سیرت خلفائے کرام

سیّدنا حضرت مصلح موعودؓ کا عظیم الشان کارنامہ پاکستان میں نئے مرکز احمدیت کا قیام

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعدد الہامات اور رؤیا و کشوف میں ہجرت کا اشارہ ملتا ہے۔ 8؍ستمبر 1894ء کو آپ کو الہام ہوا ’’داغ ہجرت‘‘ (تذکرہ صفحہ 218) بعض مشکلات اور نامساعد حالات میں آپؑ نے قادیان سے ہجرت کا ارادہ بھی ظاہر فرمایا اور آپ کے محبین نے آپ کو بھیرہ، لاہور، سیالکوٹ اور چک پنیار میں ہجرت کر کے جانے اور اپنے قیام کے لئے جگہ کی پیشکش کرنے کی سعادت پائی لیکن آپؑ نے یہی فرمایا کہ جب اذن ہو گا تب ہجرت ہو گی۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:

’’انبیاء کے ساتھ ہجرت بھی ہے لیکن بعض رؤیا نبی کے زمانہ میں پورے ہوتے ہیں اور بعض اولاد یا کسی متبع کے ذریعہ سے پورے ہوتے ہیں مثلاً آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو قیصر و کسریٰ کی کنجیاں ملی تھیں تو وہ ممالک حضرت عمر ؓ کے زمانہ میں فتح ہوئے‘‘۔

(ملفوظات جلد 4 صفحہ 362)

یہ مشیت ِاِیزدی تھی کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو جو ہجرت کی خبر دی گئی وہ آپؑ کے متبع کامل اور پسر موعود حضرت فضل عمرؓکے بابرکت دَور میں پوری ہوئی۔ 1947ء کی تقسیم ہند کے وقت جماعت کو اپنے دائمی مرکز قادیان سے ہجرت کر کے پاکستان آنا پڑا۔

پسر موعود کی علامات مذکورہ پیشگوئی 20؍فروری 1886ء میں یہ علامت بھی موجود تھی:

’’وہ تین کو چار کرنے والا ہو گا (اس کے معنی سمجھ نہیں آئے) دوشنبہ ہے مبارک دو شنبہ‘‘

(تذکرہ صفحہ110:)

اس پیشگوئی کے پورا ہونے کا ایک عظیم الشان موقع نئے مرکز احمدیت کا قیام بھی ہے۔ جو اولواالعزم خلیفہ سیّدنا حضرت مصلح موعود کا ایک عظیم المرتبت کارنامہ ہے۔ جب تقسیمِ ہند کے نتیجہ میں بکھری ہوئی جماعت کو پھر ایک جگہ جمع کر کے اشاعتِ دین کے فریضہ کو دوبارہ اسی شان و شوکت کے ساتھ شروع کر دیا گیا جس طرح یہ سلسلہ قادیان میں جاری تھا۔

دارالہجرت حضرت مصلح موعودؓکی دور بین نگاہ اور آپ کی اولواالعزم قیادت کا آئینہ دار ہے۔ حضورؓبیان فرماتے ہیں:

’’یہاں (پاکستان) پہنچ کر میں نے پورے طور پر محسوس کیا کہ میرے سامنے ایک درخت کو اکھیڑ کر دوسری جگہ لگانا نہیں بلکہ ایک باغ کو اکھیڑ کر دوسری جگہ لگانا ہے۔ یعنی ہمیں اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ فورًا ایک مرکز بنایا جائے اس کے لئے 7؍ستمبر 1947ء کو ایک میٹنگ بلائی گئی۔ جس طرح میرے قادیان سے نکلنے کا کام کیپٹن عطاء اﷲ صاحب کے ہاتھ سے سرانجام پایا تھا، اسی طرح ایک نئے مرکز کا کام ایک دوسرے آدمی کے سپرد کیا گیا جو پیچھے آیا اور کئی لوگوں سے آگے بڑھ گیا۔ میری مراد نواب محمد دین صاحب مرحوم سے ہے‘‘۔

(الفضل 31؍جولائی 1949ء)

نئے مرکز کے لئے جگہ کی تلاش

حضرت مصلح موعودؓکے اس عظیم الشان اور تاریخی کارنامہ جس کے ذریعہ ایک بے آب و گیاہ وادی کو بسایا گیا اور پھر اسے گل و گلزار میں اﷲ کے فضل سے تبدیل کر دیا گیا اس کی مختصر روئیداد آئندہ سطور میں ہدیہ قارئین کی جائے گی۔ وما توفیقی الا باﷲ العزیز۔

قادیان سے پاکستان ہجرت کے بعد سب سے بڑا مرحلہ پاکستان میں نئے مرکز سلسلہ کے لئے مناسب اور موزوں جگہ کی تلاش تھی۔ نئے مرکز کے لئے جگہ کی تلاش کی خدمت کی سعادت محترم چوہدری عزیز احمد صاحب باجوہ کے حصّہ میں آئی۔ آپ ان ایام میں سرگودہا میں سیشن جج کے عہدہ پر فائز تھے۔ حضرت مصلح موعودؓ نے انہیں لاہور بلوا کر ان سے مشورہ لیا اور ہدایات دیں۔

نئے مرکز کے لئے کئی مقامات زیرِ غور آئے جن میں شیخوپورہ اور سیالکوٹ کے متعدد علاقے، کلاس والا، پسرور، چوہڑمنڈہ، چناب کنارے جہاں وہ پہاڑوں سے نکلتا ہے، ننکانہ صاحب نیز کہوٹہ، راوی کنارے نزد سرحد کشمیر، کڑانہ پہاڑی کا دامن اور چنیوٹ کے نزدیک دریائے چناب کے پار کے علاقے شامل تھے۔

حضرت مصلح موعود کی مجوزہ زمین پر آمد

محترم چوہدری عزیز احمد صاحب باجوہ نے 25؍ستمبر 1947ء کو حضور کی خدمت میں مذکورہ بالا مختلف مقامات کے بارہ میں اپنی رپورٹ پیش کی۔ ان علاقوںکے فائدے اور نقصانات کا بھی ساتھ ساتھ ذکر کیا۔ دارالہجرت والی زمین کے بارہ میں لکھا کہ یہ جگہ ہر لحاظ سے موزوں ہے کیونکہ کافی رقبہ گورنمنٹ سے مل سکے گا۔ تاہم ارد گرد احمدی کم ہیں۔

حضورؓ نے چوہدری عزیز احمد صاحب کو ہدایت فرمائی کہ وہ علاقہ شیخوپورہ جاکر اراضیات دیکھ آئیں۔ چوہدری صاحب نے شیخوپورہ ، جڑانوالہ اور چنیوٹ کے علاقوں میں زمینوں کا جائزہ لیا۔ موجودہ دارالہجرت والی زمین کو پسند کرکے حضور کی خدمت میں رائے پیش کر دی۔

رائے حاصل کر لینے کے بعد سیّدنا حضرت مصلح موعودؓ نئی مجوزہ جگہ کو بذاتِ خود ملاحظہ فرمانے کی غرض کے لئے 18؍اکتوبر 1947ء کو لاہور سے سرگودہا کی طرف تشریف لائے۔ یہ وہ تاریخی دن ہے جب سر زمین ربوہ پر حضرت مصلح موعودؓ کے پہلی بار مبارک قدم پڑے۔

مندرجہ ذیل احباب حضور ؓ کے شریک سفر تھے:

