ایشیا

ہیومینٹی فرسٹ پاکستان کی خدمات پر ایک طائرانہ نظر

حضرت اقدس مسیح موعودؑ اپنے ایک فارسی منظوم کلام میں فرماتے ہیں ؎

مرا مقصود و مطلوب و تمنا خدمت خلق است

ہمیں کارم ہمیں بارم ہمیں رسمم ہمیں راہم

اس فارسی شعر کا مطلب یہ ہے کہ مخلوق خدا کی خدمت کرنا میر امقصد اور میری خواہش ہے۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے میں سب کچھ کرتا ہوں اور اس کام سے مجھے خوشی ملتی ہے۔ یہی میرے کام ہیں۔یہی وہ ذمہ داری ہے جو میرے سپرد ہوئی ہے۔یہی وہ رسم یا طریقہ ہے جو میرا طریقہ ہے اور اس کے کرنے کا یہی وہ راستہ ہے جو میں خود دکھاتا ہوں ۔

جماعت احمدیہ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام اورخلفائے احمدیت کی ہدایات کے زیر سایہ خدمت انسانی کے اہم فریضہ کی بجا آوری کو اپنے لیے ایک فرض سمجھتی ہے اور اس شعبہ میں کار ہائے نمایاں سرانجام دینے کی سعی کرتی ہے ۔خدمتِ خلق کے کام کو ایک مربوط نظام کےتحت سرانجام دینے کے لیے حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒنے 1995 میں ہیومینٹی فرسٹ کا اجرا فرمایا ۔ اللہ کے فضل سےہیومینٹی فرسٹ کی شاخیں پچاس سے زائد ممالک میں قائم ہو چکی ہیں جہاں بلا تفریق رنگ و نسل ،مذہب و فرقہ ،علاقائی یا لسانی اختلاف کے رضاکارانہ طور پر دکھی ، نادار اور مستحق انسانیت کی خدمت کے متعدّد کام جاری ہیں۔

ہیومینٹی فرسٹ کے پاکستان چیپٹرنے اپنے کام کا آغاز 2005ء میں آنے والے ہولناک زلزلے کے بعد متاثرین کی ہر ممکنہ امداد سے کیا ۔ہیومینٹی فرسٹ پاکستان کویہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نےازراہ شفقت ہیومینٹی فرسٹ پاکستان کے پراجیکٹ Water for Lifeکے لیے ایک کنواں عطیہ فرمایا ۔ جس کےبعدہیومینٹی فرسٹ پاکستان پر اللہ تعالیٰ کے فضل پہلے سے بھی زیادہ تیزی کے ساتھ نازل ہونا شروع ہوگئے ہیں اور عطیہ جات کی وصولی کا سلسلہ سارا سال ہی جاری رہتا ہے۔ احبابِ جماعت اس کارِ خیر میں بڑھ چڑھ کر شامل ہو تے ہیں۔

ہیومینٹی فرسٹ پاکستان کو مختلف منصوبہ جات کے تحت خدمت انسانیت کی توفیق مل رہی ہے ۔ان میں سے چند کا تعارف درج ذیل ہے۔

Water for life

تھر میں پانی کی شدید قلت ہے اور پانی کی چند بوندوں کے لیے علاقے کی خواتین کوگھنٹوں پیدل سفر کر کے میلوں دور جانا پڑتا ہے اور پانی کے محدود ذخائر بھی اکثر ایسے ہیں جہاں جانور اور انسان اکٹھے پانی پیتے ہیں۔ اس منصوبے کے تحت مختلف دیہات میں کنووں کی کھدائی کی جاتی ہے اور سینکڑوں سالوں بعد یہ علاقہ صاف پانی کی شکل دیکھتا ہے۔ کنووں کی کھدائی سے علاقہ مکینوں میں جہاں خوشی کی لہر دوڑ جاتی ہے وہاں ان کے چہروں پر مسرت کا نظّارہ دیدنی ہوتا ہے ۔ اب تک اس منصوبے کے تحت 670 میٹھے پانی کے کنواں جات لگائے جا چکے ہیں ۔اس منصوبہ کے تحت پاکستان کے دور دراز پس ماندہ علاقوں میں پانی کے نلکے (ہینڈ پمپس)بھی لگائے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ گلگت اور چترال میں علاقے کی ساخت کے پیشِ نظر سپیشل ہینڈ پمپس اور اسی طرح اندرون سندھ میں سولر انرجی سے چلنے والے واٹر پمپس بھی لگائے جاتے ہیں۔

