متفرق مضامین

خواتین کے لیے خصوصی نصائح (حصہ دوم۔ آخر)

غیبت سے بچو

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:‘‘دل تو اللہ تعالیٰ کی صندوقچی ہوتا ہے اور اس کی کُنجی اس کے پاس ہوتی ہے ۔کسی کو کیا خبر کہ اس کے اندر کیا ہے ؟تو خواہ مخواہ اپنے آپ کو گناہ میں ڈالنا کیا فائدہ؟ حدیث شریف میں آیا ہے کہ ایک شخص بڑا گنہگار ہو گا ۔خدا تعالیٰ اس کو کہے گا کہ میرے قریب ہو جا ۔یہاں تک کہ اس کے اور لوگوں کے درمیان اپنے ہاتھ سے پردہ کر دے گا اور اس سے پوچھے گاکہ تم نے فلاں گناہ کیا۔فلاں گناہ کیا ۔ لیکن چھوٹے چھوٹے گناہ گنائے گا ۔ وہ کہے گا ہاں یہ گناہ مجھ سے ہوئے ہیں ۔خدا تعالیٰ فرمائے گا کہ اچھا آج کے دن میں نے تیرے سب گناہ معاف کیے اور ہر ایک گناہ کے بدلے دس دس نیکیوں کا ثواب دیا ۔ تب وہ بندہ سوچے گا کہ جب ان چھوٹے چھوٹے گناہوں کا دس دس نیکیوں کا ثواب ملا ہے تو بڑے بڑے گناہوں کا تو بہت ہی ثواب ملے گا ۔ یہ سوچ کر وہ بندہ خود ہی اپنے بڑے بڑے گناہ گنائے گا کہ اے خدا میں نے تو یہ گناہ بھی کیے ہیں تب اللہ تعالیٰ اس کی بات سن کر ہنسے گا اور فرمائے گا کہ دیکھو میری مہربانی کی وجہ سے یہ بندہ ایسا دلیر ہو گیا ہے کہ اپنے گناہ خود ہی بتلاتا ہے ۔پھر اُسے حکم دے گا کہ جا بہشت کے آٹھوں دروازوں میں سے جس سے تیری طبیعت چاہے داخل ہو جا ۔تو کیا خبر ہے کہ خدا تعالیٰ کو اُس سے کیا سلوک ہے یا اس کے دل میں کیا ہے ۔ اس لیے غیبت کرنے سے بکلی پرہیز کرنا چاہیے ۔

(ملفوظات جلد پنجم صفحہ 11)