1۔ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم ۔اے 2۔ حضرت نواب محمد الدین صاحب 3۔ حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب دردؔ 4۔ محترم چوہدری اسد اﷲ خان صاحب 5۔محترم راجہ علی محمد صاحب افسر مال 6۔محترم شیخ محمد دین صاحب دفتر جائیداد صدر انجمن احمدیہ

خرید اراضی کے لئے کارروائی

حضورؓ صبح سویرے رتن باغ سے روانہ ہوئے اور تقریباً دس بجے سر زمین ربوہ بس اڈہ کے قریب پہنچے۔ حضورؓ نے کار سے اتر کر جگہ کا معائنہ فرمایانیز قریبی پہاڑی کے اوپر جاکر بھی حضور نے جگہ ملاحظہ فرمائی اور پھر سرگودہا کی طرف آگے چل کر نلکے سے پانی چکھ کر فرمایا کہ پانی تو بہت اچھا ہے۔ یہاں سے روانہ ہو کر احمد نگر کے بالمقابل سڑک پر نکل کر ایک کنویں کے قریب درخت کے نیچے ٹھہر کر احمد نگر کے غیر از جماعت معززین سے مخاطب ہوئے اور ربوہ کی زمین کے بارہ میں بعض معلومات لیں اور پھر سرگودہا کی طرف روانہ ہو گئے۔ کڑانہ پہاڑیوں کے دامن میں کُھلے میدان کا جائزہ لیا۔ سرگودہا پہنچ کر محترم چوہدری عزیز احمد صاحب باجوہ کی کوٹھی پر کھانا تناول فرمایا۔ نماز ظہر و عصر کی ادائیگی کے بعد حضور لاہور کے لئے روانہ ہو گئے۔

(تاریخ احمدیت جلد 11 صفحہ 286،288)

سرزمین دارالہجرت کو ملاحظہ فرمانے کے بعد حضورؓ نے اس جگہ کو پسند فرمایا۔ یہ جگہ حضور کی رؤیا بیان فرمودہ 12؍دسمبر 1941ء سے ملتی جلتی تھی۔ خواب میں جو جگہ دیکھی تھی وہ سر سبز تھی لیکن یہاں سبزہ نام کی چیز نہ تھی۔ حضورؓ نے اس پر فرمایا تھا کہ اگر کوشش کی جائے تو یہاں بھی سبزہ ہو سکتا ہے۔ اﷲ کے فضل سے یہ زمین اب سر سبز و شاداب ہو چکی ہے۔

حضور کی ہدایت پر ڈپٹی کمشنر جھنگ کی خدمت میں ناظر اعلیٰ صدر انجمن احمدیہ پاکستان کی طرف سے سرزمین ربوہ کے حصول کی درخواست دے دی گئی۔ یہ درخواست حضور کے سفر ربوہ سے ایک روز قبل 17؍اکتوبر 1947ء کو ٹائپ کی گئی اور 18؍اکتوبر کو بنگلہ لالیاں میں ڈپٹی کمشنر جھنگ کو پیش کر دی گئی۔

اس رقبہ کی کل اراضی جو چک ڈھگیاں کے نام پر تھا 1506؍ ایکڑ تھی جبکہ اس میں 472 ؍ایکڑ رقبہ آبادی کے قابل نہ تھا جس میں بڑی سڑک، ریلوے لائن اور پہاڑیاں شامل ہیں۔ بقیہ 1034؍ ایکڑ زراعت کے ناقابل تھا تاہم اس میں مکانات تعمیر ہو سکتے تھے اور یہ کسی کی ملکیت بھی نہیں تھا، چنانچہ اس رقبہ کے حصول کی درخواست پیش کی گئی۔

درخواست پیش کیے جانے کے بعد اس کی کئی قانونی کارروائیاں شروع ہوئیں۔ بہرحال ایک طویل سلسلہ کے بعد حضور نے 11؍جون 1948ء کے خطبہ جمعہ میں اس اراضی کی خرید کی کارروائی کی تفصیلات بیان فرمائیں۔ 27؍جون 1948ء کو زمین کی قیمت جھنگ سرکاری خزانہ میں جمع کروائی گئی اور یوں سرکاری رجسٹری مکمل ہوئی۔

تعمیر اراضی ربوہ کا آغاز

بعض معاند اخبارات آزاد، احسان، زمیندارنے اس جگہ کی قیمت کے بارہ میں یہ غلط پروپیگنڈا کیا کہ یہ احمدیوں کو سستے داموں دے دی گئی ہے جبکہ مہنگے داموں خریدنے والے موجود تھے۔ جماعت نے اس پروپیگنڈے کا جواب دیا اور حکومت پنجاب کی طرف سے بھی بیان شائع ہو گیا کہ

’’احمدیوں کو دس روپے فی ایکڑ کے بھاؤ بنجر زمین دی گئی ہے۔ یہاں قادیاں کے خانماں ویران لوگ آباد ہوں گے‘‘۔

(اخبار انقلاب لاہور ۳۱؍اگست ۱۹۴۸ء)

محلِ وقوع اور تاریخی پس منظر

حضور کی ہدایت تھی کہ خرید کے بعد اس جگہ کا فوری قبضہ لیا جائے چنانچہ حضور کی دعاؤں اور توجہ کی بدولت صدرانجمن احمدیہ پاکستان نے 5؍اگست 1948ء کو جگہ کا قبضہ حاصل کیا۔ یوں یہ عظیم معجزہ اولواالعزم خلیفۃ المسیح سیّدنا حضرت مصلح موعودؓ کے ہاتھ پر ظاہر ہوا۔

جب ربوہ کی اراضی کی خرید سرکار سے مکمل ہوئی تو ان دنوں حضور کوئٹہ میں تشریف فرما تھے۔ 11؍جون 1948ء کو نئی جگہ کی منظوری ہوئی۔ حضورؓ نے کوئٹہ سے ہدایات جاری فرمائیں کہ فوری طور پر ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جونئے مرکز سلسلہ کی تعمیر کے لئے جائزہ لے کر دفاتر ، سکولز، بہشتی مقبرہ، ہسپتال وغیرہ کہاں بنائے جائیں، پانی کا انتظام ، تیل اور غلہ کا کوٹہ، تازہ دودھ کی فراہمی، درختوں کی کاشت، مسجد کی تعمیر، فوری آبادی کہاں ہو گی، زمین احباب کو فروخت کرنے کا پلان اور اس کی قیمت ، دوکانوں کے معاملات وغیرہ کا جائزہ لے گی۔اس ارشاد کی تعمیل میں صدر انجمن احمدیہ نے 19؍جون 1948ء کے اجلاس میں کمیٹی جو دس ممبران پر مشتمل تھی تجویز کی جس کے صدر حضرت مرزا بشیر احمد صاحب تھے۔