Global health

اس منصوبہ کے ذریعہ تھر میں فری میڈیکل کیمپس کے ذریعہ علاقہ مکینوں کی طبی ضروریات پوری کی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ میٹرنٹی اینڈ چائلڈ کیمپس کا انعقاد بھی اس منصوبہ میں شامل ہے ۔ان میڈیکل کیمپس میں نو مولود بچوں کی مناسب دیکھ بھال کے حوالے سے علاقے کی عورتوں کی مناسب راہنمائی بھی کی جاتی ہے ۔

Gift of Sight

موتیا کی بیماری تھر میں عام ہے۔ اگر اس بیماری کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو بینائی جانے کا خدشہ لاحق رہتا ہے ۔اس منصوبہ کے ذریعہ آنکھ کی بیماریوں کا علاج ہوتا ہے ۔اور بعض اوقات آپریشن کے بعد متاثرہ افراد اپنے روزمرہ کے کام کاج سہولت کے ساتھ کر سکتےہیں نیز اس حوالہ سے ان کے لیےایک نئی زندگی کا آغاز ہوتا ہے۔اس منصوبہ کی خاص بات یہ ہے کہ متاثرہ مریض کی خوراک،اسے گھر سے میڈیکل کیمپس تک لانے اور گھر واپس چھوڑنے تک کے اخراجات کاخرچ بھی ہیومینٹی فرسٹ اٹھاتی ہے۔

Knowledge for Life

اس منصوبہ کے تحت تھرپارکر کے علاقہ میں “چوہرا” سکولوں کا قیام کیا گیا ہے ۔چوہرا مقامی زبان میں مٹی وغیرہ کے ان گھروندوں کو کہتے ہیں جہاں مقامی لوگ اپنی رہائش رکھتے ہیں۔ایسے سکول تعداد میں 4ہیں جہاں 255 بچے علم کی دولت سے فیض یاب ہو رہے ہیں ۔

نیز اس منصوبے کے تحت افریقہ میں خدمات سر انجا م دینے والے ڈاکٹرز کو ماہرینِ فن ڈاکٹر زکے ذریعہ آن لائن ٹریننگ دینے کا بھی انعقاد کیا جاتا ہے۔

Disaster Relief

اس منصوبے کے تحت2005ء میں آنے والے زلزلہ میں ہیومینٹی فرسٹ پاکستان نے نہایت محدود وسائل کے باوجود بہت بڑی تعداد میں متأثرین کی بحالی کے عمل کو یقینی بنایا۔ اس کے علاوہ پاکستان میں آنے والے2010ء، 2011ء اور 2014ء کے سیلابوں میں متأثرین کوہر ممکنہ مدد فراہم کی۔

Food Security

اس منصوبہ کے تحت پاکستان کے دور دراز ، بنجر علاقوں اورلق و دق صحرا کو گل رنگ کرنے کے لیے “مسرور گرین تھر’’ کے نام سے ایک منصوبہ شروع ہے۔اس کے تحت پانی کی قلت کے باوجود مختلف پھل دار پودوں کو لگایا گیا ہے جس میں سے اللہ کے فضل سے بعض پودے پھل دینا بھی شروع ہو گئے ہیں ۔اس منصوبہ کے تحت مستحقین میں رمضان المبارک میں خصوصی طور پر راشن کی تقسیم کا کام بھی ہوتا ہے ۔

Community Care

اس منصوبہ کے تحت ہر سال مستحق بزرگوں کو Flue Vaccine لگائی جاتی ہے۔ یہ سلسلہ گزشتہ 2سال سے جاری ہے۔ اس سے اب تک 223 بزرگ استفادہ کر چکے ہیں ۔

پاکستان کے ضلع چترال میں خواتین کے لیے ایک چھوٹا دست کاری سکول ابھی حال ہی میں قائم کیا گیا ہے جس میں سلائی کاکام سکھایا جاتا ہے ۔

Annual Global Telethon

ہیومینٹی فرسٹ پاکستان کے لیے نئے سال کے لیے عطیات کی وصولی کا کام شروع ہو چکا ہے۔ اس حوالے سے سالانہ گلوبل ٹیلی تھون کا انعقادمورخہ 28؍ستمبر2019ءکو پاکستانی وقت کے مطابق صبح دس بجے سے سہ پہر تین بجے تک (برطانیہ کے وقت کے مطابق صبح چھے بجے سے گیارہ بجے تک)ہورہا ہے۔ اس میں مختلف پراجیکٹس کے لیے فنڈز اور عطیات اکٹھے کیے جائیں گے ۔احباب جماعت اس پروگرام میں رابطہ کر کے عطیات دے سکتے ہیں۔یہ پروگرام مقررہ وقت پر ہیومینٹی فرسٹ پاکستان کی آفیشل ویب سائیٹ

www.PK.HUMANITYFIRST.org

پر دیکھا جا سکے گا۔

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button