کلام امام الزمان علیہ الصلاۃ والسلام

’’وہ خدا اب بھی بناتا ہے جسے چاہے کلیم‘‘

‘‘یہ لوگ جن مہلکات میں پھنسے ہوئے ہیں وہ بہت خطرناک مرض ہے ۔اس سے بڑ ھ کراور کیا مصیبت ہوگی کہ اُمّت کی نسبت باوجود خیرالامم ہونے کے یہ یقین کرلیا گیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے خاص فضل شرفِ مکالمہ سے محروم ہے اور خواہ ساری عمر کوئی مجاہدہ کرتا رہے کچھ بھی حاصل نہ ہوگا( نعوذباللہ)۔

جیسے کہہ دیا جاوے کہ خواہ ہزارہاتھ تک کھودتے چلو مگر پانی نہیں ملے گا ۔اگر یہ سچ ہے جیساکہ ہمارے مخالف کہتے ہیں تومجاہدہ اور دعا کی کیا حاجت ہے؟ کیونکہ انسان کی فطرت میں یہ بات داخل ہے کہ وہ جس کو ممکن الحصول سمجھتاہے اسے تلاش کرتاہے اور اس کے لئے سعی کرتاہے اور اگر اسے یہ خیال ا ور یقین نہ ہو تووہ مجاہدہ اور سعی کا دروازہ بند کردیتاہے۔ جیسے ہُما یا عنقا کی کوئی تلاش نہیں کرتا اس لئے کہ سب جانتے ہیں کہ یہ چیزیں ناممکن الحصول ہیں۔ پس اسی طرح جب یہ یقین کرلیا کہ اللہ تعالیٰ سے مکالمہ کا شرف ملنے کا ہی نہیں اور خوارق اب دئے ہی نہیں جاسکتے توپھرمجاہدہ اوردعا جو اس کے لئے ضروری ہیں محض بیکار ہوں گے اور اس کے لئے کوئی جرأت نہ کرے گا۔اور اس اُمّت کے لئے نعوذباللہ

مَنْ کَانَ فِیْ ھٰذِہٖ اَعْمٰی فَھُوَ فِی الْاٰخِرَۃِ اَعْمٰی(بنی اسرائیل :73)

صادق آئے گا۔ اوراس سے خاتمہ کا بھی پتہ لگ جائے گا کہ وہ کیسا ہوگا کیونکہ اس میں توکوئی شک وشبہ ہی نہیں ہوسکتاکہ یہ جہنمی زندگی ہے ۔پھر آخرت میں بھی جہنّم ہی ہوگا اور اسلام ایک جھوٹا مذہب ٹھہرے گا اورنعوذباللہ خداتعالیٰ نے بھی اس امت کو دھوکہ دیا کہ خیر الامت بنا کرپھر کچھ بھی اسے نہ دیا۔

اس قسم کا عقیدہ رکھناہی کچھ کم بدقسمتی اور اسلام کی ہتک نہ تھی کہ اس پر دوسری مصیبت یہ آئی کہ اس کے لئے وجوہات اور دلائل پیدا کرنے لگے۔ چنانچہ کہتے ہیں کہ یہ دروازہ مکالمات ومخاطبات کا اس وجہ سے بند ہوگیا کہ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے فرمایاہے

مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ(الاحزاب:41)

یعنی آنحضرتﷺ چونکہ خاتم النبیین ہیں اس لئے آپ کے بعد یہ فیض اورفضل بند ہو گیا۔ مگر ان کی عقل اور علم پر افسوس آتاہے کہ یہ نادان اتنا بھی نہیں سمجھتے کہ اگر ختم نبوت کے ساتھ ہی معرفت اور بصیرت کے دروازے بھی بند ہوگئے تو آنحضرت ﷺ(معاذاللہ )خاتم النبیین توکجا نبی بھی ثابت نہ ہوں گے ۔ کیونکہ نبی کی آمد اوربعثت تواس غر ض کے لئے ہوتی ہے تاکہ اللہ تعالیٰ پر ایک یقین اور بصیرت پیدا ہو اور ایسا ایمان ہوجو لذیذہو۔ اللہ تعالیٰ کے تصرفات اور اس کی قدرتوں اور صفات کی تجلّی کو انسان مشاہدہ کرے اوراس کا ذریعہ بھی اس کے مکالمات و مخاطبات اور خوارق عادات ہیں۔ لیکن جب یہ دروازہ ہی بند ہوگیا تو پھراس بعثت سے فائدہ کیا ہوا؟

مَیں بڑے افسوس سے کہتاہوںکہ ان لوگوں نے آنحضرتﷺ کی ہر گز ہرگز قدر نہیں کی اور آپؐ کی شانِ عالی کو بالکل نہیں سمجھا۔ورنہ اس قسم کے بیہودہ خیالات یہ نہ تراشتے ۔اس آیت کے اگر یہ معنے جو یہ پیش کرتے ہیںتسلیم کرلئے جاویں تو پھر گویا آپؐ کو نعوذباللہ ابتر ماننا ہوگا ۔کیونکہ جسمانی اولاد کی نفی تو قرآن شریف کرتاہے اور روحانی کی یہ نفی کرتے ہیں تو پھر باقی کیا رہا؟’’

(ملفوظات جلد چہارم صفحہ 430-429۔ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ)


٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button