سے رکے رہنے کا نام صوم یا روزہ ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ

‘‘تیسری بات جو اسلام کا رُکن ہے، وہ روزہ ہے۔ روزہ کی حقیقت سے بھی لوگ ناواقف ہیں …روزہ اتنا ہی نہیں کہ اس میں انسان بھوکا پیاسا رہتا ہے، بلکہ اس کی ایک حقیقت اور اس کا اثر ہے جو تجربہ سے معلوم ہوتا ہے۔ انسانی فطرت میں ہے کہ جس قدر کم کھاتا ہے اُسی قدر تزکیۂ نفس ہوتا ہے اور کشفی قوتیں بڑھتی ہیں۔ خدا تعالیٰ کا منشا اس سے یہ ہے کہ ایک غذا کو کم کرو اور دوسری کو بڑھاؤ۔ ہمیشہ روزہ دار کو یہ مدّنظر رکھنا چاہیے کہ اس سے اتنا ہی مطلب نہیں ہے کہ بھوکا رہے بلکہ اُسے چاہیے کہ خدا تعالیٰ کے ذکر میں مصروف رہے تا کہ تبتّل اور انقطاع حاصل ہو۔ پس روزے سے یہی مطلب ہے کہ انسان ایک روٹی کو چھوڑ کر جو صرف جسم کی پرورش کرتی ہے، دوسری روٹی کو حاصل کرے جو روح کی تسلی اور سیری کا باعث ہے۔ اور جو لوگ محض خدا کے لیے روزے رکھتے ہیں اور نرے رسم کے طور پر نہیں رکھتے، اُنہیں چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی حمداور تسبیح اور تہلیل میں لگے رہیں جس سے دوسری غذا اُنہیں مل جاوے۔’’

(ملفوظات جلد 5 صفحہ 102۔ ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ)

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں:

‘‘شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِیٓ اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْاٰنُ (البقرۃ :186)سے ماہ رمضان کی عظمت معلوم ہوتی ہے۔ صوفیاء نے لکھا ہے کہ یہ ماہ تنویر قلب کے لیے عمدہ مہینہ ہے۔ کثرت سے اس میں مکاشفات ہوتے ہیں۔ صلوٰۃ تزکیہ نفس کرتی ہے اور صوم تجلی قلب کرتا ہے۔ تزکیہ نفس سے مراد یہ ہے کہ نفس امارہ کی شہوات سے بُعد حاصل ہو جائےاور تجلی قلب سے مراد یہ ہے کہ کشف کا دروازہ اس پر کھلے کہ خدا کو دیکھ لے۔’’

(ملفوظات جلد دوم صفحہ 561، 562 البدر 12 دسمبر 1902ء)

فرض روزوں کے علاوہ نفلی روزے رکھنا بھی سنت نبویؐ سے ثابت ہے۔1875ء یا 1876ء میں حضرت مسیح موعود ؑنے الٰہی منشاء کے مطابق قریباً آٹھ یا نو ماہ کے مسلسل روزے رکھے۔تاہم حضرت مسیح موعودؑنےاس بات کی بھی وضاحت فرمائی ہےکہ یہ روزےخاص اللہ تعالیٰ کے حکم سےتھے اورہر انسان کا کام نہیں کہ وہ اس طویل مدّت تک روزے رکھتا رہے۔

اسی طرح ہمارے پیارے امام حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے افراد جماعت کو ہفتہ میں ایک نفلی روزہ رکھنےکی تحریک فرمائی ہےجس میں خاص طور پر ایسے احمدیوں کے لیے دعاکی جائے جن پر احمدیت کی وجہ سے ظلم ہورہا ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نفلی روزوں سے متعلق فرماتے ہیں:

‘‘خدا تعالیٰ نے دین اسلام میں پانچ مجاہدات مقرر فرمائے ہیں۔ نماز، روزہ ، زکوٰۃ ، صدقات ، حج او ر اسلامی دشمن کا ردّ اور دفع خواہ وہ سیفی ہو خواہ قلمی ہو۔ یہ پانچ مجاہدے قرآن شریف سے ثابت ہیں مسلمانوں کو چاہیے کہ ان میں کوشش کریں اوران کی پابندی کریں۔ یہ روزے تو سال میں ایک ماہ کے ہیں۔ بعض اہل اللہ تو نوافل کے طور پر اکثر روزے رکھتے ہیں اور ان میں مجاہدہ کرتے ہیں۔ ہاں دائمی روزے رکھنا منع ہیں۔ یعنی ایسا نہیں چاہیے کہ آدمی ہمیشہ روزے ہی رکھتا رہے بلکہ ایسا کرنا چاہیے کہ نفلی روزے کبھی رکھے اور کبھی چھوڑ دے۔’’

