الفضل ڈائجسٹ

الفضل ڈائجسٹ

(محمود احمد ملک)

الفضل ڈائجسٹ کو بآواز سننے کے لیے یہاں کلک کیجیے:

اس کالم میں ان اخبارات و رسائل سے اہم ودلچسپ مضامین کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے جو دنیا کے کسی بھی حصہ میں جماعت احمدیہ یا ذیلی تنظیموں کے زیرانتظام شائع کیے جاتے ہیں۔

جس کی فطرت نیک ہے وہ آئے گا انجام کار

ماہنامہ ‘‘خالد’’ جنوری 2011ء میں مکرم نذیر احمد سانول صاحب کا ایک مضمون شائع ہوا ہے جس میں دو ایسے افراد کے قبولیتِ ایمان کی داستان بیان کی گئی ہے جو انبیاء کے خون کے پیاسے تھے لیکن پھر جاں نثار بن گئے۔

غزوۂ حنین میں شیبہ نامی ایک شخص مسلمانوں کی طرف سے اس ارادہ کے ساتھ شامل ہوگیا کہ لڑائی کے دوران موقع پاکر محمد رسول اللہﷺ کو قتل کروں گا۔ جب لڑائی تیز ہوئی اور دشمن کی تیراندازی کی وجہ سے اسلامی لشکر میں بھگدڑ مچ گئی اور ایک وقت ایسا آیا کہ رسول کریمﷺ کے گرد صرف چند صحابہ رہ گئے تو شیبہ نے تلوار کھینچی اور آپؐ کے قریب ہونا شروع کردیا۔ وہ خود کہتا ہے کہ جب مَیں آپؐ کی طرف بڑھا تو یوں محسوس ہوا کہ میرے اور آپؐ کے درمیان آگ کا ایک شعلہ بھڑک رہا ہے جو مجھے بھسم کردے گا۔ اتنے میں رسول کریم ﷺ نے مجھے دیکھ لیا اور فرمایا: شیبہ! اِدھر آؤ۔ جب مَیں آپؐ کے قریب گیا تو آپؐ نے اپنا ہاتھ میرے سینے پر پھیرا اور فرمایا: اے خدا! شیبہ کو ہر قسم کے شیطانی خیالات سے نجات عطا فرما۔ آپؐ کا ہاتھ پھیرنا تھا کہ میرے دل سے آپؐ کی ساری دشمنی جاتی رہی اور دل آپؐ کی محبت سے بھر گیا۔ پھر آپؐ نے فرمایا: شیبہ! اب آگے بڑھو اور دشمن سے لڑو۔ تب مَیں نے دشمن سے لڑنا شروع کیا اور میرے دل میں اس وقت سوائے اس کے اَور کوئی خواہش نہیں تھی کہ مَیں اپنی جان قربان کرکے محمد رسول اللہ ﷺ کو بچاؤں اور خدا کی قسم! اگر اس وقت میرا باپ بھی میرے سامنے آجاتا تو مَیں اُس کا سر اُتارنے سے بھی دریغ نہ کرتا۔

دوسرا واقعہ لدھیانہ کا ہے جہاں حضرت مسیح موعودؑ کے دعویٰ کے بعد علماء نے عوام کو ایسا اشتعال دلایا ہوا تھا کہ حضورؑ کے ورود لدھیانہ پر آپؑ کے قتل کے لیے کھلم کھلا اُکسایا جاتا۔ ایک دن کسی واعظ نے بازار میں اعلان کیا کہ جو کوئی مرزا کو قتل کرے گا وہ سیدھا بہشت میں جائے گا۔ ایک گنوار اُس کی تقریر سے متأثر ہوکر اپنا لٹھ لیے اُس مکان میں پہنچا جہاں حضرت مسیح موعودؑ قیام فرمایا تھے اور اُس وقت دیوان خانے میں بیٹھے تقریر فرما رہے تھے۔ چند ارادت مند اور کچھ غیرازجماعت حضورؑ کی باتیں سن رہے تھے۔ وہ گنوار بھی لٹھ کاندھے پر رکھے ہوئے اندر داخل ہوا اور کمرے کی دیوار کے ساتھ کھڑا ہوکر مناسب موقع تلاش کرنے لگا۔ حضورؑ کے کلمات اُس کے کانوں میں پڑے تو کچھ ایسا اثر ہوا کہ تھوڑی ہی دیر میں لٹھ اُس کے کاندھے سے اُتر کر زمین پر آگیا اور وہ بیٹھا تقریر سنتا رہا۔ جب حضورؑ نے سلسلہ تقریر ختم کیا تو مجلس میں سے کسی نے عرض کیا کہ حضورؑ میں آپؑ کے مریدوں میں داخل ہونا چاہتا ہوں۔ اس پر وہ گنوار بھی آگے بڑھ کر اپنی سرگزشت سناکر بولا کہ آپؑ بے شک سچے ہیں اور مَیں بھی آپ کے مریدوں میں داخل ہونا چاہتا ہوں۔ حضور علیہ السلام نے اُس کی بیعت قبول فرمالی۔