احباب جماعت کو نئے مرکز کی اطلاع اور حصول جگہ کے لئے والہانہ جوش

جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے کہ محکمہ مال کے ریکارڈ میں تحصیل چنیوٹ میں دارالہجرت کا رقبہ چک ڈھگیاں کے نام سے موسوم ہے۔ یہ مقام سطح سمندر سے زیادہ سے زیادہ 613اور کم از کم 590 فٹ بلند ہے۔ یہ رقبہ صدیوں سے بنجر اور بے آباد تھا بلکہ اسے ناقابلِ زراعت سمجھا جاتا تھا۔ موجودہ شہر ربوہ کے مشرق میں چنیوٹ اور مغرب کی طرف لالیاں ہے اور یہ دو بڑے شہروں فیصل آباد اور سرگودہا کے عین وسط میں واقع ہے۔ ربوہ کے ارد گرد سادات، نسوآنے، گلوہتر، ریحان، لالی و دیگر اقوام آباد ہیں۔ ربوہ دریائے چناب کے مغربی کنارے پر آباد ہے جہاں پہاڑیوں کا ایک سلسلہ ہے جو ایک قدرتی فصیل بنائے ہوئے ہیں۔ چک جھمرہ ، فیصل آباد، سرگودہا ریلوے لائن اور شارع سرگودہا و فیصل آباد یہاں سے گزرتی ہے۔ ایک چھوٹے قصبہ ساہیوال ضلع سرگودہا کے لئے بھی شاہراہ ساہیوال کا یہاں سے گزر ہوتا ہے۔ دریائے چناب پر 1928ء میں پُل کی تعمیر مکمل ہوئی جو کہ حسنِ اتفاق سے ایک احمدی انجینئر خان بہادر نعمت اﷲ خان صاحب کی نگرانی میں تعمیر ہواتھا۔

ربوہ کے ابتدائی ایام
حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ ربوہ کے افتتاح کے لئے لگائے جانے والے خیمہ میں نماز پڑھا رہے ہیں

نئے مرکز کا نام ربوہ رکھا گیا

نئے مرکز کی جگہ کی خرید کی کارروائی مکمل ہونے اور جگہ پر قبضہ حاصل کرنے کے بعد نئے مرکز کے بارہ میں سیّدنا حضرت مصلح موعود نے اپنے خطبہ جمعہ فرمودہ 10؍ستمبر 1948ء کو بمقام لاہور میں اس کی تفصیلات احباب جماعت کے سامنے بیان فرمائیں اور نئی اراضی پر مکانات تعمیر کرنے کے حوالہ سے اپنی ہدایات سے نوازا اور احباب جماعت کو نئے مرکز میں خرید اراضی کی تحریک فرمائی اور ایک ماہ کے اندر اندر سوروپیہ فی کنال کے حساب سے (جو کہ پچاس روپیہ ہدیہ مالکانہ ہو گا اور پچاس روپے اخراجات ابتدائی انتظامات کے ہوں گے) رقم خزانہ میں جمع کروانے کی ہدایت فرمائی۔

(الفضل 28؍ستمبر 1948ء)

افتتاح کے انتظامات

احباب جماعت کی طرف سے والہانہ انداز میں اس تحریک پر لبیک کہا گیا اور 15؍اکتوبر 1948ء کی آخری تاریخ مقررہ تک ایک ہزار کنال کی قیمت داخل خزانہ کرا دی گئی۔ اکتوبر کے آخر تک 539 سابقون کی فہرست جنہوں نے ربوہ کی زمین کی رقم داخل خزانہ کرادی تھی الفضل ربوہ کی دو اشاعتوں 26؍اکتوبر اور 2؍نومبر 1948ء میں شائع ہو گئیں جن میں پہلا نام حضرت مصلح موعودؓکا تھا۔ آپ نے 60 کنال زمین خرید فرمائی۔

16؍ستمبر 1948ء کو لاہور میں حضرت مصلح موعودؓ نے صدر انجمن احمدیہ اور تحریک جدید کے مشترکہ اجلاس میں نئے مرکز کے افتتاح کے لئے 20؍ستمبر کا دن مقرر فرمایا اور اس کے انتظامات کی بعض اہم ہدایات دیں۔

اسی اجلاس میں نئے مرکز کا نام زیرِ غور آیا۔ حضرت مصلح موعود نے مولانا شمس صاحب کا تجویز کردہ نام ’’ربوہؔ‘‘ منظور فرمایا۔ جس کے معنی ٹیلہ، پہاڑی، بلند زمین کے ہیں اور قرآن کریم میں حضرت عیسٰی علیہ السلام کی اپنی والدہ کے ہمراہ ہجرت کے واقعہ میں انہیں ربوہ میں اﷲ کی طرف سے پناہ دیے جانے کا ذکر موجود ہے۔

(تاریخ احمدیت جلد 12 صفحہ 423،422)

ربوہ میں پہلی رات

افتتاح کی تاریخ طے ہو جانے کے بعد حضور کی ہدایات کی روشنی میں صدر انجمن اور تحریک جدید نے فوری طور پر انتظامات کا سلسلہ شروع کر دیا۔ اس مقصد کے لئے 19؍ستمبر کو ربوہ کے لئے لاہور سے دو قافلے روانہ ہوئے۔ پہلا قافلہ چوہدری عبدالسلام صاحب اختر اور مولانا چوہدری محمد صدیق صاحب پر مشتمل تھا جس نے رات ربوہ گزاری جبکہ دوسرا قافلہ مکرم چوہدری ظہور احمد صاحب کی امارت میں شام پانچ بجے لاہور سے بس کے ذریعہ براستہ فیصل آباد (لائلپور) رات گیارہ بجے چنیوٹ پہنچا۔ اس قافلے نے رات سڑک کے کنارے گزاری اور اگلے روز یعنی 20؍ستمبر کو صبح ساڑھے آٹھ بجے ربوہ پہنچا۔ اس قافلہ میں صدر انجمن احمدیہ اور تحریک جدید کے 34 عہدیداران شامل تھے۔

نئے مرکز کا افتتاح

افتتاح سے قبل 20؍ستمبر کو مولوی عبدالرحمٰن انور صاحب (وکیل الدیوان) تحریک جدید کا ریکارڈ لے کر آئے۔ حضور کے فیصلہ کے مطابق اراضی ربوہ کے تہائی حصہ کی مالک تحریک جدید انجمن احمدیہ تھی جس نے اخراجات کا تہائی ادا کیا تھا۔

19؍اور 20؍ستمبر 1948ء کو تقریب افتتاح نئے مرکز کے لئے وسیع و عریض شامیانہ نصب کیا گیا اس مقام پر سیّدنا مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے نماز بھی پڑھانا تھی۔ افتتاحی شامیانہ کے علاوہ چھ رہائشی خیمے بھی نصب کئے گئے۔

20؍ستمبر 1948ء کو نئے مرکز کا افتتاح ہوا۔ 19؍ستمبر 1948ء کو پہلا قافلہ سر زمین ربوہ پر افتتاح کی تیاری کے لئے یہاں پہنچا۔ اس قافلے میں محترم عبدالسلام اختر صاحب اور مولانا چوہدری محمد صدیق صاحب سابق انچارج خلافت لائبریری شامل تھے۔ ان بزرگوں نے اس ویرانے میں پہلی رات گزاری اور ربوہ میں پہلا خیمہ نصب کیا۔

یہاں اس بات کا تذکرہ بھی مناسب ہو گا کہ جب نئے مرکز کی زمین کی خرید کی سرکاری کارروائی مکمل ہو گئی تو حصول قبضہ کے لئے یہاں ماہ اگست 1948ء میں ایک قافلہ بھیجا گیا جو نظارت دعوت الی اﷲ کے تحت دیہاتی معلمین (طلبہ) پر مشتمل تھا اس میں بارہ ممبر اور ایک استاد ممتاز احمد بنگالی صاحب تھے۔ یہ پہلے احمد نگر آیا اور پھر دریائے چناب کے کنارے موجود بنگلہ میں فروکش ہو گیا۔ نئے مرکز ربوہ کی تقریب کے لئے اس گروپ کے طلبہ کو بھی خدمت کی توفیق ملی۔