خاوند کے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں ‘‘یہ مرض عورتوں میں بہت کثرت سے ہوا کرتا ہے کہ وہ ذرا سی بات پر بگڑکر اپنے خاوند کو بہت کچھ بھلا بُرا کہتی ہیں ۔بلکہ اپنی ساس اور سسر کو بھی سخت الفاظ سے یاد کرتی ہیں ۔حالانکہ وہ اس کے خاوند کے بھی قابلِ عزت بزرگ ہیں ۔ وہ اس کو ایک معمولی بات سمجھ لیتی ہیں ۔ اور ان سے لڑنا وہ ایسا ہی سمجھتی ہیں جیسا کہ محلہ کی اور عورتوں سے جھگڑا ۔حالانکہ خدا تعالیٰ نے ان لوگوں کی خدمت اور رضا جوئی ایک بہت بڑا فرض مقرر کیا ہے یہاںتک کہ حکم ہے کہ اگر والدین کسی لڑکے کو مجبور کریں کہ وہ اپنی عورت کو طلاق دیدے تو اس لڑکے کو چاہیے کہ وہ طلاق دیدے ۔ پس جبکہ ایک عورت کو ساس سسر کے کہنے پر اس کو طلاق مل سکتی ہے تو اور کونسی بات رہ گئی ہے ۔ اس لیے ہر ایک عورت کو چاہیے کہ ہر وقت اپنے خاوند اور اس کے والدین کی خدمت میں لگی رہے ۔ اور دیکھو کہ عورت جو کہ اپنے خاوند کی خدمت کرتی ہے تو اس کا کچھ بدلہ بھی پاتی ہے ۔اگر وہ اس کی خدمت کرتی ہے تو وہ اس کی پرورش کرتا ہے ۔مگر والدین تو اپنے بچے سے کچھ نہیں لیتے ۔وہ تو اس کے پیدا ہونے سے لیکر اس کی جوانی تک اس کی خبر گیری کرتے ہیں ۔اور بلاکسی اجر کے اس کی خدمت کرتے ہیں ۔ اور جب وہ جوان ہوتا ہے تو اس کا بیاہ کرتے ہیں اور اس کی آئندہ بہبودی کے لیے تجاویز سوچتے اور اس پر عمل کرتے ہیں ۔ اور پھر جب وہ کسی کام پر لگتا ہے اور اپنا بوجھ اٹھانے اور آئندہ زمانے کے لیے کسی کام کرنے کے قابل ہو جاتا ہے ۔تو کسی خیال سے اس کی بیوی اس کو اپنے ماں باپ سے الگ کرنا چاہتی ہے ۔یا کسی ذرا سی بات پر سبّ و شتم پر اتر آتی ہے ۔اور یہ ایک ایسا نا پسندیدہ فعل ہے جس کوخدا تعالیٰ اور مخلوق دونوں نا پسند کرتے ہیں ۔خدا تعالیٰ نے انسان پر دو ذمہ داریاں مقرر کی ہیں ۔ایک حقوق اللہ اور ایک حقوق العباد ۔پھر اس کے دو حصے کیے ہیں ۔یعنی اول تو ماں باپ کی اطاعت اور فرماں برداری اور پھر دوسری مخلوق الٰہی کی بہبودی کا خیال ۔اور اس طرح ایک عورت پر اپنے ماں باپ اور خاوند اور ساس سسر کی خدمت اور اطاعت ۔پس کیا بد قسمت ہے جو ان لوگوں کی خدمت نہ کر کے حقوق العباد اور حقوق اللہ دونوں کی بجا آوری سے منہ موڑتی ہے ۔

(ملفوظات جلد پنجم صفحہ 111-110)

جیسا کہ قانون قدرت ہے کہ ہر لڑکی جب بالغ ہوتی ہے تو ہمارے معاشرے میں ماں باپ اس کا کوئی اچھا سارشتہ دیکھ کر اس کی شادی کر دیتے ہیں اور وہ لڑکی دوسرے گھر چلی جاتی ہے جہاں اس نے اپنی آئندہ زندگی گزارنی ہوتی ہے ۔تمام والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ ہمارے لڑکے یا لڑکی کو ایک اچھا ہم سفر ملے ۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک عورت کا اور بھی بہت سارے نئے رشتوں سے واسطہ پڑتا ہے اور ایک اچھی عورت پر فرض ہے کہ ان رشتوں کو کھلے دل سے قبول کرے اور اپنے خاوند کی خوشی کا خیال رکھتے ہوئے سب کے ساتھ اچھا سلوک کرے۔ان تمام نئے رشتوں میں سب سے قریبی رشتہ ماں باپ کا ہوتا ہے۔اس لیے چاہے مرد ہو یا عورت دونوں کو اس رشتے کا احترام کرنا چاہیے ۔لیکن افسوس کہ اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ عورت خاوند کے ماں باپ کو ایک بوجھ سمجھتی ہے ۔ وہ ماں باپ جنہوں نے اپنے بیٹے کو لاڈ پیار سے پال کر جوان کیا اور پھر اپنے جگر کا ٹکڑا اس کے حوالے کر دیا لیکن اس کی بیوی سمجھتی ہے کہ اپنے خاوند پر صرف اس کا حق ہے اور باقی تمام رشتے ثانوی اور فضول ہیں ان کی کوئی اہمیت نہیں ۔اسی سوچ کی وجہ سے بیوی ذرا ذرا سی بات پر خاوند کے ماں باپ کے ساتھ لڑائی جھگڑا شروع کر دیتی ہے اور اس جھگڑے کو ایک معمولی فعل سمجھتے ہوئے اپنی انا کا مسئلہ بنا لیتی ہے اور اس طرح خاوند کی بھی نافرمانی اور دل آزاری کرتی چلی جاتی ہے ۔حالانکہ اُسے سوچنا چاہیے کہ جیسے مجھے اپنے والدین عزیز ہیں اسی طرح سے میرے خاوند کو بھی اپنے والدین عزیز ہیں اور ان کی خدمت اس پر فرض ہے اور میں بھی اپنے خاوند کے والدین کی عزت و احترام کا خیال رکھوں ۔