………٭………٭………٭………

محمد علی جناح اور احمدی

بانی پاکستان محمد علی جناح ایک سچے، دیانت دار اور مخلص انسان تھے جن کی کامیاب قیادت اور آئینی جدوجہد سے مسلمانوں کی ریاست کا قیام ممکن ہوا۔ اس جدوجہد میں گو ہندوستان کی بیشتر مسلم تنظیمیں (ازقسم علمائے دیوبند، جمعیت علمائے ہند، جماعت اسلامی، مجلس احرار، خاکسار تحریک) نے ان کی بھرپور مخالفت کی۔ جماعت احمدیہ ہی وہ جماعت تھی جو اس تحریک میں اُن کی ہمیشہ مددگار رہی اسی لیے جناح صاحب اور احمدیوں کے مابین ہمیشہ خوش گوار تعلقات قائم رہے۔ ماہنامہ ‘‘انصاراللہ’’ ربوہ اگست 2011ء میں مکرم جمیل احمد بٹ صاحب کے قلم سے ایک مضمون شامل اشاعت ہے جس میں بانی پاکستان محمد علی جناح کے احمدیوں سے تعلقات کے حوالے سے تاریخی حقائق پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

٭…… 14؍نومبر 1923ء کو بریڈلا ہال لاہور میں تقریر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ نے مسلمانوں کی مسٹر جناح اور راجہ صاحب محمودآباد سے بے التفاتی پر سخت افسوس کا اظہار کیا۔

٭…… 1927ء میں ڈاکٹر سیف الدین کچلو صاحب نے مسلمانوں کی تنظیم کے لیے ایک مسلم پارٹیز کانفرنس کے انعقاد کا ارادہ کیا اور حضرت مصلح موعودؓ سے رہنمائی چاہی کہ عام تحریک سے پہلے پانچ آدمی (جن کے نام انہوں نے بیان کیے) مِل بیٹھ کر غور کریں۔ حضورؓ نے اُن سے اتفاق کرتے ہوئے مزید پانچ شخصیات کے نام شامل کرنے کی تجویز دیتے ہوئے فرمایا کہ ‘‘یہ بھی اگر ابتدائی مشورہ میں شریک ہوں تو مفید ہوگا’’۔ ان پانچ افراد میں حضورؓ نے مسٹر جناح کا نام بھی شامل فرمایا۔

٭……حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ بعض اہم معاملات پر ہندوستان کے مشہور سیاسی زعماء سے تبادلۂ خیالات کے لیے اگست و ستمبر 1927ء میں شملہ میں مقیم رہے۔ اس دوران شملہ میں ہندومسلم اتحاد کانفرنس ہوئی جس کے تینوں اجلاسات میں حضورؓ شامل ہوئے اور پہلے دو اجلاسوں میں خطاب فرمایا جبکہ تیسرے اجلاس میں جو کانگریس کے لیڈر مسٹر جناح کی زیرصدارت ہوا، حضورؓ نے جداگانہ انتخاب کے حق میں تقریر فرمائی۔ جبکہ مسٹر جناح مشترکہ انتخاب کے حق میں تھے۔ حضورؓ نے مشترکہ انتخاب کے خوش کن نظریۂ فریب کو ظاہر کرنے کے لیے مختلف لیڈروں کو تبادلۂ خیالات کے لیے اپنے ہاں مدعو فرمایاجن میں مسٹر جناح بھی شامل تھے۔ گو چند ہی سال بعد مسٹر جناح اپنی رائے بدل کر جداگانہ انتخاب کے حامی ہوگئے۔