(’’تعمیر مرکز ربوہ کے ابتدائی حالات اور ایمان افروز واقعات‘‘ از خان عبدالرزاق خان)

20؍ستمبر 1948ء وہ تاریخی دن ہے جس دن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کئی پیشگوئیوں کے پورا ہونے کا وقت آگیا تھا۔ پسر موعود کی علامت ’’تین کو چار کرنے والا‘‘ کا ایک ظہور بھی ہونے والا تھا۔ ایک بے آب و گیاہ ، وادی غیرذی زرع کی آبادی کا سامان اور ایک ایسی بستی کی بنیاد ڈالی جارہی تھی جہاں سے دین کی نشاۃ ثانیہ کے لئے فدایان و جاں نثاران کا اکنافِ عالم میں پھیل جانا مقدر تھا۔

حضرت مصلح موعودؓکا تاریخی افتتاحی خطاب

افتتاح کے لئے سیدنا حضرت مصلح موعودؓ بنفس نفیس لاہور سے سرزمین ربوہ کے لئے روانہ ہوئے۔ حضور بذریعہ کار صبح نو بج کر بیس منٹ پر لاہور سے روانہ ہوئے۔ یہ یادگار سفر حضور نے براستہ فیصل آباد (لائلپور) طَے فرمایا۔ حضور کے ہمراہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ اور دوسرے بزرگانِ سلسلہ بھی تھے۔ حضور نے ایک بج کر بیس منٹ پر نئے مرکز پر قدم رنجہ فرمایا۔
سب سے پہلے نماز ظہر کی ادائیگی کی گئی۔ دراصل اس نماز کے ساتھ ہی نئے مرکز کا افتتاح عمل میں آگیا۔ ڈیڑھ بجے حضورؓ نے نماز ظہر پڑھائی۔ یہ پہلی باجماعت نماز تھی جو سیّدنا مصلح موعود کی اقتداء میں احباب جماعت نے نئے مرکز میں ادا کی۔ اس نماز میں 250 کے قریب احباب موجود تھےجو حضور کی آمد سے قبل چنیوٹ ، احمد نگر، لالیاں، لائلپور، سرگودہا، لاہور، قصور، سیالکوٹ، گجرات، گوجرانوالہ، جہلم اور بعض دوسرے مقامات سے بھی اس تاریخی تقریب میں شرکت کے لئے پہنچ گئے تھے۔ ربوہ کی افتتاحی تقریب میں شامل احباب کی فہرست تیار کی گئی تھی۔ ان خوش قسمت احباب کے اسماء تاریخ احمدیت جلد 12 میں بطور ضمیمہ شامل ہیں۔ یہ فہرست حضرت مولانا ابو العطاء صاحب جالندھری کی نگرانی میں تیار ہوئی۔ جو 616 احباب پر مشتمل ہے۔

جس مقام پر حضور نے نماز ظہر پڑھائی وہاں پر ایک مسجد یادگار 1953ء میں تعمیر کر دی گئی۔ جو کہ آج احاطہ فضل عمر ہسپتال میں انتہائی خوبصورت عمارت کی صورت میں موجود ہے اور وہاں پانچ وقت باجماعت نماز ہوتی ہے۔ ہسپتال آنے والے مریض اور ان کے لواحقین بھی اسے عبادت کے لئے استعمال کرتے ہیں۔

نماز ظہر کی ادائیگی کے بعد حضرت مصلح موعود نے ابراہیمی دعاؤں کے ساتھ جن کو خوش نصیب حاضر احباب جماعت نے بھی دہرایا، ربوہ کا افتتاح فرمایا۔ حضرت مصلح موعودؓ نے ابراہیمی دعاؤں کو 3،3 بار دہرایا اور احباب جماعت بھی ساتھ ساتھ دہراتے رہے۔ یہ دعائیں حسب ذیل تھیں:

1۔ رَبَّنَا اجْعَلْ هٰذَا بَلَدًا آمِنًا وَارْزُقْ أَهْلَهٗ مِنَ الثَّمَرَاتِ
2۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
3۔ رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ …إِنَّكَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ
4۔ رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رِجَالًا مِّنْهُمْ يَتْلُوْنَ عَلَيْهِمْ آيَاتِكَ وَيُعَلِّمُوْنَهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ

(حضورؓ نے جمع کا صیغہ دعا میں استعمال فرمایا تھا)

ان دعاؤں کو پڑھنے کے بعد حضور نے فرمایا:

’’یہ وہ دعائیں ہیں جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ مکرمہ کے بساتے وقت کیں اور اﷲ تعالیٰ نے ان کو قبول فرما کر ایک ایسی بنیاد رکھ دی جو ہمیشہ کے لئے نیکی اور تقویٰ کو قائم رکھنے والی ثابت ہوئی۔
’’سو ہمیں بھی اس کام کی یاد کے طور پر اور اس بستی کی یاد کے طور پر جس جگہ خدا کے ایک نبی محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی آمد کے انتظار میں دعائیں کی گئیں۔ اپنے نئے مرکز کو بساتے وقت جو اسی طرح ایک وادی غیر ذی زرع میں بسایا جارہا ہے۔ اﷲ تعالیٰ کے حضور دعائیں کرنی چاہئیں کہ شاید ان لوگوں کے طفیل جو مکہ مکرمہ کے قائم کرنے والے اور مکہ مکرمہ کی پیشگوئیوں کے حامل تھے۔ اﷲ تعالیٰ ہم پر بھی اپنا فضل نازل کرے اور ہمیں بھی ان نعمتوں سے حصہ دے جو اس نے پہلوں کو دیں۔

’’خدائی خبروں اور اس کی بتائی ہوئی پیشگوئیوں کے مطابق ہمیں قادیان کو چھوڑنا پڑا۔ اب انہی خبروں اور پیشگوئیوں کے ماتحت ہم ایک نئی بستی اﷲ تعالیٰ کے نام کو بلند کرنے کے لئے اس وادیٔ غیر ذی زرع میں بسا رہے ہیں۔ ہم چیونٹی کی طرح کمزور اور ناطاقت ہی سہی مگر چیونٹی بھی جب دانہ اٹھا کر دیوار پر چڑھتے ہوئے گرتی ہے تو وہ اس دانے کو چھوڑتی نہیں بلکہ دوبارہ اسے اٹھا کر منزل مقصود پر لے جاتی ہے اسی طرح گو ہمارا وہ مرکز جو حقیقی اور دائمی مرکز ہے دشمن نے ہم سے چھینا ہوا ہے لیکن ہمارے ارادہ اور عزم میں کوئی تزلزل واقع نہیں ہوا۔

’’اس وادیٔ غیر ذی زرع کو اس ارادہ اور نیت کے ساتھ چنا ہے کہ جب تک یہ عارضی مقام ہمارے پاس رہے گا ہم اسلام کا جھنڈا اس مقام پر بلند رکھیں گے اور محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی حکومت دنیا میں قائم کرنے کی کوشش کریں گے اور جب خدا ہمارا قادیان ہمیں واپس دیدے گا یہ مرکز صرف اس علاقہ کے لوگوںکے لئے رہ جائے گا۔ یہ مقام اجڑے گا نہیں کیونکہ جہاں خدا کا نام ایک دفعہ لے لیا جائے وہ مقام برباد نہیں ہوا کرتا۔