بعض اوقات ساس سسر طبیعت کے سخت ہوتے ہیں اور بلاوجہ کی خامیاں نکالتے ہیں لیکن یہ سوچ کر ان سے در گزر کرنا چاہیے کہ وہ بزرگ ہیں اور اس لحاظ سے بھی ان کی عزت و احترام فرض ہے ۔کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کہ والدین کو اُف تک نہ کہو ۔

ماں باپ کو بھی چاہیے کہ جب وہ اپنی بیٹی کو رخصت کریں تو اسے سمجھائیں کہ اب آپ نے اپنے ساس سسر کا احترام کرنا ہے ،ان کے آرام کا ہر طرح سے خیال رکھنا ہے ۔اور اگر بعد میں بھی جب بیٹیاں ماں باپ سے کوئی گلہ شکوہ کریں تو ان کو پیار سے سمجھائیں اور صبر کی تلقین کریں نہ کہ ان کو غلط قسم کے مشورے دیں جن سے گھر کا ماحول اور خراب ہو ۔اللہ کرے ہم میں سے ہر کوئی اپنے فرائض کو سمجھنے ولا ہو ۔ آمین

نابکار عورتوں کے لعن طعن سے نہ ڈرے

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ‘‘اگر کسی عورت کا خاوند مر جائے تو گو وہ عورت جوان ہی ہو دوسرا خاوند کرنا ایسا بُرا جانتی ہے جیسا کہ کوئی بڑا بھاری گناہ ہوتا ہے اور تمام عمر بیوہ اور رانڈرہ کر یہ خیال کرتی ہے کہ میں نے بڑے ثواب کا کام کیا ہے اور پاکدامن بیوی ہو گئی ہوں۔حالانکہ اس کے لیے بیوہ رہنا سخت گناہ کی بات ہے ۔عورتوں کے لیے بیوہ ہونے کی حالت میں خاوند کر لینا نہایت ثواب کی بات ہے ۔ایسی عورت حقیقت میں بڑی نیک بخت اور وَلی ہے جو بیوہ ہونے کی حالت میں بُرے خیالات سے ڈر کر کسی سے نکاح کرلے اور نابکار عورتوں کے لعن طعن سے نہ ڈرے ۔ ایسی عورتیں جو خدا اور رسول ؐ کے حکم سے روکتی ہیں خود لعنتی اور شیطان کی چیلیاں ہیں ۔ جن کے ذریعہ سے شیطان اپنا کام چلاتا ہے ۔جس عورت کو رسول اللہ( صلی ا للہ علیہ وسلم )پیارا ہے اُس کو چاہیے کہ بیوہ ہونے کے بعدکوئی ایماندار اور نیک بخت خاوند تلاش کرے اور یاد رکھے کہ خاوند کی خدمت میں مشغول رہنا بیوہ ہونے کی حالت کے وضائف سے صدہا درجہ بہتر ہے ۔’’

(ملفوظات جلد پنجم صفحہ47)