٭…… ناموس پیشوایان مذاہب کے تحفظ کے لیے حضورؓ نے ایک مسوّدہ قانون تجویز کیا تھا جس پر گفتگو کرنے کے لیے (شملہ میں قیام کے دوران) ہندوستان کے جو لیڈر حضورؓ کی فرودگاہ پر تشریف لائے اُن میں بھی مسٹر جناح شامل تھے۔

٭…… حضرت مصلح موعودؓ نے 11؍ستمبر 1927ء کو شملہ میں الفنسٹن ہال میں نواب سر ذوالفقار علی خان صاحب کی صدارت میں ایک لیکچر دیا جس میں منجملہ یہ بھی فرمایا کہ ‘‘جناح صاحب اُس وقت سے مسلمانوں کی خدمت کرتے آئے ہیں کہ محمد علی (جوہر) صاحب ابھی میدان میں نہ آئے تھے … مَیں اُن کی خدمات کے باعث اُن کو قابلِ عزت اور قابلِ ادب سمجھتا ہوں۔’’

٭…… 8؍دسمبر 1927ء کو اپنے ایک مضمون میں حضورؓ نے تحریر فرمایا: ‘‘ مَیں مسٹر جناح کو ایک بہت زیرک، قابل اور مخلص خادمِ قوم سمجھتا ہوں … میرے نزدیک وہ اُن چند لوگوں میں سے ہیں جنہیں اپنے ذاتی عروج کا اس قدر خیال نہیں جس قدر کہ قومی ترقی کا ہے۔’’

٭…… حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ نے 27؍دسمبر 1927ء کو اپنی تقریر میں فرمایا کہ مسز سروجنی نائیڈو نے ایک موقع پر ذکر کیا کہ مسٹر محمد علی جناح نے کہا کہ احمدی جماعت میں کام کرنے کی عجب روح ہے۔ اسمبلی میں مسوّدہ پیش ہوتا ہے مگر اس کے متعلق اسمبلی کے بہت سے ممبران کو اتنی فکر نہیں جتنی ان لوگوں کو ہے۔ ان کے آدمی نہ رات دیکھتے ہیں نہ دن ہر وقت ہمارے پاس پہنچ جاتے اور اپنا مشورہ پیش کرتے ہیں۔ حضورؓ نے فرمایا کہ یہ مسوّدہ ناموس پیشوایان مذاہب کے تحفّظ کا تھا۔

٭…… سائمن کمیشن کے بائیکاٹ کے مسئلہ پر مسلم لیگ دو حصوں (جناح لیگ اور شفیع لیگ) میں بٹ گئی۔ حضورؓ نے مسٹر جناح اور شفیع لیگ کے سیکرٹری علامہ اقبال کو خطوط لکھے۔ چنانچہ مارچ 1929ء میں جناح صاحب اور سر محمد شفیع کی ملاقات ہوئی جس میں حضرت مفتی محمد صادق صاحب ناظر امورخارجہ صدرانجمن احمدیہ قادیان بھی شریک ہوئے۔ مارچ میں مسلم لیگ کا اجلاس دہلی میں قرار پایا جس میں شرکت کی دعوت حضورؓ کو بھی دی گئی۔ بالآخر فروری 1930ء میں دونوں مسلم لیگیں متحد ہوگئیں۔

٭…… جناح صاحب پہلی گول میز کانفرنس کے بعد اصلاح احوال سے مایوس ہوکر ہندوستان چھوڑ کر لندن منتقل ہوگئے اور وہیں پریکٹس شروع کردی۔ حضرت مصلح موعودؓ چاہتے تھے کہ وہ واپس آکر مسلمانانِ ہند کی قیادت کریں۔ چنانچہ حضورؓ کی ہدایت پر حضرت عبدالرحیم دردؓ صاحب 1933ء میں لندن میں مسٹر جناح کے دفتر میں اُن سے ملے اور اُنہیں ہندوستان کے مسلمانوں کی رہنمائی کرنے پر آمادہ کیا۔ چنانچہ مسٹر جناح 6؍اپریل 1933ء کو عیدالاضحی کے موقع پر احمدیہ مسجد فضل لندن آئے اور وہاں منعقدہ ایک تقریب میں India of the Future کے موضوع پر تقریر کی جس کی صدارت Sir Stewart Sandaman نے کی۔ اس موقع پر دو سو کے قریب شخصیات مدعو تھیں۔ مسٹر جناح نے اپنی تقریر کے آغاز میں کہا کہ امام صاحب کی فصیح و بلیغ ترغیب نے میرے لیے کوئی راہ بچنے کی نہیں چھوڑی۔