(ملفوظات جلد دوم ،جدید ایڈیشن صفحہ 433)

چوتھا رکن: زکوٰة

زکوٰة اسلام کا چوتھا ستون ہے۔ زکوٰة کی ادائیگی کے لیے بھی چند شرائط ہیں۔ یہ ایک ایسا نظام ہے جس میں بڑا طبقہ اپنے چھوٹے طبقہ کے بھائیوں کی مالی مدد بطور مذہبی اور قومی فریضہ سمجھ کر کرتا ہے۔دین اسلام نے تمام صاحبِ حیثیت مسلمانوں پر زکوٰة فرض کی ہے۔حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں:

‘‘زکوٰة کیا ہے۔ یُؤْخَذُ مِنَ الْاُمَرَاءِ وَ یُرَدُّ اِلَی الْفُقَرَاءِ۔ امراء سے لے کر فقراء کو دی جاتی ہے۔ ا س میں اعلیٰ درجہ کی ہمدردی سکھائی گئی ہے، اس طرح سے باہم گرم سرد ملنے سے مسلمان سنبھل جاتے ہیں۔ امراء پر یہ فرض ہے کہ وہ ادا کریں۔ اگر نہ بھی فرض ہوتی تو بھی انسانی ہمدردی کا تقاضا تھا کہ غرباء کی مدد کی جائے۔ مگر اب میں دیکھتا ہوں کہ ہمسایہ اگر فاقہ مرتاہو تو پروا نہیں۔ اپنے عیش و آرام سے کام ہے۔ جو بات خدا تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالی ہے۔ میں اس کے بیان کرنے سے رک نہیں سکتا۔ انسان میں ہمدردی اعلیٰ درجہ کا جوہر ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ۔ یعنی تم ہرگز اس نیکی کو حاصل نہیں کرسکتے جب تک اپنی پیاری چیزوں کو اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرو۔’’

(البدر قادیان اکتوبر 1908ء)

پھر فرمایا:

‘‘چاہیے کہ زکوٰۃ دینے والا اِسی جگہ اپنی زکوٰۃ بھیجے اور ہر ایک شخص فضولیوں سے اپنے تئیں بچاوے اور اس راہ میں وہ روپیہ لگاوے اور بہرحال صدق دکھاوے تا فضل اور روح القدس کا انعام پاوے کیونکہ یہ انعام اُن لوگوں کے لیے تیار ہے جو اس سلسلہ میں داخل ہوئے ہیں۔’’

(کشتی نوح ، روحانی خزائن جلد 19صفحہ 83)

پانچواں رکن: حج

حج اسلام کا وہ بنیادی رکن ہے جس کی ادائیگی چند شرائط سے مشروط ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَ لِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْہِ سَبِیْلاً(آل عمران:98)اور لوگوں پر اللہ کا حق ہے کہ وہ اس کے گھر کا حج کریں جو بھی اس گھر تک جانے کی استطاعت رکھتا ہو۔ قرآن کریم نے استطاعت کا لفظ استعمال فرما کر بنیادی شرائط بیان فرما دیں کہ جو طاقت رکھتے ہوں۔ یہ طاقت مالی بھی ہو سکتی ہے اور جسمانی بھی۔اسی طرح فتنہ، نقصِ امن، پابندیاں اور کوئی امر مانع ہو تو وہ بھی استطاعت کے تحت ہوگی۔ اگر یہ شرائط پوری نہ ہوں تو حج فرض نہیں ہوتا۔حضرت اقدس مسیح موعود ؑ فرماتے ہیں کہ

‘‘اور جس پر حج فرض ہوچکا ہے اور کوئی مانع نہیں وہ حج کرے۔’’

(کشتی نوح، روحانی خزائن جلد 19صفحہ 15)