مردوں کی نافرمانی

آپ علیہ السلام فرماتے ہیں :‘‘عورتوں میں ایک خراب عادت یہ بھی ہے کہ وہ بات بات میں مردوں کی نافرمانی کرتی ہیں اور ان کی اجازت کے بغیر ان کا مال خرچ کر دیتی ہیں اور ناراض ہونے کی حالت میں بہت کچھ برا بھلا اُن کے حق میں کہہ دیتی ہیں۔ایسی عورتیں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک لعنتی ہیں ۔اُن کا نماز ،روزہ اور کوئی عمل منظور نہیں ۔اللہ تعالیٰ صاف فرماتا ہے کہ کوئی عورت نیک نہیں ہو سکتی جب تک پوری پوری خاوند کی فرمانبرداری نہ کرے اور دلی محبت سے اُس کی تعظیم نہ بجا لائے ۔ اور پس پُشت اس کے لیے اس کی خیر خواہ نہ ہو۔اور پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ عورتوں پر لازم ہے کہ مردوں کی تابعدار رہیں ورنہ ان کا کوئی عمل منظور نہیں اور نیز فرمایااگر غیر خدا کو سجدہ کرنا جائز ہوتا تو میں حکم کرتا کہ عورتیں اپنے خاوندوں کو سجدہ کیا کریں۔ اگر کوئی عورت اپنے خاوند کے حق میں کچھ بد زبانی کرتی ہے یا اہانت کی نظر سے اس کو دیکھتی ہے اور حکمِ ربّانی سُن کر بھی باز نہیں آتی تو وہ لعنتی ہے ۔خدا اور رسول اس سے ناراض ہیں ۔ عورتوں کو چاہیے کہ اپنے خاوندوں کا مال نہ چُراویں اور نامحرم سے اپنے تئیں بچائیں اور یاد رکھنا چاہیے کہ بجز خاوند اور ایسے لوگوں کے جن کے ساتھ نکاح جائز نہیں اور جتنے مرد ہیں ان سے پردہ کرنا ضروری ہے جو عورتیں نا محرم لوگوں سے پردہ نہیں کرتیں شیطان ان کے ساتھ ساتھ ہے ۔عورتوں پریہ بھی لازم ہے کہ بدکار اور بد وضع عورتوں کو اپنے گھروں میں نہ آنے دیں اور نہ ان کو اپنی خدمت میں رکھیں۔کیونکہ یہ سخت گناہ کی بات ہے کہ بدکار عورت نیک عورت کی ہم صحبت ہو ۔

(ملفوظات جلد پنجم صفحہ 48-47)

شریعت کی پابندی

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں ‘‘ہمارے گھروں میں شریعت کی پابندی میں بہت سُستی کی جاتی ہے بعض عورتیں زکوٰۃ دینے کے لائق ہیں اور بہت سا زیور ان کے پاس ہے مگر وہ زکوٰۃ نہیں دیتیں ۔ بعض عورتیں نماز روزہ کے ادا کرنے میں بہت کو تاہی کرتی ہیں ۔بعض عورتیں شرک کی رسمیں بجا لاتی ہیں ۔ جیسے چیچک کی پوجا۔ ،بعض فرضی دیویوں کی پوجا کرتی ہیں۔بعض ایسی نیازیں دیتی ہیں جن میں یہ شرط رکھ دیتی ہیں کہ عورتیں کھا ویں کوئی مرد نہ کھاوے یا حقہ نوش نہ کھاوے بعض جمعرات کی چوکی بھرتی ہیں ،مگر یاد رکھنا چاہیے کہ یہ سب شیطانی طریق ہیں۔ ہم صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ان لوگوں کو نصیحت کرتے ہیں کہ آئو خدا تعالیٰ سے ڈرو ورنہ مرنے کے بعد ذلت اور رسوائی سے سخت عذاب میں پڑو گے اور اس عذابِ الٰہی میں مبتلا ہو جائو گے جس کی انتہا نہیں ۔ ’’

(ملفوظات جلد پنجم صفحہ 49)

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button