پھر 1934ء میں وہ واپس ہندوستان آگئے۔

٭…… 1939ء میں ہندوستان کی مرکزی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے مسٹر جناح نے سر محمد ظفراللہ خان صاحب کی قابلیتوں کی تعریف کرتے ہوئے انہیں اپنے بیٹے جیسا قرار دیا۔

مسٹر جناح یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ ظفراللہ خان کا دماغ خداوند کریم کا زبردست انعام ہے۔

٭…… 1944ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس میں بعض مولویوں نے مولوی عبدالحامد بدایونی کے ذریعے یہ قانون بنوانے کی کوشش کی کہ کوئی احمدی مسلم لیگ کا ممبر نہیں بن سکتا۔ لیکن جناح صاحب نے مداخلت کرکے یہ قرارداد واپس لینے پر آمادہ کرلیا۔

٭…… 1944ء میںجب مسٹر جناح سرینگر تشریف لے گئے تو کسی ایسے آدمی سے ملنے کی خواہش کا اظہار کیا جو ریاست کے ہر حصّے سے واقف ہو۔ چنانچہ مکرم چودھری عبدالواحد صاحب (مدیر اخبار اصلاح) سے انہیںملوایا گیا۔ تفصیلی بات چیت کے بعد مسٹر جناح کے دریافت کرنے پر انہوں نے بتایا کہ مَیں احمدی ہوں اور حضرت مصلح موعودؓ کی ہدایت پر کشمیریوں کی بہبود کے لیے اندرونِ کشمیر سفر کرتا رہتا ہوں۔

٭…… 19؍مئی 1944ء کو جموں و کشمیر مسلم ویلفیئر ایسوسی ایشن کا دو رُکنی وفد مسٹر جناح سے اُن کی رہائش گاہ پر ملا۔ یہ ادارہ حضرت مصلح موعودؓ کی زیرہدایت قائم کیا گیا تھا اور اس کے وفد میں خواجہ غلام نبی گلکار صاحب شامل تھے۔ بعدمیں مسلم کانفرنس کے چودھری غلام عباس صاحب اور دیگر کارکنوں نے بتایا کہ مسٹر جناح مکرم خواجہ صاحب کی بہت تعریف کرتے تھے اور کشمیر کی لیڈرشپ کے لیے ان پر نظر بھی رکھتے تھے۔

٭…… 24؍ستمبر 1945ء کو کوئٹہ میں ایک (6؍رُکنی) احمدی وفد نے مسٹر جناح سے ملاقات کی۔ پندرہ منٹ جاری رہنے والی اس ملاقات میں جناح صاحب نے خندہ پیشانی سے بے تکلّفانہ گفتگو فرمائی۔

٭…… حضرت بھائی عبدالرحمٰن صاحبؓ قادیانی کے بیٹے مکرم عبدالخالق صاحب مہتہ نے نومبر 1944ء میں دہلی میں مسٹر جناح سے ملاقات کی اور پھر کلکتہ کے اصفہانی ہاؤس میں بھی ملاقات کی۔ وسط 1945ء میں جب وہ امریکہ سے پیٹرولیم انجینئرنگ کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے واپس آئے تو مسٹر جناح کے نام خط میں اپنی خدمات مستقبل میں ابھرنے والی مملکت پاکستان کے لیے وقف کردیں۔ مسٹر جناح نے اپنے دستخط سے جوابی خط میں اس پیشکش کا شکریہ ادا کرکے اسے شرفِ قبولیت بخشا۔

٭…… 19؍ستمبر 1945ء کو ہونے والے انتخابات سے قبل حضرت مصلح موعودؓ نے ایک احمدی کو بذریعہ خط پیغام دیا تھا کہ وہ انتخابات میں مسلم لیگ کی حمایت کریں۔ ناظر صاحب امورخارجہ نے یہ خط وکتابت مسٹر جناح کو برائے ملاحظہ بھجوائی تو اس کی اہمیت کے پیش نظر مسٹر جناح نے ازخود اسے پریس کو جاری کردیا جو اردو اور انگریزی اخبارات میں شائع ہوئی۔ حضورؓ نے اس حوالہ سے ایک مضمون بھی رقم فرمایا۔