’’یہ زمین ہم نے پہاڑی ٹیلوں کے درمیان اس لئے خریدی ہے کہ میری ایک رؤیا اس زمین کے متعلق تھی۔ یہ رؤیا دسمبر 1941ء میں مَیں نے دیکھی تھی اور 21؍دسمبر 1941ء کے الفضل میں شائع ہو چکی ہے۔ اب تک دس ہزار آدمی یہ رؤیا پڑھ چکے ہیں اور گورنمنٹ کے ریکارڈ میں بھی یہ رؤیا موجود ہے۔ میں نے اس رؤیا میں دیکھا کہ قادیان پر حملہ ہوا ہے اور ہر قسم کے ہتھیار استعمال کئے جارہے ہیں مگر مقابلہ کے بعد دشمن غالب آگیا اور ہمیں وہ مقام چھوڑنا پڑا۔ باہر نکل کر ہم حیران ہیں کہ کس جگہ جائیں اور کہاں جاکر اپنی حفاظت کا سامان کریں۔ اتنے میں ایک شخص آیا اور اس نے کہا کہ میں ایک جگہ بتاتا ہوں۔ آپ پہاڑوں پر چلیں … اس رؤیا کے مطابق یہ جگہ مرکزکے لئے تجویز کی گئی ہے۔ جب میں قادیان سے آیا تو اس وقت یہاں اتفاقاً چوہدری عزیز احمد صاحب احمدی سب جج لگے ہوئے تھے۔ میں شیخوپورہ کے متعلق مشورہ کر رہا تھا کہ چوہدری عزیز احمد صاحب میرے پاس آئے اور انہوں نے کہا کہ میں نے اخبار میں آپ کی ایک اس اس رنگ کی خواب پڑھی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ چنیوٹ ضلع جھنگ کے قریب دریائے چناب کے پار ایک ایسا ٹکڑا زمین ہے جو اس خواب کے مطابق معلوم ہوتا ہے۔ چنانچہ میں یہاں آیا اور میں نے کہا ٹھیک ہے۔ خواب میں جو میں نے مقام دیکھا تھا اس کے ارد گرد بھی اسی قسم کے پہاڑی ٹیلے تھے صرف ایک فرق ہے اور وہ یہ کہ میں نے اس میدا ن میں گھاس دیکھا تھا مگر یہ چٹیل میدان ہے۔ اب بارشوں کے بعد کچھ کچھ سبزہ نکلا ہے ممکن ہے ہمارے آنے کے بعد اﷲ تعالیٰ یہاں گھاس بھی پیدا کر دے اور اس رقبہ کو سبزہ زار بنا دے۔ بہرحال اس رؤیاء کے مطابق ہم نے اس جگہ کو چنا ہے۔
’’آؤ اب ہم ہاتھ اٹھا کر آہستگی سے بھی اپنے دلوں میں اﷲ تعالیٰ سے دعا مانگیں کہ وہ ہمارے ارادوں میں برکت ڈالے اور ہمیں اس مقدس کام کو دیانتداری کے ساتھ سرانجام دینے کی توفیق بخشے۔‘‘

(الفضل سالانہ نمبر دسمبر 1964ء صفحہ 5 تا 9)

اس پُر معارف اور ایمان افروز افتتاحی تقریر کے بعد حضرت مصلح موعودؓنے لمبی دعا کروائی۔ درویشان قادیان کو فون اور تار کے ذریعہ نماز اور دعا کے وقت کی اطلاع کر دی گئی تھی وہ اپنی جگہ انتظام کر کے دعا میں شریک ہو گئے۔

دعا کے بعد حضور نے چاروں کونوں پر بکروں کی قربانی کا ارشاد فرمایا اور ایک بکرا وسط رقبہ حضور نے اپنے دست مبارک سے قربان کیا۔ چاروں کونوں پر مندرجہ ذیل احباب نے قربانیاں ذبح کیں:

1- محترم مولانا عبدالرحیم صاحب درد
2- محترم مولوی عبداﷲ بوتالوی صاحب
3- محترم چوہدری برکت علی خان صاحب وکیل المال تحریک جدید
4- محترم مولوی چوہدری محمد صدیق صاحب مولوی فاضل

بکروں کی قربانی کے بعد ایک ترک نوجوان مکرم محمد افضل صاحب ترکی نے حضور کے ہاتھ پر بیعت کر کے جماعت میں شمولیت کی۔ اس کو نئے مرکز کا پہلا پھل قرار دیا گیا۔ اس موقع پر حضور نے نئے مرکز کا نام ربوہ ہونے کا اعلان فرمایا۔ قربانی اور بیعت کے بعد حضور نے نماز عصر پڑھائی جس میں چھ سو کے قریب مرد و زن شریک ہوئے۔

نماز کے بعد حضور نے کھانا تناول فرمایا جس میں دوسرے احباب بھی شریک ہوئے۔ اس کھانے کا انتظام احباب جماعت چنیوٹ نے کیا تھا۔ چار بج کر چالیس منٹ پر حضور کی گاڑی لاہور کے لئے واپس روانہ ہو گئی اور آٹھ بج کر پانچ منٹ پر حضور بخیروعافیت لاہور پہنچ گئے۔

تقریب اِفتتاح کے مقام پر ایک موٹر لاری، پانچ کاریں، 24 تانگے اور 32سائیکل موجود تھے۔ وسیع شامیانے کے علاوہ چھ خیمے نصب کئے گئے تھے۔ بعض مستورات بھی افتتاحی تقریب میں شامل ہو گئی تھیں۔ انہوں نے پردہ کے پیچھے نماز ادا کی۔

(ملخص از مضمون حضرت مرزا بشیر احمد صاحب مطبوعہ الفضل 22؍ستمبر 1948ء)

حضرت نواب محمد الدین صاحب کی نئے مرکز کے لئے خدمات

خان بہادر حضرت نواب محمدالدین صاحب کو نئے مرکز کے قیام کے سلسلہ میں غیر معمولی خدمات کی توفیق ملی آپ 5؍جولائی 1949ء کو وفات پا گئے۔ حضرت مصلح موعودؓ نے آپ کی وفات کے بعد خطبہ جمعہ میں آپ کا ذکرِ خیر کرتے ہوئے فرمایا:

’’میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے جدید مرکز کے قیام کا سہرا یقینا ًنواب محمد الدین صاحب مرحوم کے سر پر ہے اور یہ عزت اور رتبہ انہی کا حق ہے۔ جب تک یہ جماعت قائم رہے گی لوگ ان کے لئے دعا بھی کریں گے اور ان کی قربانی کو دیکھ کر نوجوانوں کے دلوں میں یہ جذبہ بھی پیدا ہو گا کہ وہ ان جیسا کام کریں … یہ مقام ربوہ چونکہ اﷲ تعالیٰ کی پیشگوئی کے ماتحت قائم کیا جارہا ہے اس لئے ہم سمجھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے فرشتے اس کی حفاظت کریں گے اور اس کی برکتیں اس سے وابستہ رہیں گی اور یقیناً اس مقام سے تعلق رکھنے کی وجہ سے نواب صاحب مرحوم کا نام بھی قیامت تک قائم رہے گا‘‘۔