حضرت مسیح موعودؑ حج کی بنیادی شرط رستے کے امن کے متعلق فرماتے ہیں کہ

‘‘یہ لوگ شرارت کے ساتھ ایسا اعتراض کرتے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم دس سال مدینہ میں رہے۔ صرف دو دن کا راستہ مدینہ اور مکہ میں تھا مگر آپ نے دس سال میں کوئی حج نہ کیا۔ حالانکہ آپ سواری وغیرہ کا انتظام کر سکتے تھے۔ لیکن حج کے واسطے صرف یہی شرط نہیں کہ انسان کے پاس کافی مال ہو بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ کسی قسم کے فتنہ کا خوف نہ ہو۔ وہاں تک پہنچنے اور امن کے ساتھ حج ادا کرنے کے وسائل موجود ہوں۔ جب وحشی طبع علماء اس جگہ ہم پر قتل کا فتویٰ لگا رہے ہیں اور گورنمنٹ کا بھی خوف نہیں کرتے تو وہاں یہ لوگ کیا نہ کریں گے لیکن ان لوگوں کو اس امر سے کیا غرض ہے کہ ہم حج نہیں کرتے۔ کیا اگر ہم حج کریں گے تو وہ ہم کو مسلمان سمجھ لیں گے؟ اور ہماری جماعت میں داخل ہو جائیں گے؟ اچھا یہ تمام مسلمان علماء اوّل ایک اقرار نامہ لکھ دیں کہ اگر ہم حج کر آویں تو وہ سب کے سب ہمارے ہاتھ پر توبہ کر کے ہماری جماعت میں داخل ہو جائیں گے اور ہمارے مرید ہو جائیں گے۔ اگر وہ ایسا لکھ دیں اور اقرار حلفی کریں تو ہم حج کر آتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے واسطے اسباب آسانی کے پیدا کر دے گا تاکہ آئندہ مولویوں کا فتنہ رفع ہو۔ ناحق شرارت کے ساتھ اعتراض کرنا اچھا نہیں ہے۔ یہ اعتراض ان کا ہم پر نہیں پڑتا بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم پر بھی پڑتا ہے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے بھی صرف آخری سال میں حج کیا تھا۔’’

(ملفوظات جلد پنجم صفحہ248)

پھر فرمایا:

‘‘حج کا مانع صرف زاد راہ نہیں اور بہت سے امور ہیں جو عند اﷲ حج نہ کرنے کے لیے عذرِ صحیح ہیں۔چنانچہ ان میں سے صحت کی حالت میں کچھ نقصان ہونا ہے۔ اور نیز اُن میں سے وہ صورت ہے کہ جب راہ میں یا خود مکّہ میں امن کی صورت نہ ہو۔اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْہِ سَبِیْلاً (آل عمران: 98)عجیب حالت ہے کہ ایک طرف بد اندیش علماء مکّہ سے فتویٰ لاتے ہیں کہ یہ شخص کافر ہے اور پھر کہتے ہیں کہ حج کے لیے جاؤ اور خود جانتے ہیں کہ جب کہ مکّہ والوں نے کفر کا فتویٰ دے دیا تو اب مکہ فتنہ سے خالی نہیں اور خدا فرماتا ہے کہ جہاں فتنہ ہو اُس جگہ جانے سے پرہیز کرو۔ سو میں نہیں سمجھ سکتا کہ یہ کیسا اعتراض ہے۔ ان لوگوں کو یہ بھی معلوم ہے کہ فتنہ کے دنوں میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے کبھی حج نہیں کیا اور حدیث اور قرآن سے ثابت ہے کہ فتنہ کے مقامات میں جانے سے پرہیز کرو…اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے: وَ لَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْکُمْ اِلَی التَّھْلُکَۃِ (البقرة:196) پس ہم گناہ گار ہوں گے اگر دیدہ ودانستہ تہلکہ کی طرف قدم اٹھائیں گے اور حج کو جائیں گے۔ اور خدا کے حکم کے بر خلاف قدم اٹھانا معصیت ہے حج کرنا مشروط بشرائط ہے مگر فتنہ اور تہلکہ سے بچنے کے لیے قطعی حکم ہے جس کے ساتھ کوئی شرط نہیں۔اب خود سوچ لوکہ کیا ہم قرآن کے قطعی حکم کی پیروی کریں یا اس حکم کی جس کی شرط موجود ہے۔باوجود تحقق شرط کے پیروی اختیار کریں ۔’’

(ایام الصلح، روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 416-415)

حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ سیرت المہدی میں حضرت امّاں جان رضی اللہ عنھا سے روایت کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں کہ

‘‘ایک دفعہ آخری ایام میں حضرت مسیح موعودؑ نے میرے سامنے حج کا ارادہ ظاہر فرمایا تھا۔ چنانچہ میں نے آپ کی وفات کے بعد آپ کی طرف سے حج کروادیا ۔ (حضرت والدہ صاحبہ نے حافظ احمد اللہ صاحب ؓمرحوم کو بھیج کر حضرت صاحبؑ کی طرف سے حج بدل کروایا تھا) اور حافظ صاحبؓ کے سارے اخراجات والدہ صاحبہؓ نے خود برداشت کیے تھے۔ حافظ صاحبؓ پرانے صحابی تھے اور اب عرصہ ہوا فوت ہو چکے ہیں۔’’

(سیر ت المہدی روایت نمبر 55 جلد اوّل صفحہ 44)