٭…… مسٹر جناح کے ساتھی سردار شوکت حیات اپنی کتاب “The Nation that lost its soul” میں لکھتے ہیں کہ مسٹر جناح کے کہنے پر مَیں ایک روز خاص طور پر قادیان گیا تاکہ مسٹر جناح کی طرف سے حضرت صاحب کو پاکستان کے لیے دعا اور مدد کی درخواست کروں۔ آدھی رات بارہ بجے کے قریب مَیں قادیان پہنچا۔ اس وقت حضرت صاحب سوچکے تھے۔ مَیں نے انہیں پیغام بھجوایا کہ مَیں اُن کے لیے مسٹر جناح کی درخواست لے کر آیا ہوں۔ فوراً اُٹھ آئے اور مجھ سے پوچھا کہ احکام کیا ہیں؟ میرے پیغام پہنچانے پر انہوں نے کہا کہ مسٹر جناح کو بتادیں کہ ہم پاکستان کے لیے ابتدا سے ہی دعا کررہے ہیں اور جہاں تک ان کے پیروکاروں کی مدد کا تعلق ہے تو کوئی احمدی کسی مسلم لیگی امیدوار کا مقابلہ نہیں کرے گا اور اگر کہیں ایسا ہوا تو جماعت اس کی حمایت نہیں کرے گی۔

٭…… 1946ء میں بہار میں مسلم کش فسادات کے بعد حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ نے مظلوم مسلمانانِ بہار کے ریلیف فنڈ کے لیے مسٹر جناح کی خدمت میں 15؍ہزار روپے کی پہلی قسط بھجوائی جس کا انہوں نے شکریہ ادا کیا۔

٭…… 1946ء میں ہندوستان میں عبوری حکومت میں مسلم لیگ کی شمولیت میں درپیش مسائل کی وجہ سے حضرت مصلح موعودؓ تین ہفتے تک دہلی میں تشریف فرما رہے اور کئی دیگر رہنماؤں سے تبادلۂ خیال فرمایا۔ 24؍ستمبر کو مسٹر جناح سے انتہائی دوستانہ ماحول میں قریباً ڈیڑھ گھنٹہ ملاقات کی جس کی خبر اخبارات میں شائع ہوئی۔

بعدازاں ایک خط میں حضورؓ نے جناح صاحب کو اطلاع دی کہ مَیں نے عزت مآب وائسرائے کو خط بھجوایا ہے کہ مسلم لیگ کے تمام مطالبات کو مجھے اور میری جماعت کا پورا تعاون اور حمایت حاصل ہے۔

جب یہ معاملہ حل ہوگیا تو حضورؓ نے قادیان سے مسٹر جناح کو مبارکباد کا خط بھیجا۔

٭…… فروری 1947ء تک صوبہ پنجاب کی پاکستان میں شمولیت مخدوش تھی کیونکہ وہاں یونینسٹ حکومت قائم تھی جس سے مسلم لیگی اکابر کے مذاکرات ناکام ہوچکے تھے۔ اس نازک وقت میں حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ کی رہنمائی میں چودھری ظفراللہ خان صاحب کی کوشش سے ملک خضرحیات نے 2؍مارچ کو استعفیٰ دے دیا۔ اُسی روز حضورؓ نے مسٹر جناح کے نام اپنے خط میں تحریر فرمایا: جیسا کہ مَیں نے دہلی میں آپ سے ملاقات کے دوران ذکر کیا تھا کہ مناسب وقت پر سرخضرحیات کو مسلم لیگ میں شمولیت پر آمادہ کیا جاسکتا ہے … سر محمد ظفراللہ خان نے گزشتہ روز اس معاملہ پر مجھ سے گفتگو کی اور پھر اس کی روشنی میں رات ملک صاحب اور قزلباش سے تفصیلی گفتگو کی۔ وہ مستعفی ہونے پر رضامند ہوگئے ہیں۔ … اب صرف صوبہ سرحد باقی رہتا ہے۔ مَیں اس کی صورتحال کا جائزہ لینے کی کوشش کروں گا اور امید کرتا ہوں کہ اس معاملے میں بھی بعض ذرائع سے آپ کو مدد مل سکتی ہے …۔ بہتر ہوگا کہ ہم اپریل میں دہلی میں ملاقات کرلیں۔