(روزنامہ الفضل 31؍جولائی 1949ء)

حضرت نواب محمد الدین صاحب کے نام پر فضل عمر ہسپتال ربوہ میں ایک بلاک تعمیر کیا گیا جو آؤٹ ڈور مریضان کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔

نئے مرکز میں حضور کی مستقل آمد

’’دوشنبہ ہے مبارک دوشنبہ‘‘

20؍فروری 1886ء کی پیشگوئی پسرِ موعود میں درج ذیل دو علامات اکٹھی بیان ہوئیں:
’’وہ تین کو چار کرنے والا ہو گا (اس کے معنی سمجھ نہیں آئے) دوشنبہ ہے مبارک دوشنبہ‘‘

(تذکرہ صفحہ 110:)

اس پیشگوئی کے مطابق حضور کے ہاتھوں چوتھے مرکزِ اسلام کی بنیاد ڈال دی گئی اور تین کو چار کر دیا گیا اور پھر ’’دوشنبہ ہے مبارک دوشنبہ‘‘ میں اس کے افتتاح اور مستقل سکونت کے دن کا بھی بتادیا گیا۔ 20؍ستمبر 1948ء کو نئے مرکز کا افتتاح ہوا جو کہ دوشنبہ (سوموار) کا دن تھا وہ بھی مبارک دن ہے اور پھر حضور 19؍ستمبر 1949ء کو مستقل سکونت کے لئے ربوہ تشریف لائے۔ یہ بھی دوشنبہ کا دن جسے نئے مرکز کے لئے مبارک قرار دے دیا گیا۔ یوں یہ الہام بھی بڑی شان و شوکت کے ساتھ پورا ہوا اور دو دفعہ دوشنبہ کے الفاظ ہیں اور دو دفعہ یکے بعد دیگرے چوتھے مرکز اسلام کے تناظر میں پورے ہوئے۔
حضرت مصلح موعود 19؍ستمبر 1949ء بروز دوشنبہ لاہور سے صبح دس بج کر پچاس منٹ پر مستقل سکونت اختیار کرنے کے لئے نئے مرکز کے لئے عازم سفر ہوئے۔

(روزنامہ الفضل لاہور 23؍ستمبر 1949ء)

نئے مرکز میں حضور کا پہلا خطبہ جمعہ

نئے مرکز میں مستقل رہائش اختیار کرنے کے بعد پہلا جمعہ 30؍ستمبر 1949ء کو پڑھایا ۔ اس سے قبل 23؍ستمبر 1949ء کا جمعہ حضور نے لاہورمیں پڑھایا تھا۔

نئے مرکز کی سب سے پہلی مستقل مسجد مبارک کا سنگ بنیاد

’’دوشنبہ ہے مبارک دوشنبہ‘‘ یہ الہام ایک بار پھر 3؍اکتوبر 1949ء کو پورا ہواجب ربوہ کی پہلی مستقل مسجد بیت المبارک کا سنگِ بنیاد حضور نے اپنے دستِ مبارک سے رکھا۔ اس تقریب کی اہمیت کے پیش نظر پاک و ہند کی جماعتوں اور لندن مشن کو بھی اطلاع دے دی گئی تھی تا وہ بھی دعامیں شامل ہوجائیں۔ نماز عصر کا وقت سنگ بنیاد کے لئے مقرر تھا۔ حضور نے اسی جگہ نماز پڑھائی اور پھر حضور کی ہدایت کے مطابق حضرت مسیح موعودکے صحابہ و صحابیات کرام، خاندان حضرت مسیح موعود کے افراد و خواتین، واقفین زندگی، امرائے جماعت و ناظران سلسلہ اور مہاجرین قادیان کی نمائندگی میں تین تین اینٹیں رکھی گئیں۔ قادیان مسجد مبارک کی دو اینٹیں بھی بنیاد میں رکھی گئیں۔ ابراہیمی دعاؤں سے حضور نے سنگ بنیاد رکھا ۔ احباب بھی حضور کے پیچھے یہ دعائیں دُہراتے رہے۔

مسجد مبارک کا نقشہ حفیظ الرحمان واحد صاحب نے تیار کیا جبکہ حضرت قاضی عبدالرحیم صاحب بھٹی رفیق حضرت مسیح موعود (313) کی نگرانی میںمسجد مبارک اگست 1951ء میں مکمل ہوئی۔ حضور نے 23؍اگست 1951ء میں اس میں پہلا خطبہ ارشاد فرمایا۔ کثرت سے احباب جماعت نے سنگ بنیاد کے دن ہی تعمیر کے لئے اپنے وعدے لکھوائے۔

نئے مرکز میںپہلا جلسہ سالانہ

جماعت احمدیہ کا سر زمین ربوہ پر پہلا جلسہ سالانہ 15تا 17؍اپریل 1949ء کو منعقد ہوا۔ (یہ 1948ء کا جلسہ سالانہ تھا) جس میں حضور اقدس بنفس نفیس شامل ہوئے۔ غیر معمولی طور پر اس بے آب و گیاہ چٹیل میدان میں سولہ ہزار سے زائد افراد اس جلسہ میں شامل ہوئے۔ پہاڑی کے دامن میں لنگر خانہ قائم کیا گیا جہاں 45 تنور لگائے گئے۔ بہت سے احباب حضور کی تحریک پر گندم، آٹا اور دالیں وغیرہ ساتھ لے کر آئے۔ ٹینکروں کے ذریعہ پانی مہیا کیا گیا۔ متعدد مقامات پر پانی کے پمپ بھی لگائے گئے تھے۔ مہمانوں کی رہائش کے لئے ریلوے اسٹیشن کے دونوں طرف دور دور تک بیرکس تعمیر کی گئیں۔ بہت سے احباب نے اپنے طور پر میدان میں خیمے لگائے۔ ریلوے کا تعاون رہا جس نے اسٹیشن منظور کر لیا تھا یوں گاڑیاں رکنے لگیں اور زائد بوگیاں بھی ٹرینوں کو لگائی گئیں۔ ریلوے کے علاوہ یونائیٹڈ ٹرانسپورٹ کمپنی اور ویسٹ پنجاب ٹرانسپورٹ کی لاریاں بھی کثرت کے ساتھ ان ایّام میں شرکاء جلسہ کو لاتی رہیں۔
مہمانوں کی رہائش گاہ کے قریب ہی مردانہ و زنانہ جلسہ گاہ کا انتظام کیا گیا اور لاؤڈ سپیکر کا بہت اچھا انتظام تھا۔ منتظم بازار کی نگرانی میں جلسہ گاہ کے قریب ہی مختصر سابازار بھی لگاہوا تھا۔ پہلے جلسہ سالانہ منعقدہ ربوہ کے افسر جلسہ سالانہ محترم سیّد محمود اﷲ شاہ صاحب تھے۔ جلسہ کے بیشتر کارکن تو مہمانانِ جلسہ میں سے تھے تاہم تعلیم الاسلام ہائی سکول چنیوٹ اور مدرسہ و جامعہ احمدیہ احمد نگر کے طلبہ نے انتظامات میں بطور معاون حصّہ لیا۔ حفاظت کا کام خدام الاحمدیہ کے سپرد تھا۔

(الفضل 23؍اپریل 1949ء)