حضرت اماں جان رضی اللہ عنھانے 1912ء میں حضرت احمد اللہ صاحبؓ کو آنے جانے کا خرچ دیا تا کہ وہ حضرت احمدؑ کی طرف سے حج بدل کر آویں۔ حضرت خلیفة المسیح الثانی ؓ اس قافلہ کے امیر تھے ۔

(تفصیل کے لیے دیکھیں تاریخ احمدیت صوبہ سرحد از قاضی محمد یوسف فاروقی صفحہ 59-58)

بیت اللہ شریف اور میدان عرفات میں حضرت صوفی احمد جان صاحبؓ کی زبان سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی درد انگیز دعا

1885ء کے اوائل میں حضرت صوفی احمد جان صاحب سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اجازت سے جب سفر حج پر روانہ ہونے لگے تو حضرت مسیح موعود ؑنے اپنے قلم سے انہیں ایک درد انگیز دعا تحریر فرمائی اور لکھا:

‘‘اس عاجز ناکارہ کی ایک عاجزانہ التماس یاد رکھیں کہ جب آپ کو بیت اللہ کی زیارت بفضل اللہ تعالیٰ نصیب ہو۔ تو اس مقام محمود مبارک کی انہیں لفظوں سے مسکنت اور غربت کے ہاتھ بحضور دل اٹھا کر گزارش کریں۔’’

نیز یہ ہدایت فرمائی کہ

‘‘آپ پر فرض ہے کہ انہیں الفاظ سے بلا تبدیل و تغیر بیت اللہ میں حضرت ارحم الراحمین میں اس عاجز کی طرف سے دعا کریں ۔’’

چنانچہ حضرت صوفی صاحب نے حضرت مسیح موعود ؑکے ارشاد کے تعمیل میں یہ دعا بیت اللہ شریف میں بھی اور پھر 9۔ ذی الحجہ 1302ھ کو (بمطابق 19؍ستمبر 1885ء ) میدان عرفات میں بھی پڑھی۔ آپ کے پیچھے اس وقت ان کے 20/22خدام اور عقیدت مند تھے جن میں حضرت شہزادہ عبد المجید صاحب مبلغ ایران ،حضرت خان صاحب محمد امیر خاں صاحب اور حضرت قاضی زین العابدین صاحب سرہندی اور حضرت صوفی صاحبؓ کے فرزند حضرت صاحبزادہ پیر افتخار احمد صاحب بھی شامل تھے۔ صوفی صاحبؓ میدان عرفات میں حضرت مسیح موعودؑ کا مکتوب مبارک ہاتھ میں لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا میں یہ خط بلند آواز سے پڑھتا ہوں تم سب آمین کہتے جائو چنانچہ ایسا ہی کیا گیا ۔ اس تاریخی دعا کے الفاظ یہ تھے:

‘‘اے ارحم الراحمین! ایک تیرا بندہ عاجز اور ناکارہ پر خطا اور نالائق غلام احمد جو تیری زمین ملک ہند میں ہے اس کی یہ عرض ہے کہ اے ارحم الراحمین !تو مجھ سے راضی ہو اور میری خطیات اور گناہوں کو بخش کہ تو غفورو رحیم ہے اور مجھ سے وہ کام کرا جس سے تو بہت ہی راضی ہو جائے مجھ میں اور میرے نفس میں مشرق اور مغرب کی دوری ڈال اور میری زندگی اور میری موت اور میری ہریک قوت اور جو مجھے حاصل ہے اپنی ہی راہ میں کر اور اپنی ہی محبت میں مجھے زندہ رکھ اور اپنی ہی محبت میں مجھے مار اور اپنے ہی کامل متبعین میں مجھے اٹھا ۔ اے ارحم الراحمین!جس کام کی اشاعت کے لیے تو نے مجھے مامور کیا ہے اور جس خدمت کے لیے تو نے میرے دل میں جوش ڈالا ہے اس کو اپنے ہی فضل سے انجام تک پہنچا اور اس عاجز کے ہاتھ سے حجت اسلام مخالفین پر اور ان سب پر جواب تک اسلام کی خوبیوں سے بے خبر ہیں پوری کر اور اس عاجز اور اس عاجز کے تمام دوستوں اور مخلصوں اورہم مشربوں کو مغفرت اور مہربانی کی نظر سے اپنے ظل حمایت میں رکھ کر دین و دنیا میں آپ ان کا متکفل اور متولی ہو جا اور سب کو اپنی دارا لرضاء میں پہنچا اور اپنے نبی ﷺ اور اس کی آل اور اصحاب پر زیادہ سے زیادہ درودوسلام و برکات نازل کر۔ آمین یا رب العالمین۔’’

(تاریخ احمدیت جلد اوّل صفحہ 265-264)

٭٭٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close