٭…… باؤنڈری کمیشن کی کارروائی کے ایک اہم مرحلے پر حضورؓ نے مسٹر جناح کو ایک مکتوب میں یہ بھی لکھا کہ بے شک ستلج پر اصرار کریں لیکن ساتھ ہی کہہ دیں کہ اگر ہمیں بیاس سے ورے دھکیلا گیا تو ہم نہ مانیں گے اور واقعی میں نہ مانیں تب کامیاب ہوں گے ورنہ وہ بیاس سے بھی ورے دھکیل دیں گے۔

٭…… جولائی 1947ء سے ستمبر 1948ء تک مسٹر جناح نے حضرت چودھری محمد ظفراللہ خان صاحب کو یکے بعد دیگرے چار اعلیٰ ترین ذمہ داریاں تفویض فرمائیں اور ان میں آپؓ کی اعلیٰ کارکردگی کی کھلے دل سے تعریف کی۔

1۔ جولائی 1947ء میں پہلی ذمہ داری باؤنڈری کمیشن میں مسلم لیگ کا کیس لڑنے کی تھی۔

صحافی م۔ش لکھتے ہیں:قائداعظم معمولی انسان نہیں تھے۔ وہ تأثرات کی بنا پر لوگوں کے متعلق رائے قائم کرنے کے عادی نہ تھے بلکہ وہ تجربہ کی کسوٹی پر لوگوں کو پرکھا کرتے تھے۔ انہوں نے بہت سوچ بچار کے بعد ظفراللہ خاں کو مسلم لیگ کی نمائندگی کے لیے نامزد کیا تھا۔

صحافی منیر احمد منیر صاحب لکھتے ہیں: جب چودھری ظفراللہ خان یہ کیس پیش کرچکے تو قائداعظم نے انہیں شام کے کھانے کی دعوت دی اور انہیں معانقہ کا شرف بخشا جو قائداعظم کی طرف سے کرہ ارض پر بہت کم لوگوں کو نصیب ہوا۔ قائداعظم نے کہا کہ مَیں تم سے بہت خوش ہوں اور تمہارا ممنون ہوں کہ جو کام تمہارے سپرد کیا گیا تھا تم نے اسے اعلیٰ قابلیت اور نہایت احسن طریق سے سرانجام دیا۔

2۔ قیامِ پاکستان کے بعد اقوام متحدہ میں نمائندگی دلوانے کے لیے پاکستان کے پہلے وفد کی سربراہی کے لیے مسٹر جناح نے حضرت چودھری صاحبؓ کو مقرر فرمایا۔ امریکہ میں اُس وقت کے پاکستانی سفیر حسن اصفہانی نے جناح صاحب کے نام اپنے مکتوب میں لکھا: ‘‘اقوام متحدہ میں پاکستانی وفد نے توقع سے بڑھ کر کارکردگی دکھائی ہے۔ فلسطین کے مسئلہ پر ظفراللہ خان نے جو تقریر کی وہ اقوام متحدہ میں اس مسئلہ پر ہونے والی بہترین تقریروں میں سے ایک ہے ۔’’

3۔ اقوام متحدہ کا اجلاس ابھی جاری تھا کہ مسٹر جناح نے حضرت چودھری صاحب کو واپس بلاکر پاکستان کا پہلا وزیرخارجہ مقرر کیا۔ مسٹر جناح نے سفیر حسن اصفہانی کو اس بارہ میں لکھا کہ جہاں تک ظفراللہ خان کا تعلق ہے تو ہم نہیں چاہتے کہ جب تک وہاں (اقوام متحدہ) پر ان کا قیام ضروری ہے وہ اپنا کام ادھورا چھوڑ کر آجائیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ہاں قابل لوگوں خاص طور پر ان جیسی اعلیٰ صلاحیت کے اشخاص کی بہت کمی ہے اس لیے جب بھی ہمیں مختلف مسائل سے واسطہ پڑتا ہے تو اُن کے حل کے لیے لامحالہ ہماری نظریں اُن کی طرف اُٹھتی ہیں۔

حضرت چودھری صاحبؓ 7سال تک اس عہدہ پر مامور رہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ قیام پاکستان سے بارہ سال قبل مرکزی لیجسلیٹو اسمبلی کے اجلاس میں مسٹر جناح نے ہی فرمایا تھا کہ ‘‘ظفراللہ خان میرا سیاسی بیٹا ہے۔’’