مستقل الاٹمنٹ و تعمیر مکانات

تعمیر نئے مرکز کے سلسلہ میں جب محلہ جات بنائے گئے تو ان کو الف۔ ب۔ ج۔ د۔ س۔ص اور ط کے نام دیے گئے۔ ستمبر 1950ء میں حضور کے حکم پر ان محلہ جات کے مندرجہ ذیل نام رکھے گئے:
دارالیمن (الف)، باب الابواب (ب)، دارالنصر (ج)، دارالبرکات(د)، دارالرحمت(س)، دارالصدر(ص)، دارالفضل(ط)۔ الاٹمنٹ پلاٹس سب سے پہلے دارالیمن اور دارالصدر کی ہوئی۔ پھر باب الابواب اور دارالفضل کی الاٹمنٹ کی گئی۔ دارالصدر میں سب سے پہلی کوٹھی نواب محمد احمد صاحب کی تعمیر ہوئی۔ دارالیمن میں پہلا ذاتی مکان ٹھیکیدار نور احمد صاحب نے تعمیر کیا۔ باب الابواب میں پہلا مکان چوہدری عبداللطیف صاحب نے اور دارالفضل میںکیپٹن نواب دین صاحب نے پہلا مکان بنایا۔

(تاریخ احمدیت جلد 14 صفحہ 216)

مرکز کے افتتاح کے بعد یہاں عارضی دفاتر تو قائم کر دیے گئے تاہم مستقل دفاتر کی تعمیر کا سلسلہ 1950ء میں شروع ہوا۔ 29؍مئی 1950ء کو حضور نے اپنے ذاتی مکان کا سنگ بنیاد رکھا۔ 31؍مئی 1950ء کو حضور نے مندرجہ ذیل عمارتوں کا سنگِ بنیاد رکھا۔ تعلیم الاسلام ہائی سکول، قصرِخلافت، دفاتر تحریک جدید،دفاتر صدرانجمن احمدیہ اور دفاتر لجنہ اماء اﷲ مرکزیہ۔

ریلوے اسٹیشن و ڈاکخانہ

ریلوے اسٹیشن کی منظوری مارچ 1949ء میں ہو گئی چنانچہ 25؍مارچ 1949ء کے الفضل میں اسٹیشن کی منظوری کا اعلان شائع ہوا۔ یکم اپریل 1949ء سے ریلوے اسٹیشن ربوہ پر گاڑیوں کی آمدورفت شروع ہوئی۔ مارچ 1950ء میں مستقل اسٹیشن کا نوٹیفیکیشن جاری ہوا اور اپریل 50ءسے مال و اسباب کی بکنگ ربوہ سے شروع ہو گئی۔ ریلوے اسٹیشن کے پہلے اسٹیشن ماسٹر مکرم چوہدری محمد صدیق صاحب آف نارووال مقرر ہوئے۔

ڈاکخانہ کا قیام 14؍ستمبر 1949ء سے ہوا اور مکرم بابو برکت اﷲ صاحب سب پوسٹ ماسٹر نے سمندری سے نئے مرکز آکر ڈاکخانہ کا کام شروع کر دیا۔ 29؍جنوری 1951ء سے ڈاکخانہ کے ساتھ تار گھر بھی کھول دیا گیا۔

یونائیٹڈ ٹرانسپورٹ کمپنی کی جو بسیں لاہور سے سرگودھا کے لئے آتی تھیں انہوں نے نئے مرکز میں ٹھہرنا شروع کردیا۔ چنیوٹ سے نئے مرکز آنے کے لئے تانگہ بھی استعمال ہوتا 11؍نومبر 1948ء کے الفضل میں تانگے کا کرایہ چنیوٹ سے نئے مرکز چھ آنے فی سواری جبکہ نئے مرکز سے احمدنگر دو آنے فی سواری مقرر کیا گیا۔

پہلا تعلیمی ادارہ

نصرت گرلز ہائی سکول اپریل 1949ء میں لاہور سے نئے مرکزمنتقل ہوا۔ ربوہ میں قائم ہونے والا یہ پہلا تعلیمی ادارہ تھا۔ ہجرت کے بعد تعلیم الاسلام کالج لاہور میں، تعلیم الاسلام ہائی سکول چنیوٹ اور مدرسہ جامعہ احمدیہ احمد نگر میں قائم کئے گئے تھے۔

جامعہ نصرت برائے خواتین کا افتتاح 14؍جون 1951ء کو حضور نے فرمایا یہ حضور کی کوٹھی میں قائم کیا گیا تھا۔ اسے اگلے سال دفتر لجنہ میں جبکہ 1953ء میں اپنی موجودہ عمارت میں منتقل کر دیا گیا۔

نئے مرکز کے بعض ابتدائی کوائف

20؍ستمبر 1948ء کو نئے مرکز کے افتتاح کے ساتھ ہی یہاں عمارتی کاموں اور جماعتی دفاتر کی تعمیر کا آغاز ہوگیا۔ 20؍ستمبر 1948ء کے بعد حضور بنفسِ نفیس کئی بار کاموں کا جائزہ لینے لاہور سے ربوہ آئے۔
٭ 7؍نومبر 1948ء کو حضور کی دعوت پر لاہور کے بڑے بڑے اخباروں کے نمائندگان نے حضور کی معیت میں نئے مرکز کا دورہ کیا اور انہیں نئے مرکز کے پلان کے بارہ میں آگاہ کیا گیا جنہوں نے اپنے اخبارات میں اپنے تاثرات کا بھی اظہار کیا۔ صحافیوں میں فیض احمد فیضؔ ، میاں محمد شفیع، مولانا عبدالمجید سالک، سردار فضلی، باری علیگ، چوہدری بشیر احمد، مسٹر عبداﷲ بٹ، مسٹر عثمان صدیقی، پرفیسر محمد سرور، میاں صالح محمد صدیق اور ثاقب زیروی صاحب شامل تھے۔صحافیوں نے اپنے اخبارات میں نئے مرکز احمدیت کے بارہ میں اپنی آراء اور تبصرے تحریر کئے ان میں سے چند بطور نمونہ پیش ہیں:

محترم وقار انبالوی نے اخبار سفینہ 13؍نومبر 1948ء میں لکھا:

’’ایک مہاجر کی حیثیت سے ہمارے لئے ربوہ ایک سبق ہے … ہماری آنکھوں کے سامنے ایک نیا قادیان آباد کرنے کی ابتدا کر دی ہے ربوہ ایک اور نقطہ نظر سے بھی ہمارے لئے محل نظر ہے وہ یہ کہ حکومت بھی اس سے سبق لے سکتی ہے اور مہاجرین کی صنعتی بستیاں اس نمونہ پر بسا سکتی ہے۔ اس طرح ربوہ عوام اور حکومت کے لئے ایک مثال ہے اور زبان حال سے کہہ رہا ہے کہ لمبے چوڑے دعوے کرنے والے منہ دیکھتے رہ جاتے ہیں اور عملی کام کرنے والے کوئی دعوے کئے بغیر کچھ کر دکھاتے ہیں‘‘۔

(بحوالہ الفضل 9؍نومبر 1948ء)

٭ نئے مرکز کے قیام کے ساتھ سرکاری حیثیت (لوکل باڈی) کے لئے ربوہ میں نوٹیفائیڈ ایریا کمیٹی کی منظوری 26؍مئی 1949ء میں ہو گئی تھی جس کے پانچ ممبران نامزد ہوئے :

