کلام امام الزمان علیہ الصلاۃ والسلام

یہ زمانہ تکمیل اشاعت ہدایت کا زمانہ ہے

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام فرماتے ہیں:

تکمیل ہدایت کے دن میں تو خود آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم دنیا میں موجود تھے…… جب آیت اَلۡیَوۡمَ اَکۡمَلۡتُ لَکُمۡ دِیۡنَکُمۡ وَ اَتۡمَمۡتُ عَلَیۡکُمۡ نِعۡمَتِیۡ نازل ہوئی۔…… مگر تکمیل اشاعت کا دن اس دن کے ساتھ جمع نہیں ہو سکتا تھاکیونکہ ابھی وہ وسائل پیدا نہیں ہوئے تھے جو تمام دنیا کے تعلقات کو باہم ملا دیتے اور برّی اور بحری سفروں کو مسافروں کے لیے سہل کر دیتے اور دینی کتابوں کی ایک کثیر مقدار قلمبند کرنے کے لیے جو تمام دنیا کے حصّہ میں آسکے آلات زود نویسی کے مہیا کر دیتے اور نہ مختلف زبانوں کا علم نوعِ انسان کو حاصل ہوا تھا اور نہ تمام مذاہب ایک دوسرے کے مقابل پر آشکارا طور پر ایک جگہ موجود تھے۔ اس لیے وہ حقیقی اشاعت جو اتمام حجت کے ساتھ ہر ایک قوم پر ہو سکتی ہے اور ہر ایک ملک تک پہنچ سکتی ہے نہ اسکا وجود تھا اور نہ معمولی اشاعت کے وسائل موجود تھے۔ لہٰذا تکمیل اشاعت کے لیے ایک اور زمانہ علمِ الٰہی نے مقرر فرمایا۔ جس میں کامل تبلیغ کے لیے کامل وسائل موجود تھے اور ضرور تھا کہ جیسا کہ تکمیل ہدایت آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ سے ہوئی ایسا ہی تکمیل اشاعتِ ہدایت بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے ہو کیونکہ یہ دونوں آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے منصبی کام تھے لیکن سنت اللہ کے لحاظ سے اس قدر خلود آپ کے لیے غیر ممکن تھا کہ آپ اُس آخری زمانہ کو پاتے اور نیز ایسا خلود شرک کے پھیلنے کا ایک ذریعہ تھا اس لیے خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس خدمت منصبی کو ایک ایسے امتی کے ہاتھ سے پورا کیا کہ جو اپنی خو اور روحانیت کے رُو سے گویا آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے وجود کا ایک ٹکڑا تھا یا یوں کہو کہ وہی تھا اور آسمان پر ظلّی طور پر آپ کے نام کا شریک تھا غرض… آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دو بعث مقدر تھے۔ (1) ایک بعث تکمیل ہدایت کے لیے (2) دوسرا بعث تکمیل اشاعتِ ہدایت کے لیے … آپؐ کو یہ خطاب عطا ہوا تھا قُلۡ یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنِّیۡ رَسُوۡلُ اللّٰہِ اِلَیۡکُمۡ جَمِیۡعًا۔ سو اگرچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدِ حیات میں وہ تمام متفرق ہدایتیں جو حضرت آدم سے حضرت عیسیٰ تک تھیں قرآن شریف میں جمع کی گئیں۔ لیکن مضمون آیت قُلۡ یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنِّیۡ رَسُوۡلُ اللّٰہِ اِلَیۡکُمۡ جَمِیۡعَاآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں عملی طور پر پورا نہیں ہو سکا کیونکہ کامل اشاعت اس پر موقوف تھی کہ تمام ممالک مختلفہ یعنی ایشیا اور یورپ اور افریقہ اور امریکہ اور آبادی دنیا کے انتہائی گوشوں تک آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی تبلیغ قرآن ہو جاتی اور یہ اس وقت غیر ممکن تھا بلکہ اسوقت تک تو دنیا کی کئی آبادیوں کا ابھی پتہ بھی نہیں لگا تھا اور دور دراز سفروں کے ذرائع ایسے مشکل تھے کہ گویا معدوم تھے۔ بلکہ اگر وہ ساٹھ برس الگ کر دیے جائیں جو اس عاجز کی عمر کے ہیں تو1257 ہجری تک بھی اشاعت کے وسائل کاملہ گویا کالعدم تھے اور اس زمانہ تک امریکہ کل اور یورپ کا اکثر حصہ قرآنی تبلیغ اور اس کے دلائل سے بے نصیب رہا ہوا تھا بلکہ دُور دُور ملکوں کے گوشوں میں تو ایسی بے خبری تھی کہ گویا وہ لوگ اسلام کے نام سے بھی ناواقف تھے غرض آیت موصوفہ بالا میں جو فرمایا گیا تھا کہ اے زمین کے باشندو! مَیں تم سب کی طرف رسول ہوں عملی طور پر اس آیت کے مطابق تمام دنیاکو ان دنوں سے پہلے ہر گز تبلیغ نہیں ہو سکی اور نہ اتمام حجت ہوا کیونکہ وسائل اشاعت موجود نہیں تھے اور نیز زبانوں کی اجنبیت سخت روک تھی اور نیز یہ کہ دلائل حقانیت اسلام کی واقفیت اس پر موقوف تھی کہ اسلامی ہدایتیں غیر زبانوں میں ترجمہ ہوں اور یا وہ لوگ خود اسلام کی زبان سے واقفیت پیدا کر لیں اور یہ دونوں امر اس وقت غیر ممکن تھے لیکن قرآن شریف کا یہ فرمانا کہ ومن بلغ یہ امید دلاتا تھا کہ ابھی اَور بہت سے لوگ ہیں جو ابھی تبلیغِ قرآنی اُن تک نہیں پہنچی۔ ایسا ہی آیت وَ اٰخَرِیۡنَ مِنۡہُمۡ لَمَّا یَلۡحَقُوۡا بِہِمْ ا س بات کو ظاہر کر رہی تھی کہ گو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات میں ہدایت کا ذخیرہ کامل ہو گیا مگر ابھی اشاعت ناقص ہے اور اس آیت میں جو منھم کا لفظ ہے وہ ظاہر کر رہا تھا کہ ایک شخص اس زمانہ میں جو تکمیل اشاعت کے لیے موزون ہے مبعوث ہوگا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے رنگ میں ہوگا اور اس کے دوست مخلص صحابہ کے رنگ میں ہوں گے۔

(تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 258تا 264)

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

تبصرے 2

  1. اس جدید اضافہ سے الفضل انٹرنیشنل اور زیادہ خوبصورت ہو دیدہ زیب ہوگیا ہے ۔ایپلیکیشن کی وجہ سے الفضل تک رسائی اور بھی آسان ہوگئی ہے۔اللہ تعالیٰ مبارک کرے۔

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button