4۔ مسٹر جناح نے آخری سرکاری دستخط اُس دستاویز پر کیے جس میں چودھری سر محمد ظفراللہ خان صاحب کو اقوام متحدہ میں پاکستان کی نمائندگی کرنے کے لیے پورے اختیارات دینے کے احکامات تھے۔

٭…… حضرت چودھری صاحبؓ مسٹر جناح کے بارہ میں فرماتے ہیں: ‘‘جہاں تک انسانی کوششوں کا تعلق ہے پاکستان کا قیام فرد واحد یعنی قائداعظم محمد علی جناح کی مخلصانہ کوششوں کا رہین منت ہے۔ وہ اکیلے شخص ہیں جنہوں نے دَم توڑتی ہوئی آل انڈیا مسلم لیگ میں زندگی کی روح پھونکی اور اسے اپنی جاندار اور انقلاب انگیز قیادت میں ایک مؤثر اور متحرّک سیاسی تنظیم میں بدل دیا۔… اگرچہ اس کام میں کئی اصحاب نے اخلاص اور فرمانبرداری سے آپ کا ہاتھ بٹایا لیکن کامیابی کا سہرا صرف اور صرف جناب محمد علی جناح کے سر بندھتا ہے۔ اس بارے میں کسی طرح سے کوئی ادنیٰ بھی شبہ پیدا نہیں کیا جاسکتا۔’’

(پاکستان ٹائمز 13؍فروری 1982ء)

٭…… حضرت مصلح موعودؓ نے مسٹر جناح کی وفات پر پاکستان کے وزیراعظم لیاقت علی خان کے نام بذریعہ تار ایک تعزیتی پیغام ارسال کیا جس میں تعزیت کرنے کے بعد پاکستان کے تمام احمدیوں کی طرف سے یقین دلایا گیا کہ ذاتی مفاد سے بالا ہوکر پاکستان اور مسلمانوں کی خدمت کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کریں گے۔

اُن دنوں حضورؓ نے اپنے ایک مضمون میں محمد علی جناح صاحب سے محبت کرنے والوں سے کہا کہ وہ یہ عہد کرلیں کہ جو منزل پاکستان کی مسٹر جناح نے تجویز کی تھی وہ اس سے بھی آگے اسے لے جانے کی کوشش کریں گے۔

………٭………٭………٭………

تین افغان شہداء

ماہنامہ ‘‘خالد’’ اپریل 2011ء میں مکرم عمار احمد پراچہ صاحب کے قلم سے تین افغان شہدائے احمدیت کا تذکرہ شامل اشاعت ہے۔

5؍فروری 1925ء کو دو احمدیوں محترم مولوی عبدالحلیم صاحب آف چراسہ اور محترم قاری نور علی صاحب ساکن کابل کو امیر امان اللہ خان کی حکومت نے سنگسار کرکے شہید کردیا۔ جب یہ خبر قادیان پہنچی تو حضرت مصلح موعودؓ نے اس سلسلے میں منعقد ہونے والے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ مجھے جس وقت گورنمنٹ کابل کی اس ظالمانہ اور اخلاق سے بعید حرکت کی خبر ملی مَیں اُسی وقت بیت الدعا میں گیا اور دعا کی کہ الٰہی تُو ان پر رحم کر اور ان کو ہدایت دے اور ان کی آنکھیں کھول تا وہ صداقت اور راستی کو شناخت کرکے اسلامی اخلاق کو سیکھیں اور انسانیت سے گری ہوئی حرکات سے باز آجائیں۔ میرے دل میں بجائے جوش اور غضب کے بار بار اس امر کا خیال آتا تھا کہ ایسی حرکت اُن کی حد درجہ بے وقوفی ہے۔ اس تقریر کے ذریعے مَیں آئندہ آنے والی نسلوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ طاقت اور قوت کے زمانے میں اخلاق کو ہاتھ سے نہ دیں کیونکہ اخلاق اصل وہی ہیں جو طاقت اور قوت کے وقت ظاہر ہوں۔
محترم مولوی عبدالحلیم صاحب گوشہ نشین اور درویش، شریف النفس، نرم خُو اور خاموش طبع انسان تھے۔ بوقت شہادت عمر 60 سال تھی۔ جبکہ محترم قاری نور علی صاحب صرف 25 سال کے تھے۔