1۔ ڈپٹی کمشنر جھنگ (صدر کمیٹی) 2۔تحصیلدار چنیوٹ 3۔ نواب چوہدری محمد الدین صاحب 4۔ صاحبزادہ مرزا عزیز احمد صاحب5۔ صاحبزادہ ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب

اس کمیٹی کا پہلا اجلاس 14؍جون 1949ء کو ہوا۔ اس کمیٹی کا آنریری سیکرٹری صاحبزادہ ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب کو مقرر کیا گیا۔

(الفضل 17؍جون 1949ء)

٭ نئے مرکز میں ابتدائی بازار جو کہ کچا بازار کہلاتا ہے یہ موجودہ دارالرحمت وسطی و شرقی کے درمیان تعمیر ہوا۔ حضور 19؍ ستمبر 1949ء کو نئے مرکز آئے تو 20؍ستمبر کو حضور نے بازار بھی ملاحظہ فرمایا جس میں اس وقت تک 28 دوکانیں بن چکی تھیں۔ حضور نے خوشی کا اظہار فرمایا اور دوکانوں کی اصلاح کے لئے ہدایات بھی دیں۔

(الفضل 14؍اکتوبر 1949ء)

نئے مرکز میں پہلی دوکان قریشی فضل حق صاحب اور قریشی محمد اکمل صاحب نے کھولی ۔

(’’ربوہ‘‘ از کیپٹن خادم حسین صاحب صفحہ 114)

٭ عید الاضحی 1949ء کے موقع پر ربوہ میں مندرجہ ذیل تعداد میں جانور قربان ہوئے۔ گائے ایک عدد، بکرا دنبہ 26 عدد۔

(’’ربوہ‘‘ از کیپٹن خادم حسین صاحب صفحہ 114)

٭ حضور کی ذاتی لائبریری جو جون 49ء میں لاہور سے چنیوٹ منتقل کر دی گئی تھی مارچ 1950ء میں اسے ربوہ میں منتقل کر دیا گیا۔

٭ خدام الاحمدیہ مرکزیہ کا سرزمین ربوہ پر پہلا سالانہ اجتماع 30، 31؍اکتوبر و یکم نومبر 1949ء میں ہوا۔ جس میں حضرت مصلح موعودؓ نے خطاب فرمایا اور اس اجتماع میں حضور نے اپنی صدارت خدام الاحمدیہ کا بھی اعلان فرمایا۔

٭ ربوہ کی ابتدائی شاہرات کے نام مندرجہ ذیل رکھے گئے:

شارع مبارک، محطہؔ ، روضہؔ، تجارتؔ، بعیدؔ، جامعہؔ، مصلیؔ، مبداءؔ، یُمنؔ، صحتؔ، معبّرؔ، اور رحمتؔ۔

٭ 31؍مئی 1951ء کو نئے مرکز میں ٹیلی فون کنکشن لگا۔ ایک فون ڈاکخانہ میں لگا دیا گیا۔ پہلا فون شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ لاہور کا آیا اور حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے پہلا فون درویشان قادیان کو کیا۔ جنوری 1957ء میں ٹیلی فون ایکسچینج نے بھی کام شروع کر دیا اور یوں دفاتر اور ذاتی ضرورت کے لئے احباب کو فون کی سہولت مل گئی۔

٭ بجلی کی آمد 1954ء میں ہوئی۔ 9؍جون 1954ء کو پہلا کنکشن لگا اس کا افتتاح حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے مسجد مبارک کی بجلی کا سوئچ آن کر کے کیا۔

٭ نئے مرکز کا رقبہ تھانہ لالیاں کی حدود میں تھا جو آٹھ میل کے فاصلہ پر تھا۔ 22؍جون 1958ء کو ربوہ میں پولیس چوکی قائم ہوئی۔

٭ فضل عمر ہسپتال ربوہ کا آغاز 21؍اپریل 1949ء کو ایک خیمہ میں ہوا جس کی نگرانی صاحبزادہ ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب کے سپرد تھی۔ ان دنوں ڈاکٹر حشمت اﷲ صاحب لاہور میں قیام رکھتے تھے ان کی آمد پر وہ نگران مقرر ہوئے۔ فضل عمر ہسپتال کی پختہ عمارت کا سنگ بنیاد 20؍فروری 1956ء کو حضرت مصلح موعودؓ نے رکھا۔

٭ تعلیم الاسلام کالج کی عمارت کا سنگ بنیاد 26؍جون 1953ء کو رکھا گیا۔ 7؍نومبر 1954ء کو کالج لاہور سے نئے مرکز کی نئی عمارت میں منتقل ہو گیا۔ 6؍دسمبر 1954ء کو حضرت مصلح موعود نے اس کا باقاعدہ افتتاح فرمایا۔

٭ دفتر خدام الاحمدیہ مرکزیہ کا سنگ بنیاد حضور نے 6؍فروری 1952ء کو جبکہ دفتر انصار اﷲ مرکزیہ کا سنگِ بنیاد 20؍فروری 1956ء کو رکھا۔

یہ نئے مرکز کے چند ابتدائی کوائف تھے جن کا اختصار کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔ ان میں سے ہر معلومات تاریخ احمدیت کا ایک باب ہے۔

قیامت تک خدا کی محبوب بستی

ربوہ کا شہر آباد کرنا سیّدنا حضرت مصلح موعود کا ایک عظیم الشان کارنامہ ہے جس کے قیام کے بعد دنیا بھر میں عَلم احمدیت بلند کرنے کے لئے جاں نثاران خلافت نئے مرکز سے تیار ہو کر روانہ ہوئے اور اب بھی یہ فریضہ ادا کر رہے ہیں اور خدا کے ہزاروں پیاروں کی آخری آرام گاہ بہشتی مقبرہ یہاں ربوہ ہی میں ہے۔ اس لئے بلا شبہ ہماری یہ پیاری بستی ربوہ اﷲ کے فضل سے ہمیشہ اﷲ کی رحمتوں اور فضلوں کو جذب کرنے والی بستی رہے گی۔ انشاء اﷲ۔

نئے مرکز کے بارہ میں سیّدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا کہ:

’’یہ کبھی وہم نہ کرنا کہ ربوہ اجڑ جائے گا۔ ربوہ کو خدا تعالیٰ نے برکت دی ہے۔ ربوہ کے چپہ چپہ پر اﷲ اکبر کے نعرے لگے ہیں۔ ربوہ کے چپہ چپہ پر محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم پر درود بھیجا گیا ہے۔ خدا تعالیٰ اس زمین کو کبھی ضائع نہیں کرے گا جس پر نعرہ تکبیر لگے ہیں اور محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم پر درود بھیجا گیا ہے۔ یہ بستی قیامت تک خدا تعالیٰ کی محبوب بستی رہے گی اور قیامت تک اس پر برکتیں نازل ہوںگی۔ اس لئے یہ کبھی نہیں اجڑے گی، کبھی تباہ نہ ہو گی۔ بلکہ محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا نام ہمیشہ یہاں سے اونچا ہوتا رہے گا‘‘۔

(روزنامہ الفضل ربوہ 14؍مارچ 1957ء)

ربوہ کو ترا مرکز توحید بنا کر
اک نعرۂ تکبیر فلک بوس لگائیں
ربوہ رہے کعبہ کی بڑائی کا دعا گو
کعبہ کی پہنچتی رہیں ربوہ کو دعائیں

٭…٭…٭

ٹیگز
مزید دیکھیں

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button