ایک اَور افغان محترم ولی داد خان صاحب جو لمبا عرصہ قادیان میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد تحریک جدید کے سلسلے میں وقف کرکے حضرت مصلح موعودؓ کے ارشاد پر اپنے گاؤں (علاقہ خوست) میں آگئے جو افغان اور برطانوی حکومت کی حدفاصل پہاڑ کی چوٹی پر واقع ہے اور بالکل آزاد علاقہ ہے۔ یہاں اپنے چچازاد بھائی خالیداد کی لڑکی سے نکاح کیا۔ خداتعالیٰ نے ایک لڑکا فضل داد بھی دیا۔ لڑکے کی عمر ابھی صرف ڈیڑھ ماہ ہوئی تھی کہ ان کی بیوی کے بھائیوں نے اُس بچے کو قتل کردیا اور پھر چوتھے دن 15 فروری کو نہایت بے دردی سے آپ کو بھی تین گولیاں مار کر شہید کردیا۔ تین دن تک لاش بے گوروکفن پڑی رہی اس کے بعد وہ کہیں پھینک دی گئی۔

………٭………٭………٭………

ماہنامہ ‘‘خالد’’ ربوہ مارچ 2011ء میں مکرم عبیداللہ علیم صاحب کی ایک نظم شامل اشاعت ہے ۔ اس نظم میں سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے:

زمین جب بھی ہوئی کربلا ہمارے لیے
تو آسمان سے اُترا خُدا ہمارے لیے
اُنہیں غرور کہ رکھتے ہیں طاقت و کثرت
ہمیں یہ ناز بہت ہے خُدا ہمارے لیے
تمہارے نام پہ جس آگ میں جلائے گئے
وہ آگ پھول ہے وہ کیمیا ہمارے لیے
وہ جس پہ رات ستارے لیے اُترتی ہے
وہ ایک شخص دُعا ہی دعا ہمارے لیے
وہ نُور نُور دمکتا ہوا سا اِک چہرہ
وہ آئینوں میں حیا ہی حیا ہمارے لیے
دیے جلائے ہوئے ساتھ ساتھ رہتی ہے
تمہاری یاد تمہاری دُعا ہمارے لیے

ماہنامہ ‘‘انصاراللہ’’ ربوہ فروری 2012ء میں مکرم سیّد محمود احمد شاہ صاحب کی ایک نظم شائع ہوئی ہے جس میں سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے:

خدا کا ظاہر جلال ہوگا
تو جینا اُس دن محال ہوگا
زمیں بھی ایسی زمیں نہ ہوگی
پَشَمْ کی مانند جبال ہوگا
جو ہم پہ قدغَن لگا رہے ہو
تمہی پہ اس کا وبال ہوگا
لہو ہمارا بہانے والو
تمہیں کبھی تو ملال ہوگا
تمہارے ملنے کی اس خوشی میں
عجیب دل کا بھی حال ہوگا
فلک پہ تاروں کے جھرمٹوں میں
اسی کا حسن و جمال ہوگا

ماہنامہ ‘‘انصاراللہ’’ ربوہ اگست 2012ء میں مکرم عبدالسلام اسلام صاحب کی ایک نظم بعنوان ‘‘نالۂ جدید’’ شائع ہوئی ہے جس میں سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے:

ہم مصطفیٰ ؐ کی رہ میں آنکھیں بچھا رہے ہیں
کیوں ہم کو زُہد والے آنکھیں دکھا رہے ہیں
پُرخار کس قدر ہے عشق و وفا کا رستہ
دل کو مگر ہے تسکیں وہ آزما رہے ہیں
زخموں پہ زخم دے کر بپھرے ہوئے وہ پھر بھی
زخموں پہ زخم کھاکر ہم مسکرا رہے ہیں
عرشِ بریں کی جانب پرواز ہے ہماری
رکھ کر جبیں زمیں پر ہم اُڑتے جا رہے ہیں
تائید میں ہیں اُن کی تقدیر کے ستارے
مہدی کی اقتدا میں جو سر کو جھکا رہے ہیں
نہ ہاتھ میں ہے جُنبش نہ اِذنِ لب کشائی
اپنی جبیں سے اُس کا در کھٹکھٹا رہے ہیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button